مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا

جاسم محمد نے 'سیاست' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 24, 2019

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    میں تو یہی مشورہ دوں گا کہ مولانا اپنے ہی کسی مدرسے میں دوبارہ داخلہ لے لیں تاکہ کم از کم بابری مسجد کا عدالتی فیصلہ پڑھنے کے قابل تو ہو سکیں :)
     
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    لبرل اور مولانا
    خورشید ندیم

    پاکستان کا لبرل طبقہ فی الجملہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ کھڑا ہے۔ بہت سوں کیلئے یہ اچنبھے کی بات ہے۔ میرا خیال ہے لوگوں نے دونوں کو سمجھنے میں غلطی کی ہے۔
    بطور تمہید یہ وضاحت ضروری ہے کہ لبرل سے میری مراد وہ طبقہ ہے جس نے لبرل ازم کو بطور طرزِ حیات اپنا رکھا ہے۔ نظریاتی لبرل اور سماجی لبرل میں فرق ہے۔ نظریاتی لبرل وہ ہے جو خود کو کسی عقیدے یا الہامی ہدایت کا پابند نہیں سمجھتا۔ وہ انسان کی مطلق آزادی کو بطور قدر قبول کرتا ہے۔ سماجی لبرل وہ ہے جو ممکن ہے کہ خود کو کسی خاص عقیدے کا پابند سمجھتا ہو لیکن اسے دوسروں پر بزور نافذ کرنے کا قائل نہیں اور ان کو بھی یہ حق دیتا ہو کہ وہ اپنی مرضی سے جو عقیدہ یا آئیڈیالوجی چاہیں، اختیار کر سکتے ہیں۔ نظریاتی لبرل، سماجی لبرل بھی ہوتا ہے لیکن سماجی لبرل لازم نہیں کہ نظریاتی لبرل بھی ہو۔ مذہبی انتہا پسندوں کی طرح ایک طبقہ لبرل انتہا پسندوں کا بھی ہے لیکن وہ یہاں زیرِ بحث نہیں۔
    مولانا فضل الرحمن ایک مذہبی آدمی ہیں لیکن وہ سماجی لبرل بھی ہیں۔ یوں ان کے ذاتی تعلقات کا دائرہ اہلِ مذہب تک محدود نہیں۔ سیاست اپنے مزاج میں لبرل ہوتی ہے۔ جو سیاست دان سماجی اعتبار سے لبرل نہ ہو، اس کا دائرہ اثر ہمیشہ محدود رہتا ہے۔ وہ کبھی اپنے نظریاتی تنگنائے سے باہر نہیں نکل سکتا۔ ہم نے بڑے بڑے لوگوں کو سیاست میں اس لیے تنہا دیکھا کہ وہ 'نظریاتی سیاست‘ کے علم بردار ہی نہیں تھے، سماجی اعتبار سے بھی 'نظریاتی‘ تھے۔ اپنے ہم خیالوں ہی میں گھرے رہنے کے سبب وہ معاشرے سے کٹتے چلے گئے۔ مولانا فضل الرحمن کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کی مجلس میں متنوع نظریاتی پس منظر رکھنے والے خود کو اجنبی محسوس نہیں کرتے۔
    مولانا فضل الرحمن، پاکستان کی سیاست میں مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا مفتی محمود کے وارث ہیں۔ ان بزرگوں نے 'مولانا مودودی کے اسلام‘ پر 'بھٹو صاحب کے سوشلزم‘ کو ترجیح دی۔ یہ 1970ء کے انتخابات کا واقعہ ہے۔ اسی بات سے اختلاف کرتے ہوئے، مولانا احتشام الحق ان سے الگ ہوئے اور انہوں نے اپنی الگ جمعیت علمائے اسلام بنائی جو تاریخ کے دھندلکے میں غائب ہو گئی۔ اس سے پہلے ہمیں معلوم ہے کہ مفتی محمود صاحب کے بزرگوں نے کانگرس کو مسلم لیگ پر ترجیح دی جو مسلمانوں کی سیاست کر رہی تھی۔
    سیاست میں وسیع المشربی دیوبندی علما کی وہ روایت ہے مولانا فضل الرحمن جس کے وارث ہیں۔ اس لیے اگر آج وہ اور پاکستان کا لبرل طبقہ ایک مقصد کے لیے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔ تاریخی تسلسل میں یہ قابلِ فہم ہے۔ یہ کسی کلی اتفاق کا معاملہ نہیں۔ ایک درپیش مسئلے میں ہم آہنگی کا قصہ ہے۔
    پاکستانی لبرلز نے گزشتہ دو تین برسوں میں جمہوری قدروں اور کلچر سے وابستگی کا جو مظاہرہ کیا ہے، وہ اس پر فخر کر سکتے ہیں۔ بطور طبقہ اگر کسی نے جمہوریت کا علم اٹھائے رکھا ہے تو وہ یہی لبرل ہیں۔ جس طرح بلند آہنگ ہو کر انہوں نے جمہوریت اور آئین کی بالا دستی کا مقدمہ لڑا ہے، وہ ہماری تاریخ کا یادگار واقعہ ہے۔ اس میں عاصمہ جہانگیر کا کردار قائدانہ تھا۔ جس جرأت اور بہادری کے ساتھ انہوں نے پاکستان کی سیاست کے تلخ حقائق کو بے نقاب کیا، اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔ یہ انہی کا دیا ہوا حوصلہ ہے کہ آج وہ بات برسرِ بازار کہی جا رہی ہے، جسے لوگ خود کلامی کے انداز میں کہنے کا حوصلہ بھی نہیں رکھتے تھے۔
    میڈیا میں بھی جس طبقے نے جرأت کے ساتھ عاصمہ جہانگیر کا کردار نبھایا، وہ یہی لبرل طبقہ ہے۔ ان کے ٹی وی پروگرام بارہا بند ہوئے۔ ان کے کالم اخبارات میں شائع نہیں ہو سکے۔ کچھ لوگ ملک سے باہر جا بسے۔ ان کی حب الوطنی کو چیلنج کیا گیا۔ اس کے باوجود وہ کھڑے رہے۔ یہ طبقہ نظریاتی ہم آہنگی کے باوجود جنرل مشرف کے خلاف بھی کھڑا ہوا کہ جمہوریت کے ساتھ وابستگی کا یہ ناگزیر تقاضا تھا۔
    مولانا فضل الرحمن نے بھی ایک مرحلے پر اسی وابستگی کا اظہار کیا جب وہ جنرل ضیاالحق کے خلاف کھڑے ہوئے۔ نظریاتی اعتبار سے وہ ضیاالحق سے زیادہ قریب تھے لیکن سیاسی طور پر انہوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر اتحاد بنایا۔ انہوں نے مولانا سمیع الحق اور قاضی عبداللطیف جیسے دیوبندی علما کا سینیٹ میں پیش کردہ شریعت بل بھی اس وجہ سے قبول نہیں کیا کہ وہ ضیاالحق سے قریب تھے۔
    اس میں شبہ نہیں کہ دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح، مولانا نے اپنے گروہی‘ سیاسی مفادات کیلئے اس اصول سے انحراف بھی کیا، جیسے متحدہ مجلسِ عمل کے محاذ سے جنرل مشرف کی حمایت یا سیاسی مقاصد کیلئے مذہب کا استحصال؛ تاہم بحیثیت مجموعی، انہوں نے جمہوریت کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا اور اسی بات نے لبرل طبقے کو ان کے ساتھ لا کھڑا کیا۔
    اس اتحاد کا تعلق تاریخی جبر سے بھی ہے۔ پاکستان کا لبرل طبقہ تاریخی اور فطری اعتبار سے پیپلز پارٹی سے قریب تر ہے۔ پیپلز پارٹی علانیہ لبرل خیالات رکھنے والی جماعت ہے؛ تاہم آصف زرداری صاحب کے دور میں، جب اس جماعت نے صرف اقتدار کی سیاست کی اور جمہوری اقدار کے بجائے، اسٹیبلشمنٹ سے قربت کو ترجیح دی تو لبرل طبقہ پیپلز پارٹی سے مایوس ہونے لگا۔ دوسری طرف نواز شریف ایک نظری و سیاسی ارتقا سے گزرے۔ اس کے نتیجے میں وہ اسٹیبلشمنٹ سے نہ صرف دور ہوئے بلکہ وقت نے انہیں اس کا حریف بنا کر کھڑا کر دیا۔ اس کے ساتھ ان کی خیالات میں بھی ایک تبدیلی آئی۔ وہ ماضی میں نظریاتی سطح پر مذہبی جماعتوں سے قریب اور پاک بھارت تعلقات جیسے معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کے موقف کے مؤید تھے۔ اب وہ دائیں بازو کے بجائے قومی سیاست کے علم بردار بن گئے۔ اس نے انہیں مذہبی جماعتوں سے دور اور لبرل طبقے سے قریب کر دیا۔
    نواز شریف اور مریم نواز جب جیل چلے گئے تو نون لیگ اس جذبے کے ساتھ نواز شریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی۔ گنتی کے چند افراد کے علاوہ کم و بیش سب نے مفاہمت کی راہ اپنائی۔ شہباز شریف اس گروہ کے سرخیل تھے۔ آزادی مارچ میں ان کی تقریر سے بھی یہی اندازہ ہوا کہ وہ ایک بار پھر مسلم لیگ کو مقتدر حلقوں کے باندی بنانے کیلئے آمادہ ہیں۔اس پس منظر میں مو لانا فضل الرحمن واحد قومی راہنما کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے جرأت کے ساتھ غیر جمہوری حلقوں کو للکارا اور عوام کی حاکمیت کا مقدمہ پیش کیا۔ یوں جمہوریت کی حمایت کرنے والوں کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہ رہا کہ وہ مولانا کی تائید کریں۔ یہ مخمصہ صرف انہیں نہیں، بہت سے ایسے حلقوں کو بھی درپیش ہے جو عوام کی حاکمیت چاہتے ہیں، اور اس سیاسی بندوبست کو ناجائز سمجھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ کسی غیر جمہوری یا غیر آئینی طریقے سے تبدیلی بھی نہیں چاہتے۔
    اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ مولانا کے کمزور ہونے کا مطلب جمہوریت پسندوں کا کمزور ہونا ہے لیکن اگر وہ تصادم کی طرف بڑھتے تو ان کی حمایت کا مطلب ایک ایسے اقدام کی تائید ہے جس کا نتیجہ سماجی فساد ہو سکتا ہے اور جو غیر آئینی بھی ہے۔ کسی گروہ کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ریاستی اداروں پر چڑھ دوڑے۔ اگر خدانخواستہ ایسی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے تو میرے نزدیک اس کی تمام تر ذمہ داری ان قوتوں پر ہو گی جو عوام کی مرضی کے بغیر ان پر ایک خود ساختہ سیاسی بندوبست مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ عوامی جذبات کو منطق کے تابع کرنا مشکل ہوتا ہے۔
    حاصل یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن لبرلز کا انتخاب نہیں لیکن یہ وقت کا جبر ہے جس نے سب جمہوریت پسندوں کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہنے دیا کہ وہ مولانا کی حمایت کریں۔ پیپلز پارٹی اگر اپنا قومی کردار ادا کرتی اور نون لیگ نواز شریف کے بیانیے سے کسی حقیقی وابستگی کا ثبوت دیتی تو وہ خلا واقع نہ ہوتا جس کو اب مولانا فضل الرحمن نے بھر دیا ہے۔
     
  3. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    400
    لاڈلے کی اپنے بنائی ہوئے کمیشن کی رپورٹ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کیا کہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    400
    موجودہ حالات یہ ہے کہ جن شلواریں سپریم کورٹ کے دیواروں پہ اٹکی تھیں ان کے لیے متبادل کا بندوبست کر رہا ہے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  5. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    400
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,224
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    یہ JUI والوں کی شلواروں سے اتنی دلچسپی کیوں ہے بھلا؟ وہ شاید انہی کا بندہ تھا جس نے کسی ماروی کو بھی اسی طرز کی کوئی دھمکی دی تھی۔۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    شق نمبر 6 :)
     
  8. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,224
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    مطلب باتیں دھوبی والی اور حرکتیں دھوبی کے۔۔۔:laugh:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  9. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,907
    مولانا صاحب نے چلے ہی جانا ہے۔ویسے حکومت اب تک کوئی بڑی غلطی نہیں کر رہی ہے۔ کوئی تصادم نہ ہوا تو معاملات درست ہی رہیں گے۔ حکومت نے بس ہر ممکن طور پر تصادم سے گریز کرنا ہے۔ شاید اس کا حکومتی وزراء کو کافی حد تک ادراک ہو گیا ہے تاہم کیا وہ اپنی جبلتوں پر قابو رکھ سکیں گے!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    مولانا اپنے انٹرویو میں واضح کر چکے ہیں کہ ان کو لاشیں چاہئے۔ جبکہ دوسری جانب وزیر دفاع پنسل خٹک کاکہنا ہے کہ ہم تو خود چاہتے ہیں کہ آپ دھرنے میں بیٹھے رہیں :)
     
  11. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,907
    محترم پرویز خٹک سے تحریکِ انصاف کے بانی اراکین بچ کر رہیں۔ :) اُن پر کرپشن کے الزامات ہیں اور وہ اس دھرنے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    خبریں مل رہی ہیں کہ پنسل خٹک دھرنے والوں کو جا کر کہتے ہیں کہ آپ یہیں بیٹھے رہیں تاکہ خان کو بعد میں ٹف ٹائم دیا جا سکے :)
     
  13. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
     
  14. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
     
  15. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,907
    یعنی کہ مجمع بڑھے گا تو معاملات خطرناک رُخ پر جائیں گے۔ ہمیں یہ خبر نہیں ہے کہ اس وقت دھرنے میں کتنے افراد موجود ہیں! اگر یہ تعداد پندرہ ہزار نفوس سے متجاوز ہے تو حکومت کے لیے بہرصورت خطرہ برقرار رہے گا کہ اس دوران کسی ایشو کو سامنے رکھ کر تصادم ممکن ہے جو کہ حکومت کے گلے پڑ سکتا ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  16. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    بات دراصل یہ ہے کہ مولانا کے پاس بیچنے کیلئے اب کچھ باقی نہیں۔ سویلین بالا دستی والا ڈرامہ ترجمان فوج کے بیان نے ختم کر دیا۔ نواز شریف کو رہا کرو والا ڈرامہ عدالت نے ختم کر دیا۔ کرتارپور بارڈر کو بند کرو والا ڈرامہ کل مودی کے بیان نے ختم کر دیا۔ اب کونسا چورن بیچیں؟ قادیانیوں کے بارہ میں کیا خیال ہے جو پلٹ کر جواب بھی نہیں دیتے؟
     
  17. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    انگوٹھا چھاپ اسمبلیوں کو تسلیم نہیں کریں گے، مولانافضل الرحمان
    [​IMG]
    پاکستان کومغرب اور امریکا کی کالونی بناکر رکھ دیا گیاہے اور ہمارے ملک کو غلام ملک بنادیا گیا ہے،فوٹو:فائل

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ کا آج دسواں روز ہے اور دھرنے کے شرکاء سرد موسم کے باوجود ایچ نائن گراؤنڈ میں موجود ہیں۔

    اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے وزیراعظم کے استعفے، قبل از وقت انتخابات سمیت دیگر مطالبات کررکھے ہیں تاہم حکومت وزیراعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کے مطالبات ماننے سے انکاری ہے۔

    ہفتے کی شام آزادی مارچ میں مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ، اس دوران جے یو آئی کے رہنماؤں سمیت مختلف علمائے کرام نے سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر خطاب کیا ۔اس موقع پر نعت خواں حضرات کی جانب سے ہدیہ نعت بھی پیش کیا گیا۔

    سیرت کانفرنس اور دھرنے کے شرکا سے مرکزی خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دنیاکوپیغام جارہاہےکہ پاکستان کےعوام اپنے نبی ﷺ سےکس قدرمحبت رکھتےہیں،اب کسی کوناموس رسالت سےکھیلنےکی ہمت نہیں ہوگی۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان عظیم مقاصد کے لیےحاصل کیاگیا،لاکھوں لوگوں نےقربانیاں دیں ، لیکن آج پاکستان کومغرب اور امریکا کی کالونی بناکر رکھ دیا گیاہے اور ہمارے ملک کو غلام ملک بنادیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کرتار پور کا افتتاح کیا اور بھارت نے آج ہی بابری مسجد کا فیصلہ کرکے ادلے کا بدلہ دے دیا، حکومت کو فیصلے کرتے وقت کسی کو تو اعتماد میں لینا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ انگوٹھا چھاپ اسمبلوں کو تسلیم نہیں کریں گے، انگوٹھاچھاپ اسمبلیاں وجودمیں لاکر سمجھتے ہیں ہرفیصلہ ہم کریں گے، ہم ملک میں ایک باوقار ،جائر اور آئینی حکومت لانا چاہتے ہیں تاکہ عوام عزت کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں۔

    جے یوآئی سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم دنیا میں اورخطےمیں اپنےدوست بڑھانا چاہتےہیںِ، ہم نےایک آواز بننا ہے،پاکستان کےمستقبل کومضبوط کرناہے، امریکااوریورپ سےبھی دوستی کریں گےلیکن غلامی نہیں کریں گے، یہ ملک ہمارا ہے،یہاں غلام بن کرزندگی نہیں گزاریں گے۔ یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں۔

    [​IMG]
    ہفتے کو آزادی مارچ سیرت النبی ﷺ کانفرنس میں تبدیل کردیا گیا،فوٹو:جے یو آئی ٹوئٹر
    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ خدا کے لیےہمیں آئین اور قانون کے دائرے میں رہنے دو، جہاں آئین سبوتاژ ہوا ہے تو پھرملک نہیں رہے۔ ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہے تو کوئی جھگڑا نہیں۔

    واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر قیادت آزادی مارچ 27 اکتوبر کو ملک کے مختلف حصوں سے شروع ہوکر 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچا تھا۔
     
  18. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    آپ کے مولانا ملک کے انتخابی نظام کو نہیں مانتے، عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کو نہیں مانتے ، الیکشن ہارنے کے بعد 14 اگست نہیں مناتے۔ لیکن پھر بھی حب الوطن پاکستانی ہیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟
     
  19. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    400
    صحٰح بات لکھو۔۔ مولانا نے کیا اور کیسے کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  20. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    400
    اب میں بھی یہی کہونگا کہ یوتھیوں کو اپنی شلواروں سے پیار کیوں نہیں ہے۔۔ جہاں دیکھا اتار دیا۔۔۔ فلور نمبر چار
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1

اس صفحے کی تشہیر