اصغر گونڈوی موجوں کا عکس ہے خطِ جامِ شراب میں

موجوں کا عکس ہے خطِ جامِ شراب میں​
یا خون اچھل رہا ہے رگِ ماہتاب میں​
وہ موت ہے کہ کہتے ہیں جس کو سکون سب​
وہ عین زندگی ہے ہے جو ہے اضطراب میں​
دوزخ بھی ایک جلوۂ فردوس سے حسن ہے​
جو اس سے بے خبر ہیں وہی ہیں عذاب میں​
اس دن بھی میری روح تھی محوِ نشاطِ دید​
موسیٰ الجھ گئے تھے سوال و جواب میں​
میں اضطرابِ شوق کہوں یا جمالِ دوست​
اک برق ہے جو کوند رہی ہے نقاب میں​
 

سید زبیر

محفلین
وہ موت ہے کہ کہتے ہیں جس کو سکون سب
وہ عین زندگی ہے ہے جو ہے اضطراب میں
لا جواب انتخاب ۔
سرکار ! بہت شکریہ
 

طارق شاہ

محفلین
موجوں کا عکس ہے خطِ جامِ شراب میں
یا خُوں اُچھل رہا ہے رگِ ماہتاب میں

باقی نہ تابِ ضبط رہی شیخ و شاب میں
اُن کی جَھلک بھی تھی، مِری چشمِ پُرآب میں

کیوں شکوہ سنجِ گردشِ لیل و نہار ہُوں
اِک تازہ زندگی ہے ہر اِک انقلاب میں

وہ موت ہے کہ کہتے ہیں جس کو سکون سب!
وہ عینِ زندگی ہے، جو ہے اضطِراب میں

اتنا ہُوا دلیل تو دریا کی بن سکے
مانا کہ اور کچھ نہیں موج و حبُاب میں

اُس دن بھی میری رُوح تھی محْوِ نِشاطِ دِید
مُوسیٰ اُلجھ گئے تھے سوال و جواب میں

دوزخ بھی ایک جلوۂ فردوسِ حُسن ہے
جو اِس سے بے خبر ہیں، وہی ہیں عذاب میں

میں اضطِرابِ شوق کہوں یا جمالِ دوست
اِک برق ہے جو کوُند رہی ہے نقاب میں

اصغر گونڈوی

ناصر صاحب!
اصغرگونڈوی صاحب کی ایک اور دلکش غزل کے لئے تشکّر

بہت خوش رہیں

(ایک آدھ شعر شاملِ غزل نہ تھا ، میں نے شامل کرکے، غزل مکمل کرلی ہے) :)
 
Top