لمحۃ فکریہ

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

دلائل کی ضرورت نہیں ۔۔۔ جس کا کھائیے اسی کا گائیے۔

ميں آپ کی رائے کا احترام کرتا ہوں ليکن ميرا آپ سے سوال ہے کہ کيا يہ بہتر نہيں ہے کہ ميں انٹرنيٹ پر آپ لوگوں کے خيالات اور آراء سے امريکی حکومت کو آگاہ کروں۔ اردو فورمز پر دوستوں کی آراء جاننے کے علاوہ ميری يہ کوشش ہوتی ہے کہ جذباتيت اور غلط عمومی تاثر کے برعکس امريکی حکومت کا اصل موقف آپ تک پہنچاؤں۔ ميرا مقصد امريکہ کی خارجہ پاليسيوں کے ليے حمايت حاصل کرنا نہيں ہے بلکہ ايک تعميری بحث کے ليے بنياد فراہم کرنا ہے۔ ميرا "ايجنڈا" صرف اتنا ہے کہ دوسرے فريق کا نقطہ نظر بھی آپ کے سامنے پيش کروں تا کہ آپ ايک متوازن رائے قائم کر سکيں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
http://usinfo.state.gov
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

قبلہ ۔۔ ایسا ہی معاملہ 71 ہوا تھا نقشے آچکے تھے

يہ بات خاصی حيران کن ہے کہ کچھ دوست اب بھی 1971 ميں پاکستان کے نقشے ميں تبديلی کا قصوروار امريکہ کو قرار ديتے ہيں۔ اگر آپ اس دور کی تاريخی دستاويز اور ميڈيا رپورٹس ديکھيں تو آپ پر يہ واضح ہو جائے گا کہ امريکہ نے کئ بار پاکستان کو يہ باور کروايا کہ اگر پاکستان نے اس مسلئے کو سياسی بنيادوں پر حل نہيں کيا تو اس تناظے کا انجام جنگ کی صورت ميں نکلے گا۔

امريکی حکومت کی سرکاری دستاويزات کے مطالعے سے يہ بات واضح ہے کہ امريکی حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر اور نجی ملاقاتوں ميں پاکستان کے قائدين کے ذريعے اس مسلئے کے سياسی حل کے ليے کئ کوششيں کی گئ تھيں۔ امريکی حکومت کی جانب سے پاکستان اور بھارت پر يہ بات بھی واضح کر دی گئ تھی کہ جنگ کی صورت ميں امريکہ دونوں ممالک کو کسی بھی قسم کی فوجی امداد فراہم نہيں کرے گا البتہ مہاجرين کی آبادکاری کے ضمن ميں شروع کيے گئے پروگرام اور اس حوالے سے مالی امداد جاری رہے گئ۔

ميں يہاں پر کچھ دستاويزات کا ويب لنک دے رہا ہوں جن کے مطالعے سے آپ کو 1971 کی جنگ ميں امريکی کردار سمجھنے ميں مدد ملے گی۔

http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689724&da=y

http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689725&da=y

http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689726&da=y


پاک بھارت 1971 کی جنگ میں امريکہ کا کردار سمجھنے کے ليے 7 دسمبر 1971 کو وائٹ ہاؤس ميں ہنری کسنجر کی يہ پريس کانفرنس نہايت اہم ہے۔ دلچسپ بات يہ ہے کہ اس وقت سفارتی سطح پر امريکہ پر اس حوالے سے کڑی تنقيد کی جا رہی تھی کہ امريکہ کا جھکاؤ بھارت کے مقابلے ميں مکمل طور پر پاکستان کی جانب تھا،جيسا کہ پريس کانفرنس ميں کيے جانے والے مختلف سوالوں سے واضح ہے۔

http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689727&da=y


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
http://usinfo.state.gov
 

مغزل

محفلین
قبلہ کن کی باتوں میں آگئے ہیں آپ ۔۔۔
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ان معاملات میں‌کون ملوث ہے۔
اب آپ کی سادہ لوحی پہ مسکرایا اور اغیار پرستی پہ رویا ہی جاسکتا ہے۔
پھر بھی خوش رہیئے جناب۔

بے وفا لاکھ منتیں کرلے
میں نے اب ماننا تو ہے ہی نہیں۔
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اسی طرح کے اور نقشے پینٹاگون کی سائٹ پر موجود ہیں۔
آپ احباب اپنے گھر سے دور کسی کیفے سے اس سائٹ کا مشاہدہ
کیجئے گا۔۔۔ (باقی آپ خود سمجھدار ہیں)

محترم،

آپ کی رائے ميں تضاد ہے۔ ايک طرف تو آپ يہ دعوی کر رہے ہيں کہ پينٹاگان نے اپنی ويب سائٹ پر ايسے نقشے پوسٹ کيے ہيں جن سے مستقبل ميں پاکستان کی تقسيم کے حوالے سے منصوبوں کا پتا چلتا ہے اور دوسری جانب آپ سب کو خبردار بھی کر رہے ہيں کہ اس ويب سائٹ پر جانے سے احتياط سے کام ليں ورنہ آپ امريکی حکام کے زير اعتاب آ جائيں گے۔

ميرے خيال ميں تو ويب سائٹ بنانے کا مقصد ہی يہ ہوتا ہے کہ آپ زيادہ سے زيادہ لوگوں کے ساتھ اپنی معلومات شير کرنا چاہتے ہيں۔ امريکی حکام کسی ويب سائٹ پر معلومات شائع کرنے کے بعد لوگوں تک اس کی رسائ روکنے کی کوشش کيوں کريں گے؟ اس کی مثال تو ايسے ہی ہے کہ جيسے آپ منافع کے ليے کوئ کتاب لکھيں اور اس کے بعد بک سٹور کے بعد پوليس بٹھا ديں اور انھيں يہ ہدايت ديں کہ جو بھی آپ کی کتاب پڑھنے کی کوشش کرے اسے گرفتار کر ليا جائے۔

ويسے ريکارڈ کی درستگی کے ليے بتا دوں کہ پينٹاگان کی ويب سائٹ پر ايسے کوئ نقشے نہيں ہيں جن ميں پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے "امريکی منصوبوں" کی نشاندہی ہو۔ اس کے برعکس آپ کو ايسے بہت سے اعداد وشمار اور رپورٹس مليں گی جن سے آپ کو پتا چلے گا کہ امريکی حکومت نے پاکستان کے عوام کی بہتری کے ليے تعليم، صحت اور زراعت کے شعبوں کی ترقی کے ضمن ميں خاطر خواہ امداد دی ہے۔ يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کی جانب سے ميں آپ کو يقين دلاتا ہوں کہ آپ بغير کسی خوف وخطر پينٹاگان کی ويب سائٹ پر جا سکتے ہيں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
http://usinfo.state.gov
 

خرم

محفلین
مغل بھیا اگر الزام لگایا ہے تو اس کی تحقیق تو کرلیجئے۔ وگرنہ پھر یہ کہ "بخدا ہم امریکہ کے دشمن نہیں اپنے تصورات کے غلام ہیں" (مغل اعظم کے مکالمہ نگار سے معذرت کے ساتھ)
 

arifkarim

معطل
فواد صاحب خوامخواہ ہمیں دلاسے دے رہے ہیں کہ کچھ نہیں‌ ہوگا۔ ابھی کچھ سال تک یہ سوال میں‌ انسے دوبارہ پوچھوں گا!
 

خرم

محفلین
فواد کے دلاسوں کو چھوڑئیے، آپ اپنے ملک کے حالات کو درست کرنے کی ذمہ داری کب اٹھا رہے ہیں؟ بلکہ یوں‌کہوں گا کہ پاکستان میں بسنے والے پاکستان کے حالات کو درست کرنے کی ذمہ داری کب اٹھا رہے ہیں؟ فی الحال تو یہ لگتا ہے کہ آپ ان مجوزہ نقشوں کے حقیقت بننے کے (خاکم بدہن) منتظر ہیں تاکہ امریکہ پر مزید اعتراض کرسکیں۔ اس سے زیادہ تن آسانی اور خودفریبی بھی کیا ہوگی؟
 

arifkarim

معطل
فواد کے دلاسوں کو چھوڑئیے، آپ اپنے ملک کے حالات کو درست کرنے کی ذمہ داری کب اٹھا رہے ہیں؟ بلکہ یوں‌کہوں گا کہ پاکستان میں بسنے والے پاکستان کے حالات کو درست کرنے کی ذمہ داری کب اٹھا رہے ہیں؟ فی الحال تو یہ لگتا ہے کہ آپ ان مجوزہ نقشوں کے حقیقت بننے کے (خاکم بدہن) منتظر ہیں تاکہ امریکہ پر مزید اعتراض کرسکیں۔ اس سے زیادہ تن آسانی اور خودفریبی بھی کیا ہوگی؟
ہاہاہاہا، خرم پاکستان کے حالات کی درستگی ریاست ہائے امریکہ یا ناروے میں‌ چیخ و پکار کر کے نہیں‌ ہوگی!
پاکستان کی بہتری خود پاکستان جاکر اپنے وطن کیلئے جد و جہد کر نے سے حاصل ہوگی۔
کیچڑ صاف کرنے کیلئے کیچڑ میں اترنا پڑتا۔ باہر کھڑے ہو کر خالی پھونکیں‌ مارنے سے کتنی کو صفائی ہو جائے گی؟! :rolleyes:
 

خرم

محفلین
بہت خوب۔ یہی تو میرا سوال ہے۔ آپ لوگ جو کیچڑ میں ہیں، وہ کیا کر رہے ہیں؟ اور پاکستان جاکر کس قسم کی جدوجہد کی آپ توقع رکھیں‌گے ہم سے؟
 

arifkarim

معطل
بہت خوب۔ یہی تو میرا سوال ہے۔ آپ لوگ جو کیچڑ میں ہیں، وہ کیا کر رہے ہیں؟ اور پاکستان جاکر کس قسم کی جدوجہد کی آپ توقع رکھیں‌گے ہم سے؟
جن پاکستانیوں سے میرا رابطہ ہے، انکے مطابق فی الحال تو عذاب قبر کے مزے لے رہے ہیں۔۔۔۔
دراصل عوام اتنے مایوس ہو چکے ہیں کہ بہتری کی امنگ ہی اب انکے دلوں میں ختم ہو گئی ہے :(
 

خرم

محفلین
بھائی عوام نے بہتری کی کوشش ہی کب کی؟ اور جو اپنے تئیں پہلے ہی عذاب قبر میں گرفتار ہیں، ان کو قیامت سے پہلے نوشتہ حیات سنایا بھی کیسے جائے؟ وہ تو اسی پر خوش ہیں کہ عذاب میں ہیں تو کیا، کچھ کرنا تو نہیں پڑتا۔
شعر موزوں ہوگیا ہے۔
خود فریبی، کم ہمتی و تن آسانی
اک جا ہوں تو بنتا ہے پاکستانی
 

مغزل

محفلین
جن پاکستانیوں سے میرا رابطہ ہے، انکے مطابق فی الحال تو عذاب قبر کے مزے لے رہے ہیں۔۔۔۔
دراصل عوام اتنے مایوس ہو چکے ہیں کہ بہتری کی امنگ ہی اب انکے دلوں میں ختم ہو گئی ہے :(

مجھے اس بات سے کلی اتفاق نہیں۔۔
کیوں کہ میرا مشاہد ہ ہے کہ اب بھی لوگوں‌کے دلوں بہتری کی امنگ
موجود ہے ۔۔عنقریب ہم سب دیکھیں گے کہ یہ تین ساڑھے تین لاکھ
افراد ۔۔۔ ایوان اور قصر کے سامنے ۔۔۔۔ اکائی کی علامت کے طور
پر پورے پاکستان کی ترجمانی کرتے نظر آئیں گے۔۔۔۔ ایک مزے کی
بات بتاؤں کہ۔۔۔ ان کا کوئی لیڈر نہیں ہوگا۔۔۔یہ سب کے سب اپنی
ذات میں رہنما ہونگے۔۔۔۔۔

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔۔ جب تخت اچھالے جائیں گے۔۔
بس نام رہے گا اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔

والسلام
 

مغزل

محفلین
بھائی عوام نے بہتری کی کوشش ہی کب کی؟ اور جو اپنے تئیں پہلے ہی عذاب قبر میں گرفتار ہیں، ان کو قیامت سے پہلے نوشتہ حیات سنایا بھی کیسے جائے؟ وہ تو اسی پر خوش ہیں کہ عذاب میں ہیں تو کیا، کچھ کرنا تو نہیں پڑتا۔
شعر موزوں ہوگیا ہے۔
خود فریبی، کم ہمتی و تن آسانی
اک جا ہوں تو بنتا ہے پاکستانی


اوّل تو موزوں نہیں ہوا۔۔۔اگر آپ بضد ہوں۔۔ پھر بھی چربہ ہے ۔۔۔ کچھ اپنا کہیئے ۔۔ اقبال کے ٹکڑے مت کھائیے۔۔۔۔۔۔۔:grin:
 

خرم

محفلین
بھیا مجھے تو شاعری چھوڑ تک بندی کا بھی دعوٰی نہیں۔ لہر میں جو بات شعر نما ہو گئی تو کہہ ڈالی۔ جب دل جلا ہو تو جو آئے نوکِ قلم پر رقم کر دیتے ہیں۔ اور یہ تین ساڑھے تین لاکھ کی بات آپ نے خوب کہی جن کا کوئی راہنما ہی نہ ہوگا۔ اب ایسے ہجوم کا مقدر کیا ہوتا ہے جس کا کوئی رہنما نہ ہو اور جس میں ہر ایک اپنا رہنما خود ہی ہو یہ جاننے کے لئے کسی فلسفے کی ڈگری نہیں‌چاہئے۔ بھیڑ بکریوں کی مانند یہ ریوڑ بھی کچھ توڑ پھوڑ کرکے رخصت ہو جائے گا۔ ارے جو آپس میں سے ہی کسی ایک کی رہنمائی پر متفق نہیں ہو سکتے وہ کوئی تبدیلی کیا لائیں گے اور قوم کو مژدہ جانفزا کیا سُنائیں گے؟ نپولین کہتا تھا کہ اگر گیدڑوں کی فوج کا سربراہ ایک شیر ہو تو وہ اپنی سپاہ کو فتح سے ہمکنار کر دے گا اور اگر شیروں کی فوج کا سربراہ ایک گیدڑ ہو تو وہ شیروں کی فوج کو شکست سے دوچار کروا دے گا۔ لیڈرشپ جانداروں میں نایاب ترین جنس ہے اور آپ اس کی ارزانی کا دعوٰی کرتے ہیں؟
عقل و فہم و تاریخ و فطرت انسانی سے اتنی بیگانگی اور دعوٰی اندھیروں کو دور کرنے کا؟ اب کوئی کیا کہے اور کسے سمجھائے۔ سب ہی افیونچی ہیں۔
 

arifkarim

معطل
بھیا مجھے تو شاعری چھوڑ تک بندی کا بھی دعوٰی نہیں۔ لہر میں جو بات شعر نما ہو گئی تو کہہ ڈالی۔ جب دل جلا ہو تو جو آئے نوکِ قلم پر رقم کر دیتے ہیں۔ اور یہ تین ساڑھے تین لاکھ کی بات آپ نے خوب کہی جن کا کوئی راہنما ہی نہ ہوگا۔ اب ایسے ہجوم کا مقدر کیا ہوتا ہے جس کا کوئی رہنما نہ ہو اور جس میں ہر ایک اپنا رہنما خود ہی ہو یہ جاننے کے لئے کسی فلسفے کی ڈگری نہیں‌چاہئے۔ بھیڑ بکریوں کی مانند یہ ریوڑ بھی کچھ توڑ پھوڑ کرکے رخصت ہو جائے گا۔ ارے جو آپس میں سے ہی کسی ایک کی رہنمائی پر متفق نہیں ہو سکتے وہ کوئی تبدیلی کیا لائیں گے اور قوم کو مژدہ جانفزا کیا سُنائیں گے؟ نپولین کہتا تھا کہ اگر گیدڑوں کی فوج کا سربراہ ایک شیر ہو تو وہ اپنی سپاہ کو فتح سے ہمکنار کر دے گا اور اگر شیروں کی فوج کا سربراہ ایک گیدڑ ہو تو وہ شیروں کی فوج کو شکست سے دوچار کروا دے گا۔ لیڈرشپ جانداروں میں نایاب ترین جنس ہے اور آپ اس کی ارزانی کا دعوٰی کرتے ہیں؟
عقل و فہم و تاریخ و فطرت انسانی سے اتنی بیگانگی اور دعوٰی اندھیروں کو دور کرنے کا؟ اب کوئی کیا کہے اور کسے سمجھائے۔ سب ہی افیونچی ہیں۔
خرم آپ کی فلسفیانہ باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں۔۔۔۔۔
تاریخ‌ گواہ ہے کہ ذالفقار علی بھٹو جیسا لیڈر پاکستان میں‌ نہ پہلے تھا، نہ بعد میں‌ آیا۔ پوری قوم اسکے ساتھ تھی۔۔۔۔ پھر آخر کیا وجہ تھی کہ وہ پاکستان کے حالات نہ بدل سکا۔ اسی طرح کیوبا کا لیڈر فیڈل کاسٹرو بھی اتنے سال اپنی عوام کا ساتھ ہوتے ہوئے بھی کیوبا کے حالا ت نہ بدل سکا۔۔۔ پس ثابت ہوا کہ جو امریکہ کا دوست ہے، حالات وہی لیڈر بدل سکتا ہے۔۔۔۔۔ بھٹو نے امریکہ کا خط پھاڑا:‌ پھانسی چڑھ گیا۔۔۔۔۔ فیڈل کاسٹرو نے امریکہ کو گھاس نہیں ‌ ڈالی اور کیوبا ہمیشہ کیلئے امریکہ کا محتاج ہو گیا!
یہ کتابی باتیں‌اپنے پاس ہی رکھیے۔۔۔۔۔
 

خرم

محفلین
آپ لوگوں کی سمجھ نہیں آتی۔ امریکہ سے ناراضگی بھی اور یہ بھی یقین کہ جو امریکہ چاہے گا وہی ہوگا۔ آخر آپ لوگ ہیں کیا؟ کسی ایک طرف کے تو ہو رہئے۔ اگر عمل کرنے کی بات آئے تو کتابی باتیں کہہ کر پہلو بچا جائیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اگر اپنے عوام سے سچا ہوتا تو ضرور ان کی قسمت بدلتا۔ اسی طرح فیدل کاسترو بھی اگر اپنے عوام سے محبت کرتا تو ان کی حالت بدل دیتا۔ جن لوگوں کی سوچ ان کی اپنی ذات سے اوپر ہی نہ گئی وہ اس سے زیادہ کر بھی کیا سکتے تھے جو انہوں نے کیا؟ خیر جیسا بیج ویسا پھل اس مردہ قوم سے اور توقع بھی کیسی لیڈر شپ کی ہو سکتی ہے۔ اگر پاکستان کے باشعور طبقے کی غمازی اس فورم پر ہورہی ہے تو پھر کیا عجب کہ چند ہزار وحشی اس سارے ملک کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں؟ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ شائد اس قوم سے بہتر ہوگا۔
 

arifkarim

معطل
آپ لوگوں کی سمجھ نہیں آتی۔ امریکہ سے ناراضگی بھی اور یہ بھی یقین کہ جو امریکہ چاہے گا وہی ہوگا۔ آخر آپ لوگ ہیں کیا؟ کسی ایک طرف کے تو ہو رہئے۔ اگر عمل کرنے کی بات آئے تو کتابی باتیں کہہ کر پہلو بچا جائیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اگر اپنے عوام سے سچا ہوتا تو ضرور ان کی قسمت بدلتا۔ اسی طرح فیدل کاسترو بھی اگر اپنے عوام سے محبت کرتا تو ان کی حالت بدل دیتا۔ جن لوگوں کی سوچ ان کی اپنی ذات سے اوپر ہی نہ گئی وہ اس سے زیادہ کر بھی کیا سکتے تھے جو انہوں نے کیا؟ خیر جیسا بیج ویسا پھل اس مردہ قوم سے اور توقع بھی کیسی لیڈر شپ کی ہو سکتی ہے۔ اگر پاکستان کے باشعور طبقے کی غمازی اس فورم پر ہورہی ہے تو پھر کیا عجب کہ چند ہزار وحشی اس سارے ملک کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں؟ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ شائد اس قوم سے بہتر ہوگا۔
ظاہر ہے جسکی لاٹھی اسکی بھینس! امریکہ کے پاس طاقت ہے، وہ جو چاہے کرے۔ اس کی ناجائز طاقت کے استعمال پر تنقید کرتے ہیں تو آپ کو برا لگاتا ہے۔ پاکستانی قوم کبھی بھی مردہ نہ تھی اگر اسے امریکی امداد نہ ملتی۔۔۔ 1965 اور 1971 کی جنگ میں‌اسلحہ کس نے فراہم کیا؟ امریکہ نے۔۔۔۔۔۔۔۔ طالبان کسنے بنائے ؛ امریکہ نے۔۔۔۔۔ جب غلاظت باہر سے مسلت کی جائے تو غریب اور مقروض‌ قوموں‌ کا یہی حال ہوتا ہے۔۔۔۔
 

خرم

محفلین
ظاہر ہے جسکی لاٹھی اسکی بھینس! امریکہ کے پاس طاقت ہے، وہ جو چاہے کرے۔ اس کی ناجائز طاقت کے استعمال پر تنقید کرتے ہیں تو آپ کو برا لگاتا ہے۔ پاکستانی قوم کبھی بھی مردہ نہ تھی اگر اسے امریکی امداد نہ ملتی۔۔۔ 1965 اور 1971 کی جنگ میں‌اسلحہ کس نے فراہم کیا؟ امریکہ نے۔۔۔۔۔۔۔۔ طالبان کسنے بنائے ؛ امریکہ نے۔۔۔۔۔ جب غلاظت باہر سے مسلت کی جائے تو غریب اور مقروض‌ قوموں‌ کا یہی حال ہوتا ہے۔۔۔۔
معاف کیجئے گا لیکن آپکی باتوں سے ذمہ داریوں سے پہلو تہی کے رویہ کی بُو آتی ہے۔ امریکہ نے پاکستان کو اسلحہ بیچا اور امداد میں بھی دیا۔ اس کے بدلے میں پاکستان نے ان کے کچھ کام کئے۔ اگر پاکستانی اپنے معاملات کو خود حل نہیں کرسکے تو اس میں ان کا اپنا قصور ہے۔ امریکہ سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک آپ کے حالات سدھارنے نہیں آئے گا۔ یہ آپکی ذمہ داری ہے اور اسے آپ کو ہی نبھانا ہے۔ لین دین اس دنیا کا اصول ہے اور کسی بھی سودے میں اپنے مفاد کی حفاظت آپکی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے۔ طالبان امریکہ نے نہیں پاکستان نے بنائے تھے اور وہی کردار افغانستان میں ادا کیا تھا جس کا شکوہ ہمیں امریکہ سے رہا۔ باقی رہ گئی بات غلاظت کی تو وہ اندر ہے۔ باہر سے کوئی آپ پر کچھ مسلط نہیں کرسکتا۔ پاکستان کی غلاظت اس کی عوام کی اپنی ہے اور تن آسانی یہ ہے کہ اپنی ہی غلاظت میں لت پت پڑے اوروں سے شکوہ کر رہے ہیں کہ ہمیں اس غلاظت سے باہر کیوں نہیں نکالتے؟ آخر کوئی آپکی اس حالت پر ترس بھی کیوں کھائے؟
 
Top