قصہ چار جولائی کا

خرم

محفلین
گزشتہ جمعہ کو امریکہ کا یوم آزادی تھا اور امریکی کیونکہ پاکستانیوں کی طرح محنتی اور جفاکش نہیں ہوتے اس لئے یہاں چار جولائی کو چھٹی ہوتی ہے۔ اس برس ہم نے منشور یہ بنایا کہ چار جولائی کو امریکہ کی وسطی ریاستوں کی سیاحت کی جائے۔ آجکل کیونکہ میرا پراجیکٹ آئیووا میں ہے اس لئے تجویز یہ قرار پائی کہ ایک ہفتہ قبل معہ اہل و عیال آئیووا قیام کیا جائے اور پھر چھٹیوں میں آئیووا، میسوری اور کینساس کی ریاستوں کی سیاحت پر نکلا جائے۔ اس لئے حسب پروگرام ہم ہفتہ اٹھائیس جون کو آرلینڈو سے روانہ ہوئے۔ سفر کے لئے ہماری پرواز امریکن ایئرلائنز سے تھی اور ہماری بیگم ان کی سروس کی کچھ زیادہ مداح نہیں ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ ہمیں سب سے آخری نشستیں ملیں لہٰذا اگرچہ جہاز کا اے سی ٹھنڈ کے بادل نما مرغولے پھینک رہا تھا، ہماری بیگم کا مزاج اتنا ہی سرد تھا جتنا کہ سبی میں جون کا کوئی بھی دن۔ اس پر مستزاد یہ کہ موسم کی وجہ سے پرواز ایک گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوئی ۔ جب جہاز اُڑا تو ہم نے بیگم اور خدیجہ کو آخر سے پہلے والی تین نشستیں پیش کیں اور خود نورالعین کو لے کر پیچھے والی دو نشستوں پر براجمان ہو گئے۔ آہستہ آہستہ جہاز بلند اور بیگم کا غصہ کم ہوتا گیا اور جب رات دس بجے جہاز شکاگو اُترا تو بیگم کا مزاج چند کین جوس اور تین گھنٹے آرام سے سفر کرنے کے بعد معمول پر آچکا تھا۔ اس دوران نورالعین نے بھی جہاز کے ان تمام کل پرزوں کی خوب خبر لی جو اس کی دسترس میں تھے لیکن جہاز بھی اس کے والد کی عمر کا اور تقریبا اتنا ہی ڈھیٹ تھا لہٰذا کوئی وقوعہ نہیں ہوا۔
ایئر پورٹ سے سامان لیکر کرائے کی گاڑی کے لئے کمپنی کے اڈے پر پہنچے۔ اب ہم ایک کار کمپنی کے ممبر ہیں جس کے تحت ہم ان کی کوئی بھی کار کرایہ پر لیں ہمیں کرایہ ایک ہی دینا پڑتا ہے۔ لہٰذا سینکڑوں گاڑیوں میں سے ایک چننے کے لئے وہی معمول کی بحث
یہ لے لیں؟ "اونہوں بہت بڑی ہے"
یہ لے لیں؟ "اونہوں یہ چھوٹی ہے"
اس کے متعلق کیا خیال ہے؟ "سامان نہیں آئے گا"
آخر ایک گاڑی نیم پسند آئی اور اس میں اسباب رکھ کر روانہ ہوئے۔ ہوٹل پہنچے، اسباب کمرے میں رکھا اور دوڑے دیوان سٹریٹ کی طرف جو شکاگو کا دیسی کارنر ہے۔ بیگم نے ریستوران والوں سے فون پر ان کے اوقات پوچھے اور انہوں نے کہا کہ رات بارہ بجے تک ریستوران کھلا ہے۔ بارہ بجنے میں تین، چار منٹ باقی تھے جب ریستوران پہنچے مگر جب اندر پہنچے تو انہوں نے کہا کہ کھانا گھر لے جانے کے لئے تو دستیاب ہے لیکن بیٹھ کر کھانے کے لئے نہیں۔ انہیں توجہ دلائی کہ ابھی بارہ بجنے میں دو تین منٹ ہیں اور اخلاقاً وہ ہمیں کھانا کھلانے کے پابند ہیں لیکن انہوں نے اپنی بات پر اصرار کیا۔ بس اس پر ہمارے اندر چھپا بیٹھا راجپوت بیدار ہوا اور نہ صرف بیدار ہوا بلکہ اس بات کو اپنی توہین سمجھ کر بچوں کا ہاتھ پکڑ دروازے سے باہر۔ بیگم بھی حیران پریشان ہمارے پیچھے گاڑی میں آبیٹھیں۔ اب غصہ عقل کا دشمن تو ہوتا ہی ہے، ہمارا غصہ ہمارے پیٹ کا دشمن بھی ثابت ہوا کہ بعد ازاں انکشاف ہوا کہ کھانے پینے کی تمام دوکانیں بند ہو چکی ہیں۔ بچیوں کے لئے دودھ لیا ایک فارمیسی سے اور غصہ میں بھنکتے ہوئے ہوٹل واپس آدھمکے۔ اب آدھی رات کے بعد ہوٹل کا ریستوران بھی بند ہو چکا تھا اور جو چیزیں رات کے لئے وہاں سے دستیاب تھیں ان میں سے بھی کوئی جی کو نہیں لگتی تھی۔ اب غصہ مزید تیز ہوا اور اس کا نشانہ ریستوران والوں کےعلاوہ مابدولت خود بھی تھے۔ لہٰذا اس اکھڑ راجپوت کے لئے ایک ہی راستہ تھا کہ رات بھوکا رہ کر گزارا کیا جائے سو یہی راستہ اختیار کیا۔ زیادتی صرف یہ ہوئی کہ بیگم کو بھی وہ رات بھوکا سو کر گزارنا پڑی جو بیچاری نے انتہائی صبر سے گزاری۔ اللہ انہیں جزا اور ہمیں عقل دے۔ آمین۔
اگلی صبح تک ہمارا غصہ تو ہوا ہو چکا تھا اور اب اس کی جگہ ندامت نے لے لی تھی۔ بچیوں کو تیار کروایا، بیگم کو منایا اور پھر واپس آدھمکے دیوان سٹریٹ پر ناشتے کے لئے۔ ایک حلوائی کی دوکان میں گھسے ناشتہ کے لئے۔ حلوہ پوری منگوائی گئی اور جو بھی آیا اس میں حلوہ تو کمیاب تھا، پوریاں اور اچار وغیرہ البتہ کافی مقدار میں تھے۔ اب ہم ٹھہرے سیدھے سادھی پنجابی، پوریوں کے ساتھ بھاجی اور اچار کا تعلق ہمارے ذوق کثیف سے کافی اوپر کی چیز ہے لیکن بہرحال ناشتہ تو کرنا تھا سو کیا۔ ناشتہ کر کے مشیگن جھیل پر گئے، وہاں چہل قدمی کی، پھر ہلکی ہلکی پھوار کے دوران اندرون شہر گھومے اور بیگم کو سیئزر ٹاور جو کبھی دنیا کو اور آج امریکہ کی سب سے اونچی عمارت ہے، اس کی سیر کروائی۔ نہ صرف سیر کروائی بلکہ اس کے اوپر بھی لیکر گئے جہاں سے بیگم واہ واہ کرتی رہیں اور ہم ڈر کے مارے کانپتے رہے۔ آپ خود ہی انصاف کیجئے، ایک سو تین منزل کی اونچائی سے جب آپ شیشے کی دیواروں سے نیچے گزرتی ٹریفک اور عمارتوں کے انبار کو دیکھیں، اتنی بلندی کہ نیچے سڑک پر چلتے ٹرک چیونٹیوں جتنے نظر آئیں تو جان ہوا ہوگی کہ لطف آئے گا؟ بہرحال خدا کا شکر ہے کہ سیئرز ٹاور اپنی جگہ ہی قائم رہا اور ہم بخیر واپس زمین پر واپس آگئے۔
اب پھر وہی مسئلہ درپیش کہ کھانا کہاں کھایا جائے؟ جو اچھی جگہ تھی وہاں تو ہم رات کو لڑ لئے اور باقی جگہوں پر کھانا زہر مار کرنا اپنے اور بیوی بچوں کے ساتھ زیادتی تھا۔ اس لئے اکھڑ راجپوت کو اخلاقیات کا درس دے کر خاموش کروایا اور ایک شاہانہ بے نیازی سے دوبارہ اسی ریستوران میں جادھمکے۔ اللہ کریم کی رحمت ایسے ہوئی کہ ریستوران کے مالک خود موجود تھے۔ اپنی نگرانی میں نشست لگوائی اور کھانے کا آرڈر لیا۔ کھانا رات والے صاحب ہی لیکر آئے۔ موقع غنیمت جان کر ہم نے ان سے شکوہ کیا کہ رات ان کے سلوک سے ہمارا جی بہت دُکھا۔ انہوں نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معافی چاہی اور ہم نے بھی دوستی کر لی کہ اچھے بچے لڑا نہیں کرتے۔ کھانا لذیذ تھا اس لئے کھایا بھی اور ایک ہفتہ کے لئے پیک بھی کروا لیا۔ پیٹ پوجا سے فارغ ہوکر آئیووا کا قصد کیا اور رات کا گجر قریباً ساڑھے گیارہ بجا رہا تھا جب ہم ہوٹل پہنچے۔
جاری ہے ۔۔۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
بس یہ بتا دیں کہ ایک ہفتے کا پیک کروایا، تو کیا اسے ایک ہفتہ ساتھ اٹھائے اٹھائے پھریں گے۔ اگلی قسط میں یہ ضرور لکھیئے گا۔ تب میں اپنا یہ پیغام حذف کر دوں گا۔
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
بہت خوب خرم سینئیر صاحب بہت اچھا لکھا ہے ویسے شمشاد بھائی والی بات کاجواب بھی ضرور دے اور اگلی قسط کا انتظار رہے گا ویسے 14 اگست کو پاکستان میں بھی چھٹی ہوتی ہے یومِ آزادی کے دن:)
 

خرم

محفلین
اگلے چار روز ہم کام پر جاتے اور بیگم اور بچیاں ہوٹل میں مزے کرتیں۔ تین دن تک شکاگو سے لایا ہوا کھانا کام آیا اور ایک شب ہم نے وسکانسن کے شہر میڈیسن کے اکلوتے حلال ریستوران کو زینت بخشی۔ گاڑی میں گیس بھرواتے ہوئے گیس سٹیشن کی مالک سکھ خاتون سے گپ شپ ہوئی۔ ان کی زبانی ان کے والد کے متعلق معلوم ہوا جو تقسیم کے وقت فیصل آباد سے انڈیا چلے گئے تھے اور اب مرنے سے پہلے ایک دفعہ اپنی جنم بھومی کو دیکھنا چاہتے تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ آجکل انڈیا پاکستان بھائی بھائی کھیلا جارہا ہے لہٰذا ویزہ لگوا کر اپنے والد کی خواہش پوری کر آئیں۔ یہ قصہ منگل کی رات کا ہے۔ اس جمعرات کی سہ پہر ہم ہوٹل سے آئیووا کے شہر ڈی مائن کے لئے روانہ ہوئے۔ راستہ قریباً تین گھنٹہ کا تھا۔ ہوٹل سے چلتے ہوئے بیگم نے کہا کہ راستہ میں آئیووا شہر سے (آئیووا ریاست میں ایک شہر کا نام بھی ہے آئیووا) کھانا کھاتے ہوئے چلتے ہیں۔ اکھڑ راجپوت کا جواب آیا "نہیں رہنے دیتے ہیں وقت ضائع ہوگا"۔ اب ہوا یوں کہ سیڈر ریپڈز پہنچ کر ایک سڑک کی جنوبی طرف پر جانے کی بجائے شمالی طرف کو جانکلے۔ غلطی کا پتہ تو چل نکلا لیکن اندازہ یہ کیا کہ جیسا کہ عموماً دستور ہے، یہ چھوٹی سڑک آگے جاکر اس بڑی سڑک پر جانکلے گی جہاں ہمیں جانا ہے۔ اسی امید میں آگے بڑھتے گئے اور جب شہر سے قریبا کوئی پانچ میل باہر آگئے تو فکر دامنگیر ہوئی۔ وجہ اس کی یہ کہ ہمارے قیاس کے مطابق سڑک کو جنوب میں مڑ جانا چاہئے تھا اور وہ لگاتار شمال کی جانب چلی جا رہی تھی۔ واضح ہو کہہماری عادت ہے کہ سفر پر نکلنے سے پہلے نقشہ دیکھ لیتے ہیں لیکن اس روز اس کا خیال ہی نہ آیا۔ پھر بیگم کو کہا کہ موبائل پر نقشہ دیکھ کر بتائیں کہ یہ سڑک کدھر کو جاتی ہے۔ انہوں نے نقشہ دیکھنے کے بعد انکشاف کیا کہ سڑک تو شمال کی جانب واٹر لو کے شہر کی جانب جا رہی ہے۔ اس پر ہم نے اگلے ایگزٹ سے گاڑی کا رُخ موڑا اور سڑک کی دوسری طرف ہولئے۔ اب بیگم نے موقع غنیمت جان کر چوٹ کی کہ میرے کھانے کے لئے وقت ضائع ہو رہا تھا اور اب خود غلط راستہ لیکر اتنا وقت ضائع کردیا۔ کیونکہ غلطی ہماری ہی تھی لہٰذا کھسیانے ہوئے گاڑی چلاتے رہے۔ راستہ میں سستانے کی جگہ پر رُک کر تھوڑا سستائے اور پھر اپنی غلطی کا کفارہ ادا کرنے کے لئے بیگم کو اس ریستوران لے چلے جہاں پر جانے کی پہلے بات ہوئی تھی۔
کھانا کھانے کے بعد دوبار ڈی مائن کی طرف نکلے اور رات قریبا نو بجے ہوٹل جا پہنچے۔کمرے میں سامان رکھا تو ایک اور فرمائش ہوئی کہ شہر آتش بازی دیکھنے جانا ہے۔ مرمرا سا احتجاج کیا کہ صبح سے کام کر رہے تھے اور اس کے بعد اتنی گاڑی چلائی ہے تو تھوڑا آرام کر لیتے ہیں۔ جواب آیا "تو کیا ہم اتنی دور ہوٹل کا کمرا دیکھنے آئے ہیں؟" ایک دفعہ انکار کا نتیجہ بھگت چکے تھے لہٰذا سر جھکا کر گاڑی میں جا بیٹھے۔ لیکن غلطی پھر وہی کہ نقشہ نہ دیکھا۔ اب عموما امریکہ میں سڑکوں کے نام اور نشانات کافی واضح ہوتے ہیں اور راستہ تلاش کرنا اتنا مشکل نہیں ہوتا اور ویسے بھی ہماری راستہ تلاش کرنے کی صفت کی ہماری بیگم بھی معترف ہیں۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ جب ہم اندرون شہر کی جانب جا رہے تھے، راستہ میں ایک سڑک نبراسکا کے لئے الگ ہورہی تھی۔ عین وقت پر بیگم نے اوماہا، نبراسکا کی بات چھیڑ دی اور انہیں جواب دیتے ہوئے ہم سے ایگزٹ چھوٹ گیا۔ پھر کوشش کی کہ اگلا ایگزٹ لے کر واپس اس سڑک کی دوسرے جانب آجائیں لیکن اگلا ایگزٹ ایئرپورٹ کی جانب لے گیا اور اس سڑک پر ایئرپورٹ سے پہلے کوئی ایگزٹ ہی نہیں تھا۔ لوجی کرلو گل۔ خیر راستہ تلاش کرنا تو مسئلہ نہیں تھا، مسئلہ یہ تھا کہ آتش بازی شروع ہو چکی تھی اور ہمیں اپنی بائیں جانب کبھی کبھار اس کی چکاچوند بھی دکھائی دے جاتی تھی۔ فکر اس وقت صرف یہ تھی کہ بیگم کو نہ معلوم ہو کہ آتش بازی شروع ہو چکی ہے وگرنہ گاڑی کے اندر بھی آتش بازی شروع ہوجانی تھی۔ سو بیگم کو باتوں میں لگایا اور گاڑی بھگاتے رہے۔ آخر شہر کے اندر داخل ہوئے۔ آپ سوچیں گے کہ پھر تو پہنچ گئے ہوں گے آتش بازی والی جگہ پر۔ ناں جی اتنے آرام سے نہیں۔ گاڑی بیچاری اس سارے عرصہ میں کوئی چار سو میل کے قریب چل چکی تھی لہٰذا اس کی طرف سے بھی شکم پُری کا مطالبہ شروع ہو گیا۔ اب انجان شہر میں پٹرول سے خالی گاڑی میں پھنسنے کا رسک تو لیا نہیں جا سکتا تھا لہٰذا ایک سٹیشن سے گاڑی کا پیٹ بھرا۔ قصہ مختصر جب ہم دریا کنارے پہنچے جہاں آتش بازی ہو رہی تھی تو آخری پھلجھڑی چھوڑی جاچکی تھی۔ اس روز کی آتش بازی کا ہم نے یہی لطف اٹھایا کہ آخری پھلجھڑی نے ہمارے سامنے دم توڑا۔ بُرا کام یہ ہوا کہ ہم آتش بازی سے تو محروم رہے لیکن اس کے ختم ہوتے ہی جو رش پڑا اس سے محروم نہیں رہے۔ گویا کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا دو آنے۔
قریبا بیس منٹ ٹریفک میں پھنسے رہے اور پھر حسب عادت یہ سوچا کہ ٹریفک کے مخالف جاتے ہیں تاکہ رش سے نکلا جاسکے۔ رات کے وقت ایک انجان شہر میں بھٹک جانے میں رسک تو تھا لیکن جام میں پھنسے رہنا اس سے بھی مشکل تھا۔ سو جو لین خالی تھی گاڑی اس میں ڈالی اور بجائے بڑی سڑک پر جانے کے سیدھے شہر کے قلب میں جا پہنچے۔ یہاں سے کام آسان تھا کہ بڑی سڑک کی سمت کا اندازہ تھا اور چند ایک موڑ کاٹ کر ہم اس سڑک تک جا پہنچے جو ہوٹل کو جاتی تھی۔ اس کے بعد کا سفر کافی آسان تھا اور رات کے قریبا ساڑھے گیارہ بج رہے تھے جب ہم ہوٹل واپس پہنچے۔ اس طرح ہمارے نئے سفر کی پہلی رات اپنے اختتام کو پہنچی۔
 

خرم

محفلین
اگلی صبح اٹھ کر ناشتے کے لئے ہوٹل کے ریستوران پہنچے اور ان کے باورچی کی آزمائش شروع ہوئی۔ بتاتے چلیں کہ ہماری بیگم کھانے کے معاملہ میں بہت حساس ہیں۔ کھانے میں بو بالکل نہیں ہونا چاہئے، گرم ہو لیکن زیادہ نہیں، نمک مرچ بالکل درست، کھانا پندرہ منٹ بھی پُرانا نہیں ہونا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ اب ریستوران والوں کو ایسے گاہک کم ہی ملتے ہیں۔ ادھر ڈبیوک میں تو انکی دوستی ہو گئی تھی ان بڑی بی سے جو ناشتا لا کر دیتی تھیں لہٰذا ہر چیز بالکل تازہ آتی تھی ان کی میز پر۔ ڈی مائن میں ریستوران کا انتظام ہسپانوی نژاد افراد کے پاس تھا اور پہلے نمبر تو یہیں کٹ گئے کہ بیگم ہسپانویوں کی صفائی پسندی کی معترف بالکل نہیں ہیں۔ اس کے بعدآلو کے قتلے آئے تو کہا کہ پہلے سے پکے ہوئے ہیں، جوس انہیں ویسے ہی امریکہ میں ایک آدھ برانڈ کا ہی پسند ہے۔ لے دے کر صرف پھل اور آملیٹ ہی ایسی چیز بچے جو انہوں نے شکم پروری کے لئے استعمال کئے۔ ہم نے البتہ آملیٹ اور دودھ ملے سیریل کا ناشتہ کیا۔
ناشتے کے بعد قصد کیا کینساس شہر کا جو امریکہ کی ریاست میسوری اور کینساس میں بٹا ہوا ہے۔ اس شہر کے میسوری اور کینساس والے حصوں کے درمیان دریائے میسوری بہتا ہے۔ اب کسی بھی نئے شہر میں جانے سے قبل ہم یہ ضرور دریافت کرتے ہیں کہ قریب ترین حلال کھانے کی جگہ کہاں موجود ہے۔ سو ذبیحہ ڈاٹ کام سے فہرست نکالی اور جو ریستوران سب سے اوپر تھا اس کا نمبر ملا لیا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس روز تو چار جولائی کے سبب وہ جلد دوکان بڑھا رہے ہیں لیکن اگلے روز ناشتے میں پائے، نہاری اور اس قسم کے لوازمات کی دستیابی کا سُن کر جی کو فرحت پہنچی۔ باتوں کے دوران علم ہوا کہ مالک دوکان کا نام عرفان ہے اور وہ گجرات کے رہائشی تھے۔ قدرتی طور پر ہم نے باتوں کا رُخ سیاست کی طرف موڑ دیا۔ عرفان صاحب اپنے ہمت بھائی کی پارٹی کے تھے غالباً کہ فریق مخالف کے انہوں نے خوب پرخچے اُڑائے۔ ان سے گفتگو کافی عرصہ چلی اور کافی معلومات حاصل ہوئیں۔ اسی اثنا میں انہوں نے ایک قریبی فلسطینی ریستوران کا پتہ بھی بتا دیا جو اس روز کھلا تھا۔
عرفان صاحب سے رخصت چاہ کر ہم ہوٹل سے روانہ ہوئے اور قریبا ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد میسوری ریاست میں داخل ہوئے۔ اس ریاست کے پہلے خوش آمدیدی سنٹر سے ریاست کی سڑکوں کا نقشہ حاصل کیا اور ساتھ ہی دوپہر کا کھانا جو گزشتہ روز آئیووا شہر سے لیا تھا وہ تناول کیا۔ سنٹر کی نگران بڑی بی سے ہم نے پوچھا کہ آمش لوگوں کی بھی کوئی بستی اریب قریب ہے کہ نہیں۔ اب جنہوں نے انگریزی فلم "The Witness" دیکھی ہے انہیں تو شائد معلوم ہو کہ آمش کسے کہتے ہیں۔ باقی لوگوں کی معلومات کے لئے بتاتے چلیں کہ یہ ایک طبقہ ہے گوروں کا جو ہماری طرح پرانے وقتوں میں رہتے ہیں۔ گھوڑوں کی بگھیوں میں سواری کرتے ہیں، گھوڑوں سے ہل چلاتے ہیں اور پرانی طرز کے لباس اور طور طریقوں پر ہی زندگی گزارتے ہیں۔ ہماری ان میں دلچسپی اس وجہ سے کہ ہمیں پاکستان کے دیہاتوں کی یاد دلاتے ہیں کہ ان کا طرزِ زندگی پاکستان کے خالص دیہاتی طرز زندگی سے کافی قریب ہے۔ بہرحال معلوم ہوا کہ قریبا ساٹھ میل آگے راستہ سے کوئی بیس میل ہٹ کے ایک بستی ہے آمش لوگوں کی۔ سو ہم نے اس بستی کو بھی اپنے پلان میں شامل کر لیا۔
قریبا تین بجے کا عمل تھا جب ہم اس آمش بستی میں پہنچے۔ گھروں میں گاڑیوں کی جگہ بگھیاں کھڑی تھیں، گھوڑے چراگاہوں میں چر رہے تھے۔ چند ایک آمش گھروں کے پاس تو باقاعدہ ہرنوں کے باڑے دیکھے اور حیران ہوئے۔ بعد میں دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ہرن اس لئے قابو کئے ہوئے ہیں کہ سردیوں میں جب ان کے سینگ جھڑیں گے تو ان سے دستکاریاں بنائی جائیں۔ ہرنوں کا یہ استعمال ہم نے پہلی مرتبہ ہی سُنا اور دیکھا۔ ایک جگہ ایک دوکان کا اشتہار تھا جہاں لکڑی کی دستکاریاں برائے فروخت تھیں۔ کچے راستے پر دھول اُڑاتے، امریکہ میں پاکستان کے مزے لیتے ہم ان کی دوکان پر پہنچے۔ ایک باریش انکل سر پر ٹوپی پہنے گاہکوں کا استقبال کر رہے تھے۔ لکڑی کا فرنیچر خوبصورت تھا اور ہماری بیگم اور نورالعین کو فوراً ایک جھولا پسند آگیا۔ شکر ہے کہ جھولا اتنے زیادہ حجم کا تھا کہ گاڑی میں نہیں آسکتا تھا وگرنہ ہم تو گئے تھے کام سے۔ ایک لکڑی کی ریل گاڑی بھی دیکھی جسے نورالعین نے "چو چو ٹرین" کا نام دے دیا۔ دوکاندار کے بیٹے سے ان کے اصطبل میں کافی خوشگوار گپ شپ ہوئی جہاں وہ اپنے گھوڑے کی نعل مرمت کررہا تھا۔ ان کے پاس پانچ بگھیاں اور بارہ گھوڑے تھے۔ دریافت کیا کہ گھوڑوں کی اسقدر فضول خرچی کی آخر کیا ضرورت؟ اس پر انہوں‌نے جواب دیا کہ گھوڑا گاڑی کی طرح تھوڑا ہی ہے کہ ہر روز بگھی میں جوت لو۔ اگر آرام نہ دیا جائے تو گھوڑے کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ ہم حیران ہوئے اس بیان پر کہ ادھر وطن عزیز میں تو لنگڑے گھوڑے بھی چھ چھ مشٹنڈوں کو اٹھا کر ٹانگے میں جُتے دیکھے اور گھوڑوں کی چھٹی کا تو کبھی سُنا ہی نہیں تھا۔ اس سب گپ شپ سے فارغ ہوئے تو چار سے اوپر کا عمل تھا۔ سو گاڑی میں بیٹھے اور قریباً ساڑھے پانچ، چھ بجے کینساس ایئر پورٹ کے قریب ہوٹل پہنچ گئے۔ ہوٹل پہنچ کر سامان رکھا۔ شہر جانے کے لئے نیچے آئے اور استقبالیہ کلرک سے اس دن کی آتش بازی کے پروگرام کے متعلق پوچھا۔ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ڈی مائن کی آتش بازی تو راستہ بھٹکنے کے سبب بیگم دیکھ نہ پائی تھیں۔ اب اگر کینساس میں بھی وہ آتش بازی نہ دیکھ سکتیں تو پھر ہمارے سر پر پھلجھڑیاں چھوٹنی تھیں اور سارا سال چھوٹتی ہی رہنی تھیں۔ بہرحال استقبالیہ والیوں نے بتایا کہ ایک مظاہرہ تو ہوٹل کے قریب ہو رہا ہے اور ایک دریا کنارے شہر کے قریب۔ اب چونکہ ہمیں کھانا کھانے شہر ہی جانا تھا سو یہی ارادہ ٹھہرا کہ دریا کنارے والی آتش بازی دیکھی جائے اگرچہ اس کے دیکھنے کے لئے پانچ ڈالر کا ٹکٹ تھا کیونکہ امریکی فضائیہ کا بینڈ بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والا تھا۔
 

شمشاد

لائبریرین
ماشاء اللہ اچھی جا رہی ہے سفر کی روداد اور لگتا ہے خرم بھائی کو بھی فراغت میسر ہے، ورنہ خرم بھائی اور اتنا زیادہ زیادہ لکھنا :confused:
 

ابوشامل

محفلین
خرم بھائی آپ کی "رودادِ الم" پڑھنے کا اتفاق آج ہوا، کیونکہ آپ نے اس میں آلام کا ذکر زیادہ کیا ہے۔ بہت خوب انداز ہے تحریر کا۔ اگر اس میں درمیان میں مختلف علاقوں کی معلومات کا اضافہ کر دیا جائے تو یقین جانیں ایک بہت اعلی قسم کا سفرنامہ تیار ہو سکتا ہے۔
 

خرم

محفلین
بھیا انشاء اللہ کوشش کروں‌گا کہ مزید معلومات بانٹ سکوں۔ اس ہفتہ تو کچھ مصروفیت ہے انشاء اللہ اگلے ہفتہ باقی کی روداد مکمل کروں گا۔
 

خرم

محفلین
بلا کسی خاص مشقت کے پیراڈائز نامی فلسطینی ریستوران پہنچ گئے جس کا نام و پتہ عرفان صاحب نے بتایا تھا۔ کھانا آرڈر کرنے کی باری آئی تو مالکِ دوکان نے مشورہ دیا کہ ایک پلیٹر Platter لے لیا جائے جو دو آدمیوں کو کافی ہوتا ہے۔ ہماری لاہوری رگ پھڑکی اور اسے اپنی شکم پروری کے لئے ایک طعنہ سمجھتے ہوئے ہم نے کہا کہ ہم آرڈر تو پلیٹر ہی کریں گے لیکن کھائیں گے اکیلے۔ بیگم کے لئے آپ علیحدہ سے چکن کے تکہ کباب لے آئیے۔ وہ صاحب تو حیرانی سے سر ہلاتے ہوئے چلے گئے اور ہم چہرے پر تفاخرانہ اور بیگم متاسفانہ تاثرات سجائے کھانے کا انتظار کرنے لگے۔ اب یا تو ان کا پلیٹر واقعی بڑا ہوتا تھا یا انہوں نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی ٹھانی کہ بڑی ساری پرات میں پانچ چھ قسم کا گوشت اور چاول سجا کر ہمارے سامنے پیش کردئے۔ اب کچھ کچھ لاہوری ہونے کے ناطے ہمیں خوشی بہت ہوئی کہ جی بھر کر گوشت کھانے کو ملے گا (گوشت کے معاملہ میں ہم الحمد للہ پکے مسلمان ہیں اور سبزیات وغیرہ تناول کرنے کو ہندوانہ رسم جان کر اس سے اجتناب کرتے ہیں) لیکن ساتھ ہی فکر بھی دامن گیر ہوئی کہ اتنی بڑی پرات کو خالی کرنا ہمارے بس سے ذرا باہر تھا۔ خیر چونکہ معاملہ خود ساختہ عزت کا تھا سو بسم اللہ پڑھ کر شروع کردیا اور آہستہ آہستہ پرات میں پڑی چیزیں ہمارے شکم میں منتقل ہونے لگیں۔ ستم یہ ہوا کہ بیگم نے حسب دستور تھوڑا سا چکن کھانے کے بعد ہاتھ کھینچ لیا۔ اب الجھن آن پڑی کہ اپنی پرات ختم کرنے کے ساتھ بیگم کا کھانا بھی اصولاً ختم کرنا لازمی تھا کہ بڑے طمطراق سے ہم نے دو بندوں کے لئے آرڈر دیا تھا لیکن پاپی پیٹ ساتھ چھوڑ گیا اور ہم بمشکل اپنی پرات ہی ختم کر پائے۔ اب یہ یاد نہیں کہ جب ہم نے بیگم کا کھانا پیک کرنے کے لئے ڈبہ مانگا تو دوکان کے مالک کے چہرے پر فاتحانہ تاثرات تھے یا استعجابانہ؟ بہرحال الحمدللہ شکم سیر ہو چکے تھے سو چلے اس جگہ کی جانب جہاں آتش بازی ہونا تھی۔ اب انجان اور گنجان شہر میں کس سے پوچھیں کہ آتش بازی کہاں ہوگی؟ آخر ایک گاڑی والے کو روک کر ان سے راستہ پوچھا۔ انہوں نے پورے اعتماد سے راستہ بتایا اور ہم بگٹٹ ان کے بتائےہوئے راستہ پر گاڑی بھگا کر آتش بازی والی جگہ کی جانب روانہ ہوئے۔
لیکن یہ کیا؟؟ دریا کی بجائے ہم نے اپنے آپ کو ایک Black Neighborhood یعنی کالوں کی بستی میں‌پایا۔ اب اگر آپ امریکہ/کینیڈا میں نہیں رہتے تو شائد آپ کالوں کی بستی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ایک انجانا سا سکوت اور ویرانی مسلط ہوتی ہے اس جگہ پر۔ گھروں کے باہر گھاس بڑھی ہوئی، ہر طرف آپکو گھورتی آنکھیں، اُجاڑ پن اور وحشت ایسے جیسے ناصر کاظمی نے کہا تھا کہ
میرے گھر دیواروں پہ ناصر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے
تو کالوں‌کی بستی میں اداسی کی جگہ وحشت بال کھولے جاگ رہی ہوتی ہے۔ اب ایسی صورتحال میں ہمارا ردعمل یہی ہوتا ہے کہ کسی بھی قسم کی گھبراہٹ ظاہر کئے بغیر، مقامی باشندوں سے نظریں چُراتے ہوئے کھسک لیں۔ سو گاڑی کی رفتار بڑھائی اور جو سڑک بڑی نظر آئی اس پر گاڑی ڈال دی۔ کافی آگے جاکر فری وے (جیسے اپنی موٹر وے ہے) نظر آئی تو سکون کا سانس لیا۔ اس پر آگے جاکر واپسی کے لئے مُڑے ، راستے میں ایک پولیس کی گاڑی نظر آئی تو سوچا کہ اس سے راستہ پوچھتے ہیں۔ پولیس والا خود شائد کالوں کے علاقے سے بھاگ رہا تھا کہ قابو ہی نہیں آیا۔ خیر پھر اندازے سے دریا کی جانب چلے اور ایک جگہ لوگوں کا ہجوم اور روشنیوں کا میلہ سا دیکھا تو بھانپ لیا کہ یہی ہے منزل مقصود سو ایک کیسینو کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرکے ہم بھی ہجوم میں شامل ہوتے ہوئے دریا کی جانب چل پڑے۔
اب آتش بازی ایک پارک کے اندر ہونا تھی اور یا تو آپ پارک سے باہر کھڑے ہو کر اس کا نظارہ کر سکتے تھے یا پھر پارک کے اندر داخلے کا ٹکٹ بھر کے پارک میں لگے مینا بازار کی سیر بھی کرسکتے تھے اور امریکی فضائیہ کے بینڈ کے نغمات سے محظوظ ہوتے ہوئے آتش بازی کا نظارہ کر سکتے تھے۔ ہماری بیگم، تمام بیگمات کی طرح مینا بازاروں کی شوقین ہیں سو فرمائش ہوئی کہ پارک کے اندر جا کر ہی تماشہ دیکھا جائے۔ اب مسئلہ آن پڑا کہ پارک کا داخلہ ٹکٹ پانچ ڈالر فی کس تھا۔ ہم نے کبھی پھُٹا جیب میں رکھا ہی نہیں۔ کریڈٹ کارڈ سے ہی تمام کام چلاتے ہیں اور پارک والے صرف کیش پر اصرار کر رہے تھے۔ اپنے جیبیں اور بیگم کا پرس ٹٹول کر پانچ ڈالر تو برآمد کرلئے لیکن یہ بھی صرف ایک ٹکٹ کے لئے کافی تھے۔ اس تمام اثنا میں داخلہ ٹکٹ وصول کرنے والی لڑکی بڑے صبر سے ہماری کاروائی دیکھتی رہی۔ہم نے اسے شرمندگی سے کہا کہ پانچ ہی ڈالر برآمد ہو پائے ہیں۔ اللہ اس کا بھلا کرے اس نے کہا کوئی بات نہیں میرے پاس ایک ٹکٹ فالتو ہے، آپ وہ ایسے ہی لے لیں۔ اسے دعائیں دیتے اور اپنی عادت کو کوستے ہوئے ہم پارک کے اندر داخل ہوئے۔ مینا بازار والے دوکانیں بڑھا رہے تھے اور ہر جگہ گنے کے رس ایسی بُو پھیلی ہوئی تھی کہ اس سارے تماشہ کو سپانسر ایک بیئر بنانے والی کمپنی نے کیا تھا اور لوگ ان کی خوب بکری کرا رہے تھے۔ ڈھونڈتے ڈھانڈتے ایک مناسب سی جگہ چُن کر وہیں گھاس پر براجمان ہو گئے اور آتش بازی کا انتظار کرنے لگے جس میں کوئی دس پندرہ منٹ ہی باقی تھے۔
 
Top