مچھلی شوربہ

فیصل عظیم فیصل نے 'آپ کے کالم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 1, 2018

  1. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,178
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    [​IMG]
    سرخ فیتہ۔ رشوت خوری۔سفارش کلچر۔ بے شمار ٹیکسز۔ غیر معقول توقعات کسی بھی ملک میں نئی صنعتوں کی آمد اور اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور پاکستان میں اس کا چلن کچھ زیادہ ہی ہے۔ مثال کے طور پر آپ کو اپنے گھر کے لیئے نقشہ منظور کرانا ہے تو بغیر رشوت یہ کام ہونا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ پچیس تیس ہزار کا پرائیویٹ ملازم جس کی ایک چھٹی پر ڈیڑھ دن کی تنخواہ کٹتی ہے وہ بار بار دفتروں کے چکر لگا کر، کلرکوں کی مٹھیاں گرم کر کے، اپنی نوکری سے چھٹی کر کے اپنی تنخواہ میں کٹوتیاں کروا کے نقشہ منظور کروائے یا ایک ہی بار میں مک مکا کرکے اپنا کام کروائے۔ گھر کا بجلی کا میٹر لگوانے کے لیئے بغیر رشوت کام کرنا ایک ممنوع امر سمجھا جاتا ہے۔ سرکاری ملازمین کام کم اور حرام زیادہ کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔
    میرے ایک دوست ہیں بٹ صاحب، ٹریکٹر سازی میں ایک انتہائی زرخیز دماغ کے مالک، اور دہری قومیت کے حامل۔ بیرون ملک چلتا ہوا کاروبار ملک کی خدمت کے نقطہ نظر سے چھوڑ کر پاکستان منتقل ہوئے۔ اپنا ٹریکٹر سازی کا کارخانہ لگا بیٹھے۔ بجلی کا تھری فیز میٹر تک لگوانے کے لیئے انہیں رشوت دینا پڑی ۔ کارخانے کے پیچھے ایک گندا نالہ ہے اس میں نکاسی کا پائپ گرا کر اپنا کام شروع کر بیٹھے۔ اب سرکاری ملازمین کی آمد شروع ہوئی ۔ جی ماہانہ اتنے ہزار دیں ورنہ ہم آتے رہیں گے توڑتے رہیں گے اور ہر بار آکر ہرجانہ اور جرمانہ ڈالتے رہیں گے۔ دیکھتے ہیں آپ کب تک مزاحمت کریں گے. اب چھوٹے چھوٹے اہلکاروں کی آمد شروع ہوئی۔ بورڈ لگایا ہے اس کا ٹیکس دیں یا مک مکا کریں۔ ٹیکس دینا ہے تو ہمارا طے کردہ ایسٹیمیٹ چلے گا اور اگر مک مکا کرنا ہے تو جو چاہو کرو ہم سنبھال لیں گے۔ آپ ٹریکٹر بنا رہے ہیں اس کے لیئے پانچ اداروں میں رجسٹریشن کروانا اپنے آپ میں ایک لمبا پراسیس ہے، اس کے علاوہ ہر ادارے میں جب بتایا جاتا ہے کہ ٹریکٹر سازی کا کارخانہ ہے تو آنکھیں اٹھتی ہیں، اوررالیں بہہ نکلتی ہیں، ساتھ ہی مچھلی شوربہ کی ڈیمانڈ سامنے رکھ دی جاتی ہے۔ ظلم بالائے ظلم تو یہ ہے کہ جب انہوں نے اس ٹریکٹر کی پاکستان میں فروخت شروع کرنے کا سوچا تو ساتھ ہی سیکریٹری لیول کے ایک سرکاری افسر کی طرف سے ڈیمانڈ سامنے رکھ دی جاتی ہے، کہ جی دس فی صد کی پارٹنرشپ اور ہر ٹریکٹر پر ایک لاکھ روپے رشوت ہمیں دینا ہوگی، سمجھ میں آتا ہے تو کاغذات لے آئیں کام ہو جائے گا۔ تمام ترانویسٹمنٹ آپ کی ہوگی۔ خسارہ کے ذمہ دار آپ ہونگے۔ مشینری کے لیئے تمام تر امپورٹ اور مینیوفیکچرنگ اخراجات آپ کی ذمہ داری ہے، ہم صرف اور صرف فی ٹریکٹر ایک لاکھ روپیہ لیں گے، اور اس کے علاوہ ہر ٹریکٹر میں منافع میں دس فیصد کے ہم حصہ دار ہونگے۔ شریف آدمی ہے اس نے اس سب سے توبہ کی اور خاموشی سے ٹریکٹر بنا کر ایکسپورٹ کرنے کا سوچا۔ لیجئے نیا کٹا کھل گیا ۔ یہ کاغذ وہ کاغذ یہاں رشوت وہاں رشوت۔ کام کے چکر میں حضرت کروڑوں کے مقروض ہوئے اور توبہ توبہ کرتے یہاں سے واپس باہر کی طرف بھاگنے کا سوچنے لگے۔ دوسری کہانی دیوان فاروق کی ہے جس نے پاکستان میں ایک موٹر کار بنائی۔ یہ موٹر کار پاکستان کی عمومی ضروریات کے لیئے کافی تھی، لیکن یہاں موجود ایک ٹرائیکا جسے تین مشہور برانڈز کی حمایت اور سرکاری اداروں اور انکے ملازمین کو اندر کھاتے کا مچھلی شوربہ دستیاب ہے، اس نے ان کا پلانٹ لگا ہوا جو انہوں نے جنرل موٹرز کے تعاون سے لگایا تھا، چلنا اس قدر مشکل کر دیا کہ انہیں اپنا بوریا بستر سمیٹتے ہی بنی۔ مسئلہ قوانین کے وجود سے نہیں ہے، بلکہ انکے نفاذ میں سرکاری ملازمین کا دیہاڑی لگانے کا رویہ اور جہاں سے دیہاڑی لگ رہی ہے ان کی ناجائز اور غیر ضروری حمایت کرتے ہوئے نئے آنے والوں کی حوصلہ شکنی کا ہے۔ ٹیکس نیٹ پھیلاتے پھیلاتے اتنا پھیلا دیا گیا ہے کہ ایک کے تار دوسرے میں الجھتے جا رہے ہیں اور ان الجھتے ہوئے تاروں میں نفاذ کے لیئے جن لوگوں کو ملازمین رکھ کر ایمان داری سے کام کی ذمہ داری دی گئی ہے، ان کے لیئے یہ ذمہ داری نہیں ہے بلکہ دیہاڑی کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس میں تنخواہ لیکر بھی وہ صرف مچھلی شوربہ کے لیئے مصروف عمل رہتے ہیں۔ دنیا بھر میں ٹیکسز کا نظام سادہ اور آسان رکھا جاتا ہے۔ لوگوں کو حوصلہ دیا جاتا ہے کہ آمدن نہ چھپائی جائے اور ایک مخصوص رقم سے اوپر والوں سے ہی ٹیکس لیا جاتا ہے۔ یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ بنانے والا ٹیکس دے گا۔اور اس کی وصولی ڈیلرز سے کرے گا۔ ڈیلرز ہول سیلر سے اور ہول سیلر دکان دار سے آخر میں ایک عام صارف اس پر ٹیکس دے گا۔ نتیجہ ایک ہزار میں بننے والی چیز مچھلی شوربہ اور ٹیکسز کے بعد پندرہ سو میں ڈیلرز کو ملے گی۔ ڈیلرز پندرہ سو والی چیز ساڑھے سولہ سو میں ہول سیلرز کو دیں گے وہ انیس سو میں ریٹیلرز کو دیں گے اور وہ ایک عام صارف کو وہی چیز اکیس سو میں دیں گے اسپر وہ جب ٹیکس دے گا تو اسے کل ملا کر وہی چیز جو ایک ہزار میں اسی ملک میں تیار کی گئی ہے، پچیس سو میں لینا پڑے گی جبکہ آمدن کے لحاظ سے اس آخری خریدار پر کوئی ٹیکس ہونا ہی نہیں چاہیئے۔ کیا ہمارے ملک میں اس پر کوئی چیک اینڈ بیلنس ہے۔۔؟؟ اور اگر کوئی ہے تو اس کے نفاذ کے لیئے جن لوگوں یا اداروں کی ذمہ داری لگائی گئی ہے وہ کیا کام کر رہے ہیں ۔ عوامی مفادات کی حفاظت یا پھر اپنا مچھلی شوربہ۔۔؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر