قول فیصل صفحہ 45 تا 50

حسن علوی

محفلین
صفحہ 45

گرفتاری

جمعہ ١٠ دسمبر ١٩٢١

شہپر زاع و زغن زیبائے صیدوبندنیست

ایں کرامت ھمرہ شہباز و شاہین فردہ اند!

٢ دسمبر سے مولانا اور مسٹر سی-آر-داس کی گرفتاری کی افواہ گرم تھی۔ لیکن ٧ کو قابلِ وثوق ذرائع سے اس کی تصدیق ہو گئی۔ تاہم ١٠ تک گرفتاری عمل میں نہیں آئی ٨ اور ٩ کو صرف یہ نظر آیا کہ بڑی کاوش کے ساتھ دریافت کیا جا رہا ہے کہ مولانا بدایوں کے جلسہ جمیعہ العلماء کے لیئے جارھے ہیں یا نہیں؟ اگرچہ کئی دن بیشتر سے اس کا اعلان ہو چکا تھا کہ اب وہ کلکتہ سے باہر نہیں جائیں گے اور سفر کا پورا پروگرام منسوح کر دیا گیا ہے۔ حتٰی کہ بعض درمیانی اشخاص سے بھی انہوں نے زبانی صاف صاف کہہ دیا تھا تاہم معلوم ہوتا ہے کہ آخر تک ان کے سفر کی توقع باقی تھی۔ اس لیئے تفتیش جاری رہی۔

بدایوں کا جلسہ ١٠، ١١ تاریخ کو تھا اس کے لیئے کلکتہ سے روانگی کی آخری تاریخ ٨ تھی یا حددرجہ ٩ پس گویا ٩ کی شام تک کا انتظار کیا گیا۔

اس اثناء میں رجاکاروں کی تنظیم اور تبلیغ کا کام روزبروز ترقی کرتا جا رہا تھا۔ روزانہ گرفتاریوں کی تعداد بھی روزافزوں تھی۔ ١٠ کی صبح تک ایک ہزار سے زیادہ رضاکار گرفتار ہو چکے تھے۔

٩ کو مولانا اور مسٹر داس نے آئندہ کام کے نظام کی نسبت از سر نو مشورہ کیا اور یہ بات بھی طے کر دی گئی کہ اگر وہ دونوں بھی ایک دفعہ گرفتار کر لیئے گئے، تو مسر شیام سندر چکرورتی اُن کی جگہ کام کریں گے۔ وہ بھی گرفتار ہو گئے تو یکے بعد دیگرے فلاں فلاں اصحاب کام ہاتھ میں لیتے رہیں گے۔
 

حسن علوی

محفلین
46

کو ساڑھے چار بجے مسٹر گولڈی ڈپٹی کمشنر اسپیشل برانچ ایک یورپین انسپکٹر پولیس کے ہمراہ آئے اور مولانا کو دریافت کیا۔ مولانا اوپر کی منزل میں اپنے نوشت و خواند کے کمرے میں تھے اور مسٹر فضل الدین احمد کو خطوط کا جواب لکھوا رہے تھے۔ انہوں نے مسٹر گولڈی کو وہاں بلوا لیا۔ مسٹر گولڈی نے سلام کے بعد کہا۔ کیا وہ ان کے ہمراہ چلیں گے؟ وہ انہیں لینے کے لیئے آئے ہیں۔ مسٹر احمد نے پوچھا۔ کیا آپ کے ہمراہ وارنٹ ہے؟ جواب میں انکار کیا۔ مگر مولانا نے کہا کہ وہ بلا وارنٹ کے بھی جانے کے لیئے مستعدی ظاہر کی۔ انسپکٹر نے کہا اس قدر جلدی نہ کیجیئے۔ اگر کوئی چیز اپنے آرام کے لیئے ساتھ لینا چاہتے ہیں تو لے لیجیئے لیکن انہوں نے صرف ایک گرم چادر اوڑھ لی اور کوئی چیز ساتھ نہ لی۔

جاتے وقت انہوں نے صرف یہ کہا؛ ‘کلکتہ اور باہر کے تمام احباب اور قومی کارکنوں کو میرا یہ پیغام پہنچا دیا جائے کہ تمام لوگ اپنے اپنے کاموں میں پوری مستعدی کے ساتھ مشغول رہیں۔ مجھ سے ملنے کے لیئے کوئی شخص نہ آئے۔ نہ اپنی جگہ اور اپنے کام کو چھوڑے۔ گرفتاریوں کو ایک معمولی اور متوقع واقع کی طرح محسوس کرنا چاہیئے۔ کسی طرح کی خلاف معمول اہمیت نہیں دینی چاہیئے۔ مجھے بڑا ہی رنج ہوگا، اگر کسی کارکن نے میری ملاقات کے لیئے اپنا ایک گھنٹہ بھی ضائع کیا۔‘

اس کے بعد وہ روانہ ہو گئے۔ مسٹر گولڈی موٹر کار تک ساتھ گئے جو مکان سے کسی قدر فاصلے پر کھڑی کی گئی تھی۔ لیکن مولانا کے ساتھ صرف انسپکٹر بیٹھا، وہ خود دوسری کار پر چلے گئے۔

اس طرح زیادہ سے زیادہ دس منٹ کے اندر کامل سکون اور خاموشی کے ساتھ یہ معاملہ انجام پا گیا۔ کسی شخص نے بھی محسوس نہیں کیا کہ کوئی نئی بات پیش آئی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا روز مرہ کا ایک معمولی واقعہ ہے جس میں دونوں فریق کے لیئے کوئی خلاف توقع بات نہ تھی۔ جو لوگ آئے، وہ بھی بالکل سنجیدہ اور معمولی انداز میں تھے اور جو گیا، وہ بھی اپنی معمولی مت ن اور شگفتہ حالت میں تھا ۔ دفتر کے تمام لوگوں کو تو ایسا معلوم ہوا، گویا وہ اپنے روزانہ معمول کے مطابق کانگریس آفس میں جارہے ہیں!
 

حسن علوی

محفلین
47

ٹھیک اسی وقت مسٹر کڈ ڈپٹی کمشنر پولیس معہ دو تین بنگالی انسپکٹروں کے مسٹر سی، آر،داس کے یہاں گئے اور انہیں اپنے ساتھ لے آئے۔

جو سادہ طریقہ گرفتاری کے لیئے اختیار کیا گیا، وہ بالکل نیا ہے اس سے پہلے کبھی یہ روش اختیار نہیں کی گئی تھی۔ کوئی گرفتاری بھی ہمیں یاد نہیں جو بغیر پولیس اور فوج کی نمائش کے عمل میں آئی ہو۔ خود مولانا کو ١٩١٦ میں جب نظر بند کیا گیا، تو رات کی پچھلے پہر کا محفوظ وقت اس کے لیئے منتخب کیا گیا اور ایک فوجی حملہ کی شان سے قوت کی نمائش ہوئی تھی تین بجے پولیس افسروں اور سپاہیوں کی مسلح جماعت ڈپٹی کمشنر کے ماتحت پہنچی۔ جس میں علاوہ سپرنٹنڈنٹ سی، آئی، ڈی کے، سپرنٹنڈنٹ پولیس، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ، دو انسپکٹر، پانچ سب انسپکٹر بھی تھے اور سب انسپکٹر کے سوا سب کے ہاتھوں میں ریوالور تھے۔ سپاہیوں نے پہلے دور تک سڑک کی ناکہ بندی کی، پھر مکان کا محاصرہ کر لیا۔ اس کے بعد دروازے پر دستک دی گئی۔ برخلاف اس کے اس مرتبہ معمولی انتظام بھی نہیں کیا گیا صرف دو آدمی بلا یونیفارم کے معمولی ملاقاتیوں کی طرح آ گئے اور چپ چاپ اپنے ساتھ لے گئے۔ پولیس کی وردی اور فوج کے اسلحے کا نام و نشان بھی نہ تھا۔

مولانا جس مکان میں رہتے ہیں، وہ علاقہ کے تھانے سے بالکل ملا ہوا ہے۔ صرف دیوار بیچ میں حائل ہے۔ لیکن تھانے میں بھی کوئی تیاری نمایاں نہیں کی گئی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب گورنمنٹ نے کم از کم دو باتیں ضرور سمج لی ہیں جن کے سمجھنے سے اب تک انکار تھا۔ اوّل یہ کہ ملک کے لیڈر جب کہتے ہیں کہ گرفتار ہو جانے کے لیئے بالکل تیار ہیں، تو یہ کوئی ڈپلومیسی نہیں ہے بلکہ واقعی ان کے دل کی سچی آواز ہے۔ پس ان کو گرفتار کرنے کے لیئے کسی اہتمام کی ضرورت نہیں۔ صرف اطلاع دے دینا کافی ہے
 

حسن علوی

محفلین
48

دوسرے یہ کہ ایسے موقعوں پر طاقت کی نمائش ہی سے گرفتاری کا کام مشکل ہو جاتا ہے۔ غیر معمولی اہتمام اور پولیس کا ہجوم دیکھ کر فوراً پبلک معلوم کر لیتی ہے کہ گرفتاری کے لیئے لوگ آئے ہیں اور پھر اچانک عوام میں بھی جوش اور سرگرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو گرفتاری کا بروقت کسی کو بھی علم نہ ہو اور نہایت آسانی اور تیزی سے کام انجام پا جائے۔

چنانچہ مولانا کی گرفتاری کا واقعہ خود اطراف و جوانب کے لوگوں کو بھی اس وقت معلوم ہوا، جب شہر میں اس کا اعلان کیا گیا۔ جاتے وقت بہت سے لوگوں نے انہیں موٹر کار میں ایک یورپین کے ساتھ بیٹھے دیکھا، لیکن کسی بھی یہ خیال نہ ہوا کہ وہ جیل جا رہے ہیں۔ جب وہ موٹر کار میں سوار ہو رہے تھے تو حسب معمول کشھ دکاندار اور کچھ راہگیر سلام کرنے کے لیئے جمع ہو گئے، جیسا کہ وہ ہر روز آتے اور جاتے کیا کرتے تھے، لیکن انہوں نے بھی کوئی غیر معمولی بات محسوس نہیں کی۔ فی الحقیقت یہ طریقہ فریقین کے لیئے ہر طرح آرام دہ اور بہتر ہے۔ کاش گورنمنٹ ابتداء سے اسی پہ عملدر آمد کرتی تو بہت سی دقتیں اور پریشانیاں نہ اسے پیش آتیں، نہ ملک کو۔

مولانا کو پہلے پولیس کمشنر کے آفس میں پہنچایا گیا۔ تقریباً بیس منٹ وہاں بیٹھے ہوں گے کہ مسٹر سی، آر، داس بھی وہیں پہنچا دیئے گئے۔ پھر ایک موٹر کار لائی گئی، اس میں دونوں سوار ہوئے ایک یورپین پولیس آفیسر موٹر ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ گیا اور موٹر پریذیڈنسی جیل (علی پور) کی طرف روانہ ہو گئی۔ موٹر کار اس وقت بھی بالکل کھلی تھی۔ پریذیڈنسی جیل میں پیشتر سے اطلاع دے دی گئی تھی اور تمام انتظامات مکمل تھے۔ پولیس آفیسر نے دونوں صاحبوں کع جیلر سے ملایا اور اس کے حوالے کر کے واپس چلا آیا۔

مولانا نے جیل کے آفس میں مغرب کی نماز پڑھی۔ نماز کے بعد سپرنٹنڈنٹ سے انہیں ملایا گیا۔ یہ دراصل سپرنٹنڈنٹ کے سامنے قیدیوں کو حسبِ قاعدہ پیش کرنا تھا۔ سپرنٹنڈنٹ نے کہا۔ میں نے کھانے کے لیئے حکم دے دیا ہے۔ نہیں معلوم اس حکم کا مقصد کیا تھا؟ کیونکہ اسکا کوئی نتیجہ ظہور میں نہیں آیا۔
 

حسن علوی

محفلین
49

اگر مقصد یہ تھا کہ تمہارے مکان سے کھانا طلب کر لینے کا حکم دے دیا ہے تو باوجودیکہ دونوں صاحبوں کے یہاں ٹیلیفون ہے، لیکن کوئی اطلاع انکے یہاں نہیں دی گئی۔ اگر مقصود جیل کے کھانے سے تھا تو جس وارڈ میں رکھے گئے، وہاں کوئی انتظام کھانے کا نہ تھا۔

اس کے بعد وہ یورپین وارڈ پہنچا دیئے گئے، جہاں الگ الگ کمروں میں فوراً منتقل کر دیا گیا۔ کمروں پر گورکھا سپاہیوں کا پہرہ تھا۔

یہ وارڈ جیل کا بہتر حصہ سمجھا جاتا ہے اور یہاں صرف انڈر ٹرائل یورپین قیدی رکھے جاتے ہیں۔ یہ دو منزلہ عمارت ہے۔ اوپر نیچے پانچ پانچ کمرے ہیں۔ ہر کمرہ دس فٹ طول و عرض کا ہوگا۔ ہر کمرہ میں ایک صراحی، تام چینی کا کٹورا، اسٹول اور ایک ٹیبل ہوتا ہے۔ سونے کے لیئے ٹاٹ کی گدیلی اور دو کالے کمبل ہوتے ہیں، جو جیل میں مستعمل ہیں۔ تکیہ کی جگہ ٹاٹ کی ایک پتلی اور چھوٹی سی گدیلی سرہانے لگی ہوتی ہے۔

مولانا نے بعد کو بیان کیا؛ ،ہم لوگ تقریباً سات بجے اپنے اپنے کمروں میں بند کئے گئے۔ ساڑھے سات بجے میں نے دروازہ کی سلاخوں سے آسمان کو دیکھا تو عشاء کی نماز پڑھی۔ دو چار گھونٹ پانی کے پیئے اور لیٹ گیا۔ دو سال کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ مجھے اس قدر جلدی اور گہری نیند آ گئی۔ برسوں سے میری نیند بہت کمزور ہو گئی ھے۔ آج کل یہ حال ہے کہ گیارہ بجے لیٹتا تھا۔ ایک دو گھنٹے کے تکلیف دہ انتظار کے بعد کہیں نیند آتی تھی۔ وہ بھی اس قدر کمزور کہ ذرا سی کھڑکھڑاہٹ خلل ڈال دیتی تھی لیکن اس رات ساڑھے آٹھ بجے لیٹا اور لیٹتے ہی سو گیا۔ تین بجے سے پہلے آنکھ نہ کھلی۔ سنتری کے فوجی بوٹون کی آواز سیمنٹ کے برآمدے میں بڑے زور سے ہو رہی تھی۔ لیکن میری نیند میں ذرا بھی خلل نہ پڑا۔‘

‘ یہ اطمینان اور بےفکری صرف اس لیئے نہ تھی کہ جیل میں آگیا، بلکہ اس لیئے تھی کہ کاموں کی تکمیل کے لیئے مجھے اپنی گرفتاری کے ضروری ہونے کا کامل یقین تھا۔ گرفتار ہو نے کے بعد ایسا محسوس ہونے لگا، گویا ایک بڑے پریشان کن بوجھ سے دماغ ہلکا ہو گیا ہے!‘
 
پہلی پروف ریڈنگ:‌قول فیصل صفحہ 45

پروف ریڈنگ بار اول صفحہ ۴۵ قول فیصل
صفحہ 45

گرفتاری

جمعہ ١٠ دسمبر ۱۹۲۱

شہپر زاغ و زغن زیبائے صیدوبندنیست

ایں کرامت ھمرہ شہباز و شاہین کردہ اند!

٢ دسمبر سے مولانا اور مسٹر سی-آر-داس کی گرفتاری کی افواہ گرم تھی۔ لیکن ٧ کو قابلِ وثوق ذرائع سے اس کی تصدیق ہو گئی۔ تاہم ١٠ تک گرفتاری عمل میں نہیں آئی ٨ اور ٩ کو صرف یہ نظر آیا کہ بڑی کاوش کے ساتھ دریافت کیا جا رہا ہے کہ مولانا بدایوں کے جلسہ جمیعۃالعلماء کے لیے جارھے ہیں یا نہیں؟ اگرچہ کئی دن بیشتر سے اس کا اعلان ہو چکا تھا کہ اب وہ کلکتہ سے باہر نہ جائیں گے اور سفر کا پورا پروگرام منسوح کر دیا گیا ہے۔ حتی کہ بعض درمیانی اشخاص سے بھی انہوں نے زبانی صاف صاف کہہ دیا تھا تاہم معلوم ہوتا ہے کہ آخر تک ان کے سفر کی توقع باقی تھی۔ اس لیئے تفتیش جاری رہی۔

بدایوں کا جلسہ ١٠، ١١ تاریخ کو تھا اس کے لیئے کلکتہ سے روانگی کی آخری تاریخ ٨ تھی یا حددرجہ ٩ پس گویا ٩ کی شام تک اس کا انتظار کیا گیا۔

اس اثناء میں رضاکاروں کی تنظیم اور تبلیغ کا کام روزبروز ترقی کرتا جاتا تھا۔ روزانہ گرفتاریوں کی تعداد بھی روزافزوں تھی۔ ١٠ کی صبح تک ایک ہزار سے زیادہ رضاکار گرفتار ہو چکے تھے۔

٩ کو مولانا اور مسٹر داس نے آئندہ کام کے نظام کی نسبت از سر نو مشورہ کیا اور یہ بات بھی طے کر دی گئی کہ اگر وہ دونوں بھی ایک دفعہ گرفتار کر لیے گئے، تو مسٹر شیام سندر چکرورتی اُن کی جگہ کام کریں گے۔ وہ بھی گرفتار ہو گئے تو یکے بعد دیگرے فلاں فلاں اصحاب کام ہاتھ
 
پروف ریڈنگ بار اول قول فیصٌ

پروف ریڈنگ بار اول قول فیصل: صفحہ ۴۶
میں لیتے رہیں گے۔

۱۰کو ساڑھے چار بجے مسٹر گولڈی ڈپٹی کمشنر اسپیشل برانچ ایک یورپین انسپکٹر پولیس کے ہمراہ آئے اور مولانا کو دریافت کیا۔ مولانا اوپر کی منزل میں اپنے نوشت و خواند کے کمرے میں تھے اور مسٹر فضل الدین احمد کو خطوط کا جواب لکھوا رہے تھے۔ انہوں نے مسٹر گولڈی کو وہاں بلوا لیا۔ مسٹر گولڈی نے سلام کے بعد کہا۔ کیا وہ ان کے ہمراہ چلیں گے؟ وہ انہیں لینے کے لیے آئے ہیں۔ مسٹر احمد نے پوچھا۔ کیا آپ کےہمراہ وارنٹ ہے؟ جواب میں انکار کیا۔ مگر مولانا نے کہا کہ وہ بلا وارنٹ کے بھی جانے کے لیے مستعد ہیں۔ انسپکٹر نے کہا اس قدر جلدی نہ کیجیئے۔ اگر کوئی چیز اپنے آرام کے لیئے ساتھ لینا چاہتے ہیں تو لے لیجئے لیکن انہوں نے صرف ایک گرم چادر اوڑھ لی اور کوئی چیز ساتھ نہ لی۔

جاتے وقت انہوں نے صرف یہ کہا؛ ‘کلکتہ اور باہر کے تمام احباب اور قومی کارکنوں کو میرا یہ پیغام پہنچا دیا جائے کہ تمام لوگ اپنے اپنے کاموں میں پوری مستعدی کے ساتھ مشغول رہیں۔ مجھ سے ملنے کے لیئے کوئی شخص نہ آئے۔ نہ اپنی جگہ اور اپنے کام کو چھوڑے۔ گرفتاریوں کو ایک معمولی اور متوقع واقع کی طرح محسوس کرنا چاہیے۔ کسی طرح کی خلاف معمول اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ مجھے بڑا ہی رنج ہوگا، اگر کسی کارکن نے میری ملاقات کے لیئے اپنا ایک گھنٹہ بھی ضائع کیا۔‘

اس کے بعد وہ روانہ ہو گئے۔ مسٹر گولڈی موٹر کار تک ساتھ گئے جو مکان سے کسی قدر فاصلے پر کھڑی کی گئی تھی۔ لیکن مولانا کے ساتھ صرف انسپکٹر بیٹھا، وہ خود دوسری کار پر چلے گئے۔

اس طرح زیادہ سے زیادہ دس منٹ کے اندر کامل سکون اور خاموشی کے ساتھ یہ معاملہ انجام پا گیا۔ کسی شخص نے بھی محسوس نہیں کیا کہ کوئی نئی بات پیش آئی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا روز مرہ کا ایک معمولی واقعہ ہے جس میں دونوں فریق کے لیے کوئی خلاف توقع بات نہ
 
پروف ریڈنگ بار اول : قول فیصل صفحہ ۴۷

پروف ریڈنگ بار اول: قول فیصل صفحہ ۴۷
تھی۔ جو لوگ آئے، وہ بھی بالکل سنجیدہ اور معمولی انداز میں‌تھے اور جو گیا، وہ بھی اپنی معمولی متین اور شگفتہ حالت میں‌تھا۔ دفتر کے تمام لوگوں‌کو تو ایسا معلوم ہوا، گویا وہ اپنے روزانہ معمول کے مطابق کانگرس آفس جا رہے ہیں!
ٹھیک اسی وقت مسٹر کڈ ڈپٹی کمشنر پولیس معہ دو تین بنگالی انسپکٹروں کے مسٹر سی، آر،داس کے یہاں گئے اور انہیں اپنے ساتھ لے آئے۔
جو سادہ طریقہ گرفتاری کے لیے اختیار کیا گیا، وہ بالکل نیا ہے اس سے پہلے کبھی یہ روش اختیار نہیں کی گئی تھی۔ کوئی گرفتاری بھی ہمیں یاد نہیں جو بغیر پولیس اور فوج کی نمائش کے عمل میں آئی ہو۔ خود مولانا کو ء۱۹۱۶میں جب نظر بند کیا گیا، تو رات کی پچھلے پہر کا محفوظ وقت اس کےلیے منتخب کیا گیاتھااور ایک فوجی حملہ کی شان سے قوت کی نمائش ہوئی تھی تین بجے پولیس افسروں اور سپاہیوں کی مسلح جماعت ڈپٹی کمشنر کے ماتحت پہنچی۔ جس میں علاوہ سپرنٹنڈنٹ سی، آئی، ڈی کے، سپرنٹنڈنٹ پولیس، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ، دو انسپکٹر، پانچ سب انسپکٹر بھی تھے اور سب انسپکٹر کے سوا سب کے ہاتھوں میں ریوالور تھے۔ سپاہیوں نے پہلے دور تک سڑک کی ناکہ بندی کی، پھر مکان کا محاصرہ
کر لیا۔ اس کے بعد دروازہ پر دستک دی گئی۔ برخلاف اس کے اس مرتبہ معمولی انتظام بھی نہیں کیا گیا صرف دو آدمی بلا یونیفارم کے معمولی ملاقاتیوں کی طرح آ گئے اور چپ چاپ اپنے ساتھ لے گئے۔ پولیس کی وردی اور فوج کےاسلحہ کا نام و نشان بھی نہ تھا۔

مولانا جس مکان میں رہتے ہیں، وہ علاقہ کے تھانے سے بالکل ملا ہوا ہے۔ صرف دیوار بیچ میں حائل ہے۔ لیکن تھانے میں بھی کوئی تیاری نمایاں نہیں کی گئی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب گورنمنٹ نے کم از کم دو باتیں ضرورسمجھ لی ہیں جن کے سمجھنے سے اب تک اسےانکار تھا۔ اوّل یہ کہ ملک کے لیڈر جب کہتے ہیں کہ گرفتار ہو جانے کے لیےبالکل تیار ہیں، تو یہ کوئی ڈپلومیسی نہیں ہے بلکہ واقعی ان کے دل کی سچی آواز ہے۔ پس ان کو گرفتار کرنے کے لیے کسی اہتمام کی ضرورت نہیں۔ صرف اطلاع دے دینا کافی ہے۔ دوسرے یہ
 
پروف ریڈنگ بار اول: قول فیصل صفحہ ۴۸

پروف ریڈنگ بار اول: قول فیصل صفحہ ۴۸
کہ ایسے موقعوں پر طاقت کی نمائش ہی سے گرفتاری کا کام مشکل ہو جاتا ہے۔ غیر معمولی اہتمام اور پولیس کا ہجوم دیکھ کر فوراً پبلک معلوم کر لیتی ہے کہ گرفتاری کے لیے لوگ آئے ہیں اور پھر اچانک عوام میں بھی جوش اور سرگرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو گرفتاری کا بروقت کسی کو بھی علم نہ ہو اور نہایت آسانی اور تیزی سے کام انجام پا جائے۔

چنانچہ مولانا کی گرفتاری کا واقعہ خود اطراف و جوانب کے لوگوں کو بھی اس وقت معلوم ہوا، جب شہر میں اس کا اعلان کیا گیا۔ جاتے وقت بہت سے لوگوں نے انہیں موٹر کار میں ایک یورپین کے ساتھ بیٹھے دیکھا، لیکن کسی بھی یہ خیال نہ ہوا کہ وہ جیل جا رہے ہیں۔ جب وہ موٹر کار میں سوار ہو رہے تھے تو حسب معمول کچھ دکاندار اور کچھ راہگیر سلام کرنے کے لیے جمع ہو گئے، جیسا کہ وہ ہر روز آتے اور جاتے کیا کرتے تھے، لیکن انہوں نے بھی کوئی غیر معمولی بات محسوس نہیں کی۔ فی الحقیقت یہ طریقہ فریقین کے لیے ہر طرح آرام دہ اور بہتر ہے۔ کاش گورنمنٹ ابتداء سے اسی پہ عملدر آمد کرتی تو بہت سی دقتیں اور پریشانیاں نہ اسے پیش آتیں، نہ ملک کو۔

مولانا کو پہلے پولیس کمشنر کے آفس میں پہنچایا گیا۔ تقریباً بیس منٹ وہاں بیٹھے ہوں گے کہ مسٹر سی، آر، داس بھی وہیں پہنچا دیئے گئے۔ پھر ایک موٹر کار لائی گئی، اس میں دونوں سوار ہوئے ایک یورپین پولیس آفیسر موٹر ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ گیا اور موٹر پریذیڈنسی جیل (علی پور) کی طرف روانہ ہو گئی۔ موٹر کار اس وقت بھی بالکل کھلی تھی۔ پریذیڈنسی جیل میں پیشتر سے اطلاع دے دی گئی تھی اور تمام انتظامات مکمل تھے۔ پولیس آفیسر نے دونوں صاحبوں کع جیلر سے ملایا اور اس کے حوالے کر کے واپس چلا آیا۔

مولانا نے جیل کے آفس میں مغرب کی نماز پڑھی۔ نماز کے بعد سپرنٹنڈنٹ سے انہیں ملایا گیا۔ یہ دراصل سپرنٹنڈنٹ کے سامنے قیدیوں کو حسبِ قاعدہ پیش کرنا تھا۔ سپرنٹنڈنٹ نے کہا۔ میں نے کھانے کے لیے حکم دے دیا ہے۔ نہیں معلوم اس حکم کا مقصد کیا تھا؟ کیونکہ اسکا کوئی نتیجہ ظہور میں نہیں آیا۔ اگر مقصد یہ تھا کہ تمہارے مکان سے کھانا طلب کر
 
پروف ریڈنگ بار اول: قول فیصل صفحہ ۴۹

پروف ریڈنگ بار اول: قول فیصل صفحہ ۴۹
لینے کا حکم دے دیا ہے تو باوجودیکہ دونوں صاحبوں کے یہاں ٹیلیفون ہے، لیکن کوئی اطلاع انکے یہاں نہیں دی گئی۔ اگر مقصود جیل کے کھانے سے تھا تو جس وارڈ میں رکھے گئے، وہاں کوئی انتظام کھانے کا نہ تھا۔

اس کے بعد وہ یورپین وارڈ پہنچا دیئے گئے، جہاں الگ الگ کمروں میں فوراً مقفل کر دیا گیا۔ کمروں پر گورکھا سپاہیوں کا پہرہ تھا۔

یہ وارڈ جیل کا بہتر حصہ سمجھا جاتا ہے اور یہاں صرف انڈر ٹرائل یورپین قیدی رکھے جاتے ہیں۔ یہ دو منزلہ عمارت ہے۔ اوپر نیچے پانچ پانچ کمرے ہیں۔ ہر کمرہ دس فٹ طول و عرض کا ہوگا۔ ہر کمرہ میں ایک صراحی، تام چینی کا کٹورا، اسٹول اور ایک ٹیبل ہوتا ہے۔ سونے کے لیئے ٹاٹ کی گدیلی اور دو کالے کمبل ہوتے ہیں، جو جیل میں مستعمل ہیں۔ تکیہ کی جگہ ٹاٹ کی ایک پتلی اور چھوٹی سی گدیلی سرہانے لگی ہوتی ہے۔

مولانا نے بعد کو بیان کیا "ہم لوگ تقریباً سات بجے اپنے اپنے کمروں میں بند کئے گئے۔ ساڑھے سات بجے میں نے دروازہ کی سلاخوں سے آسمان کو دیکھا تو عشاءکا وقت اچھی طرح آچکا تھا۔ میں نے عشاء کی نماز پڑھی۔ دو چار گھونٹ پانی کے پیئے اور لیٹ گیا۔ دو سال کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ مجھے اس قدر جلد اور گہری نیند آ گئی۔ برسوں سے میری نیند بہت کمزور ہو گئی ھے۔ آج کل یہ حال تھاکہ گیارہ بجے لیٹتا تھا۔ ایک دو گھنٹے کے تکلیف دہ انتظار کے بعد کہیں نیند آتی تھی۔ وہ بھی اس قدر کمزور کہ ذرا سی کھڑکھڑاہٹ خلل ڈال دیتی تھی لیکن اس رات ساڑھے آٹھ بجے لیٹا اور لیٹتے ہی سو گیا۔ تین بجے سے پہلے آنکھ نہ کھلی۔ سنتری کے فوجی بوٹوں کی آواز سیمنٹ کے برآمدے میں بڑے زور سے ہو رہی تھی۔ لیکن میری نیند میں ذرا بھی خلل نہ پڑا۔‘

‘ یہ اطمینان اور بےفکری صرف اس لیے نہ تھی کہ جیل میں آگیا، بلکہ اس لیے تھی کہ کاموں کی تکمیل کے لیے مجھے اپنی گرفتاری کے ضروری ہونے کا کامل یقین تھا۔ گرفتار ہو نے
 
Top