موج ادراک

اجنبی

محفلین
محسن نقوی کی کتاب موجِ ادراک ان کے اسلامی قصائد کا مجموعہ ہے ۔ ضیاءالحق کے دور میں اس کتاب کو صدارتی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا مگر محسن نقوی نے ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا ۔

آج کل میں اس کتاب کو ٹائپ کر رہا ہوں ۔ ایک حمدِ باری تعالٰی ایک سلام اور نعتِ رسول جس کے نام پر کتاب ہے یعنی موجِ ادراک ٹائپ کر لی ہے اور وہ میری ویب سائیٹ پر دستیاب ہے ۔
http://library.bayaaz.com

اس کتاب کے حقوق شاعر کے نام محفوظ ہیں ۔ اب شاعر تو دنیا میں‌ نہیں ہے ۔ تو معلوم نہیں کے حقوق کے بارے میں کیا کیا جائے ۔ بہرحال مجھے یہ کتاب اچھی لگتی ہے اس لیے ٹائپ کر رہا ہوں ۔ کاپی رائیٹ سے متعلق محفل کی سخت پالیسی کی وجہ سے اسے یہاں فراہم نہیں کر رہا ۔ اگر منتظمین کہیں تو فراہم کر دوں گا ۔

پہلے میں‌نے محسن نقوی کی شاعری نہیں پڑھی تھی ۔ مگر جب موجِ ادراک پڑھی تو ان کے اندازِ بیان اور عشقِ رسول کا قائل ہو گیا ۔ اگر آپ کو نعتیہ کلام پسند ہے تو درج ذیل ربط کو ملاحظہ فرمائیے ۔
http://library.bayaaz.com/mojeidrak
 
بہت عمدہ اجنبی ، لطف آ گیا تمہاری واپسی۔

چند نعتیں اور قصائد تو پوسٹ کرو تاکہ باقی لطف اٹھا سکیں اور رائے دے سکیں۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
السلام علیکم

خوش آمدید یعنی واپسی مبارک

انتخاب تو دیا جا سکتا ہے ، البتہ اجازت مل جانا بھی خالی از امکان نہیں ہے

آپ انتخاب ضرور پوسٹ کریں یہاں۔ اجازت کی کوشش بھی کر لیتے ہیں۔
 

اجنبی

محفلین
یہ لیجیے کچھ اوپر اوپر سے :lol:

یہ دشت یہ دریا یہ مہکتے ہوئے گلزار
اِس عالمِ امکاں میں ابھی کچھ بھی نہیں تھا
اِک "جلوہ" تھا ، سو گُم تھا حجاباتِ عدم میں
اِک "عکس" تھا ، سو منتظرِ چشمِ یقیں تھا

یہ موسمِ خوشبو یہ گُہَر تابیِ شبنم
یہ رونقِ ہنگامہِ کونین کہاں تھی؟
گُلنار گھٹاؤں سے یہ چَھنتی ہوئی چھاؤں
یہ دھوپ ، دھنک ، دولتِ دارین کہاں تھی ؟

یہ نکہتِ احساس کی مقروض ہوائیں
دلداری الہام سے مہکے ہوئے لمحات
دوشیزہ انفاس کی تسبیح کے تیوَر
کس کنجِ تصوُّر میں تھے مصروفِ مناجات

"شیرازہ آئینِ قِدَم" کے سبھی اِعراب
بے رَبطیِ اجزائے سوالات میں گُم تھے
یہ رنگ یہ نَیرنگ یہ اورنگ یہ سب رنگ
اِک پردہِ افکار و خیالات میں گُم تھے



وہ جس کا ثنا خواں دلِ فطرت کا تکلم
ہستی کے مناظر ، خمِ ابرو کے اشارے
آفاق ہیں دامن کی صباحت پہ تصدُّق
قدموں کے نشاں ڈھونڈتے پھرتے ہیں ستارے

اُس رحمتِ عالم کا قصیدہ کہوں کیسے؟
جو مہرِ عنایات بھی ہو ، ابرِ کرم بھی
کیا اُس کے لیے نذر کروں ، جس کی ثنا میں
سجدے میں الفاظ بھی ، سطریں بھی ، قلم بھی

چہرہ ہے کہ انوارِ دو عالم کا صحیفہ
آنکھیں ہیں کہ بحرین تقدس کے نگین ہیں
ماتھا ہے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہے
عارِض ہیں کہ "والفجر" کی آیات کے اَمیں ہیں

گیسُو ہیں کہ "وَاللَّیل" کے بکھرے ہوئے سائے
ابرو ہیں کہ قوسینِ شبِ قدر کھُلے ہیں
گردن ہے کہ بَر فرقِ زمیں اَوجِ ثُریا
لَب صورتِ یاقوت شعاعوں میں دُھلے ہیں

قَد ہے کہ نبوت کے خدوخال کا معیار
بازہ ہیں کہ توحید کی عظمت کے عَلم ہیں
سینہ ہے کہ رمزِ دل ہستی کا خزینہ
پلکیں ہیں کہ الفاظِ رُخِ لوح و قلم ہیں

باتیں ہیں کہ طُوبٰی کی چٹکتی ہوئی کلیاں
لہجہ ہے کہ یزداں کی زباں بول رہی ہے
خطبے ہیں کہ ساون کے اُمنڈتے ہوئے دریا
قِرأت ہے کہ اسرارِ جہاں کھول رہی ہے


+++++++
باقی یہاں پر پڑھیے
http://library.bayaaz.com
 
اس دھاگے کے ربط مردہ معلوم ہو رہے ہیں ۔ آج محسن نقوی کے یہ اشعار نظر سے گزرے ۔

چہرہ ہے کہ انوارِ دو عالم کا صحیفہ
آنکھیں ہیں کہ بحرین تقدس کے نگین ہیں
ماتھا ہے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہے
عارِض ہیں کہ “والفجر” کی آیات کے اَمیں ہیں
گیسُو ہیں کہ “وَاللَّیل” کے بکھرے ہوئے سائے
ابرو ہیں کہ قوسینِ شبِ قدر کھُلے ہیں
گردن ہے کہ بَر فرقِ زمیں اَوجِ ثُریا
لَب صورتِ یاقوت شعاعوں میں دُھلے ہیں
قَد ہے کہ نبوت کے خدوخال کا معیار
بازو ہیں کہ توحید کی عظمت کے عَلم ہیں
سینہ ہے کہ رمزِ دل ہستی کا خزینہ
پلکیں ہیں کہ الفاظِ رُخِ لوح و قلم ہیں
باتیں ہیں کہ طُوبٰی کی چٹکتی ہوئی کلیاں
لہجہ ہے کہ یزداں کی زباں بول رہی ہے
خطبے ہیں کہ ساون کے اُمنڈتے ہوئے دریا
قِرأت ہے کہ اسرارِ جہاں کھول رہی ہے
یہ دانت ، یہ شیرازہ شبنم کے تراشے
یاقوت کی وادی میں دمکتے ہوئے ہیرے
شرمندہ تابِ لب و دندانِ پَیمبر (صلّی اللہ علیہ و آلِہ وسلّم)
حرفے بہ ثنا خوانی و خامہ بہ صریرے
یہ موجِ تبسم ہے کہ رنگوں کی دھنک ہے
یہ عکسِ متانت ہے کہ ٹھہرا ہوا موسم
یہ شُکر کے سجدے ہیں کہ آیات کی تنزیل
یہ آنکھ میں آنسو ہیں کہ الہام کی رِم جھم
یہ ہاتھ یہ کونین کی تقدیر کے اوراق
یہ خط ، یہ خد و خالِ رُخِ مصحف و اِنجیل
یہ پاؤں یہ مہتاب کی کِرنوں کے مَعابِد
یہ نقشِ قدم ، بوسہ گہِ رَف رَف و جِبریل
یہ رفعتِ دستار ہے یا اوجِ تخیل
یہ بند قبا ہے کہ شگفتِ گُلِ ناہید
یہ سایہ داماں ہے کہ پھیلا ہوا بادل
یہ صبحِ گریباں ہے کہ خمیازۂ خورشید
یہ دوشِ پہ چادر ہے کہ بخشش کی گھٹا ہے
یہ مہرِ نبوت ہے کہ نقشِ دلِ مہتاب
رُخسار کی ضَو ہے کہ نمو صبحِ ازل کی
آنکھوں کی ملاحت ہے کہ روئے شبِ کم خواب
ہر نقشِ بدن اتنا مناسب ہے کہ جیسے
تزئین شب و روز کہ تمثیلِ مہ و سال
ملبوسِ کُہن یوں شِکن آلود ہے جیسے
ترتیب سے پہلے رخِ ہستی کے خد و خال
رفتار میں افلاک کی گردش کا تصور
کردار میں شامل بنی ہاشم کی اَنا ہے
گفتار میں قرآں کی صداقت کا تیقُّن
معیار میں گردُوں کی بلندی کفِ پا ہے
وہ فکر کہ خود عقلِ بشر سَر بگریباں
وہ فقر کے ٹھوکر میں ہے دنیا کی بلندی
وہ شُکر کے خالق بھی ترے شُکر کا ممنون
وہ حُسن کہ یوسف(ع) بھی کرے آئینہ بندی
وہ علم کہ قرآں تِری عترت کا قصیدہ
وہ حِلم کہ دشمن کو بھی اُمیدِ کرم ہے
وہ صبر کہ شَبِّیر تِری شاخِ ثمردار
وہ ضبط کہ جس ضبط میں عرفانِ اُمم ہے
“اورنگِ سلیمان” تری نعلین کا خاکہ
“اِعجازِ مسیحا” تری بکھری ہوئی خوشبو
“حُسنِ یدِ بیضا” تری دہلیز کی خیرات
کونین کی سَج دھج تِری آرائشِ گیسُو
سَرچشمۂ کوثر ترے سینے کا پسینہ
سایہ تری دیوار کا معیارِ اِرَم ہے
ذرے تِری گلیوں کے مہ و انجمِ افلاک
“سُورج” ترے رہوار کا اک نقشِ قدم ہے
دنیا کے سلاطیں ترے جارُوب کشوں میں
عالم کے سکندر تِری چوکھٹ کے بھکاری
گردُوں کی بلندی ، تری پاپوش کی پستی
جبریل کے شہپر ترے بچوں کی سواری
دھرتی کے ذوِی العدل ، تِرے حاشیہ بردار
فردوس کی حوریں ، تِری بیٹی کی کنیزیں
کوثر ہو ، گلستانِ ارم ہو کہ وہ طُوبٰی
لگتی ہیں ترے شہر کی بکھری ہوئی چیزیں
ظاہر ہو تو ہر برگِ گُلِ تَر تِری خوشبو
غائب ہو تو دنیا کو سراپا نہیں ملتا
وہ اِسم کہ جس اِسم کو لب چوم لیں ہر بار
وہ جسم کہ سُورج کو بھی سایہ نہیں ملتا
احساس کے شعلوں میں پگھلتا ہوا سورج
انفاس کی شبنم میں ٹھٹھرتی ہوئی خوشبو
اِلہام کی بارش میں یہ بھیگے ہوئے الفاظ
اندازِ نگارش میں یہ حُسن رمِ آہُو
حیدر تری ہیبت ہے تو حَسنین ترا حُسن
اصحاب وفادار تو نائب تِرے معصوم
سلمٰی تری عصمت ہے ، خدیجہ تری توقیر
زہرا تری قسمت ہے تو زینب ترا مقسوم
کس رنگ سے ترتیب تجھے دیجیے مولا ؟
تنویر ، کہ تصویر ، تصور ، کہ مصور ؟
کس نام سے امداد طلب کیجیے تجھ سے
یٰسین ، کہ طہٰ ، کہ مُزمِّل ، کہ مدثر ؟
پیدا تری خاطر ہوئے اطرافِ دو عالم
کونین کی وُسعت کا فَسوں تیرے لیے ہے
ہر بحر کی موجوں میں تلاطم تِری خاطر
ہر جھیل کے سینے میں سَکوں تیرے لیے ہے
ہر پھول کی خوشبو تِرے دامن سے ہے منسوب
ہر خار میں چاہت کی کھٹک تیرے لیے ہے
ہر دشت و بیاباں کی خموشی میں تِرا راز
ہر شاخ میں زلفوں سی لٹک تیرے لیے ہے
دِن تیری صباحت ہے ، تو شب تیری علامت
گُل تیرا تبسم ہے ، ستارے ترے آنسو
آغازِ بہاراں تری انگڑائی کی تصویر
دِلداریِ باراں ترے بھیگے ہوئے گیسُو
کہسار کے جھرنے ترے ماتھے کی شعاعیں
یہ قوسِ قزح ، عارضِ رنگیں کی شکن ہے
یہ “کاہکشاں” دُھول ہے نقشِ کفِ پا کی
ثقلین ترا صدقۂ انوارِ بدن ہے
ہر شہر کی رونق ترے رستے کی جمی دھول
ہر بَن کی اُداسی تری آہٹ کی تھکن ہے
جنگل کی فضا تیری متانت کی علامت
بستی کی پھبن تیرے تَبسُّم کی کرن ہے
میداں ترے بُو ذر کی حکومت کے مضافات
کہسار ترے قنبر و سلماں کے بسیرے
صحرا ترے حبشی کی محبت کے مُصلّے
گلزار ترے میثم و مِقداد کے ڈیرے
کیا ذہن میں آئے کہ تو اُترا تھا کہاں سے ؟
کیا کوئی بتائے تِری سرحد ہے کہاں تک ؟
پہنچی ہے جہاں پر تِری نعلین کی مٹی
خاکسترِ جبریل بھی پہنچے نہ وہاں تک
سوچیں تو خدائی تِری مرہونِ تصوّر
دیکھیں تو خدائی سے ہر انداز جُدا ہے
یہ کام بشر کا ہے نہ جبریل کے بس میں
تو خود ہی بتا اے میرے مولا کہ تو کیا ہے ؟
کہنے کو تو ملبوسِ بشر اوڑھ کے آیا
لیکن ترے احکام فلک پر بھی چلے ہیں
انگلی کا اشارہ تھا کہ تقدیر کی ضَربت
مہتاب کے ٹکڑے تری جھولی میں گِرے ہیں
کہنے کو تو بستر بھی میسر نہ تھا تجھ کو
لیکن تری دہلیز پہ اترے ہیں ستارے
اَنبوہِ ملائک نے ہمیشہ تری خاطر
پلکوں سے ترے شہر کے رستے بھی سنوارے
کہنے کو تو امی تھا لقب دہر میں تیرا
لیکن تو معارف کا گلستاں نظر آیا
ایک تو ہی نہیں صاحبِ آیاتِ سماوات
ہر فرد ترا وارثِ قرآں نظر آیا
کہنے کو تو فاقوں پہ بھی گزریں تری راتیں
اسلام مگر اب بھی نمک خوار ہے تیرا
تُو نے ہی سکھائی ہے تمیزِ من و یزداں
انسان کی گردن پہ سدا بار ہے تیرا
کہنے کو تِرے سر پہ ہے دستارِ یتیمی
لیکن تو زمانے کے یتیموں کا سہارا
کہنے کو ترا فقر ترے فخر کا باعث
لیکن تو سخاوت کے سمندر کا کنارا
کہنے کو تو ہجرت بھی گوارا تجھے لیکن
عالم کا دھڑکتا ہوا دل تیرا مکاں ہے
کہنے کو تو مسکن تھا ترا دشت میں لیکن
ہر ذرہ تری بخششِ پیہم کا نشاں ہے
کہنے کو تو ایک “غارِ حرا” میں تیری مَسند
لیکن یہ فلک بھی تری نظروں میں “کفِ خاک”
کہنے کو تو “خاموش” مگر جُنبشِ لب سے
دامانِ عرب گرد ، گریبانِ عجم چاک
اے فکرِ مکمل ، رُخِ فطرت ، لبِ عالم
اے ہادی کُل ، خَتم رُسل ، رحمت پیہم
اے واقفِ معراجِ بشر ، وارثِ کونین
اے مقصدِ تخلیقِ زماں ، حُسنِ مُجسّم
نسلِ بنی آدم کے حسِین قافلہ سالار
انبوہِ ملائک کے لیے ظلِ الٰہی
پیغمبرِ فردوسِ بریں ، ساقی کوثر
اے منزلِ ادراک ، دِل و دیدہ پناہی
اے باعثِ آئینِ شب و روزِ خلائق
اے حلقۂ ارواحِ مقدس کے پیمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
اے تاجوَرِ بزمِ شریعت ، مرے آقا !
اے عارفِ معراجِ بشر ، صاحبِ منبر !
اے سید و سَرخیل و سرافراز و سخن ساز
اے صادق و سجاد و سخی ، صاحبِ اسرار
اے فکرِ جہاں زیب و جہاں گیر و جہاں تاب
اے فقرِ جہاں سوز و جہاں ساز و جہاں دار
اے صابر و صناع و صمیم وصفِ اوصاف
اے سرورِ کونین و سمیع یمِ اصوات
میزان اَنا ، مکتبِ پندارِ تیقُّن
اعزازِ خود مصدرِ صد رُشد و ہدایت
اے شاکر و مشکور و شکیلِ شبِ عالم
اے ناصر و منصور و نصیرِ دلِ انسان
اے شاہد و مشہود و شہیدِ رُخِ توحید
اے ناظر و منظور و نظیرِ لبِ یزداں
اے یوسف و یعقوب کی اُمّید کا محور
اے بابِ مناجاتِ دلِ یونس و ادریس
اے نوح کی کشتی کے لیے ساحلِ تسکیں
اے قبلہ حاجاتِ سلیماں شہِ بلقیس
اے والی یثرب میری فریاد بھی سن لے !
اے وارثِ کونین میں لَب کھول رہا ہوں
زخمی ہے زباں ، خامۂ دل خون میں تر ہے
شاعر ہوں مگر دیکھ ! مَیں سچ بول رہا ہوں.....♡
سید محسن نقوی
 

ضیاء حیدری

محفلین
محسن نقوی کی کتاب موجِ ادراک ان کے اسلامی قصائد کا مجموعہ ہے ۔ ضیاءالحق کے دور میں اس کتاب کو صدارتی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا مگر محسن نقوی نے ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا ۔

آج کل میں اس کتاب کو ٹائپ کر رہا ہوں ۔ ایک حمدِ باری تعالٰی ایک سلام اور نعتِ رسول جس کے نام پر کتاب ہے یعنی موجِ ادراک ٹائپ کر لی ہے اور وہ میری ویب سائیٹ پر دستیاب ہے ۔
http://library.bayaaz.com

اس کتاب کے حقوق شاعر کے نام محفوظ ہیں ۔ اب شاعر تو دنیا میں‌ نہیں ہے ۔ تو معلوم نہیں کے حقوق کے بارے میں کیا کیا جائے ۔ بہرحال مجھے یہ کتاب اچھی لگتی ہے اس لیے ٹائپ کر رہا ہوں ۔ کاپی رائیٹ سے متعلق محفل کی سخت پالیسی کی وجہ سے اسے یہاں فراہم نہیں کر رہا ۔ اگر منتظمین کہیں تو فراہم کر دوں گا ۔

پہلے میں‌نے محسن نقوی کی شاعری نہیں پڑھی تھی ۔ مگر جب موجِ ادراک پڑھی تو ان کے اندازِ بیان اور عشقِ رسول کا قائل ہو گیا ۔ اگر آپ کو نعتیہ کلام پسند ہے تو درج ذیل ربط کو ملاحظہ فرمائیے ۔
http://library.bayaaz.com/mojeidrak
ناحق اتنی محنت کررہے ہیں، یہ نظم شیعہ ویب سائٹ شبکۃ الامامین الحسنین پر موجود ہے
 
Top