مولوی ہرگز نہ شُد مولائے روم

زبیر مرزا نے 'شاعری اور مصوری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 7, 2012

  1. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 5
  2. مہ جبین

    مہ جبین محفلین

    مراسلے:
    6,246
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    بہت شکریہ حوصلہ افزائی کا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. حسیب نذیر گِل

    حسیب نذیر گِل محفلین

    مراسلے:
    7,241
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    زحال بھائی ترجمہ کر دیں تو مہربانی ہوگی۔
     
  5. مہ جبین

    مہ جبین محفلین

    مراسلے:
    6,246
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    میں نے کہیں اسکا ترجمہ پڑھا تھا ، پتہ نہیں ٹھیک ہے یا غلط ، مولانا روم اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ مولوی اُس وقت تک کچھ بھی نہیں جب تک کہ وہ "شمس تبریز" کا غلام نہ ہو
    اساتذہ کرام توجہ فرمائیں
     
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,985
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    مولانا رومی اصل میں مولوی رومی کے نام سے مشہور ہیں، شاہ شمس تبریز سے بیعت ہونے سے پہلے آپ بڑے عالم فاضل تھے اور درس اور واعظ کرتے تھے یعنی مُلّا تھے۔ اپ سے بیعت کرنے کے بعد آپ نے درس اور واعظ ترک کر دیے اور صوفی ہو گئے اور پھر مولوی رومی کے نام سے شہرت حاصل کی۔ شاہ شمس تبریز سے بیعت کرنے کی کافی روایت ہیں جو کہ عموماً ضعیف ہیں، ایک مشہور روایت یہ ہے کہ مولانا کہیں واعظ فرما رہے تھے اور کتابوں کے ڈھیر پاس دھرے تھے، شاہ شمس کا ادھر سے گزر ہوا تو مولانا کی کتابوں کی طرف دیکھ کر کہا کہ یہ کیا ہے، مولانا نے فقیر کو دیکھا اور کہا کہ یہ وہ علم ہے جو تُو نہیں جانتا، شاہ شمس نے اشارہ کیا اور کتابیں جل کر خاک ہو گئیں، مولانا کو بہت افسوس ہوا اور کہا کہ میرا علم ضائع کر دیا۔ شاہ شمس نے کہا یہ کیسا علم ہے جو کتابوں کا محتاج ہے اور دوبارہ اشارہ کیا تو کتابیں اصل حالت میں واپس آ گئیں، مولانا نے شاہ شمس سے کہا یہ کیا ہے انہوں نے کہا یہ وہ علم ہے جو تو نہیں جانتا بس اُس دن سے مولانا شاہ شمس کے ساتھ ہو گئے اور وعظ اور درس ختم کر دیا۔ اور کہا جاتا ہے کہ مولانا کے درس بند ہونے کا مولانا کے بیٹوں اور دوستوں کا بہت قلق ہوا اور مولانا کو واپس اسی ڈگر پر لانے کیلیے انہوں نے شاہ شمس تبریز کو قتل کر دیا اسکے متعلق مولانا شبلی نعمانی اپنی شہرہ آفاق کتاب شعر عجم میں بھی لکھا ہے، یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ملتان میں جن شاہ شمس کا مزار ہے وہ دوسرے بزرگ ہیں۔

    اس شعر میں مولانا یہی فرما رہے ہیں کہ روم کا عالم فاضل مُلّا، مولوی یعنی صوفی ہر گز نہ بنتا اگر وہ شاہ شمس تبریز کا غلام نہ بنتا۔
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. aziz ali najam

    aziz ali najam محفلین

    مراسلے:
    1
    برائے مہربانی پوری غزل اور شمارہ نمبر ارشاد کیجیئے
    مولوی ہرگز نشد مولائے روم تا غلام شمس تبریزی نشد
    عنایت ہو گی
    عزیز علی نجم
     
  8. محمد ظہیر اقبال

    محمد ظہیر اقبال محفلین

    مراسلے:
    27
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    یہ جو مولوی "مولائے روم" بن گیا ہے بلکل بھی ممکن نہ تھا یہ تو شاہ شمس تبریزؒ کی غلامی ہے جس نے مجھے یہ اعزاز بخشا کہ میں مولوی سے مولائے روم بن گیا ہوں۔
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر