لانگ مارچ اتوار کی صبح نو بجے شروع ہوگا

06_05.gif
 

شمشاد

لائبریرین
ہونا کچھ بھی نہیں۔ پھر انہی لوگوں نے اسمبلیوں میں آ جانا ہے۔ بہت ہوا تو چہرہ بدل جائے گا، لیکن ہو گا وہی کچھ جو اب تک ہوتا آیا ہے۔ بڑی حد ہوئی تو 10 سے 20 فیصد تبدیلی آئے گی۔
 

الف نظامی

لائبریرین
انجمن مفاداتِ مشترکہ کی توصیف سلیم صافی صاحب نے فرمائی اب جواب سنیں:

دھرنے کی وجہ سے اپوزیشن نے
کرپشن، نااہلی، غیرذمہ داری اوربے ضابطگی کی کیچڑ میں لت پت حکومت کو اپنا کندھا پیش کیا تاکہ وہ مضبوط پوزیشن کے ساتھ طاہر القادری سے مذاکرات کرسکے۔ ملی بھگت اور مک مکا معلوم نہیں اس کے سوا کس چڑیا کا نام ہے۔ بدھ کے روز مذہبی و غیر مذہبی اپوزیشن نے اپنا وزن ظلم، زیادتی، ناانصافی، جبر و استحصال، لاقانونیت، بدامنی اور دھن دھونس دھاندلی کے پلڑے میں ڈال کر اپنے آپ کو ایکسپوز کیا۔ طاہر القادری کی مخالفت میں کسی کو یہ توفیق تک نہ ہوئی کہ دس نکاتی اعلامیہ میں ایک پیرا آئین کے آرٹیکل 63,62,218پر عملدآمد کے سلسلے میں ڈال دیتے گویا یہ سب کے سب جعلی ڈگری ہولڈرز، ٹیکس چوروں، قرضہ خوروں، جرائم پیشہ افراد پر مشتمل پارلیمینٹ کے حق میں نہیں اور انہیں موجودہ انتخابی نظام میں اصلاح سے اختلاف ہے کم از کم سید منور حسن، علامہ ساجد میر اور قاری زوار بہادر کو اس پر زور دینا چاہئے تھا۔ حضرت مولانا فضل الرحمن تو صادق و امین کی شرط کو ضیاء الحق کا تحفہ سمجھتے ہیں۔

عمران خان اور تحریک انصاف نے لانگ مارچ اور دھرنا کے مقاصد سے اتفاق کے باوجود شریک نہ ہو کر نوجوان کارکنوں اور ووٹروں کو مایوس کیا۔ پی ٹی آئی میں فیصلہ سازی کا عمل خراب اور سست ہونے کا تاثر ابھرا اور بالواسطہ طور پر سٹیٹس کو کے حامی لیڈروں کی مانی گئی۔ تنہا پرواز کے اسی شوق نے ایئر مارشل (ر) اصغر خان کی راہ کھوٹی کی اور اب بعض لوگ عمران خان کو اسی راستے پر چلانے کے خواہشمند ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ اگر خدانخواستہ نوجوان نسل کو پرامن تبدیلی کی راہیں مسدود نظر آئیں تو وہ انتہا پسندی کی راہ پر چل کر کیا قیامت ڈھا سکتے ہیں۔ عمران خان نے ڈاکٹر طاہر القادری کا فون نہ سن کر جو غلطی کی اب اس کا ازالہ رابطے میں پہل کے ذریعے کرنا چاہئے یہی تحریک انصاف کی ضرورت اور نوجوانوں کی آرزو ہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
ہونا کچھ بھی نہیں۔ پھر انہی لوگوں نے اسمبلیوں میں آ جانا ہے۔ بہت ہوا تو چہرہ بدل جائے گا، لیکن ہو گا وہی کچھ جو اب تک ہوتا آیا ہے۔ بڑی حد ہوئی تو 10 سے 20 فیصد تبدیلی آئے گی۔
تمام امیدواروں کو آرٹیکل 62 ، 63 کی چھلنی سے گزرنا ہوگا اور 218/3 اور 1976ءکے عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 77 سے 82 اور سپریم کورٹ کے انتخابی اصلاحات کے فیصلے پر عمل درآمد ہوگا۔ انقلاب کا سفر ابھی جاری ہے اور ہم معاہدے پر عمل درآمد ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
میری معلومات کے مطابق ان آرٹیکلز پر عمل درآمد کروانے کے لیے لائحہ عمل طے کر لیا گیا ہے اور اس دفعہ الیکشن کا منظر نامہ مختلف ہوگا۔
 

نایاب

لائبریرین
کم از کم عمران خان وقت پر قدم نہ اٹھا کر نقصان میں گیا ۔
بہت امیدیں وابستہ کی تھی تحریک انصاف سے مگر یہ تحریک " ہائی جیک " ہو گئی ۔
اور عمران خان شوپیس بن کر رہ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

الف نظامی

لائبریرین

الف نظامی

لائبریرین
اور اس مارچ سے عوام نے کیا کھویا ، کیا پایا
ڈیکلریشن کے متن کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلیاں 16 مارچ سے قبل تحلیل کردی جائیں گی تاکہ الیکشن کمیشن کو اُمیدواروں کی سکروٹنی کیلئے ایک ماہ کا وقت مل سکے۔ اگر اسمبلیاں آئینی مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہوتیں تو آئین کے مطابق 60 روز کے اندر انتخابات کرانے پڑتے۔ اب معاہدہ کے مطابق 90 روز میں انتخابات ہوں گے۔ ڈیکلریشن کیمطابق آئین کے آرٹیکل نمبر 62، 63 ، 218/3 اور 1976ءکے عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 77 سے 82 اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کیا جائیگا۔ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کیلئے مذاکرات ہونگے اور نگران وزیراعظم کا انتخاب ڈاکٹر طاہرالقادری کی مشاورت اور مکمل اتفاق رائے سے ہوگا۔ اگر الیکشن کمیشن نے اپنی قومی ذمے داری پوری کی تو پاکستان کی انتخابی تاریخ میں پہلی بار ٹیکس چور، قرضہ خور، جعلی ڈگری ہولڈرز اور جرائم میں ملوث افراد انتخابات سے باہر ہوجائینگے اور نیک نام تعلیم یافتہ افراد کیلئے مواقع پیدا ہونگے۔ طاقتور کرپٹ عناصر اسلام آباد ڈیکلریشن کو منسوخ کرانے یا اس پر عملدرآمد نہ کرانے کی کوشش کرینگے۔ اب یہ پڑھے لکھے نیک نام افراد کی ذمے داری ہے کہ وہ عوامی ڈیکلریشن پر پہرہ دے کر کرپٹ عناصر کی سازشوں کو ناکام بنا دیں۔
 
آئین پاکستان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان اس چیز کے ضامن ہیں کہ تمام سیاسی امیدوار اور سیاسی جماعتیں نیک کردار نیک طینت اور صاف ماضی کے حامل ہوں لیکن آج تک ان باتوں پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ اور جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اب اس معاہدے کے بعد ہو گا ان کے لیے یہ چند نکات
طاہر القادری صاحب کی آمد اور ان کے بلند و بانگ دعوں کی قلعی کھولنے کے لیے گو ان کا قول و فعل کا تضاد ہی بہت تھا مثلا
۱۔خود کو حضرت حسین کا غلام قرار دے کر اور اپنے لانگ مارچ کو میدان کربلا قرارد ے کر مخالفین کو نہ صرف یزید قرار دینا بلکہ بڑھ کر فرعون و نمرود سے تشبیہ دینا لیکن اپنے فعل سے اس کی نفی اس طرح کر دینا کہ اپنے ہمدردوں کو حالات کے تھپیڑوں، دہشت گردوں کے حملوں کے خدشات اور موسم کی سختیوں کے سپرد کر دینا اور خود اپنے بیٹوں کے ساتھ ایک ایسے بنکر میں پناہ لے لینا جو کہ بم پروف ہو اور موسمی شدائد سے محفوظ ایک پناہ گاہ ہو۔ کیا حضرت حسین نے کربلا میں یہی کیا تھا؟
۲۔ بارہا عوام کو یہ یقین دلانا کہ ان کا لانگ مارچ حکومت کی تبدیلی و خاتمے تک جاری رہے گا۔ تمام وزرا و صدر کو سابقہ قرار دینا بارہا اس بات کا اعادہ کہ حکومت گیارہ بجے تک ، ڈیڑھ دو گھنٹوں، آج رات، کل صبح تک ختم ہو جائے گی اور یہ کہ حکومت چونکہ ظالم ہے، کرپٹ ہے، بلکہ فرعون و نمرود کی جانشین ہے اس کے پاس حکومت کرنے کا کوئی جواز نہیں پھر اپنی تمام باتوں سے منحرف ہو کر اسی حکومت سے مذاکرات کرنا ، اور اس ہی سابقہ حکومت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی شرائط اس کے سامنے پیش کرنا۔دو رخی کی بہترین مثال ہے۔
۳۔اس حکومت کے ان ہی وزرا کو جن کو وہ سابقہ ہی قرار نہیں دے رہے تھے بلکہ ٹیکس چور، بجلی چور، کرپٹ اور پاکستان دشمن قرر دے رہے تھے فردا فردا نہ صرف ان کو گلے لگانا بلکہ مذاکرات کی کامیابی کے بعد ان کی فردا فردا تعریفیں کرنا یہ ہیں کائرہ ان کا بڑا رول ہے، یہ ہیں مخدوم امین فہیم، یہ ہیں برادر خورشید شاہ ، یہ ہیں بھائی فاروق ستار یہ کیا منافقت کی انتہا نہیں؟
۴۔ لوگوں کے بارہا شرم دلانے پر بھی کینڈا کی شہریت نہ چھوڑنا، گوآئین اس کی اجازت دیتا ہے لیکن اس پر مجبور تو نہیں کرتا نا کہ لازمی کینڈا کی شہریت اختیار کی جاے اور ملکہ برطانیہ سے حلف وفاداری اٹھا یا جائے۔ اور یہی نہیں بلکہ ملکہ سے وفاداری اٹھاناے والے یہ شیخ الاسلام ایک بار بھی اس بات کا وعدہ نہیں کرتا ہے کہ وہ واپس کینڈا نہیں جائے گا اور یہیں کے عوام کے ساتھ اور اس ملک کے ہی خاطر اس کا مرنا جینا ہو گا۔
۴۔لیکن ان سب باتوں سےبڑھ کر ذر ا غور فرمائیے کہ حضرت نے معاہدہ کیا کس سے ہے اس حکومت کے ساتھ جس کا حقیقی سربراہ یہ کہ چکا ہے کہ وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے، اور جس شخص نے معاہدے پر دستخط کیے یعنی راجہ رینٹل وہ کرپش کے مقدمے میں بری طرح ملوث ہیں، مزے کی بات یہ کہ طاہر نے یہ ڈیمانڈ کی تھی کہ اس معاہدے پر وہ وزیر اعظم کے دست خط چاہتے ہیں، اور معاہدہ کرنے والی دوسری پارٹی یعنی طاہر القادری صاحب جن کی تضاد بیانیوں اور صریحا جھوٹ سے دنیا واقف ہے کیا یہ دونوں آئین کی شق ۶۲ ۶۳ پر پورے اترتے ہیں اگر نہیں تو اس معاہدے کی کیا حیثیت ہے؟؟؟؟؟
۵۔ مزید یہ کہ سیاسی طور پر طاہرصاحب کو آئین ڈس کولیفائی کرتا ہے کہ وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے ، ممبر پارلیمنٹ نہیں بن سکتے، کسی سیاسی پارٹی کے سربراہ نہیں بن سکتے ایک ایسا سیاسی طور پر ہنڈی کیپ شخص سیاسی اصلاحات کی بات کرتا ہے اور الیکشن ریفارمز کی بات کرتا ہے؟ چہ بوالعجبی است؟؟؟؟؟

آخر میں ایکسپریس ٹریبون کی یہ خبر بھی دیکھئے جو یقنا طاہر صاحب کے حمایتیوں کے نزدیک کذب کا شہاکار ہے

Canadian authorities on Friday summoned Minhajul Quran International (MQI) chief Dr Tahirul Qadri on February 5, and sought explanation from him for violating the oath he took while seeking asylum, Express News reported.
The authorities said that Qadri violated the oath stating that he was not allowed to enter the country he had sought asylum from.​
According to Express News correspondent Shakeel Anjum, Abdul Shakoor Qadri, otherwise known as Tahir Qadri, had sought asylum from Canada in 2008, fearing threats to his life after he met with the Danish cartoonist responsible for making blasphemous caricatures of Prophet Muhammad (pbuh).​
Qadri, through his lawyer Mendel Green, had requested that he was receiving death threats from Tehreek-e-Taliban Pakistan, Lashkar-e-Jhangvi (LeJ) and Sipah-e-Sahaba.​
On October 17, 2009, his asylum application was accepted, while he was issued the Canadian passport about six months back.​
The MQI chief has also been receiving welfare funds from the Canadian government, citing health issues.​
Qadri, who led a 5-day long march in Islamabad which concluded Thursday evening, is currently present in Pakistan.​
He is scheduled to fly back to Canada on January 27 along with his family.​
Correction: An earlier version of this article had incorrectly stated Royal Canadian Monitoring Police instead of Royal Canadian Mounted Police. The error is regretted.
 

اوشو

لائبریرین
ڈیکلریشن کے متن کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلیاں 16 مارچ سے قبل تحلیل کردی جائیں گی تاکہ الیکشن کمیشن کو اُمیدواروں کی سکروٹنی کیلئے ایک ماہ کا وقت مل سکے۔ اگر اسمبلیاں آئینی مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہوتیں تو آئین کے مطابق 60 روز کے اندر انتخابات کرانے پڑتے۔ اب معاہدہ کے مطابق 90 روز میں انتخابات ہوں گے۔ ڈیکلریشن کیمطابق آئین کے آرٹیکل نمبر 62، 63 ، 218/3 اور 1976ءکے عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 77 سے 82 اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کیا جائیگا۔ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کیلئے مذاکرات ہونگے اور نگران وزیراعظم کا انتخاب ڈاکٹر طاہرالقادری کی مشاورت اور مکمل اتفاق رائے سے ہوگا۔ اگر الیکشن کمیشن نے اپنی قومی ذمے داری پوری کی تو پاکستان کی انتخابی تاریخ میں پہلی بار ٹیکس چور، قرضہ خور، جعلی ڈگری ہولڈرز اور جرائم میں ملوث افراد انتخابات سے باہر ہوجائینگے اور نیک نام تعلیم یافتہ افراد کیلئے مواقع پیدا ہونگے۔ طاقتور کرپٹ عناصر اسلام آباد ڈیکلریشن کو منسوخ کرانے یا اس پر عملدرآمد نہ کرانے کی کوشش کرینگے۔ اب یہ پڑھے لکھے نیک نام افراد کی ذمے داری ہے کہ وہ عوامی ڈیکلریشن پر پہرہ دے کر کرپٹ عناصر کی سازشوں کو ناکام بنا دیں۔
کیا واقعی ایسا ہو گا؟ اگر ایسا نہ ہوا تو اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا؟
 
یار یہ سارا ڈرامہ ساری قوم نے دیکھا ہے ۔ سب کو پتہ ہے
یہ اچھا ہوا کی قادری اور زرداری میں معاہدہ ہوگیا۔

بس اب بات کی کھال نہ نکالیں۔ ویسے ہی بارش میں بھیگ گئے تھے سب

اچھے بچوں کی طرح سب اب الیکشن کی تیاری کریں۔
الف بھائی الیکشن کے سب سے بڑے حامی بن گئے ہیں اب:)
 
لانگ مارچ اور دھرنا کامیاب رہا ہے
یہ وِن-وِن صورت حال ہے
زرداری نے ایک اتحادی پایا
قادری نے شکست سے فرار پائی
عوام نے الیکشن کے وعدے پائے - زرداری -راجہ-قادری میں معائدہ ہوگیا
وہ لوگ جو الیکشن کے سب سے بڑے مخالف تھے اب سب سے بڑے حامی ہیں
 

اوشو

لائبریرین
کیا قادری صاحب کی نطر میں یہ "یزیدی، کرپٹ، اور جھوٹے" لوگ معاہدے پر پورا عمل کریں گے؟
 
کیا آج تک پی پی نے کبھی کوئی معاہدہ پورا کیا؟ کیا زراری اور پروز اشرف ٓئین کی دفعہ ۶۲ ۶۳ پر پورا اترتے ہیں، اس معاہدے کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ کیا جن تبدیلیوں کی بات کی جارہی ہے ان کو ٓئین سپورٹ کرتا ہے یا جو ایک نام نہادہ معاہدہ کیا گیا اس پر حکومت آئین کے تحت مجبور ہے کہ عملدرآمد کرے
یہ دیکھیئے
ISLAMABAD: While the supporters of Dr Tahirul Qadri are celebrating their triumph after the deal with the government, country’s top legal and constitutional experts see no legal value of ‘Islamabad Long March Declaration’.​
The agreement signed between the government and Qadri stipulates that two names will be proposed for the caretaker prime minister with complete consensus between Qadri and the government. It denotes that the issue of composition of the Election Commission of Pakistan (ECP) will also be discussed between the two parties.​
Former Law Minister Dr Babar Awan termed it as an ultra-constitutional arrangement. “Principle of jurisprudence and statute is that where there is a constitutional dispensation it cannot be substituted by an ultra-constitutional arrangement in the name expediency,” Awan told The News.​
He said the incumbent national and provincial governments have absolutely no relevance or nexus with the holding of general elections as this is an exclusive domain of two constitutional bodies. “First under part VIII, article 213 to 226, it is the constitutional mandate of Election Commission and also the caretaker set-ups and cabinet.”​
Awan was of the view that the present government is a guest for seven more weeks; therefore the new caretaker set-up can over-rule Islamabad declaration and may formulate itsown election policies.​
“For holding elections as well as caretaker setups, our constitution being alive, the vibrant document does not recognise any step in the name of doctrine of necessity,” he said.​
Former Supreme Court judge Justice (R) Wajihuddin Ahmed said the declaration is not of a binding nature.” This is just like an agreement between two private parties. The office of the President or the Prime Minister is not bound to uphold this deal. It is signed in individual capacities,” he said.​
However, Justice (R) Wajihuddin said the declaration has some legal importance as it promises to implement some election reforms stipulated under the constitution. He said the agreement has left some key issues un-attended.​
The issue of corruption is completely ignored. Dr. Tahirul Qadri signed deal with same people whom he criticised in his speech on 23rd December.”​
Former Balochistan High Court judge and former president of the Supreme Court Bar Association, Justice (R) Tariq Mehmood, said the agreement was a face-saving arrangement for Qadri and has no legal value.​
“If the agreement is not implemented by the government, Qadri cannot challenge it in any court of law,” he said.​
He was of the view that the declaration will not bring any significant changes to electoral laws as a constitutional amendment is needed to do the same.​
“A panel of legal experts, proposed the agreement cannot amend the constitution,” he said adding that the electoral reforms propagated by Qadri have already been introduced by the Supreme Court through a judgment on June 8, 2012.​
He said the long march was launched by Tehreek Minhajul Quran which is not a political party but surprisingly the agreement is signed by Pakistan Awami Tehrik (PAT).​
“I am not sure that even PAT fulfils all the requirements of a political party under the constitution and Election Commission rules” he said.​
Justice (R) Tariq Mehmood urged the parliament to formulate a law prohibiting presence of minors in any future protest. “It is the responsibility of state to protect minors.”​
He also proposed a law under which a protest site is allocated in each big city of the country so that the rights of ordinary citizens are not violated by protesters in future.​
Senior legal mind Athar Minallah termed the declaration a farce. “The declaration is a useless piece of paper and a farce, designed to befool people” said Minallah.​
“The constitution states that caretaker Prime Minister will be appointed after consultation between the leader of house and leader of the opposition. However, under the declaration, leader of the opposition is not part of consultation.”​
He said the government has set a dangerous precedent by bowing to a pressure group.​

 
کیا قادری صاحب کی نطر میں یہ "یزیدی، کرپٹ، اور جھوٹے" لوگ معاہدے پر پورا عمل کریں گے؟

کریں گے کیوں نہیں۔ کریں گے۔
بس الیکشن ہونے دو۔
اگر نہیں کریں گے تو پھر دھرنا دیں گے ۔پر اس مرتبہ بارش کا امکان دیکھ کر-

قوم قادری پر اعتبار کرتی ہے۔ قادری راجہ پرویز پر اعتبار کرتاہے۔ راجہ زرداری پر اعتبار کرتا ہے۔
سب معائدے پورے ہونگے۔
الف نظامی ٹھیک ہے نا؟
 

اوشو

لائبریرین
ایک سوال اور ذہن میں اٹھتا ہے ، اگر عوام کو پتا ہوتا کہ لانگ مارچ اور دھرنے کا فائنل نتیجہ "یزیدیوں" سے "معاہدے" کی شکل میں نکلے گا تو بھی کیا عوام اسلام آباد جاتی؟؟؟؟؟
کیا یہ نتیجہ عوام کی توقعات کے عین مطابق ہے؟؟؟؟
 
کیا آج تک پی پی نے کبھی کوئی معاہدہ پورا کیا؟ کیا زراری اور پروز اشرف ٓئین کی دفعہ ۶۲ ۶۳ پر پورا اترتے ہیں، اس معاہدے کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ کیا جن تبدیلیوں کی بات کی جارہی ہے ان کو ٓئین سپورٹ کرتا ہے یا جو ایک نام نہادہ معاہدہ کیا گیا اس پر حکومت آئین کے تحت مجبور ہے کہ عملدرآمد کرے
یہ دیکھیئے
ISLAMABAD: While the supporters of Dr Tahirul Qadri are celebrating their triumph after the deal with the government, country’s top legal and constitutional experts see no legal value of ‘Islamabad Long March Declaration’.​
The agreement signed between the government and Qadri stipulates that two names will be proposed for the caretaker prime minister with complete consensus between Qadri and the government. It denotes that the issue of composition of the Election Commission of Pakistan (ECP) will also be discussed between the two parties.​
Former Law Minister Dr Babar Awan termed it as an ultra-constitutional arrangement. “Principle of jurisprudence and statute is that where there is a constitutional dispensation it cannot be substituted by an ultra-constitutional arrangement in the name expediency,” Awan told The News.​
He said the incumbent national and provincial governments have absolutely no relevance or nexus with the holding of general elections as this is an exclusive domain of two constitutional bodies. “First under part VIII, article 213 to 226, it is the constitutional mandate of Election Commission and also the caretaker set-ups and cabinet.”​
Awan was of the view that the present government is a guest for seven more weeks; therefore the new caretaker set-up can over-rule Islamabad declaration and may formulate itsown election policies.​
“For holding elections as well as caretaker setups, our constitution being alive, the vibrant document does not recognise any step in the name of doctrine of necessity,” he said.​
Former Supreme Court judge Justice (R) Wajihuddin Ahmed said the declaration is not of a binding nature.” This is just like an agreement between two private parties. The office of the President or the Prime Minister is not bound to uphold this deal. It is signed in individual capacities,” he said.​
However, Justice (R) Wajihuddin said the declaration has some legal importance as it promises to implement some election reforms stipulated under the constitution. He said the agreement has left some key issues un-attended.​
The issue of corruption is completely ignored. Dr. Tahirul Qadri signed deal with same people whom he criticised in his speech on 23rd December.”​
Former Balochistan High Court judge and former president of the Supreme Court Bar Association, Justice (R) Tariq Mehmood, said the agreement was a face-saving arrangement for Qadri and has no legal value.​
“If the agreement is not implemented by the government, Qadri cannot challenge it in any court of law,” he said.​
He was of the view that the declaration will not bring any significant changes to electoral laws as a constitutional amendment is needed to do the same.​
“A panel of legal experts, proposed the agreement cannot amend the constitution,” he said adding that the electoral reforms propagated by Qadri have already been introduced by the Supreme Court through a judgment on June 8, 2012.​
He said the long march was launched by Tehreek Minhajul Quran which is not a political party but surprisingly the agreement is signed by Pakistan Awami Tehrik (PAT).​
“I am not sure that even PAT fulfils all the requirements of a political party under the constitution and Election Commission rules” he said.​
Justice (R) Tariq Mehmood urged the parliament to formulate a law prohibiting presence of minors in any future protest. “It is the responsibility of state to protect minors.”​
He also proposed a law under which a protest site is allocated in each big city of the country so that the rights of ordinary citizens are not violated by protesters in future.​
Senior legal mind Athar Minallah termed the declaration a farce. “The declaration is a useless piece of paper and a farce, designed to befool people” said Minallah.​
“The constitution states that caretaker Prime Minister will be appointed after consultation between the leader of house and leader of the opposition. However, under the declaration, leader of the opposition is not part of consultation.”​
He said the government has set a dangerous precedent by bowing to a pressure group.​


جانے دو بھائی۔
قادری کو وقت پڑگیا تھا۔ بس معائدہ ہوگیا
عمل بھی ہوجائے گا۔
اللہ کا شکر ہے کہ کائرہ اگیا ورنہ وقتا پڑگیا تھا۔
سب کی عزت بچ گئی
زرداری اور قادری ایک ہوئے۔ واہ
 
Top