جاسم محمد

محفلین
ن لیگ اور پی پی پی نے اپنا عوام سے دھوکہ دہی کا ریکارڈ برقرار رکھتے ہوئے مولانا کے دھرنے میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔
 

جاسم محمد

محفلین
مولانا فضل الرحمن تو مولانا خادم حسین رضوی سے بھی زیادہ بری طرح پھنس گئے ہیں :)
Capture.jpg

 

جاسم محمد

محفلین
آزادی مارچ اسلام آباد کی جانب گامزن، حکومتی حکمت عملی بھی تیار
ویب ڈیسک بدھ 30 اکتوبر 2019
وفاقی وزراء پر دھرنے کے دوران اسلام آباد سے باہر جانے پر پابندی فوٹو: فائل


اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کا آزادی مارچ اپنے آخری مرحلے میں وفاقی دارالحکومت کی جانب گامزن ہے تو حکومت نے بھی تمام صورت حال کے تناظر میں حکمت عملی تیار کرلی ہے۔

حکومت سے طے پائے گئے معاہدے کے مطابق سیکٹر ایچ 9 کے اتوار بازار کے قریب میدان میں جے یو آئی (ف) کی تیاریاں مکمل ہوگئی ہیں، شرکاء کے کھانے پینے کیلئے میدان میں ہی کنٹین اور 5000 بیت الخلاء بنائے گئے ہیں۔ آزادی مارچ کے شرکاءاپنے کھانے پینے کا سامان بھی اپنے ساتھ لائیں گے جبکہ آزادی مارچ کے شرکاءکو بستر،اضافی کپڑے اور راشن لانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

a01-1572457106.jpg


جلسہ کے شرکاء کی پارکنگ کیلئے جگہ مختص کر دی گئی، جس کے مطابق موٹروے اور پشاور جی ٹی روڈ سے آنے والے شرکاء 26 نمبر چونگی براستہ کشمیر ہائی وے، پروجیکٹ موڑ اور جی نائن ٹرن کشمیر ہائی وے کے دونوں اطراف گاڑیاں پارک کریں گے، اسی طرح لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ ایکسپریس وے اور مری بارہ کہو سے آنے والے حضرات فیض آباد سے ڈھوک کالا خان فلائی اوور سے واپس فیض آباد براستہ 9تھ ایونیوچوک سے سروس روڈ ویسٹ پر گاڑیاں پارک کرکے جلسہ گاہ میں داخل ہوں گے۔

وزارت داخلہ کے انتظامات

آزادی مارچ کے حوالے سے وزارت داخلہ میں منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت معاہد ے کی پاسداری کرنے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ سیکیورٹی کے لئے پہلے لیول پر پولیس، دوسرے لیول پر رینجرز اور حساس مقامات کی حفاظت کے لئے آرمی کی خدمات لی جائیں گی۔

a02-1572457109.jpg


ٹریفک پلان

اسلام آباد میں مقیم اور گردو نواح سے آنے والے لوگوں کی سہولت کے لئے ٹریفک پلان بھی مرتب کیا گیا ہے۔ شہری اسلام آباد کی طرف آنے جانے کیلئے براستہ 26نمبر چونگی فلائی اوور سے مہر آباد پیر ودھائی، آئی جے پی روڈ سے فیض آباد فلائی اوور سے مری روڈ، ایکسپریس وے اور فیصل ایونیو استعمال کرسکتے ہیں۔

حاجی کیمپ چوک سے اسلام آباد چوک تک ٹریفک کے لئے ڈائیورژن ہوگی، شہری آمدورفت کے لئے پشاور جی ٹی روڈ سے اسلام آباد آنے جانے کے لئے براستہ 26 نمبر چونگی فلائی اوور سے ایکسپریس وے اور فیصل ایونیو استعمال کرسکتے ہیں۔ کشمیرہائی وے جی الیون سے بجانب اسلام آباد چوک ٹریفک کے لئے ڈائیورژن ہوگی، شہریوں کی آمدورفت کیلئے حاجی کیمپ چوک سے آنے والی ٹریفک مہر آباد آئی جے پی روڈ پر موڑ دی جائے گی، جی نائن،جی ٹین،جی الیون سے موٹر وے پشاور اور نیو اسلام آباد ائیرپورٹ جانیوالے حضرات جی الیون،جی ٹین،جی نائن سروس روڈ استعمال کرتے ہوئے براستہ جی الیون سگنل سے کشمیرہائی وے استعمال کریں۔

a03-1572457112.jpg


حکومتی حکمت عملی

آزادی مارچ سے متعلق حکومتی حکمت عملی بھی تیار ہے، وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزراء کو دھرنے کے دنوں میں اسلام آباد سے باہر جانے سے روک دیا۔ وزیراعظم نے حکومتی ترجمانوں کو ہدایت کی ہے کہ آزادی مارچ کے پس پردہ مقاصد میڈیا پر نے نقاب کیے جائیں۔ مارچ کے جلسہ گاہ پہنچنے تک کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کی جائے گی، دھرنے کی صورت میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی ایک بار پھر اپوزیشن رہنماوں سے مذاکرات کرے گی، اپوزیشن نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔دھرنا دینے پر پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی کمیٹی اپوزیشن رہنماؤں سے مذاکرات کرے گی تاہم مذاکرات میں وزیر اعظم کے استعفے کی شرط نہیں ہوگی۔

a04-1572457115.jpg


حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن معاہدے پر قائم رہتی ہے تو حکومت بھی پاسداری کرے گی، احتجاج میں اسلام آباد کے رہائشیوں کو کسی قسم کا مسئلہ درپیش نہیں ہونا چاہیے۔ حکومتی اور پارٹی ترجمانوں کے اجلاس میں وزیراعظم نے موجودہ میڈیا حکمت عملی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی ایجنڈے کے بجائے حکومتی پالیسی کا دفاع کیا جائے، حکومتی اقدامات اور پالیسی کو موثر انداز میں اجاگر کیا جائے۔

حکومت ہمارے اسلام آباد پہنچنے تک مستعفی ہوجائے

دوسری جانب رات گئے گوجرانوالہ میں حیدری انڈر پاس پر مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فصل الرحمان نے کہا کہ میرے گوجرانوالہ کے غیور دوستوں آپ نے جس خلوص کے ساتھ آزادی مارچ کا استقبال کیا میں آپ کا شکر گزار ہوں، یہ قومی آواز ہے کہ 25 جولائی کا الیکشن فراڈ ہے، عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، میرا ملک داؤ پرلگا ہے، آزادی مارچ وطن عزیز کی بقا اور سلامتی کیلیے ہے، تمام سیاسی جماعتیں آج ایک پیج پر ہیں کہ حکومت ناجائز ہے اور ناجائز، نا اہل حکومت کا پاکستان پرمسلط ہونے کا حق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے، پاکستان معاشی حالات سے بیٹھ رہا ہے جب تک نااہل حکمران ملک پر مسلط ہے تب تک پاکستان کی معشیت بہتر نہیں ہو سکتی، 50 لاکھ گھر بنانے کے دعوے کیے گئے گھر بنائے تو نہیں گرائے گئے، خواتین استاتذہ کو سڑکوں پر کھینچا جا رہا ہے، آج اگر کشمیر پر بھارت نے یلغار کی ہے تو ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کرکی ہے لیکن کشمیریوں کی آزادی اورحق خودارادیت کی جنگ لڑتے رہیں گے، ملک کے حالات بدتر ہوتے جارہے ہیں ہم تمام سیاسی رہنما مل کر اپنے عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، اب بھی موقع ہے ناجائزحکومت دستبردار ہوجائے، ہمارے اسلام آباد پہنچنے تک مستعفی ہوجائے اور قوم کومزید اذیت سےنجات دلائے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری سیاسی قیادت کے خلاف نیب کواستعمال کیا جا رہا ہے، احتساب کے نام پر سیاسی قیادت کو دیوارسے لگایا جا رہا ہے، سیاسی قیادت کو دیوار سے لگانے کا ڈرامہ ختم ہونا چاہیے، ہماری سیاسی قیادت جیلوں میں بیمار ہے خدا ان کو صحت یاب کرے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ کل جب ہم اسلام آباد میں داخل ہوں تو ایسا لگے کہ ایک قوم صف میں کھڑی ہے کل کے اجتماع سے واضح ہوگا کہ ختم نبوت ﷺ پر کوئی آنچ نہیں آئی، آؤ گوجرانوالہ والو! میرے ساتھ مل کر اسلام آباد چلو۔
 

جاسم محمد

محفلین
مولانا کا اصل ایجنڈا؟
حامد میر

یاد ہے نہ وہ کیا دعوے کرتے تھے؟ جی ہاں وہ بڑی رعونت کے ساتھ یہ کہتے تھے کہ فکر نہ کریں مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد کی طرف مارچ کی جرأت نہیں کریں گے۔ جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ مولانا کو کون روکے گا؟ وہ جواب میں بڑی شاطرانہ مسکراہٹ کے ساتھ فرماتے تھے کہ ان سے وہی لوگ بات کررہے ہیں جن کو بات کرنے کا سلیقہ آتا ہے لیکن شاید مولانا کے ساتھ سلیقے سے بات ہی نہیں کی گئی اور مولانا نے 27اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کردیا۔ اس مارچ کے آغاز سے ایک دن قبل جمعیت علماء اسلام(ف) کے رہنما حافظ حمداللہ کی پاکستانی شہریت منسوخ کردی گئی اور مفتی کفایت اللہ کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا۔ یہ بھی مولانا فضل الرحمٰن کو مارچ سے روکنے کا ایک طریقہ تھا لیکن وہ 27اکتوبر کو کراچی سے روانہ ہوگئے۔ سکھر اور ملتان سے ہوتے ہوئے وہ لاہور پہنچے تو کہا جانے لگا کہ وہ اسلام آباد میں ایک جلسہ کریں گے اور اپنے گھر چلے جائیں گے۔ اسلام آباد تو وہ پہنچ گئے ہیں اور اب اس شہرِ اقتدار کے سفارت کار ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ مولانا کو راستے میں کسی نے روکا کیوں نہیں؟ ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے ایک سفارت کار کو بتایا کہ اگر مولانا کو روکا جاتا تو وہ وطنِ عزیز کی ایک درجن سے زائد اہم شاہراہوں کو بند کر دیتے اور پورے ملک میں افراتفری پھیل جاتی اس لئے انہیں روکنے کی کوشش نہیں ہوئی۔ پوچھا گیا کہ آخر وہ چاہتے کیا ہیں؟ میں نے بتایا کہ بظاہر تو وہ عمران خان کا استعفیٰ لینے آئے ہیں لیکن ان کا اصل ایجنڈا کچھ اور ہے۔ ان کا ایجنڈا سمجھنے کے لئے تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب نواز شریف وزیراعظم تھے اور انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے ٹرائل کا فیصلہ کیا۔ ٹرائل شروع کرنے سے قبل انہوں نے آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن سمیت اہم سیاستدانوں کو اعتماد میں لیا۔ نواز شریف کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان اس ٹرائل کے خلاف تھے۔ انہوں نے ایف آئی اے کے ذریعے آصف زرداری کے خلاف تحقیقات شروع کردیں۔ اب زرداری صاحب کو پیغامات ملنے لگے کہ آپ نواز شریف کا ساتھ چھوڑ دیں لیکن زرداری نے یہ پیغام نظر انداز کئے۔ جب ان پر دبائو بڑھا تو انہوں نے دبائو کم کرنے کے لئے اینٹ سے اینٹ بجانے والی تقریر کردی۔ اس تقریر سے اگلے دن ان کی نواز شریف کے ساتھ ملاقات طے تھی۔ نواز شریف نے یہ ملاقات منسوخ کردی۔ مولانا نے دونوں کے درمیان پل بننے کی کوشش کی لیکن زرداری صاحب کا دماغ الٹ چکا تھا۔ وہ علاج کے لئے بیرونِ ملک چلے گئے، انہیں پیغام بھیجا گیا کہ واپس مت آنا ورنہ برا انجام ہوگا۔ زرداری صاحب نے اپنے مختلف رابطے استعمال کئے اور جنرل راحیل شریف کو نیوٹرل کردیا۔ راحیل شریف کے ساتھ خاموش مفاہمت کے بعد وہ پاکستان واپس آگئے اور انہوں نے نواز شریف سے انتقام کی پالیسی پر عملدرآمد شروع کردیا۔ مولانا نے انہیں بہت روکا لیکن وہ نہیں رکے۔ پھر پاناما اسیکنڈل آگیا۔ نواز شریف مئی 2016میں علاج کے لئے بیرون ملک گئے تو انہیں کہا گیا واپس مت آنا انجام برا ہوگا۔ وہ واپس آگئے اور عدالت نے انہیں نااہل کردیا۔ اب مولانا فضل الرحمٰن کو احساس ہونے لگا کہ ان کے ساتھ بھی کچھ ہونے والا ہے۔ وہ زرداری اور نواز شریف کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کرتے رہے اور ان کوششوں کی وجہ سے پرائم ٹارگٹ بن گئے۔ عمران خان ان سے شدید نفرت کرنے لگے حالانکہ 2002میں عمران خان نے مولانا کو وزیراعظم کا ووٹ دیا تھا۔ 2018کے انتخابات قریب آئے تو مولانا کے بارے میں عجیب عجیب باتیں گردش کرنے لگیں کبھی کہا گیا کہ وہ ایک مغربی ملک کے خفیہ ادارے سے پائونڈ لیتے ہیں، کبھی کہا گیا کہ ان کا دہشت گرد تنظیموں سے رابطہ ہے۔ جون 2018میں مولانا فضل الرحمٰن نے ایک نشست میں بتایا کہ عمران خان کو پاکستان کا وزیراعظم بنانے کا فیصلہ ہو چکا ہے، مجھ پر دبائو ہے کہ میں اس کی حمایت کروں لیکن میں نے انکار کردیا ہے، انتخابات سے پہلے لوگوں کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرائی جائیں گی، میڈیا پر پابندیاں لگائی جائیں گی، نہ سیاست بچے گی نہ صحافت، اس لئے مل کر اپنی بقا کی جنگ لڑنا ہوگی۔ اس بقا کی جنگ کے لئے جون 2018کے وسط میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں مولانا کے علاوہ پرویز رشید، فرحت اللہ بابر، شبلی فراز، بزرگ صحافی ایم ضیاء الدین، افضل بٹ، منیزے جہانگیر، مطیع اللہ جان اور میں نے گفتگو کی اور سیاست و صحافت کو بچانے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر اتفاق کیا لیکن ہمیشہ کی طرح نہ اہلِ صحافت متحد ہوئے اور نہ اہلِ سیاست۔ انتخابات والے دن ہمیں بدترین سنسر شپ کا سامنا تھا۔ رات گیارہ بجے مولانا کا فون آیا، انہوں نے کہا کہ مجھے ہروایا جارہا ہے، عمران خان کو لایا جارہا ہے لیکن تم دیکھنا میں عمران کو وہ سبق سکھائوں گا کہ دنیا دیکھے گی۔ انتخابات کے بعد انہوں نے ایک سال تک تیاری کی اور جولائی کے آخر میں اسلام آباد کی طرف مارچ اور دھرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔ انہیں روکنے کی بہت کوشش ہوئی، وہ نہ رکے تو آصف زرداری کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش ہوئی۔ زرداری صاحب نے ماضی کے دھوکوں کو سامنے رکھتے ہوئے انکار کردیا۔ اب نواز شریف صاحب سے گزارش کی جارہی ہے کہ آپ بیرون ملک چلے جائیں لیکن وہ ابھی تک بیرون ملک جانے کے لئے تیار نہیں۔ مولانا کہتے تھے کہ کوئی میرے ساتھ آئے نہ آئے میں اسلام آباد آئوں گا اور عمران خان کو رلائوں گا۔ آپ ان سے اختلاف کرسکتے ہیں لیکن ان کا اصل ایجنڈا عمران خان کو رلانا ہے اور اس سوچ کو شکست دینا ہے جو سیاستدانوں کو قومی مفاد کے نام پر استعمال کرکے ردی کی ٹوکری یا جیل میں پھینک دیتی ہے کیونکہ ان سیاستدانوں نے آئین پامال کرنے والے جنرل پرویز مشرف کے ٹرائل کی گستاخی کی تھی، اگر اس سوچ نے اپنی شکست تسلیم کرلی تو پھر مولانا مذاکرات پر آمادہ ہوجائیں گے لیکن یہ مذاکرات عمران کے بغیر ہوں گے۔
 

جاسم محمد

محفلین
انقلاب ہم نے دیکھ لیے
ایاز امیر

آج اقتدار پہ براجمان لوگ ہمیں تبدیلی کا درس کیا دیں گے۔ اپنی زندگی میں بہت تبدیلیاں ہم دیکھ چکے، اتنی کہ اب جی تبدیلی سے بھر چکا ہے۔ ایوب خان کے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ پاکستان کا واحد مسئلہ انتخابات کا انعقاد ہے۔ انتخاب ہوں گے تو سب مسائل حل ہو جائیں گے۔ 1970ء میں خدا خدا کر کے ملک کے پہلے عام انتخابات ہوئے اور وہ بھی ایک خالص فوجی ڈکٹیٹر کے ہاتھوں۔ نتائج ایسے نکلے کہ ہم سنبھال نہ سکے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے عوامی طاقت اور سوشلزم کا نعرہ لگایا۔ طاقت کا سرچشمہ عوام ایسے نکلے کہ بھٹو کا دور ایک مارشل لاء پہ ختم ہوا۔ وہ بھی ایسا کہ قوم کا مزاج درست ہو گیا۔ کسی نہ کسی شکل میں اس مارشل لاء کے نقوش قوم کے اجتماعی ذہن پہ اب تک موجود ہیں حالانکہ سوچنے کا مقام ہے کہ ضیاء الحق کو گئے تیس سال سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے۔ قوم میں فراست و ہمت ہوتی تو اِس عرصے میں ضیاء دور کے اثرات مٹائے جا سکتے تھے۔ وہ تو ہماری قیادتیں کر نہ سکیں لیکن فیشن بن چکا ہے کہ ہر گناہ اُن کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ ایک نکتہ ہی لے لیجیے۔ ضیاء الحق کی وفات سے لے کر اب تک پاکستان کی آبادی سو ملین یعنی دس کروڑ بڑھ چکی ہے۔ یہ اضافہ ضیاء الحق کی وجہ سے ہوا؟
ضیاء الحق دور میں قوم بٹی ہوئی تھی۔ ایک وہ تھے جن کی تمام بات اسلام سے شروع ہوتی اور وہیں پہ ختم ہوتی۔ ضیاء الحق کے ہر کارنامے کو اسلام کی عظمت کے پیرائے میں دیکھا جاتا۔ دوسری طرف جمہوریت پسند یا لبرل سوچ رکھنے والے لوگ تھے جن کو ضیاء الحق کی ہر چیز بُری لگتی تھی اور وہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ملک کا مسخ شدہ چہرہ تب ہی درست ہو گا جب جمہوریت واپس آئے گی۔ ضیاء الحق کی زندگی میں آدھی جمہوریت واپس لوٹ آئی اور بقیہ اُن کی وفات کے بعد آ گئی۔ اِس واپس آئی ہوئی جمہوریت کے علم برداروں نے ایسے گُل کھلائے کہ قوم کے ہوش ٹھکانے آ گئے۔ گویا قوم نے دونوں مزے چکھ لیے، آمریت کے اور پھر خالص جمہوریت کے۔
جنرل مشرف کے زمانے میں قوم ایک اور انقلاب سے گزری۔ آمریت بھی تھی لیکن مکمل نہیں۔ میڈیا آزاد تھا اور نجی ٹی وی چینلوں کو کھلنے کی اجازت ملی۔ قوم کو اس آزادی سے کیا ملا یہ کہنا تو آسان نہیں لیکن میڈیا سے منسلک لوگوں کے حالات بہتر ہو گئے۔ میڈیا نے کبھی اس بات کا اعتراف نہیں کیا اور بالآخر اُسی ہاتھ کو کاٹا جس سے اُس کو فائدہ پہنچا تھا‘ لیکن یہ ایک اور کہانی ہے۔
دو اور چیزیں بھی مشرف دور میں ہوئیں۔ افغانستان پہ امریکہ نے حملہ کیا تو القاعدہ افغانستان سے ہمارے قبائلی علاقوں میں منتقل ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد پاکستان کو سمجھ آنے لگی کہ اِس منتقلی سے اُسے کیا نقصان ہوا ہے۔ لیکن اُس دور میں امریکہ کا حمایتی بننے کی وجہ سے پاکستان میں پیسہ بھی بہت آیا۔ اُس پیسے سے قوم نے بنایا تو کچھ زیادہ نہیں لیکن بہت سارے طبقات کو فائدہ ضرور پہنچا۔ جو سائیکلوں پہ تھے وہ موٹر سائیکل پہ آ گئے، موٹر سائیکل والے کاروں کے مالک بن گئے۔ مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس پاکستانیوں کے لئے یہ ایک نیا تجربہ تھا کہ کسی بینک کے اندر گئے اور ایک کاؤنٹر پہ خوش لباس خواتین بیٹھی ہوں جو اُن کے سامنے کاغذ رکھیں۔ آپ دستخط کریں، کچھ ایڈوانس میں رقم دیں اور باہر نکلتے ہی نئی کار کے مالک بن جائیں۔ سڑکوں پہ کاروں کی ریل پیل نظر آنے لگی۔ اُس سے پہلے ٹوڈی گاڑی رکھنا سٹیٹس سمبل سمجھا جاتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ٹوڈی عام سی گاڑی ہو گئی۔ پیسے کی وجہ سے کاروبار بھی خوب چلے اور بہت سارا پیسہ رئیل اسٹیٹ میں گیا۔ زمین کے کاروبار میں خوب دھوم مچی اور ایک طبقے نے زمین کے اصلی اور نقلی کاروبار میں خوب پیسہ کمایا۔
لیکن پاکستان کی مڈل کلاس یہ سمجھنے سے قاصر رہی کہ اُس کے فائدے میں کیا ہے۔ اَب یہ مانے گا تو کوئی نہیں لیکن مشرف دور میں بیشتر طبقات کیلئے آسانیاں تھیں۔ آسانیاں بھی اور آسودگی بھی۔ لیکن جوں جوں مشرف کا اقتدار طویل ہوا مڈل کلاس اور لبرل طبقات میں اُکتاہٹ پیدا ہوئی اور جمہوریت کی تڑپ اُنہیں پھر اپنی لپیٹ میں لینے لگی۔ اچھی خاصی جمہوریت مشرف دور میں موجود تھی۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن چینل جو چاہیں کہہ سکتے تھے۔ ایک زمانہ تھا جب فوج پہ تنقید کا کوئی سوچ نہیں سکتا تھا۔ مشرف دور کے آخر میں وہ وقت بھی آیا کہ ہر کالم نویس اپنا کالم مکمل نہ سمجھتا جب تک فوج پہ دو تین پھبتیاں نہ کستا۔ لیکن مڈل کلاس میں یہ بخار پھیل چکا تھا کہ صدر ہو تو بغیر وردی کے۔ وردی والے صدر کے ہوتے ہوئے جمہوریت نہیں آ سکتی۔ اُن سے کوئی پوچھتا کہ وردی والے صدر سے آپ کی صحت پہ کیا اثر پڑتا ہے؟ لیکن قومی ضد بن چکی تھی کہ صدر ہو تو وردی کے بغیر۔ وکلاء کی تحریک بھڑک اُٹھی اور چیف جسٹس افتخار چوہدری قوم کے ہیرو بن گئے۔ لیکن کچھ اندر کی بھی بات تھی۔ کہنے والے تو یہ کہتے ہیں کہ کسی نہ کسی شکل میں جسٹس چوہدری کو جنرل کیانی‘ جو تب آرمی چیف نہیں ایک ادارے کے سربراہ تھے‘ کی حمایت حاصل تھی۔ جو بھی حقائق ہوں جنرل مشرف کی حکومت وکلاء تحریک پہ قابو نہ پا سکی اور اُس سے کمزور بھی ہوئی۔
نواز شریف کو قوم دو دفعہ بطور وزیر اعظم بھگت چکی تھی۔ یعنی قوم میاں صاحب کی خوبیوں اور خامیوں سے بخوبی واقف تھی۔ لیکن دورانِ جلا وطنی نواز شریف یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوئے تھے کہ اب کی بار آئیں گے تو پرانا نہیں ایک نیا نواز شریف ہو گا، خامیوں سے پاک اور نئے عزم سے سرشار۔ جمہوریت کے نشے میں قوم نے ایک بار پیپلز پارٹی کو پھر بھگتا اور پی پی پی کے دورانیے کے بعد نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بن گئے۔ آج کا قرض لدا پاکستان اُن دو جمہوری ادوار کا شاخسانہ ہے۔ پی پی پی اور نواز شریف سے نیا کیا ہونا تھا۔ دونوں جماعتیں اور قیادتیں پرانی ڈگروں پہ ہی چلتی رہیں۔ کسی بات سے بھی شائبہ نہیں ہوتا تھا کہ اُنہوں نے تاریخ یا اپنے حالات سے کچھ سبق سیکھا ہو۔
لیکن قصور صرف سیاسی قیادتوں کا نہیں رہا۔ دیکھا جائے تو ہمارے شاہسواروں نے بھی کچھ نہیں سیکھا۔ ایک زمانے میں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں شاہسواروں نے نواز شریف کو تیار کیا اور انہیں بطور نجات دہندہ قوم کے سامنے پیش کیا۔ پیپلز پارٹی سے حساب چکایا گیا تو نواز شریف سے بھی اُکتا گئے۔ اُن کی جگہ ایک نیا نجات دہندہ تیار کیا گیا جس کے کارناموں کی زَد میں قوم آج کل ہے۔ جو تعاون ہو سکتاتھا اِس نجات دہندہ کو بہم پہنچایا گیا‘ لیکن سکے کو آپ جتنا بھی پالش کریں اُس کی حقیقت تو نہیں بدلتی۔ یہی کچھ اب دیکھنے میں مل رہا ہے۔ البتہ قوم کو نوید دی جا رہی ہے کہ یہ تکلیف کے دن بس تھوڑے سے ہیں۔ قوم یہ برداشت کر لے گی تو جلد ہی ترقی اور خوشحالی کے راستے کھُل جائیں گے اور پاکستان جنوبی کوریا نہیں تو ملائیشیا کے ساتھ ضرور آن کھڑا ہو گا۔ بہت سے مڈل کلاسیوں نے یہ سہانا خواب خرید لیاتھا۔ آج کے نجات دہندہ کے حامی یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ بس تھوڑا صبر کریں اور کچھ ٹائم دیں‘ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن ان تیرہ چودہ مہینوں میں قوم کی ایسی درگت بنائی جا چکی ہے کہ تگڑے حمایتیوں کی آنکھوں سے بھی پٹیاں کھلنے لگی ہیں۔
اِس اثناء میں قوم کو ایک اور پیغام ملا ہے کہ نواز شریف صعوبتوں کے سامنے اپنی ثابت قدمی کی وجہ سے مزاحمت کی علامت بن گئے ہیں۔ حوصلہ افزا خبر ہے لیکن سوال بنتا ہے کہ یہ مزاحمت اور اُس کے حوالے سے علامت قوم کے کس کام آئے گی۔ کیا نواز شریف قوم کے لینن بننے جا رہے ہیں؟ کیا نون لیگ انقلاب روس کے راستے پہ چلنے کی تیاری کر رہی ہے؟ فی الحال تو ایک نئی تبدیلی کا بگل مولانا فضل الرحمان بجا رہے ہیں۔ یعنی جن عطار کے لونڈوں سے قوم کی آدھی بیماری لاحق ہوئی ہے وہی اب دوا بیچنے نکل پڑے ہیں۔ ہماری تقدیر میں ایسے ہی انقلاب لکھے ہوئے ہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
حکومت ہمارے اسلام آباد پہنچنے تک مستعفی ہوجائے، مولانا فضل الرحمان
ویب ڈیسک جمعرات 31 اکتوبر 2019
1862501-azadimarchx-1572473333-650-640x480.jpg

آج اگر کشمیر پر بھارت نے یلغار کی ہے تو ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کرکی، سربراہ جے یو آئی (ف) ۔ فوٹو : فائل


گوجرانوالہ: جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت ہمارے اسلام آباد پہنچنے تک مستعفی ہوجائے اور قوم کومزید اذیت سےنجات دلائے۔

گوجرانوالہ میں حیدری انڈر پاس پر مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فصل الرحمان نے کہا کہ میرے گوجرانوالہ کے غیور دوستوں آپ نے جس خلوص کے ساتھ آزادی مارچ کا استقبال کیا میں آپ کا شکر گزار ہوں، یہ قومی آواز ہے کہ 25 جولائی کا الیکشن فراڈ ہے، عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، میرا ملک داؤ پرلگا ہے، آزادی مارچ وطن عزیز کی بقا اور سلامتی کیلیے ہے، تمام سیاسی جماعتیں آج ایک پیج پر ہیں کہ حکومت ناجائز ہے اور ناجائز، نا اہل حکومت کا پاکستان پرمسلط ہونے کا حق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے، پاکستان معاشی حالات سے بیٹھ رہا ہے جب تک نااہل حکمران ملک پر مسلط ہے تب تک پاکستان کی معشیت بہتر نہیں ہو سکتی، 50 لاکھ گھر بنانے کے دعوے کیے گئے گھر بنائے تو نہیں گرائے گئے، خواتین استاتذہ کو سڑکوں پر کھینچا جا رہا ہے، آج اگر کشمیر پر بھارت نے یلغار کی ہے تو ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کرکی ہے لیکن کشمیریوں کی آزادی اورحق خودارادیت کی جنگ لڑتے رہیں گے، ملک کے حالات بدتر ہوتے جارہے ہیں ہم تمام سیاسی رہنما مل کر اپنے عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، اب بھی موقع ہے ناجائزحکومت دستبردار ہوجائے، ہمارے اسلام آباد پہنچنے تک مستعفی ہوجائے اور قوم کومزید اذیت سےنجات دلائے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری سیاسی قیادت کے خلاف نیب کواستعمال کیا جا رہا ہے، احتساب کے نام پر سیاسی قیادت کو دیوارسے لگایا جا رہا ہے، سیاسی قیادت کو دیوار سے لگانے کا ڈرامہ ختم ہونا چاہیے، ہماری سیاسی قیادت جیلوں میں بیمار ہے خدا ان کو صحت یاب کرے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ کل جب ہم اسلام آباد میں داخل ہوں تو ایسا لگے کہ ایک قوم صف میں کھڑی ہے کل کے اجتماع سے واضح ہوگا کہ ختم نبوت ﷺ پر کوئی آنچ نہیں آئی، آؤ گوجرانوالہ والو! میرے ساتھ مل کر اسلام آباد چلو۔
 

آورکزئی

محفلین
جاسم صاحب شئیر کرو صابر شاکر یا پھر انورلودھی کی کوئی ٹویٹ۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔ مولانا پھر بھی آرہا ہے۔۔۔۔
تھوڑا پی ٹی آئی کے پیجز سے نکل کر دیکھو بھائی۔۔۔۔۔۔۔ کچھ اور نظر ائیگا۔۔۔ یا بس بھی یو این کے تقریر کو اوپیرا سمجھ کے خود کو محظوظ کر رہے ہو۔۔۔
 
Top