فنا بلند شہری قطعات - فناؔ بلند شہری

قطعات
میں تو صنم پرست ہوں مجھ کو حرم سے کیا غرض
تیرا کرم نصیب ہو باغِ ارم سے کیا غرض
میری بہشت عشق ہے یار کی بارگاہِ ناز
سن تو فقیرِ ناز ہوں جاہ و حشم سے کیا غرض
------------------
ہو مبارک زہد والوں کو ارم کا آسرا
مجھ کو کافی ہے تیرے چشمِ کرم کا آسرا
جب سے پایا ہے تیرے لطف و کرم کا آسرا
توڑ بیٹھا ہوں صنم دیر و حرم کا آسرا
------------------
ہر زرے میں توقیرِ حرم دیکھ رہا ہوں
سو رنگ میں تصویرِ صنم دیکھ رہا ہوں
ملتا ہے یہاں ہر کس و ناکس کو تیرا فیض
بے جان تیرا لطف و کرم دیکھ رہا ہوں​
فناؔ بلند شہری
 
قطعات
مجھ کو ہر دم سوالِ یار رہے
میرے دل میں جمالِ یار رہے
اے فناؔ کچھ رہے رہے نہ رہے
ساتھ میرے خیالِ یار رہے
------------------
بندگی میں اثر کا طالب ہوں
میں ترے سنگِ در کا طالب ہوں
بادشاہی نہیں مجھے درکار
سن تری اک نظر کا طالب ہوں
------------------
کام کچھ تو جہاں میں کر جاؤں
عشق میں جان سے گزر جاؤں
تیرا در میری زندگی ہے
تیرا در چھوڑ کر کدھر جاؤں
فناؔ بلند شہری
 
قطعات
ہوئی جب انجمن میں شمع روشن ان کے جلووں کی
فدا کرنے کو اپنے جان پروانے چلے آئے
تمہارے عشق میں دیر و حرم سے توڑ کر رشتہ
تمہارے آستاں پہ آج دیوانے چلے آئے
------------------
بندگی اہلِ حرم کی بات ہے
میرے ہونٹوں پہ صنم کی بات ہے
میں کہاں اور تیرا سنگِ در کہاں
جانِ جاں تیرے کرم کی بات ہے
------------------
جنونِ عاشقی میں اپنا دامن چاک کر لیتے
غمِ کون و مکاں سے اپنے دل کو پاک کر لیتے
پہچنا تیرے کوچے تک ہمارے بس میں گر ہوتا
ہم اپنے آپ کو تیری گلی کی خاک کر لیتے
------------------
فناؔ بلند شہری
 
قطعات
یہاں پہ خواجہِ غوث الوریٰ ہیں آج کی رات
چراغِ قادری و چشتیہ ہیں آج کی رات
یہ عرس پاک بڑی شان کا ہے کیا کہنا
کے جلوہ فرما سبھی اولیا ہیں آج کی رات​
فناؔ بلند شہری
 
Top