مزاحیہ اشعار

توقیر

محفلین
کھٹملوں کا نام مچھر کا نشاں کوئي نہ ہو
ويٹر اب ايسي جگہ چل کر جہاں کوئي نہ ہو

کس لئے داخل ہو کوئي ايسے نرسنگ روم ميں
ايک سسٹر کام کي يارو جہاں کوئي نہ ہو

طالب علم و ادب آجکل اس پہ مصر
ڈگرياں ملتي رہيں اور امتحاں کوئي نہ ہو

ڈھونڈئيے بے کھٹکے چوري کے لئے ايسا مکان
کوئي ہمسايہ نہ ہو اور پاسباں کوئي نہ ہو

- بيدل جونپوري
 

عبدالجبار

محفلین
سیاست دان کے لئے

ووٹر کی دعائیں لیتا جا
جا تجھ کو اسمبلی ہال ملے
حلقے کی کبھی نہ یاد آئے
سرکار سے اتنا مال ملے​
 

توقیر

محفلین
کون يہ لے کہ ہاتھ ميں سبز کمان آ گيا
ابرؤے سبزہ رنگ کا پھر مجھے دھيان آگيا
سبزہ رنگوں کے فريبوں ميں دل آيا بے طرح
عشق نے پھر سبز باگ اس کو دکھايا بے طرح

جبکہ طفلي ميں اماموں کا بنايا تھا فقير
تھا اسي دن سے دعا گو سبزہ رنگوں کا فقير
کائي مل دو تم مجھے آگے خدا شافي ہے بس
دل جلوں کو سبزہ رنگوں کے يہي کافي ہے بس

تري سبزہ رنگ ايسي صورت ہے صاف
زمرد کي گويا کہ صورت ہے صاف
آج يہاں کل وہاں گزرے يوں ہي جگ ہميں
کہوے ہے سبزہ رنگ اس سے ہري چگ ہميں

قتل کي کچھ مرے سبزہ رنگ کي تدبير آج
دل مرا چاہے ہے سير سبزہ شمشير آج
دلامت دوڑ تو ان سبزہ رنگوں کي صفائي پر
پھسل جاتا ہے اکثر آدمي کا پاؤں کائي پر

دھيان ميں يوں ہوں سبزہ رنگوں کي غرق
جوں نشے ميں ہو کوئي بہنگ کے غرق
کيوں غش نہ سبزہ رنگ پہ دل سے مدام ہوں
ميں حضرت امام حسن کا غلام ہوں
 

عمر سیف

محفلین
دیکھا جو زلفِ یار میں کاغذ کا ایک پھول
میں کوٹ میں گلاب لگا کر چلا گیا
پوڈر لگا کے چہرے پہ آئے وہ میرے گھر
میں ان کے گھر خضاب لگا کر چلا گیا
 

شمشاد

لائبریرین
مگس کو باغ میں جانے نہ دینا
کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

پیروڈی

عورت کو اشتہار میں‌ آنے نہ دینا
کہ ناحق خون جوانوں کا ہو گا
 

شمشاد

لائبریرین
کتنے کنکر ہیں دال میں‌ بیگم
ایک لقمہ بھی کھا نہیں سکتے
بولیں، دن رات پان کھاتے ہو
چار کنکر چبا نہیں سکتے
 

شمشاد

لائبریرین
یا رب دلِ جیدی کو اک زندہ تمنا دے
تو خواب کے پیاسے کو تعبیر کا دریا دے

اس بار مکاں بدلوں تو ایسی پڑوسن ہو
جو قلب کو گرما دے اور روح کو تڑپا دے
 

عمر سیف

محفلین
دروازہ کھولے کار کا بیوی کے واسطے
شوہر کے انکسار سے ظاہر تو یہی ہے
شائستگی کی صرف دو معقول وجہ ہیں
بیوی ہے نئی یا پھر یہ کار نئی ہے
 

عبدالجبار

محفلین
روحِ میر سے معذرت کے ساتھ!

امیرانہ آئے خطا کر چلے
میاں خوش رہو ہم دُعا کر چلے
جو سیگریٹ نہ پینے کو کہتے تھے ہم
سو پائپ لبوں میں دبا کر چلے
نقل پہ نکل ہم تو کرتے گئے
حقِ علم ہم یوں ادا کر چلے
کسی کا رُعب ہم نہ مانیں یہاں
بس اپنا ہی ٹہکا جما کر چلے
جو ڈیڈی یہ پوچھیں تو ہم کیا کہیں
کہ آئے تھے کیونکر اور کیا کر چلے​
 

شمشاد

لائبریرین
تعریف تو ہم کر دیں گے ظفر صاحب لیکن آپ اپنا تعارف تو کروائیں۔

ایسا کریں کہ “ تعارف “ کے زمرے میں جائیں اور اپنے متعلق اراکین کو بتائیں، رہی سہی کسر اراکین خود ہی پوری کر لیں گے :wink:

ویسے میں آپ کو اس محفل میں‌ خوش آمدید کہتا ہوں۔
 

عمر سیف

محفلین
محبت ماں سے اور بیوی سے جب کو پیار ہوتا ہے
گزارا ایسے شوہر کا ذرا دشوار ہوتا ہے
سرفراز شاہد
 

نوید ملک

محفلین
چوری چوری یہ آنا جانا چھوڑ دو
چپکے چپکے یوں نظریں ملانا چھوڑ دو
کسی دن بہت پٹو گے اُن سے تم
یہ مسجدوں سے جوتے چرانا چھوڑ دو
 

نوید ملک

محفلین
کل ہوا جو اس سے ایک مکالمہ
اختصاریِ کلام کا اک تجربہ یونیک ہے
میں نے کہا جانِ من اس نے کہا ، کیا کہا
میں نے کہا کچھ نہیں ، اس نے کہا ٹھیک ہے
 

عمر سیف

محفلین
کہا موچی نے واعظ سے کہ حضرت مولوی صاحب
عمل خود بھی کرتے ہو جو ہمیں بتاتے ہو؟
یہ سن کر مولوی صاحب نے اُس موچی سے فرمایا
کہ تم کیا خود پہننے کے لیئے جوتے بناتے ہو؟
 

نوید ملک

محفلین
کل ایک مفکر مجھے کہتا تھا سرِ راہ
شاید تیری ملت کا ہے مٹنے کا ارادہ
میں نے یہ کہا اس سے کوئی وجہ بھی ہو گی
بولا کہ تیری قوم میں شاعر ہیں زیادہ

:lol:
 

پاکستانی

محفلین
کل کہیں سے یہ شعر پڑھا تھا، آپ کی نذر ہے

وہ آئیں گھر ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی ان کے سینڈل کو دیکھتے ہیں
 

نوید ملک

محفلین
اک تُسی شرماندے وی بہت او
اک تُسی اتراندے وی بہت او
دل تے کردا اے تہانو ڈنر تے لے کے جاواں
پر تُسی تے کھاندے وی بہت او
 
Top