اقبال مرزا غالب - اقبال

حسان خان

لائبریرین
فکرِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا
ہے پرِ مرغِ تخیل کی رسائی تا کجا
تھا سراپا روح تو، بزمِ سخن پیکر ترا
زیبِ محفل بھی رہا، محفل سے پنہاں بھی رہا
دید تیری آنکھ کو اُس حُسن کی منظور ہے
بن کے سوزِ زندگی ہر شے میں جو مستور ہے
محفلِ ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندّی کے نغموں سے سکوتِ کوہسار
تیرے فردوسِ تخیل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشتِ فکر سے اُگتے ہیں عالم سبزہ وار
زندگی مضمر ہے تیری شوخئ تحریر میں
تابِ گویائی سے جنبش ہے لبِ تصویر میں
نطق کو سو ناز ہیں تیرے لبِ اعجاز پر
محوِ حیرت ہے ثریّا رفعتِ پرواز پر
شاہدِ مضموں تصدّق ہے ترے انداز پر
خندہ زن ہے غنچۂ دلّی گلِ شیراز پر
آہ! تو اجڑی ہوئی دلّی میں آرامیدہ ہے
گلشنِ ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے
ویمر - جرمنی کا مشہور شاعر گوئٹے اِس جگہ مدفون ہے۔
لطفِ گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیّل کا نہ جب تک فکرِ کامل ہم نشیں
ہائے! اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سرزمیں!
آہ! اے نظّارہ آموزِ نگاہِ نکتہ بیں!
گیسوئے اردو ابھی منّت پذیرِ شانہ ہے
شمع یہ سودائیِ دل سوزئ پروانہ ہے
اے جہان آباد! اے گہوارۂ علم و ہنر
ہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام و در
ذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمر
یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر
دفن تجھ میں کوئی فخرِ روزگار ایسا بھی ہے؟
تجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے؟
(علامہ اقبال)
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
فکرِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا
ہے پرِ مرغِ تخیل کی رسائی تا کجا
نظم کا آغاز ہی اتنا زبردست ہے کہ پوری نظم تو کمال ہے بس۔
 

مہ جبین

محفلین
اے جہان آباد! اے گہوارۂ علم و ہنر
ہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام و در
ذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمر
یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر
دفن تجھ میں کوئی فخرِ روزگار ایسا بھی ہے؟
تجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے؟
بہت عمدہ
 

بھلکڑ

لائبریرین
تیرے فردوسِ تخیل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشتِ فکر سے اُگتے ہیں عالم سبزہ وار
واہ بہت خوب۔۔
 
محفلِ ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندّی کے نغموں سے سکوتِ کوہسار
تیرے فردوسِ تخیل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشتِ فکر سے اُگتے ہیں عالم سبزہ وار
زندگی مضمر ہے تیری شوخئ تحریر میں
تابِ گویائی سے جنبش ہے لبِ تصویر میں
کیا کہنے واہ واہ
زبردست شراکت​
شاد و آباد رہیں​
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
ڈرتے ڈرتے کہہ رہا ہوں۔ پلیز کوئی ناراض نہ ہو۔

دل سے سمجھتا ہوں کہ جیسی تعریف اقبال نے غالب کی کی ہے، اس سے اچھی تو غالب نے آموں اور دو ٹکے کی چکنی ڈلی کی کی تھی۔ :censored:

"حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا"​
(یا اللہ خیر!!)​
 
ڈرتے ڈرتے کہہ رہا ہوں۔ پلیز کوئی ناراض نہ ہو۔

دل سے سمجھتا ہوں کہ جیسی تعریف اقبال نے غالب کی کی ہے، اس سے اچھی تو غالب نے آموں اور دو ٹکے کی چکنی ڈلی کی کی تھی۔ :censored:

"حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا"​
(یا اللہ خیر!!)​
چلو نس جاؤ ایتھوں :mad3:
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
ایک سنجیدہ بات۔
ناسخ کی مانند اقبال میرے لیے ان شعراء میں سے ہیں، جنھیں جنتا پڑھتا ہوں، لطف اتنا کم ہوتا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اقبال کو ان کے فلسفے کے لیے نہیں پڑھتا، تو پھر شاید ان کے کلام میں مزید کچھ نہیں جو اپنی جانب کھینچ سکے۔ کیا یہاں کوئی اور بھی ایسا ہے، جسے اقبال کے باب میں ایسا تجربہ ہوا ہو؟
 

راشد فاروق

محفلین
ایک سنجیدہ بات۔
ناسخ کی مانند اقبال میرے لیے ان شعراء میں سے ہیں، جنھیں جنتا پڑھتا ہوں، لطف اتنا کم ہوتا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اقبال کو ان کے فلسفے کے لیے نہیں پڑھتا، تو پھر شاید ان کے کلام میں مزید کچھ نہیں جو اپنی جانب کھینچ سکے۔ کیا یہاں کوئی اور بھی ایسا ہے، جسے اقبال کے باب میں ایسا تجربہ ہوا ہو؟
اگر اقبال کو پڑھنے سے آپ کا لطف کم ہوتا ہے تو آپ کو جلد از جلد اپنا دماغی معائنہ کروانا چاہئے۔ اگر مرض بڑھ گیا تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ نارمل ہونے کی علامت نہیں ہے۔
 
ایک سنجیدہ بات۔
ناسخ کی مانند اقبال میرے لیے ان شعراء میں سے ہیں، جنھیں جنتا پڑھتا ہوں، لطف اتنا کم ہوتا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اقبال کو ان کے فلسفے کے لیے نہیں پڑھتا، تو پھر شاید ان کے کلام میں مزید کچھ نہیں جو اپنی جانب کھینچ سکے۔ کیا یہاں کوئی اور بھی ایسا ہے، جسے اقبال کے باب میں ایسا تجربہ ہوا ہو؟
گو اقبال کی شاعری میرے معیار کے مطابق نہیں ہے باوجود اس کے کہ بچپن اور لڑکپن میں مکمل طور میرے قلب و دماغ کو مسحور رکررکھا تھا ۔ لیکن بہرحال اقبال واقعی اقبال ہے
 
فصیح الملک داغ دہلوی کے مرنے پر شیخ اقبال لاہوری فرماتے ہیں

عظمت غالب ہے ، اک مدّت سے پیوندِ زمیں
مہدیٔ مجروح ہے شہرِ خموشاں کا مکیں

توڑ ڈالی غربت نے غربت میں مینائے امیر
چشمِ محفل میں ہے اب تک کیف صہبائے امیر

آج لیکن ہمنوا ! سارا چمن ماتم میں ہے
شمعِ روشن بجھ گئی، بزم سخن ماتم میں ہے

بلبلِ دلّی نے باندھا اس چمن میں آشیاں
ہمنوا ہیں سب عنا دل باغِ ہستی کے جہاں

چل بسا داغ آہ! میّت اس کی زیبِ دوش ہے
آخری شاعر جہان آباد کا خاموش ہے

!اب کہاں وہ بانکپن! وہ شوخی طرز بیاں
آگ تھی کافور پیری میں جوانی کی نہاں

تھی زبانِ داغ پر جو آرزو ہر دل میں ہے
لیلی معنی وہاں بے پردہ، یاں محمل میں ہے

اب صبا سے کون پوچھے گا سکوتِ گل کا راز
کون سمجھے گا چمن میں نالۂ بلبل کا راز؟

تھی حقیقت سے نہ غفلت فکر کی پرواز میں
آنکھ طائر کی نشیمن پر رہی پرواز میں

اور دکھلائیں گے مضموں کی ہمیں باریکیاں
اپنے فکرِ نکتہ آرا کی فلک پیمائیاں

تلخی دوراں کے نقشے کر رلوائیں گے
یا تخیّل کی نئی دنیا ہمیں دکھلائیں گے

اس چمن میں ہوں گے پیدا بلبلِ شیراز بھی
سیکڑوں ساحر بھی ہوں گے، صاحبِ اعجاز بھی

اٹھیں گے آزر ہزاروں شعر کے بتخانے سے
مے پلائیں گے نئے ساقی نئے پیمانے سے

لکھی جائیں گی کتاب دل کی تفسیریں بہت
ہوں گی اے خوابِ جوانی ! تیری تعبیریں بہت

ہو بہو کھینچے گا لیکن عشق کی تصویر کون؟
اٹھ گیا ناوک فگن، مارے گا دل پر تیر کون؟

اشک کے دانے زمین شعر میں بوتا ہوں میں
تو بھی رو اےَ خاکِ دلّی ! داغ کو روتا ہوں میں

!اے جہان آباد اے سرمایۂ بزمِ سخن!
ہوگیا پھر آج پامالِ خزاں تیرا چمن

وہ گلِ رنگیں ترا رخصت مثالِ بو ہوا
آہ! خالی داغ سے کاشانۂ اردو ہوا

تھی نہ شاید کچھ کشش ایسی وطن کی خاک میں
وہ مہِ کامل ہوا پنہاں دکن کی خاک میں

اٹھ گئے ساقی جو تھے، میخانہ خالی رہ گیا
یاد گارِ بزم دھلی ایک حالی رہ گیا

آرزو کو خون رلواتی ہے بیدادِ اجل
مارتا ہے تیر تاریکی میں صیّادِ اجل

کھل نہیں سکتی شکایت کے لیے لیکن زباں
ہے خزاں کا رنگ بھی وجہِ قیامِ گلستاں

ایک ہی قانونِ عالمگیر کے ہیں سب اثر
بوئے گُل کا باغ سے ،گُل چیں کا دنیا سے سفر
 
Top