مرد سارے برابر ہوتے ہیں

فاتح

لائبریرین
ایسا نہ کہیں فاتح بھائی۔۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ کیونکہ خالہ صابرہ کے دو بیٹے تھے۔۔۔ ان کو بھی مرے ہوئے ۵ سال ہوچکے ..۔۔۔
ارے۔۔۔ ہماری خالہ صابرہ کے بھی دو بیٹے۔
لیکن ان میں سے ایک بقید حیات ہیں۔
اور میں نے خود کو یا آپ کو تو خالہ صابرہ کا بیٹا نہیں بنایا کہ ان کی وفات سے آپ کو ڈر لگے۔ دوبارہ غور کریں۔۔۔ میری بھی خالہ اورآپ کی بھی خالہ اگر ایک ہوں تو ان کے بیٹے ہم دونوں نے خالہ زاد ہوں گے اور ہم ایک دوسرے کے۔ سمجھے؟ :)
 

نایاب

لائبریرین
خواتین میں صابرہ کا ذکر مت کرنا، وہ میری بہشتن خالہ تھیں۔

اتفاق کی بات ہے صابرہ خالہ ہماری بھی مکینِ بہشت ہیں

ایسا نہ کہیں فاتح بھائی۔۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ کیونکہ خالہ صابرہ کے دو بیٹے تھے۔۔۔ ان کو بھی مرے ہوئے ۵ سال ہوچکے ..۔۔۔
اللہ سوہنا مغفرت فرمائے بلند درجات سے نوازے آمین
بہت دعائیں
 
میں نے پوری لڑی کی بحث تو نہیں پڑھی صرف عنوان پر بات کرنا چاہوں گا.
مرد سارے ایک جیسے ہوتے ہیں.
باپ ہو تب بھی؟
لڑکی کا باپ ہو یا اس کا اپنا باپ تب بھی؟
بھائی ہو تب بھی؟
خواہ اس کا اپنا بھائی ہو یا اس کے شوہر کا؟
بیٹا ؟
خواہ اس کا اپنا بیٹا ہو یا اس کی ساس کا؟
شوہر ؟
خواہ اس کا اپنا شوہر ہو یا اس کی اس کی ماں یانند کا؟
 
آخری تدوین:

اکمل زیدی

محفلین
اگر یہی معیار ہے آپ کے لیے کسی سے بات کرنے یا نہ کرنے کا تو شاید آپ نے وہ گوشت والا دھاگا پورا نہیں پڑھا کیونکہ ہمارے مگرمچھ اور سیپیاں کھانے کے باوجود آپ ہمیں شرف گفتگو بخش رہے ہیں۔:rollingonthefloor:
بات کا کیا ہے سر جی ..بات تو ہم پیٹر اور مایئکل سے بھی کرتے ہیں حلانکے وہ تو "وہ " کھاتے ہیں;) .........اور آپ تو ٹہرے اپنے سنگی .... :)
 
ارے۔۔۔ ہماری خالہ صابرہ کے بھی دو بیٹے۔
لیکن ان میں سے ایک بقید حیات ہیں۔
اور میں نے خود کو یا آپ کو تو خالہ صابرہ کا بیٹا نہیں بنایا کہ ان کی وفات سے آپ کو ڈر لگے۔ دوبارہ غور کریں۔۔۔ میری بھی خالہ اورآپ کی بھی خالہ اگر ایک ہوں تو ان کے بیٹے ہم دونوں نے خالہ زاد ہوں گے اور ہم ایک دوسرے کے۔ سمجھے؟ :)

جی جی درست ، رشتوں کےگنجلک پھیر کو سمجھنے میں ذرا کچا ہوں:):)
ع۔
اپنے سینے سے لگا لیں گے یہ بوجھل رشتے
کوئی جاگیر ہماری بھی تو آبائی ہو
 

loneliness4ever

محفلین
گذشتہ اوراق میں صبر کی کئی تعریفیں پڑھنے کو ملیں
فقیر نے بھی موقع کو غنیمت سمجھا ۔۔۔۔

صبر کی بیان کردہ تعریفیں

صبر وہ ہوتا ہے جو کسی نا گہانی صورتحال پر دل سے یا خندہ پیشانی سے کیا جاتا ہے اور زبان پر حرف شکایت نہیں لایا جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیشک
جبر وہ ہوتا ہے جو دل پر پتھر رکھ کر کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نصاب سے خارج
صبر اختیار رکھتے ہوئے رکے رہنے کو کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقوی
صابر وہ ہے جس کے معمولات عبادت میں فرق نہ آنے پائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبادت گزار

 

loneliness4ever

محفلین
انسان جب مشکلات سے گزرتا ہے تو کبھی وہ مشکلات اس کو چٹان بنا دیتی ہیں
کبھی خاک کو خاک میں ملا دیتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور یہ فرق
انسان کے ذہن میں پیدا ہونے والی سوچوں کے سبب ہوتا ہے

ناعمہ بہنا !! بہترین عکاسی کی ہے ایسی سوچ کی
مالک دین و دنیا میں خوب ترقی سے نوازے آپ کو ۔۔۔۔ آمین صد آمین
لکھتی رہا کریں

خالق تمام احباب کو مشکلات سے محفوظ فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔ آمین صد آمین
 

نایاب

لائبریرین
میں نے پوری لڑی کی بحث تو نہیں پڑھی صرف عنوان پر بات کرنا چاہوں گا.
مرد سارے ایک جیسے ہوتے ہیں.
باپ ہو تب بھی؟
لڑکی کا باپ ہو یا اس کا اپنا باپ تب بھی؟
بھائی ہو تب بھی؟
خواہ اس کا اپنا بھائی ہو یا اس کے شوہر کا؟
بیٹا ؟
خواہ اس کا اپنا بیٹا ہو یا اس کی ساس کا؟
شوہر ؟
خواہ اس کا اپنا شوہر ہو یا اس کی اس کی ماں یانند کا؟
درج بالا رشتوں میں منسلک " مرد " جب کسی کا شوہر بنتا ہے ۔
تو اس کی شریک حیات اک " عورت " کی صورت اس مرد کو اپنے " یقین اور اعتبار " کی اس مسند پہ یوں بٹھا لیتی ہے
جیسے کوئی دیوتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔
اس یقین و اعتبار کو قائم رکھنا صرف اک مرد کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے ۔
اگر " مرد " اس یقین و اعتبار کو نبھا جائے تو درج بالا تمام رشتوں کی لاج رکھ لیتا ہے ۔
اور عورت کی نگاہ میں دل میں سچے مرد کی صورت بسا رہتا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔
اور جس " عورت " کا اعتبار و اعتماد " اس کا شوہر توڑ دیتا ہے ۔ اس کے لیئے یہی اک تجربہ مرد ذات متنفر ہونے کے لیئے کافی ہوتا ہے ۔
اور اس کی نگاہ میں سب مرد برابر ہو جاتے ہیں ۔ عورت کو کھلونا سمجھنے والے ۔۔۔۔۔۔۔۔
عنوان چونکاتا ہی اس لیئے ہے کہ آخر کس صورت " سب مرد برابر ٹھہرے " ؟
بہت دعائیں
 
درج بالا رشتوں میں منسلک " مرد " جب کسی کا شوہر بنتا ہے ۔
تو اس کی شریک حیات اک " عورت " کی صورت اس مرد کو اپنے " یقین اور اعتبار " کی اس مسند پہ یوں بٹھا لیتی ہے
جیسے کوئی دیوتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔
اس یقین و اعتبار کو قائم رکھنا صرف اک مرد کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے ۔
اگر " مرد " اس یقین و اعتبار کو نبھا جائے تو درج بالا تمام رشتوں کی لاج رکھ لیتا ہے ۔
اور عورت کی نگاہ میں دل میں سچے مرد کی صورت بسا رہتا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔
اور جس " عورت " کا اعتبار و اعتماد " اس کا شوہر توڑ دیتا ہے ۔ اس کے لیئے یہی اک تجربہ مرد ذات متنفر ہونے کے لیئے کافی ہوتا ہے ۔
اور اس کی نگاہ میں سب مرد برابر ہو جاتے ہیں ۔ عورت کو کھلونا سمجھنے والے ۔۔۔۔۔۔۔۔
عنوان چونکاتا ہی اس لیئے ہے کہ آخر کس صورت " سب مرد برابر ٹھہرے " ؟
بہت دعائیں

100% درست
لیکن سب مرد ایک جیسے نہیں ہو تے
 

نایاب

لائبریرین
100% درست
لیکن سب مرد ایک جیسے نہیں ہو تے
محترم بھائی
سچ کہا آپ نے ۔
نہ سب مرد اک سے نہ سب عورتیں اک سی ۔
سب ہی اضداد و تضادات کے حامل ۔۔۔
سب مرد اک جیسے
سب عورتیں اک جیسی
یہ حکم جو لگاتا ہے ۔ اس نے اک چاول کے دانے کی کیفیت کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر محسوس کیا ہوتا ہے ۔
دیگ کے اک ہی چاول کے دانے کو چیک کر کے مکمل دیگ کے چاولوں پر حکم لگا دیا ہے ۔
اس تحریر میں " بانو " کی زبانی یہ حکم سامنے آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
 
Top