مروجہ جہیز - اثرات اور علاج

عندلیب

محفلین
دنیا کے ہر معاشرے میں کچھ اعمال ایسے ہیں جنہیں مشترکہ طور پر سماجی ، معاشرتی و اخلاقی برائی ہی شمار کیا جاتا ہے مثلاً چوری ، ڈاکہ ، دھوکہ دہی ، غبن وغیرہ۔
اور بعض افعال ایسے ہوتے ہیں جو اپنی اصل میں تو جائز و روا سمجھے جاتے ہیں لیکن ان میں کمی یا زیادتی انہیں معیوب اور قابل اعتراض بنا دیتی ہے مثلاً دولت کا مناسب و بجا استعمال تو قابل تحسین سمجھا جاتا ہے لیکن بلا روک ٹوک بےتحاشہ استعمال فضول خرچی و عیاشی پر مبنی اخلاقی جرم کہلاتا ہے اور اسی طرح ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کے بجائے پیسے کو خواہ مخواہ روکے رکھے جانے پر معاشرہ اسے کنجوسی جیسی برائی کا عنوان دیتا ہے۔

جہیز - بھی ایک ایسی چیز ہے جو اسی دوسرے زمرے سے تعلق رکھتی ہے۔ والدین اپنی بیٹی کی شادی کے وقت اسے سسرال کی جانب روانہ کرتے ہوئے جو اسباب و سامان اس کے ساتھ بھیجتے ہیں اسی کو ہمارے معاشرے میں جہیز کا نام دیا گیا ہے۔
بنیادی طور پر کسی بھی مہذب معاشرے نے اس قسم کے تحفہ یا سوغات پر کوئی قد و غن نہیں لگائی ہے۔ برائی تو تب پھیلتی ہے جب ایک جائز معاملے پر عمل کرتے ہوئے اعتدال کی راہ کو چھوڑ دیا جائے۔

دوسری طرف ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ دنیا میں طبقاتی تقسیم ایک طےشدہ حقیقت ہے۔ ایک غریب مزدور اگر ناشتے میں رات کی سوکھی روٹی کا ٹکڑا پانی میں بھگو کر کھاتا ہے تو کوئی امیر اپنے بیڈروم میں بطور ناشتہ مختلف قسم کے سینڈوچیز یا پھل کو چکھتا ہے۔ یہ ہمیں کوئی اعتراض والی بات نہیں لگتی لیکن یہی امیر جب کسی غریب کی بیٹی کے معمولی جہیز کے مقابلے میں اپنی استطاعت کے مطابق اپنی دختر کو جدید فیشن کا جہیز دے تو شور مچ جاتا ہے۔ حالانکہ اصولی بات ہے کہ دنیا کے ہر فرد کو اپنی استطاعت کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔

اسی طرح شادی کے دیگر اخراجات میں افراط و تفریط ، بارات ، پکوان ، ملبوسات اور دیگر متفرق رسوم و رواج پر استطاعت سے بڑھ کر اور دکھاوے کی خاطر خرچ کے مسائل درحقیقت بےجا اسراف اور فضول خرچی کے زمرے میں آتے ہیں جنہیں بدقسمتی سے "جہیز" کے مروجہ مسئلے سے متعلق سمجھ لیا گیا ہے یا نادانستگی میں "جہیز" سے جوڑ دیا گیا ہے۔

اگر "جہیز" کے دئے اور لئے جانے یا اس کی بڑھ چڑھ کر مانگ یا لالچ کرنے کے اسباب یا محرکات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو کئی وجوہات نظر میں آتی ہیں۔ اس میں معاشرتی ناہمواری بھی ہے ، طبقاتی کشمکش بھی ، لڑکیوں کو جائیداد سے محروم رکھنے کا فلسفہ بھی اور بےجا اسراف ، اندھی تقلید ، جہالت یا کم علمی ، غیرضروری مقابلہ ، حرص و ہوس ، بغض و حسد جیسی انسانی نفسیات بھی تہہ در تہہ داخل ہیں۔

جہاں تک مذہب کا تعلق ہے ، خود ہمارے نبی کریم [صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم] نے اپنی ایک چہیتی بیٹی [رضی اللہ عنہا] کو ان کی شادی کے وقت ضروریات زندگی کا کچھ سامان عنایت کیا تھا۔ لہذا والدین کی محبت و شفقت والے اس عمل کو محض مقامی رواج یا ثقافت کا نام دینا درست نہیں کہلایا جا سکتا۔

اگرچہ "جہیز" کو مذہب نے فرض یا واجب تو قرار نہیں دیا ہے پھر بھی جب ہمیں اس کا جواز مل سکتا ہے تو اسے یکسر ختم کرنے یا دوسرے الفاظ میں اس کو علاقائی رسم و روایت قرار دے کر اس سے چھٹکارا پانے کی بات کرنا درست نہیں۔
البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جہیز کے مروجہ مسئلے نے ہماری اپنی غلطیوں اور خامیوں کے سبب ہمارے معاشرے میں ایک ناسور کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس مسئلے نے لڑکے لڑکیوں کی شادی میں غیرضروری تاخیر ، پسماندہ و متوسط طبقات کے والدین پر بوجھ ، لڑکوں کی بےغیرتی اور غیرذمہ داری جیسے کئی مسائل کو بھی پیدا کر دیا ہے۔ ان مسائل کے مناسب علاج کی طرف توجہ اور عمل آوری یقیناً وقت کا شدید تقاضا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر کچھ ایسے رحجانات کی آبیاری ضروری ہے کہ جیسے :
- والدین/سرپرست لڑکیوں کو بوجھ سمجھنے پر مجبور نہ ہوئیں
- جائیداد کے حوالے سے والدین/سرپرست اولاد کی صنفی تفریق کے سہارے "جہیز" کے معاملے کا استحصال نہ کریں
- وہ معاشرے جہاں لڑکوں کو "جہیز" فراہم کرنا پڑتا ہے ، وہاں لڑکیوں کے والدین لڑکے کی حیثیت سے بڑھ کر مطالبے نہ کیا کریں
- منہ کھول کر یا درپردہ مانگنے والوں کی مختلف طریقوں سے حوصلہ شکنی کی جائے مثلاً ان کے متعلق اپنے تمام واقفکاروں کو اطلاع کر دی جائے ، ان کی تقریبات میں شرکت سے گریز کیا جائے وغیرہ
- علماء و دانشوران کو توجہ دلا کر وقتاً فوقتاً اصلاحی بیانات ابلاغ عامہ کے ذریعے جاری کرائے جائیں
- امراء و خوشحال طبقہ کو ترغیب دلائی جائے کہ وہ اپنی دختران کو دئے جانے والے جہیز کی نمائش سے گریز کیا کریں
- متوسط و پسماندہ طبقے کو قناعت پسندی اور اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے کی طرف حسن تدبیر سے قائل کیا جائے
اور سب سے بڑی بات یہ کہ خود والدین/سرپرست اپنے لڑکے اور لڑکی کے لئے دہرے معیار قائم کرنے سے پرہیز کریں۔
اگر اسی طرح علم اور شعور کو انسانی نفسیات کے سہارے اعتدال پسندی کے ساتھ پھیلایا جائے تو کسی بھی قسم کی معاشرتی برائی یا خامی پر قابو پانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آ سکتی۔

آخری بات یہ کہ کسی معقول اور جائز معاملے کو زور و زبردستی سے یکسر ختم نہیں کیا جا سکتا اور اگر کیا بھی جائے تو کوئی دوسری برائی راہ نکال لیتی ہے۔ لہذا اعتدال اور حکمت کی راہ اپنانا ہی معاشرتی ، اخلاقی اور مذہبی لحاظ سے درست طریقہ ہے!
 

ارتضی حسن

محفلین
دنیا کے ہر معاشرے میں کچھ اعمال ایسے ہیں جنہیں مشترکہ طور پر سماجی ، معاشرتی و اخلاقی برائی ہی شمار کیا جاتا ہے مثلاً چوری ، ڈاکہ ، دھوکہ دہی ، غبن وغیرہ۔
اور بعض افعال ایسے ہوتے ہیں جو اپنی اصل میں تو جائز و روا سمجھے جاتے ہیں لیکن ان میں کمی یا زیادتی انہیں معیوب اور قابل اعتراض بنا دیتی ہے مثلاً دولت کا مناسب و بجا استعمال تو قابل تحسین سمجھا جاتا ہے لیکن بلا روک ٹوک بےتحاشہ استعمال فضول خرچی و عیاشی پر مبنی اخلاقی جرم کہلاتا ہے اور اسی طرح ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کے بجائے پیسے کو خواہ مخواہ روکے رکھے جانے پر معاشرہ اسے کنجوسی جیسی برائی کا عنوان دیتا ہے۔

جہیز - بھی ایک ایسی چیز ہے جو اسی دوسرے زمرے سے تعلق رکھتی ہے۔ والدین اپنی بیٹی کی شادی کے وقت اسے سسرال کی جانب روانہ کرتے ہوئے جو اسباب و سامان اس کے ساتھ بھیجتے ہیں اسی کو ہمارے معاشرے میں جہیز کا نام دیا گیا ہے۔
بنیادی طور پر کسی بھی مہذب معاشرے نے اس قسم کے تحفہ یا سوغات پر کوئی قد و غن نہیں لگائی ہے۔ برائی تو تب پھیلتی ہے جب ایک جائز معاملے پر عمل کرتے ہوئے اعتدال کی راہ کو چھوڑ دیا جائے۔

دوسری طرف ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ دنیا میں طبقاتی تقسیم ایک طےشدہ حقیقت ہے۔ ایک غریب مزدور اگر ناشتے میں رات کی سوکھی روٹی کا ٹکڑا پانی میں بھگو کر کھاتا ہے تو کوئی امیر اپنے بیڈروم میں بطور ناشتہ مختلف قسم کے سینڈوچیز یا پھل کو چکھتا ہے۔ یہ ہمیں کوئی اعتراض والی بات نہیں لگتی لیکن یہی امیر جب کسی غریب کی بیٹی کے معمولی جہیز کے مقابلے میں اپنی استطاعت کے مطابق اپنی دختر کو جدید فیشن کا جہیز دے تو شور مچ جاتا ہے۔ حالانکہ اصولی بات ہے کہ دنیا کے ہر فرد کو اپنی استطاعت کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔

اسی طرح شادی کے دیگر اخراجات میں افراط و تفریط ، بارات ، پکوان ، ملبوسات اور دیگر متفرق رسوم و رواج پر استطاعت سے بڑھ کر اور دکھاوے کی خاطر خرچ کے مسائل درحقیقت بےجا اسراف اور فضول خرچی کے زمرے میں آتے ہیں جنہیں بدقسمتی سے "جہیز" کے مروجہ مسئلے سے متعلق سمجھ لیا گیا ہے یا نادانستگی میں "جہیز" سے جوڑ دیا گیا ہے۔

اگر "جہیز" کے دئے اور لئے جانے یا اس کی بڑھ چڑھ کر مانگ یا لالچ کرنے کے اسباب یا محرکات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو کئی وجوہات نظر میں آتی ہیں۔ اس میں معاشرتی ناہمواری بھی ہے ، طبقاتی کشمکش بھی ، لڑکیوں کو جائیداد سے محروم رکھنے کا فلسفہ بھی اور بےجا اسراف ، اندھی تقلید ، جہالت یا کم علمی ، غیرضروری مقابلہ ، حرص و ہوس ، بغض و حسد جیسی انسانی نفسیات بھی تہہ در تہہ داخل ہیں۔

جہاں تک مذہب کا تعلق ہے ، خود ہمارے نبی کریم [صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم] نے اپنی ایک چہیتی بیٹی [رضی اللہ عنہا] کو ان کی شادی کے وقت ضروریات زندگی کا کچھ سامان عنایت کیا تھا۔ لہذا والدین کی محبت و شفقت والے اس عمل کو محض مقامی رواج یا ثقافت کا نام دینا درست نہیں کہلایا جا سکتا۔

اگرچہ "جہیز" کو مذہب نے فرض یا واجب تو قرار نہیں دیا ہے پھر بھی جب ہمیں اس کا جواز مل سکتا ہے تو اسے یکسر ختم کرنے یا دوسرے الفاظ میں اس کو علاقائی رسم و روایت قرار دے کر اس سے چھٹکارا پانے کی بات کرنا درست نہیں۔
البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جہیز کے مروجہ مسئلے نے ہماری اپنی غلطیوں اور خامیوں کے سبب ہمارے معاشرے میں ایک ناسور کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس مسئلے نے لڑکے لڑکیوں کی شادی میں غیرضروری تاخیر ، پسماندہ و متوسط طبقات کے والدین پر بوجھ ، لڑکوں کی بےغیرتی اور غیرذمہ داری جیسے کئی مسائل کو بھی پیدا کر دیا ہے۔ ان مسائل کے مناسب علاج کی طرف توجہ اور عمل آوری یقیناً وقت کا شدید تقاضا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر کچھ ایسے رحجانات کی آبیاری ضروری ہے کہ جیسے :
- والدین/سرپرست لڑکیوں کو بوجھ سمجھنے پر مجبور نہ ہوئیں
- جائیداد کے حوالے سے والدین/سرپرست اولاد کی صنفی تفریق کے سہارے "جہیز" کے معاملے کا استحصال نہ کریں
- وہ معاشرے جہاں لڑکوں کو "جہیز" فراہم کرنا پڑتا ہے ، وہاں لڑکیوں کے والدین لڑکے کی حیثیت سے بڑھ کر مطالبے نہ کیا کریں
- منہ کھول کر یا درپردہ مانگنے والوں کی مختلف طریقوں سے حوصلہ شکنی کی جائے مثلاً ان کے متعلق اپنے تمام واقفکاروں کو اطلاع کر دی جائے ، ان کی تقریبات میں شرکت سے گریز کیا جائے وغیرہ
- علماء و دانشوران کو توجہ دلا کر وقتاً فوقتاً اصلاحی بیانات ابلاغ عامہ کے ذریعے جاری کرائے جائیں
- امراء و خوشحال طبقہ کو ترغیب دلائی جائے کہ وہ اپنی دختران کو دئے جانے والے جہیز کی نمائش سے گریز کیا کریں
- متوسط و پسماندہ طبقے کو قناعت پسندی اور اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے کی طرف حسن تدبیر سے قائل کیا جائے
اور سب سے بڑی بات یہ کہ خود والدین/سرپرست اپنے لڑکے اور لڑکی کے لئے دہرے معیار قائم کرنے سے پرہیز کریں۔
اگر اسی طرح علم اور شعور کو انسانی نفسیات کے سہارے اعتدال پسندی کے ساتھ پھیلایا جائے تو کسی بھی قسم کی معاشرتی برائی یا خامی پر قابو پانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آ سکتی۔

آخری بات یہ کہ کسی معقول اور جائز معاملے کو زور و زبردستی سے یکسر ختم نہیں کیا جا سکتا اور اگر کیا بھی جائے تو کوئی دوسری برائی راہ نکال لیتی ہے۔ لہذا اعتدال اور حکمت کی راہ اپنانا ہی معاشرتی ، اخلاقی اور مذہبی لحاظ سے درست طریقہ ہے!

احسنت، مسئلہ کا صحیح تجزیہ اور دین مذھب سے اسکا صحیح رابطہ اس آرٹیکل کی نمایاں خصوصیات ہیں
والسلام
سید ارتضی حسن رضوی
 

shahzadamir291

محفلین
ماشااللہ ۔۔۔! بہت خوب تبصرہ فرمایا جناب ۔۔! جہیز ایک ناسور بن ہے معاشرے میں ۔۔! والدیں اس کی وجہ سے اپنی بیٹیوںکا بوجھ سمجھتے ہیں ۔۔! لڑکے والوں کی مانگیں دن بدن بڑھتیں جا رہی ہیں ۔۔! اگر علما دین اپنا کردار پیش کریں تو ہم اس ناسور کو ختم کر سکتے ہیں ۔۔!
 

جاسمن

لائبریرین
بہت خوب عندلیب۔ بہت جامع مضمون لکھا ہے۔ ہر پہلو کا احاطہ کیا ہے۔
اپنی شاگردوں کو میں نے یہ سمجھایا ہے کہ اپنے اپنے گھر میں جس حد تک آپ جہیز کو مسلۂ بننے سے روک سکتی ہو ،روکو۔ لیکن جب آپ خود ماں کے عظیم مرتبے پہ فائز ہو گی تو اپنے بیٹوں کو اپنے زورِ بازو پہ تکیہ کرنا ضرور سکھانا ،بیٹیوں کو اُن کا حصہ دینا اور اپنی بہوؤں سے جہیز نہ لینا۔
 
بہت عمدہ مضمون ہے۔ لیکن آج تک میں نے کسی سے بھی یہ نہیں سنا کہ جہیز اچھی چیز ہے۔
ہر کوئی کہتا ہے کہ جہیز لعنت ہے۔
لیکن کتنے مرد یا مرد کے خاندان والے ایسے ہیں کہ جو جہیز سے منع کر پاتے ہیں
یا کتنی خواتین یا ان کے خاندان والے لڑکے والوں کے کہنے کے باوجود بھی دینے سے رک جاتے ہوں؟

اصل بات یہ ہے کہ ہم نے جہیز اور اس طرح کی بہت سی اوپری چیزوں کو عزت کا معیار بنا دیا ہے۔ بالفرض اگر لڑکے والے منع بھی کر دیں تو لڑکی کے والدین نہیں رکتے کہ ہم اپنی بیٹی کو کچھ نہ دیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
اور ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا خوف "لوگ کیا کہیں گے"
وہ الگ بات ہے کہ لوگ ہر حال میں کچھ نہ کچھ کہتے ہی ہیں۔

اتنی گہری رچی بسی روایات کو صرف بذریعہ قانون ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے، صرف ترغیب سے کام نہیں چلے گا۔
 
نظری اختلاف کا حق اپنی جگہ محفوظ مگر ایک اچھی تحریر ہے۔ نقطہ سلیقے قرینے سے بیان ہے ۔ عام فہم سادہ زبان ہے۔ بہت اچھی لگی۔
میری طرف سے داد قبول کیجئے
 
Top