موسم بدل گیا ہے ترے ساتھ کی طرح غزل نمبر 179 شاعر امین شارؔق

امین شارق

محفلین
الف عین سر یاسر شاہ
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
موسم بدل گیا ہے ترے ساتھ کی طرح
چُھوٹا ہے اُس کا ساتھ ترے ہاتھ کی طرح

یادوں کے ابر دِل پہ اُمڈ آئے جب کبھی
آنکھوں سے اشک بہہ گئے برسات کی طرح

ہر ہار بھی قبول ہے اے یار تیرے سنگ
تیرے بغیر جِیت بھی ہے مات کی طرح

تُجھ کو یوں چاہُوں جیسے کوئی چاہے زِندگی
مانگُوں خُدا سے تُجھ کو مناجات کی طرح

دیتا ہے صدا گُذرا ہُوا وقت دوستو!
ماضی نہیں بدلتا ہے حالات کی طرح

تیرا خیال اب مُجھے رہتا ہے ہر گھڑی
تم یاد ہوگئے ہو حِکایات کی طرح


شارؔق کسی کے عِشق میں ہم بھی کبھی تھے قیس
وہ دِن ہوئے ہیں خُواب و خیالات کی طرح
 

صریر

محفلین

الف عین

لائبریرین
الف عین سر یاسر شاہ
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
موسم بدل گیا ہے ترے ساتھ کی طرح
چُھوٹا ہے اُس کا ساتھ ترے ہاتھ کی طرح
ساتھ چھوٹ سکتا ہے، بدلتا چہ معنی؟

یادوں کے ابر دِل پہ اُمڈ آئے جب کبھی
آنکھوں سے اشک بہہ گئے برسات کی طرح
درست

ہر ہار بھی قبول ہے اے یار تیرے سنگ
تیرے بغیر جِیت بھی ہے مات کی طرح
پہلے مصرع کی روانی مشکوک ہے، اے یار کے بغیر کوشش کرو
تُجھ کو یوں چاہُوں جیسے کوئی چاہے زِندگی
مانگُوں خُدا سے تُجھ کو مناجات کی طرح
یوں چاہتا ہوں تجھ کو.... یا کم از کم
یوں تجھ کو چاہوں..
بہتر ہو گا
دیتا ہے صدا گُذرا ہُوا وقت دوستو!
ماضی نہیں بدلتا ہے حالات کی طرح
صریر کی اصلاح سے وزن درست ہو جاتا ہے لیکن رواں نہیں رہتا، کچھ اور گرہ دو
تیرا خیال اب مُجھے رہتا ہے ہر گھڑی
تم یاد ہوگئے ہو حِکایات کی طرح
حکایات یاد رکھنے کی اشیاء تو نہیں!

شارؔق کسی کے عِشق میں ہم بھی کبھی تھے قیس
وہ دِن ہوئے ہیں خُواب و خیالات کی طرح
ٹھیک ہے
 

امین شارق

محفلین
ساتھ چھوٹ سکتا ہے، بدلتا چہ معنی؟

درست

پہلے مصرع کی روانی مشکوک ہے، اے یار کے بغیر کوشش کرو

یوں چاہتا ہوں تجھ کو.... یا کم از کم
یوں تجھ کو چاہوں..
بہتر ہو گا

صریر کی اصلاح سے وزن درست ہو جاتا ہے لیکن رواں نہیں رہتا، کچھ اور گرہ دو

حکایات یاد رکھنے کی اشیاء تو نہیں!

ٹھیک ہے
بہت نوازش ہے سر اصلاح کے لئے میں بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
 

امین شارق

محفلین
الف عین سر علامہ اقبال صاحب کہہ گئے ہیں اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کی اسی لئے حکایات والا شعر کہہ دیا تھا۔بقیہ تین اشعار کیا اب درست ہوگئے ہیں؟
تیرا خیال اب مُجھے رہتا ہے ہر گھڑی
تُم یاد ہوگئے ہو حِکایات کی طرح


ہر ہار بھی قبول ہے تیرا اگر ہو ساتھ
تیرے بغیر جِیت بھی ہے مات کی طرح

یُوں تُجھ کو چاہُوں جیسے کوئی چاہے زِندگی
مانگُوں خُدا سے تُجھ کو مناجات کی طرح

پیغام دے گیا ہے گیا وقت دوستو!
ماضی نہیں بدلتا ہے حالات کی طرح
 

الف عین

لائبریرین
اقبال کے "ان کی حکایت" یاد رکھنے کی بات تمہارے "حکایات کی طرح یاد ہونا" سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔

ہر ہار بھی اچھا نہیں لگتا
کر لوں قبول ہار بھی، تیرا اگر ہو ساتھ

مناجات بھی مانگی نہیں جاتی، کی جاتی ہے
آخری شعر درست لگ رہا ہے
 
Top