مذہبی عقائد اور نظریات

فہد مقصود نے 'اسلام اور عصر حاضر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 11, 2020

  1. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    96
    بھائی علماء کی اندھی تقلید ہی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ میں سخت الفاظ استعمال کرتا رہا ہوں۔ اب کرنا نہیں چاہتا ہوں لیکن کہنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ ہماری قوم کو پہلے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کو یاد رکھنا چاہئے۔ جو شخص چاہے وہ کتنا ہی بڑا عالم ہو یا شیخ ہو یا مفتی ہو، اگر قرآن اور سنت کے خلاف جارہا ہے اور کسی کو بھی اس شخص کے غلط طرزِ عمل کے بارے میں معلوم ہو جائے تو پھر بھی اس کی اندھی تقلید جاری رکھنا عقل سے باہر ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  2. زاہد لطیف

    زاہد لطیف محفلین

    مراسلے:
    255
    آپ ماشاءاللہ درست سمت میں جانے کی سعی کر رہے ہیں۔ اللہ آپ کو ہمت اور حوصلہ دے۔ میں تو صرف اتنا کہوں گا ہندوؤں سے الگ تو ہو گئے ہندوویت نہیں گئی۔ اللہ انسان کو انسان کی غلامی سے نجات دلانا چاہتا ہے لیکن حضرت انسان پھر مختلف حیلے بہانوں اور جواز تراش کے پھر انسان کی غلامی جا اختیار کرتا ہے۔ شاید غلامی میں اسے مزہ آنے لگ گیا ہے یا وہ خود سے جستجو کرنے کو محنت طلب کام سمجھتا ہے یا پھر اس عقیدے سے کہ وہ بھٹک جائے گا جستجو کی تمنا ہی چھوڑ دیتا ہے حالانکہ جتنے بھٹکنے کے امکانات ہیں اتنے ہی صحیح سمت میں جانے کے۔ اور اگر نیت ٹھیک ہو اور حق کی جستجو ہو تو پھر اسے وہی ملتا ہے جس کی وہ جستجو کرتا ہے۔
    کسی کے عقیدے کے بت توڑنا آسان نہیں۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی زندگی دیکھ لیں کہ بت پرست کس طرح انا اور تکبر کے چکر میں اپنے عقائد توڑنے کو تیار نہیں تھے۔ جزاک اللہ آپ اپنا کام جاری رکھیں مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ آپ کو ناکام اور مایوس نہیں لوٹائیں گے۔ بس صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیجیے گا۔
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 18, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  3. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    96
    تشکر برادر! ہمیں تو بدلے میں کوئی انعام نہیں چاہئے۔ ہمارا مقصد تو عوام میں شعور اجاگر کرنا ہے اور عوام کو درست اسلامی تعلیمات کی طرف لے کر آنا ہے۔
    اب میں عرس اور مزاروں سے متعلق جہالت بھری ان کی تعلیمات پوسٹ کروں گا۔ آپ بھی پڑھئے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  4. زاہد لطیف

    زاہد لطیف محفلین

    مراسلے:
    255
    زبردست آپ جاری رکھیے۔ ان میں سے نہ سہی ان کی نسل میں سے ہی لوگ سیدھے راستے کی جستجو پہ آ گئے تو آپ کا حق ادا ہو جائے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  5. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    96
    آئیے اب ذرا علماء صاحبان کے خوابوں کا مطالعہ فرماتے ہیں۔

    ذرا اس خواب کے بارے میں پڑھئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک معروف عالم کے روپ میں دیکھا گیا۔ اگر کسی نے خواب دیکھ بھی لیا تھا تو اس کا کتاب میں کیوں ذکر کیا گیا؟ کیونکہ یہ ان کے عالم کی کرامت سمجھی گئی تھی۔ نعوذباللہ۔ اور تو اور خواب لکھ کر قبر میں رکھنے کی وصیت کی گئی۔ یہ کونسا اسلام ہے؟؟؟ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ایسے کام ثابت ہیں؟ کیا صحابہ رضوان اللہ علیہم کے عمل سے ایسا ثابت کیا جاسکتا ہے؟

    کیا آپ اب بھی ان علماء کی تقلید کرنا پسند کریں گے؟

    [​IMG]
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    96
    نو کمنٹس۔ بہت بار ان علماء کی باتیں پڑھ کر کچھ سمجھ نہیں آتا ہے کہ کیا کہا جائے۔

    [​IMG]
    [​IMG]
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  7. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    96
    [​IMG]

    امدادالمشتاق صفحہ ۲۰
    امدادالسلوک صفحہ ۴۰، تاریخ مشائخ چشت صفحہ ۲۴۸
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  8. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    96
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  9. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    96
    اہل تقلید میں سے بعض حضرات نے اپنے اولیاء میں سے بعض کی شان میں اس حد تک غلو کیا کہ کلمہ طیبہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خارج کرکے اس کی جگہ اپنے ولی کانام رکھ دیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

    لا الٰہ الا اللہ اشرف علی رسول اللہ(نعوذباللہ) ۔
    مولوی اشرف علی دیوبندی کے ایک مرید نے خواب دیکھا کہ وہ خواب میں کہہ رہا ہے لا الٰہ الَّا اللہ اشرف علی رسول اللہ اور پھر اٹھ کر بھی اس کے منہ سے درود پڑھتے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے مولانا اشرف علی نکلتا ہے۔ [رسالہ امداد ص 35]۔
    جب مرید نے خواب بیان کیا تو مولوی اشرف علی نے بجائے اسے ڈانٹنے اور ایمان کی تجدید کروانے کے اسے ان الفاظ سے حوصلہ دیا کہ ''اس واقعے میں تسلی تھی کہ جسکی طرف تم رجوع کرتے ہو وہ بعونہ تعالیٰ متبع سنت ہے''۔[رسالہ امداد ص 35]۔
    لا الٰہ الااللہ شبلی رسول اللہ(نعوذباللہ)۔
    اسی طرح بریلویوں کے امام الاصفیاء پیر جماعت علی شاہ لاثانی کے خلیفہ مجاز حکیم محمد شریف نے لکھا ہے:
    ''شیخ شبلی رحمة اللہ علیہ کے پاس دو شخص بیعت کے لئے حاضر ہوئے۔ایک مولوی وضع کا تھااور ایک سادہ زمیندار تھا۔ آپ نے بیعت کرنے پر مولوی صاحب سے فرمایا۔ کہ پڑھ لاالٰہ الااللہ شبلی رسول اللہ۔ اس پر مولوی صاحب نے لاحول پڑھااور آپ نے جھڑک دیا۔ پھر زمیندار کی باری آئی ۔ آپ نے اس کوبھی اسی طرح فرمایا۔ وہ خاموش رہا۔ آپ نے زور سے فرمایا کہ بولتے کیوں نہیں ۔تم بھی مولوی صاحب سے متفق ہو۔ زمیندار بولاکہ مَیں تو آپ کوخدا تعالیٰ کے مقام پرسمجھ کر آیا تھا۔ آپ ابھی تک مقام ِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ذکر فرماتے ہیں۔'' [منازل الابرارص106]۔
    لا الٰہ الااللہ چشتی رسول اللہ (نعوذ باللہ)۔
    بریلویوں کے غوث الاسلام پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے لکھا ہے:
    ’’ وجودِ سالک بعینہ مظہر حقیقة محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰةوالسلام شدہ در ترنم لاالٰہ الااللہ چشتی رسول اللہ‘‘ سالک کا وجود بعینہ مظہر حقیقت محمدیہۖہو کر’’لا الٰہ الااللہ چشتی (سالک) رسول اللہ‘‘کے ترنم میں آتا ہے۔ [تحقیق الحق فی کلمة الحق ص127 ،گولڑہ راولپنڈی]۔
    غورفرمائیں کس قدر زورزبردستی اورکتنی بڑی خیانت ہے کہ اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام پراپنے بزرگوں کے نام لئے جاتے ہیں نعوذباللہ ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  10. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    96
    کیا کلمہ طیبہ حدیث میں موجود ہے

    بعض حضرات عوام میں ایسی باتیں پھیلاتے رہتے ہیں جنہیں کوئی بھی سچامسلمان اپنی زبان پرلانے کی جرات بھی نہیں کرسکتا،انہیں میں سے یہ لوگ بھی ہیں جو آئے دن یہ آوازاٹھاتے رہتے ہیں کہ کلمہ طیبہ ’’لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ ‘‘ اکٹھاانہیں الفاظ کے ساتھ کسی بھی حدیث میں موجود نہیں ہے، اوراسی پربس نہیں بلکہ اس انکارکے ساتھ ساتھ فریق مخالف کومناظرہ تک کے لئے چیلنج کردیتے ہیں ۔
    قارئین پریشان ہوں گے کہ آخریہ لوگ کلمہ طیبہ کامسئلہ کیوں اٹھارہے ہیں ،تو عرض ہے کہ اس کے پیچھے ان کے دومقاصد ہیں:

    پہلامقصد:
    حدیث میں کلمہ طیبہ کی موجودگی کاانکارکرکے یہ حضرات عوام کویہ بتلاناچاہتے ہیں کہ کلمہ طیبہ کی تعلیم ائمہ فقہ نے دی ہے ،لہٰذاجولوگ ائمہ فقہ کی تقلید نہیں کرتے ہیں ،وہ اپناکلمہ بھی صحیح نہیں کرسکتے دیگراعمال کوصحیح کرنا تودورکی بات ہے۔
    دوسرامقصد:
    اہل تقلیدمیں سے بعض حضرات نے اپنے مزعوم اولیاء میں سے بعض کی شان میں اس حدتک غلوکیاکہ کلمہ طیبہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خارج کرکے ا س کی جگہ اپنے مزعوم ولی کانام رکھ دیا،اناللہ واناالیہ راجعون۔

    لا الٰہ الااللہ اشرف علی رسول اللہ(نعوذباللہ) ۔
    مولوی اشرف علی دیوبندی کے ایک مرید نے خواب دیکھا کہ وہ خواب میں کہہ رہا ہے لا الٰہ الَّا اللہ اشرف علی رسول اللہ اور پھر اٹھ کر بھی اس کے منہ سے درود پڑھتے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے مولانا اشرف علی نکلتا ہے۔ [رسالہ امداد ص 35]۔
    جب مرید نے خواب بیان کیا تو مولوی اشرف علی نے بجائے اسے ڈانٹنے اور ایمان کی تجدید کروانے کے اسے ان الفاظ سے حوصلہ دیا کہ ''اس واقعے میں تسلی تھی کہ جسکی طرف تم رجوع کرتے ہو وہ بعونہ تعالیٰ متبع سنت ہے''۔[رسالہ امداد ص 35]۔
    لا الٰہ الااللہ شبلی رسول اللہ(نعوذباللہ)۔
    اسی طرح بریلویوں کے امام الاصفیاء پیر جماعت علی شاہ لاثانی کے خلیفہ مجاز حکیم محمد شریف نے لکھا ہے:
    ''شیخ شبلی رحمة اللہ علیہ کے پاس دو شخص بیعت کے لئے حاضر ہوئے۔ایک مولوی وضع کا تھااور ایک سادہ زمیندار تھا۔ آپ نے بیعت کرنے پر مولوی صاحب سے فرمایا۔ کہ پڑھ لاالٰہ الااللہ شبلی رسول اللہ۔ اس پر مولوی صاحب نے لاحول پڑھااور آپ نے جھڑک دیا۔ پھر زمیندار کی باری آئی ۔ آپ نے اس کوبھی اسی طرح فرمایا۔ وہ خاموش رہا۔ آپ نے زور سے فرمایا کہ بولتے کیوں نہیں ۔تم بھی مولوی صاحب سے متفق ہو۔ زمیندار بولاکہ مَیں تو آپ کوخدا تعالیٰ کے مقام پرسمجھ کر آیا تھا۔ آپ ابھی تک مقام ِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ذکر فرماتے ہیں۔'' [منازل الابرارص106]۔
    لا الٰہ الااللہ چشتی رسول اللہ (نعوذ باللہ)۔
    بریلویوں کے غوث الاسلام پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے لکھا ہے:
    ’’ وجودِ سالک بعینہ مظہر حقیقة محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰةوالسلام شدہ در ترنم لاالٰہ الااللہ چشتی رسول اللہ‘‘ سالک کا وجود بعینہ مظہر حقیقت محمدیہۖہو کر’’لا الٰہ الااللہ چشتی (سالک) رسول اللہ‘‘کے ترنم میں آتا ہے۔ [تحقیق الحق فی کلمة الحق ص127 ،گولڑہ راولپنڈی]۔
    غورفرمائیں کس قدر زورزبردستی اورکتنی بڑی خیانت ہے کہ اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام پراپنے بزرگوں کے نام لئے جاتے ہیں نعوذباللہ ۔
    اہل توحید کی نظراس خیانت پرپڑی توانہوں نے اس کازبردست نوٹس لیا،ان بے چاروں سے اس کاکوئی جواب نہ بن پڑا تو یہ مطالبہ کرناشروع کردیاکہ کلمہ طیبہ میں تبدیلی کاالزام بعد میں لگاناپہلے اصل کلمہ طیبہ کاثبوت پیش کرو۔
    کیونکہ کلمۂ طیبہ ’’لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ ‘‘ اکٹھاانہیں الفاظ کے ساتھ کسی بھی حدیث میں موجود نہیں ہے، اوراسی پربس نہیں بلکہ اس انکارکے ساتھ ساتھ فریق مخالف کومناظرہ تک کے لئے چیلنج کردیتے ہیں ۔عوام کومعلوم ہوناچاہئے کہ اس قسم کی باتیں محض دھوکہ وفریب اورجھوٹ ہیں ،اورسچائی یہ ہے کہ کلمۂ طیبہ’’لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ ‘‘ اکٹھاانہیں الفاظ کے ساتھ متعدد احادیث میں واردہے ، ذیل میں اس سلسلے کی ایک صحیح حدیث، سند کی تحقیق کے ساتھ پیش کی جارہی ہے اسے پڑھ کرعوام خود فیصلہ کرلیں کہ کون سچاہے اورکون جھوٹا؟

    امام بیہقی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں :
    أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَخْبَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ ، فَذَكَرَ قَوْمًا اسْتَكْبَرُوا فَقَالَ : إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ ، وَقَالَ تَعَالَى : إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا ، وَهِيَ لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ اسْتَكْبَرَ عَنْهَا الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ يَوْمَ كَاتَبَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَضِيَّةِ الْمُدَّةِ[کتاب الاسماء والصفات للبیہقی:۔ جلد نمبر 1صفحہ نمبر263حدیث نمبر195۔ ناشر:مکتبة السوادی، جدة ،الطبعة الأولی]۔
    ہمیں ابوعبداللہ الحافظ نے خبردی(کہا):ہمیں ابوالعباس محمدبن یعقوب نے حدیث بیان کی (کہا):ہمیں محمد بن اسحاق نے حدیث بیان کی (کہا):ہمیںیحیی بن صالح الوحاظی نے حدیث بیان کی (کہا):ہمیں اسحاق بن یحیی الکلبی نے حدیث بیان کی (کہا): ہمیں الزہری نے حدیث بیان کی (کہا): مجھے سعید بن المسیب نے حدیث بیان کی،بے شک انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایاتوتکبرکرنے والی ایک قوم کاذکرکیا: یقیناجب انہیں لاالہ الااللہ کہا جاتاہے توتکبرکرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب کفرکرنے والوں نے اپنے دلوں میں جاہلیت والی ضد رکھی تواللہ نے اپنا سکون واطمینان اپنے رسول اورمومنوں پراتارااوران کے لئے کلمة التقوی کولازم قراردیا اوراس کے زیادہ مستحق اوراہل تھے اوروہ (کلمة التقوی) ’’لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ‘‘ہے۔حدیبیہ والے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت (مقرر کر نے) و الے فیصلے میں مشرکین سے معاہدہ کیاتھاتومشرکین نے اس کلمہ سے تکبرکیاتھا''۔[کتاب الاسماء والصفات للبیہقی:۔ جلد نمبر 1صفحہ نمبر263حدیث نمبر195۔ ناشر:مکتبة السوادی، جدة ،الطبعة الأولی]۔
    درجہ حدیث :۔
    یہ حدیث بالکل صحیح ہے، اس کی سندکے سارے راوی سچے اورقابل اعتمادہے ہیں ،اس کی سند کے ہر راوی کی تفصیل اگلی سطور میں ملاحظہ ہو۔
    پیش کردہ حدیث کی سند کے راویوں کاتعارف ملاحظہ ہو:

    سعید بن المسیب: (سعید بن المسیب بن حزن القرشی)۔
    آپ بخاری ومسلم کے مرکزی راوی ہیں ،مثلاًدیکھئے بخاری رقم26،مسلم رقم21،آپ اعلی درجہ کے ثقہ ہیں ،حافظ ابن حجرفرماتے ہیں: ’’أحد العلماء الأثبات الفقہاء الکبار‘‘ آپ اعلی درجہ کے ثقات اوربڑے فقہاء میں سے ہیں،[تقریب التہذیب رقم2396]۔

    الزہری: (محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ بن شہاب الزہری)۔
    آپ بھی بخاری ومسلم کے مرکزی راوی ہیں ،مثلاًدیکھئے بخاری رقم4،مسلم رقم20،حافظ ابن حجرفرماتے ہیں: ’’الفقیہ الحافظ متفق علی جلالتہ وتقانہ‘‘ آپ کی ثقاہت وجلالت پر امت کااجماع ہے ،[تقریب التہذیب ،رقم6296]۔

    اسحاق بن یحیی الکلبی: (اسحاق بن یحیی بن علقمة الکلبی)۔
    یہ صحیح بخاری کے (شواہدکے )راوی ہیں ،دیکھئے صحیح بخاری تحت نمبرات:682، 1355، 3298، 3299، 3433، 3434،3927،7382۔
    حافظ ابن حجرفرماتے ہیں :’’صدوق‘‘ آپ سچے تھے،[دیکھئے :تقریب رقم(391)]۔
    امام دارقطنی فرماتے ہیں :’’احادیثہ صالحة‘‘ ان کی بیان کردہ احادیث درست ہیں ،[سؤالات الحاکم للدارقطنی:ص280]۔
    امام ابن حبان نے آپ کوثقہ اورقابل اعتماد لوگوں میں ذکرکیاہے،[کتاب الثقات:ج6ص49]۔

    یحیی بن صالح الوحاظی : (ابوزکریا یحیی بن صالح الوحاظی الشامی)۔
    آپ بخاری ومسلم کے راوی ہیں مثلادیکھئے :بخاری رقم361مسلم رقم1594نیز دیکھئے تقریب رقم7568۔امام یحیی ابن معین اور امام بخاری نے انہیں ثقہ کہ ہے[الجرح والتعدیل:9 158،کتاب الضعفاء الصغیر:145]۔

    محمد بن اسحاق: (ابوبکر، محمد بن اسحاق بن جعفر الصاغانی)۔
    آپ صحیح مسلم کے راوی ہیں مثلا:دیکھئے :مسلم رقم14،امام ابن حجر فرماتے ہیں :’’ثقة ثبت‘‘ آپ ثقہ اورثبت ہیں ، تقریب رقم5721۔

    ابوالعباس محمدبن یعقوب: (ابوالعباس محمدبن یعقوب بن یوسف الاصم)۔
    آپ اعلی درجہ کے ثقہ ہیں ،امام ذہبی فرماتے ہیں:’’الِمَامُ، المُحَدِّثُ، مُسْنِدُ العَصْرِ‘‘ آپ امام ہیں محدث ہیں مسندالعصرہیں ،[سیر اعلام النبلائ:29 450]۔
    امام ابوالولید فرماتے ہیں: ’’ثقة مشھور‘‘ آپ مشہورثقہ ہیں،[تاریخ دمشق:65293]۔

    ابوعبداللہ الحافظ : (حاکم النیسابوری)۔
    آپ معروف ومشہور ثقہ امام ہیں ،حدیث کی مشہور کتاب ''المستدرک'' آپ ہی کی لکھی ہوئی ہے۔آپ اپنے وقت میں محدثین کے امام تھے،[سیر اعلام النبلائ:33163،164]۔
    ابن العماد فرماتے ہیں:’’ثقة حجة‘‘ آپ ثقہ اورحجت ہیں [شذرات الذھب:3175]۔

    اس تفصیل سے معلوم ہواکہ پیش کردہ حدیث بالکل صحیح ہے ،اور کلمہ طیبہ ’’لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ ‘‘ یہ کسی امتی کابنایاہوانہیں ہے بلکہ اس کی تعلیم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ،اب ان لوگوں کوتوبہ کرنی چاہئے جوکہتے ہیں کلمہ طیبہ پڑھنے کی تعلیم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے نہیں بلکہ فقہاء کی فقہ سے ملتی ہے نعوذ باللہ! اورعوام کوچاہئے کہ وہ ایسے تمام لوگوں سے ہوشیار رہیں جودن رات اس طرح کاجھوٹ بولتے ہیں ،اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کولوگوں سے چھپاتے ہیں ،اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کوہدایت دے اورتمام مسلمانوں کو کتاب وسنت کی
    پیروی کی توفیق دے ،آمین۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    96
    دو هزار روپے ميں نبى صلى الله عليه وسلم كى زيارت

    استغفرالله , نعوذبالله

    فرمايا شاه غلام رسول صاحب كانپورى جن كا لقب رسول نما مشهور هے ايسى بركت تهى كه حالت بيدارى ميں رسول صلى الله عليه وسلم كى زيارت كرا ديتے تهے- سيد حسن صاحب رسول نما كو بهى يه هى كمال حاصل تها وه بهى بيدارى ميں هى حضور صلى الله عليه وسلم كى زيارت كراديتے تهے – مگر يه بزرگ زيارت كرانے كے ليے دو ھزار روپيه ليتے تهے جو اس قدر روپيه پيش كرتا تها وه هى دولت عظمى سے مشرف هوتا تها- (ملفوظات حكيم الامت:ص 180)

    [​IMG]
    [​IMG]
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • غمناک غمناک × 1
  12. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    96
    ملاحظہ کیجئے کس طرح اشرف علی تھانوی صاحب منصور حلاج، ابنِ عربی اور فصوص الحکم اور بایزید بسطامی کا دفاع کرتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اشرف علی تھانوی صاحب ان افراد اور ان ےک عقائد پر پردہ پوشی کرنے کے لئے قرآن اور احادیث سے دلائل پیش کرتے ہیں۔

    بايزيد بسطامى نے ايك بار فرمايا سبحانى مااعظم شانى ۔۔۔۔

    حضرت بايزيد بسطامى رحمته الله عليه نے ايك دفع فرمايا سبحانى مااعظم شانى مريدوں نے عرض كيا كه حضرت يه آپ نے كيا فرمايا- فرمايا كه اگر ميں ايسا كهتا هوں تو واقعى كفر هے اگر اب كے ايسا كهوں تو مجھ كو قتل كر دينا اگر دوكاندار هوتے تو كيا ايسى بات كى اجازت فرماتے كيا دوكاندار شخص ايسا كر سكتا هے مريد بهى ايسے هوتے تهے كه ذرا كوئى بات شيخ كے خلاف شريعت ديكهى فوراً امربالمعروف كر ديا آج كل سى حاات نه تهى كه ايسے الفاظ سے اور مريدين كا اعتقاد بڑهتا هے- غرض يه كه مريديں نے چهرياں تيار كر ليں شيخ پر پهر غلبه طارى هوا اور سبحانى مااعظم شانى زبان سے نكلا مريديں نے چار طرف سے چهرياں مارنا شروع كيں اب تماشه يه هوا كه جس مقام پر شيخ كے جسم پر چهرى مارتے هيں لوٹ كر اسى جگه اپنے جسم پر چهرى لگتى تمام زمين پر پڑے تڑپ رهے هيں دريافت فرمايا كه يه كيا هوا عرض كيا گيا كه واه حضرت اچهى تدبير بتلائى هم كو توهلاك هى كيا هوتا اور سب قصه بيان كيا فرمايا كه اگر يه بات هے تو بس معلوم هوا كه ميں نهيں كهتا كوئى اور كهتا هے كه جس پر حمله نهيں كر سكتا پهر اس كى نظير آيت سے بيان كى كه حضرت موسى عليه السلام جس وقت اپنى بيوى كو لے كر چلے اور كوه طور كے قريب منزل پر آئے اور آگ كى ضرورت هوئى تو ايك درخت پر آگ نظر آئى آپ آگ لينے گئے تو اس درخت ميں سے آواز آئى أن ياموسى إني أنا الله رب العالمين تو كيا وه نداء درخت كى تهى سو جب ايسى آواز درخت ميں پيدا هو سكتى هے سو اگر منصور اور بايزيد ميں پيدات هو جاوے-

    [​IMG]

    [​IMG]
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  13. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    11,862
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    '' حَبْلِ اللّٰہ ِ'' کی تفسیر میں مفسرین کے چند قول ہیں بعض کہتے ہیں اس سے قرآن مراد ہے مُسلِم کی حدیث شریف میں وارد ہوا کہ قرآن پاک حبل اللہ ہے جس نے اس کا اتباع کیا وہ ہدایت پر ہے جس نے اُس کو چھوڑا وہ گمراہی پر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حبل اللہ سے جماعت مراد ہے اور فرمایا کہ تم جماعت کو لازم کرلو کہ وہ حبل اللہ ہے جس کو مضبوط تھامنے کا حکم دیا گیاہے۔
    القرآن الکریم (دعوت اسلامی)
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  14. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    11,862
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر