قومی زبان اُردو اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے منشورات۔ ایک تجزیاتی مطالعہ

قومی زبان اُردو اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے منشورات۔ ایک تجزیاتی مطالعہ
ڈاکٹر مجیب احمد
اسسٹنٹ پروفیسر؛شعبہ تاریخ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد۔
قومی زبان اُردو اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے منشورات۔ ایک تجزیاتی مطالعہ
Abstract
Urdu is National Language of the Islamic Republic of Pakistan by virtue of Pakistan movement and the constitution. However, due to transformational reasons none of the governments of Pakistan have succeeded to adopt it accordingly yet. The research paper discusses and analyses the role of political parties in this regard through their manifestos issued time to time.
تعارف:
کسی ملک و قوم کی تہذیبی اور ثقافتی پہچان اس کی قومی زبان ہوتی ہے اور اس ملک و قوم کی معاشی، صنعتی اور سماجی ترقی کا دارومدار بھی اس کی اپنی قومی زبان کے ہر میدانِ عمل میں استعمال پر ہوتا ہے۔ قومی زبان کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانوں اور لہجوں کی افادیت اور اہمیت سے دنیا کے کسی بھی آزاد ملک میں انکار نا ممکن ہےلیکن قومی زبان یا زبانیں ہی اقوام کا امتیازی نشان ہوتی ہیں۔ دوسری طرف کسی ملک کی سیاسی جماعتیں اُس ملک کے عوام کی ترجمان اور سوچ کی عکاس ہوتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے قیام اور بعد ازاں انتخابات کے موقع پر جاری کردہ ان کے منشورات دراصل اس ملک کے عوام کی فکری سمت کا پتا دیتے ہیں۔
پسِ منظر:
تحریک پاکستان کے آغاز و ارتقاء اور بعد ازاں اگست ۱۹۴۷ء میں قیامِ پاکستان کی صورت میں اِس تحریک کی کامیابی میں جہاں دیگر مذہبی، معاشی اور سماجی عناصر کار فرما تھے، وہیں مسلمانانِ ہند میں تہذیبی، تمدنی اور لسانی تشخّص کا احساس بھی شدید ترین اور مضبوط ترین حوالہ تھا۔ اس کی واضح مثال ۱۹ ویں صدی عیسوی کے آخر میں غیر منقسم ہندوستان میں اُردو ہندی تنازع ہے جو ایک لسانی مسئلہ سے بڑھ کر مسلم قوم کے تصور کی بنیاد بن گیا تھا۔ اس تنازع نے مسلم قوم کے شعور کو پروان چڑھنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد، پاکستانی قومیت کے تصّور کے فروغ نہ پا سکنے کی جہاں دیگر سیاسی ، مذہبی، معاشی وجوہ تھیں وہیں تہذیبی اور ثقافتی حوالوں سے بھی کئی تضادات اور اختلافات موجود تھے۔ یہ اختلافات حکومتی سطح پر بھی تھے اور پاکستانی معاشرہ کے مختلف طبقات میں بھی گہرے اور واضح تھے۔ تاہم قیامِ پاکستان کے فوری بعد بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی پُرخلوص وضاحت اور پاکستان کی تمام صوبائی زبانوں کے حقوق کی ۲۱ا ور ۲۴ مارچ ۱۹۴۸ء کو ڈھاکہ میں دی گئی ان کی ضمانت کے باوجود بعض طبقات کی جانب سے لسانی مفاہمت کے بجائے مخاصمت پر مبنیٰ پروپیگنڈہ جاری رہا۔ اس کے ردِ عمل میں حکومتی سطح پر بعض ایسے انتظامی اقدامات کیے گئے کہ جس کی وجہ سے پسِ پردہ قوتیں پاکستان میں اُردو زبان کو متنازع اور اسے دیگر علاقائی زبانوں، خصوصاً بنگلہ زبان، کی حریف اور مدِ مقابل بنا کر پیش کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔
اسلام کے نظریہ قومیت سے قطع نظر، پاکستان ایک کثیر القومی؟؟ ملک ہے۔ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۵ء کے دوران، پاکستان کے دونوں حصوں میں بسنے والی مختلف لسانی قومیتوں کی زبانوں کو ہائی اسکول کی سطح تک ذریعہ تعلیم بنایا گیا جبکہ اُردو کو لازمی مضمون کے طور پر پانچویں جماعت سے شروع کیا گیا۔۱؂
۱۹۵۶ء میں مملکت کے پہلے آئین میں اُردو اور بنگلہ ہر دو، زبانوں ،کو قومی زبانیں تسلیم کر لیا گیا۔ یہ آئین پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ نے ہی دیا۔ یوں مسلم لیگ اپنے تاریخی مؤقف سے ہٹ گئی۔ اس سے قومی زبان کا مسئلہ حل تو نہ ہوا لیکن نئے لسانی مسائل ضرور پیدا ہو گئے۔
۱۹۵۵ء سے ۱۹۶۸ء کے دوران بلوچستان، شمال مغربی سرحدی صوبہ( اب صوبہ خیبر پختونخوا) اور پنجاب میں اُردو کو پرائمری سے ذریعہ تعلیم بنایا گیا۔ تاہم صوبہ سندھ اور بنگال ( اب بنگلہ دیش) میں یہ پانچویں جماعت سے ذریعہ تعلیم بنائی گئی۔۲؂
۱۹۶۸ء سے ۱۹۷۷ء کے دوران اُردو کو قومی زبان کا درجہ ملا مگر ساتھ ہی دیگر علاقائی زبانوں کی بھی اس طرح سرپرستی کی گئی کہ وہ اپنے اپنے حلقۂ اثر میں مقامی سطح تک ذریعہ تعلیم بن سکیں۔ تاہم صوبہ پنجاب کے علاوہ دیگر تینوں صوبوں میں یہ یونیورسٹی کی سطح تک بھی ذریعہ تعلیم بنی رہیں۔۳؂
۱۹۷۷ء کے بعد، اُردو کی بطور قومی زبان تمام صوبوں میں تعلیم و تدریس ہوتی رہی ،تاہم دیگر علاقائی زبانیں بھی پرائمری کی سطح تک پڑھائی جاتی رہیں۔ بلوچستان واحد صوبہ تھا جہاں اُردو کو پہلی جماعت سے ہی لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جانے لگا۔ جولائی ۱۹۷۷ء کے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد عربی زبان کو بھی ملک بھر میں چھٹی جماعت سے لازمی مضمون کے طور پر شاملِ نصاب کر دیا گیا۔۴؂
پاکستان کا قیام ایک جمہوری عمل کا نتیجہ تھا۔اس جمہوری و آئینی جدوجہد کا ہر اوّل دستہ آل انڈیا مسلم لیگ (دسمبر ۱۹۰۶ء) کی زیر نگرانی کام کر رہا تھا۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے اس جدوجہد میں اُردو زبان کو اپنی قوت اور مسلم شناخت کے ایک اہم عنصر کے طور پر پیش کیا۔ تاہم قیامِ پاکستان کے بعد ، بوجوہ یہ عنصر پاکستان میں قائم ہونے والی دیگر سیاسی جماعتوں اور گروہوں کے لیے شناخت و اتفاق کا نکتہ نہ بن سکا اور دیگر قومی مسائل کی طرح زبان ، خصوصاً اُردو کے بارے میں سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے منشور اور پروگراموں میں مختلف آراء اور سیاسی رویے کا اِظہار کیا۔ ان کے بارے میں ایک تجزیاتی و تنقیدی اجمالی جائزہ ذیل میں پیش کیا گیا ہے۔
مباحث:

پاکستان کی خالق جماعت آل انڈیا مسلم لیگ جو بعدازاں دسمبر ۱۹۴۷ء میں دو حصّوں میں تقسیم کر دی گئی اور پاکستان میں پاکستان مسلم لیگ کے نام سے اس جماعت نے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ پاکستان کی خالق جماعت ہونے کے علاوہ یہ پاکستان کی پہلی حکمران جماعت بھی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ اپنے اندورنی اختلافات اور سیاسی تضادات کی وجہ سے جلد ہی کئی حصّوں میں تقسیم ہو گئی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
اکتوبر ۲۰۰۲ء میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے پاکستان مسلم لیگ (نواز شریف گروپ) نے جو منشور جاری کیا اُس میں قومی زبان، اُردو، کو بنیادی ذریعہ تعلیم بنانے کے عزم کا ذکر کیا گیا۔ تاہم ساتھ ہی انگریزی اور مقامی زبانوں کو مناسب اہمیت دیے جانے کا بھی عہد کیا گیا۔ مزید برآں اس منشور میں کہا گیا کہ اعلیٰ ملازمتوں کے لیے مقابلہ کے امتحانات اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لیے جائیں گے۔۵؂
فروری ۲۰۰۸ء کے انتخابات کے لیے دسمبر ۲۰۰۷ء میں جاری کردہ مسلم لیگ کے اس گروپ میں زبان کے مسئلے پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (قائداعظم گروپ) نے اگست ۲۰۰۲ء میں اپنے جاری کردہ منشور میں بھی زبان کے مسئلہ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔۶؂
پاکستان جمہوری پارٹی ستمبر ۱۹۶۹ء میں ڈھاکہ میں بنی۔ نوابزادہ نصراللہ خان (۱۹۱۶ء - ۲۰۰۳ء) اس کے تا حیات صدر رہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے نوابزادہ منصور علی خان صدر بنے جنھوں نے مارچ۲۰۱۲ء میں پارٹی کو پاکستان تحریکِ انصاف (اپریل ۱۹۹۶ء) میں ضم کر دیا۔ ۱۱- ۱۲ جولائی ۱۹۸۵ء میں پاکستان جمہوری پارٹی کے ایک اجلاس منعقدہ کراچی میں منظور کردہ منشور کے مطابق اُردو زبان کو سارے ملک میں قومی زبان کی حیثیت سے عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں رائج کرنے کا عہد کیا گیا۔ علاقائی زبانوں کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔ تاہم منشورمیں کسی بھی سطح پر ذریعۂ تعلیم کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی۔ ۷؂
خاکسار تحریک پاکستان نے ۱۹۷۷ء میں اپنے انتخابی منشور میں اُردو کو سرکاری زبان بنانے کے عزم کا اِظہار کیا۔ علاقائی زبانوں کو مکمل تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ عربی زبان کو اس حد تک فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا کہ وہ مناسب وقت پر اُردو کی جگہ سرکاری زبان بن جائے۔۸؂
خاکسار تحریک نے ۱۹۸۸ء میں شائع کردہ اپنے انقلابی منشور میں جہاں اُردو کو پاکستان کی قومی زبان کے طور پر بلاتاخیر دفتری زبان اورذریعۂ تعلیم بنانے کا عہد کیا اور علاقائی زبانوں کے فروغ دیے جانے کا بھی ذکر کیا ، وہیں عربی زبان کو اُردو کی جگہ سرکاری زبان بنانے سے متعلق اپنے سابقہ مؤقف سے ہٹتے ہوئے اس کا ذکر نہیں کیا۔ صرف یہ بیان کر دیا کہ قرآنی تعلیم لازمی ہو گی۔۹؂
۶ جولائی ۱۹۸۷ء کو مینارِ پاکستان لاہور میں قرآن و سُنت کانفرنس میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان نے ملکی سیاست میں عملی حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے اپنا منشور پیش کیا۔ اس میں اُردو کو ذریعۂ تعلیم بنانے اور انگریزی کو ہر سطح پر بحیثیت لازمی مضمون ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ انگریزی کی جگہ علاقائی زبانوں کی تعلیم لازمی قرار دینے کا خیال ظاہر کیا گیا۔ منشور میں نصابی اور دیگر متعلقہ کتب کا فی الفور قومی زبان میں ترجمہ کرانے اور عربی کی تعلیم و ترویج کے لیے مناسب اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔۱۰؂
اگست ۱۹۴۱ء میں لاہور میں قائم ہونے والی جماعت اسلامی نے ۱۹۵۰ء کے عشرے میں جاری کردہ اپنے منشور میں عربی کی لازمی تعلیم ، اُردو اور بنگلہ کو کالجوں اور جامعات میں انگریزی کی بجائے ذریعۂ تعلیم کی حیثیت سے رائج کرنے اور تمام دیگر علاقائی زبانوں کی ترقی کے لیے مناسب اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ مزید برآں انگریزی کو سرکاری محکموں سے جلداز جلد ختم کر کے ، اس کی جگہ اُردو و بنگلہ کے استعمال کو رواج دینے کے لیے مثبت اور مؤثر اقدامات کرنے کا بھی منشور میں ذکر ہے۔۱۱؂
۲۰ دسمبر ۱۹۶۹ء کو جماعت اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ نے دسمبر ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات کے لیے اپنے منشور کا اعلان کیا جس میں اُردو اور بنگلہ کو پورے ملک کے لیے قومی زبان کے طور پر تسلیم کیا گیا اور ساتھ ہی عربی کو ایک لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھائے جانے ، انگریزی کے بجائے قومی زبانوں (اُردو اوربنگلہ) کو ذریعۂ تعلیم بنانے کا عہد کیا گیا۔ علاقائی زبانوں کی ترقی کے لیے اعادہ کیا گیا کہ انگریزی زبان کو سرکاری محکموں سے جلد از جلد رُخصت کر دیا جائے گا۔ ۱۲؂ اسی بات کوجماعت کے ۱۹۹۷ء کے منشور میں بھی دہرایا گیا ہے۔
کُل پاکستان مرکزی جمعیت علماء اسلام نے دسمبر ۱۹۷۰ء میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے اپنے منشور کا اعلان کرتے ہوئے عربی زبان کو لازمی حیثیت دینے اور قومی زبانوں،اُردوا ور بنگلہ، کو ذریعۂ تعلیم بنانے کا وعدہ کیا۔ ۱۳؂
۲۶ ستمبر ۱۹۶۹ء کو جمعیت علماء اسلام کے پارٹی کنونشن منعقدہ سرگودھا میں بنیادی مسود�ۂ منشور کی منظوری دی گئی۔ بعدازاں ۲۴-۲۵ مارچ ۱۹۸۶ء کو اس مسودہ کو بعض ضروری ترامیم و اضافہ جات کے ساتھ جمعیت کی مرکزی مجلسِ عمومی نے اپنے اجلاس ، منعقدہ لاہور میں منظور کیا گیا۔ ملک کی دیگر دینی و سیاسی جماعتوں کی طرح جمعیت علما ء اسلام کی تاریخ بھی دھڑے بندیوں سے بھری پڑی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں مارچ ۱۹۸۱ء میں بننے والا گروپ اس منشور کو اپنائے ہوئے ہے۔ جمعیت کے اسی منشور میں کہا گیا ہے کہ مادری زبانیں بنیادی تعلیم کی اساس ہوں گی۔ انگریزی اختیاری مضمون ہو گا جبکہ عربی کو لازمی زبان کا درجہ دیا جائے گا۔علاقائی زبانوں کو ترقی دینے کا عزم ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی سطح پر اُردو کو ذریعۂ تعلیم بنائے جانے کا ذکر بھی کیا گیا ہے ۔۱۴ ؂ جمعیت علماء اسلام کے سابق امیر مفتی محمود (۱۹۱۹ء تا ۱۹۸۰ء) جب ۱۹۷۲ء میں صوبہ سرحد میں تقریباً نو ماہ کے لیے وزیر اعلیٰ بنے تو اُنھوں نے اُردو کو صوبہ کی سرکاری زبان کا درجہ دے دیا۔ ۱۵؂
مارچ ۱۹۴۸ء میں قائم ہونے والی مرکزی جمعیت علماء پاکستان نے ۱۰ اگست ۱۹۵۷ء کو اپنے مرکزی ایوانِ عام کے ایک اجلاس، منعقدہ لاہور، میں انتخابی منشورکی منظوری دی۔ اس میں اُردو زبان کو سرکاری زبان کی حیثیت دینے کا اعلان کیا گیا۔۱۶؂
جمعیت علماء پاکستان (صاحبزادہ فیض الحسن گروپ) کی مجلس عمومی کا اجتماع یکم نومبر ۱۹۶۹ء کو گوجرنوالہ میں منعقدہوا جس میں بالا تفاق آئندہ ہونے والے عام انتخابات کے لیے منشور منظور کیا گیا۔ اس منشور کے تحت عربی زبان کو خاص اہمیت دینے اور اُردو و بنگلہ کو بطور قومی زبان فروغ دینے کے لیے مناسب اقدامات کرنے کا اعلان کیا گیا۔ ۱۷؂
اپریل ۱۹۷۰ء میں جمعیت علماء پاکستان کے تمام گروپ ، مرکزی مجلس عمل جمعیت علماء پاکستان کے نام کے تحت متحد ہو گئے۔ ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات کے لیے مئی ۱۹۷۰ء میں منظور کردہ اپنے انتخابی منشورمیں مرکزی مجلس عمل نے عہد کیا کہ ملک میں عربی زبان کو لازمی قرار دیا جائے گا اور دونوں قومی زبانوں ( اُردو اور بنگلہ) کو فروغ دیا جائے گا۔ اس وقت کے مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) میں اُردواور مغربی پاکستان میں بنگلہ زبان کو لازمی مضمون کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جبکہ انگریزی کو ایک اختیاری مضمون کے طور پر رکھا جائے گا۔ ۱۸؂
جمعیت علما ء پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے ۲۲ اور ۲۳ جولائی ۱۹۸۶ء کے اجلاس منعقدہ لاہور میں جو منشور منظور کیا گیا، اس میں زبان کے حوالہ سے کوئی ذکر نہیں ملتا۔ ۱۹؂
پاکستان پیپلز پارٹی (شیر پاؤ) کے نزدیک پاکستان ایک کثیر القومی ملک ہے ۔ ملک میں مادری زبان میں تعلیم کو ترجیح اور فروغ دیا جائے گا۔ البتہ پارٹی کے پروگرام میں اُردو کے حوالے سے کوئی ذکر نہیں ملتا۔ ۲۰؂
نواب محمد اکبرخان بگٹی (۱۹۲۷ء تا ۲۰۰۶ء) نے ۱۶ اگست ۱۹۹۰ء کو جمہوری وطن پارٹی بنائی۔ اس کے موجودہ صدر، ان کے صاحبزادے، نوابزادہ طلال اکبر خان بگٹی ہیں۔ پارٹی کے منشور میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے لیکن ذریعۂ تعلیم کس زبان میں ہو گا ؟ اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اسی پارٹی نے ۲۰۰۹ء کے جاری کردہ منشور میں اُردو کو قومی رابطہ اور سرکاری زبان کی حیثیت دینے کا وعدہ کیا۔ نیز بلوچی، سندھی ، پشتو اور پنجابی زبانوں کو علاقائی زبانوں کی حیثیت دینے اور پاکستان کی دیگر بولی جانے والی زبانوں کو فروغ دینے کی کوشش کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔۲۱؂
پاکستان نیشنل پارٹی کے نزدیک پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے۔ اس لیے پارٹی کے منشور کے مطابق تمام قومی زبانوں کو قومی حیثیت سے تسلیم کرانے کی جد وجہد کی ہر سطح پر حمایت کی جائے گی۔ ۲۲؂ بلوچی، پنجابی، سندھی اور پشتو کو ان کے صوبوں بالترتیب بلوچستان، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا (پارٹی صرف پشتونخوا کا لفظ استعمال کرتی ہے)میں قومی زبان کا درجہ دینے کی جدوجہد کی جائے گی۔ پارٹی اپنے منشور میں وعدہ کرتی ہے کہ وہ مادری زبان میں تعلیم کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کر کے ، اسے نافذ کرائے گی۔ ۲۳؂پاکستان نیشنل پارٹی کے منشور میں اُردو زبان کے حوالے سے کوئی بات موجود نہیں۔
بلوچستان نیشنل موومنٹ کے نزدیک بھی پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے۔ اس لیے تمام قومی زبانوں کو قومی و سرکاری زبان کی حیثیت سے تسلیم کرانے کے لیے ہر طرح کی جدو جہد کی حمایت کرنے کا اعلان کیا گیا۔ مادری زبانوں میں تعلیم کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کر کے اسے نافذ کرنے کا عزم کیا گیا۔ ۲۴؂ بلوچستان نیشنل موومنٹ کے منشور میں بھی اُردو کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اُردو کو سرکاری زبان ، انگریزی کو اختیاری زبان اور ہر صوبہ میں اس کی اپنی علاقائی زبان کو فروغ دینے کی قائل ہے ۔۲۵؂ البتہ پارٹی کے منشور میں تعلیمی پالیسی کے طور پر قومی زبان کے علاوہ مادری زبان میں دینا درج ہے۔۲۶؂
قومی محاذ آزادی ۶ مئی ۱۹۷۴ء کو کراچی میں بنی۔اس کے نزدیک بھی پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے جس میں بڑی قومیں پنجابی، سندھی، بلوچ اور پختون آباد ہیں۔ محاذ کے نزدیک ذریعۂ تعلیم ، مادری زبان میں یا ہر قوم کی قومی زبان میں ہونا چاہیے۔۲۷؂
پاکستان سوشلسٹ پارٹی کے لیے تیسری سوشلسٹ کانفرنس، منعقدہ ۲۸ مارچ ۱۹۸۶ء ، بمقام لاہور میں منظور کردہ منشور اور پروگرام میں اس عزم کا اِظہار کیا گیا کہ ذریعۂ تعلیم قومی (مادری) زبان ہو گا جبکہ اُردو رابطہ کی زبان بنائی جائے گی۔۲۸؂
نومبر ۱۹۹۶ء میں پاکستان نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل موومنٹ کے انضمام سے بلوچستان نیشنل پارٹی وجود میں آئی۔ اس کے نزدیک بھی پاکستان ایک کثیر القومی ملک ہے۔ اس لیے اُردو ان میں رابطہ کی زبان ہو گی۔ ۲۹؂
۲۹-۳۰ مارچ ۱۹۸۹ء کو کوئٹہ میں پشتو نخوا ملّی عوامی پارٹی کے قیام کے لیے تا سیسی کانگریس کا اجلاس منعقد ہوا۔ پارٹی اپنے منشور کے مطابق پشتو، بلوچی، سندھی اور پنجابی کو قومی زبانیں تسلیم کر کے ، اپنے اپنے صوبہ میں ان کو سرکاری ، تعلیمی اور تدریسی زبانیں قرار دیے جانے کے حق میں ہے جبکہ بلوچستان میں پشتو اوربلوچی کو سرکاری اور تدریسی زبان قرار دینا۔۳۰؂ پارٹی کی قومی کانگریس کے ایک اجلاس منعقد ہ ۲۹-۳۱ جولائی ۲۰۰۲ء ، بمقام کوئٹہ میں سرائیکی کو بھی قومی زبانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ ۳۱؂ پارٹی کے منشور میں اُردو کے بارے میں کسی قسم کا ذکر نہیں ملتا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے منشور کی منظوری ۲۶ جولائی ۱۹۸۶ء کو کراچی میں ہونے والے اس کے تاسیسی اجلاس میں دی گئی۔ پارٹی ’’قومی عوامی جمہوری انقلاب‘‘ کی داعی ہے اور پاکستان کو ایک کثیر القومی ریاست قرار دیتی ہے ۔اِس کے منشور میں قومی مسئلہ کے زیر عنوان پانچ نکات پر مشتمل لسانی پالیسی کا اعلان کیا گیا۔ اس لیے منشور میں تعلیمی پالیسی کے زیر عنوان عہد کیا گیا ہے کہ پنجابی ، سندھی، پختون، بلوچ اور سرائیکی قومیتوں کی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دے کر، ان کو ذریعۂ تعلیم، عدالتی اور دفتری زبانوں کے طور پر فروغ دیا جائے گا۔ ان کے علاوہ دیگر زبانوں کو بھی ترقی دینے کا ذکر ہے جبکہ اُردو رابطہ کی زبان ہو گی۔ ذریعۂ تعلیم کے بارے میں مزید وضاحت کی گئی کہ یہ مادری زبان میں ہو گا۔ تاہم تعمیر و ترقی کے لیے دوسری زبانوں میں بھی تعلیم کا بندوبست کیا جائے گا۔ ۳۲؂
فروری ۱۹۷۷ء کو نو سیاسی و دینی جماعتوں کے اتحاد سے تشکیل پانے والے پاکستان قومی اتحاد نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان لاہور میں ۸، فروری ۱۹۷۷ء کو کیا۔ اس میں وعدہ کیا گیا کہ اُردو کو ایک سال کے اندر اندر دفتری زبان کے طور پر رائج کر دیا جائے گا جبکہ عربی اور علاقائی زبانوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ ۳۳؂
پاکستان پیپلز پارٹی (۱۹۶۷ء)کے اولین منشور کی دستاویز: ۳، بنیادی اُصول نمبر ۱۳ میں درج ہے:
۱۳۔ ملکی زبانوں کی تیز ترترقی تا کہ وہ غیر ملکی زبانوں کی جگہ لے سکیں جو ملکی معاملات میں مستعمل ہیں اور تمام علاقائی زبانوں کی ترویج
’’پاکستان ہمیشہ کے لیے ایک غیر ملکی زبان پر انحصار نہیں کر سکتا ۔ جلد یا بدیر ملکی زبانوں کو اس کی جگہ لینی ہے۔ تاہم اس کے لیے خاصی تیاری کی ضرورت ہے اور ملکی زبانوں کی بتدریج ترقی اس کے آئندہ کردار کے لیے ضروری ہے۔ علاقائی زبانیں جو کہ ان لوگوں کو عزیز ہیں، جو انھیں بولتے ہیں، اپنے حقوق رکھتی ہیں۔ یہ پُرانی زبانیں ہیں۔ ان میں سے چند ایک کے پاس ادب کا قابل قدر سرمایا بھی ہے اور وہ لاکھوں انسانوں کا ذریعۂ اِظہار ہیں۔ اِن علاقائی زبانوں کی نشوو نما ملک کی ترقی کے لیے مدد گار ثابت ہو گی اور لوگوں کو خوش گوار بنائے گی‘‘۔۳۴؂
پاکستان پیپلز پارٹی اکتوبر ۱۹۹۳ء اور ۱۹۹۸ء میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے جاری کردہ منشورات میں اس سلسلے میں خاموش ہے ۔۳۵؂ اسی جماعت نے اپنے ۱۹۷۱ء تا ۱۹۷۷ء کے دورِ اقتدار میں ۱۹۷۲ء میں اُردو سندھی تنازع کو خوش اسلوبی سے حل کیا ۔۱۹۷۳ء کے متفقہ آئین میں تمام سیاسی جماعتوں سے اُردو کو واحد قومی زبان تسلیم کرایا اور اس کے نفاذ کی مدت پندرہ سال مقرر کی۔
متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم )اپنے منشورات کے اندر تعلیم کے میدان میں ذریعہ تعلیم میں یکسانیت لانے کی قائل ہے اور کہتی ہے کہ اُردو اور انگریزی کے میڈیم کے فرق کو ختم کیا جائے گا۔۳۶؂
پاکستان محکوم اقوام تحریک (پونم) کے اعلان نامہ جاری کردہ ۲، اکتوبر ۱۹۹۸ء میں تمام صوبوں اور وفاقی قوموں کی ہر زبان و ثقافت کو ترقی کے برابر مواقع اور وسائل دینے کی بات کی گئی ہے۔۳۷؂
پاکستان تحریک انصاف اپنے منشور کی دفعہ ح میں درج کرتی ہے: ’’ پرائمری سکولوں میں ذریعۂ تعلیم مادری زبان یا اُردو ہو گی۔ سکول کی تعلیم میں ہر سطح پر پڑھانے کا ذریعہ لازمی اُردو زبان ہو گی جبکہ پرائمری کی سطح پر سکولوں میں انگریزی زبان کے ذریعے تعلیم اختیاری ہو گی لیکن مڈل اور سیکنڈری پر انگریزی لازمی ہو گی‘‘۔۳۸؂
پاکستان کمیونسٹ پارٹی کے منشور میں درج ہے کہ پاکستان میں سب زبانوں کو تسلیم کرنا چاہیے، اس میں فائدہ بھی ہو گا۔ اُردو ہمارے ہاں عملاً رابطے کی زبان ہے ۔۳۹؂
لیبر پارٹی پاکستان تعلیم کے باب میں اپنے منشور کے مطابق مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کی قائل ہے ۔۴۰؂
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین ۲۰۰۲ء میں جاری کردہ اپنے منشور میں عالمی زبان انگریزی کو تمام طلبہ کے لیے ذریعۂ تعلیم کے طور پر شروع کرنے کی پابند ہے۔۴۱؂
اسی طرح تحریک استقلال (مارچ ۱۹۷۰ء) کے مارچ ۱۹۷۰ء ، جولائی ۱۹۷۲ء اور جولائی ۱۹۷۴ء کے منشور؛ مرکزی جمعیت اہلحدیث؛ پاکستان عوامی تحریک (مئی ۱۹۸۹ء) ؛نیشنل الائنس کے منشور برائے انتخابات اکتوبر ۲۰۰۲ء؛ پاکستان ملت پارٹی (اگست ۱۹۹۸ء) کے تاسیسی منشور؛ مرکزی جمعیت علماء پاکستان؛ نیشنل پیپلز پارٹی ( اگست ۱۹۸۶ء) ، پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو گروپ) اور متحدہ مجلس عمل (جون۲۰۰۱ء) کے منشور برائے انتخابات اکتوبر ۲۰۰۲ء میں زبان کے مسئلے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
پاکستان میں ان سیاسی جماعتوں کے علاوہ دیگر سینکڑوں کی تعداد میں سیاسی و دینی جماعتیں اور گروہ کام کر رہے ہیں ۔ مذکورہ بالا جماعتوں کے علاوہ کئی اہم سیاسی جماعتیں ایسی بھی ہیں جو قومی زبان جیسے اہم مسئلہ پر خاموش ہیں ۔ چنانچہ ان کے منشور اور پروگرام میں قومی وحدت کے لیے درکار دیگر اہم عناصر کے ساتھ قومی زبان کا ذکر نہ کرنا خوش آئند نہیں ہے۔
اس کے برعکس بعض طلبہ تنظیمیں اس مسئلے پر بہت حساس ہیں اور انھوں نے اپنے اپنے نظریہ کے مطابق قومی زبان کے مسئلہ پر کھل کر اِظہار خیال کیا ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (۱۹۶۶ء) اور پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن (۱۹۸۸ء) مادری زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنانے جبکہ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (۱۹۵۷ء) مادری زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے اور کم از کم پرائمری تک مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کے حق میں ہیں۔۴۲؂
نتائج:
پاکستان میں قومی زبان کے بارے میں رویّے کے حوالے سے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے منشورات کی بنیاد پر کیے گئے اس تجزیاتی مطالعہ سے کئی ایک نتائج بآسانی اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
(i) قیام پاکستان سے قبل برصغیر کے طول و عرض کے خطے اور مختلف علاقائی زبانیں رکھنے کے باوجود الگ وطن کے لیے اُردو کو بحیثیت
قومی زبان تسلیم کرتے ہوئے مسلمانانِ ہند نے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا اور قیامِ پاکستان کو ممکن بنایا ۔ تحریک پاکستان کے
دوران الگ زبان’اُردو‘ دو قومی نظریہ کا ایک بڑا اوربنیادی حوالہ تھی۔
(ii) قیامِ پاکستان کے فوری بعد اُردو اور بنگلہ زبان میں لسانی مناقشت پیدا کیے جانے کے باوجود اُردو کی حیثیت مسلمہ رہی اور سیاسی
جماعتوں نے اپنے منشورات میں زور و شور سے اس کا اِظہار کیا۔
(iii) ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے کچھ عرصہ پہلے اور پھر بعد میں سیاسی جماعتوں کا رویہ نفاذ قومی زبان کے
حوالے سے بتدریج نرم پڑنے لگا اور بعض نے خاموشی اختیار کر لی ۔ کئی ایک جماعتیں علاقائی زبانوں کو ساتھ ملانے کی بات کرنے لگیں ۔
(iv) ۱۹۸۵ء کے بعد قائم ہونے والی سیاسی جماعتوں اور سیاسی اتحادوں نے قومی زبان کے نفاذ کو سرے سے کوئی مسئلہ سمجھنا ہی چھوڑ دیا
بلکہ صوبائی زبانوں کو قومی زبانیں بنانے پر زور دیا جانے لگا۔
(v) ملک میں قومی زبان کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے منشورات کی روشنی میں جو رویّے نظر آتے ہیں ، اُن میں دینی و مذہبی، سیاسی
جماعتوں اور قوم پرست سیاسی جماعتوں کے مؤقف میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔
(vi) پاکستان کے سیاسی و دینی جماعتوں کے منشور اور پروگراموں کے اس مطالعے کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سوائے دینی جماعتوں
کے، باقی تمام جماعتیں قومی زبان کے مسئلہ پر اپنا واضح مؤقف نہیں رکھتیں یا بیان نہیں کرتیں۔ دینی جماعتیں بھی اُردو کے ساتھ عربی
زبان کو تقریباً برابر کا درجہ دینے کے حق میں ہیں جو کہ پاکستان کے معروضی حالات کے تناظر میں کبھی بھی حقیقت پسندانہ مؤقف قرار
نہیں دیا جا سکتا۔
(vii) پاکستان کی قوم پرست جماعتیں جہاں ملک کو کثیر القومی ملک سمجھتی ہیں ،وہیں وہ مختلف اقوام کی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کے
حق میں ہیں، جبکہ یہ تمام جماعتیں اُردو کو رابطہ کی زبان سے زیادہ درجہ دینے کے حق میں نہیں۔
پاکستانی وحدت اور پاکستانیت کے فروغ اور ملک میں بسنے والے تمام گروہوں اور طبقوں کو متحد رکھنے کے لیے اسلام کے علاوہ زبان بھی ایک نہایت اہم اور مفید ذریعہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایوانِ اقتدار اور ایوانِ علم میں بیٹھنے والے اہلِ فکر و دانش اس سلسلے میں اپنا کردارادا کریں اور مناسب قانون سازی کرتے ہوئے ، اُردو کو اس کا جائز مقام اس طرح دلائیں کہ دیگر علاقائی و مقامی زبانوں کو احساسِ محرومی نہ رہے۔
حوالہ جات وحواشی
1. Aftab A. Kazi; Ethnicity And Education in Nation - Building in Pakistan; Lahore, Vanguard Books Ltd;
p.109; 1994.
شمال مغربی سرحدی صوبہ (اب صوبہ خیبر پختونخوا )میں اُردو بطور لازمی مضمون، چوتھی جماعت سے پڑھائی جاتی تھی۔
2. Ibid; p.118
3. Ibid; p. 125
4. Ibid; p. 131
۵۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)، منشور ۲۰۰۲ء؛ اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ کیمپ آفس؛ ت۔ن؛ ص ۱۲۔
۶۔ تفصیلات کے لیے دیکھیں۔ منشور پاکستان مسلم لیگ (ن) ۲۰۰۷ء (اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) ۲۰۰۷ء)اور منشور پاکستان
مسلم لیگ(ج۔ن: ن۔ن، ۲۰۰۲ء)۔ نومبر ۱۹۹۸ء اور اکتوبر ۱۹۹۰ء میں ہونے والے انتخابات ملک کے آٹھ چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں اور بعض آزاد ارکان کی طرف سے اکتوبر ۱۹۹۸ء میں’ اسلامی جمہوری اتحاد‘ بنایا گیا۔ پاکستان مسلم لیگ کے دونوں گروپ (نواز شریف اور قائداعظم) جو کہ اس وقت ایک ہی تھے ، بھی اس انتخابی اتحاد کا حصہ تھے۔ اس اتحاد کے منشور میں بھی زبان کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ۔Manifesto Islami Jamhori Ittehad (Islamabad: n. Pub,. 1988)(منشور اسلامی جمہوری اتحاد پاکستان؛اسلام آباد : پیر فضلِ حق؛ ۱۹۹۰ء)
۷۔ منشور پاکستان جمہوری پارٹی؛ لاہور: شعبۂ نشر واشاعت، پاکستان جمہوری پارٹی؛ت۔ن؛ ص ص : ۱۰، ۱۸-۱۹۔
۸۔ انتخابی منشور خاکسار تحریک پاکستان ؛ لاہور : باب الاشاعت ، خاکسار تحریک؛ ۱۹۷۷ء؛ ص: ۱۴۔
۹۔ خاکسار تحریک پاکستان کا انقلابی منشور؛ لاہور: خاکسار تحریک پاکستان؛ ۱۹۸۸ء؛ ص: ۶۔
۱۰۔ تحریک نفاذِ فقۂ جعفریہ پاکستان؛ ہمارا راستہ؛ لاہور: مکتبہ الرضاء؛ ت۔ن؛ ص ص : ۴۱، ۴۳۔
۱۱۔ منشور جماعت اسلامی پاکستان؛ لاہور: شعبہ انتخابات، جماعت اسلامی پاکستان؛ ت۔ن؛ ص ص : ۴۶-۴۷۔
۱۲۔ منشور جماعت اسلامی پاکستان؛ لاہور : شعبہ نشرو اشاعت، جماعت اسلامی پاکستان؛ ۱۹۷۰ء۔ ص ص : ۷، ۱۹-۲۰۔
۱۳۔ منشور کل پاکستان مرکزی جمعیت علماء اسلام و نظامِ اسلام؛ کراچی: النور چیمہ؛ ت۔ن؛ ص ص: ۱۹-۲۰۔
۱۴۔ اسلامی منشور جمعیت علماء اسلام پاکستان ؛ لاہور: مرکزی دفتر جمعیت علماء اسلام؛ ۱۹۸۷ء؛ ص ص: ۱۸، ۲۱-۲۲۔
۱۵۔ ایضاً، ص : ۹
۱۶۔ انتخابی منشور مرکزی جمعیتۂ العلماء پاکستان؛ لاہور: شعبۂ نشرو اشاعت، مرکزی جمعیتۂ العلماء پاکستان، ت۔ن؛
ص: ۹۔
۱۷۔ منشور جمعیت العلماء پاکستان؛ گوجرانوالہ: شعبۂ نشرو اشاعت، جمعیت العلماء پاکستان؛ ۱۹۶۹ء؛ ص: ۱۲۔
۱۸۔ منشور مجلسِ عمل جمعیت العلماء پاکستان، لاہور؛ راولپنڈی: مجلس عمل جمعیت علماء پاکستان؛ ت۔ن؛ ص: ۲۹۔
۱۹۔ منشور جمعیت علماء پاکستان ؛ لاہور: شعبہ نشر واشاعت، جمعیت علماء پاکستان؛ ت۔ن۔
۲۰۔ پروگرام پاکستان پیپلز پارٹی ( شیر پاؤ) مجوزہ ڈرافٹ ؛ پشاور: شعبہ نشر و اشاعت؛ ت۔ن؛ ص: ۱۰۔
۲۱۔ منشور جمہوری وطن پارٹی؛ کوئٹہ: شعبۂ نشر و اشاعت، جمہوری وطن پارٹی؛ مرکزی سیکرٹریٹ؛ ۲۰۰۹ء؛ ص ص: ۴-۵،۱۱۔
۲۲۔ قومی کونسل، قومی جمہوریت؛ ملتان: ت۔ن؛ ۱۹۸۶ء؛ ص: ۵
۲۳۔ آئین و منشور نیشنل پارٹی ؛ ج۔ن؛ شعبۂ نشر و اشاعت نیشنل پارٹی؛ ت۔ن؛ ص ص: ۱۵-۱۶، ۲۱۔
۲۴۔ آئین و منشور بلوچستان نیشنل موومنٹ؛ کوئٹہ: مرکزی شعبۂ نشر و اشاعت، بلوچستان نیشنل موومنٹ؛ ت۔ن؛ ص ص :
۱۴-۱۵،۲۱۔
۲۵۔ آئین و منشور ،سوشل ڈیموکریٹک پارٹی؛ ج۔ن؛ ت۔ن؛ ۱۹۸۸ء؛ ص: ۱۹۔
۲۶۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں؛ از: پروفیسر محمد عثمان؛ مسعود اشعر؛ لاہور سنگ میل پبلیکیشنز؛ ص: ۲۷۳؛۲۰۰۴ء(طبع دوّم)۔
27 Announcement of the formation of Qaumi Mohaz - E - Azadi was made in First Convention Held on 4th
May, 1974, at Katrak Hall. Basic Aims and Objectives of The Party Pronounced in the Convention are
included in this draft programme; pp.30- 31.
۲۸۔ پاکستان سوشلسٹ پارٹی کا منشور-پروگرام اور آئین؛ لاہور: پاکستان سوشلسٹ پارٹی؛ ۱۹۸۶ء؛ ص: ۷۔
29. The Political Parties of Pakistan; by: ABS Jafri; Karachi: Royal Book Company; 2002; p: 19.
۳۰۔ منشور و آئین پشتو نخوا ملّی عوامی پارٹی؛کوئٹہ: شعبۂ نشر و اشاعت؛ مرکزی کمیٹی پشتونخوا ملّی عوامی پارٹی؛ ت۔ن؛
ص: ۸۔
۳۱۔ منشور و آئین پاکستان پشتو نخوا ملّی عوامی پارٹی؛ ج۔ن؛ شعبۂ نشر و اشاعت، پاکستان پشتو نخوا ملّی عوامی پارٹی ؛ ت۔ ن؛ ص: ۱۰۔
۳۲۔ منشور عوامی نیشنل پارٹی؛ لاہور؛ عوامی نیشنل پارٹی [پنجاب]؛ ت۔ن؛ ص ص: ۷،۱۵۔
۳۳۔ منشور پاکستان قومی اتحاد؛ لاہور ؛شعبۂ نشرو اشاعت، پاکستان قومی اتحاد، ۱۹۷۷، ص: ۵۔ پاکستان قومی اتحاد میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس،
پاکستان جمہوری پارٹی، پاکستان مسلم لیگ، تحریک استقلال پاکستان، جماعت اسلامی پاکستان، جمعیت علماء اسلام، جمعیت علماء پاکستان، خاکسار تحریک اور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی شامل تھیں۔
۳۴۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں؛ از : پروفیسر محمد عثمان، مسعود اشعر؛ لاہور سنگِ میل پبلیکیشنز؛ ص: ۱۰۰؛ ۲۰۰۴ء۔
۳۵۔ دیکھیں۔منشور :۱۹۹۳ء پاکستان پیپلز پارٹی؛ج۔ن؛ الیکشن سیل ؛سینٹرل سیکرٹریٹ؛ت۔ن۔
۳۶۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں؛ طبع دوّم؛ از: پروفیسر محمد عثمان، مسعود اشعر؛ لاہور، سنگِ میل پبلیکیشنز؛ ص: ۴۷۶؛ ۲۰۰۴۔
۳۷۔ ایضاً؛ ص:۵۷۳۔ ۵۷۴
۳۸۔ ایضاً؛ ص:۷۲۶
۳۹۔ ایضاً؛ ص:۲۶۵
۴۰۔ ایضاً؛ ص:۷۹۲
۴۱۔ ایضاً؛ ص: ۸۱۹
۴۲۔ عامر ریاض (ترتیب)؛ طلباء تنظیمیں کیا چاہتی ہیں؟ ؛ گوجرانوالہ برگر، ۲۰۰۹ء؛ ص ص: ۹-۱۰، ۱۹۔
 

قیصرانی

لائبریرین
برادرم، آپ یہ مضمون اچھی نیت سے شیئر کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان میں ایک قوم نہیں بستی، جیسا کہ خوش قسمتی سے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ دوسرا یہ بھی نہیں ہے کہ اردو میں ہمارے پاس سب کچھ تیار رکھا ہے، آج فیصلہ ہو تو آج سے ہی ہمارے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر جگہوں پر اردو کا راج ہو جائے گا
تھوڑا سا حقیقت پسندی سے کام لیجئے اور محض کاپی پیسٹ کرتے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ اس کی بجائے آپ اتنا وقت اردو میں اصطلاحات کی منتقلی وغیرہ جیسے کاموں پر صرف کر لیں تو اس کا فائدہ بھی ہوگا :)
 
سیاسی جماعتیں، قومی نظریہ،قومی زبان
کالم نگار | عزیز ظفر آزاد
01 اپریل 2013 1

حصول وطن سے قبل ہی
قومی زبان کا فیصلہ ہو چکا تھا ۔اگر برصغیر میں ہندو مسلم کشمکش کے حوالے سے مطالعہ کیا جائے تو اس کی ابتدائی بنیاد ہی زبان ہے ۔ سرسید ہوں یا حضرت قائد وہ دیگر رہنما ﺅں کی طرح ہندو مسلم اتحاد پر رضا مند ہی نہیں کاربند دکھائی دیتے ہیں مگر سرسید اور قائدکی علیحدگی ہندو متعصبانہ رویوں سے ممکن ہوئی جس میں اردو رسم الخط سے نفرت سب سے بڑا سبب تھا۔ کانگریس نے اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دیتے ہوئے اس کو ہندی الفاظ میں لکھنے کی تحریک پیش کی یعنی اردو الفاظ سے زیادہ رسم الخط برہمن چہروںکا تیور بگاڑنے کا موجب ثابت ہوتا ۔ اردو مسلمانوں کی زبان اس لئے بتائی کہ اس کا رسم الخط عربی سے قریب تر ہے ۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اردو ہندی تنازعہ جو لسانی دکھائی دیتا تھا آگے چل کر ہندو مسلم علیحدہ قومیت کی بنیاد اختیار کرتے ہوئے شعوری منزلوں کی جانب رواں ہوگیا ۔برصغیر میں مسلمانوں کو ایک قوم کے قالب میں ڈھالنے والی لاالہ الااللہ کے بعد اردو دو سری سب سے بڑی قوت تھی ۔ برصغیر کے ہر گوشہ ہر قریہ میں رہنے والے مسلمان اپنی مادری علاقائی زبانوں کے بعد اردو ہی بولنے سمجھنے کا ذریعہ تھی ۔ شاید اسی اعلیٰ قوت کے باعث بانیان ملت نے اس کو قومی زبان کااعزاز بخشا کیونکہ نئے بننے والے ملک میں بسنے والے مختلف پہچان اور متعدد زبان کے لوگ موجود تھے ۔ اگر ایک علاقائی یا قومیت کی زبان کو قومی درجہ دیا جاتا تو دوسروں کو اعتراض ہو سکتا تھا لہذا اعلیٰ فراصت و حکمت سے کام لیتے ہوئے ایک ایسی زبان کو اپنایا گیا جو سب کے لئے یکسانیت و قبولیت کے قابل ہو سکے ۔قیام پاکستان کے بعد اردو کو سابقہ حریف ہندو کی فتنہ طرازیوںکا سامنا کرنا پڑا مگر حضرت قائداعظم نے شدید بیماری کے عالم میں مشرقی پاکستان جا کر ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلبہ اور پلٹن میدان میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے سخت لہجہ میں اردو کی مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے قومی زبان اردو اور صرف اردو کا فیصلہ کیا بعد ازاں ملک میں بننے والے دساتیر میں بھی وہی فیصلہ برقرار رکھا ۔1955سے 1968تک پنجاب سرحد بلوچستان میں پرائمری اور سندھ بنگال میں پرائمری کے بعد اردو کو ذریعہ تعلیم اختیار کیا گیا ۔1968-77کے دوران قومی زبان تسلیم کی گئی ۔ پنجاب کے علاوہ تینوں یونیورسٹیوں کی سطح تک ذریعہ تعلیم رہی ۔1973ءمیں بننے والے آئین کے تحت آئندہ پندرہ سال میں اردو کو دفتری سرکاری عدالتی اور تدریسی زبان کی حیثیت کا فیصلہ ہوا ۔1977ءمیں بھٹو کے خلاف بننے والے نو جماعتی (پاکستان قومی اتحاد) نے اپنے منشور میں پرزور انداز سے اردو کو قومی زبان تسلیم کرتے ہوئے سرکاری عدالتی نصابی زبان اختیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا ۔1977ءکے بعد اردو قومی زبان ذریعہ تعلیم رہی ۔ خصوصا بلوچستان وہ صوبہ ہے جہاں اردو کو پہلی جماعت سے لازم مضمون کے طور پر پڑھایا گیا ۔ اس کے برعکس پاکستان بنانے والی جماعت جس کی جدوجہد میں اردو ایک قوت متحرکہ تھی وہ اپنی بنیاد کو فراموش کرتے ہوئے اردو کی حفاظت سے روگردانی کرنے لگی ۔ 2002ءکے انتخابی منشور میں اردو کو قومی زبان بنانے کی بات کی مگر 2008کے انتخابی منشور میں یہ عزم فراموش کر دیا ۔ اسی طرح مسلم لیگ (قائداعظم گروپ) نے بھی قومی زبان کا کوئی ذکر نہ کیا البتہ مسلم لیگ فنگشنل 1946-47کے لیگی منشور کو ہی مقصد جانا ۔ خاکسارتحریک نے 1988ءمیں اپنے منشور میں فوری طور پر اردو کو قومی زبان کی حیثیت سے دفتری تدریسی و عدالتی سطح پر رائج کرنے کا عہد کیا جو 2جولائی 87ءکو مینار پاکستان لاہور میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان نے ملکی سیاست میں حصہ لینے کے ساتھ اپنے منشور میں اردو کو بذریعہ تعلیم بنانے اور انگریزی کو ہر سطح پر لازمی مضمون ختم کرنے کا اعلان کیا ۔جماعت اسلامی پاکستان نے 1950اور 1969ءکے اپنے منشور میں اردو اور بنگلہ کو قومی زبان تسلیم کیا ۔ 1977ءکے بعد آج تک جماعت اسلامی کے منشور میں اردو کو ہی عدالتی تدریسی اور دفتری زبان تسلیم کیا گیا گو جماعت اسلامی سے متعلق سینکڑوں تعلیمی ادارے انگلش میڈیم سسٹم کے تحت چل رہے ہیں مگر منشور اپنی جگہ قائم ہے ۔ پاکستان میں بڑی پارلیمانی پارٹی پی پی نے 1973ءکے متفقہ آئین میں اردو کو قومی زبان تسلیم کرایا ۔1971ءسے 1977ءتک دور اقتدار میں اردو سندھی تنازعہ کو دانش مندی سے نبھایا ۔پھر پی پی 1993اور 1998ءکے منشور میں قومی زبان کے حوالے سے خاموش ہے جو آج تک جاری ہے البتہ 2002ءپیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین نے اپنے منشور میں عالمی زبان انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کا اعلان کیا ۔تحریک انصاف نے پرائمری تک ذریعہ تعلیم مادری زبان یا اردو جبکہ انگریزی اختیاری ہوگی مگر مڈل اور میٹرک میں انگریزی لازمی رکھی ہے ۔ علاوہ ازیں تحریک استقلال مرکزی جمعیت اہل حدیث ،پاکستان عوامی تحریک ، نیشنل الائنس 2002، پاکستان ملت پارٹی ، نیشنل پیپلز پارٹی ، پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ اور متحدہ مجلس عمل کے منشور 2002ءمیں زبان کے مسئلے کا ذکر کرنا پسند نہیں کیا البتہ جمیعت علمائے اسلام کے امیر جناب مولانا مفتی محمود جب 1972ءمیں صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ بنے تو انہوں نے اردو کو صوبے کی سرکاری زبان کا درجہ بخشا ۔آج پھر الیکشن کا غوغہ ہے جھنڈوں ، جلسوں ، وعدوں کا سیل رواں ہے ۔ کوئی نیا پاکستان بنانے ، تو کوئی قائد و اقبال کا پاکستان بنانے کا راگ الاپتا دکھائی دیتا ہے ۔ پاکستان میں آئین کی حکمرانی کو اپنا نصب العین گردانتے نہیں تھکتے ۔کسی کے انتخابی منشور میں اردو کو قومی سطح پر رائج کرنے کا عزم نہیں جس کا آئین پاکستان تقاضا کرتا ہے جس کا اعلان حضرت قائداعظم نے شدید بیماری میں جب ڈھاکہ جا کر کیا ۔ آخر اردو میں کمی کہاں ہے ؟ کج فہمی اور احساس کمتری کا شکار حکمران کوئی جواز کوئی بہانہ تو بتائیں سکہ شاہی کے ذریعے اپنے آقاﺅں سے وفا نبھانے والے یوم حساب سے بے خبر ہیں ۔ اپنی زبان کی توہین کرتے ہوئے انگریزی کے حق میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ علوم و فنون و ٹیکنالوجی انگریزی میں ہے ان کو کون سمجھائے کہ جاپان جرمن اور چین سمیت تمام اقوام نے انگریزی کے بغیر ہی ترقی کی منازل طے کیں ۔ اب تو چین کی تجارت و ٹیکنالوجی امریکہ سے بھی بڑھتی محسوس ہو رہی ہے ۔ امریکہ کی طرح چینی زبان حاکم بننے جارہی ہے دوسری طرف ہم پاکستانی ہیں ۔تریسٹھ سال میں اپنی زبان رائج کرنے میں نہ صرف ناکام ہوئے بلکہ جہاں موجود تھی وہاں سے بھی دیس نکالا دے رہے ہیں ۔ حکومت پنجاب نہ جانے ایسا کیوں کر رہی ہے ؟میاں صاحب کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی ہوگی کیونکہ قائد واقبال کی روحیں اس عمل سے بیزار ہی نہیں بے چین و بے قرار ہونگی ۔ قومی زبان کے متعلق بابائے اردو فرماتے ہیں©" زبان صرف اظہار و خیال کا اعلیٰ ہی نہیں بلکہ ہماری زندگی کا جز ہے اس میں ہمارے تمدن، شائستگی ،خیالات ،جذبات ، تجربات اور مشاہدات کی تاریخ پنہاں ہے ۔2006میں نصاب میں بھیانک تبدیلی مشرف کی روح سےاہی کی واردات کو روشن خیالی مان لینا جرم عظیم ہے جس سفاکی سے نصاب میںتبدیلی کی گئی وہ نظریہ پاکستان اور مشاہیر پاکستان کی عظیم خدمات سے روح گردانی ہی نہیں عظیم تر مقاصد سے انحراف ہے ،تبدیل شدہ نصاب کو متوسط اےمان کے حامل مسلمان کے لئے بھی قابل قبول و برداشت نہیں ۔ "خدارا !مشاہیر ملت اور آئین پاکستان کے احترام میں اپنی خواہشات و مفادات کو قربان کر دیجئے اپنے منشور میں کشمیری اور فلسطینی مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کریں ۔ بھارتی آبی جارحیت پر لائحہ عمل کا واضح اعلان کریں ۔ کالا باغ ڈیم کے لئے حقیقی کوششوں کے عہد کا اعادہ کیا جائے ۔ ایسے فیصلے کریں جیسے زندہ قومیں کرتی ہیں ۔ آپ کے فیصلوں سے وطن دوستی اور خد ا پرستی جھلکتی نظر آئے ۔ قوم میں اخوت ، غیرت اور اخلاص کی ایسی مثالیں چھوڑیں کہ آنے والی نسلیں آپ پر فخر کریں نہ کہ شرمسار ہوں ۔
 
برادرم، آپ یہ مضمون اچھی نیت سے شیئر کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان میں ایک قوم نہیں بستی، جیسا کہ خوش قسمتی سے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ دوسرا یہ بھی نہیں ہے کہ اردو میں ہمارے پاس سب کچھ تیار رکھا ہے، آج فیصلہ ہو تو آج سے ہی ہمارے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر جگہوں پر اردو کا راج ہو جائے گا
تھوڑا سا حقیقت پسندی سے کام لیجئے اور محض کاپی پیسٹ کرتے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ اس کی بجائے آپ اتنا وقت اردو میں اصطلاحات کی منتقلی وغیرہ جیسے کاموں پر صرف کر لیں تو اس کا فائدہ بھی ہوگا :)
معذرت، بے شک ایک قوم نہیں ہے لیکن مختلف مقامی افراد کے درمیان بات چیت میں عوامی سطح پر قومی زبان تو ایک ہی ہے ، اگر پنجابی ،سندھی ، پختون،کشمیری،بلوچی افراد آپس میں رابطہ کرنا چاہیں تو نسبتا اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ وہ اردو میں ہی بات کریں گے نا کہ انگلش میں
 

تلمیذ

لائبریرین
دوسرا یہ بھی نہیں ہے کہ اردو میں ہمارے پاس سب کچھ تیار رکھا ہے، آج فیصلہ ہو تو آج سے ہی ہمارے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر جگہوں پر اردو کا راج ہو جائے گا
۔
لیکن جناب، پہلے قانون سازی اور اس کی منظوری کی طرف تو کوئی قدم اٹھے۔ عملی نفاذ اور اس کے متعلقہ لوازمات تو بعد کی بات ہے۔ یہاں پر تو مقننہ اور اس کے کار پردازوں کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی پیش قدمی یا دلچسپی ہی نظر نہیں آرہی۔
اس طرف توجہ دلانے کے لئےاردوکا درد رکھنے والے اہل علم حضرات کے بس میں جو کچھ ہے ، وہ تو حتی المقدور کر ہی رہے ہیں۔ اصل اختیار تو حکومت وقت کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
 
برادرم، آپ یہ مضمون اچھی نیت سے شیئر کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان میں ایک قوم نہیں بستی، جیسا کہ خوش قسمتی سے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ دوسرا یہ بھی نہیں ہے کہ اردو میں ہمارے پاس سب کچھ تیار رکھا ہے، آج فیصلہ ہو تو آج سے ہی ہمارے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر جگہوں پر اردو کا راج ہو جائے گا
تھوڑا سا حقیقت پسندی سے کام لیجئے اور محض کاپی پیسٹ کرتے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ اس کی بجائے آپ اتنا وقت اردو میں اصطلاحات کی منتقلی وغیرہ جیسے کاموں پر صرف کر لیں تو اس کا فائدہ بھی ہوگا :)
کام ہوا تھا کبھی جناب قیصرانی صاحب۔
مجھے کچھ کچھ یاد ہے۔ یہ غالبآ ضیا الحق کے دور کی بات ہے۔ سرکار نے کئی جلدوں میں ایک فرہنگِ اصطلاحات جاری کی تھی۔ میں ان دنوں انجینئرنگ کالج میں ملازم تھا۔ میں نے اپنے باس سے چٹھی لکھوا کر منگوائی تھی۔ اب بھی انجینئرنگ یونیورسٹی کی لائبریری میں پڑی ہو گی۔ اسی زمانے میں ایک خط ایوانِ صدر کے جاری کیا تھا کہ تمام سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر میں فوری طور پر اردو نافذ کی جائے اور تمام اندرونِ ملک سرکاری خط و کتابت اردو میں ہو۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ وہ خط انگریزی میں تھا۔

تب تک عام سرکاری دفاتر میں کمپیوٹر کا رواج نہیں تھا۔ اور اردو ٹائپ رائٹر تھا تو مگر اردو ٹائپسٹ بھی شاذ و نادر کوئی ہوتا تھا۔ اور ٹائپ رائیٹر بھی۔ بہ این ہمہ مجھ جیسے کچھ سرپھروں نے اردو کو سرکاری خط و کتابت میں رائج کرنے کی کوشش ضرور کی (ہاتھ سے چٹھیاں لکھیں) مگر سچی بات ہے کہ مقامی سطح پر ہی کچھ اس طرح حوصلہ شکنی کی گئی کہ بات اوپر اٹھ ہی نہیں سکی۔ اس رویے کو کیا نام دیجئے گا!؟

ایک بار کوئی سیلاب کا موقع تھا یا کچھ ایسا اور معاملہ تھا۔ سرکاری طور پر شہریوں سے تعاون کی درخواست کی گئی، میں نے اپنے دوستوں سے مل ملا کے اس زمانے میں کوئی ایک ہزار روپے جمع کر کے متعلقہ دفتر کو بھجوائے تھے۔ بعد میں مجھے اردو میں ٹائپ کیا ہوا (کمپیوٹر پرنٹ) ایک تعریفی خط ملا جس پر (سبز روشنائی میں) صدرِ پاکستان کے دستخط بھی اردو میں تھے۔ مجھے وہ خط اس لئے بھی یاد رہ گیا کہ اس میں میرا نام ’’آسی‘‘ کی بجائے ’’عباسی‘‘ لکھا ہوا تھا۔

منشوروں سے کیا ہوتا ہے؟ جب ان پر عمل ہی نہ کیا جائے اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ عملی طور پر ثابت نہ ہو۔ اور آج کی تو بات ہی نرالی ہے۔ نصاب میں اردو کو بگاڑا جا رہا ہے، بلکہ بگاڑا جا چکا ہے۔ ذاتی سطح پر اگر کوئی شخص یا ادارہ اردو کا غم نبھا رہا ہے تو یہ بھی غنیمت ہے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
معذرت، بے شک ایک قوم نہیں ہے لیکن مختلف مقامی افراد کے درمیان بات چیت میں عوامی سطح پر قومی زبان تو ایک ہی ہے ، اگر پنجابی ،سندھی ، پختون،کشمیری،بلوچی افراد آپس میں رابطہ کرنا چاہیں تو نسبتا اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ وہ اردو میں ہی بات کریں گے نا کہ انگلش میں
جی یہ بات بجا ہے، لیکن بولی اور زبان میں بہت فرق ہے۔ بولی تو آپ انڈین فلموں کی ہندی کو بھی سمجھ سکتے ہیں، کچھ بول بھی لیں گے لیکن اس میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتے :)
 

قیصرانی

لائبریرین
لیکن جناب، پہلے قانون سازی اور اس کی منظوری کی طرف تو کوئی قدم اٹھے۔ عملی نفاذ اور اس کے متعلقہ لوازمات تو بعد کی بات ہے۔ یہاں پر تو مقننہ اور اس کے کار پردازوں کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی پیش قدمی یا دلچسپی ہی نظر نہیں آرہی۔
اس طرف توجہ دلانے کے لئےاردوکا درد رکھنے والے اہل علم حضرات کے بس میں جو کچھ ہے ، وہ تو حتی المقدور کر ہی رہے ہیں۔ اصل اختیار تو حکومت وقت کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر عوامی سطح پر چند لاکھ افراد بھی یہ مطالبہ کریں تو حکومت کے لئے جائے فرار نہیں ہوگی۔ موجودہ حکومت نہ سہی، اگلی حکومت کے الیکشن وعدوں کا بڑا زور اسی چیز پر ہوگا :)
 

قیصرانی

لائبریرین
کام ہوا تھا کبھی جناب قیصرانی صاحب۔
مجھے کچھ کچھ یاد ہے۔ یہ غالبآ ضیا الحق کے دور کی بات ہے۔ سرکار نے کئی جلدوں میں ایک فرہنگِ اصطلاحات جاری کی تھی۔ میں ان دنوں انجینئرنگ کالج میں ملازم تھا۔ میں نے اپنے باس سے چٹھی لکھوا کر منگوائی تھی۔ اب بھی انجینئرنگ یونیورسٹی کی لائبریری میں پڑی ہو گی۔ اسی زمانے میں ایک خط ایوانِ صدر کے جاری کیا تھا کہ تمام سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر میں فوری طور پر اردو نافذ کی جائے اور تمام اندرونِ ملک سرکاری خط و کتابت اردو میں ہو۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ وہ خط انگریزی میں تھا۔

تب تک عام سرکاری دفاتر میں کمپیوٹر کا رواج نہیں تھا۔ اور اردو ٹائپ رائٹر تھا تو مگر اردو ٹائپسٹ بھی شاذ و نادر کوئی ہوتا تھا۔ اور ٹائپ رائیٹر بھی۔ بہ این ہمہ مجھ جیسے کچھ سرپھروں نے اردو کو سرکاری خط و کتابت میں رائج کرنے کی کوشش ضرور کی (ہاتھ سے چٹھیاں لکھیں) مگر سچی بات ہے کہ مقامی سطح پر ہی کچھ اس طرح حوصلہ شکنی کی گئی کہ بات اوپر اٹھ ہی نہیں سکی۔ اس رویے کو کیا نام دیجئے گا!؟

ایک بار کوئی سیلاب کا موقع تھا یا کچھ ایسا اور معاملہ تھا۔ سرکاری طور پر شہریوں سے تعاون کی درخواست کی گئی، میں نے اپنے دوستوں سے مل ملا کے اس زمانے میں کوئی ایک ہزار روپے جمع کر کے متعلقہ دفتر کو بھجوائے تھے۔ بعد میں مجھے اردو میں ٹائپ کیا ہوا (کمپیوٹر پرنٹ) ایک تعریفی خط ملا جس پر (سبز روشنائی میں) صدرِ پاکستان کے دستخط بھی اردو میں تھے۔ مجھے وہ خط اس لئے بھی یاد رہ گیا کہ اس میں میرا نام ’’آسی‘‘ کی بجائے ’’عباسی‘‘ لکھا ہوا تھا۔

منشوروں سے کیا ہوتا ہے؟ جب ان پر عمل ہی نہ کیا جائے اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ عملی طور پر ثابت نہ ہو۔ اور آج کی تو بات ہی نرالی ہے۔ نصاب میں اردو کو بگاڑا جا رہا ہے، بلکہ بگاڑا جا چکا ہے۔ ذاتی سطح پر اگر کوئی شخص یا ادارہ اردو کا غم نبھا رہا ہے تو یہ بھی غنیمت ہے۔
جزاک اللہ :)
 
معذرت، بے شک ایک قوم نہیں ہے لیکن مختلف مقامی افراد کے درمیان بات چیت میں عوامی سطح پر قومی زبان تو ایک ہی ہے ، اگر پنجابی ،سندھی ، پختون،کشمیری،بلوچی افراد آپس میں رابطہ کرنا چاہیں تو نسبتا اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ وہ اردو میں ہی بات کریں گے نا کہ انگلش میں

مرزا صاحب، مجھے لگ رہا ہے کہ آپ بھی میری طرح نظریاتی آدمی ہیں۔ سید قاسم محمود مرحوم نے بہت کام کیا، ان کی سانس بند ہوئی تو کام کی نبضیں بھی رک گئیں۔ حکایاتَ خوں چکاں اور بھی بہت ہیں۔
 
میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر عوامی سطح پر چند لاکھ افراد بھی یہ مطالبہ کریں تو حکومت کے لئے جائے فرار نہیں ہوگی۔ موجودہ حکومت نہ سہی، اگلی حکومت کے الیکشن وعدوں کا بڑا زور اسی چیز پر ہوگا :)

آپ چند لاکھ کی بات کر رہے ہیں، یہاں ایک سو لوگوں کا یوں جمع ہونا محال دکھائی دیتا ہے۔
 
آپ چند لاکھ کی بات کر رہے ہیں، یہاں ایک سو لوگوں کا یوں جمع ہونا محال دکھائی دیتا ہے۔
سر عوام میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے
مرزا صاحب، مجھے لگ رہا ہے کہ آپ بھی میری طرح نظریاتی آدمی ہیں۔ سید قاسم محمود مرحوم نے بہت کام کیا، ان کی سانس بند ہوئی تو کام کی نبضیں بھی رک گئیں۔ حکایاتَ خوں چکاں اور بھی بہت ہیں۔
سر میں حقیر سا ایک عام بند ہ ہوں
 
منشور وغیرہ سب فیشن ہیں۔ اسلام، اردو، اقبال، محمد علی جناح، مساوات وغیرہ وغیرہ ۔ نعروں اور تقاریر کے سوا سرکاریا سیاست دانوں کے ہاں کہیں نہیں ہیں۔ میری بات کو مایوسی پر محمول نہ کیجئے گا، میرے سامنے جو نقشہ بن رہا ہے وہی عرض کر رہا ہوں۔
 
منشور وغیرہ سب فیشن ہیں۔ اسلام، اردو، اقبال، محمد علی جناح، مساوات وغیرہ وغیرہ ۔ نعروں اور تقاریر کے سوا سرکاریا سیاست دانوں کے ہاں کہیں نہیں ہیں۔ میری بات کو مایوسی پر محمول نہ کیجئے گا، میرے سامنے جو نقشہ بن رہا ہے وہی عرض کر رہا ہوں۔
جی حق بات ہے اور بہت تلخ بھی ، لیکن ہر فرد اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق صورتحال کی بہتری کی کوشش تو کرے ۔
 
ہم این ڈبلیو ایف پی کا نام اگر صوبہ خیبر رکھ دیتے تو بھی کیا تھا، بلکہ اچھا ہوتا۔ ہم نے اس پر لفظ پختون خوا کا اضافہ کر کے لسانی تعصب کو ہوا دینے کا سامان خود کیا ہے۔ اب ہندکو والوں کو سنبھالئے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے پختون خوا لکھ کر سرائیکی صوبے کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے؟ کل صوبہ پوٹھوہار کا مطالبہ ہو گا اور اس سے پہلے کراچی صوبہ بنے گا؟

یہ سب بہت ڈراؤنے خواب ہیں۔
 
جی حق بات ہے اور بہت تلخ بھی ، لیکن ہر فرد اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق صورتحال کی بہتری کی کوشش تو کرے ۔
اس فقیر نے تو کی! اپنی استعداد میں جو کچھ تھا کیا! اب تو ہڈیوں میں بھی دم خم نہیں رہا۔ ایک درد کا ورثہ ہے، آپ لوگوں تک پہچا دیا ہے۔ اور خود ڈراؤنے خواب دیکھ رہا ہوں۔
اللہ رحم کرے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
ہم این ڈبلیو ایف پی کا نام اگر صوبہ خیبر رکھ دیتے تو بھی کیا تھا، بلکہ اچھا ہوتا۔ ہم نے اس پر لفظ پختون خوا کا اضافہ کر کے لسانی تعصب کو ہوا دینے کا سامان خود کیا ہے۔ اب ہندکو والوں کو سنبھالئے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے پختون خوا لکھ کر سرائیکی صوبے کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے؟ کل صوبہ پوٹھوہار کا مطالبہ ہو گا اور اس سے پہلے کراچی صوبہ بنے گا؟

یہ سب بہت ڈراؤنے خواب ہیں۔
میری دعا ہے کہ یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوں :(
 
اس فقیر نے تو کی! اپنی استعداد میں جو کچھ تھا کیا! اب تو ہڈیوں میں بھی دم خم نہیں رہا۔ ایک درد کا ورثہ ہے، آپ لوگوں تک پہچا دیا ہے۔ اور خود ڈراؤنے خواب دیکھ رہا ہوں۔
اللہ رحم کرے۔
آمیں، مسلم پر تو درست سمت میں ، اچھی نیت کے ساتھ ، مطلوبہ طریقہ کار کے ساتھ کوشش کرنا ہی ہے، نتیجہ اللہ بزرگ و برتر کے ہاتھ میں ہے، ویسے آپ اپنے علم و تجربے کی بنیاد پر کیا لائحہ عمل تجویز کرتے ہیں (اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے لیے )، ایک عام آدمی کیا کر سکتا ہے یا اس کو کیا کرنا چاہیے
 
Top