ماہنامہ بقعۂ نور لاہور کے لیے لکھی گئی بچوں کی کہانیاں ۔

ام اویس نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 6, 2018

  1. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,744
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    زخمی چڑیا

    نانو جان نانو جان حسن اونچی آواز سے پکارتا دوڑتا ہوا نانو کے پاس آیا
    کیا ہوا ؟
    وہاں ایک چڑیا گری ہوئی ہے اس کی ٹانگ سے خون بہہ رہا ہے اس نے پریشانی سے کہا
    ابوبکر اور نانو لان کے اس حصے کی طرف آئے دیکھا تو آم کے درخت کے نیچے ایک چڑیا زخمی حالت میں پڑی تھی ۔ نانو جان نے آگے بڑھ کر آرام سے پکڑلیا ۔ اور اسے لے کرگھر میں داخل ہوگئیں بچے ان کے پیچھے تھے انہوں نے اپنے کمرے میں آکر ابتدائی طبی امداد والے باکس سے روئی نکالی اسے بھگو کر چڑیا کے زخم کو صاف کرنے لگیں ۔ دونوں بچے فکر مندی سے دیکھ رہے تھے
    ابوبکر نے کہا نانو جان چڑیا کو درد ہورہی ہوگی اب یہ کیسے ٹھیک ہوگی
    کیا آپ اسے پٹی کریں گی ؟
    نانو جان بولیں میں اس کا زخم صاف کرکے چھوڑ دوں گی یہ خود ہی ٹھیک ہوجائے گی ۔ وہ حیران ہوکر بولا خود ہی کیسے ٹھیک ہوجائے گی ؟
    کیا جانوروں کا کوئی ہسپتال نہیں ہوتا ؟ کیا جانوروں کے ڈاکٹر بھی نہیں ہوتے ؟
    نانو جان نے نرمی سے جواب دیا
    پالتو جانوروں کے علاج کے لیے ڈاکٹر بھی ہوتے ہیں اور ہسپتال بھی بنائے جاتے ہیں جہاں ان جانوروں کا علاج کیا جاتا ہے
    حسن جلدی سے بولا بھائی کیا تمہیں یاد نہیں جب شیرو بے ہوش ہوگیا تھا تو بابا نے ڈاکٹر کو بلایا تھا جس نے اسے دوا دی تھی اور انجیکشن بھی لگایا تھا
    ہاں ہاں ابوبکر کو یاد آگیا اور وہ اثبات میں سر ہلانے لگا ۔
    اتنی دیر میں نانوجان نے چڑیا کو تھوڑا سا پانی پلایا اور اسے لے کر باہر لان میں آگئیں ۔ سردیوں کی نرم دھوپ ہر طرف پھیلی ہوئی تھی نانوجان نے چڑیا کو لان میں بنی چھوٹی سی دیوار پر دھوپ میں رکھ دیا ۔ چڑیا نے پہلے تو اڑنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوگئی ۔ وہ ٹانگ لمبی کرکے وہیں دھوپ میں لیٹ سی گئی ۔
    نانو جان ابوبکر اور حسن کو لے کر لان میں پڑی کرسیوں پر بیٹھ گئیں اور انہیں کہا اب اس کے پاس کوئی نہ جائے البتہ یہ خیال رکھنا کہ بلی اسے اپنا نوالہ نہ بنا لے ۔
    تھوڑی دیر گزری ان کے دیکھتے ہی دیکھتے چڑیا نے پر پھیلائے اور اُڑ کر درخت پر جا بیٹھی وہاں بھی دھوپ تھی ۔
    کیا یہ ٹھیک ہوجائے گی ؟ حسن نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے نانو جان سے پوچھا
    ان شاء الله یہ بہت جلد ٹھیک ہوجائے گی اور پھر سے اڑنے لگے گی
    لیکن نانو جان یہ علاج کے بغیر کیسے ٹھیک ہوگی ؟ اب ابوبکر نے سوال کیا
    زخمی پرندے عموما اپنا علاج سورج کی شعاعوں سے کرتے ہیں وہ ایسی جگہ بیٹھ جاتے ہیں جہاں سورج کی روشنی سیدھی ان کے زخم پر پڑے ۔ معمولی زخم تو جلد ہی ٹھیک ہوجاتے ہیں اور شدید زخموں کو کچھ وقت لگتا ہے
    لیکن دوائی کے بغیر کیسے ٹھیک ہوجاتے ہیں حسن ابھی بھی سمجھ نہیں سکا
    الله تعالی نے ہر جاندار جسم میں اپنی مرمت خود کرنے کی صلاحیت رکھ دی ہے اگر زخم پر کوئی دوا نہ لگائیں بس اسے صاف ستھرا رکھیں تو وہ خود بخود ٹھیک ہوجاتا ہے ۔ چڑیا بھی چونچ سے اپنا زخم صاف کرتی رہے گی اس کا جسم اپنی مرمت کا کام جاری رکھے گا اور زخم ٹھیک ہوجائے گا ۔
    اچھا تو یہ بات ہے اب حسن خوب سمجھ گیا
    ابوبکرکا تجسس برقرار تھا اس نے پھر سوال کیا کہ جو جانور بیمار ہوجاتے ہیں وہ اپنا علاج کیسے کرلیتے ہیں ؟
    نانو جان نے بتایا جب کوئی جانور بیمار یا زخمی ہوجائے تو وہ اپنا ٹھکانا چھوڑ کر دھوپ اور گرمی والی جگہ پر چلا جاتا ہے جہاں پانی بھی نزدیک ہو ۔ مختلف پودے اور جڑی بوٹیاں کھا کر اپنا علاج کرتا ہے ۔ گوشت خورجانور مثلا شیر اور بھیڑیئے بیمار ہونے کی صورت میں گوشت کھانا چھوڑ دیتے ہیں اور سبزیوں پر گزارہ کرتے ہیں، ریچھ کی پرہیزی غذا بیر اور جڑیں ہوتی ہیں اور ہرن درختوں کی چھال کھاتا ہے۔
    جیسے بھیا کو بخار ہوا تو امی جان اسے چائے اور رس کھلاتی تھیں حسن نے اپنا تجزیہ پیش کیا ۔
    لیکن یہ کیسے پتہ چلا کہ جانور اس طرح کرتے ہیں ؟ ابوبکر کا منہ حیرت سے کُھل گیا اور وہ بے اختیار بول پڑا
    بچو انسان ہر چیز کا بغور مشاہدہ کرتا ہے کیونکہ الله تعالی نے اس میں سوچنے سمجھنے اور کارخانہ قدرت سے سبق حاصل کرنے کی صلاحیت رکھی ہے ۔ انسان نے علم طب کی ابتدائی باتیں جانوروں ہی سے سیکھی ہیں جن جڑی بوٹیوں سے جانور اپنا علاج کرتے تھے انسان بھی ان ہی سے فائدہ اٹھانے لگے ۔ جانور اور پرندے ان پودوں اور جڑی بوٹیوں کا علم رکھتے ہیں جو مختلف بیماریوں میں فائدہ دیتی ہیں۔
    یعنی جانور بھی سمجھ دار ہوتے ہیں ۔ حسن نے کہا
    جی ہاں بہت سمجھدار ہوتے ہیں ۔ نانو جان بولیں مرغی برسات کے دنوں میں اپنے بچوں کوموسمی بیماریوں سے بچانے کے لیے نرم نرم گھاس تلاش کرکے کھلاتی ہے۔ اسی طرح بندر کو اگر خارش پڑ جائے تو وہ نیم کی کونپلیں توڑ کر کھاتے ہیں ۔
    جانوروں کی عادات اور رہن سہن کا مشاہدہ کرنے کے لیے مختلف تحقیقی محکمے بھی بنائے گئے ہیں نانو نے ابوبکر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
    یہ محکمے کیا کرتے ہیں ؟ ابوبکر سوال پر سوال کر رہا تھا
    بیٹا جی یہ محکمے تحقیق کرتے ہیں کہ جانور کیسے رہتے ہیں کیا کھاتے ہیں بیمار ہوجائیں تو اپنا علاج کیسے کرتے ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ کیوں چلے جاتے ہیں
    ایسے ہی کچھ لوگوں نے تحقیق کرکے بتایا کہ جنگلی جانور کو بخار ہوجائے تو وہ ایسی جگہ ڈیرہ ڈال لیتا ہے جو سایہ دار ہو۔ وہاں کی ہوا صاف اور پانی بھی قریب ہو۔ وہ کھانا چھوڑ دیتاہے ۔ بخار کی شدت کم ہونے یا بخار ٹوٹنے تک صرف پانی پیتا ہے ۔ اسی طرح جس جانور کو جوڑوں یا جسم میں درد کی تکلیف ہوتی ہے وہ ایسی جگہ رہنے لگتا ہے جہاں سورج کی شعائیں سیدھی جسم ہر پڑیں ۔
    اسی دوران زیان اور افراح بھی اندر سے باہر آگئے اور پاس بیٹھ کر حیرت و تجسس سے نانو جان کی باتیں سننے لگے
    نانو جان نے سلسلہ کلام آگے بڑھاتے ہوئے بچوں کی معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے بتایا کہ بڑھاپے میں ریچھ اور دوسرے کئی جانور گرم چشمے تلا ش کرتے ہیں اور روز باقاعدگی سے وہاں جاکر غسل کرتے ہیں جن جانوروں کو جوئیں یا پسو پڑجاتے ہیں وہ مٹی میں لوٹنیاں لگاتے ہیں ۔ اس عمل کو ’’غسل خاکی‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔
    افراح باجی آپ بھی مٹی میں لوٹنیاں لگایا کریں ۔ ابوبکر نے جان بوجھ کر افراح کو چڑایا
    جی نہیں میرے سر میں جوئیں نہیں میں اپنا سر صاف رکھتی ہوں ۔ میں روز غسل آبی کرتی ہوں ۔ افراح نے دو بدو جواب دیا اور بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔
    نانو جان ان کی نوک جھونک پر مسکراتے دوبارہ اصل موضوع پر آگئیں اور کہا بچو تمہیں معلوم ہے جانور موسمی تبدیلیوں کے ساتھ اپنی غذائیں بھی بدل لیتے ہیں
    انڈے دینے والی چڑیاں کیلشیم کی کمی پوری کرنے کے لیے ساحل سمندر پر جاکر گھونگھے چن چن کر کھاتی ہیں اور ہرنیاں میلوں دور تک ایسے پانی کی تلاش میں جاتی ہیں جس میں کیلشیم کی مقدار زیادہ ہو۔
    میں امی جان کو بتاؤں گا کہ کھانے کی عادت بدلتے رہنا چاہیے ابوبکر نے بڑی ذہانت سے اپنے مطلب کی بات کو سمجھتے ہوئے کہا ۔
    نانو جان ہنس پڑیں کیونکہ ابوبکر ہر روز نئی چیز کھانے کی فرمائش کرتا تھا
    اور بچو جس طرح ڈاکٹر مجبوراً خراب ہوجانے والے جسم کے حصے کو کاٹ دیتے ہیں تاکہ دوسرے حصے بیماری کے خطرے سے محفوظ رہیں آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جانور بھی اس آخری طریقہ علاج کی سمجھ رکھتے ہیں۔
    وہ کیا کرتے ہیں ۔ بات کی نزاکت کو سمجھ کر سب سنجیدہ نظر آنے لگے
    کچھ توقف کے بعد نانو جان نے کہا
    جب جانورں کو لگتا ہے کہ جسم کا زخمی حصہ ٹھیک نہ ہوسکے گا تو اس کو مختلف طریقوں سے جسم سے کاٹ کر علیحدہ کردیتے ہیں۔
    اف الله ! ابوبکر کی آنکھوں میں آنسو آگئے
    اسی طرح جب کسی جانور یا پرندے کے جسم کا کوئی حصہ جال میں پھنس جاتا ہے تو وہ اسے دانتوں یا چونچ کی مدد سے کاٹ کر آزاد ہوجاتا ہے کیونکہ یہ بے زبان بھی جانتے ہیں کہ زندگی زیادہ قیمتی ہے۔
    سب خاموش ہوگئے
    نانو جان نے کہا کیا تم لوگ جانتے ہو کہ جب زمین پر پہلے انسان کی موت ہوئی تو اسے زمین میں دفن کرنے کا طریقہ کس نے سمجھایا تھا ؟
    نہیں مجھے نہیں پتہ ابوبکر نے کہا حسن نے بھی نفی میں سر ہلا دیا اور افراح بھی سوالیہ انداز میں نانو جان کی طرف دیکھنے لگی ۔
    بچو یہ واقعہ الله تعالی نے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے کہ جب آدم علیہ السلام کے ایک بیٹے قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا پھر اسے سمجھ نہ آئی کہ اب اپنے بھائی کی لاش کا کیا کرے ۔ الله تعالی نے ایک کوے کو بھیجا جس نے ایک کوے کی لاش اٹھائی ہوئی تھی اس نے چونچ سے زمین کھودی اورکوے کی لاش کو زمین میں دبا کر اوپر مٹی ڈال دی ۔ اس وقت قابیل کو شرمندگی نے آگھیرا اور اس نے کہا افسوس میں ایک جانور سے بھی گیا گزرا ہوں پھر اس نے بھی ہابیل کو گڑھا کھود کر دفن کردیا ۔
    بچے خاموش ہوگئے اور آسمان پر چکر لگاتے کوؤں کو دیکھنے لگے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,744
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    تبدیلی :

    صغیر نے گلی میں داخل ہوتے ہی اپنے چھوٹے بیٹے نعیم کو محلے کے ایک لڑکے سے جھگڑا کرتے دیکھا۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہو رہے تھے اور ایک دوسرے کوبرا بھلا کہہ رہے تھے۔ اپنے بیٹے کے منہ سے گالیاں سن کر اسے یقین نہ ہوا کہ یہ اس کا بیٹا ہے۔ اس نے نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں اپنے بیٹے کا بازو پکڑا اوراسے کھینچتے ہوئے گھر لے گیا۔
    جب وہ گھر میں داخل ہوا تو سامنے صحن میں ایک اور معرکہ گرم تھا۔ اس کے دونوں بڑے بیٹے ندیم اور کلیم بھی آپس میں جھگڑتے ہوئے گالی گلوچ کر رہے تھے۔ بچوں کی ماں ان پر زور زور سے چیخ رہی تھی اور دونوں چھوٹی بہنیں پاس کھڑی ہنس رہی تھیں۔ غصے سے اس کا برا حال ہوگیا۔ اس نے ایک طرف رکھا وائپر کا ڈنڈا پکڑ لیا اور موٹی موٹی گالیاں نکالتے ہوئے تینوں کی پٹائی کرنے لگا۔
    اس شور اور ہنگامے سے اس کی بھوک مر گئی۔ اس نے بیڈ پر لیٹ کر اپنا موبائل کھولا اور ویڈیوز دیکھنے لگا۔ اسے ہنسی مذاق والی مزاحیہ ویڈیوز اور ٹاک شوز بہت پسند تھے۔ جونہی موقع ملتا وہ اپنے اس مشغلے میں مصروف ہوکر اردگرد سے بے نیاز ہوجاتا۔
    اس وقت بھی ایسا ہی ہوا۔ اگرچہ وہ بچوں کی لڑائی جھگڑے اور گالم گلوچ سے سخت پریشان تھا لیکن موبائل ہاتھ میں پکڑتے ہی گویا ہر مسئلے سے آزاد ہوگیا۔
    صغیر متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ انارکلی بازار میں اس کا ایک جنرل سٹور تھا جس سے اچھی خاصی آمدن ہوجاتی۔ اس کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ وہ زیادہ تعلیم حاصل نہ کرسکا۔ اس کی بیوی بھی زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی۔ لیکن ! اس کی خواہش تھی کہ اس کے بچے خوب پڑھ لکھ جائیں اور تمیز دار ہوں۔
    صغیر کے سٹور پراکثر قریبی کالج اوریونیورسٹی کے بچے خریداری کے لیے آتے۔ کچھ تو شوخ اور ہلہ گلا کرنے والے ہوتے لیکن چند ایک ایسے بچے تھے جو بڑے ادب و احترام سے بات کرتے۔ ایسے لڑکوں کو وہ خود آگے بڑھ کر ان کی طلب کردہ اشیاء دیتا۔ ان کی بول چال کے طریقے کو غور سے دیکھتا۔ جب خریداری کے بعد وہ شکریہ ادا کرتے تو صغیر کے دل میں یہ خواہش زور پکڑنے لگتی کہ اس کے بچے بھی اسی طرح خوش مزاج اور سلجھے ہوئے ہوں۔
    اس نے اپنے بچوں کو محلے کے ایک اچھے سکول میں داخل کروایا تھا۔ تینوں لڑکے جوں جوں بڑے ہو رہے تھے بدتمیز ، جھگڑالو اور نالائق ہوتے جا رہے تھے۔ اکثر و بیشتر سکول سے ان کی شکایت آتی رہتی۔ اس کا خیال تھا کہ سکول کے ماحول کی وجہ سے بچے نالائق اور بدتمیز ہیں۔ چنانچہ اس نے ایک مشہور پرائیوٹ سکول میں ان کا ایڈمیشن کروا دیا۔ بھاری بھرکم فیس دیتے ہوئے وہ یہ سوچتا کہ بچے لائق اور سمجھدار ہوجائیں گے اور اچھے سکول میں پڑھنے کی وجہ سے آپس میں لڑائی جھگڑا بھی نہیں کریں گے۔ لیکن حالات میں کوئی بدلاؤ نہ آیا۔ بچوں کی بدتمیزی میں دن بدن اضافہ ہو رہا تھا۔
    پرائیوٹ سکول سے بھی دوبار ندیم کی شکایت کرنے بلایا گیا اور ایک بارنعیم کی بدتمیزی پر اس کی طلبی ہوئی۔ دونوں بچوں کے اساتذہ نے ان کے جھگڑالو ہونے اور گالی گلوچ کرنے کی شکایت کی۔ صغیر ہر بار نہایت شرمندگی کے عالم میں گھر آتا اور بچوں کو خوب زور زور سے ڈانٹتا۔ غصے سے اس کے نتھنے پھولنے لگتے اور منہ سے گالیاں نکلتیں لیکن بچوں پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ کئی بار وہ بچوں کی پٹائی بھی کر چکا تھا لیکن سب بے سود تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کوئی اور اچھا سکول دیکھے تاکہ اپنے بچوں کو وہاں داخلہ دلوا سکے۔
    ایک دن اسی فکر اور پریشانی کے عالم میں وہ سٹور پر کھڑا کام نبٹا رہا تھا کہ اس کا ایک بہت عزیز دوست کئی سال بعد اس سے ملاقات کے لیے آگیا۔ اس کا نام عبد الصمد تھا۔ وہ دونوں ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے۔ بعد میں گھریلو حالات کی وجہ سے صغیر تعلیم جاری نہ رکھ سکا لیکن عبد الصمد مزید تعلیم کے لیے بیرون ملک روانہ ہوگیا۔ صغیر اس سے مل کر بہت خوش ہوا۔ یہ خوشی مزید بڑھ گئی جب اسے معلوم ہوا کہ عبد الصمد کو قریبی یونیورسٹی میں جاب مل گئی ہے اوراسی علاقے میں اس کی رہائش ہے۔ اس نے اپنے دوست کو گھر آنے کی دعوت دی۔ اگلا دن اتوار کا تھا۔ چنانچہ عبد الصمد نے اپنی فیملی کے ساتھ ان کے ہاں آنے کی حامی بھرلی ۔
    صغیر کی بیوی نے دو تین قسم کے کھانے تیار کئے اور اچھی سی دعوت کا اہتمام کیا۔ گھر کی صفائی ستھرائی ہوچکی تھی۔ بچوں کو اچھی طرح تیار ہونے کا کہہ کر وہ پھل اور آئس کریم وغیرہ لینے گھر سے نکلا۔ جب سامان لے کر اپنی گلی میں داخل ہوا تو دیکھا ایک پھیری والے نے اس کے چھوٹےبیٹے نعیم کو بازو سے پکڑ رکھا تھا۔ نعیم اپنا آپ چھڑانے کے ساتھ ساتھ اونچی آواز سے گالیاں بک رہا تھا۔ صغیر نے جلدی سے آگے بڑھ کر پوچھا: “کیا معاملہ ہے؟”
    پھیری والے نے کہا : “اس لڑکے نے دھکا دے کر مجھے گرانے کی کوشش کی اور جب میں نے اسے منع کیا تو مجھے گالیاں دینے لگا۔ اس لیے میں نے اس کو پکڑ لیا”
    صغیر نے غصے سے نعیم کو دیکھا اور اس سے کہا: تم گھر چلو میں تمہیں ابھی ٹھیک کرتا ہوں”
    گھر آکر صغیر نے اسے اونچی آواز میں ڈانٹنا شروع کردیا۔ نعیم کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن صغیرنے اس کی ایک نہ سنی۔ غصے کے عالم میں اس نے اپنے بیٹے کو دو تین گالیاں بھی دیں ۔ اچانک اس نے نگاہ اٹھائی تو سامنے ڈرائنگ روم کے دروازے پر اس کا دوست کھڑا تھا۔ اس کی غیر موجودگی میں مہمان آچکے تھے۔ اسے سخت شرمندگی محسوس ہوئی۔ چنانچہ ڈانٹ ڈپٹ کو کسی اور وقت پر ٹالتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا سامان رکھا اور مہمانوں سے ملنے ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گیا۔
    دعوت بہت اچھی رہی ۔ عبد الصمد کے دوبیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ جو اس کے بچوں کے ہم عمر تھے۔ تینوں بچے نہایت تمیز دار اور رکھ رکھاؤ والے تھے۔ ان کے ہر انداز سے سلیقہ جھلک رہا تھا۔ انہوں نے اطمینان سے بسم الله پڑھ کرکھانا شروع کیا اور کھانے کے بعد الحمد لله کہتے کھانے کی دعا پڑھنے لگے۔ صغیرتعجب سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ دوران گفتگو جس موضوع پر بھی ان بچوں سے کوئی سوال کیا گیا انہوں نے بے ججھک اس کا اچھی طرح جواب دیا جبکہ اس کے بچے گفتگو میں حصہ لینے سے کتراتے رہے اور میز پر چیزیں گراتےاور ادھم مچاتے رہے ۔ کھانے کے بعد عبد الصمد کے بچے تمیز سے بیٹھ کر مختلف کھلونوں سے کھیلنے لگے۔ وہ دھیمی آواز میں اپنے والدین سے بات کرتے اور ان کی ہر بات مانتے تھے۔ ماں باپ بھی نرمی اور سکون سے ان سے بات کر رہے تھے۔ خود اسے اپنے بچوں کو بلانے کے لیے زور زور سے بولنا اور انہیں شرارتوں سے منع کرنے کے لیے بار بار ڈانٹنا پڑ رہا تھا۔ وہ غور سے اس فرق کا مشاہدہ کرتا رہا۔ آخرکار دعوت اپنے اختتام کو پہنچی اور مہمان اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔
    کچھ دن بعد صغیر عبد الصمد سے ملنے اس کے گھر جا پہنچا۔ دراصل وہ جاننا چاہتا تھا کہ عبد الصمد کے بچے کس سکول میں پڑھتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کا داخلہ اسی سکول میں کروانا چاہتا تھا۔
    گھنٹی بجانے پر عبد الصمد کا بڑا بیٹا باہر نکلا۔ اسے دیکھتے ہی زوردار آواز میں “السلام علیکم انکل “کہا! صغیر نے جواب دے کر اس کے والد کے متعلق پوچھا تو بچہ “ آئیے آئیے انکل اندر تشریف لے آئیے “ کہتے ہوئے اسے ڈرائنگ روم میں لے گیا۔
    تھوڑی ہی دیر میں عبد الصمد آگیا۔ ابھی ابھی عصر کی اذان ہوئی تھی۔ وضو کا پانی قطروں کی صورت اس کے منہ اور ہاتھوں سے ٹپک رہا تھا۔ صغیر سے سلام دعا کرنے کے بعد عبد الصمد نے اپنے دونوں بیٹوں کو آواز دی: “آجاؤ نماز کا وقت ہو رہا ہے”۔
    “جی ابو” دونوں کے چہرے وضو کی وجہ سے چمک رہے تھے۔ ان کونماز کے لیے تیار دیکھ کر صغیرجو موبائل کھولے بیٹھا تھا وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا اور ان کے ساتھ مسجد کی طرف روانہ ہوگیا۔
    مسجد گھر کے قریب ہی واقع تھی۔ راستے میں جو بھی ملتا دونوں لڑکے اونچی آواز سے “السلام علیکم “ کہتے۔ اور جوابا دعاؤں سے نوازے جاتے۔
    وہ اطمینان سے مسجد میں داخل ہوئے اور اپنے والد کے ہمراہ نماز عصر ادا کی ۔
    صغیر بھی ان کے ساتھ تھا۔ اس کے دل میں احساسِ ندامت سر اٹھا رہا تھا۔
    واپس آ کر ڈرائنگ روم میں بیٹھے تو عبد الصمد کا بڑا بیٹا اندر سے ان کے لیے کولڈ ڈرنکس لے آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا۔ دونوں دوست باتیں کرنے لگے۔
    تھوڑی دیر بعد عبد الصمد نے اپنے بیٹے سے پوچھا : “کیا آپ کو ریاضی کا سوال اچھی طرح سمجھ آگیا تھا ؟”
    “ جی ابا جان “ بیٹے نے کہا :
    “ ٹھیک ہے ! اب آپ باہر جا کر کرکٹ کھیلیں۔ آپ کی کھیل کا وقت ہے۔”
    عبدالصمد نے مسکراتے ہوئے کہا: اس کا بیٹا خوشی خوشی باہر چلا گیا۔
    عبد الصمد نے صغیر کو بتایا میرے بیٹے کو کرکٹ میں بہت دلچسپی ہے یہ کرکٹ میچ کھیلنا اور دیکھنا پسند کرتا ہے۔ تمام قومی اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کے نام ، ریکارڈ اور معلومات سے خوب آگاہ ہے۔ جبکہ دوسرا بیٹا فُٹ بال کھلینے کا شوقین ہے اور بیٹی کو بیڈ منٹن پسند ہے۔ میں روز شام کو بچوں کے ساتھ کرکٹ ، فٹ بال اور بیڈ منٹن کھیلتا ہوں۔
    “اچھا تو تمہاری فٹ نس کا یہ راز ہے” صغیر نے غیر ارادی طور ہر اپنے بڑھے ہوئے پیٹ ہر ہاتھ پھیرا۔
    دونوں دوست ملکی حالات پر بات چیت کرنے لگے۔ صغیر نے عبد الصمد سے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی ، بدتمیزی اور بد لحاظی کا ذکر کیا ، سکولوں کی فیسوں میں اضافے اور ناقص کارکردگی کا تذکرہ کرتے اپنے بچوں کی نالائقی کا ذمہ دار محلے اور سکول کے ماحول کو ٹہرایا تو عبد الصمد نے کہا: “یار اس میں تمہارا بھی قصور ہے۔ “
    صغیر ایک دم چونک کر متوجہ ہوا: “وہ کیسے؟ “
    عبد الصمد نے محتاط لہجے میں کہا : اُس دن میں نے دیکھا کہ تم اپنے بچے کو بہت بُری طرح ڈانٹ رہے تھے۔ وہ مسلسل کچھ کہنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن تم نے اس کی بات نہیں سُنی۔ میں حیران رہ گیا جب تم نے اسے گالی بھی دی۔
    میرے دوست ! “بچے ہمارا آئینہ ہیں۔ والدین جو بھی کریں ، جیسا رویہ رکھیں ، جیسے معاملات اپنائیں بچے ان کی نقالی کرتے ہیں۔ بچوں کو سنوارنے کے لیے اپنی اصلاح نہایت ضروری ہے۔”
    دوسری چیز جو میں نے محسوس کی وہ یہ ہے کہ جب بھی تمہیں ذرا سا وقت ملتا ہے فورا موبائل پکڑ کر اس میں مصروف ہوجاتے ہو۔ “تمہیں چاہیے کہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت بچوں کے ساتھ گزارو۔ ان سے دوستی کرو۔ ان سے نرمی اور محبت سے بات کرو۔ اگر وہ کسی سے جھگڑ رہے ہوں تو وجہ دریافت کرکے تحمل سے سمجھاؤ۔ تم خود ہی انہیں چیخنا چلانا اور گالی دینا سکھا رہے ہو۔ اس میں نہ تو سکول کا کوئی قصور ہے نہ محلے اور معاشرے کا۔”
    صغیر سوچ میں پڑ گیا۔ جوں جوں وہ غور کرتا گیا اس پر حقیقت کھلتی گئی اور اپنی کوتاہی ظاہر ہونے لگی۔
    اُس کا زیادہ تر وقت جنرل سٹور پر گزر جاتا۔ بچوں کی پڑھائی سے اس کی دلچسپی صرف سکول بدلنے یا فیس دینے تک محدود تھی۔ اسے یہ بھی یاد نہ رہتا کہ اس کے بچے کون کونسی کلاس میں پڑھ رہے ہیں۔ نہ وہ جانتا تھا کہ اس کے بچوں کو کون سا کھیل پسند ہے۔ وہ کن اوقات میں پڑھتے اور کس وقت کھیل کود میں مشغول ہوتے ہیں۔ نماز پڑھتے ہیں یا نہیں ؟
    عموماً جب وہ گھر داخل ہوتا تو اونچی آواز سے ٹی وی چل رہا ہوتا۔ جس پر مزاحیہ ٹاک شو لگے ہوتے ، بچوں کے بلند آواز میں بولنے یا جھگڑنے کا شور ہوتا۔ وہ گھر میں داخل ہوتے ہی ڈانٹ پھٹکار شروع کردیتا۔ تھوڑی ہی دیر میں بچے ادھر اُدھر غائب ہوجاتے اور وہ ٹی وی اورموبائل میں مگن ہوجاتا۔
    عبد الصمد کی نصیحت ، اس کا اپنے بچوں سے رویہ اور طرزِعمل صغیر کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا تھا۔ اس نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ وہ بچوں کا سکول بدلنے کی بجائے اپنا آپ بدلے گا ۔
    گھر واپس آکر اس نے اندر داخل ہوتے ہوئے زور دار آواز میں السلام علیکم کہا تو گھر میں خاموشی سی چھا گئی ۔ بچوں نے سلام کا جواب دیا ، بیوی نے جلدی سے اٹھ کر ٹی وی بند کردیا۔ اس نے امید اور محبت بھری نظروں سے اپنے بچوں کی طرف دیکھا اور باری باری سب کا حال دریافت کرنے لگا۔

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    السلام علیکم بہن - سیدھی سادی سامنے کی باتیں مگر نہایت اہم اور بہت ضروری -بچوں کا یہ ادب بڑوں کے لیے بھی یکساں مفید ہے -

    جزاک الله خیر
     
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر