متفرق ترکی ابیات و اشعار

حسان خان

لائبریرین
شہریار تبریزی کو مُخاطَب کر کے کہا گیا ایک بند:
ایگید اۏغلوم شیرین سؤزلۆ شهرییار
اۏلسون سنه دۆنیا بۏیو بخت یار
اؤز الیم‌ده اۏلسا منیم ایختییار
یۏلون اۆسته الوان چیچک سپه‌رم
باش اڲه‌رم دۏداق‌لارون اؤپه‌رم

(حاج محمد حُسین جنّتی‌مقام صحّاف تبریزی)
اے میرے پِسر جَسُور! اے شیریں سُخن شہریار!
سراسرِ دنیا میں بخت تمہارا یار ہو!
اگر میرا اختیار میرے دست میں ہو
میں تمہاری راہ پر رنگارنگ گُل افشاں کروں گا
سر خَم کروں گا، تمہارے لبوں کو بوسہ دوں گا

Igid oğlum şirin sözlü Şəhriyar
Olsun sənə dünya boyu bəxt yar
Öz əlimdə olsa mənim ixtiyar
Yolun üstə əlvan çiçək səpərəm
Baş əyərəm dodaqlarun öpərəm

× مندرجۂ بالا بند گیارہ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
جهان‌دا ایستر ایسڭ دولت عاشق اۏل یُمنی
گدایِ کویې دا اۏلورساڭ اۏل شاهوڭ ساڭا بس

(یُمنی)
اے یُمْنی! اگر تم جہان میں عظمت و سعادت مندی چاہتے ہو تو عاشق ہو جاؤ۔۔۔ اگر تم اُس شاہ کے کوچے کے گدا بھی ہو جاؤ گے تو تمہارے لیے کافی ہے۔

Cihânda ister-iseñ devlet 'âsık ol Yümnî
Gedâ-yı kûyı da olursañ ol şâhuñ saña bes


وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن

× مصرعِ دوم میں 'شاہ' کے الف میں اِسقاط ہے۔
 
آخری تدوین:
قارداشېم، نوایی‌نین شئعیرلری‌نی اوردوجا چئویری ایله بورادا پایلاشېرام (هرچند، تأسسۆف کی، من چاغاتای تۆرکجه‌سی‌نی تام اۏلاراق و یاخشې بیلمیرم):
امیر علی شیر نوائی کے چند تُرکی اشعار
یاشاسین! بئله دۆشۆنۆرم سنده تۆرک شاعرلرینین بۆتۆن دیوانلاری واردیر :highfive:
 

حسان خان

لائبریرین
شہریار تبریزی کو مُخاطَب کر کے کہا گیا ایک بند:
سن آنا یوردومون شیرین دیلی‌سن
اۏنون باغچاسېندا آچان گۆلی‌سن
سن آذربایجانانېن اصیل ائلی‌سن
یقین بیل کی سنی بیز اونوتمارېق
سنی آتېب اؤزگه‌سینی توتمارېق

(حُسین‌قُلی کاتبی 'جۏشغون')
تم میرے مادرِ وطن کی شیریں زبان‌ ہو
اُس کے باغیچے میں کِھلنے والے گُل ہو
تم آذربائجان کے اصل و نجیب خَلق ہو
یقین جانو کہ ہم تم کو فراموش نہ کریں گے
تم کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو نہ پکڑیں گے

Sən ana yurdumun şirin dilisən
Onun bağçasında açan gülisən
Sən Azərbaycanın əsil elisən
Yəqin bil ki səni biz unutmarıq
Səni atıb özgəsini tutmariq

× مندرجۂ بالا بند گیارہ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
ایرانی آذربائجانی شاعر حُسین‌قُلی کاتبی 'جۏشغون' اپنے منظومے 'عزیز شهریارا سلام' (عزیز شہریار کو سلام) کے ایک بند میں آذربائجان کے شاعروں کی سِتائش کرتے ہوئے کہتے ہیں:
شئعره نیظام وئرمیش بؤیۆک نیظامی
غزل‌ده سایېرلار اوستاد هۆمامې
گؤی‌دن اوجا خاقانی‌نین کلامی
هر بیری، بیر اوستاد، بیر بؤیۆک شاعیر
نه تک شاعیر دئمک، بلکی بیر ساحیر

(حُسین‌قُلی کاتبی 'جۏشغون')
نظامیِ بُزُرگ نے شعر کو نظام دیا
ہُمام کو غزل میں اُستاد شُمار کرتے ہیں
خاقانی کا کلام آسمان سے بلند تر ہے
اُن میں سے ہر ایک، ایک اُستاد، اور ایک بُزُرگ شاعر ہے
نہ صرف شاعر، بلکہ ایک ساحر ہے

Şe'rə nizam vermiş böyük Nizami,
Qəzəldə sayırlar ustad Hümamı,
Göydən uca Xaqaninin kəlami,
Hər biri, bir ustad, bir böyük şair;
Nə tək şair demək, bəlki bir sahir!


× نظامی گنجوی، ہُمام تبریزی، اور خاقانی شروانی دیارِ آذربائجان کے فارسی سرا شاعر تھے۔
× مندرجۂ بالا بند گیارہ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
ایرانی آذربائجانی شاعر حُسین‌قُلی کاتبی 'جۏشغون' اپنے تُرکی منظومے 'عزیز شهریارا سلام' (عزیز شہریار کو سلام) کے ایک بند میں صائب تبریزی کی سِتائش کرتے ہوئے کہتے ہیں:
شئعرین دۆنیاسېندا هامې‌دان اوجا
فخر ائدیری بۆتۆن ایران آدېنا
«صائیبِ تبریزی» پارلاق بیر سیما
مضمون یاراتماق‌دا یۏخوموش تایې
بدیعه‌لری‌نین بیلینمه‌ز سایې

(حُسین‌قُلی کاتبی 'جۏشغون')
وہ شاعری کی دُنیا میں سب سے بلند ہے
کُل ایران اُس کے نام پر فخر کرتا ہے
«صائبِ تبریزی» ایک درخشاں شخصیت ہے
مضمون خَلق کرنے میں اُس کا کوئی ہمتا نہ تھا
اُس کی تازہ و نادر تخلیقات کی تعداد بے شُمار ہے

Şe'rin dünyasında hamıdan uca
Faxr ediri bütün İran adına
<Saibi-Təbrizi> parlaq bir sima
Məzmun yaratmaqda yoxumuş tayı
Bədiələrinin bilinməz sayı


× مندرجۂ بالا بند گیارہ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
دیارِ آذربائجان میں کئی افراد شاہ اسماعیل صفوی کو اپنا مِلّی قہرَمان (ہیرو) سمجھتے ہیں۔ ایرانی آذربائجانی شاعر حُسین‌قُلی کاتبی 'جۏشغون' اپنے منظومے 'عزیز شهریارا سلام' (عزیز شہریار کو سلام) کے ایک بند میں شاہ اسماعیل صفوی کی سِتائش میں کہتے ہیں:
«شاه ایسماعیل» کیمی بؤیۆک حؤکۆم‌دار
اۏنون مردلیڲینده آز بیر آدام وار
بۆتۆن دۆشمن‌لرین ائتدی تار و مار
قازاندېردې حؤرمت آذربایجانا
دڲرلی خیدمت‌لر ائتدی ایرانا

(حُسین‌قُلی کاتبی 'جۏشغون')
شاہ اسماعیل جیسا عظیم حُکمران
اُس جیسی مردانگی والے انسان کم ہیں
اُس نے اپنے تمام دُشمنوں کو زیر و زبر کر دیا
اُس نے آذربائجان کو عِزّت و حُرمت کسْب کروائی
اُس نے ایران کے لیے قیمتی خِدمات انجام دیں

Şah İsmail kimi böyük hökümdar
Onun mərdliyində az bir adam var
Bütün düşmənlərin etdi tarü mar
Qazandırdi hörmət Azərbaycana
Dəyərli xidmətlar etdi İrana


× مندرجۂ بالا بند گیارہ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
ایرانی آذربائجانی شاعر حُسین‌قُلی کاتبی 'جۏشغون' اپنے منظومے 'عزیز شهریارا سلام' (عزیز شہریار کو سلام) کے ایک بند میں دیارِ آذربائجان کو مُخاطَب کر کے کہتے ہیں:
مدنیییت‌ین ایلک اۏجاغې سن‌سن
قۏجا شرقین یانان چېراغې سن‌سن
آچېلان سحرین ساچاغې سن‌سن
سن‌دن اوجالانېب عئلمین ساحه‌سی
هۆنرین ادبین جاویدان سسی

(حُسین‌قُلی کاتبی 'جۏشغون')
تمدُّن کے اوّلین اُجاغ (آتش دان) تم ہو
شرقِ پِیر کے چراغِ فروزاں تم ہو
طلوع ہونے والی سحَر کی شُعاع تم ہو
تم سے بلند ہوا علم [و دانش] کا میدان
[اور] ہُنر و ادب کی جادواں صدا

Mədəniyyətin ilk ocağı sənsən,
Qoca şərqin yanan çıraqı sənsən,
Açılan səhərin saçağı sənsən,
Səndən ucalanıb elmin sahəsi;
Hünərin, ədəbin cavidan səsi.


× مندرجۂ بالا بند گیارہ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
بی‌عشق صوفی گاهی ریاضت‌له اوچسا دا
ظنّوم بودور که یینه آنوڭ قدری پست اۏلا

(یُمنی)
میرا ظنّ یہ ہے کہ اگر بے عشق صوفی گاہے ریاضت کے ذریعے پرواز بھی کر جائے تو بھی اُس کی قدر پست رہے گی۔

Bî-'aşk sûfî gâhî riyâzetle uçsa da
Zannum budur ki yine anuñ kadri pest ola
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
مشرق یورپ میں بہنے والے دریائے دانُوب کے لیے کہی گئی ایک بیت میں عُثمانی شاعر عاشق چلَبی کہتے ہیں:
گاه گؤنلۆم گیبی جوشان و خروشان‌دور تونا
گاه گؤگسۆم گیبی نالان و غریوان‌دور تونا

(عاشق چلَبی)
دانُوب گاہے میرے دل کی مانند جوشاں و خروشاں ہے
دانُوب گاہے میرے سینے کی مانند نالاں و بانگ کُناں ہے

Gâh gönlüm gibi cûşân u hurûşândur Tuna
Gâh gögsüm gibi nâlân u girîvândur Tuna


× عُثمانیوں نے تُرکی زبان میں 'دانُوب' کو 'تُونا' نام دیا تھا۔
× شاعر کا تعلق عُثمانی کوسووا کے شہر پْریزرن سے تھا، جہاں وہ ۱۵۲۰ء میں متولّد ہوئے تھے۔
 

حسان خان

لائبریرین
مشرق یورپ میں بہنے والے دریائے دانُوب کے لیے کہی گئی ایک بیت میں عُثمانی شاعر عاشق چلَبی کہتے ہیں:
یارلاردان آتېلوپ تاش‌لارا اورور باشېنې
عاشقِ دیوانه و مجنونِ عریان‌دور تونا

(عاشق چلَبی)
[اپنے] یاروں سے دُور کیے جانے کے بعد وہ اپنا سر سَنگوں پر مارتا ہے۔۔۔۔ دانُوب، عاشقِ دیوانہ اور مجنونِ عُریاں ہے۔

Yarlardan atılup taşlara urur başını
Âık-ı dîvâne vü Mecnûn-ı uryândur Tuna


× عُثمانیوں نے تُرکی زبان میں 'دانُوب' کو 'تُونا' نام دیا تھا۔
× شاعر کا تعلق عُثمانی کوسووا کے شہر پْریزرن سے تھا، جہاں وہ ۱۵۲۰ء میں متولّد ہوئے تھے۔
 

حسان خان

لائبریرین
مشرق یورپ میں بہنے والے دریائے دانُوب کے لیے کہی گئی ایک بیت میں عُثمانی شاعر عاشق چلَبی کہتے ہیں:
غازی‌لر تازی‌لرینۆن تۏپوغېنا چېقمایا
گرچه کافر گؤزینه دریایِ عُمّان‌دور تونا

(عاشق چلَبی)
اگرچہ کافروں کی نظر میں دانُوب بحرِ عُمّان ہے، [لیکن] وہ [مسلمان] غازیوں کے اسْپوں کی ایڑی تک [بھی] نہیں پہنچتا۔

Gâzîler tâzîlerinün topuğına çıkmaya
Gerçi kâfir gözine deryâ-yı 'ummândur Tuna


× عُثمانیوں نے تُرکی زبان میں 'دانُوب' کو 'تُونا' نام دیا تھا۔
× شاعر کا تعلق عُثمانی کوسووا کے شہر پْریزرن سے تھا، جہاں وہ ۱۵۲۰ء میں متولّد ہوئے تھے۔
 

حسان خان

لائبریرین
مشرق یورپ میں بہنے والے دریائے دانُوب کے لیے کہی گئی ایک بیت میں عُثمانی شاعر عاشق چلَبی کہتے ہیں:
کشورِ کافردن ایمان اهلینه آقوپ گلۆر
قبله‌یه توتمېش یۆزینی بیر مسلمان‌دور تونا

(عاشق چلَبی)
وہ مُلکِ کافر سے اہلِ ایمان کی جانب بہا آتا ہے۔۔۔۔ دانُوب ایک مُسلمان ہے کہ جس نے قِبلے کی جانب اپنا رُخ کیا ہوا ہو۔

Kişver-i kâfirden îmân ehline akup gelür
Kıbleye tutmış yüzini bir müselmândur Tuna


× عُثمانیوں نے تُرکی زبان میں 'دانُوب' کو 'تُونا' نام دیا تھا۔
× شاعر کا تعلق عُثمانی کوسووا کے شہر پْریزرن سے تھا، جہاں وہ ۱۵۲۰ء میں متولّد ہوئے تھے۔
 

حسان خان

لائبریرین
مشرق یورپ میں بہنے والے دریائے دانُوب کے لیے کہی گئی ایک بیت میں عُثمانی شاعر عاشق چلَبی کہتے ہیں:
کشورِ کافردن ایمان اهلینه آقوپ گلۆر
قبله‌یه توتمېش یۆزینی بیر مسلمان‌دور تونا

(عاشق چلَبی)
وہ مُلکِ کافر سے اہلِ ایمان کی جانب بہا آتا ہے۔۔۔۔ دانُوب ایک مُسلمان ہے کہ جس نے قِبلے کی جانب اپنا رُخ کیا ہوا ہو۔

Kişver-i kâfirden îmân ehline akup gelür
Kıbleye tutmış yüzini bir müselmândur Tuna


× عُثمانیوں نے تُرکی زبان میں 'دانُوب' کو 'تُونا' نام دیا تھا۔
× شاعر کا تعلق عُثمانی کوسووا کے شہر پْریزرن سے تھا، جہاں وہ ۱۵۲۰ء میں متولّد ہوئے تھے۔
بیتِ بعدی:
حبسِ کافردن بۏشانمېش گیبی زنجیرین سۆرۆر
شاهِ اسلاما گلۆر بیر اهلِ ایمان‌دور تونا

(عاشق چلَبی)
دانُوب ایک ایسے اہلِ ایمان [کی مانند] ہے کہ جو قیدِ کافر سے آزاد ہو کر اپنی زنجیر کھینچتے شاہِ اسلام کے پاس آتا ہو۔

Habs-i kâfirden boşanmış gibi zencîrin sürür
Şâh-ı İslâma gelür bir ehl-i îmândur Tuna
 

حسان خان

لائبریرین
مشرق یورپ میں بہنے والے دریائے دانُوب کے لیے کہی گئی ایک بیت میں عُثمانی شاعر عاشق چلَبی کہتے ہیں:
سیم‌دن بیر اژدهادور پیچ پیچ اۏلمېش یاتور
گنجِ اسلاما طلسم ایله نگه‌بان‌دور تونا

(عاشق چلَبی)
[دانُوب] سِیم سے بنا ایک اژدہا ہے کہ جو پیچ در پیچ ہو کر لیٹتا ہو
دانُوب [اپنے] طِلِسم کے ساتھ خزانۂ اسلام کا نگہبان ہے
× سِیم = چاندی

Sîmden bir ejdehâdur pîç pîç olmış yatur
Genc-i İslâma tılısm ile nigeh-bândur Tuna


× عُثمانیوں نے تُرکی زبان میں 'دانُوب' کو 'تُونا' نام دیا تھا۔
× شاعر کا تعلق عُثمانی کوسووا کے شہر پْریزرن سے تھا، جہاں وہ ۱۵۲۰ء میں متولّد ہوئے تھے۔
 

حسان خان

لائبریرین
۱۶۳۱ء میں خُسرو پاشا کے بغداد کی جانب جنگ کے لیے روانہ ہونے کی مناسبت سے سلطان مُرادِ چہارم کو مُخاطَب کر کے لکھے گئے قصیدے کی ایک دُعائیہ بیت میں عُثمانی شاعر 'نفعی' کہتے ہیں:
مُظفّر اۏلا سردارون ایا شاهنشهِ غازی
نه تبریزی قۏیا شاهِ قېزېل‌باشا نه شیرازې

(نفعی ارضرومی)
اے شہنشاہِ غازی! [خدا کرے کہ] تمہارا سردار (خُسرو پاشا) فتح یاب و ظفرمند ہو جائے!۔۔۔ نہ وہ تبریز کو شاہِ قِزِلباش کے [تصرُّف میں] چھوڑے اور اور نہ شیراز کو! (یعنی اُن دونوں شہروں کو صفوی شاہ سے چھین لے!)

Muzaffer ola ser-dârun eyâ şâhenşeh-i gâzî
Ne Tebrîzi koya şâh-ı Kızılbaşa ne Şîrâzı
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
رندانِ خراباتی و مستانِ الستیز
محشرده داخی جامِ میِ عشق ایله مستیز

(نفعی ارضرومی)
ہم رندانِ خراباتی و مستانِ السْت ہیں۔۔۔ ہم محشر میں بھی جامِ شرابِ عشق کے ساتھ مست ہیں۔

Rindân-ı harâbâtî ve mestân-ı Elestiz
Mahşerde dahi câm-ı mey-i aşk ile mestiz
 

حسان خان

لائبریرین
عُثمانی شاعر نفعی ارضرومی (م. ۱۶۳۵ء) اپنے مجموعۂ ہَجویات 'سِهامِ قضا' کے ایک تُرکی قطعے میں کہتے ہیں:
(قطعه)
کُشتهٔ ذوالفقارِ هَجوۆم‌دۆر
بیر آلای یاوه‌گو و هرزه‌طراز
قادر اۏلمازسالار جوابا نۏلا
بر نیاید ز کُشتگان آواز

(نفعی ارضرومی)
یاوہ گویوں اور ہرزہ سرایوں کا ایک جمِّ غفیر میری ذوالفقارِ ہَجو کا کُشتہ ہے۔۔۔۔ اگر وہ جواب [دینے] پر قادر نہ ہوں تو کیا عجب؟۔۔۔ [کہ] کُشتگاں سے آواز بلند نہیں ہوتی (یعنی کُشتگاں آواز نہیں نِکال سکتے)۔

Küşte-i zülfikâr-ı hicvümdür
Bir alay yâve-gû vü herze-tırâz
Kâdir olmazsalar cevâba n’ola
Ber neyâyed zi küştegân âvâz


× فارسی مصرع گُلستانِ سعدی شیرازی کی مندرجۂ ذیل بیت سے مأخوذ ہے:
عاشقان کُشتگانِ معشوقند
بر نیاید ز کُشتگان آواز
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
یۏق تیغِ زبان چکمه‌دن اؤزگه داخی چاره
غایت‌ده شقی اۏلدې‌لار ابنایِ زمانه

(نفعی ارضرومی)
[اپنی] تیغِ زبان کھینچنے کے بجز کوئی دیگر چارہ نہیں ہے [کیونکہ] ابنائے زمانہ بہ غایت شقی ہو گئے ہیں۔

Yok tîğ-ı zebân çekmeden özge dahi çâre
Gâyetde şakî oldılar ebnâ-yı zamâne
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
تیغِ سرتیزِ زبانوم اۏ قدر کسکین‌دۆر
که دونیم اۏلور آنې آنسا دلِ رُستم و سام

(نفعی ارضرومی)
میری زبان کی تیغِ سرتیز اِس قدر تیز و بُرّاں ہے کہ اگر رُستم و سام اُس کا نام لیں اور ذکر کریں تو اُن کا دل دو نیم ہو جائے۔

Tîğ-i ser-tîz-i zebânum o kadar keskindür
Ki dü-nîm olur anı ansa dil-i Rüstem ü Sâm


× رُستم و سام شاہنامۂ فردوسی کے قہرَمان تھے۔
 
Top