ماوراء الطبیعیات و مابعد الطبیعیات

عباد اللہ

محفلین
مجھے مل گیا یہ شعر کچھ یوں ہے دوست
در دشتِ جنونِ من ،جبریل زبوں صیدی
یزداں بہ کمند آور، ای ہمتِ مردانہ
مطلب کہ میرے جنون کے صحرا میں جبریل کی حیثیت ایک صیدِ زبوں کی سی ہے اور خدا پر رسی ڈالو اے ہمتِ مردانہ
شاید اسی کو اردو میں انہوں نے یوں کہا تھا
"کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں"
لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ خود خدا کی ذات بھی اس گردوں میں شامل ہے!
 

فرقان احمد

محفلین
مجھے معلوم نہیں تھا کہ خود خدا کی ذات بھی اس گردوں میں شامل ہے
:) اول، شاعر کو مبالغہ آرائی کی اجازت ہوتی ہے! دوم، تسخیر کائنات اور قوانین قدرت تک رسائی بنیادی موضوع ہے! سوم، اگر اقبال کو بھی اس انداز میں بات کہنے کا حق نہ ملے تو پھر کسے ملے!
 

عباد اللہ

محفلین
:) اول، شاعر کو مبالغہ آرائی کی اجازت ہوتی ہے! دوم، تسخیر کائنات اور قوانین قدرت تک رسائی بنیادی موضوع ہے! سوم، اگر اقبال کو بھی اس انداز میں بات کہنے کا حق نہ ملے تو پھر کسے ملے!
نہیں دوست میں کسی کو نہیں ٹوکتا لیکن۔
1۔حد سے بڑھا ہوا مبالغہ بھی عیب ہے ۔
2۔خدا کی ذات پر کمنڈ ڈالنے کا بیانیہ کم از کم میں تو ہضم نہیں کر سکتا یہاں تو ایسا معلوم پڑتا ہے کہ خدا کی ذات کو تسخیر کرنے کی بات ہو رہی ہے
3 ۔۔۔۔
 

فرقان احمد

محفلین
نہیں دوست میں کسی کو نہیں ٹوکتا لیکن۔
1۔حد سے بڑھا ہوا مبالغہ بھی عیب ہے ۔
2۔خدا کی ذات پر کمنڈ ڈالنے کا بیانیہ کم از کم میں تو ہضم نہیں کر سکتا یہاں تو ایسا معلوم پڑتا ہے کہ خدا کی ذات کو تسخیر کرنے کی بات ہو رہی ہے
3 ۔۔۔۔
1۔ حد سے بڑھا ہوا مبالغہ عیب ہے، اس میں کوئی شک نہیں، متفق ہوں!
2۔ یہاں خدا کی ذات پر کمند ڈالنے کی بات کم ہے اور قوانین قدرت کی تسخیر کی طرف اشارہ زیادہ ہے، شاید مجھ سے تفہیم میں غلطی ہوئی ہو، تاہم بڑا شاعر اسی طرح تذبذب میں ڈال دیتا ہے، مجھے آپ کی رائے کا احترام ہے۔
 
آخری تدوین:

عباد اللہ

محفلین
1۔ حد سے بڑھا ہوا مبالغہ عیب ہے، اس میں کوئی شک نہیں، متفق ہوں!
2۔ یہاں خدا کی ذات پر کمنڈ ڈالنے کی بات کم ہے اور قوانین قدرت کی تسخیر کی طرف اشارہ زیادہ ہے، شاید مجھ سے تفہیم میں غلطی ہوئی ہو، تاہم بڑا شاعر اسی طرح تذبذب میں ڈال دیتا ہے، مجھے آپ کی رائے کا احترام ہے۔
شعر کی تفہیم میں غلطی کا اندیشہ میری طرف زیادہ ہے کہ میں فارسی سے بالکل نابلد ہوں ۔شاید میں اس شعر کو ابھی سمجھ نہیں پایا پھر سے کوشش کرتا ہوں بھیا
 

فرقان احمد

محفلین
شعر کی تفہیم میں غلطی کا اندیشہ میری طرف زیادہ ہے کہ میں فارسی سے بالکل نابلد ہوں ۔شاید میں اس شعر کو ابھی سمجھ نہیں پایا پھر سے کوشش کرتا ہوں بھیا
خیر، یہ تو آپ درست ہی فرما رہے ہیں کہ شعر میں خدا پر کمند ڈالنے کی بات ہو رہی ہے تاہم اس کے باوجود، پھر بھی، یعنی کہ، خوش گمانی :) اور ہاں، حد سے بڑھا ہوا مبالغہ عیب ہے، بجا ارشاد :)
 

عباد اللہ

محفلین
خیر، یہ تو آپ درست ہی فرما رہے ہیں کہ شعر میں خدا پر کمند ڈالنے کی بات ہو رہی ہے تاہم اس کے باوجود، پھر بھی، یعنی کہ، خوش گمانی :) اور ہاں، حد سے بڑھا ہوا مبالغہ عیب ہے، بجا ارشاد :)
اصل بات یہ تھی کہ فلسفۂ خودی اردو میں لکھا گیا ہے اور ساتھ میں یہ شعر کہ اسی فلسفہ کی غمازی کرتا ہے ۔میں نے فلسفے کے موضوع پر دو سطریں نہیں پڑھیں تو کیا کہوں
 
اصل بات یہ تھی کہ فلسفۂ خودی اردو میں لکھا گیا ہے اور ساتھ میں یہ شعر کہ اسی فلسفہ کی غمازی کرتا ہے ۔میں نے فلسفے کے موضوع پر دو سطریں نہیں پڑھیں تو کیا کہوں
عباد اللہ صاحب فلسفہ کی بحث شروع ہی حقیقت مطلق سے ہوتی، بڑے بڑے نظریات ملیں گے ایسے ہی چلتے چلتے حوصلہ رکھیں فلسفہ پڑھنا ہے تو۔
 
السلام علیکم! میرا ایک دوست ایک مقالے پرکام کر رہا ہے جس کا پہلا باب ما بعدالطبیعات سے ہی بحث کرتا ہے۔ وہ آپ کی اس سلسلے میں شاید کوئی مدد کرسکے۔ نام ہے ناصر وارثی اور نمبر یہ ہے [فون نمبر محذوف]
اس کے علاوہ اردو میں ان موضوعات پر بہت سی کتب لکھی گئی ہیں جن کا ذکر اکثر ایک دوست شبیر صاحب کرتے تھے۔ وہ میرے ایم فل کے کلاس فیلو تھے اور اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ بذاتِ خود(ان ہی کے بقول) اس حوالے سے 3300 صفحات لکھ چکے ہیں ان کا نمبر یہ ہے: [فون نمبر محذوف]
کافی عرصہ قبل ان حوالوں سے جو کچھ کتابیں نظروں سے گزری تھیں وہ یہ ہیں: ابنِ عربی اور اقبال، فلسفہ جذبات (اس میں ماورایت کے مباحث موجود ہیں)، فلسفہ اصول و مبادی کی روشنی میں (شاید یہ بھی کچھ کام دے سکے)۔ فلسفہ تسکینِ احساس۔ مابعدالطبیعیات کے حوالے سے اقبال پر جو کام ہوا وہ اہم ہے، اسی ضمن میں رفیع الدین ہاشمی صاحب نے اقبالیات تفہیم و تجزیہ کتاب تحریر کی اور اس میں اردو میں فلسفے پر لکھی جانے والی کئی کتب کے نام ہیں (میرا ذاتی خیال ہےکہ اس کتاب میں موجود دیگر کتب کے نام سب سے بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں کہ اردو میں اس حوالے سے کیا کچھ لکھا جا چکا ہے)۔ یہ کتاب آن لائن دستیاب ہے اور جو کتابیں میں نے پہلے بیان کیں وہ بھی آن لائن دستیاب ہیں۔

عباد اللہ
@ابومحمدعبداللہ
 
مدیر کی آخری تدوین:
مجھے مل گیا یہ شعر کچھ یوں ہے دوست
در دشتِ جنونِ من ،جبریل زبوں صیدی
یزداں بہ کمند آور، ای ہمتِ مردانہ
مطلب کہ میرے جنون کے صحرا میں جبریل کی حیثیت ایک صیدِ زبوں کی سی ہے اور خدا پر رسی ڈالو اے ہمتِ مردانہ
شاید اسی کو اردو میں انہوں نے یوں کہا تھا
"کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں"
لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ خود خدا کی ذات بھی اس گردوں میں شامل ہے!
خودی کی زد میں ہے ساری خدائی

بھی کہا ہے۔
 
السلام علیکم! میرا ایک دوست ایک مقالے پرکام کر رہا ہے جس کا پہلا باب ما بعدالطبیعات سے ہی بحث کرتا ہے۔ وہ آپ کی اس سلسلے میں شاید کوئی مدد کرسکے۔ نام ہے ناصر وارثی اور نمبر یہ ہے [فون نمبر محذوف]
اس کے علاوہ اردو میں ان موضوعات پر بہت سی کتب لکھی گئی ہیں جن کا ذکر اکثر ایک دوست شبیر صاحب کرتے تھے۔ وہ میرے ایم فل کے کلاس فیلو تھے اور اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ بذاتِ خود(ان ہی کے بقول) اس حوالے سے 3300 صفحات لکھ چکے ہیں ان کا نمبر یہ ہے: [فون نمبر محذوف]
کافی عرصہ قبل ان حوالوں سے جو کچھ کتابیں نظروں سے گزری تھیں وہ یہ ہیں: ابنِ عربی اور اقبال، فلسفہ جذبات (اس میں ماورایت کے مباحث موجود ہیں)، فلسفہ اصول و مبادی کی روشنی میں (شاید یہ بھی کچھ کام دے سکے)۔ فلسفہ تسکینِ احساس۔ مابعدالطبیعیات کے حوالے سے اقبال پر جو کام ہوا وہ اہم ہے، اسی ضمن میں رفیع الدین ہاشمی صاحب نے اقبالیات تفہیم و تجزیہ کتاب تحریر کی اور اس میں اردو میں فلسفے پر لکھی جانے والی کئی کتب کے نام ہیں (میرا ذاتی خیال ہےکہ اس کتاب میں موجود دیگر کتب کے نام سب سے بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں کہ اردو میں اس حوالے سے کیا کچھ لکھا جا چکا ہے)۔ یہ کتاب آن لائن دستیاب ہے اور جو کتابیں میں نے پہلے بیان کیں وہ بھی آن لائن دستیاب ہیں۔

عباد اللہ
@ابومحمدعبداللہ
ان کتب کے لنک ادھر لگا دیجئے تاکہ مجھ سمیت دلچسپی رکھنے والے محفلین استفادہ حاصل کر سکیں۔
 
مدیر کی آخری تدوین:
ان کتب کے لنک ادھر لگا دیجئے تاکہ مجھ سمیت دلچسپی رکھنے والے محفلین استفادہ حاصل کر سکیں۔

آپ ان کتب کے نام لکھ کر سرچ کیجیے۔ با آسانی مل جائیں گے۔ میں نے کافی عرصہ قبل ڈاونلوڈ کی تھیں لیکن یہ یقینا ابھی بھی موجود ہوں گی۔ میں نے کمپیوٹر میں لائبریری بنا رکھی ہے جس میں مختلف قسم کی کتابیں الگ الگ فولڈرز میں رکھی ہوئی ہیں۔ 1900 کتب ہیں۔ ڈاونلوڈ کرنے کے بعد لنک محفوظ نہیں رکھتا۔ آپ ایک بار کوشش کر کے دیکھ لیجیے اگر ڈاونلوڈ نہ ہوں تو میں آپ کو ارسال کر دوں گا بے فکر رہیے۔
 
اصل بات یہ تھی کہ فلسفۂ خودی اردو میں لکھا گیا ہے اور ساتھ میں یہ شعر کہ اسی فلسفہ کی غمازی کرتا ہے ۔میں نے فلسفے کے موضوع پر دو سطریں نہیں پڑھیں تو کیا کہوں

علامہ اقبال کا فلسفہ خودی درحقیقت فارسی میں ہے۔ ان کی کتاب رموزِ بیخودی میں علامہ اقبال نے خودی کے مرتبے کو پہنچنے کو مختلف مراحل بیان کیے ہیں جن میں ضبطِ نفس، نیابتِ الہی اور اطاعتِ الہی شامل ہیں۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ ہوچکا ہے بہت ہی خوبصورت شاعری ہے۔ خودی کو علامہ صاحب نے اردو میں بیان ہی نہیں کیا اس کے اشارے اشعار کی صورت میں موجود ہیں۔ خودی کا اصل فلسفہ اور معنی و مفاہیم پڑھنے سمجھنے کےلیے ان کی اس فارسی کتاب کا مطالعہ ازحد ضروری ہے۔
 
میں نے کمپیوٹر میں لائبریری بنا رکھی ہے جس میں مختلف قسم کی کتابیں الگ الگ فولڈرز میں رکھی ہوئی ہیں۔ 1900 کتب ہیں۔
اس حوالے سے ہم کافی سست واقع ہوئے ہیں۔ کتاب ڈاؤنلوڈ کی اور پھر پتہ نہیں کہاں کہاں پڑی ہوتی۔


آپ کے ذوق مطالعہ کی داد دیتے ہیں جناب۔
۔ آپ ایک بار کوشش کر کے دیکھ لیجیے اگر ڈاونلوڈ نہ ہوں تو میں آپ کو ارسال کر دوں گا بے فکر رہیے۔
بہت شکریہ جناب کا، نہ ملی تو پھر آپ کے پیچھے ہم دیکھنا کیسے پڑتے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
ابھی تک کسی نے یہ نہیں لکھا کہ ما بعد الطبیعات کو ما بعد الطبیعات کیوں کہتے ہیں۔ میٹافزکس یا ما بعد الطبیعات کا نام یوں پڑا کہ ارسطو کے بعد جب اس کا کام ایک ایڈیشن میں جمع کیا جا رہا تھا تو ایک ایڈیٹر صاحب نے ارسطو کے کچھ متفرقات مضامین کو جسے وہ فرسٹ فلاسفی کہتا تھا، فزکس کی کتاب کے بعد رکھ دیا اور اس کا نام رکھ دیا، میٹا فزکس یعنی فزکس کے بعد والی کتاب، ان مضامین کا یہی نام چل نکلا ، بعد میں آنے والے مفکرین نے اس کے لغوی معنی لے کر یعنی وہ موضوعات جو فزکس یا سائنس سے ماورا ہیں اس کو اور ہی رنگ دے دیا۔
 

arifkarim

معطل
ابھی تک کسی نے یہ نہیں لکھا کہ ما بعد الطبیعات کو ما بعد الطبیعات کیوں کہتے ہیں۔ میٹافزکس یا ما بعد الطبیعات کا نام یوں پڑا کہ ارسطو کے بعد جب اس کا کام ایک ایڈیشن میں جمع کیا جا رہا تھا تو ایک ایڈیٹر صاحب نے ارسطو کے کچھ متفرقات مضامین کو جسے وہ فرسٹ فلاسفی کہتا تھا، فزکس کی کتاب کے بعد رکھ دیا اور اس کا نام رکھ دیا، میٹا فزکس یعنی فزکس کے بعد والی کتاب، ان مضامین کا یہی نام چل نکلا ، بعد میں آنے والے مفکرین نے اس کے لغوی معنی لے کر یعنی وہ موضوعات جو فزکس یا سائنس سے ماورا ہیں اس کو اور ہی رنگ دے دیا۔
ایڈیٹر صاحب کو شائد اسوقت یہ معلوم نہیں تھا کہ انکی اس چھوٹی سی غلطی کے کتنے دور است نتائج نکلیں گے
 
Top