بارہویں سالگرہ محفل فورم کی بارہویں سالگرہ کی پلاننگ

ظفری

لائبریرین
یہ تو بعد کا مسلہ ہے ہم تو اُن لوگوں کی بات کر رہے ہیں جو محفل کی جان سمجھے جاتے تھے کبھی

آپ ان کی فکر چھوڑیں کہ وہ سب
آپریشن ردالفساد کی نظر ہوگئے :wasntme:
، آپ اپنی فکر کریں ۔ آپ کا اندازِ تخاطب بڑی خطرناک حد تک ایک معطل موصوف سے ملتا جلتا ہے ۔ :thinking:
 

نبیل

تکنیکی معاون
گزشتہ برس جب ہم اسی موسم میں گلگت سے کراچی لوٹ رہے تھے تو کچھ گھنٹوں کی برسات اور پھر لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے کوہستان کے ایک علاقے میں تین دن ٹھہرنا پڑا تھا۔ تین دن تک حال یہ تھا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اوپر تلے رابطہ موقوف تھا۔ وہ تین دن، سڑک سے بیس منٹ کے فاصلے پر واقع ایک ان گھڑ سی کٹیا میں گزرے۔ ہمارے ساتھ ایک اور نوجوان تھا اور پچاس دن سفر مسلسل و نامساعد کی پسیج۔ وقت کاٹنے کے لیے ہم نے کہانی کہنا شروع کی۔ طریقہ یہ طے پایا کہ ایک جملہ اس کا ہوگا اور ایک ہمارا۔ اس طرح ہم نے کئی گھنٹوں پر محیط کہانی کہی، اور جب تک وہاں رہے یہی مشغلہ رہا۔ کہانی میں ساتھ ہی یہ شرط بھی تھی کہ ہر آنے والا جملہ اگلے جملے اور کہانی سے مربوط ضرور ہوگا، لیکن وحدت و تسلسل خیال کا پابند نہیں۔ اسی لیے کہانی شروع ہونے سے پہلے ہم دونوں کو اس کے انجام و درمیان کا کوئی تخمینہ نہ تھا۔ یہ ایک سالم مشق تھی اور سلیم تفریح۔ مثال:
ہم: ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک جنگل میں ایک لکڑہارا رہتا تھا (اب ذہن میں کہانی کی بنیادیں تیار ہونا شروع ہو گئیں۔ جیسے ٹیکنالوجی سے دوری کا تصور، مرکزی کردار اور اس کا مثبت ہونا وغیرہ)
دوست: وہ اپنے ملک کے حساس اداروں کی نگرانی میں گزشتہ چار برسوں سے اس جنگل میں کسی نامعلوم مشن پر منتظر تھا۔ (ارے یہ کیا!؟ ساری کہانی جو دماغ میں تیار ہو رہی تھی نقش بر آب ہو گئی، اب فوری طور پر نئے انداز میں سوچنا)
ہم: اس کے پاس ایک ریڈیو ڈوائس تھی، جس کے ذریعے اسے وقت پر پیغام ملنے والا تھا۔ (دوبارہ سے خیالات کا سلسلہ جڑنا شروع ہوا، اب جاسوسی اور جنگی نوعیت کے خیالات مرتب کرنا شروع کیے، ساتھ "ریمبو جان ریمبو" کو فرض کر لیا)
دوست: لیکن وہ ڈوائس گئے برس کے طوفان سے بچنے بچانے میں کہیں خراب ہوگئی تھی، اور اب وقت بتانے کے علاوہ اس کا کوئی فائدہ نہیں رہا تھا (توبہ! پھر کہانی کا رخ تبدیل ہو گیا۔۔۔)
چونکہ دونوں کہانی کار ایک دوسرے کو اپنی اپنی کہانی (جو تھوڑی بہت ذہن میں تیار ہوئی ہو اس وقت تک) کے بارے میں مطلع نہیں کر رہے تھے، لہٰذا ہر جملے کے بعد کہانی دوسرے فریق کے لیے ایک نئے رخ پر چل نکلتی تھی۔ کبھی کبھی تو ڈر لگتا تھا کہ اب کہ جانے کیا نکلے سامنے والے کے منہ سے۔
ہماری تجویز ہے کہ اگر اردو محفل پر اس قماش کا کوئی سلسلہ اب تک شروع نہیں ہوا تو اس سالگرہ پر اس کو شروع کیا جائے کہ خاصا تخلیقی اور تفریح ثابت ہو سکتا ہے۔ اس پر ہمارے کچھ نکتے:
۱۔ کہانی کاروں کی تعداد معین ہو، مثلا آٹھ یا دس۔ (ان کے انتخاب کے معیار پر بعد میں سوچا جا سکتا ہے)
۲۔ باقی محفلین اس دھاگے کے قاری واقع ہوں اور تجسس کے مزے لیں۔ تبصروں کے لیے الگ لڑی مخصوص ہو اور اس لڑی میں بس کہانی کاروں کو ہی ارسال و ترسیل کے اختیارات ہوں۔
۳۔ جب ان میں سے کوئی کہانی کار تھکن، بیزاری، عدم فرصت یا اور کسی بھی وجہ سے غیر فعال محسوس ہو یا معذرت کر لے تو اسکا جاگزیں تلاش کر کے، کہانی کاروں کی تعداد کو برقرار رکھا جائے۔ اس سے باقی محفلین کے لیے بھی مواقع فراہم ہوتے رہیں گے۔
۴۔ یہ سلسلہ ایک خاص مدت، شاید دو یا چار ماہ تک جاری رہے تو بہتر ہے۔ آخری دس دنوں میں کہانی کاروں کو کلائمکس لکھنے کی وعید سنائی جائے۔
۵۔ کہانی کار کو ایک مراسلے میں دو سطروں سے زیادہ نہ لکھنے پر پابند کیا جائے، اور اسی طرح یہ اجازت نہ ہو کہ پیہم دو مراسلوں سے زیادہ لکھے، دو بھی اس استثنائی صورت حال میں جیسے جب ایک طولانی مدت تک کوئی دوسرا کہانی کار مراسلہ نہ کرے، یا اس فاصلے میں اسے بہت ہی کوئی شاندار خیال پیدا ہو جائے وغیرہ۔
۶۔ کہانی مکمل ہو جانے کے بعد تبصروں والی لڑی کو اس میں ضم کر کے اسے غیر مقفل کر دیا جائے عمومی شراکت کے لیے۔ پھر حسب تقاضا یا میلان نیا سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے۔


آپ نے کافی گنجلک طریقہ بیان کر دیا ہے۔ اس پر عملدرآمد کچھ مشکل معلوم ہوتا ہے۔ کہانی لکھنے کا کھیل فورم پر پہلے بھی کھیلا جاتا رہا ہے۔ یہاں اور یہاں دیکھیے۔ یہ کافی فری فارم کھیل رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ طریقہ قدرے سہل اور زیادہ قابل عمل رہے گا۔
 
یہ تو بعد کا مسلہ ہے ہم تو اُن لوگوں کی بات کر رہے ہیں جو محفل کی جان سمجھے جاتے تھے کبھی

آپ ان کی فکر چھوڑیں کہ وہ سب
آپریشن ردالفساد کی نظر ہوگئے :wasntme:
، آپ اپنی فکر کریں ۔ آپ کا اندازِ تخاطب بڑی خطرناک حد تک ایک معطل موصوف سے ملتا جلتا ہے ۔ :thinking:

جی ہاں! اور اسی آپریشن ردّالفساد پر غُل غپاڑہ مچا کر ان ہی کے بھائی جان نے ساری محفل سر پر اُٹھالی تھی اور بعد میں اپنے بھائی کی بحالی کا سودا کرکے باقی معطلین سے بری الزمہ ہوگیے تھے۔

اب انہیں معطلین پھر یاد آرہے ہیں۔ اب بھی شاید کچھ خفیہ مطالبات ہوں۔ کون جانے۔
 
آخری تدوین:
Top