مریخ پر بھیجی گئی گاڑی کے دو سال مکمل

عتیق الرحمن نے 'سائنس اور ٹیکنالوجی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 3, 2006

  1. عتیق الرحمن

    عتیق الرحمن محفلین

    مراسلے:
    118
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    4جنوری2006 کو مریخ پر بھیجی گئی روبوٹ گاڑی(Robot Rover) کے دو سال مکمل ہو جائیں گے ۔۔۔۔
    4 جنوری 2004 بوقت 0435GMT کو امریکی خلائی ادارے ناسا نے مریخ پر سپرٹ (Spirit) نامی روبوٹ گاڑی اتاری تھی اور پھر 25 جنوری 2004 کو ایک اور روبوٹ گاڑی Opportunity نے مریخ کے قدم چومے ۔۔۔۔ ناسا کا خیال تھا یہ گاڑیاں وہاں 3 ماہ تک کارگر رہیں گی ۔۔۔۔ مگر اب بھی وہ اس سرخ سیارے پر مٹر گشت کر رہیں ہیں ۔ ان گاڑیوں کو مریخ پر اتارنا ناسا کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک کامیابی ہے ۔۔۔۔ اور پھر جن مقاصد کے لیئے ان گاڑیوں کو خلا میں بھیجا گیا تھا وہ بھی پورے ہوئے اور ان گاڑیوں کی وجہ سے ھم یہ معلوم کر سکے کہ مریخ پر کسی دور میں پانی بہتا رہا ہے اور اس نظریے کو تقویت ملی کہ مریخ کے قطب میں جما ہوا پانی موجود ہے ۔
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی معطل

    مراسلے:
    92
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    شکریہ۔
    ویسے ایک بات میں پوچھنا چاہتا ہوں۔ کہ اگر مریخ پر پانی مل بھی جاے تو ہوا یعنی اکسیجن تو نہیں ہے نا ۔ زندگی کیسے ممکن ہوگی۔؟؟؟؟
     
  3. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    اس موضوع پر کافی تحقیقات ہو چکی ہیں اور ہنوز جاری ہیں۔

    مریخ کی فضا میں آکسیجن موجود تو ہے لیکن انتہائی قلیل مقدار میں یعنی صفر اعشاریہ ایک تین (0.13) فی صد کے تناسب سے جب کہ کاربن ڈائی آکسائڈ کا تناسب پچانوے فی صد سے بھی زیادہ ہے۔
    پہلی چیز تو یہ ہے کہ مریخ پر "انسانی زندگی" کے بقا کی بحث ثانوی اہمیت کی حامل ہے۔ فی الحال تو وہاں پر محض "زندگی" کے امکان پر بحث ہو رہی ہے جسے یوں بھی تقویت ملتی ہے کہ زمین پر بھی ایسے بیکٹیریا موجود ہیں جنہیں زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی۔

    دوسری بات یہ کہ یہ تحقیق ہو چکی ہے کہ مریخ کی سطح پر آکسیجن موجود تو ہے لیکن معدنیات میں چھپی ہوئی اور اب وہ ان طریقوں پر غور کر رہے ہیں کہ اس چھپی ہوئی آکسیجن کو کیسے باہر نکالا جائے۔
    اس ضمن میں ایک مشین کا تذکرہ بھی کیا جاتا رہا ہے جو پودوں میں فوٹو سینتھیسس کے طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے مریخ کی کاربن ڈائی آکسائڈ کو آکسیجن میں تبدیل کر سکے۔

    مجھے اس سلسلے میں زیادہ علم نہیں کہ یہ میرا شعبہ نہیں ہے لیکن "سائنٹفک امریکن" نامی مجلہ پڑھنے کا کبھی اتفاق ہوتا ہے تو مختلف سائنسی موضوعات پر نت نئی تحقیقات سامنے آتی رہتی ہیں۔ آپ کو بھی میں یہی مشورہ دوں گا کہ یہ میگزین پڑھا کیجیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر