مزید ایک غزل! "لوگ کہتے ہیں یہ بستی ہے مسلمانوں کی"

غزل

لوگ کہتے ہیں یہ بستی ہے مسلمانوں کی
آؤ پھر سیر کریں اس کے شبستانوں کی

"گٹھڑیاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کی"
ایک ریلی نظر آتی ہے نفل خوانوں کی

انکی چوکھٹ پہ گئے، بات سنی، لوٹ آئے
لاش کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے ارمانوں کی

لوگ رہتے ہیں وہاں خوگر و الماس پرست
آؤ دیکھیں تو سہی بستی کو انسانوں کی

جب سے وہ چھوڑ گئے وعدہِ فردا دے کر
شام چوکھٹ پہ گزرتی ہے پری خوانوں کی

مفلسی میں جو نہ ڈاکہ پڑا میرے گھر میں
بڑھ گئی کاہلی بے حد مرے دربانوں کی

ہیزمِ آتش اگر کم ہے تو مہدیؔ دیکھو!
تھپّیاں کتنی لگی ہیں یہاں دیوانوں کی

مہدی نقوی حجازؔ
 
غزل

لوگ کہتے ہیں یہ بستی ہے مسلمانوں کی
آؤ پھر سیر کریں اس کے شبستانوں کی

"گٹھڑیاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کی"
ایک ریلی نظر آتی ہے نفل خوانوں کی

انکی چوکھٹ پہ گئے، بات سنی، لوٹ آئے
لاش کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے ارمانوں کی

لوگ رہتے ہیں وہاں خوگر و الماس پرست
آؤ دیکھیں تو سہی بستی کو انسانوں کی

جب سے وہ چھوڑ گئے وعدہِ فردا دے کر
شام چوکھٹ پہ گزرتی ہے پری خوانوں کی

مفلسی میں جو نہ ڈاکہ پڑا میرے گھر میں
بڑھ گئی کاہلی بے حد مرے دربانوں کی

ہیزمِ آتش اگر کم ہے تو مہدیؔ دیکھو!
تھپّیاں کتنی لگی ہیں یہاں دیوانوں کی

مہدی نقوی حجازؔ



اچھی غزل ہے۔
میرے خیال میں معمولی سی اصلاح کی ضرورت ہے جو شاعر خود ہی کرسکتا ہے۔
سرخ مصرعے خاص توجہ چاہتے ہیں۔ نظر ثانی کرلیں تو درستی ممکن ہے۔
باقی اساتذہ کہینگے
 

نایاب

لائبریرین
غزل

لوگ کہتے ہیں یہ بستی ہے مسلمانوں کی
آؤ پھر سیر کریں اس کے شبستانوں کی

"گٹھڑیاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کی"
ایک ریلی نظر آتی ہے نفل خوانوں کی

انکی چوکھٹ پہ گئے، بات سنی، لوٹ آئے
لاش کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے ارمانوں کی

لوگ رہتے ہیں وہاں خوگر و الماس پرست
آؤ دیکھیں تو سہی بستی کو انسانوں کی

جب سے وہ چھوڑ گئے وعدہِ فردا دے کر
شام چوکھٹ پہ گزرتی ہے پری خوانوں کی

مفلسی میں جو نہ ڈاکہ پڑا میرے گھر میں
بڑھ گئی کاہلی بے حد مرے دربانوں کی

ہیزمِ آتش اگر کم ہے تو مہدیؔ دیکھو!
تھپّیاں کتنی لگی ہیں یہاں دیوانوں کی

مہدی نقوی حجازؔ

بہت خوب کہی ہے غزل محترم مہدی بھائی
آخری شعر سمجھ نہیں آیا ۔ کچھ تشریع کر دیں گے کیا ؟
 
اچھی غزل ہے۔
میرے خیال میں معمولی سی اصلاح کی ضرورت ہے جو شاعر خود ہی کرسکتا ہے۔
سرخ مصرعے خاص توجہ چاہتے ہیں۔ نظر ثانی کرلیں تو درستی ممکن ہے۔
باقی اساتذہ کہینگے

جناب سقم کس طرح کا ہے کی تو نشاندہی فرما دیجے؟
 
گٹھڑیاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کی
ایک ریلی نظر آتی ہے نفل خوانوں کی
ہیزمِ آتش اگر کم ہے تو مہدیؔ دیکھو!
تھپّیاں کتنی لگی ہیں یہاں دیوانوں کی

واہ حجاز صاحب! میرا مقام نہیں تبصرہ کرنے کا۔ میں تو الٹا سوال ہی کروں گا:
یہ نفل اور نفِل میں کیا فرق ہے؟ اور نفل پڑھنے والے کو نفل خوان کہہ سکتے ہیں؟
ہیزم اور تھپی کا معنی بھی بتائیں۔ بہت شکریہ!
 
بہت خوب کہی ہے غزل محترم مہدی بھائی
آخری شعر سمجھ نہیں آیا ۔ کچھ تشریع کر دیں گے کیا ؟

جناب مقطع کا خیال کچھ اس ڈھنگ سے ہے کہ:
مہدی اگر آگ لگانے کے لیے لگڑیاں کم پڑ رہی ہیں تو پریشان نہ ہو! یہ دیکھ کتنے شاعری کے دیوان یہاں پڑے ہوئے ہیں۔ انہیں ہی آگ میں جھونک دو÷!
تعریف کا شکریہ!
 
اچھی غزل ہے۔
میرے خیال میں معمولی سی اصلاح کی ضرورت ہے جو شاعر خود ہی کرسکتا ہے۔
سرخ مصرعے خاص توجہ چاہتے ہیں۔ نظر ثانی کرلیں تو درستی ممکن ہے۔
باقی اساتذہ کہینگے

مزمل صاحب، آپ کو دیکھا ہے محفل پر۔ بہت رہنمائی فرماتے ہیں۔ جزاک اللہ!
 
واہ حجاز صاحب! میرا مقام نہیں تبصرہ کرنے کا۔ میں تو الٹا سوال ہی کروں گا:
یہ نفل اور نفِل میں کیا فرق ہے؟ اور نفل پڑھنے والے کو نفل خوان کہہ سکتے ہیں؟
ہیزم اور تھپی کا معنی بھی بتائیں۔ بہت شکریہ!

عزیزم!
نوافل پڑھنے والے کو نفل خوان تو کہہ سکتے ہیں۔۔ اور یہ دوسرا کونسا "نفلِ" ہے مجھے سمجھ نہ آیا!
ہیزم اس لکڑی کو کہا جاتا ہے جو آگ لگانے میں مفید رہتی ہے۔۔۔ (اکثر سوکھی ہوئی پتلی شاخیں)
تھپّی تو عمودی طور پر کھڑی ایک دستہ بندی کے طور پر تعریف ہو سکتی ہے!

تعریف کا بہت شکریہ!
 
نوافل پڑھنے والے کو نفل خوان تو کہہ سکتے ہیں۔۔ اور یہ دوسرا کونسا "نفلِ" ہے مجھے سمجھ نہ آیا!
نفل میں فا پر سکون ہوتا ہے یا زیر؟
اگر سکون تو آپ کا یہ مصرع
ایک ریلی نظر آتی ہے نفل خوانوں کی​
پرخطر ہو جائے گا۔
 
جناب سقم کس طرح کا ہے کی تو نشاندہی فرما دیجے؟


لوگ کہتے ہیں یہ بستی ہے مسلمانوں کی​
آؤ پھر سیر کریں اس کے شبستانوں کی​

"گٹھڑیاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کی"​
ایک ریلی نظر آتی ہے نفل خوانوں کی​
÷÷نفل بروزن درد یا فاع کے ہے۔ اور نفل خوان خواندن سے پڑھنے والا یعنی منہ سے کہنے یا قرات کرنے والا مراد ہوتا ہے شاید۔ گزار گزاردن سے ادا کرنے والا مراد ہے۔ اب ظاہر ہے نفل پڑھنا یعنی نفل کی قرات یا نفل کا منہ سے گانا یا پڑھنا مراد نہیں۔ بلکہ ادا کرنا مراد ہے۔ مصرع دوبارہ کہو۔

انکی چوکھٹ پہ گئے، بات سنی، لوٹ آئے​
لاش کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے ارمانوں کی​
مصرع درست ہے۔ مگر تعقید لفظی خفی موجود ہے۔

لوگ رہتے ہیں وہاں خوگر و الماس پرست​
آؤ دیکھیں تو سہی بستی کو انسانوں کی​
÷÷بستی کی ی اصلی ہے۔ گرانا مکروہ ہے۔ پھر تعقید بھی موجود ہے۔ ”بستی کو انسانوں کی“ کی بجائے ”بستی یہ انسانوں کی “ بہتر تھا

جب سے وہ چھوڑ گئے وعدہِ فردا دے کر​
شام چوکھٹ پہ گزرتی ہے پری خوانوں کی​
÷÷ وعدہ لینا اور وعدہ کرنا درست محاورے ہیں۔ مگر وعدہ دینا میرے علم میں نہیں تھا۔


مفلسی میں جو نہ ڈاکہ پڑا میرے گھر میں​
بڑھ گئی کاہلی بے حد مرے دربانوں کی​
÷÷ شعر میں ابلاغ درست طور پر نہیں ہوتا۔ کاہلی کے بڑھنے سے ایک دم یہ نہیں معلوم ہوتا وجہ مفلسی ہے۔ پھر غالباً شاعر کی مراد وہ مفلسی ہے جو اب نہیں رہی یہ بات شعر میں زیادہ واضح نہیں

ہیزمِ آتش اگر کم ہے تو مہدیؔ دیکھو!​
تھپّیاں کتنی لگی ہیں یہاں دیوانوں کی​
دیوانوں ؟
:confused:
مہدی نقوی حجازؔ​
 
لوگ کہتے ہیں یہ بستی ہے مسلمانوں کی​
آؤ پھر سیر کریں اس کے شبستانوں کی​

"گٹھڑیاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کی"​
ایک ریلی نظر آتی ہے نفل خوانوں کی​
÷÷نفل بروزن درد یا فاع کے ہے۔ اور نفل خوان خواندن سے پڑھنے والا یعنی منہ سے کہنے یا قرات کرنے والا مراد ہوتا ہے شاید۔ گزار گزاردن سے ادا کرنے والا مراد ہے۔ اب ظاہر ہے نفل پڑھنا یعنی نفل کی قرات یا نفل کا منہ سے گانا یا پڑھنا مراد نہیں۔ بلکہ ادا کرنا مراد ہے۔ مصرع دوبارہ کہو۔
یہ کیسا رہے گا اگرچہ قافیہ تکراری ہے: اک جماعت نظر آتی ہے مسلمانوں کی؟

انکی چوکھٹ پہ گئے، بات سنی، لوٹ آئے​

لاش کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے ارمانوں کی

مصرع درست ہے۔ مگر تعقید لفظی خفی موجود ہے۔
یوں کروں تو (ہر چند مجھے غیرِ رواں لگ رہا ہے):دوش پر لاش اٹھائے ہوئے ارمانوں کی

لوگ رہتے ہیں وہاں خوگر و الماس پرست​
آؤ دیکھیں تو سہی بستی کو انسانوں کی​
÷÷بستی کی ی اصلی ہے۔ گرانا مکروہ ہے۔ پھر تعقید بھی موجود ہے۔ ”بستی کو انسانوں کی“ کی بجائے ”بستی یہ انسانوں کی “ بہتر تھا
خود ہی کوئی مصرع بتادیں حضرت! ہمیں کچھ نہیں سوجھتا اس بارے!

جب سے وہ چھوڑ گئے وعدہِ فردا دے کر​
شام چوکھٹ پہ گزرتی ہے پری خوانوں کی​
÷÷ وعدہ لینا اور وعدہ کرنا درست محاورے ہیں۔ مگر وعدہ دینا میرے علم میں نہیں تھا۔
ویسے تو ترجمہ محاورہ فارسی ہے "وعدہ دادن"۔ جیسے غالب نے "نفس کشیدن" اور "انتظار کشیدن" کا ترجمہ کیا تھا۔ پھر بھی کہتے ہو تو بدل لیتا ہوں!
جب سے وہ چھوڑ گئے وعدہِ فردا کر کے

مفلسی میں جو نہ ڈاکہ پڑا میرے گھر میں​
بڑھ گئی کاہلی بے حد مرے دربانوں کی​
÷÷ شعر میں ابلاغ درست طور پر نہیں ہوتا۔ کاہلی کے بڑھنے سے ایک دم یہ نہیں معلوم ہوتا وجہ مفلسی ہے۔ پھر غالباً شاعر کی مراد وہ مفلسی ہے جو اب نہیں رہی یہ بات شعر میں زیادہ واضح نہیں
اگر شعر کو کچھ مبہم رہنے دیں اور مفلسی کو خود قاری کے کشف کرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے تو یوں درست ہو جائے گا: مدتوں سے جو نہ ڈاکہ پڑا خالی گھر میں

ہیزمِ آتش اگر کم ہے تو مہدیؔ دیکھو!​
تھپّیاں کتنی لگی ہیں یہاں دیوانوں کی​
دیوانوں ؟
:confused:
اب شاعر کے "دیوان" کے علاوہ کس چیز کی جمع کا ذکر کرتا؟؟! :p
مہدی نقوی حجازؔ​
 
عمدہ تبصرہ کیا مزمل صاحب نے۔ میری رائے بھی لیجئے گا:
لوگ کہتے ہیں یہ بستی ہے مسلمانوں کی
آؤ پھر سیر کریں اس کے شبستانوں کی
اگر کوئی کہے کہ یہ مسلمانوں کی بستی ہے تو آپ کہیں گے آؤ اس کے شبستان دیکھیں؟ ایسا مطلع اگر غزل مسلسل کا ہو تبھی قابل قبول ہے۔
"گٹھڑیاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کی"
ایک ریلی نظر آتی ہے نفل خوانوں کی
شعر کاٹ ہی دیجئے۔ نفل وزن سے باہر ہے۔ نفل خوان نفل پڑھنے کا اچھا ترجمہ نہیں۔ پھر ریلی کا استعمال۔ ریلی تو حرکت میں ہوتی ہے آگے بڑھتی ہے۔ نفل تو کھڑے کھڑے ادا ہوتے ہیں۔
انکی چوکھٹ پہ گئے، بات سنی، لوٹ آئے
لاش کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے ارمانوں کی
لوگ رہتے ہیں وہاں خوگر و الماس پرست
آؤ دیکھیں تو سہی بستی کو انسانوں کی
جب سے وہ چھوڑ گئے وعدہِ فردا دے کر
شام چوکھٹ پہ گزرتی ہے پری خوانوں کی
مزمل صاحب سے متفق ہوں۔
مفلسی میں جو نہ ڈاکہ پڑا میرے گھر میں
بڑھ گئی کاہلی بے حد مرے دربانوں کی
خیال اچھا ہے۔ نئے انداز میں اگر کہنے کی کوشش کریں۔ اس انداز میں ایک ڈھیل ہے۔
ہیزمِ آتش اگر کم ہے تو مہدیؔ دیکھو!
تھپّیاں کتنی لگی ہیں یہاں دیوانوں کی
دیوان کی جمع دواوین ہے۔ اور اس کی جمع غیر ندائی یعنی دیوانوں کو اس قافیے میں ڈالنا اچھا نہیں۔ ذہن اس کو دیوانے کی جمع سمجھتا ہے۔
 
تعغیر یافتہ غزل!

لوگ کہتے ہیں یہ بستی ہے مسلمانوں کی​
آؤ پھر سیر کریں اس کے شبستانوں کی​

"گٹھڑیاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کی"​
اک جماعت نظر آتی ہے مسلمانوں کی

انکی چوکھٹ پہ گئے، بات سنی، لوٹ آئے​
دوش پر لاش اٹھائے ہوئے ارمانوں کی

لوگ رہتے ہیں وہاں خوگر و الماس پرست​
آؤ بستی میں چلے چلتے ہیں انسانوں کی​

جب سے وہ چھوڑ گئے وعدہِ فردا کر کے​
شام چوکھٹ پہ گزرتی ہے پری خوانوں کی​

مدتوں سے جو نہ ڈاکہ پڑا خالی گھر میں​
بڑھ گئی کاہلی بے حد مرے دربانوں کی​

ہیزمِ آتش اگر کم ہے تو مہدیؔ دیکھو!​
تھپّیاں کتنی لگی ہیں یہاں ارمانوں کی​

مہدی نقوی حجازؔ​
 
عمدہ تبصرہ کیا مزمل صاحب نے۔ میری رائے بھی لیجئے گا:

حضرت بہت سے مزمل کے سوالات کے پاسخ میں اوپر درج کر چکا ہوں!
آپ وہاں مراسلے میں مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
در ضمن میں نے اصلاح شدہ غزل دوبارہ ارسال کی ہے۔ ایک نظر اسے بھی دیکھ لیجے!
 
تعغیر یافتہ غزل!

لوگ کہتے ہیں یہ بستی ہے مسلمانوں کی​
آؤ پھر سیر کریں اس کے شبستانوں کی​

"گٹھڑیاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کی"​
اک جماعت نظر آتی ہے مسلمانوں کی

انکی چوکھٹ پہ گئے، بات سنی، لوٹ آئے​
دوش پر لاش اٹھائے ہوئے ارمانوں کی

لوگ رہتے ہیں وہاں خوگر و الماس پرست​
آؤ بستی میں چلے چلتے ہیں انسانوں کی​

جب سے وہ چھوڑ گئے وعدہِ فردا کر کے​
شام چوکھٹ پہ گزرتی ہے پری خوانوں کی​

مدتوں سے جو نہ ڈاکہ پڑا خالی گھر میں​
بڑھ گئی کاہلی بے حد مرے دربانوں کی​

ہیزمِ آتش اگر کم ہے تو مہدیؔ دیکھو!​
تھپّیاں کتنی لگی ہیں یہاں ارمانوں کی​

مہدی نقوی حجازؔ​


بہت خوب ہے۔
مفلسی والا شعر اب بہت واضح ہے۔ مدتوں کے لفظ سے واقعی ابلاغ ہوتا ہے۔
دوش پر لاش اٹھائے ہوئے ارمانوں کی
پہلا مصرع بنسبت اس کے زیادہ بہتر تھا۔
لاش کاندھوں ۔۔۔ الخ
مصرعِ طرح کی لفظی نشت کے بارے میں محمد یعقوب آسی کیا فرمائینگے؟

اک جماعت نظر آتی ہے مسلمانوں کی
صرف ”مسلمانوں“ سے کام نہیں بن رہا۔ کچھ مزید جاندار قافیہ سوچ یار۔ o_O
باقی غزل بہت خوب ہے۔ بہت سی داد حاضر۔
 
Top