مکمل افسانوی مجموعہ ٹوٹی چھت کا مکان از :۔ ایم مبین

mmubin نے 'افسانے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 23, 2005

  1. mmubin

    mmubin محفلین

    مراسلے:
    66
    آپ کا استقبال ہے
    ایم مبین
    کے اولین افسانوی مجموعہ
    ٹوٹی چھت کا مکان
    کی ویب سائٹ پر









    عام آدمی سےڈائریکٹ ایپروچ کی کہانیاں


    By Meem Naag

    ہمارےیہاں افسانوں کی تنقید دو طرح کےناقدین کرتےہیں ۔ ایک وہ جو افسانہ نگار نہیں ہیں اور ایک وہ جو افسانہ نگار ہیں ۔ افسانہ نگار نہ ہوتےہوئےافسانوں پر تنقید کرنےوالےلوگ آج بھی حالی کےتنقیدی سانچےسےنکل نہیں پائےہیں ۔ ( یا نکلتےبھی ہیں تو کسی نہ کسی بیرونی تنقیدی سانچےمیں ملوث پائےجاتےہیں ۔ جبکہ افسانہ نگار احباب کےتبصرےاپنےہم عصروں پر اسٹیریو ٹائپ ہوکر رہ گئےہیں ۔ ( وہ افسانہ نگار سےاتنےقریب ہوتےہیںکہ” دور کی کوڑی “ نہیں لاتے۔ ) ان کو ا عتبار پھر بھی حاصل نہیں ہوسکا ہے۔
    ایک تو ہمارےافسانوں کی تنقید کا یہ المیہ ہےکہ ناقدین نےوہی ٹیپ میجر اور ترازو اٹھالئےہیں جو شاعری کےوقت ان کےہاتھوں میں ہوتےیا بندر بانٹ کی طرح ترقی پسندی کےدور کےکچھ افسانےیا وہ کلاسیکل کہانیاں جو آج بھی انہیںہا نٹ کرتی ہیں ۔ ان کےپیش ِ نظر ہوتی ہیں ۔ ان مثالوں کو سامنےرکھ کر حسابی انداز میں افسانوں کو ناپنےتولنےکا یہ رویّہ ایک طرف افسانےکی تنقید کو نقصان پہنچا رہا ہےدوسری طرف نئےافسانہ نگاروں کا اعتبار بھی ختم کررہا ہے۔ یہ رویّہ کہ ہم عصر ،اپنےآس پاس کےافسانہ نگاروں پر تنقید کریں، مگر بات نہیں بنی ۔ دھند اتنی گاڑھی ہوتی ہےکہ تیر صحیح نشانےپر نہیں لگتا اور گھائل شکار بغیر پانی مانگےڈھیر ہوجاتا ہے۔ لا محالہ ہم ایسےلوگوں کی تنقید پر تکیہ کرنےلگتےہیں ۔ جنہوں نےشاعری کی تنقید میں کارہائےنمایاں انجام دئےہیں ۔
    کھلی آنکھ سےدیکھیں تو پتہ چلتا ہےکہ ادھر جو نئےافسانہ نگار متعارف ہوئےہیں ان میں ایک نیا زاویہ ابھر کر آیا ہے، وہ ہے زندگی کو نئےانداز میں برتنےکا ‘ زندگی کےگوناگوں نئےپرانےرنگوں کو نئی عینک سےدیکھ کر صحیح رویوں کو پہچاننےکا اور شخصی و سماجی تناظر میں دنیا اور زندگی ‘ قدرت اور سائنس کےانسلاک و سروکار کا ۔ ہمارا افسانہ تکنیکی میدان میں ہمیشہ سےخوشحال رہا ہے۔ اس سےمستفید ہوتےیہ افسانہ نگار اپنےجلو میں نئی تازہ کاری اور بو قلمونی کا مظاہرہ کر رہےہیں ‘ جس کا استقبال کیا جانا چاہئیے۔ آج افسانےکی کوئی تحریک زندہ نہیں ہےاور تنقید بھی کم و بیش گمراہ کن ہےلیکن افسانےمضبوط و پر اثر ہیں ۔
    ایم ۔ مبین کی کہانیاں سچائیوں سےہم کلام کراتی ہیں ۔ صرف تلخیوں کےساتھ نہیں بلکہ اس میں ایک انسانی نقطہ ¿ نظر بھی جھلکتا ہے۔ یہ کہانیاں ہمیں سوچ و فکر کےگہرےسمندر میں ڈبکی لگانےپر مجبور بھی کرتی ہیں ۔ ان کہانیوں میں ایم ۔ مبین نےزندگی کےمختلف سیاق و سباق کو کامیابی کےساتھ پیش کرنےکوشش کی ہے۔
    کون سی کہانی اہم یا دیرپا تاثر چھوڑنےوالی ہےاس سےقطع نظر اگر ہم یہ دیکھیں کہ ایم ۔ مبین کےکردار کہانیوں میں کہاں صحیح اور غلط ہیں ؟ وہ سماج کےساتھ یا سماج ان کےساتھ کس طرح کا برتاو¿ کرتا ہے؟‘ تو بےجا نہ ہوگا ۔
    مسرت اس بات کی ہےکہ ایم ۔ مبین کی کہانیوں میں کسی قسم کی لڑکھڑاہٹ کو چھپانےکےلئے” دھند “ کا استعمال نہیں کیا گیا ۔ نہ ان میں رمزیت اور بین السطور میں کرتب بازی کی گئی ہی۔ علامت اور تجریدیت سےپرےیہ کہانیاں عام آدمی کےگرد گھومتی ہیں ۔ انہیں عام آدمی کےمسائل کی کہانیاں کہنا نامناسب ہوگا ۔ وہ آج ان مسائل سےکس طرح جوجھ رہےہیں ۔ کبھی ہارتےہیں کبھی اپنا ضمیر بیچ بھی دیتےہیں ‘ کبھی ضمیر کےبل بوتےپر اپنےآپ کو فاتح بھی سمجھتےہیں ۔ کبھی سرینڈر بھی ہوجاتےہیں ‘ کبھی سرخرو ہو کر فتح مندی کا پرچم لہراتےہیں ۔
    ایک بڑی بات یہ ہےکہ اپنےکرداروں کےمنھ میں بھی افسانہ نگار نےاپنی زبان نہیں دی ہےاور نہ ہی کہیں وہ کرداروں کےبیچ آیا ہے۔ ایسا لگتا ہےجیسےافسانہ نگار نہیں ہے۔ اور جو کچھ ہےوہ کردار واقعات ، مسائل ، دکھ درد ہی ہیں ۔ مجموعی اعتبار سےہی ایم ۔ مبین کی کہانیوں کو پرکھنا مناسب ہوگا ۔ ان کےکردار کبھی پولس سےنبرد آزما ہیں ‘ ( رھائی ‘ دہشت ‘ حوادث اور عذاب کی ایک رات ) کبھی زمین کےمافیا اور بستی کےغنڈوں سےدو دو ہاتھ کرتےہیں ۔ ( بلندی ‘ ایک اور کہانی‘ حوادث اور نقب ) کہانی ” چھت “ میں بنیادی ضروریات کےدستیاب نہ ہونےپر زندگی کی پریشانیوں کی بات ہے۔
    آج کےگاو¿ں پر ایم مبین کی دو کہانیاں ہیں ۔ ” دیوتا © ©“ اور ” پارس “ ۔ ان دو کہانیوں میں ”دیوتا“ کےآدرش کافی عظیم ہیں ۔ جبکہ ایک عام دیہاتی کو کنواں کھدوانےمیں جو تکلیف اور پریشانیاں ہوتی ہیں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ ” کتنےپل صراط “ اور ” ہرنی “ کام کاجی عورتوں کی کہانیاں ہیں ۔ ” عذاب کی ایک رات “ بنگالی زبان بولنےوالےکو بنگلہ دیشی کہہ کر ملک بدر کیا جارہا ہےتو ”گردش “ کا سلیم اپنےبچوں کےمستقبل کےبارےمیں فکر مند اور ” دہشت “ کا ہیرو عدم تحفظ کا شکار ہے۔
    مجموعی اعتبار سےایم ۔ مبین کی کہانیاں عام آدمی کی زندگی سےڈائریکٹ ایپروچ کی کہانیاں ہیں ۔ انہیں ناپنےکا پیمانہ الگ ہونا چاہئیے۔ ان کی چھان پھٹک الگ طرح سےکی جانی چاہئیے۔
    یہ میرےتاثرات ہیں ۔ ایم ۔ مبین کی کہانیوں پر مستند اور معتبر رائےتو کوئی صحیح ناقد ہی دےسکتا ہے۔ میں نےاپنےطور پر چند اشارےکردئےہیں کیونکہ میں ایم ۔ مبین کو ان کےہم عصروں سےاس لئےالگ پارہا ہوں کہ ایم ۔ مبین نے” سکہ بند “ ڈھانچےسےالگ افسانہ نگاری کی ہی۔ وہ قاری کو اپنےافسانےسےقریب کر رہےہیں ‘ انہیں آئینہ دکھا رہےہیں ‘ سوچ و فکر پر اکسا رہےہیں ‘ نئی زندگی کی شروعات پر آمادہ کر رہےہیں ۔ سادہ زبان اور دلچسپ انداز و واقعات پر مبنی کہانیاں کہنا انہیں آتا ہےاور بہت خوب آتا ہے۔
    کہانی انسانی فطرت اور سرشت کا ایک اہم جز ہےوہ انسانی حس و جذبہ کو دلچسپ بناتی اور برانگیخت کرتی ہے۔ میں ایم ۔ مبین کو” کہانی“ کےساتھ انصاف کرنےپر مبارکباد دیتا ہوں ۔ ll

    م ۔ ناگ
    ممبئی










    Urdu Short Story

    Gardish



    By M.Mubin



    بیل بجانےپر حسبِ معمول بیوی نےہی دروازہ کھولا ۔اس نےاپنی تیز نظریں بیوی کےچہرےپرمرکوز کردیں جیسےوہ بیوی کےچہرےسےآج پیش آنےوالےکسی غیر معمولی واقعہ کو پڑھنےکی کوشش کررہا ہو۔
    بیوی کا چہرہ سپاٹ تھا ۔ اس نےایک گہری سانس لی اسےمحسوس ہوا کہ جیسےاس کےدل کا ایک بہت بڑا بوجھ ہلکا ہوگیا ہے۔
    بیوی کےچہرےکا سکوت اس بات کی گواہی دےرہا تھا کہ آج ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جو تشویش ناک ہو یا جو اس کےدل کےان خدشات کو صحیح ثابت کردےجن کےبارےمیں وہ راستےبھر سوچتا آیا تھا ۔ اتنےدنوں میں وہ بیوی کےچہرےکی کتاب پڑھنا اچھی طرح سیکھ گیا تھا‘ بیوی کےچہرےکےتاثرات سےوہ اندازہ لگا لیتا تھا کہ آج کس قسم کا واقعہ پیش آیا ہوگااس سےپہلےکہ بیوی اس واقعہ کےبارےمیں اسےبتائےوہ خود کو نفسیاتی طور پراس واقعہ کو جاننےکےبعد خود پر ہونےوالےردِّ عمل کےلئےتیار کرلیتا تھا ۔
    اپنا سر جھٹک کر ا س نےاپنی قمیض اتار کربیوی کی طرف بڑھا دی اور بیوی کےہاتھ سےلنگی لےکر اسےکمر کےگرد لپیٹ کر اپنی پتلون اتارنےلگا ۔ پھر واش بیسن کےپاس جاکر اس نےٹھنڈےٹھنڈےپانی کےچھینٹےاپنےچہرےپر مارےان چھینٹوں کےچہرےسےٹکراتےہی اس کےسارےجسم میں فرحت کا ایک جھونکا سا سرایت کرگیا ۔ پھر وہ دھیرےدھیرےمنہ ہاتھ دھونےلگا ۔
    تولیہ سےمنھ ہاتھ پونچھتا وہ اپنی کرسی پر آبیٹھا اور بیوی سےپوچھنےلگا ۔ ” گڈو کہاں ہے؟ “
    ” شاید ٹیوشن کےلئےگیا ہے۔“ بیوی نےجواب دیا ۔
    ” جھوٹ بولتا ہےوہ “ بیوی کی بات سنتےہی وہ پھٹ پڑا ۔ ” وہ ٹیوشن کا بہانہ کرکےاِدھر اُدھر آوارہ گردی کرتا پھرتا ہے‘ ابھی راستےمیں ‘ میں اسےکیپٹول کےپاس اس کےدوچار آوارہ دوستوں کےساتھ دیکھ چکا ہوں ‘ اس کی ٹیوشن کلاس ناز کےپاس ہے‘ وہ کیپٹول کےپاس کس طرح پہنچ گیا ؟ “
    ” ہوسکتا ہےٹیوشن جلدی چھوٹ گئی ہو اور وہ دوستوں کےساتھ گھومنےنکل گیا ہو۔“ بیوی نےبیٹےکی طرف داری کی ۔
    ” اگر ٹیوشن کلاس سےجلدی چھٹی ہوگئی تو اسےگھر آنا چاہئیےتھا ‘ دوستوں کےساتھ آوارہ گردی کرنےکےلئےجانا نہیں چاہیئےتھا ‘ میں تو کہتا ہوں کہ اس کی ٹیوشن سراسر فراڈ ہے‘ ٹیوشن کےبہانےوہ آوارہ گردی کرتا ہوگا اور ٹیوشن کی فیس دوستوں کےساتھ اڑا دیتا ہوگا ۔ “
    ” اگر بیٹےپر بھروسہ نہیں ہےتو خود کسی دن ٹیوشن کلاس میں جاکر پتہ کیوں نہیں لگا لیتی؟“ بیوی نےتیز لہجےمیں کہا تو اس نےموضوع بدلا ۔
    ” منی کہاں ہے۔ ؟ “
    ” اپنی ایک سہیلی کےساتھ شاپنگ کےلئےگئی ہے۔ “
    ” اس لڑکی کا باہر نکلنا اب کم کردو ۔ اب وہ چھوٹی بچی نہیں رہی ‘ بڑی ہوگئی ہی۔ سویرےجب میں ڈیوٹی پر جارہا تھا تو وہ کھڑکی میں کھڑی برش کررہی تھی اور نیچےدو تین لڑکےاسےدیکھ کر مسکرا رہےتھے‘ بھّدےریمارکس پاس کر رہےتھے۔ یہ محلہ شریفوں کےرہنےکےلائق ہی نہیں ........ “ وہ بڑبڑانےلگا ۔
    ” چلو کھانا کھالو ۔ “ بیوی نےاس کا موڈ بدلنےکےلئےموضوع بدلنےکی کوشش کی ۔
    ” ارےہاں چھوٹا کہاں ہےدکھائی نہیں دےرہا ہے۔ “
    ” اپنےدوستوں کےساتھ کھیلنےگیا ہے۔ “
    ” کہاں کھیلنےگیا ہوگا ؟ “ وہ جھنجلا کر بولا ۔ ” بچوں کےکھیلنےکےلائق کوئی جگہ بھی تو نہیں بچی ہے‘ چاروں طرف کانکریٹ کا جنگل آباد ہوگیا ہے۔تمہیں معلوم ہےکہ وہ اپنےدوستوں کےساتھ کرکٹ کھیلنےآزاد میدان جاتا ہے۔ ؟“
    ” رات کےآٹھ بج رہےہیں ‘ آزاد میدان میں سات بجےاندھیرا ہو جاتا ہےکیا وہ اب تک فلڈ لائٹ میں کرکٹ کھیل رہا ہوگا ۔ ؟ “
    ” دیکھو تم بچوں کو آنےجانےکےلئےبس یا ٹیکسی کا کرایہ تو نہیں دیتےہو تو ظاہر سی بات ہےکہ آزاد میدان سےوہ پیدل ہی آرہا ہوگا اور آزاد میدان کوئی اتنےقریب نہیں ہےکہ پانچ دس منٹ میں کوئی گھر آجائے۔ “
    ” سلطانہ ! میں تم سےبار بار کہتا ہوں کہ میں جب گھر آو¿ں تو مجھےبچےگھر میں دکھائی دینےچاہئیےلیکن تم میری اس بات کو سنجیدگی سےلیتی ہی نہیں ہو ‘ آخر تمہارےدل میں کیا ہے‘ تم کیا چاہتی ہو ؟ “
    ” دیکھو ! تم اگر بچوں کےباپ ہو تو میں بھی بچوں کی ماں ہوں ‘ تم سےزیادہ مجھےبچوں کی فکر رہتی ہےمجھےپتہ ہےاس شہر اور ہمارےاطراف کا ماحول اس قابل نہیں ہےکہ بچےزیادہ دیر گھر سےباہر رہنےپر بھی محفوظ رہیں لیکن کیا کروں بچےکوئی نہ کوئی ایسا کام بتا دیتےہیں کہ مجبوراً مجھےانہیں باہر جانےکی اجازت دینی ہی پڑتی ہے۔ “ بیوی نےجواب دیا ۔ ” اب یہ بےکار کی باتیں چھوڑو اور کھانا کھالو ‘ پتہ نہیں دوپہر میں کب کھانا کھایا ہوگا ؟ “
    ” ٹھیک ہےنکالو ۔ “ اس نےبھی ہتھیار ڈال دئے۔
    وہ بظاہر اطمینان سےکھانا کھا رہا تھا لیکن اس کا سارا دھیان بچوں میں لگا ہوا تھا ۔ یہ گڈو اپنےدوستوں کےساتھ اتنی دیر تک پتا نہیں کیا کیا کرتا پھرتا ہےمنی اپنی سہیلی کےساتھ شاپنگ کرنےگئی ہےابھی تک واپس کیوں نہیں آئی ؟ اسےاتنی رات گئےتک گھر سےباہر نہیں رہنا چاہیئےاور یہ چھوٹےکو کرکٹ کا جنون سا ہےاب کرکٹ کھیلنےکےلئےدو تین کلو میٹر دور آزاد میدان میں اور وہ بھی پیدل جانےمیں کوئی تُک ہے؟
    جب وہ گھر سےباہر ڈیوٹی پر ہوتا تھا تو بھی ایک لمحہ کےلئےگھر اور بچوں کا خیال اس کےذہن سےجدا نہیں ہوپاتا تھا ۔ گھر آنےکےبعد بھی اسےاس اذیت سےنجات نہیں مل پاتی تھی ۔ اگر بچےگھر میں اس کی نظروں کےسامنےبھی ہوتےتو وہ انہی کےبارےمیں سوچا کرتا تھا ۔
    گڈو پڑھنےلکھنےمیں کافی اچھا ہے‘ کافی ذہین ہے۔ بارہویں پاس کرلےتو کوئی اچھی لائن میں ڈالا جاسکتا ہے‘ ڈاکٹر بنانےکی استطاعت تو اس میں نہیں ہے‘ ہاں کسی پالی ٹیکنک میں بھی داخلہ مل جائےتو وہ اسےپڑھا سکتا ہے۔ منی کی تعلیم کا سلسلہ ختم کردینا اس کی مرضی کےخلاف تھا لیکن اس کےعلاوہ کوئی راستہ بھی نہیں تھا ‘ تیسری مرتبہ وہ میٹرک میں فیل ہوئی تھی پڑھنےلکھنےمیں وہ یوں ہی ہے۔ ہاں خوبصورتی میں وہ ماں سےبڑھ کر ہےاس کی شادی کی عمر ہےوہ جلد سےجلد اس کی شادی کرکےایک بڑےفرض سےسبکدوش بھی ہونا چاہتا ہےلیکن کیا کریں منی کےلئےکوئی اچھا لڑکا ملتا ہی نہیں ۔ ایک دو رشتےآئےبھی لیکن نہ تو وہ منیّ کےمعیار کےتھےنہ برابری کےاس لئےاس نےانکار کردیا ۔
    چھوٹا پڑھنےمیں تیز تھا لیکن کرکٹ .... اُف ! یہ کرکٹ اسےبرباد کرکےرکھ دےگا ۔ جہاں تک سلطانہ کا سوال تھا دن بھر گھر کےکام خود اکیلی کرتی تھی ۔ گھر کےسارےکام ‘ بچوں کےکام اس کےبعد ایمبرائیڈری مشین پر بیٹھ جاتی تھی تو کبھی کبھی رات کےدو بج جاتےتھے۔
    وہ اسےسمجھاتا تھا ۔ اسےدو بجےرات تک آنکھیں پھوڑنےکی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اتنا کما لیتا ہےکہ ان کا گذر ہوجائےلیکن وہ بھڑک کر جواب دیتی ۔
    ” تمہاری عقل پر تو پردہ پڑا ہوا ہے۔ اگر میں تھوڑی محنت کرکےدو پیسےکما لیتی ہوں تو اس میں برائی کیا ہے؟ گھر میں جوان بیٹی ہےمیں اس کےلئےپیسےجمع کررہی ہوں ۔ بیٹی کی شادی کو معمولی کام مت سمجھو شادی تو ایک ایسا کاج ہےجس کےلئےسمندر کےپانی جیسی فراخی بھی کم پڑی۔“
    آفس میں کام کرتےہوئےوہ سب سےزیادہ سلطانہ کےبارےمیں سوچتا تھا ۔ گھر میں اکیلی ہوگی اس نےدروازہ تو بند کر رکھا ہوگا ........ یا پھر کسی اجنبی کی دستک پر دروازہ کھول کر مصیبت میں پھنس جائےگی ۔
    ایک دن پولس ایک مجرم کا تعاقب کرتی ان کےمحلےتک آگئی تھی ۔ مجرم پناہ لینےکےلئےان کی بلڈنگ میں گھس گیا ۔ اس نےان کےگھر پر دستک دی اور بےخیالی میں سلطانہ نےدروازہ کھول دیا ۔ اس مجرم نےفوراً چاقو نکال کر اس کےنرخرےپر رکھ دیا اور اسےدھمکاتا گھر میں گھس گیا ۔
    ” خاموش ! اگر زبان سےذار سی آواز بھی نکلی تو گلا کٹ جائےگا ۔ “
    وہ بہت دیر تک سلطانہ کا منھ دبائےاس کےگلےپر چاقو لگائےگھر میں چھپا رہا تھا ۔ پولس ساری بلڈنگ میں اسےڈھونڈتی رہی تھی۔ سلطانہ ایک دو بار مچلی تو تیز چاقو اس کےجسم سےلگ گیا اور جسم پر ایک دو جگہ زخم ہوگئےجن سےخون بہنےلگا ۔ بعد میں جب اس بدمعاش کو محسوس ہوا کہ پولس جاچکی ہےتو وہ سلطانہ کو چھوڑ کر بھاگا ۔ اسی وقت سلطانہ نےچیخنا شروع کردیا ........ سلطانہ کی چیخیں سن کر نیچےسےگزرتےپولس والےچوکنا ہوگئےاور انھوں نےاس بدمعاش کو گولی کا نشانہ بنا دیا ۔
    بعد میں پولس کو پتہ چلا کہ وہ بدمعاش ان کےگھر میں چھپا ہوا تھا تو انہوں نےپنچ نامےمیں سلطانہ کا نام بھی درج کرلیا سلطانہ کےساتھ اسےکئی بار پولس اسٹیشن کےچکر کاٹنےپڑے۔ پولس الٹےسیدھےسوالات کرتی ۔
    ” وہ بدمعاش گھر میں گھسا تو آپ چیخی کیوں نہیں ؟ وہ بدمعاش تمہارےہی گھر میں کیوں گھسا ؟ کیا تم لوگ اس کو پہلےسےجانتےہو ؟ اس بدمعاش نےتمہارےساتھ کیا ‘ کیا کیا ؟ یہ جسم پر زخم کس طرح آئےتم نےمزاحمت کیوں نہیں کی ؟ تب سےروزانہ خدشہ لگا رہتا تھا کہ آج بھی پھر اسی طرح کی کوئی واردات نہ ہوجائے۔
    ایک بارمحلہ میں ہی پولس کا دن دہاڑےکسی گینگ سےانکاو¿نٹر ہوگیا ۔ دونوں طرف سےگولیاں چل رہی تھیں ۔ لوگ خوف زدہ ہوکر اِدھر اُدھر بھاگ رہےتھے۔ اس وقت چھوٹا اسکول سےآیا بےخیالی میں وہ اس علاقےمیں داخل ہوگیا جہاں تصادم چل رہا تھا اس سےپہلےکہ صورت حال کا اسےعلم ہوتا اور وہ وہاں سےکسی محفوظ مقام کی طرف بھاگتا ایک گولی اس کےبازو کو چیرتی ہوئی گذر گئی ۔
    خون میں لہو لہان ہو کر وہ بےہوش ہوکر زمین پر گر پڑا ۔ تصادم ختم ہوا تو کسی کی نظر اس پر پڑی اور اسی نےانہیں خبر کی اور اسےاسپتال لےجایا گیا ۔
    گولی گوشت کو چیرتی ہوئی گذری تھی ‘ شکر تھا ہڈیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا ‘ پھر بھی وہ دس دنوں تک اسپتال میں رہا اور بازو کا زخم بھرنےمیں پورا ایک مہینہ لگ گیا ۔
    چھوٹا اچھا ہوگیا تھا لیکن اتنا کمزور اور دبلا ہوگیا تھا کہ پورےایک سال تک اس کی پرانی صحت واپس نہ آسکی ۔
    ایک دن ترکاریاں خرید کر واپس آتی منی کو کسی غنڈےنےچھیڑ دیا اس وقت گڈو اسکول سےواپس آرہا تھا اس سےبرداشت نہیں ہوسکا اور وہ غنڈےسےالجھ پڑا ۔
    گڈو بھلا اس غنڈےکا مقابلہ کیا کرتا غنڈےنےاسےزخمی کردیا کچھ لوگ اس کی مدد کو بڑھےتو غنڈہ بھاگ کھڑا ہوا لیکن گڈو زخمی ہوگیا تھا ۔
    اس کےبعد پتا نہیں کیا بات اس کےذہن میں بیٹھ گئی کہ اس نےمحلےکےآوارہ بدمعاش لڑکوں سےدوستی کرلی اور اسکول سےآنےکےبعد وہ زیادہ تر انہی کےساتھ رہنےلگا ۔ ایک دوبار اس کےسمجھانےپر وہ اس سےبھی الجھ پڑا ۔
    ” ابا ! آج کےزمانےمیں اپنی اور اپنےگھر والوں کی حفاظت کےلئےایسےلوگوں کےساتھ رہ کر ان کی مدد لینا بہت ضروری ہے۔ شرافت ‘ غنڈےاور بدمعاشوں سےہماری حفاظت نہیں کرسکتی ۔“
    گذشتہ چند سالوں میں کچھ ایسےواقعات ہوئےتھےکہ وہ ایک طرح سےٹوٹ سا گیا تھا ۔ گڈو رات کو دیر سےگھر آتا تھا ۔ دیر رات تک وہ آوارہ بدمعاش قسم کےلڑکوں کےساتھ رہتا تھا ۔ وہ اسےروکتا تو وہ الجھ پڑتا ........ صرف اطمینان کی بات یہ تھی کہ وہ اسکول باقاعدگی سےجاتا تھا اور پڑھائی میں بھی پہلےکی طرح دلچسپی لیتا تھا ۔
    منی کو آوارہ بدمعاش لڑکےاس کےسامنےچھیڑتے‘ فقرےکستےتھے۔ سلطانہ بھی دبےلفظوں میں کئی بار اس سلسلےمیں اس سےکہہ چکی تھی جب وہ اپنےپڑوسیوں سےاپنےگھر کا مقابلہ کرتا تواسےکچھ اطمینان محسوس ہوتا تھا کہ اس کےبچےپڑوسیوں کےمقابلےکہیں زیادہ سیدھی راہ پر ہیں ۔
    پڑوسیوں کےبچوں کا برا حال تھا ۔ کئی اچھےلڑکےتعلیم چھوڑ کر بری صحبت میں پڑنےکی وجہ سےغلطراستوں پر چل نکلےتھے۔ گلی میں کہیں چوری چھپےنشہ آور اشیاءبکتی تھیں کئی بچےان نشہ آور اشیاءکےعادی بن چکےتھے۔ کم عمری میں ہی کچھ لڑکےطوائفوں کےاسیر بن کر اپنی زندگی اور جوانیاں برباد کررہےتھے۔ غنڈہ گردی کےگلیمر نےکئی لڑکوں کو پھانس لیا تھا اور وہ اخلاقیات کےسارےدرس بھول کر مادہ پرستی کا شکار ہوگئےتھے۔
    لڑکیوں کی ایک عجیب ہی دنیا تھی ۔ زیادہ تر لڑکیاں گلیمر کا شکار تھیں اور اس گلیمر کو حاصل کرنےکےلئےبھٹک چکی تھیں اس بھٹکنےمیںبھی انہیں کوئی ندامت نہیں محسوس ہوتی تھی ۔ جیسےاخلاقیات ‘ اقدار اب ایک داستان پارینہ ہو ۔
    جب وہ اپنےماحول پر نظر ڈالتا تو کبھی کبھی یہ سوچ کر کانپ اٹھتا تھا وہ اور اس کےبچےبھی اسی ماحول میں رہ رہےہیں ۔ اس کےبچےبھی کبھی بھی ا س ماحول کےاسیر بن کر ان برائیوں کا شکار بن سکتےہیں ۔ جب کبھی تصور میں وہ اس بارےمیں سوچتا تو اسےاپنےسارےخواب ٹوٹ کر بکھرتےمحسوس ہوتےتھے۔ اس سلسلےمیں سلطانہ بھی اس کی طرح فکر مند تھی اور وہ اکثر اس سےدبےلفظوں میں کہا کرتی تھی ۔
    ” سلیم ! خدا کا شکر ہےہمارےبچےآج تک اس گندےماحول سےبچےہوئےہیں لیکن ڈرتی ہوں اگر اس ماحول نےانہیں بھی اپنی لپیٹ میں لےلیا تو ؟ اس کا کیا علاج ہوسکتاہے؟ “
    ” ایک ہی علاج ہے‘ ہم یہ جگہ چھوڑدیں ۔ “
    ” کہاں جائیںگے؟ہمیں اس شہر میں تو سر چھپانےکےلئےکوئی جگہ ملنےسےرہی ہمارےپاس اتنےپیسےبھی نہیں ہیں کہ ہم کہیں دور کوئی جگہ لےسکیں ۔ “
    ” کہیں بھی چلو ۔ چاہےوہ جگہ جہاں ایسا ماحول نہ ہو شہر سےپچاس کلو میٹر دور ہو ‘ مجھےکوئی شکایت نہیں ہوگی لیکن اپنی اولاد کی بھلائی کےلئےاب یہ ہجرت لازمی ہوگئی ہے۔ مسئلہ تمہاری نوکری کا ہےتمہیں آنےجانےمیںتھوڑی تکلیف تو ہوگی لیکن کیا اپنی اولادکی بھلائی کےلئےتم اتنی تکلیف نہیں اٹھا سکتی؟ “
    ” میں اپنی اولاد کی بھلائی کےلئےہر تکلیف اٹھاسکتا ہوں ۔ “
    ” پھر کچھ سوچو ‘ اس ماحول سےنکلنےکےلئےکوئی قدم اٹھاو¿ ۔“ بیوی نےکہا ۔
    ” ہاں میں ضرور کوئی قدم اٹھاو¿ں گا ۔ “ اس نےجواب میں کہا اور سوچ میں ڈوب گیا ۔
    ایک دن وہ آیا تو بہت خوش تھا ۔ آتےہی سلطانہ سےکہنےلگا ۔ ” سلطانہ ! اپنی اولاد کی بھلائی کےلئےہمیں جو قدم اٹھانا چاہیئےتھا اس راہ میں میں نےپہلا قدم رکھ لیا ہے‘ میں نےایک جگہ فلیٹ بک کرلیا ہےوہ جگہ یہاں سےپچاس کلو میٹر دور ہےلیکن وہاں پر یقیناً یہاں سی گندگی نہیں ہوگی ۔ “ یہ کہتےہوئےوہ سلطانہ کو ساری بات سمجھانےلگا ۔
    بہت بڑی کالونی بن رہی ہےمعمولی رقم پر وہاں فلیٹ بک ہوگیا ہے۔ پیسےقسطوں میں ادا کرنےہیں ابھی پوری کالونی تیار ہونےمیں دو سال لگیں گے۔ تب تک ہم پیسےادا کردیں گےیا جو باقی پیسےہوں گےاس کمرےکو فروخت کرکےبےباق کردیں گے۔
    دونوں کی آنکھوں کےسامنےایک خوبصورتبستی کا خواب تھا ۔ خوبصورت عمارتیں ‘ چاروں طرف پھیلی ہریالی ‘ مسجد ‘ مدرسہ ‘ باغ ‘ اسکول ‘ کشادہ صاف سڑکیں اور کھلی کھلی آب و ہوا جن میں گھٹن کا نام و نشان نہیں ۔
    انہوں نےبچوں کو بھی اس بستی کےبارےمیں بتایا تھا ۔ بچوں نےان کےاس خواب کےبارےمیں اپنا کوئی ردِّ عمل ظاہر نہیں کیا تھا ۔
    ایک دوبار سلطانہ نےدبےلفظوں میں کہا بھی تھا ۔
    ” بچےیہاں پیدا ہوئےپلےبڑھےہیں ۔ انہیں اس جگہ سےانسیت ہوگئی ہےممکن ہےوہ یہاں سےجانےسےانکار کردیں ۔ آخر ان کےدوست احباب تو یہاں رہتےہیں ۔“
    ” بچوں کو ہر حال میں یہاں سےجانا ہوگا ۔ آخر یہ سب ہم اپنی خوشی کےلئےنہیں ان کی بھلائی کےلئےکر رہےہیں ۔ “
    ان دنوں وہ جس اذیت کا شکار تھا ۔ اس کےآفس میں کام کرنےوالا اکبر بھی دو سال قبل اسی اذیت کےدور سےگذر رہا تھا ۔ اکبر کا بھی وہی مسئلہ تھا جو اس کا مسئلہ تھا ۔ اکبر نےبھی وہی حل اور راستہ نکالا تھا جو اس نےنکالا تھا ۔
    کچھ دنوں قبل وہ بھی شہر سےدور نئی آباد ہونےوالی بستی میں جا بسا تھا ۔ اس جگہ آباد ہونےکےبعد وہ بہت خوش تھا ۔
    ” سلیم بھائی ساری فکروں اور خدشات سےنجات مل گئی ہے۔ سمجھ لیجئےاب بچوں کا مستقبل محفوظ ہوگیا ہے۔ “
    اس کےذہن میں بار بار اکبر کی وہ بات گونجتی تھی ۔جب بھی وہ اکبر کی اس بات کےبارےمیں سوچتا تھا ۔ یہ سوچ کر اپنا دل بہلاتا تھا کہ ایک سال بعد تواسےبھی اکبر کی طرح ایک نئی آباد ہونےوالی بستی میں بسنا ہے۔ ایک سال بعد اس کےہونٹوں پر بھی وہی کلمات ہوں گے۔ بس ایک سال اور اس جہنم میں گذار کر خود کو اس جہنم سےمحفوظ رکھنا ہے۔
    دن گذر رہےتھے۔ اور اچھےدن قریب آرہےتھے۔ اس جگہ سےہجرت کرنےکےدن جیسےجیسےقریب آرہےتھےویسےویسےبچوں ، گھر ، بیوی کےبارےمیں اس کی فکریں زیادہ ہی بڑھتی جا رہی تھیں وہ ان کےبارےمیں کچھ زیادہ ہی سوچنےلگا تھا ۔
    اس دن آفس کینٹن میں اکبر کےساتھ لنچ لیتےہوئےاس نےاکبر کو متفکر پایا تو پوچھ بیٹھا ۔
    ” کیا بات ہےاکبر بہت پریشان لگ رہےہو ؟ “
    ” کیا بتاو¿ں سلیم بھائی ! ساری تدبیریں اور منصوبےغلط ثابت ہوگئےہیں ۔ “
    ” کیا بات ہےتمہیں کس بات کی فکر ہے؟ “
    ” جن بچوں کےمستقبل کو بچانےکےلئےشہرسےدور سکونت اختیارکی تھی وہاں جانےکےبعد بھی بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں ہوسکا ہے۔ یہاں کےماحول سےوہ بچ گئےتو وہاں پرایک نئےاور عجیب ماحول میں رم رہےہیں ‘ اونچےخواب ‘ اونچی سوسائٹی کےعادات و اطوار ‘ اسی سوسائٹی میں ڈھلنےکی کوشش ۔ بنا یہ جانےکہ ہماری اس سوسائٹی کےطور طریقوں میں ڈھل کر رہنےکی بساط نہیں ہے۔ کنزیومر کلچر ان پر حاوی ہورہا ہے‘ سیٹیلائٹ کلچر اور اس کےذریعہ پھیلنےوالےافکار کےوہ مرید بن رہےہیں ‘ مادہ پرستی ان میں بڑھتی جاری ہے‘ اقدار کا ان میں فقدان ہورہا ہے‘ پہلےوہ جن افکار میں ڈھلنےوالےتھےوہ افکار مجھےپسند نہیں تھےاس لئےمیں انہیں اس جگہ سےدور لےگیا لیکن وہاں وہ جن افکار میں ڈھل رہےہیں مجھےوہ بھی پسند نہیں ہے۔ “
    وہ اکبر کی بات سن کر سناٹےمیں آگیا ۔
    ایک سال بعد اسےبھی تو وہاں جانا ہے۔ اگر وہاں اس کےساتھ بھی ایسا ہوا تو اس کی اس ہجرت کا کیا فائدہ ؟
    اسےمحسوس ہوا جیسےوہ ایک مدار پر گردش کررہا ہی۔ کسی ناپسندیدہ مقام سےوہ چاہےکتنی دور بھی جانا چاہےلیکن اسےواپس لوٹ کر اسی جگہ آنا ہے۔







    Urdu Short Story

    Dahashat



    By M.Mubin



    ll

    ” ہےبھگوان ! میں اپنےگھر والوں کےلئےرزق کی تلاش میں گھر سےباہر جارہا ہوں ۔ مجھےشام بحفاظت گھر واپس لانا ۔ میری حفاظت کرنا میری غیر موجودگی میں میرےگھر اورگھر کےافراد کی حفاظت کرنا ۔“
    دروازےکےقریب پہنچتےہی یہ دعا اس کےہونٹوں پر آگئی اور وہ دل ہی دل میں اس دعا کو دہرانےلگا ۔ جیسےہی اس نےدعا کےآخری الفاظ ادا کئےاس کا پورا جسم کانپ اٹھا اور پورےجسم میں ایک برقی لہر سی دوڑ گئی ‘ آنکھوں کےسامنےاندھیرا سا چھانےلگا ۔
    اس نےگھبرا کر پیچھےپلٹ کر دیکھا ۔
    اس کی بیوی بچےکو لےکر معمول کےمطابق اسےچھوڑنےدروازےتک آئی تھی ۔
    ” بیٹےپاپا کو ٹاٹا کرو “ ۔اس نےبچےسےکہا تو بچہ اسےدیکھ کر مسکرایا اور اپنےننھےننھےہاتھ ہلانےلگا ۔
    ” شام کو جلدی گھر آجانا کہیں رکنا نہیں ‘ ذرا سی دیر ہوجاتی ہےتو میرا دل گھبرانےلگتا ہے“ ۔ بیوی نےکہا تو اس کی بات سن کر ایک بار پھر اس کا دل کانپ اٹھا ‘ پیر جیسےدروازےمیں جم گئےلیکن پھر اس نےاپنا سر جھٹک کر قوت ارادی کو مضبوط کرتےہوئےدروازےکےباہر قدم نکالے۔
    گھر سےباہر نکل کر اس نےایک بار پھر مڑ کر اپنےگھر کو دیکھا بیوی بچےکو گود میں لئےدروازےمیں کھڑی تھی ۔
    پتہ نہیں کیوں ایک بار پھر اس کےدماغ میں اس خیال کےناگ نےاپنا پھن اٹھایا ۔ اسےایسا محسوس ہوا جیسےوہ آخری بار اپنےگھر سےباہر نکل رہا ہےاپنےگھر اور بیوی بچےکا آخری دیدار کر رہا ہے۔ اب وہ کبھی واپس لوٹ کر اس گھر میں نہیں آئےگا نہ بیوی بچےکو دوبارہ دیکھ پائےگا ۔
    گھبرا کر اس نےاپنےسر کو جھٹکا اور تیزی سےآگےبڑھ گیا ۔
    اسےخوف محسوس ہورہا تھا اگر اس کی بیوی نےاس کےان خیالات کو پڑھ لیا تو وہ ابھی رو اٹھےگی اور رو رو کر خود کو بےحال کرلےگی اور اسےڈیوٹی پر جانےنہیں دےگی ۔ مجبوراً اسےچھٹی لینی پڑےگی ۔
    وہ کیا کرے؟ اس کےذہن میں ان خیالوں کا جو ناگ کنڈلی مار کر بیٹھا ہےاس ناگ کو اپنےذہن سےکس طرح نکالے۔
    ہر بار وہ اپنےذہن میں بیٹھےاس ناگ کو مار بھگانےکی کوشش کرتا ہےاور کبھی کبھی تو وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے۔ لیکن پھر دوبارہ وہ ناگ اس کےذہن میں آکر بیٹھ جاتا ہےاور اس کی ساری کوشش رائیگاں جاتی ہے۔
    ابھی کل ہی کی بات ہے۔
    چار پانچ دنوں سےوہ خود کو بڑا ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا ۔ وہ اس ناگ کو مار بھگانےمیں کامیاب رہا تھا ۔ وہ اطمینان سےذہن میں بنا کوئی بوجھ لئےآفس جاتا تھا اور اسی اطمینان سےواپس گھر آتا تھا ۔
    نہ تو گھر میں کوئی تناو¿ تھا اور نہ ہی ذہن میں کوئی تناو¿ تھا ۔ پھر ایک حادثہ ہوا اور وہ ناگ دوبارہ اس کےذہن میں کنڈلی مار کر بیٹھ گیا ۔
    اس دن آفس پہنچا تو معلوم ہوا کہ ملند آفس نہیں آیا ۔
    ” کیا بات ہے‘ آج ملند آفس کیوں نہیں آیا ہے؟ “ اس نےپوچھا ۔
    ” ارےتم کو معلوم نہیں ؟ “ اس کی بات سن کر گائیکر حیرت سےاسےدیکھنےلگا
    ” کل اس کا قتل ہوگیا ۔ “
    ” قتل ہوگیا ؟ “ یہ سنتےہی اس کےذہن کو ایک جھٹکا لگا ۔ قتل اور ملند کا ؟ مگر کیوں ؟ اس نےکسی کا کیا بگاڑا تھا ؟ وہ شریف آدمی کسی کا کیا بگاڑ سکتا تھا ؟ اس بےچارےکا تو مشکل سےکوئی دوست تھا تو بھلا دشمن کیسےہوسکتا ہے؟
    ” نہ وہ دوستوں کےہاتھوں مرا اور نہ دشمنوں کے! وہ تو بےموت مارا گیا ۔ “ گائیکر بتانےلگا ۔ آفس سےوہ گھر جارہا تھا ۔ لوکھنڈ والا کامپلیکس کےپاس اچانک دو گینگ والوں میں ٹکراو¿ ہوا ۔ دونوں طرف سےگولیاں چلنےلگیں ۔ ان گولیوں سےپتہ نہیں ان گینگ کےافراد مارےگئےیا زخمی ہوئےلیکن ایک گولی اس جگہ سےگذرتےملند کی کھوپڑی توڑتی ضرور گزر گئی ۔ “
    ” اوہ ........ نو ! “ یہ سن کر وہ اپنا سر پکڑ کر کرسی سےٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔
    بےچارہ ملند !
    کل کتنی پیاری پیاری باتیں کررہا تھا ۔
    ” اننت بھائی ! اپنےکمرےکا انتظام ہوگیا ہےاب کمرہ کہاں لیا کتنےمیں لیا یہ مت پوچھو ‘ بس لےلیا ۔ یہ سمجھو گھر والےبہت خوش ہیں کہ میں نےکوئی کمرہ لےلیا ہے۔ سالا اتنےچھوٹےسےگھر میں سارےخاندان والوں کو رہنا پڑتا تھا ۔ میرےکمرہ لینےسےسب سےزیادہ خوش نینا ہے۔ میں نےجیسےہی اسےیہ خوش خبری سنائی گارڈن میں سب لوگوں کےسامنےاس نےمیرا منھ چوم لیا ایک بار نہیں پورےتین بار اور بولی اب جلدی سےگھر آکر میرےباپو سےہماری شادی کی بات کرلوویسےوہ تیار ہیں ۔ ان کی ایک ہی شرط تھی اور وہ یہ کہ تم رہنےکےلئےکوئی کمرہ لےلو ۔
    ” بےچارہ ملند ! “ وہ سوچنےلگا ۔ کل جب وہ آفس سےنکلا ہوگا تو اس نےخواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ وہ گھر کی طرف نہیں موت کی طرف جارہا ہے۔ کیا سویرےگھر سےنکلتےوقت اس نےسوچا ہوگا کہ وہ آخری بار آفس جارہا ہے؟ اس کےبعد اسےکبھی گھر سےآفس کےلئےنکلنےکی ضرورت محسوس نہیں ہوگی ۔ یا اب کبھی وہ لوٹ کر گھر نہیں آئےگا ۔ کیا وہ جس موت کا شکار ہوا ہےیہ اس کی فطرتی موت ہے؟ نہیں نہیں .... ! نہ یہ اس کی فطرتی موت تھی اور نہ اس کی قسمت میں اس طرح کی موت لکھی تھی ۔ وہ تو بےموت مارا گیا ۔
    دو گینگ والےآپس میں ٹکرائے۔ ایک دوسرےکو ختم کرنےکےلئےگولیاں چلیں اور ختم ہوگیا بےچارہ ملند ۔
    جس طرح ملند کی کہانی ختم ہوگئی ممکن تھا اگر وہ بھی اس جگہ سےگزرتا تو اس کی زندگی کا بھی خاتمہ ہوجاتا ۔ مانا وہ اس کا راستہ نہیں تھا لیکن یہ ضروری نہیں ہےکہ گینگ وار صرف لوکھنڈ والا کامپلیکس کےپاس ہی ہوتی ہیں ۔
    وہ دادر میں بھی ہوسکتی ہے‘ کرلا میں بھی ‘ ملنڈ میں بھی اور تھانےاسٹیشن کےباہر بھی ۔ یہ تو اس کا رستہ ہے۔ جس گولی نےملند کی جان لی تھی اس طرح کی کوئی گولی اس کی بھی جان لےسکتی ہے۔
    ناگ دوبارہ آکر اس کےذہن میں کنڈلی مار کر بیٹھ گیا تھا ۔ اور اب چاہ کر بھی وہ اس ناگ کو اپنےذہن سےنہیں نکال سکتا تھا ۔
    گذشتہ ایک سال سےوہ اس ناگ کی دہشت سےخوف زدہ تھا ۔ گذشتہ ایک سال سےروزانہ اسےاس ناگ کا لہراتا ہوا پھن دکھائی دیتا تھا ۔ روزانہ وہ جس راستےسےبھی گزرتا تھا وہاں سےموت اسی کی تاک میں بیٹھی محسوس ہوتی تھی ۔
    اسےصرف اس دن ناگ سےنجات ملتی تھی جس دن وہ آفس نہیں جاتا تھا اور گھر میں ہی رہتا تھا ۔
    گھر میں وہ اپنےبیوی بچوں کےدرمیان خود کو بےحد محفوظ سمجھتا تھا ۔ اسےپورا اطمینان ہوتا تھا کہ جب تک وہ اپنےگھر میں ہےاپنےخاندان کےافراد کےدرمیان ہےمحفوظ ہے۔
    ہاں جس لمحےاس نےگھر سےباہر قدم رکھا اس کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔صرف وہ اکیلا ہی اس دہشت سےخوفزدہ نہیں تھا جب وہ غور کرتا تو اسےاپنےساتھ سفر کرتا ہر آدمی اسےدہشت زدہ محسوس ہوتا تھا ۔ کسی کو بھی اپنی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں تھا ۔
    جب وہ اس موضوع پر لوگوں سےگفتگو کرتا تو اسےمحسوس ہوتا وہ جس خوف کےسائےمیں جی رہا ہےلوگ بھی اسی خوف کےسائےتلےجی رہےہیں ۔ سارےشہر پر وہ کالا سایہ چھایا ہوا ہے۔
    ایک سال قبل تک سب کچھ کتنا اچھا تھا ۔
    روزانہ وہ بلا خوف و خطر آفس جاتا اور آفس سےواپس گھر آتا تھا ۔ کسی وجہ سےاگر وہ آدھی رات تک گھر نہیں پہنچ پاتا تھا تو بھی گھر والےاس کی کوئی فکر نہیں کرتےتھے۔ وہ یہ اندازہ لگالیتےتھےکہ ضرور آفس میں کوئی کام ہوگا اس لئےگھر آنےمیں دیر ہوگئی ہوگی یا ٹرین سروس میں کوئی خلا پیدا ہوگیا ہوگا اس لئےوہ ابھی تک گھر نہیں آپایا ہے۔ وہ خود جب آفس سےنکلتا تو اسےبھی گھر پہونچنےکی کوئی جلدی نہیں ہوتی تھی ۔ وہ بڑےآرام سےضروری اشیا ءخرید کر گھر جاتا تھا ۔
    لیکن اب تو یہ حال تھا کہ اگر وہ آدھا گھنٹہ بھی لیٹ ہوجاتا تھا تو اس کی بیوی کی دل کی دھڑکنیں تیز ہوجاتی تھیں ۔ وہ بےچینی سےکمرےمیں ٹہلتی ‘ پتہ نہیں کیا کیا سوچنےلگتی تھی ۔
    اگر وہ گھر آنےمیں دو تین گھنٹہ لیٹ ہو جاتا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونےلگتی تھی ۔ وہ ابھی تک گھر کیوں نہیں پہونچا ؟ کیا اس کےساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آیا ہے؟
    اب وہ آفس سےنکلتا تھا تو سیدھا پہلی لوکل پکڑ کر گھر جانےکی سوچتا تھا وہ آفس سےباہر خود کو بڑا غیر محفوظ سمجھتا تھا ۔ اسےاگر کوئی ضروری چیز بھی خریدنی ہوتی تھی تو وہ ٹال دیتا تھا ۔
    ایک دہشت ذہن میں سمائی رہتی تھی ۔ پتہ نہیں کب کہیں کوئی بم پھٹےاور اس کےجسم کےپرخچےاڑجائیں ۔
    پتہ نہیں کب کہیں سےکوئی گروہ ہاتھوں میں تلوار ، چاقو ، چاپڑ لئےمذہبی نعرےلگاتا ہوا آئےاور آکر اس کےجسم کےٹکڑےٹکڑےکرڈالے۔
    پتہ نہیں کب کہیں سےپولس کی گولی آئےاور اس زمین کو اس کےوجود سےپاک کردےپتہ نہیں کہیں دو گینگوں کی وار میں چلی کوئی گولی اچٹ کر آئےاور ملند کی طرح اس کا بھی خاتمہ کردے۔ اور نہیں تو یہ بھی ممکن ہےوہ جس لوکل ٹرین سےسفر کررہا ہو اس کےڈبےمیں بم پھٹ پڑے۔
    گذشتہ ایک سال میں اس نےاپنی آنکھوں سےاپنی موت کو اپنےبہت قریب سےدیکھا تھا ۔ اپنےکئی شناساو¿ں اور عزیزوں کو موت کا نوالا بنتےہوئےدیکھا تھا اور ایک دوبار تو خود موت اس کےقریب سےگزری کہ آج بھی جب وہ ان لمحات کو یاد کرتا تھا تو اس کےجسم میں کپکپی چھوٹ جاتی تھی ۔
    وہ دسمبر کا ایک منحوس دن تھا ۔ بیوی اسےروک رہی تھی ۔
    ” آج آپ ڈیوٹی پر مت جائیےمیرا دل بہت گھبرا رہا ہےضرور آج کچھ نہ کچھ ہوگا ۔ “
    ” تمہارا دل تو روز ہی گھبراتا رہتا ہےاس کا مطلب تو یہ ہوا میں روز آفس نہ جاو¿ں ۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا جیسا تم سوچ رہی ہو ۔ اس طرح کےواقعات تو روزانہ ہوتےرہتےہیں ۔ میرا آج آفس جانا بہت ضروری ہےکہیں کوئی گڑبڑ نہ ہوجائے‘ میں جلد ہی واپس آجاو¿ں گا ۔ “
    بیوی روکتی رہی مگر وہ نہ مانا اور ڈیوٹی پر چلا آیا ۔
    اس دن آفس میں حاضری آدھےسےبھی کم تھی ۔ آنےوالےآتو گئےتھےلیکن اس لمحےکو کوس رہےتھےجب انہوں نےآفس جانےکا فیصلہ کیا تھا ۔ سب کا یہی خیال تھا کہ اگر وہ نہ آتےتو بہتر تھا ۔ کیونکہ جو خبریں آفس پہنچ رہی تھیں اسےمحسوس ہورہا تھا آدھا شہر جل رہا ہے۔
    آسمان میں دھوئیں کےبادل چھائےصاف دکھائی دےرہےتھے۔ سارےشہر پر ایک دہشت چھائی ہوئی تھی ۔ کھلی دکانیں دھڑا دھڑ بند ہورہی تھیں سڑکوں سےسواریاں اور لوگ غائب ہورہےتھے۔
    یہ طےکیا گیا کہ آفس بند کرکےسب لوگ فوراً اپنےگھروں کو چلےجائیں ۔ ریلوےاسٹیشن تک آتےآتےانہوں نےکئی ایسےمناظر دیکھےتھےجس کو دیکھ کر ان کےہوش اڑ گئےتھے۔
    جگہ جگہ گاڑیاں جل رہی تھیں ۔ دوکانیں جل رہی تھیں ۔ لٹی ہوئی دوکانیں کھلی پڑی تھیں ۔ سڑک پر ایک دو لاشیں پڑی تھیں ۔ ایک دو زخمی کراہ رہےتھے۔ پتھروں اور سوڈا واٹر کی پھوٹی ہوئی بوتلوں کےڈھیر پڑےہوئےتھے۔
    اسٹیشن پر اتنی بھیڑ تھی کہ پیر رکھنےکی بھی جگہ نہیں تھی ۔ جو بھی لوکل آتی تھی لوگ اس پر ٹوٹ پڑتےتھےاور جس کو جہاں جگہ ملتی وہاں کھڑےہوکر ، بیٹھ کر ، لٹک کر جلد سےجلد وہاں سےنکل جانےکی کوشش کرتے۔
    اسےایک لوکل میں جگہ ملی تو صورت حال یہ تھی کہ وہ دروازہ میں آدھےسےزیادہ لٹکتا سفر کر رہا تھا اور راستےمیں سارےمناظر دیکھ رہا تھا ۔
    لوگوں کےگروہ ایک دوسرےسےالجھےہوئےتھے۔ ایک دوسرےپر پتھراو¿ کررہےتھے۔ سوڈاواٹر کی بوتلیں پھینک رہےتھے۔ ۔ دوکانیں لوٹ رہےتھےچلّا رہےتھے۔
    کہیں پولس اور لوگوں میںٹکراو¿ چل رہا تھا ۔ پولس اندھا دھند گولیاں چلا رہی تھی لاشیں سڑکوں پر گر رہی تھیں ۔
    گولیوں کی ایک بوچھار اس جگہ سےگزرتی لوکل ٹرین سےبھی ٹکرائی ۔ اس کےساتھ جو آدمی لٹکا ہوا تھا گولی پتہ نہیں اس آدمی کےجسم کےکس حصےسےٹکرائی ‘ اس کےمنھ سےایک دردناک چیخ نکلی ۔ اس کا ہاتھ چھوٹا وہ ڈبہ سےگرا اور اس کےبعد ابھرنےوالی اس کی دوسری چیخ اتنی بھیانک تھی کہ جس کےبھی کانوں تک وہ چیخ پہنچی وہ کانپ گیا ۔
    وہ گاڑی کےنیچےآگیا تھا ۔
    ایک گولی سامنےکھڑےآدمی کو لگی اور وہ بےآواز ڈھیر ہوگیا ۔
    اس کےجسم سےخون کا ایک فواّرہ اڑا اور آس پاس کھڑےلوگوں کےجسم اور کپڑوں کو شرابور کرگیا ۔
    اس کےکپڑوں پر بھی تازہ خون کی ایک لکیر ابھر آئی ۔کسی طرح وہ گھر پہنچنےمیں کامیاب ہوا ۔ اس کےبعد اس نےطےکیا کہ چاہےکچھ بھی ہوجائےوہ اب آٹھ دس دنوں تک یا جب تک معاملہ ٹھنڈا نہ ہوجائےآفس نہیں جائےگا ۔
    اور وہ آٹھ دنوں تک آفس نہیں گیا ۔ گھر میں بیٹھا شہر کےجلنےکی اور لوگوں کےمرنےبرباد ہونےکی خبریں سنتا پڑھتا رہا ۔ کبھی چوبیس گھنٹےکرفیو رہتا ۔ کبھی کچھ دیر کےلئےکرفیو میں راحت دی جاتی ۔ آٹھ دنوں میں صورت حال معمول پر آگئی ۔
    مجبوریوں کےمارےلوگ اپنےگھروں سےباہر نکلے۔ مجبوری کےتحت آفس جاتے۔ راستےبھر سفر کےجلد خاتمےکی دل ہی دل میں دعا ئیں کرتے۔
    آفس پہنچ کر آفس میں کام کرتےہوئےوہ یہی دعا کرتا کہ کوئی ناخوش گوار واقعہ نہ پیش آئے۔ اور آفس سےجلدی چھٹی لےکر جلد گھر جانےکی کوشش کرتا ۔
    آدھی رات تک جاگنےاور کبھی کبھی تو رات بھر جاگنےوالا شہر پانچ بجےہی ویران ہوجاتا تھا ۔ حالات کچھ کچھ معمول پر آئےبھی نہ تھےکہ ایک بار پھر تشدد بھڑک اٹھا ۔ اس بار تشدد کا زور کچھ زیادہ تھا ۔
    ایک دن دہشت زدہ سا آفس سےدوپہر میں ہی گھر آرہا تھا کہ اچانک ایک مذہبی نعرہ لگاتا گروہ لوکل ٹرین پر ٹوٹ پڑا ۔ گروہ کےہاتھوں میں تلواریں ، چاقو اور چاپڑ تھے۔ مذہبی نعرےلگاتےوہ اندھا دھند لوگوں پر وار کررہےتھے۔ لوگ چیخ رہےتھے، بلبلا رہےتھےلیکن گروہ کو کسی پر رحم نہیں آرہا تھا ۔ تلوار کا ایک وار اس کی پشت پر ہوا اور کےبعد کیا ہوا اسےکچھ یاد نہیں ۔
    ہوش آیا تو اس نےخود کو ایک اسپتال میں پایا ۔
    لوکل کسی محفوظ مقام پر رکی تھی ۔ وہاں پر زخمی افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا ۔ تین دنوں تک وہ بےہوش تھا ۔ ہوش میں آنےکےبعد گھبرا کر اس نےسب سےپہلےاپنےگھر خبر کرنےکی درخواست کی تھی ۔
    اسپتال میں اسےپتہ چلا کہ اس کی بیوی خود دو دنوں سےاسپتال میں ہے۔ وہ گھر نہیں آیا تھا اس لئےرات بھر روتی پیٹتی رہی تھی ۔ جیسےجیسےدل کو دہلا دینےوالی خبریں وہ سنتی تھی اس کاکلیجہ منھ کو آتا ۔ آخر جب برداشت نہیں کرسکی تو بےہوش ہوگئی اور اسےپڑوسیوں نےاسپتال پہنچا دیا ۔
    اسپتال میں جب اس کےمحفوظ ہونےکی خبر ملی تو اس کےاندر جیسےایک نئی جان سرایت کرگئی اور وہ اس کےپاس اسپتال چلی آئی ۔
    وہ دس دنوں تک اسپتا ل میں رہا اس کےبعد گھر آگیا ۔ گھر آکر اس نےگھر میں کچھ دنوں تک آرام کیا پھر مجبوراً آفس جانےلگا ۔ وہ اتنا خوف زدہ تھا کہ ہر لمحہ اسےمحسوس ہوتا تھا ابھی کوئی گروہ ہاتھوں میں تلوار ، چاپڑ یا چاقو لئےمذہبی نعرےلگاتا آئےگا اور اس پر ٹوٹ پڑےگا ۔ گذشتہ بار تو وہ ان کےوار سےبچ گیا لیکن اس بار بچ نہیں سکےگا وہ لوگ اس کےجسم کےٹکرےٹکڑےکرڈالیں گے۔
    اس کی آنکھوں کےسامنےڈبےّسےدوسرےمذہب سےتعلق رکھنےوالوں کو پھینکنےکےواقعات پیش آئےتھے۔ وہ ان واقعات سےبھی خوف زدہ رہتا تھا ۔ اگر کسی دن غلطی سےوہ کسی ایسےڈبےمیں چڑھ گیا جس میں دوسرےمذہب سےتعلق رکھنےوالےمسافر زیادہ ہوئےتو وہ لوگ بھی اس کےساتھ یہی سلوک کرسکتےہیں ۔ نہیں نہیں ایسا سوچ کر ہی وہ کانپ اٹھتا تھا ۔
    اور پھر ایک دن ایک اور قیامت کا دن آیا ۔ اس کےآفس کےسامنےوالی عمارت میں ایک زبردست دھماکہ ہوا تھا ۔ اتنا زبردست کہ اس آفس کی کھڑکیوں کےسارےشیشےٹوٹ گئےتھےاوراسےاپنےکانوں کےپردےپھٹتےمحسوس ہوئےتھے۔ باہر صرف دھواں ہی دھواں تھا ۔ دھواں ہٹا تو وہاں صرف ملبہ ہی ملبہ دکھائی دےرہا تھا ۔ اور چیتھڑوں کی شکل میں خون میں ڈوبےمرےلوگ ‘ ان کی لاشیں ۔ اس طرح کےدھماکےشہر میں کئی مقامات پر ہوئےتھے۔ ہزاروں لوگ زخمی ہوئےتھےسینکڑوں مارےگئےتھےکروڑوں کا نقصان ہوا تھا ۔ موت ایک بار پھر اس کی آنکھوں کےسامنےاپنا جلوہ دکھا کر رقص کرتی چلی گئی تھی ۔ اگر وہ بم تھوڑا سا اور زیادہ طاقت ور ہوتا تو اس کا آفس بھی اس کی زد میں آجاتا اور وہ بھی نہیں بچ پاتا ۔
    یہیں خاتمہ نہیں تھا ۔ آئےدن لوکل ٹرینوں میں ، پلیٹ فارموں پر چھوٹےبڑےدھماکےہورہےتھے۔ مجرموں کی تلاش کےنام پر کسی پر ذرا بھی شک ہونےپر پولس اسےاٹھالےجاتی اور اسےجانوروں کی طرح پیٹ کر حوالات میں ڈال دیتی ۔ اس کا چھوٹنا مشکل ہوجاتا ۔ ہاتھوں کی ہر چیز کو شک کی نظروں سےدیکھا جاتا تھا ۔ کوئی چیز کہیں سےلانا یا لےجانا بھی جرم ہوگیا تھا ۔
    گینگ وار میں سڑکوں پر گولیاں چلتیں۔ لاشیں گرتیں ۔ مجرموں غنڈوں جرائم پیشہ لوگوں کی بھی اور معصوم لوگوں کی بھی ۔ایسی حالت میں گھر سےنکلتےہوئےکون اعتماد سےکہہ سکتا ہےکہ اس کےساتھ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ وہ جس طرح گھر سےنکل رہا ہےاسی طرح محفوظ بہ حفاظت شام کو واپس گھر آجائےگا ۔ گھر سےجب وہ دعا کرکےنکلتا تو اس کا ذہن خدشات اور وسوسوں میں ڈوبا ہوتا تھا لیکن جب وہ شام گھر پہنچ کر دعا کرتا تھا تو اسےایک قلبی سکون ملتا تھا ۔
    ” ہےبھگوان ! تیرا بہت بہت شکریہ تو نےمجھےصحیح سلامت اپنےگھر پہنچا دیا۔“
    ll







    Urdu Short Story

    Hawadis



    By M.Mubin



    ” اتنی دیر کہاں تھے؟ “ دروازہ کھولنےکےساتھ بیوی نےسوال کیا ۔
    ” پولس اسٹیشن گیا تھا ۔ “ اس نےبیزاری سےجواب دیا اور کپڑےاتارنےلگا ۔
    ” رات کےدس بج رہےہیں اور تم پولس اسٹیشن سےآرہےہو ؟ “ بیوی نےحیرت سےپوچھا ۔ ” شام پانچ بجےسےپولس اسٹیشن میں بیٹھا ہوں ۔“ اس نےاپنا سر پکڑتےہوئےجواب دیا۔
    ” تین بجےہی دو کانسٹبل آفس پہنچ گئےتھےاور فوراً پولس تھانےچلنےکےلئےکہہ رہےتھے۔ بڑی مشکل سےمیں نےانہیں سمجھایا کہ آفس میں بہت ضروری کام ہےمیں شام کو تھانےآتا ہوں ۔ شام کو تھانےگیا تو انسپکٹر کا پتہ ہی نہیں تھا جس کےہاتھ میں ملند کا کیس ہے۔ ایک دو گھنٹہ انتظار کرنےکےبعد جانےلگا تو تھانےمیں موجود کانسٹبل ڈرانےدھمکانےلگےکہ تم بنا انسپکٹر صاحب سےملےجا نہیں سکتے۔ اگر تم چلےگئےتو ہوسکتا ہےانسپکٹر صاحب تمہیں رات گھر سےبلائیں۔ مجبوراً اس کا انتظار کرنےلگا۔ نوبجےکےقریب وہ آیا تو مجھ سےاس طرح کا برتاو¿ کرنےلگا جیسےمیں کوئی عادی مجرم ہوں ‘ کہنےلگا ۔ ” کیوں بےتُو بہت بڑا صاحب آفیسر ہےجو ہمارےبلانےپر نہیں آتا ہے؟ ہم تیرےباپ کےنوکر ہیں ‘ دوست کےقتل کی گواہی دےرہا ہےتو ہم پر کوئی احسان نہیں کر رہا ہےزیادہ ہوشیاری دکھائی تو اسی کیس میں تجھےپھنسا دوں گا ۔ یہ مت بھول قتل تیری آنکھوں کےسامنےہوا ہےاور تُو اکیلا چشم دید گواہ ہے۔ وہاں موجود دوسرےتمام افراد نےگواہی دینےسےانکار کردیا ہےورنہ جائےواردات پر موجود کوئی بھی فرد قاتلوں کو دیکھنےکی بات ہونٹوں پر نہیں لا رہا ہی۔ اپنےدوست کےقاتلوں کو سزا دلانا چاہتا ہےتوسیدھی طرح ہماری مدد کر جب ہم بلائیں اسی وقت پولس اسٹیشن میں حاضر ہوتا رہ ۔ ورنہ پولس کےساتھ تعاون نہ کرنےکےجرم میں تجھےاندر کردیں گی۔ “
    ” انہوں نےکس لئےبلایا تھا ؟ “ رادھا نےبات بدلنےکےلئےپوچھ لیا ۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ اگر اس نےاس بات کو ختم نہیں کیا تو امیت ساری کہانی لفظ بہ لفظ اسےسنائےگا اور سناتےہوئےتناو¿ کا شکار ہوجائےگا ۔
    ” کچھ نہیں ایک دو بیانات پر دستخط لینےتھے۔ جائےواردات پر ملی ایک دو چیزوں کی تصدیق کرنی تھی ۔ “ امیت نےجواب دیا ۔
    ” بھگوان جانےاس کیس سےکب نجات ملے۔“ یہ کہتےہوئےرادھا نےایک ٹھنڈی سانس لی اور پھر بولی ۔ ” چلو جلدی سےمنھ ہاتھ دھوکر آو¿ ۔ رات کےدس بج رہےہیں مجھےبڑی بھوک لگی ہےاور تم بھی تو بھوکےہو ۔ “
    ” ان چار گھنٹوں میں پانی کی ایک بوند بھی منھ میں نہیں گئی ہے۔ “ کہتا ہوا امیت واش بیسن کی طرف بڑھ گیا ۔
    ” پتہ نہیں یہ ہمارےکن پاپوں کی سزا ہےجو بھگوان ہمیں دےرہا ہے۔“ امیت کو واش بیسن کی طرف جاتےدیکھ کر وہ سوچنےلگی ۔ ” ہم کو اس کیس میں پھنسا دیا ہے۔ “ تھوڑی دیر کےبعد دونوں ساتھ بیٹھےبظاہر کھانا کھا رہےتھے۔ لیکن رادھا کا ذہن کہیں اور کھویا ہوا تھا ۔
    امیت کی آنکھوں کےسامنےوہ واقعاتگھوم رہےتھےجب اس کےسامنےملند کا قتل ہوا تھا ۔ دونوں ایک ریستوراں میں بیٹھےچائےپی رہےتھے۔
    آفس سےچھوٹنےکےبعد ملند نےچائےکی دعوت دی تھی ۔ اسےبھی شدت سےچائےکی ضرورت محسوس ہورہی تھی ۔ دن بھر آفس میں اتنا کام تھا کہ وہ چائےبھی نہیں پی سکا تھا ۔
    دونوں آفس سےنکلےاور سامنےوالےریستوراں میں بیٹھ کر چائےپینےلگی۔ شام کا وقت تھا ریستوراں میں زیادہ بھیڑ نہیں تھی ۔ ویسےبھی وہ باہر کی ٹیبل پر بیٹھےتھے۔
    ” اور بتاو¿ تمہارا اور بلڈر کا جھگڑا کہاں تک پہنچا ہے؟ “ اس نےچائےپیتےہوئےملند سےپوچھا ۔
    ” اب اس جھگڑےکےبارےمیں کیا بتاو¿ں ۔ جھگڑا دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہی۔اب تو وہ سالا دھمکیاں دینےلگا ہے۔ کل شام سات آٹھ غنڈوں کےساتھ آیا تھا میں ان سب کو پہچانتا تھا ۔ کہنےلگےکل تک سیدھی طرح جگہ خالی کردے۔ ہم اس بلڈنگ میں دو سو اسکوائر فٹ کا فلیٹ تجھےبلا قیمت دےدیں گے۔ دوسو اسکوائر فٹ کا فلیٹ ‘ سالےجیسےمرغی کو رہنےکےلےڈربہ دےرہےہیں ۔ فی الحال جتنی جگہ میں رہتا ہوں وہ دو ہزار اسکوائر فٹ سےکم نہیں ہوگی ۔ دو ہزار اسکوائر فٹ جگہ کےبدلےدو سو اسکوائر فٹ جگہ دےرہےہیں ۔ جب میں نےوہ جگہ کرائےپر لی تھی آس پاس چاروں طرف جنگل تھا جنگل ۔ اس وقت جگہ کےمالک نےمجھ سےڈپازٹ کےطور پر پانچ ہزار روپےلئےتھےاور کہا تھا میں جتنی جگہ چاہوں استعمال کرسکتا ہوں ۔ میں نےتھوڑی سی جگہ صاف کرکےایک کمرہ بنایا تھا ۔ رات بھر چاروں طرف سےڈراو¿نی آوازیں آتی تھیں ۔ اور سانپ بچھو گھر میں گھس آتےتھے۔
    مجبوری تھی نئی نئی نوکری تھی ۔ سر چھپانےکےلئےجگہ چاہئیےتھی ۔ اس لئےمیں اس جگہ رہتا تھا ۔ وقت گذرنےلگا تو آس پاس اور بھی لوگ آکر بسنےلگے۔ جنگل ختم ہوا ۔ میں نےصاف صفائی کرکےاور ایک دو کمرےبنا لئے۔ مالک نےکرایہ سو روپیہ کردیا میں باقاعدگی سےکرایہ دیتا تھا ۔ اب جب کہ وہ جگہ آبادی کےوسط میں آگئی ہےچاروں طرف بڑی بڑی بلڈنگیں بن گئی ہیں ۔ زمین کی قیمت کروڑوں روپیہ ہو گئی ہےتو وہ جگہ خالی کرانا چاہتا ہے۔ اس جگہ بلڈنگ بنا کر اسےاونچی قیمت پر فروخت کرنا چاہتا ہی۔ “
    ” یہ کہانی تو ہر جگہ دہرائی جا رہی ہے۔ “ امیت نےاسےسمجھایا تھا ۔” لیکن جہاں بھی پرانےکرایہ داروں کا نکال کر نئی بلڈنگ بنائی جاتی ہے۔ پر
     

اس صفحے کی تشہیر