ماہر القادری ماہر القادری : عشق کی بیتابیاں تنہائیاں

کاشفی

محفلین
عشق کی بیتابیاں تنہائیاں
حسن کی وہ انجمن آرائیاں
چشم ساقی کی اثر فرمائیاں
موجِ مے لینے لگی انگڑائیاں
و ہ بھی دل کے ذکر پر ہنسنے لگے
دور جا پہونچیں مری رسوائیاں
کچھ امیدیں ' کچھ امیدوں کے فریب
چند جلوے اور کچھ پرچھائیاں
بھول جائیں وہ تو کوئی کیا کرے !
پھر غنیمت ہے ستم آرائیاں
آہ پر خفگی نہیں ہے بے سبب
بات کی سمجھی گئیں گہرائیاں
ہر تمنا خون ہو کر رہ گئی
یاد آئیں گی کرم فرمائیاں
موت کی بھی اب جھجک باقی نہیں
کی گئیں وہ حوصلہ افزائیاں
تم کو رسوا کر نہ دیں ماہر کہیں
چاندنی راتوں کی یہ تنہائیاں

ماہر القادری​
واہ بہت ہی عمدہ!
 
Top