موجودہ حکومت کے ایسے اقدامات جنہیں اسلام پسند حلقے اسلام دشمنی سے تعبیر کر رہے ہیں

جاسم محمد

محفلین
آپ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیےاسلامیات محض ایک مضمون کی حیثیت نہیں رکھتا۔
مغرب کی ٹاپ یونیورسٹیز میں مذہبی سکالرز ذاتی زندگی میں دہریے بھی ہو سکتے ہیں۔ درسگاہوں میں تحقیقی قابلیت و اہلیت کی بنیاد پر لیکچرار بنا جاتا ہے۔ اس کا آپ کی اپنی ذات سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ کیونکہ لیکچرار کا اپنے موضوع کو ہر زاویہ سے پڑھانا مقصود ہوتا ہے۔ نہ کہ اپنے ذاتی مذہب کی تبلیغ کرنا۔
 
بالکل!

حکومت اگر سبسڈی دیتی ہے تو اچھی بات ہے۔

لیکن اس قدر قرضوں میں ڈوبی حکومت کی طرف سے سبسڈی دینا اچھا نہیں لگتا ! حج تو صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے۔
درست ، اسی طرح تمام سبسڈیاں یک جنبش قلم ختم کریں ناں ۔ صرف دینی معاملات سے ہی کیوں آغاز ہو رہا ہے کیا یہ آغاز اشاریہ ہے دین دشمنی کا ۔۔۔؟؟؟
 
مغرب کی ٹاپ یونیورسٹیز میں مذہبی سکالرز ذاتی زندگی میں دہریے بھی ہو سکتے ہیں۔ درسگاہوں میں تحقیقی قابلیت و اہلیت کی بنیاد پر لیکچرار بنا جاتا ہے۔ اس کا آپ کی اپنی ذات سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ کیونکہ لیکچرار نے موضوع کو ہر زاویہ سے پڑھانا ہوتا ہے۔ نہ کہ اپنے ذاتی مذہب کی تبلیغ کرنا۔
کسی دوسرے مضمون میں آپ انگریزوں کو لے آؤ پڑھانے کے لیئے ۔ اسلامیات میں جو غیر مسلم پڑھائے گا اس کی پھیتی پھیتی کے ذمہ دار بھی وہی ہونگے جو انہیں رکھیں گے ۔ اسلامیات ایک مضمون نہیں ہے ۔ ہمارے دین جو ہماری زندگیوں کے ہر پہلو پر حاوی ہے کا مضمون ہے ۔ یہ ہم کسی غیر مسلم کے حوالے کیسے کر دیں
 

جاسم محمد

محفلین
اسی زبان میں علیم خان کے لئے بھی وہی سب کچھ دہرائیے گا ایک مرتبہ جو اپوزیشن کے کسی رُکن کی گرفتاری پر فرمایا جاتا ہے۔ چلو کوئی گل نہیں، چلو کوئی گل نہیں !!
انصافی تو شروع دن سے کہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف میں موجود کالی بھیڑوں کا صفایا ہونا چاہیے۔ نیب ان کو پکڑے اور ان کے خلاف جو قانونی کاروائی ہو سکتی ہے وہ کرے۔ اس وقت نیب کے پاس تحریک انصاف کے متعدد لیڈران کے کیسز چل رہے ہیں۔ اور اب گرفتاریاں بھی شروع ہو چکی ہیں
 

جاسم محمد

محفلین
شہد کہیں جی شہد ویسے وہ گنڈا پور شہد پوری صاب کل کیا خوب فرما رہے تھے کلبھوشن کے متعلق۔ آہا کیا کہنے
کلبھوشن ریاستی تحویل میں ہے اور ان کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں کیس چل رہا ہے۔ لگتا ہے گنڈا پور صاحب شو میں شہد پی کر آئے ہوئے تھے۔
 
درسگاہوں میں تحقیقی قابلیت و اہلیت کی بنیاد پر لیکچرار بنا جاتا ہے
پاکستان میں کس قدر قابلیت نوازی کا دور دورہ ہے یہ تو ہم اپنی موجودہ حکومت کو دیکھ کر خوب سمجھ رہے ہیں ۔ آپ کے وزرائے اطلاعات کی قابلیت سے لے کر مشیران کی قابلیت بھی ناقابل اعتراض ہے بین القوسین
 

جاسم محمد

محفلین
7 2009 میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں صریح گستاخی کا ارتکاب کرنے والی عاصیہ ملعونہ شاتمہ رسول جو دو عدالتوں میں اعتراف جرم کے بعد ثابت شدہ گستاخہ اور سزائے موت کی مجرمہ جبکہ شریعت کی رو سے واجب القتل ہے کو 10 برس کے بعد سپریم کورٹ کے اعلیٰ ججوں نے نظر ثانی اپیل کی سماعت کرتے ہوئے محض چند سماعتوں کے بعد گستاخ نوازی پہ مبنی شریعت اسلامیہ سے متصادم انصاف کے تقاضوں سے خالی جانبدارانہ متنازعہ فیصلہ سنا کر با عزت بری کر دیا
یہ کاروائی تو سپریم کورٹ کے ججوں نے کی تھی۔ اس کا الزام بھی تحریک انصاف حکومت پر ڈال کر اپنی جانبداری کا ثبوت دے دیا۔
 
7 2009 میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں صریح گستاخی کا ارتکاب کرنے والی عاصیہ ملعونہ شاتمہ رسول جو دو عدالتوں میں اعتراف جرم کے بعد ثابت شدہ گستاخہ اور سزائے موت کی مجرمہ جبکہ شریعت کی رو سے واجب القتل ہے کو 10 برس کے بعد سپریم کورٹ کے اعلیٰ ججوں نے نظر ثانی اپیل کی سماعت کرتے ہوئے محض چند سماعتوں کے بعد گستاخ نوازی پہ مبنی شریعت اسلامیہ سے متصادم انصاف کے تقاضوں سے خالی جانبدارانہ متنازعہ فیصلہ سنا کر با عزت بری کر دیا جبکہ اس فیصلہ سے قبل عیسائی وفود سے عمران حکومت کی ملاقاتیں، امریکہ یورپ کینیڈا کی حکومتوں کے دباو، پاپ آف ویٹی کن کے بیان، غیر ملکی این جی آوز کی فنڈنگ، میڈیا پراپیگنڈا ثابت ہے مزید برآں وزیراعظم بننے سے قبل عمران خان کی عاصیہ ملعونہ کی اخلاقی حمایت پھانسی کی مخالفت گستاخ نواز سلمان تاثیر ملعون کی حمایت سلمان تاثیر کو جہنم واصل کرنے کی مذمت! غازی ممتاز حسین قادری شہید رحمۃ اللہ علیہ کو قاتل قرار دے کر غازی صاحب کی پھانسی کی حمایت! پھر سپریم کورٹ کے عاصیہ ملعونہ بریت کے خلاف شریعت فیصلہ کو آئینی شرعی قرار دے کر اس کی حمایت اور عملدرآمد کی یقین دہانی۔ عاصیہ ملعونہ فیصلہ خلاف شریعت تھا اس لئے جید علمائے دین، مذہبی حلقوں دینی سیاسی جماعتوں نے اسے مسترد کر دیا اور ملت اسلامیہ پاکستان اس خلاف شریعت فیصلہ کے خلاف سراپا احتجاج سڑکوں پہ آ گئی جس پہ حکومت وقت نے ملت اسلامیہ پاکستان کے تحفظات دور کرنے اور مصالحت کا راستہ اپنانے کی بجائے ریاستی رٹ قانون کی عملداری کو چیلنج کرنے کا بہانہ بنا کر جبر و تشدد کا راستہ اپنایا لیکن جب عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہار نہ مانی تو حکومت نے بدنیتی پہ مبنی معاہدہ کیا اور عاصیہ ملعونہ گستاخی کو سزائے موت دینے کی یقین دہانی کروائی جس پہ احتجاج ختم ہو گیا!!! (لیکن عمران حکومت تاحال اس معاہدے پہ عملدرآمد نہیں کر پائی یا کرنا ہی نہیں چاہتی)!


سرخ رنگ میں تحریر شدہ کو پڑھنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ کیا بات ہو رہی ہے اوپر جاسم صاحب والا اقتباس بدنیتی اور غلط بیانی پر مشتمل ہے
 

جاسم محمد

محفلین
ریاستی طاقت کا بھرپور استعمال کرکے بالجبر کچلنے کی کوشش کرنا تحریک کی پہلی دوسری تیسری سطح کی قیادت کو پابند سلاسل کرکے اور کارکنان کی بہت بڑی تعداد کو جیلوں میں ڈال کر
لبیکیے اس سے پہلے بھی دھرنے اور احتجاج کرتے رہے ہیں۔ جہاں حکومت و فوج نے ان کو مکمل فری ہینڈ دئے رکھا جس پر سابقہ حکومت کی جماعت ن لیگ اور معزز عدلیہ کے جج فائز عیسی ابھی تک گرم ہیں۔
یقیناً یہ سب نئی حکومت کے دور میں بھی چلتا رہتا اگر لبیک یا رسول اللہ کی اعلی قیادت بیچ چوراہے میں ججوں کے قتل کے فتوے جاری نہ کرتی۔ یا فوج کو بغاوت کیلئے نہ اکساتی۔ ریاست کے خلاف بغاوت کے جرم میں ان کو پکڑا گیا ہے۔ نہ کہ اسلام دشمنی کی وجہ سے۔
 

جاسم محمد

محفلین
سرخ رنگ میں تحریر شدہ کو پڑھنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ کیا بات ہو رہی ہے اوپر جاسم صاحب والا اقتباس بدنیتی اور غلط بیانی پر مشتمل ہے
حکومت کسی بھی شہری کو سزائے موت دینے کی مجاز نہیں ہے۔ یہ طاقت صرف اور صرف عدالتوں کے پاس ہے۔ حکومت نے لبیک والوں سے صرف یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں فیصلہ کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کرے گی۔ جو اس نے معاہدہ کے مطابق کر دی تھی۔ اور جس کا فیصلہ بھی آچکا ہے۔
 

فلسفی

محفلین
Screenshot-20190207-130011.jpg
بہنا، گذارش یہ ہے کہ یہ پانچ فیصد کا کوٹہ تو پہلے سے مخصوص ہے۔ میں نے آپ کو 2016 کی خبر کا حوالہ دیا تھا۔ آپ کے کالم کے مطابق یہ تبدیلی موجودہ حکومت یا پنجاب حکومت کے تحت ہوئی ہے۔ اس حوالے سے اگر آپ کے پاس معلومات ہیں تو برائے مہربانی شئیر کیجیے۔ پنجاب اسمبلی کی ویب سائٹ پر ایوان کی کاروائی کی تفصیل بھی موجود ہوتی ہے۔ آپ تاریخ بتا دیجیے جس دن یہ کاروائی عمل میں آئی۔ میں آفیشل کسی حوالے کی تلاش میں ہوں۔
 

جاسم محمد

محفلین
یہی تو جمہوریت کی برائی ہے ۔

ورنہ جب لکھا جاتا ہے کہ حاکمِ اعلیٰ اللہ رب العزت کی ذات ہے تو پھر حکم بھی اُسی کا چلنا چاہیے۔

ورنہ یہ ڈھکوسلے بازیاں قانون کی کتابوں سے ختم ہونی چاہیے۔
اگر ملک میں شریعت ہی نافذ کرنی ہے تو جمہوری نظام ختم کر دیں۔ ایک طرف عوام کو مکمل دھاندلی سے پاک الیکشن چاہیے۔ دوسری طرف عدالتیں شرعی بھی چاہیے، ہر حکومت اسلام پسند بھی ہونی چاہیے، وغیرہ وغیرہ۔ ایسے چلے گی جمہوریت؟
ملک میں ضیا الحق کا دور ہر لحاظ سے شرعی تھا۔ جا بجا اسلامی قوانین بن رہے تھے۔ اسلامی سزائیں دی جا رہی تھیں۔ مجاہدین افغان جہاد پر بھیجے جا رہے تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اگر عوام کی اکثریت کو یہی شریعت ، یہی اسلام پسندی چاہیے تھی تو ضیا کی ہلاکت کے بعد لبرل اور کرپٹ بینظیر کو ووٹ کیوں دیا؟
 
لبیکیے اس سے پہلے بھی دھرنے اور احتجاج کرتے رہے ہیں۔ جہاں حکومت و فوج نے ان کو مکمل فری ہینڈ دئے رکھا جس پر سابقہ حکومت کی جماعت ن لیگ اور معزز عدلیہ کے جج فائز عیسی ابھی تک گرم ہیں۔
یقیناً یہ سب نئی حکومت کے دور میں بھی چلتا رہتا اگر لبیک یا رسول اللہ کی اعلی قیادت بیچ چوراہے میں ججوں کے قتل کے فتوے جاری نہ کرتی۔ یا فوج کو بغاوت کیلئے نہ اکساتی۔ ریاست کے خلاف بغاوت کے جرم میں ان کو پکڑا گیا ہے۔ نہ کہ اسلام دشمنی کی وجہ سے۔
سول نافرمانی ، لاہور بند ، کراچی بند ، فیصل آباد بند ، پولیس والا روکے تو ٹھوک دو ، نہیں چھوڑوں گا ، او بے غیرت حکمرانو۔۔! جیسے الفاظ کا استعمال کیا بغاوت سے کم ہے ۔۔؟؟
فتویٰ شریعت کے مطابق ہوا کرتا ہے ، اگر حاکم وقت ، یا کوئی جج یا کوئی جرنیل کفر کا ارتکاب کرے یا کفر کا ارتکاب کرنے والے کی حمایت میں مسلمین پر ظلم کرے تو ایسا حاکم یا جج یا جرنیل جو ہوگا اس کا فتویٰ شریعت کے اصولوں پر دیا جاتا ہے نہ کہ پسند نا پسند یا آئین پاکستان کے مطابق ، اب یا تو اللہ کو اپنا رب مانا جائے اور اس کے دین کے مطابق فتویٰ دیا جائے یا پھر طاقت و سلطت کو اپنا رب مان کر ان کی رضا کے مطابق فتویٰ دیا جائے ۔

یاد رہے کہ پاکستان کا سپریم قانون قانون الہی ہے قانون عمرانی یا قانون انگریزی نہیں اور یہ آئین بھی اسی کے تحت آتا ہے
 
اگر ملک میں شریعت ہی نافذ کرنی ہے تو جمہوری نظام ختم کر دیں۔ ایک طرف عوام کو مکمل دھاندلی سے پاک الیکشن چاہیے۔ دوسری طرف عدالتیں شرعی بھی چاہیے، ہر حکومت اسلام پسند بھی ہونی چاہیے، وغیرہ وغیرہ۔ ایسے چلے گی جمہوریت؟
ملک میں ضیا الحق کا دور ہر لحاظ سے شرعی تھا۔ جا بجا اسلامی قوانین بن رہے تھے۔ اسلامی سزائیں دی جا رہی تھیں۔ مجاہدین افغان جہاد پر بھیجے جا رہے تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اگر عوام کی اکثریت کو یہی شریعت ، یہی اسلام پسندی چاہیے تھی تو ضیا کی ہلاکت کے بعد لبرل اور کرپٹ بینظیر کو ووٹ کیوں دیا؟
کیونکہ اس کے بعد ملک پر سیلیکٹڈ حکومتوں کی بیماری آگئی
 

جاسم محمد

محفلین
درست ، اسی طرح تمام سبسڈیاں یک جنبش قلم ختم کریں ناں ۔ صرف دینی معاملات سے ہی کیوں آغاز ہو رہا ہے کیا یہ آغاز اشاریہ ہے دین دشمنی کا ۔۔۔؟؟؟
آپ شاید بھول رہے ہیں کہ وزرا اور عوامی نمائندگان کو بیرون ممالک میں سرکاری خرچے پر علاج کیلئے دی جانے والی سبسڈی ختم ہو چکی ہے۔ نجی چینلز جو پہلے سرکاری سبسڈی پر چل رہے تھے اب بند ہو رہے ہیں۔ جیو نیوز کے ملازمین کو پچھلے ۵ ماہ سے تنخواہیں نہیں مل رہی۔ دیگر چینلز بھی یہی رونا رو رہے ہیں۔
ان حالات میں حج کی سبسڈی بند ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
سول نافرمانی ، لاہور بند ، کراچی بند ، فیصل آباد بند ، پولیس والا روکے تو ٹھوک دو ، نہیں چھوڑوں گا ، او بے غیرت حکمرانو۔۔! جیسے الفاظ کا استعمال کیا بغاوت سے کم ہے ۔۔؟؟
اگر سول نافرمانی بغاوت ہے تو حکومت کو پورا اختیار تھا کہ وہ عمران خان اور باقی کی سینیر قیادت کے خلاف لبیک یا رسول اللہ کی طرح قانونی کاروائی کرتی۔
لیکن اس نے مفاہمت کی پالیسی اپنائی اور بالآخر تحریک انصاف ناکام ہو کر واپس اسمبلی میں چلی گئی۔
 

جاسم محمد

محفلین
کیونکہ اس کے بعد ملک پر سیلیکٹڈ حکومتوں کی بیماری آگئی
بینظیر کی منتخب حکومت کو کس نے گرایا تھا؟ اسلامی جمہوری اتحاد کس نے بنایا تھا؟ اس کی سربراہی کون کر رہا تھا؟ آئی ایس آئی سے پیسے کس کس نے لئے تھے؟ یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ہر دور میں وکٹ کے دونوں اطراف کھیلتی ہے۔ کبھی مذہبی عناصر کو استعمال کرکے منتخب حکومت گراتی ہے۔ کبھی لبرل عناصر کو ہوا دے کر مذہبی حکومت کے خلاف پروپگنڈہ کرتی ہے۔ یہ اسکی پرانی روش ہے اور یہ لوگ سدھرنے والے نہیں۔
 
اگر سول نافرمانی بغاوت ہے تو حکومت کو پورا اختیار تھا کہ وہ عمران خان اور باقی کی سینیر قیادت کے خلاف لبیک یا رسول اللہ کی طرح قانونی کاروائی کرتی۔
لیکن اس نے مفاہمت کی پالیسی اپنائی اور بالآخر تحریک انصاف ناکام ہو کر واپس اسمبلی میں چلی گئی۔
یاد رکھیئے گا تحریک لبیک اگر کامیاب ہوئی جو ایسے جبر کا لازمی نتیجہ ہے تو آپ اور آپ کی اسٹیبلشمنٹ سے ہضم نہیں ہونی ، پھر فرانس چھٹی پر جانا پڑ جاتا ہے۔ ایران کا انقلاب ایسے ہی جبر کا نتیجہ تھا ،
 

جاسم محمد

محفلین
فتویٰ شریعت کے مطابق ہوا کرتا ہے
شریعت نے فتوی دینے والے عالم کیلئے بھی بہت سی شرائط قائم کر رکھی ہیں۔ کیا ایک بات بات پر گالم گلوچ دینے والا گلی محلے کا عالم ریاستی اداروں کے خلاف فتوے دینے کا مجاز ہے؟
 

جاسم محمد

محفلین
یاد رکھیئے گا تحریک لبیک اگر کامیاب ہوئی جو ایسے جبر کا لازمی نتیجہ ہے تو آپ اور آپ کی اسٹیبلشمنٹ سے ہضم نہیں ہونی ، پھر فرانس چھٹی پر جانا پڑ جاتا ہے۔ ایران کا انقلاب ایسے ہی جبر کا نتیجہ تھا ،
لکھ لیں اس ملک میں آج تک مذہبی جماعتوں کو چند فیصد سے زائد جمہوری ووٹ نہیں پڑا ہے۔ ماضی و حال میں مذہبی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر چڑھ کر چور دروازے سے آکر عوام پر حکمرانی کرتی رہی ہیں۔ جنرل ضیا کے جماعت اسلامی سے قریبی مراسم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ آج وہ مذہبی جماعت انتخابات میں کہاں کھڑی تھی ؟ بلکہ اس بار تو ملک کی تمام بڑی مذہبی جماعتوں نے اکٹھے الیکشن لڑا۔ مگر نتائج وہی پرانے والے نکلے۔ الٹا ووٹ اور کم ہو گیا۔
 
Top