لبیک لبیک لبیک یارسول اللہ

ضیاء حیدری

محفلین
چھینی ہوائے غرب نے فیشن کے نام پر
سیدانیوں کے سر کی ردا یا علی مدد
نئے شادی شدہ جوڑے اور نوجوان بچیوں کا ڈانس مارننگ شوز کو چار چاند لگادیتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ڈراموں اور مارننگ شوز کی ایسی بے ہودہ کہانیاں اور اخلاقیات سے گرے ہوئے مناظر صرف اس لئے کہ کہیں ان کی ریٹنگ نہ گرجائے اور مطلوبہ اشتہارات سے محروم نہ رہ جائیں۔
 

ضیاء حیدری

محفلین
لبیک یا رسول اللہ!
دم ہمہ دم علی علی
تحریک لبیک یا رسول اللہ ” نہ سیاسی نہ فرقہ بندی” کی کوئی صورت ہے۔یہ کامل ایمان والوں کی ایک تحریک ہے۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ ایک ایسی تحریک ہے جس کی بنیاد آج سے نہیں بلکہ ساڑھے چودہ سوسال قبل سے ہے۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ کا کسی فرقہ واردیت سے کوئی تعلق نہیں تحریک کا ہر وہ خوش نصیب شخص کارکن ہے جس کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی، خواہ اس کا تعلق امت محمدیہ کے 72 فرقوں میں سے کسی سے بھی ہو کیونکہ تحریک لبیک یارسول اللہ کسی قسم کی فقی اختلافات سے انکار نہیں کرتی بلکہ دو ٹوک شفاف الفاظ میں اپنا مقصدِ تحریک بیان کرتی ہے کہ ” آنحضرت ۖ پر ہر طرح کی نبوت و رسالت ختم ہے۔ آپ ۖ بلا استثناء آخری نبی ہیں۔ آپۖ کے بعد کوئی نبی یا رسول پیدا نہیں ہوگا۔

چونکہ آپۖ نے پیشنگوئی فرما دی تھی کہ میرے بعد دجال اور جھوٹے آئیں گے جو نبی ہونے کا دعوی کریں گے.حضرت ثوبان راوی ہیں کہ آنحضرت ۖ نے فرمایا ہے

ترجمہ:قیامت اُس وقت تک نہیں قائم ہو سکتی جب تک کہ بہت سے دجال اور جھوٹے نہ اُٹھائے جائیں جن میں سے ہر ایک یہ کہتا ہو کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خا تم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں۔(ابو داود، ترمذی)

چنانچہ نبی آخرالزماں محمد ۖ کے دور حیات کے آخری حصے میں مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے عقیدہ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے جھوٹا دعوی نبوت کیا۔جھوٹے مدعیان نبوت کے دجل و کذب کا جو سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا آج مرزا غلام احمد قادیانی تک اس کا تسلسل جاری ہے۔

ختم نبوت قرآن کی روشنی میں
ویسے تو قرآنِ پاک میں سو سے زائد آیات میں معنی و مفہوم کے اعتبار سے ختم نبوت کے مسئلہ کو ذکر فرمایا ہے لیکن یہاں صرف چند حوالوں پر اکتفا کیا جا تا ہے۔

ترجمہ: نہیں ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام انبیاء کے ختم کرنیوالے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔( سورة الاحزاب، نمبر 33 آیت نمبر 40)

ترجمہ: ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی۔( سورة–مائدہ نمبر 5 آیت نمبر3 )

ترجمہ: اور جب اللہ نے انبیاء سے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کردوں پھر تمہارے پاس وہ رسول تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور ان کی مدد کرو گے۔( آل عمران سورة نمبر 3 آیت نمبر :81)

ختم نبوت احاد یث کی روشنی میں
١: حضرت ابو ہریرہ آنحضرت ۖ سے روایت کرتے ہیں کہ آپۖ نے فرمایا:
کہ میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی گھر بنایا ہو اور اُس کو آراستہ پیراستہ کیا ہو مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ہو اور لو گ اُس کے پاس چکر لگاتے اور خوش ہوتے ہوں اورکہتے ہوں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی، فرمایا آنحضرت ۖ نے کہ پس وہ آخری اینٹ میں ہی ہوں اور میں ہی خا تم النبیین ہوں۔ بخاری ومسلم

2: حضرت ابو ہریرہ آنحضرت ۖ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپۖ نے فرمایا
مجھے تمام انبیاء پر چھ وجہ سے فضیلت دی گئی جس میں پانچویں آپۖ نے یہ ارشاد فرمائی کہ مجھے تمام خلقت کی طرف بھیجا گیا اور چھٹی یہ کہ میرے ساتھ تمام انبیاء کو ختم کیا گیا۔ رواہ مسلم فی الفضائل

3: حضور رحمتِ عالم ۖ نے اپنے خاتم النبیین ہونے کی خصوصیت کا خود اعلان فرمایا۔ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ۖ نے فرمایا

ترجمہ: سلسلہ نبوت و رسالت منقطع ہو چکا ہے سو میرے بعد نہ کوئی رسول ہو گا اور نہ کوئی نبی (ترمذی)
 

محمد وارث

لائبریرین
تحریک لبیک یا رسول اللہ ” نہ سیاسی نہ فرقہ بندی” کی کوئی صورت ہے۔یہ کامل ایمان والوں کی ایک تحریک ہے۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ ایک ایسی تحریک ہے جس کی بنیاد آج سے نہیں بلکہ ساڑھے چودہ سوسال قبل سے ہے۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ کا کسی فرقہ واردیت سے کوئی تعلق نہیں تحریک کا ہر وہ خوش نصیب شخص کارکن ہے جس کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی، خواہ اس کا تعلق امت محمدیہ کے 72 فرقوں میں سے کسی سے بھی ہو کیونکہ تحریک لبیک یارسول اللہ کسی قسم کی فقی اختلافات سے انکار نہیں کرتی بلکہ دو ٹوک شفاف الفاظ میں اپنا مقصدِ تحریک بیان کرتی ہے کہ ” آنحضرت ۖ پر ہر طرح کی نبوت و رسالت ختم ہے۔ آپ ۖ بلا استثناء آخری نبی ہیں۔ آپۖ کے بعد کوئی نبی یا رسول پیدا نہیں ہوگا۔

چونکہ آپۖ نے پیشنگوئی فرما دی تھی کہ میرے بعد دجال اور جھوٹے آئیں گے جو نبی ہونے کا دعوی کریں گے.حضرت ثوبان راوی ہیں کہ آنحضرت ۖ نے فرمایا ہے

ترجمہ:قیامت اُس وقت تک نہیں قائم ہو سکتی جب تک کہ بہت سے دجال اور جھوٹے نہ اُٹھائے جائیں جن میں سے ہر ایک یہ کہتا ہو کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خا تم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں۔(ابو داود، ترمذی)

چنانچہ نبی آخرالزماں محمد ۖ کے دور حیات کے آخری حصے میں مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے عقیدہ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے جھوٹا دعوی نبوت کیا۔جھوٹے مدعیان نبوت کے دجل و کذب کا جو سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا آج مرزا غلام احمد قادیانی تک اس کا تسلسل جاری ہے۔

ختم نبوت قرآن کی روشنی میں
ویسے تو قرآنِ پاک میں سو سے زائد آیات میں معنی و مفہوم کے اعتبار سے ختم نبوت کے مسئلہ کو ذکر فرمایا ہے لیکن یہاں صرف چند حوالوں پر اکتفا کیا جا تا ہے۔

ترجمہ: نہیں ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام انبیاء کے ختم کرنیوالے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔( سورة الاحزاب، نمبر 33 آیت نمبر 40)

ترجمہ: ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی۔( سورة–مائدہ نمبر 5 آیت نمبر3 )

ترجمہ: اور جب اللہ نے انبیاء سے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کردوں پھر تمہارے پاس وہ رسول تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور ان کی مدد کرو گے۔( آل عمران سورة نمبر 3 آیت نمبر :81)

ختم نبوت احاد یث کی روشنی میں
١: حضرت ابو ہریرہ آنحضرت ۖ سے روایت کرتے ہیں کہ آپۖ نے فرمایا:
کہ میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی گھر بنایا ہو اور اُس کو آراستہ پیراستہ کیا ہو مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ہو اور لو گ اُس کے پاس چکر لگاتے اور خوش ہوتے ہوں اورکہتے ہوں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی، فرمایا آنحضرت ۖ نے کہ پس وہ آخری اینٹ میں ہی ہوں اور میں ہی خا تم النبیین ہوں۔ بخاری ومسلم

2: حضرت ابو ہریرہ آنحضرت ۖ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپۖ نے فرمایا
مجھے تمام انبیاء پر چھ وجہ سے فضیلت دی گئی جس میں پانچویں آپۖ نے یہ ارشاد فرمائی کہ مجھے تمام خلقت کی طرف بھیجا گیا اور چھٹی یہ کہ میرے ساتھ تمام انبیاء کو ختم کیا گیا۔ رواہ مسلم فی الفضائل

3: حضور رحمتِ عالم ۖ نے اپنے خاتم النبیین ہونے کی خصوصیت کا خود اعلان فرمایا۔ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ۖ نے فرمایا

ترجمہ: سلسلہ نبوت و رسالت منقطع ہو چکا ہے سو میرے بعد نہ کوئی رسول ہو گا اور نہ کوئی نبی (ترمذی)
ختمِ نبوت پر ہمارا بھی کامل ایمان ہے، تحریکِ لبیک پر ایک ذرہ بھر بھی ایمان نہیں!
 

ضیاء حیدری

محفلین
ختمِ نبوت پر ہمارا بھی کامل ایمان ہے، تحریکِ لبیک پر ایک ذرہ بھر بھی ایمان نہیں!
حضور رحمتِ عالم ۖ نے اپنے خاتم النبیین ہونے کی خصوصیت کا خود اعلان فرمایا۔ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ۖ نے فرمایا
ترجمہ: سلسلہ نبوت و رسالت منقطع ہو چکا ہے سو میرے بعد نہ کوئی رسول ہو گا اور نہ کوئی نبی (ترمذی)

تحریک لبیک یارسول اللہ کسی قسم کی فقی اختلافات سے انکار نہیں کرتی بلکہ دو ٹوک شفاف الفاظ میں اپنا مقصدِ تحریک بیان کرتی ہے کہ ” آنحضرت ۖ پر ہر طرح کی نبوت و رسالت ختم ہے۔ آپ ۖ بلا استثناء آخری نبی ہیں۔ آپۖ کے بعد کوئی نبی یا رسول پیدا نہیں ہوگا۔
تحریک لبیک یارسول اللہ نے جس پامردی ناموس رسالت ﷺ کے لئے اسٹینڈ لیا وہ لائق تعریف ہے، آج ہر کوئی اس کو سراہتا ہے۔
 

ضیاء حیدری

محفلین
حضور رحمتِ عالم ۖ نے اپنے خاتم النبیین ہونے کی خصوصیت کا خود اعلان فرمایا۔ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ۖ نے فرمایا
ترجمہ: سلسلہ نبوت و رسالت منقطع ہو چکا ہے سو میرے بعد نہ کوئی رسول ہو گا اور نہ کوئی نبی (ترمذی)

تحریک لبیک یارسول اللہ کسی قسم کی فقی اختلافات سے انکار نہیں کرتی بلکہ دو ٹوک شفاف الفاظ میں اپنا مقصدِ تحریک بیان کرتی ہے کہ ” آنحضرت ۖ پر ہر طرح کی نبوت و رسالت ختم ہے۔ آپ ۖ بلا استثناء آخری نبی ہیں۔ آپۖ کے بعد کوئی نبی یا رسول پیدا نہیں ہوگا۔
تحریک لبیک یارسول اللہ نے جس پامردی ناموس رسالت ﷺ کے لئے اسٹینڈ لیا وہ لائق تعریف ہے، آج ہر کوئی اس کو سراہتا ہے۔
 

عرفان سعید

محفلین
حضور رحمتِ عالم ۖ نے اپنے خاتم النبیین ہونے کی خصوصیت کا خود اعلان فرمایا۔ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ۖ نے فرمایا
ترجمہ: سلسلہ نبوت و رسالت منقطع ہو چکا ہے سو میرے بعد نہ کوئی رسول ہو گا اور نہ کوئی نبی (ترمذی)

تحریک لبیک یارسول اللہ کسی قسم کی فقی اختلافات سے انکار نہیں کرتی بلکہ دو ٹوک شفاف الفاظ میں اپنا مقصدِ تحریک بیان کرتی ہے کہ ” آنحضرت ۖ پر ہر طرح کی نبوت و رسالت ختم ہے۔ آپ ۖ بلا استثناء آخری نبی ہیں۔ آپۖ کے بعد کوئی نبی یا رسول پیدا نہیں ہوگا۔
تحریک لبیک یارسول اللہ نے جس پامردی ناموس رسالت ﷺ کے لئے اسٹینڈ لیا وہ لائق تعریف ہے، آج ہر کوئی اس کو سراہتا ہے۔
سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان واضح تصریحات کے بعد کسی مسلمان کے دل میں ختمِ نبوت کے متعلق رتی برابر بھی شک نہیں گزر سکتا۔ تحریک لبیک کی اعانت کی ضرورت نہیں۔
 

ضیاء حیدری

محفلین
سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان واضح تصریحات کے بعد کسی مسلمان کے دل میں ختمِ نبوت کے متعلق رتی برابر بھی شک نہیں گزر سکتا۔ تحریک لبیک کی اعانت کی ضرورت نہیں۔
محض مسلمان ہونے کا دعوٰی کرکے دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ہے اراکینِ اسمبلی کے حلف نامہ میں ختمِ نبوت کی شق سے متعلق سب جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ گہری سازش کے تحت کیا گیا تھا، اگر تحریک لبیک بروقت جرات سے نہ کھڑی ہوتی تو سازش کامیاب ہوجاتی، اب مانیں یا مانیں دین کو سب سے زیادہ نقصان منافقین کی طرف سے ہوتا ہے۔
 

عرفان سعید

محفلین
اب مانیں یا مانیں دین کو سب سے زیادہ نقصان منافقین کی طرف سے ہوتا ہے۔
دل و جان سے مانتے ہیں۔ اور روئے ارض کا ہر مسلمان یہ بات جانتا اور مانتا ہے۔
محض مسلمان ہونے کا دعوٰی کرکے دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ہے
مسلمان ہونا تو نام ہے اعتراف و اقرار کا۔۔۔اقرار اللہ کی وحدانیت کا، رسالت اور آخرت کا، اور اعتراف اپنی اس بے بسی کا کہ دین میں ہدایت کا واحد سرچشمہ آنحضرت محمد‎صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ والا صفات ہے۔ اب جو شخص دل و جان سے یہ اعتراف کرلے اس سے دھوکے کا کیا سوال؟
مسلمان ہونے کا "دعوی" البتہ بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں فیصلہ خود فرما لیجیے۔
اکینِ اسمبلی کے حلف نامہ میں ختمِ نبوت کی شق سے متعلق سب جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ گہری سازش کے تحت کیا گیا تھا
کچھ پردہ اٹھائیں گے اس "گہری سازش" سے؟
اگر تحریک لبیک بروقت جرات سے نہ کھڑی ہوتی تو سازش کامیاب ہوجاتی
کیا نتائج ہوتے؟
آپ نے خود فرمایا کہ چودہ سو سالوں میں کئی نبوت کے دعویدار پیدا ہوئے۔ کیا حشر ہوا ان کاَ؟
آنحضرت محمد‎صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔جس خدائے لم یزل نے قرآن کے ایک ایک لفظ کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ میرے منہ میں خاک، کیا اسے ہم اس قدر بے دست و پا سمجھ لیں کہ اس کو اب چند دھرنوں کی ضرورت ہے؟
ختم نبوت اس قدر عظیم آفاقی حقیقت ہے جس میں بے پناہ قوت و طاقت ہے کہ کسی جھوٹے دعوائے نبوت کو پاش پاش کر دے۔ "لبیک" کی صدا کا درست محل کعبۃ اللہ ہے نہ کہ اسلام آباد کے چوک۔
 

ضیاء حیدری

محفلین
دل و جان سے مانتے ہیں۔ اور روئے ارض کا ہر مسلمان یہ بات جانتا اور مانتا ہے۔

مسلمان ہونا تو نام ہے اعتراف و اقرار کا۔۔۔اقرار اللہ کی وحدانیت کا، رسالت اور آخرت کا، اور اعتراف اپنی اس بے بسی کا کہ دین میں ہدایت کا واحد سرچشمہ آنحضرت محمد‎صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ والا صفات ہے۔ اب جو شخص دل و جان سے یہ اعتراف کرلے اس سے دھوکے کا کیا سوال؟
مسلمان ہونے کا "دعوی" البتہ بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں فیصلہ خود فرما لیجیے۔

کچھ پردہ اٹھائیں گے اس "گہری سازش" سے؟

کیا نتائج ہوتے؟
آپ نے خود فرمایا کہ چودہ سو سالوں میں کئی نبوت کے دعویدار پیدا ہوئے۔ کیا حشر ہوا ان کاَ؟
آنحضرت محمد‎صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔جس خدائے لم یزل نے قرآن کے ایک ایک لفظ کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ میرے منہ میں خاک، کیا اسے ہم اس قدر بے دست و پا سمجھ لیں کہ اس کو اب چند دھرنوں کی ضرورت ہے؟
ختم نبوت اس قدر عظیم آفاقی حقیقت ہے جس میں بے پناہ قوت و طاقت ہے کہ کسی جھوٹے دعوائے نبوت کو پاش پاش کر دے۔ "لبیک" کی صدا کا درست محل کعبۃ اللہ ہے نہ کہ اسلام آباد کے چوک۔

یرموک کے معرکے کے موقع پر معاذ بن جبل نے مسلمانوں کو وعدہ الٰہی کی یاد دہانی کرائی:

الم تسمعوا لقول اللہ وعد اللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم فاستحیوا رحمکم اللہ من ربکم ان یراکم فرارا من عدوکم. (ابن کثیر، البدایہ والنہایہ ۷/ ۸، ۹)
’’کیا تم نے اللہ کا یہ ارشاد نہیں سنا کہ: ’وعد اللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم۔‘ اس لیے اللہ تم پررحم کرے، اس بات پر اللہ سے حیا کرنا کہ وہ تمھیں تمھارے دشمن کے سامنے سے فرار ہوتا ہوا دیکھے۔‘‘
اللہ کی مدد نصرت سب پر حاوی ہے، لیکن اللہ عزوجل کو میدان چھوڑ کر بھاگ جانے والے پسند نہیں ہیں، خادم حسین رضوی نے جس ہمت و استقامت سے ناموس رسالت کے دشمنوں کا مقابلہ کیا، وہ ان کے ساتھ آخری وقت تک ڈٹ؁ رہے، پھر اللہ کی نصرت آئی پنجاب پولیس کے چاک و چوبند دستے الٹے پاؤں بھاگتے نظر آئے۔
اللہ کی مدد و نصرت بھی ان کوملتی ہے جو مقابلہ باطل پر ڈٹ جاتے ہیں، اس بات کو بہانہ نہ بناؤ کہ جھوٹے نبوت والوں کو کچھ نہ کہو، اللہ ان کو ناکام کر دے گا۔
تو پھر تحریک کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کفار کو ککھلی چھوٹ دے دو، اتنا احمق نہ بنو۔
 

جاسمن

لائبریرین
دل و جان سے مانتے ہیں۔ اور روئے ارض کا ہر مسلمان یہ بات جانتا اور مانتا ہے۔

مسلمان ہونا تو نام ہے اعتراف و اقرار کا۔۔۔اقرار اللہ کی وحدانیت کا، رسالت اور آخرت کا، اور اعتراف اپنی اس بے بسی کا کہ دین میں ہدایت کا واحد سرچشمہ آنحضرت محمد‎صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ والا صفات ہے۔ اب جو شخص دل و جان سے یہ اعتراف کرلے اس سے دھوکے کا کیا سوال؟
مسلمان ہونے کا "دعوی" البتہ بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں فیصلہ خود فرما لیجیے۔

کچھ پردہ اٹھائیں گے اس "گہری سازش" سے؟

کیا نتائج ہوتے؟
آپ نے خود فرمایا کہ چودہ سو سالوں میں کئی نبوت کے دعویدار پیدا ہوئے۔ کیا حشر ہوا ان کاَ؟
آنحضرت محمد‎صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔جس خدائے لم یزل نے قرآن کے ایک ایک لفظ کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ میرے منہ میں خاک، کیا اسے ہم اس قدر بے دست و پا سمجھ لیں کہ اس کو اب چند دھرنوں کی ضرورت ہے؟
ختم نبوت اس قدر عظیم آفاقی حقیقت ہے جس میں بے پناہ قوت و طاقت ہے کہ کسی جھوٹے دعوائے نبوت کو پاش پاش کر دے۔ "لبیک" کی صدا کا درست محل کعبۃ اللہ ہے نہ کہ اسلام آباد کے چوک۔

جیتے رہیے۔
کاش میں زبردست کی کئی ہزار ریٹنگ دے سکتی!
اللہ آپ سے راضی رہے۔آمین!
 

جاسمن

لائبریرین
ختم نبوت اس قدر عظیم آفاقی حقیقت ہے جس میں بے پناہ قوت و طاقت ہے کہ کسی جھوٹے دعوائے نبوت کو پاش پاش کر دے۔ "لبیک" کی صدا کا درست محل کعبۃ اللہ ہے نہ کہ اسلام آباد کے
شدید متفق۔
آپ کا یہ جملہ
ختم نبوت اس قدر آفاقی حقیقت ہے جس میں بے پناہ قوت و طاقت ہے کہ کسی جھوٹے دعوائے نبوت کو پاش پاش کر دے۔
الفاظ نہیں ہیں کہ اپنے جذبات کو بیان کر پاوں۔
بس دہرائے جاتی ہوں زیر لب۔
 

ضیاء حیدری

محفلین
شدید متفق۔
آپ کا یہ جملہ
ختم نبوت اس قدر آفاقی حقیقت ہے جس میں بے پناہ قوت و طاقت ہے کہ کسی جھوٹے دعوائے نبوت کو پاش پاش کر دے۔
الفاظ نہیں ہیں کہ اپنے جذبات کو بیان کر پاوں۔
بس دہرائے جاتی ہوں زیر لب۔

اللہ کی مدد و نصرت بھی ان کوملتی ہے جو مقابلہ باطل پر ڈٹ جاتے ہیں، اس بات کو بہانہ نہ بناؤ کہ جھوٹے نبوت والوں کو کچھ نہ کہو، اللہ ان کو ناکام کر دے گا۔
 
Top