اسکین دستیاب قصص الحمرا

اوشو

لائبریرین
قصص الحمرا


صفحہ ۔۔۔ 41


سند ملتے ہی مینول کی شادی غزال چشم حسینہ سے ہو جائے گی۔

خاتون انطونیہ میری ہر طرح کی آسائش کا پورا اہتمام کرتی ہیں اور جو سادہ غذا مجھے اس اہتمام کی بدولت ملتی ہے میں اس سے بےحد مطمئن ہوں۔ خصوصاً اس لئے کہ خوش شمائل اور خوش خصلت ڈولرس کھانے کے وقت میرے پاس م وجود رہتی ہے اور صبح شام میرے کمرے کی صفائی بھی کرتی ہے۔ ایک دراز قامت نوجوان جس کے باز زرد رنگ کے ہیں اور جو ہکلا ہکلا کر باتیں کرتا ہے، میری ٹہل خدمت پر مامور ہے۔ اس کا نام پپی ہے۔ پپی کا اصل کام باغ کی دیکھ بھال کرنا ہے لیکن اس کے علاوہ اس کا دوسرا کام میرے احکام کی تعمیل ہے۔ حالانکہ اسے ان احکام کی تعمیل کا موقع مشکل ہی سےکبھی ملتا ہے اس لئے کہ موتیو اکسیمن "فرزندِ الحمرا" نے یہ خدمت خودبخود اپنے ذمے لے لی ہے اور اس دن کے بعد سے جب الحمرا کے پھاٹک پر میری اس کی پہلی ملاقات ہوئی اس نے بیک وقت خادم، رہنما، مشیر اور محافظ کے منصب اختیار کر کے مجھے ہر بار سے سبکدوش کر دیا ہے۔ ان بہت سی خدمات کے عوض میں نے صرف اتنا کیا ہے کہ اسے اس کے بوسیدہ لبادے سے سبکدوش کر کے اسے ہسپانوی طرز کا ایک ہیٹ اور جیکٹ خرید دی ہے۔ موتیو کا یہ نسبتاً معزز لباس اس کے لئے وجہِ سکون اور اس کے ہم سِنوں کے لئے باعث ِ رشک ہے۔ موتیو میں بہت سی خوبیاں ہیں۔ اس کا واحد عیب یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ضرورت سے زیادہ کارآمد اور کارگزار بننے کی کوشش کرات ہے۔ اسے اس بات کا شدید احساس ہے کہ میری خدمت کے مختلف عہدوں اور منصبوں پر اس نے اپنے آپ کو خود ہی مامور کیا ہے اس لئے وہ ہمہ وقت اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ مفید ثابت کرنے کے منصوبے بناتا اور ان پر عمل کرتا رہتا ہے اور اس طرح میں گویا اس کے حاکمانہ جذبۂ خدمت گزاری کا شکار بن کر رہ گیا ہوں۔ میں محض چہل قدمی کے خیال سے کبھی قصر کے اطراف میں جا نکلتا ہوں تو میرا یہ مستعد رہنما فوراً میری خدمت میں آ موجود ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی دیکھوں اس کی توضیح و تشریح کرتا رہے۔ اور جب کبھی میرا جی چاہا ہے کہ گرد و پیش کی پہاڑیوں پر ہوا خوری کروں تو وہ محافظ کی حیثیت سے میرے ساتھ چلنے پر اصرار کرتا ہے۔ حالانکہ مجھے یقین ہے کہ اگر خدانخواستہ مجھے کسی قسم کا خطرہ درپیش ہو تو وہ اپنے مضبوط بازوؤں کے بجائے اپنی لمبی ٹانگوں سے کام لے کر زیادہ خوش اور مطمئن ہو گا۔ ان کمزوریوں کے باوجود موتیو ایک دلچسپ ساتھی ہے۔ وہ طبعاً سادہ اور حد درجہ خوش مزاج ہے۔ دیہاتی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 42


نائیوں کی طرح اسے آس پاس کے لوگوں کے متعلق ہر طرح کی بری بھلی باتیں معلوم ہیں اور اس میں ان باتوں کو مزے لے لے کر بیان کرنے کا پورا سلیقہ ہے۔ لیکن جس بات پر خود اسے فخر ہے وہ قلعے اور اس کے گرد و نواح کے متعلق معلومات کا وہ ذخیرہ ہے جو اس کے سینےمیں محفوظ ہے۔ قلعے کے ہر برج و مینار اور ہر در و دیوار کے متعلق اس کے پاس بےشمار عجیب و غریب داستانیں محفوظ ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی صداقت پر اسے پورا ایمان ہے۔

داستانوں کا یہ ذخیرہ خود اس کےبیان کے مطابق اسے اس کے دادا سے ورثہ میں ملا ہے۔ اس کا دادا درزی تھا۔ اس نے سو برس کی عمر پائی اور اس مدت میں صرف دو مرتبہ قلعہ کے حد سے باہر نکلا۔ اس گزری ہوئی صدی کے اس بڑے حصے میں اس کی دکان داستانوں اور افسانوں کا مرکز رہی۔ لوگ یہاں جمع ہوتے اور آدھی رات تک بیٹھے قلعے کی گزری ہوئی زندگی کے حیرت انگیز افسانے سناتے اور پوشیدہ راز افشا کرتے۔ اس پستہ قامت تاریخی درزی کا فکر و عمل اور اس کے حرکات و سکنات قلعے کی دیواروں تک محصور و محدود تھے۔ وہ انہیں کے زیر سایہ پیدا ہوا، پلا برھا اور جیا۔ اس کے ہر نفس پر، اس کی پوری ہستی پر ان کا سایہ تھا۔ انہیں کے سائے میں اس نے موت کو لبیک کہا اور یہیں خاک میں دفن ہوا۔ لیکن آنے والی نسلوں کی خوش نصیبی سے اس کی طلسمی داستانیں اس کے ساتھ دفن نہیں ہوئیں۔ معتبر اور مستند ماتیو بچپن ہی سے اپنے دادا کی زبان سے یہ طلسمی داستانیں سنتا اور دکان میں سنے ہوئے افسانوں کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا۔ اس طرح اس کا سینہ الحمرا کے متعلق ایسی بےشمار معلومات اور افسانوں کا بیش بہا خزینہ بن گیا جو کسی کتاب میں درج نہیں اور اس لئے ہر متجسس اور مشتاق سیاح کے لئے اس کی ذات صدگونہ دلچسپیوں کا مرکز تھی۔

یہ ہیں میرے شاہی مسکن کے مکین۔ اور مجھے یقین ہے کہ مجھ سے پہلے جتنے بادشاہ اس کے مکین رہ چکے ہیں، ان کی خدمت بھی اس سےز یادہ وفاداری سے نہیں کی گئی ہو گی جتنی مجھے حاسل ہے۔ میں اپنے شاہی مسکن میں بےحد مطمئن اور مسرور ہوں۔

جب میں صبح سویرے سو کر اٹھتا ہوں تو ہکلا پپی کھلے ہوئے خوش رنگ پھولوں کا ایک گلدستہ میری


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 43


خدمت میں پیش کرتا ہے۔ ان پھولوں کو ڈولرس کے نازک اور باسلیقہ ہاتھ بعد میں گلدانوں میں سجا دیتے ہیں۔ میرے کھانے کے لئے نہ کوئی جگہ مخصوص ہے اور نہ وقت مقرر ہے۔ میں جب اور جہاں بیٹھ کر چاہتا ہوں کھانا کھاتا ہوں۔ کبھی شاہی ایوانوں میں، کبھی شیروں والے صحن کے کسی کُنج میں، پھولوں اور فواروں کی حسین صحبت اور ہم نشینی میں۔ میں جب گھر سے نکلتا ہوں تو موتیو جیسا رہنما مجھے پہاڑی کے پوشیدہ رومانی گوشوں اور وادی کی فرحت بخش تنہائیوں کی سیر کراتا اور وہ حیرت انگیز افسانے سناتا ہے جو ان گوشوں اور تنہائیوں سے وابستہ ہیں۔ گو دن کے بڑے حصے میں میں تنہا رہنا پسند کرتا ہوں لیکن شام کو کبھی کبھی خاتون انطونیہ کی گھریلو صحبتوں میں بیٹھ کر اپنا دل بہلاتا ہوں۔ عام طور پر یہ صحبتیں شاہی زمانے کے ایک وسیع ایوان میں منعقد ہوتی ہیں، جو خاتون انطونیہ کے لئے بیک وقت نشست گاہ، خواب گاہ اور باورچی خانے کا کام دیتا ہے۔ شاہی عہد میں اس ایوان کا شکوہ یقیناً قابلِ دید رہا ہو گا۔ لیکن اب اس ایوان کا نقشہ ہی بدلا ہوا ہے۔ اب اس کے ایک کونے میں آتشدان بنوا ہوا ہے، جس کے دھوئیں نے دیواروں کا رنگ بدل دیا ہے اور پرانے نقش و نگار اس کی سیاہی میں چھپ کر رہے گئے ہیں۔ شہ نشین پر بنی ہوئی ایک کھڑکی وادی کے رخ کھلتی ہے اور وادی کی خنک ہوا اسی میں ہو کر کمرے میں آتی ہے۔ رات کی سادہ و بےتکلف صحبتوں میں میں یہیں بیٹھ کر کھانا کھاتا اور اپنے میزبانوں کی فرحت بخش گپ میں شریک ہوتا ہوں۔ اسپین کے باشندوں میں، خواہ وہ امیر ہوں یا غریب، خواندہ ہوں یا ناخواندہ، فطرتاً یہ خوبی ہے کہ آدمی ان سے مل کر اور ان کے ساتھ بیٹھ کر خوش ہوتا ہے۔ ان کے اندازِ گفتگو اور رہن سہن میں ابتذال کا شائبہ تک نہیں۔ قدرت نے ان کی سیرتوں کو ایک خاص طرح کا وقار بخشا ہے۔

تائی انطونیہ اپنی کم علمی کے باوجود بڑی ذہین خاتون ہے اور چمکیلی آنکھوں والی ننھی ڈولرس نے گو تین چار کتابوں سے زیادہ نہیں پڑھیں لیکن اس کی شخصیت سادگی و شوخی کا بڑا دلکش مجموعہ ہے۔ کبھی کبھی اس کی بےلوث حاضر جوابی مجھے حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ مینول کبھی کبھی کوئی پرانا طربیہ پڑھ کر صحبت میں ادبی رنگ پیدا کر دیتا ہے، گو ایسے موقعوں پر کسی اور کو متاثر کرنے سے زیادہ ڈولرس کو خوش کرنے کا جذبہ غالب ہوتا ہے۔ حالانکہ بیچارے مینول کے لئے ہمیشہ یہ بات بڑی دل شکن اور مایوس کن ہوتی ہے کہ طربیہ کا پہلا باب ختم ہونے سے پہلے ہی ڈولرس


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 44


کو نیند آ جاتی ہے۔

تائی انطونیہ کے دوستوں اور جاننے والوں کا ایک چھوٹا سا حلقہ ہے۔ اس حلقے میں آس پاس کےگھروں کے سیدھے سادے رہنے والے اور بوڑھے سپاہیوں کی بیویاں شامل ہیں۔ تائی انطونیہ کے گھر آنے والے اس کی بڑی عزت کرتے ہیں اور اپنی عقیدت اور محبت کے اظہار میں ہمیشہ تازہ تازہ خبریں اور افواہیں اس کی نذر کرتے ہیں۔ مجھے بھی بارہا یہ تازہ بہ تازہ خبریں اور نو بہ نو افواہیں سننے کا موقع ملا ہے اور ان میں مجھے مقامی باشندوں کے مزاج اور ان کے ماحول کا رنگین عکس نظر آیا ہے۔

ان خبروں اور افواہوں کی تفصیلات ہسپانیہ کے باشندوں کی مسرتوں اور ان کے غموں کی تفصیلات ہیں۔ مسرت اور غم کے اسی عکس نے انہیں دلچسپ بھی بنایا ہے اور اہم بھی۔

الحمرا کے ان ایوانوں میں میرے لئے ذرا بھی اجنبیت نہیں۔ میں نے بارہا تصور میں ان رومانوی فضاؤں کی سیر کی ہے۔ اپنے بچپن میں جب سے درائے ہڈسن کے ساحل پر بیٹھ کر میں نے غرناطہ کی جنگوں اور بنی سراج اور بنی زکریا کے باہمی تفرقوں کا حال پڑھا، غرناطہ اور اس کے اطراف سوتے جاگتے میرے خوابوں کا پس منظر بن گئے۔ تصور میں میں نے بارہا الحمرا کے ایوانوں کی سیر کی ہے اور اب میرے خوابوں کی تعبیر ی یہ ہے کہ میں الحمرا کے ایوانوں میں مکین ہوں۔ کبھی کبھی مجھے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب محض خواب ہے۔ مجھے کسی طرح یقین نہیں آتا کہ ابی عبداللہ کا محل آج میرا محل ہے اور اس کی شہ نشین میں بیٹھا میں عہدِ شجاعت کے غرناطہ کا نظارہ کر رہا ہوں۔ میں جب مشرقی شکوہ کے ان ایوانوں میں چلتا پھرتا ہوں تو اس کے فواروں کی جھنکار اور بلبلوں کی چہکار مجھے دیوانہ بنا دیتی ہے۔ جب الحمرا کے گلابوں کی خوشبو میری ناک میں پہنچتی ہے اور جب یہاں کی فرحت بخش اور خوشگوار ہوا مجھے ایک حیاتِ تازہ کا احساس دلاتی ہے تو مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں آ گیا ہوں اور گداز جسم والی ننھی، معصوم اور شوخ ڈولرس اس جنت کی ایک حور ہے، جو میری مسرتوں کو دوام و کمال عطا کرنے کے لئے خلق ہوئی ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 45


الحمرا کی داستانیں


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 46


صحنِ اسود


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 47


مرمریں مجسموں کا راز


الحمرا کے ایک ویران کمرے میں کسی زمانے میں ایک پستہ قد اور زندہ دل آدمی رہتا تھا۔ اس کا نام لوپ سانچیز تھا۔ سانچیز باغ میں کام کرتا اور اپنے ہلکے پھلکے پھرتیلے جسم کے ساتھ سارے دن باغ میں ادھر ادھر پھدکتا پھرتا تھا۔ دن بھر ادھر سے ادھر کام کرتے پھرنا اور گانا، یہی اس کا مشغلہ اور معمول تھا۔ وہ ایک لحاظ سے قلعے کی روحِ رواں تھا۔ اپنا کام ختم کر چکنے کے بعد وہ باغ میں پتھر کی کسی بنچ پر بیٹھ جاتا اور اپنے ستار پر کسی نہ کسی ہسپانوی ہیرو کی تعریف میں کوئی شیریں نغمہ بجانے لگتا۔ قلعے کے بوڑھے سپاہی اس کے گرد اکٹھے ہو جاتے اور اس کے نغمے سن کر خوش ہوتے۔ کبھی کبھی وہ زیادہ سریلی دھن شروع کر دیتا اور قلعے میں رہنے والی بچیاں اس دھن پر ناچنے لگتیں۔

سب پستہ قد آمیوں کی طرح لوپ کی بیوی بھی ایک موٹی تازی اور بھدی سی عورت تھی۔ وہ چاہتی تو لوپ کو اپنے دامن کے گھیر میں چھپا لیتی اور کسی کو پتہ بھی نہ چلتا۔ لوپ غریب ہونے کےباوجود ایک بات میں غریبوں سے مختلف تھا۔ دس اولادوں کے بجائے اس کے صرف ایک اولاد تھی۔ یہ اولاد کوئی بارہ برس کی ننھی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 48


سنچکا تھی۔ سنچکا کی آنکھیں سیاہ تھیں۔ وہ بھی لوپ کی طرح ہنس مکھ اور خوش مزاج اور اپنے باپ کی بےحد چہیتی تھی۔ لوپ باغ میں کام کرتا تو وہ اس کے قریب ہی کھیلتی پھرتی۔ وہ کام سے فارغ ہو کر ستار بجاتا تو وہ اس کی دھن پر ناچتی اور الحمرا کے کُنجوں، روشوں اور ویران ایوانوں میں ہرنی کی طرح دوڑتی پھرتی۔

آج سینٹ جان کے تہوار کی شام تھی اور الحمرا کے تفریح پسند مرد، عورتیں اور بچے تہوار منانے کے لئے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے تھے۔ چاندنی رات تھی اور پہاڑوں کا دامن نکھری ہوئی روپہلی چاندنی سے مالا مال تھا۔ شہر کے برج و مینار پہاڑوں کے سائے میں محوِ استراحت تھے۔ غرناطہ کی سرزمین اس دھوپ چھاؤں کے کھیل میں پرستان معلوم ہو رہی تھی، اور سایہ دار کُنجوں میں سے جھانکتے ہوئےچشمے اندھیرے میں اجالا پھیلا رہے تھے۔ پہاڑ کی سب سے اونچی چوتی پر، پرانی رسم کے مطابق لوگوں نے ایک لاؤ روشن کیا تھا۔ پہاڑ کے دامن کی چھوتی چھوٹی میدانی بستیوں میں بھی اسی طرح کے الاؤ جل رہے تھے اور چاندنی کے رنگ میں ہر طرف آگ کی زرد روشنی سونے کا رنگ گھول رہی تھی۔

لوپ سانچیز جو تہواروں اور جشنوں کے موقعے پر معمول سے زیادہ مگن ہوتا تھا، سرخوشی میں اپنا ستار بجا رہا تھا اور لڑکیاں ستار کی دھن پر رقص کر رہی تھیں۔ ناچ ہو رہا تھا کہ ننھی سنچکا نے اپنی کچھ سہیلیوں کو ساتھ لیا۔ وہ چپکے سے مسلمانوں کے زمانے کے ایک قلعے کے کھنڈر میں جا گھسی اور چکنے چکنے پتھر چننے شروع کر دئیے۔ پتھر چنتے چنتے اسے سیاہ پتھر کا بنا ہوا ایک چھوٹا سا ہاتھ ملا۔ ہاتھ کی مٹھی مضبوطی سے بند تھی۔ سنچکا اپنی خوش نصیبی پر حد درجہ مسرور، دوڑی دوڑی اپنی ماں کے پاس آئی اور وہ ہاتھ اس کے ہاتھ م یں دے دیا۔ سیاہ پتھر کے اس ہاتھ کو دیکھ کر لوگوں نے اس کے متعلق طرح طرح کی قیاس آرائیاں شروع کر دیں۔ اکثر نے اسے شبہ کی نظر سے دیکھا۔ ایک نے گھبرا کر کہا "اسے پھینک دو۔ یقین جانوں کہ یہ ہاتھ جادو کا ہے اور اس م یں ضرور کوئی نہ کوئی شر چھپا ہوا ہے" دوسرا بولا "نہیں! نہیں! تم اس کی قیمت کا اندازہ نہیں کر سکے۔ سقاطین کے کسی جوہری کو دکھاؤ۔ وہ تمہیں اس کی اچھی قیمت دے دے گا۔" گندمی رنگ کا ایک بوڑھا سپاہی آگے بڑھا۔ اس نے ہاتھ کو غور سے دیکھا اور تھوڑی دیر میں بڑے اعتماد کے ساتھ کہا کہ "میں نے اپنے افریقہ کے قیام میں اس طرح کی چیزیں بارہا دیکھی ہیں۔ اسے ایک طرح کا تعویذ سمجھو، جو تمہیں بری نظر سے اور ہر طرح کے ٹونے ٹوٹکے اور جادو کے اثر سے محفوظ


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 49


رکھے گا۔ عزیز لوپ! مبارک ہو! یہ سیاہ ہاتھ تمہاری بیٹی کے لئے ایک نیک فال ہے۔"

بوڑھے سپاہی کی یہ باتیں سن کر لوپ کی بیوی نے اس ننھے سے ہاتھ کو ایک ربن میں باندھ کر اپنی بیٹی کے گلے میں ڈال دیا۔

اس تعویذ نے تہوار کی ساری فضا بدل دی۔ لوگوں کے دل میں مُوروں کے متعلق جو طرح طرح کی باتیں جمع تھیں وہ ایک ایک کر کے یاد آنے لگیں۔ رقص و سرور بند ہو گیا، لوگ چھوتی چھوتی ٹکڑیوں میں زمین پر بیٹھ گئے اور وہ پرانی داستانیں دہرائی جانے لگیں جو لوگ اپنے بزرگوں سے سنتے چلے آئے تھے۔ بعض طلسمی داستانوں کا پس منظر وہی پہاڑی تھی جہاں اس وقت سب جمع ہوئے تھے۔ ایک بڑی بوڑھی نے بڑی تفصیل سے پہاڑی کے غاروں میں بنے ہوئے ایک محل کا حال بتایا جس م یں ابی عبداللہ اور اس کے سب درباری کسی سحر کی تاثیر سے اب تک قید ہیں۔ "سامنے کے کھنڈروں میں" اس نے پہاڑ کے ایک دور افتادہ حصے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا "ایک گہرا اور تاریک غار ہے جو پہاڑ کے سینے کو چیرتا ہوا اس کی اندرونی تہہ تک چلا گیا ہے۔ کوئی غرناطہ کے سارے خزانے بھی مجھے دے ڈالے تو میں اس غار میں نہ جھانکوں۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ الحمرا کے ایک غریب آدمی کی ایک بکری پہاڑی پر چرتے چرتے اس غار میں گھس گئی۔ بکری والا بکرے کے پیچھے پیچھے اس غار میں گھس گیا۔ لیکن جب وہ غار میں سے نکلا تو اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی ہوئی تھیں۔ غار کے اندر اس نے جو عجیب و غریب چیزیں دیکھی تھیِ جب وہ ان کا ذکر لوگوں سے کرتا تو لوگ سمجھتے کہ ضرور اس کا دماغ چل گیا ہے۔ وہ دو ایک دن تک لوگوں سے کہتا رہا کہ غار کے اندر مسلمان حبشیوں کے بھوت ہیں اور انہوں نے اس کا پیچھا کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد وہ مدتوں بکریاں چرانے پہاڑی پر نہیں گیا۔ لیکن ایک دن ہمت کر کے اوپر گیا تو پھر نیچے نہیں اترا۔ لوگوں کو اس کی بکریاں کھنڈروں میں چرتی ہوئی ملیں۔ اس کی ٹوپی اور لبادہ غار کے منہ کے پاس پڑا تھا لیکن غریب چرواہے کو اس کے بعد کسی نے نہیں دیکھا۔"

ننھی سنچکا غریب چرواہے کی داستان بڑے غور سے سن رہی تھی۔ وہ دم بخود تھی۔ جب داستان ختم ہو چکی تو اس کے دل میں اس خطرناک غار کا حال معلوم کرنے کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔ ابھی لوگ بوڑھے چرواہے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 50


کی کہانی کے خیال میں گم تھے کہ وہ وہاں سے اٹھی اور ان کھنڈروں کی جستجو میں نکل کھڑی ہوئی جہاں حبشی حکمرانوں کی روحیں منڈلا رہی تھیَ اسے بہت جلد وہ کھنڈر اور غار کا دہانہ مل گیا اور اس نے بڑے اشتیاق سے اس کے اندر جھانکا۔ لیکن وہاں تاریکی اور اتھاہ گہرائی کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ خوف سے اس کے خون کی روانی رک گئی، جسم ٹھنڈا پڑ گیا اور وہ پیچھے ہٹ آئی۔ پہلے تو اس نے وہاں سے بھاگ چلنے کا ارادہ کیا لیکن پھر جیسے اسے اپنے خوف میں بھی ایک عجیب سی لذت محسوس ہوئی اور اس کے قدم ایک بار پھر غار کے دہانے کی طرف اتھ گئے۔ وہ پھر اس پر جھک کر اس کی تاریکی اور گہرائی میں جذب ہو گئی۔ بالآخر وہ وہاں اٹھی اور بڑا ساپتھر سرکا کر غار کے دہانے پر لائی۔ زور لگا کر اس پتھر کو غار کے اندر سرکا دیا۔ پتھر کچھ دیر خاموشی سے اس بھیانک تاریکی میں نیچے گرتا رہا، پھر کسی پتھریلی چیز سے ٹکرایا اور گیند کی طرح ادھر ادھر لڑھکتا اور ٹکراتا اور بادلوں کی سی گرج پیدا کرتا رہا اور آخر ایک زور دار چھپاکے کے ساتھ پانی میں گر پڑا۔۔۔۔۔ غار کی اتھاہ گہرائیوں میں سے ایک آواز سفر کرتی ہوئی باہر نکلی اور پھر ہر طرف خاموشی چھا گئی۔

لیکن یہ خاموشی زیادہ دیر قائم نہیں رہی۔ ایسا معلوم ہوا کہ پتھر کے چھپاکے نے غار کی سوتی ہوئی دنیا میں ہلچل مچا دی۔ غار کی تہ سے آہستہ آہستہ بھن بھناہٹ کی ایسی آوازیں باہر نکلنے لگیں جیسے کسی نے مکھیوں کے بہت سے چھتوں کو چھیڑ دیا ہو۔ بھن بھناہٹ کی آواز رفتہ رفتہ تیز ہوتی رہی اور بڑھتے بڑھتے اس نے سرسراہٹ اور بڑبڑاہٹ کی صورت اختیار کر لی۔ غار کے اندر سے بےشمار آدمیوں کے بولنے اور چلنے پھرنے کی ملی جلی آوازیں آنے لگیں، پھر ان آوازوں میں ہتھیاروں کی دھیمی جھنکار بھی شامل ہوئی اور غار کے اندر سے جلا جل کی کھنک اور دفوں کی دھمک کا ملا جلا شور باہر نکلنے لگا، جیسے غار کی طلسمی دنیا میں کوئی فوج جنگ کے لئے آراستہ و صف بستہ ہو رہی ہے۔

ننھی سنچکا پر ہیبت طاری ہو گئی اور وہ بھاگ کر اس جگہ ہنچ گئی جہاں تھوری دیر پہلے اس نے بوڑھے چرواہے کی کہانی سنی تھی۔ وہاں اب کوئی نہ تھا۔ الاؤ کی آگ ٹھنڈی ہو رہی تھی اور چاندنی کے نکھار میں دھوئیں کے آخری حلقے بل کھا رہے تھے۔ وادی اور پہاڑی کے دامن میں تھوڑی دیر پہلے تک جو الاؤ روشن تھے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

اوشو

لائبریرین
صفحہ ۔۔۔ 51


وہ بجھ چکے ت ھے اور فضا پر نیند مسلط تھی۔ سنچکا نے اس تنہائی میں اپنے ماں باپ کو اور نام لے لے کر اپنی سہیلیوں کو آوازیں دیں لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ گھبرا کر اس نے نیچے کی طرف بھاگنا شروع کیا اور باغوں کے سائے سائے درختوں کی اس روش تک پہنچ گئی جو الحمرا کی طرف جاتی تھی۔ یہاں پہنچ کر وہ ایک بنچ پر بیٹھ کر سانس لینے لگی۔ الحمرا کی پہرہ چوکی سے بارہ کا گھنٹا بجا۔ ہر چیز محوِ خواب و استراحت تھی۔۔۔ الحمرا کے اس گھنٹے کی آواز اور جھاڑیوں میں بہتے ہوئے کسی سُبک سیر چشمے کی سوا جس کی رفتار فضا میں گھنگرو سے بجا رہی تھی۔ فضا کی خواب آور شیرینی اسے لوریاں دے رہی تھی۔ اس کی آنکھیں بند ہوئی جا رہی تھیں کہ اس نے ذرا فاصلے پر ایک چمک سی دکھائی دی۔ آہستہ آہستہ یہ چمک قریب تر ہوئی اور اس نے دیکھا کہ مسلمانوں کا ایک لشکرِ جرار پہاڑی سے نیچے اتر کر سایہ دار روشوں کے راستے الحمرا کی طرف آ رہا ہے۔ لشکر کے سواروں میں سے کچھ نیزوں اور ڈھالوں سے مسلح ہیں، کچھ کے ہاتھوں میں نیزے اور جنگی کلہاڑیاں ہیں۔ سواروں کے جسم چمکیلے خودوں اور زرہوں میں ڈوبے ہوئے تھے اور چاند کی روشنی میں ان کے جسم آئینے کی طرح چمک رہے تھے۔ ان کے رہوار ناز سے اِترا اِترا کر چل رہے تھے لیکن اتنے سُبک رو تھے کہ ان کے پیروں کی چاپ کی آواز بھی بہ مشکل سنائی دیتی تھی۔ سواروں کے چہروں پر البتہ موت کی سی زردی چھائی ہوئی تھی۔ ان کے جلو میں ایک شہزادی کا گھوڑا تھا۔ شہزادی کے سر پر موتیوں کا تاج تھا اور اس کے لمبے گیسوؤں کا ہر تار موتیوں کی لڑی بنا ہوا تھا۔ اس کے خوبصورت گھوڑے کی سرخ مخملی جھول، جس پر زردوزی کا کام بنا ہوا تھا دونوں طرف زین پر لٹک رہی تھی۔ شہزادی کے چہرے پر افسردگی تھی اور اس کی نظریں زمین پر گڑی ہوئی تھیں۔

فوجی شہ سواروں کے پیچھے درباریوں کا قافلہ تھا، جن کے سروں پر رنگ برنگے صافے اور جسموں پر بیش قیمت بو قلموں ملبوس تھے۔ پرشکوہ درباریوں کے جھرمٹ میں ایک حسین سنہرے رنگ کے گھوڑے پر شاہ ابی عبداللہ سوار تھا، جس کے جسم پر مرصّع فرغل اور سر پر زریں تاج تھا، جو جواہرات کی جوت سے چمک رہا تھا۔ ننھی سنچکا تصویر خانے کی تصویروں میں بارہا اسے دیکھ چکی تھی۔ اس نے اسے فوراً ہی اس کی زرد رنگ کی داڑھی سے پہچان لیا۔ یہ شاہی جلوس بڑی آب و تاب سے درختوں کے بیچ میں سے گزرتارہا اور وہ اسے حیرت و مسرت سے دیکھتی رہی۔ وہ یہ محسوس کر رہی تھی کہ یہ بادشاہ، اس کے شاندار درباری


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 52


اور جنگجو شہ سوار، جن کے لبوں پر سکوت اور چہروں پر زردی چھائی ہوئی تھی، گرد و پیش کے عام لوگوں سے بالکل مختلف، سحر و طلسم کی دنیا کی مخلوق ہیں، لیکن وہ بغیر کسی خوف و ہراس کے انہیں دیکھتی رہی اور یہ ہمت یقیناً اس پُر اسرار تعویذ کی پیدا کی ہوئی تھی جو اس کے گلے میں پڑا تھا۔

جب یہ شاہی جلوس گزر گیا تو وہ اٹھی اور خاموشی سے اس کے پیچھے ہو لی۔ جلوس الحمرا کے باب العدل کی طرف جا رہا تھا اور باب اس کے خیر مقدم کے لئے کھلا ہوا تھا۔ بوڑھے اپاہج سنتری پتھر کی بنچوں پر مدہوش و مسحور پڑے تھے۔ شاہی جلوس خاموشی اور سکوت سے، شاہی پرچم کو لہراتا ان کے قریب سے گزر گیا۔ سنچکا حیرت اور ستائش کےجذبات میں غرق اس جلوس کے پیچھے پیچھے چلی رہی تھی۔ اسے یہ دیکھ کر بےحد حیرت ہوئی کہ فصیل کے اندر، ایک جگہ سے زمین شق ہو گئی اور جلوس اس شگاف کے راستے زمین کی تہ میں اترنے لگا۔ سنچکا بھی آگے برھی۔ اس نے دیکھا کہ قلعے کے نیچے کی سنگین زمین میں پتھر کو کاٹ کر سیڑھیاں بنائی گئی ہیں اور یہ سیڑھیاں ایک تنگ و تاریک راستے پر جا کر ختم ہو جاتی ہیں۔ اس تنگ و تاریک راستے کے دونوں طرف، تھوڑے تھوڑے فاصلے پر چاندی کے چراغ روشن ہیں، جن میں سے ہلکے اور خُنک نور کے علاوہ بڑی خوشگوار مہک بھی نکل رہی ہے۔ سنچکا اس راستے کو طے کرتی ہوئی آگے بڑھی، یہاں تک کہ وہ ایک وسیع ایوان میں پہنچ گئی جو مسلمان حکمرانوں کے لطیف ذوق کے مطابق آراستہ تھا اور نقرئی اور بلوریں فانوسوں سے بقعۂ نور بنا ہوا تھا۔ ایوان کے وسط میں ایک سفید ریش بڈھا، حوروں کے قیمتی لباس میں ملبوس مسند نشین تھا۔ اس کے نحیف و ناتواں ہاتھ میں ایک عصا تھا جسے وہ بہ مشکل سنبھالے ہوئے تھا۔ یہ سفید ریش بوڑھا مسند پر بیٹھا اونگھ رہا تھا اور اس سے تھورے فاصلے پر ایک حسینہ، جس کے بال بال میں موتی پروئے ہوئے تھے، قدیم ہسپانوی لباس پہنے اور سر پر چمکیلا جڑاؤ تاج رکھے آہستہ آہستہ ایک نقرئی چنگ بجا رہی تھی۔ اس حسین مُطربہ کو دیکھ کر ننھی سنچکا کو اس گاتھی شہزادی کی کہانی یاد آ گئی جسے ایک عرب ساحر نے الحمرا کی پہاڑیوں میں قید کر رکھا ہے اور جس پر ہر گھڑی اس کے سحر کا افسوں طاری رہتا ہے۔

حسین مطربہ نے ننھی سنچکا کو ایوان کے ایک طرف کھڑا دیکھا تو حیرت اور محبت سے اس سے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 53


پوچھنے لگی "کیا آج سینٹ جان کا تہوار ہے؟"

"ہاں!" ننھی سنچکا نے جواب دیا۔

"تو آج میں سحر کے طلسم سے آزاد ہوں۔ پیاری بچی! ڈرو مت! میرے پاس آؤ۔ میں بھی تمہاری طرح عیسائی ہوں اور سحر کی قید میں ہوں۔ تمہارے گلے میں جو تعویذ پڑا ہے اسے میرے زنجیروں سے چھُوا دو اور میں آج رات کے لئے قید سے آزاد ہو جاؤں گی۔"

طلسم زدہ شہزادی نے یہ کہا اور اپنا لباس اتار کر وہ طلائی زنجیریں دکھائیں جنہوں نے اس کے جسم کو جکڑ رکھا تھا۔ ننھی سنچکا نے طلسمی تعویذ جلدی سے اس کی طلائی زنجیروں پر رکھ دیا اور زنجیریں فوراً کٹ کر زمین پر گر پڑیں۔ زنجیروں کی جھنکار سے بورھا ساحر چونک پڑا اور اپنی آنکھیں ملنے لگا، لیکن حسین شہزادی نے جوں ہی اپنی نازک انگلیوں سے چنگ کے تار چھیڑے اس کی آنکھیں پھر جھپک گئیں۔ پہلے کی طرح اس کا سر پھر ہلنے لگا اور ہاتھ کا عصا پھر پہلے کی طرح کانپنے لگا۔

شہزادی نے چپکے سے سنچکا کے کان میں کہا "اپنا تعویذ ذرا اس کے عصا پر رکھ دو۔" سنچکا نے ایسا ہی کیا۔ عصا اس کے ہاتھ سے چھٹ کر زمین پر گر پڑا اور بوڑھا ساحر نیند سے مدہوش ہو کر مسند پر دراز ہو گیا۔ شہزادی نے نقرئی چنگ ساحر کے سرہانے رکھ دیا۔ اس کے تار اس کی انگلیوں کے مس سے جھنجھنا اٹھے۔ اس کے بعد وہ سنچکا سے مخاطب ہو کر بولی "ننھی بچی! آؤ میں تمہیں الحمرا کی سیر کراؤں۔ آج تمہیں الحمرا میں اسی شان و شکوہ کا جلوہ نظر آئے گا جو عہدِ شاہی میں اس کے لئے خاس تھا۔" سنچکا خاموشی سے شہزادی کے پیچھے ہو لی۔ دونوں تہ خانے میں سے نکل کر باب العدل کی فصیل کے قریب پہنچے اور وہاں سے فواروں والے صحن میں آ گئے۔

صحن میں ہر طرف عرب سپاہیوں اور سرداروں کا ہجوم تھا۔ پیدل اور سوار دستوں میں بٹے ہوئے اپنے اپنے پرچم لہرا رہے تھے۔ ڈیوڑھی پر شاہی سنتری تعینات تھے اور افریقی حبشی تلوار بکف، جابجا صف بستہ کھڑے تھے۔ سب کے لبوں پر سکوت طاری تھا۔ ننھی سنچکا، شہزادی کی رہنمائی میں، بےجھجک آگے بڑھتی رہی۔ وہ مبہوت اور محوِ حیرت تھی۔ لیکن شاہی محل میں پہنچ کر اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ چاندنی سے محل کے ایوان، صحن اور باغ اتنے روشن تھے جیسے دن کی روشنی میں۔ لیکن اس روشنی میں ان کا منظر اس سے مختلف تھا جیسا سنچکا کی آنکھیں


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 54


اسے دیکھنے کی عادی تھیَ ایوانوں کے در و دیوار پر آج داغ دھبوں کا نشان تک نہ تھا اور محل میں آج مکڑی کے جالوں کے بجائے ہر جگہ دمشق کے بیش قیمت حریری پردے ٹنگے ہوئے تھے۔ دیواروں پر بنے ہوئے رنگین اور طلائی نقوش میں آج صدیوں پہلے کی شوخی اور تازگی تھی۔ جو ایوان ہمیشہ ساز و سامان سے خالی نظر آتے تھے، آج وہ نادر و نایاب مسندوں اور قالینوں سے آراستہ تھے اور صحنوں اور گلشنوں کے فوارے آج آبدار موتی بکھیر رہے تھے۔

مطبخ آج پھر پوری طرح گرم تھے اور طبّاخ لذیذ کھانے پکانے میں مصروف تھے۔ تیتروں اور بٹیروں کے بھننے اور تلنے کی خوشبو ہر طرف پھیل رہی تھی۔ ملازمین شاہی ایوانِ نعمت سے بھری ہوئی نقرئی و طلائی قابیں لئے ادھر سے ادھر آ جا رہے تھے اور ایک شاندار ضیافت کی تیاری میں مصروف تھے۔ شیروں والے صحن میں امیروں اور درباریوں کا ہجوم تھا اور دربارِ عدل میں ابی عبداللہ اپنے تختِ شاہی پر جلوہ فگن تھا۔ دربار درباریوں سے آراستہ تھا اور عصائے شاہی ایک بار پھر ماضی کے عظمت و جبروت کی یاد تازہ کر رہا تھا۔ اس ہجوم، اس رونق اور اس گہما گہمی کے باوجود ہر طرف خاموشی تھی، نہ لبوں کی گنگناہٹ نہ قدموں کی چاپ۔ فواروں کی جھنکار کے سوا کوئی رات کے سکوت میں مخل نہ تھا۔ حیرت زدہ سنچکا یہ عجیب و غریب مناظر دیکھتی، مبہوت اور خاموش اپنے رہبر کے نقشِ قدم پر چلتی رہی، یہاں تک کہ وہ دونوں بُرج قمارش کے نیچے بنے ہوئے بڑے پھاٹک کے پاس پہنچ گئے۔ پھاٹک کے دونوں طرف سنگِ مرمر کے بنے ہوئے پریوں کے دو مجسمے رکھے ہوئے تھے۔ ان دونوں مجسموں کی آنکھیں ایک ہی نقطہ پرجمی ہوئی تھیں۔ طلسمی شہزادی اس جگہ رکی اور سنچکا کے کان میں کہا "یہاں ایک بڑا راز پوشیدہ ہے، وہ راز تمہاری ہمت اور وفاداری کا انعام ہے۔ دیکھو! جس جگہ ان دونوں مجسموں کی نظریں جمی ہوئی ہیں وہاں ایک مور شہنشاہ کا خزانہ دفن ہے۔ یہ بات تم اپنے باپ کو بتا دینا۔ وہ اس جگہ کو کھودے گا تو اتنا بڑا خزانہ اس کے ہاتھ آئے گا کہ وہ غرناطہ کا سب سے امیر آدمی ہو جائے گا۔ لیکن اس خزانے کو صرف معصوم ہاتھ اس جگہ سے اٹھا سکتے ہیں۔اپنے باپ سے کہنا کہ اس دولت کو احتیاط سے صرف کرے اور اس میں سے تھورا سا حصہ اس نیت سے خیرات کرے کہ خدا مجھے اس طلسم سے آزاد کر دے۔"

شہزادی ننھی سنچکا کو خزانے کا بھید بتا کر بُستانِ لندراخا میں لے گئی۔ باغ کے درمیان میں ایک فوارہ


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 55


لگا ہوا تھا۔ چاندنی فوارے کے شفاف پانی میں کانپ رہی تھی اور نارنگی اور ترنج کے سبز پتے چاند کی دھیمی روشنی میں زمرد کی طرح چمک رہے تھے۔ حسین شہزادی نے حنا کی ایک پتلی سی ٹہنی توڑی اور بل دے کر سنچکا کے سر پر رکھ دی۔ "یہ زمردیں تاج اس بھید کی تصدیق پر مہر ہے، جو میں نے ابھی تمہیں بتایا ہے۔ میرا وقت پورا ہو چکا۔ مجھے اب طلسمی ایوان میں واپس جانا چاہیے۔ تم میرا پیچھا مت کرنا۔ خدا تمہیں ہر بلا سے محفوظ رکھے۔ خدا حافظ!" شہزادی ننھی سنچکا سے یہ باتیں کہہ کر اس تاریک راستے کی طرف مڑ گئی جو برج قمارش کی طرف جاتاہے اور اس کے بعد پھر نظر نہ آئی۔

الحمرا سے ذرا دور جھونپڑیوں سے مرغِ سحر کی ہلکی ہلکی بانگ سنائی دی اور مشرق کی طرف پہاڑوں پر روشنی کی ایک زرد کرن نے جھانکنا شروع کیا۔ الحمرا کے ایوانوں میں ہوا کی سرسراہٹ پیدا ہوئی، ایوانوں اور دالانوں میں ہر طرف خزاں کے زرد پتوں کی کھڑکھڑاہٹ سنائی دینے لگی، اور قصر کے کھلے ہوئے دروازے میں ایک ایک کر کے دھماکے کے ساتھ بند ہونے لگے۔

سنچکا دوڑی ہوئی محل کے اندر گئی کہ ایک بار پھر ان طلسمی مناظر کا نظارہ کر لے جنہیں دیکھ کر وہ مبہوت رہ گئی تھی۔ لیکن ابی عبداللہ کا دربار اجڑ چکا تھا اور محل میں ہر طرف پھر وہی پہلی سی ویرانی تھی۔ چاند کی روشنی اب بھی قصر کے گوشے گوشے میں پھیلی ہوئی تھی لیکن تابانی و درخشانی ختم ہو چکی تھی۔ دیواروں پر مکڑیوں کے جالے تنے ہوئے تھے، چمگادڑ دھندلکے میں دیواروں سے ٹکراتے پھر رہے تھے اور مینڈکوں کے ٹرانے کی آوازیں باغ میں گونج رہی تھیں۔

سنچکا اس ویرانی پر نظر کرتی قصر کے اس حصے کی طرف آئی جہاں اس کے گھر والے رہتے تھے۔ دروازہ حسبِ معمول کھلا ہوا تھا اس لئے کہ غریبی کو دروازے مقفل رکھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ وہ دبے پاؤں اندر داخل ہوئی اور اپنے بچھونے میں گھس گئی۔ لیٹتے ہی اس کی آنکھ لگ گئی۔

صبح کو سنچکا نے رات کی باتیں اپنے باپ کو سنائیں تو وہ ہنس پڑا۔ اسے سنچکا کی سب باتیں خواب معلوم ہوئیں اور وہ اپنی بیٹی کی سادگی پر ہنستاہوا باغ میں چلا گیا۔ ابھی اسے کام شروع کئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ننھی سنچکا ہانپتی کانپتی دوڑی ہوئی اس کے پاس آئی "ابا! ابا! دیکھو یہ حنا کا تاج جو شہزادی نے رات مجھے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 56


پہنایا تھا۔"

لوپ تاج کو دیکھ کر ہکّا بکّا رہ گیا اس لئے کہ حنا کی ٹہنی خالص سونے کی تھی اور اس کی سبز پتیاں ترشے ہوئے قیمتی زمرد کی۔ غریب لوپ حنائی تاج کی صحیح قیمت کا اندازہ تو نہیں لگا سکا لیکن اسے اس بات کا یقین ہو گیا کہ سنچکا نے اسے جو کچھ بتایا ہے وہ خواب نہیں حقیقت ہے اور ایسی حقیقت جس کا بھید کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہیے۔ چنانچہ سنچکا کو خاموش رہنے کی تاکید کر کے وہ قصر کے اس حصےمیں گیا جہاں پریوں کے مرمریں مجسمے استادہ تھے۔ جیسا کہ سنچکا نے بتایا تھا دونوں مجسموں کی نظریں ایک ہی نقطہ پر جمی ہوئی تھیں۔ اس نے اس نقطہ کے قریب دیوار پر نشان لگایا اور وہاں سے چلا آیا۔

لوپ کا سارا دن عجب طرح کی بےچینی میں کٹا۔ مرمریں مجسمے سارے دن اس کی آنکھوں میں پھرتے رہے۔ وہ سہم سہم کر بس یہی سوچتا رہا کہ کہیں خزانے کا یہ بھید کھل نہ جائے۔ وہ آس پاس قدموں کی چاپ سنتا اور اس کا دل اندیشے سے لرز جاتا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ کسی طرح مرمریں مجسموں کی گردن موڑ کر ان کی نظروں کا رخ پھیر دے اور وہ خزانے کی طرف دیکھنا بند کر دیں۔ اپنی گھبراہٹ اور پریشانی میں وہ یہ نہ سوچتا کہ مجسمے صدیوں سے اسی رخ دیکھ رہے ہیں اور خزانے کا بھید اب تک کسی پر ظاہر نہیں ہوا۔

وہ اپنے جی ہی جی میں کہتا "خدا انہیں سمجھے۔ بھلا کسی راز کو پوشیدہ رکھنے کا یہ کون سا طریقہ ہے؟" وہ کسی کو مجسموں کی طرف آتے دیکھتا تو فوراً کہیں چھپ جاتا کہ اس کا وہاں ہونا کسی کے دل میں شبہ نہ پیدا کر دے۔ کبھی وہ دور کھڑے ہو کر، بڑی احتیاط سے مجسموں پر نظر ڈالتا لیکن مجسموں پر نظر پڑتے ہی لوگوں کی نادانی پر اس کا جی جاتا اور وہ جیسے چیخ اٹھتا "مرمریں مجسمے! آرام سے ایک جگہ بیٹھے بس ادھر گھورے چلے جا رہے ہیں جدھر انہیں دیکھنا بھی نہیں چاہئے۔ عورتیں، وہ چاہے مجسمے ہی کیوں نہ ہوں، سب ایک سی ہوتی ہیں۔ وہ اگر زبان سے کسی کا بھانڈا نہ پھوڑ سکیں تو آنکھوں سے رسوا کر کے رہیں گی۔"

بالآخر خدا خدا کر کے دن ختم ہوا اور الحمرا کے ایوانوں میں گونجنے والے قدموں کی آواز ختم ہوئی۔ آخری سیاح کے قصر کے باہر قدم رکھتے ہی بڑے پھاٹک میں تالا پڑ گیا اور آہستہ آہستہ چمگادڑوں، مینڈکوں اور الوؤں نے قصر کی ویرانی اور تاریکی پر قبضہ جما لیا۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 57


رات آہستہ آہستہ زیادہ تاریک اور سنسان ہوتی گئی اور جب ہر طرف سناٹا چھا گیا تو لوپ، ننھی سنچکا کو لے کر پریوں کے مرمریں مجسموں کے پاس گیا۔ وہ اب بھی ٹکتکی باندھے اسی نقطے کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ لوپ ان کے قریب سے گزرتے ہوئے جھک کر ان کےکان میں کہتا گیا "معزز خواتین! دو تین صدیوں سے یہ خزانہ تمہارے لئے بوجھ بنا ہوا تھا۔ گھبراؤ مت! آج میں تمہارے سر کا بوجھ ہلکا کر دوں گا۔" یہ کہا اور دیوار کے اس حصے کے پاس آیا جہاں اس نے صبح نشان لگایا تھا۔ نشان کے قریب کی زمین کو کھودنا شروع کیا اور تھوڑی دیر میں اسے اس کی محنت کا پھل مل گیا۔ زمین کی تہ میں سے مٹی چینی کے دو بڑے بڑے مٹکے نکلے اور لوپ کو یقین ہو گیا کہ یہ بیش قیمت جواہرات سے پُر ہیں۔ اس نے انہیں باہر نکالنے کی کوشش کی پر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ لیکن جوں ہی ننھی سنچکا نے انہیں ہاتھ لگایا وہ آسانی سے باہر نکل آئے۔ لوپ نے بےتابی سے مٹکے کا منہ کھولا تو حیرت سے اس کا منہ کھلا رہ گیا۔ مٹکے لبا لب سونے کے سکوں اور بیش قیمت جواہرات سے پُر تھے۔ دن نکلنے سے پہلے اس نے بہ مشکل دونوں مٹکے اپنے گھر تک پہنچائے اور مرمریں مجسموں کو اب بھی دیوار کے اسی گوشہ پر نظریں جمائے، تنہا چھوڑ کر چلا آیا۔

اس طرح قسمت نے لوپ سانچیز کو رات کی رات مفلس و نادار سے امیر کبیر بنا دیا تھا۔ لیکن دولت اپنے ساتھ بےشمار فکریں اور پریشانیاں لائی، جن سے وہ اب تک واقف نہ تھا۔ اپنی دولت کو کس طرح کسی محفوظ جگہ پہنچائے؟ وہ کیسے اپنی دولت کو ایسےخرچ کرے کہ کسی کے دل میں شبہ نہ پیدا ہو؟ چوروں اور ڈاکوؤں کا کھٹکا بھی زندگی میں پہلی بار اس کے دل میں پیدا ہوا۔ اسے اپنا گھر غیر محفوظ نظر آنے لگا اور اس نے بری احتیاط سے اپنے گھر کی کھڑکیوں اور دروازوں میں اینٹیں چُن دیں۔ لیکن ان ساری احتیاطوں کے باوجود وہ رات کو چین کی نیند نہ سو سکا۔ اس کی خوش مزاجی اور زندہ دلی رخصت ہو گئی۔ اس کے ہمسائے اس کے لطیفوں اور گیتوں سے محروم ہو گئے۔ دولت نے الحمرا کے سب سے ہنس مکھ آدمی کو سب سے زیادہ غمگین اور افسردہ دل بنا دیا تھا۔ اس کے دوستوں نے اس تبدیلی کو محسوس کیا۔ پہلے تو وہ اس کی حالت پر ترس کھاتے رہے لیکن بالآکر یہ سوچ کر کہ لوپ کی یہ افسردگی اس کے غیر معمولی افلاس اور ناداری کا نتیجہ ہے، انہوں نے ایک ایک کر کے اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ انہیں بھولے سے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 58


بھی یہ گمان نہ گزرا کہ اس کے غم کا سبب غریبی نہیں امیری ہے، افلاس نہیں، دولت کی فراوانی ہے۔

لوپ سانچیز کی بیوی اس کے غموں کی شریک تھی لیکن اس نے بہت جلد اپنے غم کو ہلکا کرنے کی تدبیر نکال لی۔ ہم اس سے پہلے یہ بتانا بھول گئے تھے کہ لوپ کی بیوی چونکہ اپنے شوہر کو نکما اور ناکارہ سمجھتی تھی اس لئے ضروری باتوں میں وہ پادری سائمن سے مشورہ لیتی تھی۔ مضبوط جسم، نیلی داڑھی اور گول سر والا سائمن قریب ہی کے ایک گرجے میں پادری تھا اور پاس پڑوس کی تقریباً تمام عورتیں اسے اپنا مشیر اور ہم راز سمجھتی تھیں۔ طبقۂ نسواں کا یہ اعتماد سائمن کی خوش حالی و فارغ البالی کا سبب تھا اور اس کے جسم کی چکناہٹ اور چمک کاراز یہی خوش حالی و فارغ البالی تھی۔ عورتیں سائمن کو اپنا مشیر و ہم راز جانتیں اور سادہ دل مرد اس کے احترام میں اپنی ٹوپیاں اتارتے۔ اس کے ڈھیلے ڈھالے لباس میں تقدس کا جو رنگ تھا وہ کتوں کی نظر سے بھی پوشیدہ نہیں تھا اور اس لئےجدھر سے پادری سائمن گزرتا وہ اپنی اپنی کمین گاہوں سے بھونک بھوک کر اس کا خیر مقدم کرتے۔

لوپ کی بیوی نے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے جب پادری سائمن کو خزانے کا راز بتاای تو اس نے بار بار آنکھیں جھپکائیں، اپنے منہ کو کھولا اور بند کیا اور کم سے کم ایک درجن بار اپنے سینے پر مقدس صلیب کا نشان بنایا۔ تھوڑے سے پراسرار سکوت کے بعد اس نے لوپ کی بیوی کو مخاطب کر کے کہا "بیٹی! تیرے شوہر نے دوہرا جرم کیا ہے۔ وہ حکومت کا مجرم اور دین کا گناہ گار ہے۔ جو خزانہ اسے قصر کی چار دیواری میں ملا ہے وہ قانوناً حکومت کی ملکیت ہے۔ لیکن چونکہ اس خزانے پر سحر اور ابلیس کا سایہ ہے اس لئے وہ گرجے کا حصہ ہے۔ لیکن ہم چاہیں تو سمجھوتہ کر سکتے ہیں۔ جاؤ، وہ حنائی تاج میرے پاس لاؤ۔"

پادری سائمن نے زمردیں تاج کو دیکھا تو زمرد کی چمک سے اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے اپنی آواز میں تقدس پیدا کرتے ہوئے کہا "یہ تاج اس شیطانی دولت کی پہلی علامت ہے اس لئے اسے پاکیزہ مصرف میں آنا چاہیے۔ میں اسے گرجے میں لے جاؤں گا اور سین فرانسسکو کے مقدس مجسمے کے قدموں پر رکھ کر دعا کروں گا کہ اللہ تیرے شوہر کے گناہ بخش دے۔"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 59


لوپ کی دانا بیوی نے اس سمجھوتے کو نفع کا سودا سمجھ کر تاج خوشی خوشی پادری کے حوالے کیا۔ پادری نے تاج اپنے لبادے میں چھپایا اور گرجے کا رخ کیا۔

لوپ سانچیز گھر لوٹا تو اس کی بیوی نے اسے روداد سنائی۔ لوپ یہ روداد سن کر سخت برافروختہ ہوا۔ اسے یوں بھی پادری کا اپنے گھر آنا پسند نہیں تھا۔ اس نے چیخ کر اپنی بیوی سے کہا "نادان عورت! تیری زبان درازی نہ جانے کیا گل کھلا کر رہے گی۔"

بیوی نے بھی چیخ کر کا جواب چیخ سے دیا "کیا تم چاہتے ہو کہ میں گناہوں کا بوجھ اپنے جی پر رہنے دوں؟"

شہور نے غصے سے جواب دیا "اپنے گناہوں کا بوجھ جتنا چاہے ہلکا کر۔ لیکن جو خزانہ میں نے کھودا ہے، وہ گناہ تیرا نہیں میرا ہے اور میرا جی اس بوجھ تلے بھی ہلکا ہے۔"

لیکن سانپ نکل چکا تھا اور لکیر پیٹنے سے کچھ حاسل نہیں تھا۔ بھید کھل چکا تھا اور ریت پر گرے ہوئے پانی کی طرح اب اسے سربستہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ ان کی مفر اسی میں تھی کہ پادری کی زبان بند رہے۔

اگلے دن جب لوپ سانچیز گھر پر نہیں تھا، کسی نے دروزے پر ہلکی سی دستک دی۔ دروازہ کھلا تو پادری سائمن اندر آیا۔ اس کا چہرہ اترا ہوا تھا اور اس پر نقاہت جھلک رہی تھی۔ پادری نے لوپ کی بیوی سے کہا "میں نے سین فرانسیسکو سے دعا کی ہے اور شکر ہے کہ میری دعا قبول ہوئی۔۔۔۔ میں نے رات سینٹ فرانسیسکو کو خواب میں دیکھا تھا۔ سخت ناراض ہو کر انہوں نے مجھ سے کہا کہ "ہمارے گرجے کی حالت اتنی خراب ہے اور تو دعا مانگ رہا ہے کہ شیطانی دولت صرف کرنے والوں کے گناہ معاف ہو جائیں۔ تو لوپ سانچیز کے گھر جا اور گرجے کے دو شمعدان بنوانے کے لئے اس سے کچھ روپیہ لے کر آ۔ اس کے بعد وہ اپنی دولت کو جس طرح چاہے خرچ کرے۔"

پادری کی باتیں سن کر لوپ سانچیز کی بیوی کانپ اٹھی۔ اس نے اپنے سینے پر صلیب کا نشان بنایا اور چپکے سے اٹھ کر وہاں گئی جہاں لوپ نے اپنا خزانہ چھپا رکھا تھا۔ چمڑے کی ایک بڑی سی تھیلی سونے کے سکوں سے بھری اور لا کر پادری کے ہاتھ پر رکھ دی۔ پادری نے فلاح و برکت کی دعائیں دیں،


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔۔ 60


تھیلی اپنے لبادے کے اندر سرکائی اور خاموشی سے باہر نکل گیا۔

لوپ نے جب اپنی بیوی کی بخشش کے اس دوسرے کارنامے کا حال سنا تو وہ غصے سے دیوانہ ہو گیا۔ "بدنصیب عورت!" وہ چلایا "ہمارا کیا حشر ہو گا؟ یہ پادری آہستہ آہستہ ہماری ساری دولت لوٹ کر لے جائے گا اور ہم کوڑی کوڑی کے محتاج ہو جائیں گے۔"

بیوی نے بہ مشکل اس کا غصہ ٹھنڈا کیا اور اسے یہ کہہ کر اطمینان دلایا کہ "جو کچھ ہم نے اللہ کے نام پر دیا ہے، اس سے بہت زیادہ ابھی ہمارے پاس موجود ہے اور ہم کسی کی شرکت کے بغیر تنہا اس کے مالک ہیں۔"

لیکن بیوی کی پیشین گوئی صحیح ثابت نہیں ہوئی۔ پادری سائمن کے بہت سے غریب رشتے دار تھے، اور کوئی آدھے درجن موٹے تازے اور بےفکرے یتیم بھی اس کے زیر سایہ پرورش پا رہے تھے اس لئے لوپ سانچیز کے گھر پادری کی آمد و رفت کا سلسلہ برابر جاری رہا اور لوپ کی بیوی کبھی سینٹ ڈومنک کے نام پر، کبھی سینٹ انڈریو اور سینٹ جیمز کے نام پر سونے کی تھیلیاں اس کی نذر کرتی رہی، اور لوپ سانچیز کے غصے نے سچ مچ اسے دیوانہ بنا دیا اور بالآخر اس نے یہی مناسب جانا کہ اپنا گھر چھوڑ کر پادری سائمن کی پہنچ سے دور کہیں جا کر اپناہ لے، اس لئے کہ اسے معلوم تھا سینٹوں اور ولیوں کی فہرست خاصی طویل ہے۔

لوپ نے خاموشی سے اپنا منصوبہ بنایا۔ دن کو اپنے گھر کے لوگوں کو پاس کے ایک گاؤں میں بھیج دیا۔ ایک موٹا تازہ خچر لا کر باندھ لیا اور جب ہر طرف سناٹا چھا گیا تو اپنا بچا ہوا خزانہ خچر پر لاد کر، اندھیرے میں آہستہ آہستہ قلعہ کی چار دیواری سے باہر نکل گیا۔

لوپ نے اپنا منصوبہ بنانے اور اس پر عمل کرنے میں پوری احتیاط سے کام لیا تھا اور اس کی بیوی کے سوا کسی کو اس کے ارادوں کا علم نہ تھا۔ لیکن روحانی کشف کی بدولت پادری سائمن کو ان کا علم ہو گیا۔ حوصلہ مند پادری نے محسوس کیا کہ یہ خزانۂ غیبی اب ہمیشہ کے لئے اس کی رسائی اور گرفت سے باہر ہو رہا ہے چنانچہ اس نے تہیہ کر لیا کہ گرجے اور سینٹ فرانسیسکو کی خاطر وہ اس جاتی ہوئی دولت پر ایک وار اور کرے گا۔ اس لئے جب گرجا کے گھنٹے خاموش ہو گئے اور الحمرا پر پوری طرح سکوت چھا گیا تو وہ خاموشی سے اپنی خانقاہ سے نکلا اور باب العدل میں سے گزر کر گلاب اور لارل کی ان جھاڑیوں کے پیچھے چھپ گیا جو شاہراہ کے دونوں طرف لگی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 61


ہوئی ہیں۔ قصر کا گھنٹہ ہر پندرہ منٹ کے بعد، وقت کا آگے بڑھنے کا اعلان کرتا رہا، الو فضا کو اپنی بھیانک آوازوں سے اور مہیب بناتے رہے، حبشیوں کے کاروانوں کے کتے بھونکتے رہے اور پادری سائمن خاموشی سے گھات میں بیٹھا لوپ کا انتظار کرتا رہا۔ بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئی اور اسے خچر کی ٹاپ کی آواز سنائی دی اور درختوں کی تاریکی میں سے ایک سوار ادھر آتا دکھائی دیا۔ ہونے والے ڈرامے کے تصور سے پادری کو ہنسی آ گئی اور وہ پھر خاموشی سے جھاڑیوں میں چھپ گیا۔

اپنے فرغل کے دامن کو سمیٹ کر پادری سائمن جھاڑیوں میں اس طرح دبک کر بیٹھ رہا جیسے بلی چوہے کی گھات میں۔ وہ کچھ دیر اسی طرح بیٹھا رہا کہ اس کا شکار ایک اس کے سامنے آ گیا۔ وہ تیزی سے جھاڑیوں میں سے نکلا۔ ایک ہاتھ خچر کی گردن اور دوسرا اس کی پیٹھ پر رکھ کر ایسی جست لگائی کہ ماہر سے ماہر بازی گر بھی اسے دیکھ کر دنگ رہ جاتا۔ خچر کی پیٹھ پر پہنچتے ہی اس نے مضبوطی سے آسن جما لیا اور قہقہہ لگا کر بولا "اب ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم دونوں میں زیادہ شاطر کھلاڑی کون ہے۔" اس کے یہ الفاظ لوپ کے لئے تھے لیکن ابھی اس نے مشکل سے اپنا جملہ ختم کیا ہو گا کہ خچر نے اچھلنا، کودنا اور دولتی چلانا شروع کیا اور پھر ہوا کی طرح سرپٹ وہاں سے بھاگا۔ پادری نے اسے لاکھ روکا لیکن اس نے تھمنے کا نام نہ لیا۔ جھاڑیوں اور چٹانوں کو کچلتا روندتا وہ یوں ہی سرپٹ بھاگتا رہا۔ پادری کا فرغل جھاڑیوں اور چٹانوں میں الجھ الجھ کر تار تار ہو گیا اور اس کے چکنے چپڑے چہرے پر درختوں کی ٹہنیوں سے نہ جانے کتنی ضربیں اور کتنی خراشیں لگیں۔ ان مصیبتوں پر ایک بری مصیبت یہ تھی کہ سات خونخوار شکاری کتے اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ بیچارے پادری کو اب پتہ چلا کہ وہ لوپ کے خچر پر نہیں اس خونخوار طلسمی گھوڑے پر سوار ہے جس کے افسانے اس نے بارہا سنے تھے اور جس کے متعلق یہ سمجھا جاتا تھا کہ صدیوں سے باب العدل کے قریب والی جھاڑیوں میں رہتا اور کبھی کبھی آدھی رات کے بعد سات شکاری کتوں کے ساتھ غرناطہ کی سڑکوں پر گشت کرتا ہے۔

طلسمی گھوڑا، پہاڑی سے اتر کر سقاطین اور گرد و پیش کی دوسری سڑکوں پر یوں ہی سرپٹ دوڑتا رہا اور اس کے سات خونخوار کتے رات کے سناٹے میں قیامت کا سماں پیدا کرتے رہے۔ غریب پادری کو جتنے بزرگوں، ولیوں اور سینٹوں کے نام یاد آئے ان سب سے مدد مانگی، گھوڑے کو مریم اور مسیح کا واسطہ دیا لیکن


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 62


گھوڑے نے تھمنے کا نام نہ لیا۔ ہر نیا نام اور ہر نیا واسطہ گھوڑے پر مہمیز اور تازیانے کا اثر کرتا اور گھوڑا کئی گز اوپر اچھل جاتا۔ گھوڑا ساری رات بےتحاشا ادھر سے ادھر دوڑتا پھرا اور بےچارے پادری کی ہڈیاں دکھنے لگیں اور جسم سے خون کے فوارے بہنے لگے۔ آخر مرغ کی بانگ نے اس کی مشکل آسان کی۔ گھوڑا اپنا قیامت خیز گشت پورا کر کے الحمرا کی طرف لوٹنے لگا۔ ایک بار پھر غرناطہ کی سڑکیں اس کی ٹاپوں کے شور سے گونج اٹھیں اور گھوڑا اس کے ہمرکاب خونیں کتے الحمرا کی حدوں میں داخل ہوئے۔ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ یہ قافلہ برج کے قریب پہنچا۔ یہاں پہنچ کر طلسمی گھوڑے نے پھر دولتی جھاڑی اور پادری سائمن کئی قلابازیاں کھاتا ہوا پھاٹک کے قریب گرا۔ جاتے ہوئے شکارے کتے چلتے چلتے ایک بار پھر بھونکے اور دوسرے لمحے ہر طرف خاموشی چھا گئی۔

شاید ہی کسی پاکباز پادری کو زندگی کا ایسا تلخ تجربہ ہوا ہو جیسا بےچارے سائمن کو! صبح سویرے ایک کسان نے کھیت کی طرف جاتے ہوئے بدنصیب سائمن کو برج کے نیچے پڑا پایا۔ زخموں سے چور اور خون میں تر بتر وہ انجیر کے ایک درخت کے نیچے پڑا تھا۔ نہ وہ ہل سکتا تھا اور نہ اس کے منہ سے بول نکلتے تھے۔ لوگوں نے اسے احتیاط سے اس کی خانقاہ تک پہنچا دیا اور ہر طرف یہ خبر مشہور ہو گئی کہ ڈاکؤں نے پادری سائمن کو لوٹا اور زخمی کیا ہے۔

بےچارہ سائمن کئی دن بعد ہلنے جلنے کے قابل ہوا۔ جب اس کے ہوش و حواس بجا ہوئے تو اس نے نفع نقصان کے سب پہلوؤں پر غور کیا۔ اسے بےشک اس بات کا شدید غم تھا کہ اشرفیوں اور جواہرات سے لدا ہوا خچر اس کے ہاتھ نہیں آیا، لیکن اس آخری وار سے پہلے وہ مختلف سینٹوں کے نام پر لوپ کی بیوی سے جو نذریں لے چکا تھا وہ بھی اس کی ساری زندگی کے عیش کے لئے کافی تھیں۔ مگر بدنصیب سائمن نے تندرست ہونے کے بعد جب اپنے مالِ غنیمت کا جائزہ لیا تو اس کے حسرت و غم کی کوئی حد نہ رہی اس لئے کہ سونے اور زمرد کے حنائی تاج کی جگہ اسے سوکھی ہوئی شاخیں ملیں اور چمڑے کی تھیلیوں میں اشرفیوں اور موتیوں کی جگہ ریت اور کنکر۔

پادری سائمن نے اپنے اس غم میں کسی کو شریک نہ کیا۔ اس نے اپنے نفع نقصان کے روداد کسی کو


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 63


نہیں سنائی۔ البتہ مرتے وقت اپنے گناہوں کا اقبال کرتے ہوئے اس نے طلسمی گھوڑے کی سواری کا قصہ بیان کرنے میں تکلف نہیں برتا۔

لوپ سانچیز کے الحمرا سے جانے کے بعد مدتوں کسی کو اس کا حال نہیں معلوم ہوا۔ لوگ اس کے جانے کے بعد اس کی خوش مزاجی کی باتین یاد کرتے رہے اور کبھی کبھی ان کے دلوں میں یہ خیال بھی آتا رہا کہ شاید مفلسی اور ناداری کی پریشانیوں سے تنگ آ کر اس نے خود کشی کر لی۔ اس بات کو کئی سال گزر گئے۔ الحمرا کا ایک بوڑھا سپاہی سڑک پر سے گزر رہا تھا کہ وہ چھ گھوڑوں کی ایک بگھی سے ٹکرا کر زمین پر گرا اور مرتے مرتے بچا۔ بگھی رکی اور ایک بوڑھے خوش پوش آدمی نے سپاہی پر جھک کر اس سے پوچھا "تمہارے زیادہ چوٹ تو نہیں لگی؟" بوڑھے سپاہی کو یہ آواز مانوس معلوم ہوئی۔ اس نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا تو لوپ سانچیز اس سے مخاطب تھا جو بہت جلد اپنی بیٹی سنچکا کی شادی ایک بڑے رئیس سے کرنے والا تھا۔

گاڑی میں سنچکا بھی تھی۔ وہ ایک فربہ دوشیزہ تھی اور سر سے پیر تک قیمتی جواہرات سے لدی ہوئی تھی۔ اس کے گلے میں اور دونوں ہاتھوں کی دسوں انگلیوں میں سچے موتی، ہیرے کے ہار اور بیش قیمت انگوٹھیاں تھیں۔ جوانی، حسن اور نزاکت میں وہ اچھی خاصی شہزادی معلوم ہوتی تھی۔

دولت نے لوپ کے دل کو ذرا بھی نہیں بدلا تھا۔ وہ بڈھے سپاہی کو اپنے گھر لے گیا۔ اسے کئی دن اپنا مہمان رکھا اور باشاہوں کی طرح اس کی ضیافت کی۔ اسے سیریں کرائیں، تماشے دکھائے اور بالآخر جواہرات کی ایک بھاری تھیلی دے کر رخصت کیا۔ دوسری تھیلی میں بہت سے قیمتی جواہرات بھر کر اپنے الحمرا کے دوستوں اور ساتھیوں کو بھیجے۔

لوپ اپنی دولت کے متعلق لوگوں کو ہمیشہ یہ بتاتا تھا کہ اس کا ایک بھائی امریکہ میں تھا۔ اس نے مرتے وقت اپنی بےشمار دولت اس کے لئے ترکہ میں چھوری ہے۔ لیکن الحمرا کے رہنے والے جانتے ہیں اس کی اس خوش حالی کا سرچشمہ الحمرا کا کوئی دفینہ ہے۔

پریوں کے دونوں مرمریں مجسمے اب بھی اسی جگہ رکھے ہیں جہاں پہلے رکھے تھے۔ اب بھی ان کی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 64


آنکھیں اسی طرف نگراں ہیں جدھر تین صدیوں تک خاموشی سے نگراں رہی ہیں اور اس لئے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اب بھی وہاں کوئی قیمتی دفینہ موجود ہے اور ایک دن کسی سیاح کے ہاتھ آئے گا۔ لیکن کچھ لوگ، جن میں زیادہ تعداد عورتوں ہے ان مجسموں کو اس بات کی شہادت اور علامت سمجھتے ہیں کہ عورتیں بھی رازوں کی نگہبانی اور حفاظت کر ستی ہیں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

اوشو

لائبریرین
قصص الحمرا


صفحہ ۔۔۔ 65


معمار کی دلچسپ مہم


عرصہ ہوا غرناطہ میں ایک غریب معمار رہتا تھا۔ معمار بڑا نیک اور خوش عقیدہ تھا اور سب ولیوں اور سینٹوں کے تیوہار بری عقیدت سے مناتا تھا۔ لیکن اس نیکی اور عقیدت کے باوجود اس کی غریبی روز بروز بڑھتی رہی، یہاں تک کہ اسے اور اس کے بال بچوں کو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے میسر آتی تھی۔ ایک دن یہ معمار غافل پڑا سو رہا تھا کہ کسی نے اس کے دروازے پر دستک دی۔ معمار نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ایک دبلا پتلا ، زرد رو اور دراز قد پادری باہر کھڑا ہے۔

پادری نے معمار کو دیکھتے ہی اسے مخاطب کیا "میرے نیک دوست! مجھے معلوم ہے کہ تم ایک اچھے مسیحی ہو اور تم پر بھروسا کیا جا سکتا ہے۔ کیا تم اسی وقت میرا ایک کام کر سکتے ہو؟"

معمار نے جواب دیا کہ "جناب! بڑی خوشی سے۔ بشرطیکہ مجھے میرے کام کا مناسب معاوضہ ملے۔"

پادری بولا "معاوضہ اتنا ملے گا کہ خوش ہو جاؤ گے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ تمہیں آنکھوں پر پٹی بندھوانی پڑے گی۔"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 66


معمار نے اس شرط پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ پادری نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور بہت سی ناہموار گلیوں اور پیچ در پیچ راستوں سے ہوتے ہوئے دونوں ایک گھر کے دروازے پر آ کر رکے۔ پادری نے جیب سے کنجی نکالی، اسے ایک زنگ آلود تالے میں گھمایا اور ایک بہت بڑا پھاٹک کھولا۔ دونوں گھر کے اندر داخل ہوئے۔ پادری نے دروازہ بند کیا، کنڈی لگائی اور معمار کو ایک لمبے دالان اور وسیع کمرے میں سے گزار کر مکان کے اندرونی حصے میں لے گیا۔ یہاں لا کر اس کی آنکھوں کی پٹی کھول دی۔ معمار نے دیکھا کہ وہ ایک وسیع صحن میں کھڑا ہے جسے ایک ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی ہلکی سی روشنی منور کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ صحن کے بیچ میں شاہی زمانے کا ایک فوارہ نصب ہے، جس کی تہ سوکھی پڑی ہے۔ پادری نے معمار سے اس جگہ ایک چھوٹا سا تہ خانہ بنانے کو کہا۔ اینٹیں اور مسالہ پہلے سے موجود تھا۔ اس لئے معمار نے فوراً کام شروع کر دیا۔ وہ رات بھر کام کرتا رہا لیکن تہ خانہ مکمل نہ ہوا۔ صبح ہونے سے ذرا پہلے پادری نے ایک اشرفی معمار کے ہاتھ پر رکھی، اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور اسے اس کے گھر پہنچا دیا۔

چلتے وقت پادری نے پوچھا "کیا تم کام کا باقی حصہ پورا کرنے کے لئے تیار ہو؟"

"کیوں نہیں جناب! بشرطیکہ مجھے ایسا ہی اچھا معاوضہ ملے۔"

"اچھا تو کل آدھی رات کے قریب تمہیں لینے آؤں گا۔"

چنانچہ ایسا ہی ہوا اور پادری کا تہ خانہ بن کر تیار ہو گیا۔

تہ خانہ بن گیا تو پادری نے معمار سے کہا "مجھے اس تہ خانے میں کچھ جسم دفن کرنے ہیں۔ آؤ اب ذرا اس کام میں میری مدد کرو۔"

پادری کے یہ لفظ سن کر معمار کانپ اٹھا۔ کانپتے ہوئے قدموں سے وہ پادری کے پیچھے ہو لیا۔ اس تصور سے اس کا خون خشک ہوا جا رہا تھا کہ ابھی اسے بھیانک موت کا نظارہ کرنا پڑے گا۔ لیکن جب وہ پادری کے ساتھ مکان کے ایک تاریک کمرے میں پہنچا تو اسے یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ مردہ انسانی جسموں کے بجائے، کمرے کے ایک کونے میں تین چار بڑے بڑے مٹکے رکھے ہیں۔ مٹکوں کے وزن سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ سونے اور جواہرات سے پُر ہیں۔ پادری اور معمار نے بہ مشکل ان مٹکوں کو ان کے مدفن تک پہنچایا۔ تہ خانے کا منہ بند کر کے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 67


اس پر پھر فرش بنا دیا گیا اور فوارے کی تہ پھر پہلے کی طرح ہموار ہو گئی۔ پادری نے معمار کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور اسے گلیوں اور سڑکوں کی بھول بھلیوں میں گھما پھرا کر ایک جگہ لا کر کھڑا کر دیا۔ معمار کے ہاتھ میں دو اشرفیاں دے کر پادری نے معمار سے کہا "جب تک تمہیں گرجا کی گھنٹیاں نہ سنائی دیں یہیں ٹھہرو۔ اگر گھنٹیاں بجنے سے پہلے تم نے آنکھیں کھولیں تو اللہ تم سے سمجھے۔" یہ کہہ کر پادری رخصت ہوا اور نیک دل معمار وعدے کے مطابق گھنٹیوں کے بجنے کا انتظار کرنے لگا۔ سونے کے دو سکوں کی جھنکار اور ان کا خوشگوار وزن اسے خوش رکھنے کے لئے کافی تھا۔

تھوڑی دیر میں گرجا کی گھنٹیاں بجیں تو معمار نے آنکھوں کی پٹی کھولی۔ اس نے دیکھا کہ وہ شہر کے دریا کے کنارے کھڑا ہے۔ وہاں سے وہ بآسانی اپنے گھر پہنچ گیا۔ دو رات کی محنت میں اسے جو اجرت ملی تھی اس سے پورے گھرانے نے دو ہفتے آسائش سے بسر کئے۔ اس کے بعد نیک معمار ویسا ہی غریب ہو گیا جیسا کہ پہلے تھا۔

معمار تھوڑی بہت دیر کام کرتا اور زیادہ وقت عبادت میں گزارتا۔ ولیوں اور سینٹوں کے تیوہار منانے اور اپنے حال میں مگن رہنے کا یہ سلسلہ برسوں جاری رہا۔ ایک دن بڈھا معمار اپنی خستہ حال جھونپڑی کے سامنے بیٹھا تھا کہ ایک دولت مند مرد خسیس، جو وسیع جائیداد اور بڑی زمینداری کا مالک تھا، اس کے پاس آ کر رکا۔ کچھ دیر تک اسے غور سے دیکھتا رہا پھر اس سے کہنے لگا۔

"عزیز دوست! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم بہت غریب ہو۔"

معمار نے خاموشی سے جواب دیا "جناب! میری غریبی تو میرے حال سے ظاہر ہے۔"

"پھر تمہیں کوئی کام ملے تو خوشی سے کرو گے، اور یقیناً مزدوری بھی زیادہ نہیں لو گے!"

"جناب! غرناطہ میں مجھ سے سستا کام کرنے والا مشکل سے ملے گا۔"

"میں بھی یہی چاہتا ہوں۔ میرے ایک مکان کی حالت خستہ ہو گئی ہے۔ مجھے اس کی مرمت پر جو رقم صرف کرنی پڑتی ہے وہ کسی طرح وصول نہیں ہوتی، اس لئے کہ اس میں کوئی رہنا پسند نہیں کرتا۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ بس تھوڑی سی رقم خرچ کر کے اس کی اتنی مرمت کروا دوں جتنی اسے کھڑا رہنے کے لئے ضروری ہے۔"

کنجوس رئیس نے معمار کو ایک ویران اور بوسیدہ لیکن خاصی بڑی حویلی کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا۔ بہت سے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 68

خالی کمروں اور دالانوں میں ہوتے ہوئے دونوں مکان کے صحن میں پہنچے۔ معمار اس صحن میں بنے ہوئے ایک فوارے کو دیکھ کر سکتے میں رہ گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ یہ صحن اور فوارہ میں نے پہلے بھی کبھی دیکھا ہے۔ اس نے رئیس سے پوچھا "کیوں جناب! اس حویلی میں پہلے کون رہتا تھا؟"

رئیس نے غصے سے جواب دیا "اس پر اللہ کی رحمت! یہاں ایک کنجوس پادری رہا کرتا تھا، جسے بس اپنی ذات عزیز تھی، اور کچھ نہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ بےحد دولتمند تھا۔ چونکہ وہ لاوارث تھا اس لئے خیال تھا کہ وہ اپنی ساری دولت گرجے کے لئے وقف کر جائے گا۔ لیکن وہ اچانک مر گیا اور جب پادری اس کی دولت پر قبضہ کرنے کے خیال سے یہاں آئے تو انہیں چند کم قیمت سکوں کے سوا یہاں کچھ بھی نہ ملا۔ وہ تو مایوس ہو کر چلے گئے لیکن میری بدنصیبی کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ بڈھے پادری کی روح اب بھی میرے گھر پر قابض ہے اور تم جانتے ہو کہ مردوں سے کرایہ وصول کرنا ناممکن ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ جس کمرے میں پادری رہتا تھا اس میں سے اب بھی راتوں کو سکوں کی جھنکار سنائی دیتی ہے، جیسے کوئی انہیں گن رہا ہو۔ لوگوں نے کبھی کبھی صحن میں رونے اور کراہنے کی آوازیں بھی سنی ہیں۔ خدا جانے یہ باتیں صحیح ہیں یا غلط، لیکن انہوں نے میرے گھر کو بدنام کر دیا ہے، اور کرایہ دار اس میں بسنے کے نام پر کانوں پر ہاتھ دھرتے ہیں۔"

معمار جو خاموشی سے رئیس کی باتیں سن رہا تھا، کڑک کر بولا "جناب! اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کی حویلی میں رہنے لگوں۔ جب آپ کو کوئی اچھا کرایہ دار مل جائے گا تو میں کہیں اور چلا جاؤں گا۔ میں حویلی کا کرایہ تو نہیں دے سکتا، البتہ جب تک یہاں رہوں گا اس کی مرمت کرتا رہا ہوں۔ رہے بھوت پریت تو میں مذہبی آدمی ہوں اور ان سے نہیں ڈرتا۔"

رئیس نے غریب معمار کی پیش کش خوشی سے قبول کر لی۔ معمار کا گھرانا حویلی میں رہنے لگا۔ معمار آہستہ آہستہ حویلی کی مرمت کرتا رہا اور کچھ عرصے میں وہ ویسی ہی شاندار ہو گئی جیسی پہلے تھی۔ مردہ پادری کے کمرے میں سے راتوں کو سکوں کی جھنکار آنی بند ہو گئی۔ اب یہ آواز لوگوں کو زندہ معمار کی جیبوں میں سنائی دینے لگی۔ رفتہ رفتہ اس کی خوشحالی بڑھتی گئی یہاں تک کہ بہت جلد اس کا شمار غرناطہ کے امیروں میں ہونے لگا۔ وہ اپنی روح اور ضمیر کو مطمئن رکھنے کے لئے گرجے کو بڑی بڑی رقمیں دیتا رہا اور حویلی کے صحن میں بنے ہوئے تہ خانے کا حال کسی کو نہ معلوم ہوا۔۔۔۔ سوائے اس کے بیٹے اور تنہا وارث کے، جس کے کانوں میں معمار مرتے وقت یہ افسوں پھونک دے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

اوشو

لائبریرین
قصص الحمرا


صفحہ ۔۔۔ 69


زائرِ محبت


عرصہ ہوا غرناطہ پر ایک مور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کے ایک بیٹا تھا، جس کا نام احمد تھا۔ احمد میں بچپن ہی سے ایسی اعلیٰ صفات تھیں کہ دربانوں نے اس کے نام کے آگے 'الکامل' کا لقب بڑھا دیا اور سب اسے احمد کے بجائے الکامل کہنے لگے۔ نجومیوں نے اس کا زائچہ بنایا تو ایسی بےشمار باتوں کی پیشین گوئی کی جس سے ظاہر تھا کہ وہ ایک دن بہت بڑا بادشاہ ہو گا۔ اس کی قسمت کے آسمان پر بادل کا صرف ایک ٹکڑا نظر آتا تھا، کو یہ ٹکڑا بھی سیاہ ہونے کے بجائے گلابی تھا۔ نجومیوں کی پیشین گوئی تھی کہ شہزادہ عاشق مزاج ہو گا اور اپنی عاشق مزاجی کی بدولت اسے سخت خطروں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن شباب کا سایہ پڑنے تک اگر اسے محبت کی کشش سے دور رکھا جائے تو وہ ان خطروں سے محفوظ رہے گا اور اس کے بعد سے اس کی زندگی سکون و راحت کی مسلسل اور مربوط داستان ہو گی۔

شہزادے کو ان خطروں سے محفوظ رکھنے کے لئے دانا بادشاہ نے اسے ایسی فضا میں پرورش کرنے کا تہیہ کیا جہاں اس کی آنکھیں کسی حسینہ کا منہ نہ دیکھیں اور اس کے کان محبت کے نام سے آشنا نہ ہوں۔ اس


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 70


مقصد کے لئے اس نے الحمرا کے اوپر ایک پہاڑی پر ایک حسین محل تعمیر کروایا اور اسے حسین و دلکش گلشنوں سے آراستہ کیا۔ یہی محل ہے جسے آج تک لوگ جنتہ العریف کے رومانی نام سے یاد کرتے ہیں۔ شہزادے کو اس جنتِ ارضی میں مقید کر کے اسے عرب کے معروف فاضل، عاقل اور حکیم ابنِ حبّان کی اتالیقی اور تربیت میں دے دیا گیا۔ ابنِ حبّان کی عمر کا زیادہ حصہ مصر میں بسر ہوا تھا، جہاں مقبروں اور اہرام میں قدیم زبانوں کا مطالعہ اس کا سب سے محبوب مشغلہ رہا تھا اور اس لئے مصری ممی کے مردہ حسن میں اس کے لئے جیتے جاگتے حسن اور چلتے پھرتے شباب سے زیادہ کشش تھی۔ بادشاہ نے ابنِ حبّان کو تاکید کر دی تھی کہ وہ شہزادے کو سب علوم کی تعلیم دے۔۔۔۔ سوائے اس کے کہ وہ محبت کے نام اور مفہوم سے قطعی ناآشنا رہے۔ بادشاہ ن ے شہزادے کی اتالیقی فاضل حکیم کے سپرد کر کے اس سے کہا "ابنِ حباّن! تم اس مقصد کے لئے جو تدبیریں چاہو اختیار کرو۔ لیکن یاد رکھو کہ اگر شہزادے نے تمہارے زیرِ سایہ اس مردود علم کا ایک حرف بھی سیکھ لیا تو تمہیں اس کی قیمت اپنے سر سے ادا کرنی ہو گی۔"

حبّان کے خشک چہرے پر ایک مرجھائی ہوئی مسکراہٹ بکھر گئی اور اس نے بادشاہ کو جواب دیا، "جہاں پناہ! اپنے دل کو شہزادے کی طرف سے اسی طرح مطمئن رکھیں جیسے میں اپنے سر کی طرف سے مطمئن ہوں۔ کیا آپ کا خیال ہے کہ ابنِ حباّن شہزادے کو محبت جیسے ناکارہ حِس کی تعلیم دے گا۔"

دانا حکیم کی محتاط نظروں کے سائے میں شہزادہ احمد الکامل "جنت العریف" کے ایوانوں اور اس کے گلشنوں میں پرورش پاتا رہا۔ حبشی غلام اس کے خادم تھے، جن کے تاریک دل محبت کے راز سے قطعی ناآشنا تھے۔ اور اگر آشنا تھے تو ان کی زبانیں اس کی حقیقت کے اظہار سے عاجز تھیں۔ ابنِ حباّن کی پوری توجہ شہزادے کے ذہن کی تربیت کی طرف تھی اور اس لئے اس نے اسے پہلے مصر کے قدیم، پیچیدہ اور سنجیدہ علوم کی تعلیم دی۔ لیکن شہزادے کے ذہن نے اس سنجیدگی اور خشکی کو بالکل قبول نہ کیا اور ابنِ حباّن کو اندازہ ہو گیا کہ شہزادے کو فلسفے کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔

شہزادے میں ایک عجیب و غریب خوبی یہ تھی کہ اس کا استاد اور رہنما اسے جس راستے پر چلاتا وہ اسی پر چلنے کو تیار ہو جاتا۔ وہ پیہم آتی ہوئی جمائیوں کو روکتا اور خاموشی اور تحمل سے ابنِ حباّن کے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 71


طویل عالمانہ خطبے سنتا رہتا اور اس طرح سے اسے ہر طرح کے علم کی شد بد ہو گئی، یہاں تک کہ وہ بیس سال کا ہو گیا۔ گو اس کا ذہن گوناگوں علوم کا بیش بہا اور قابلِ رشک خزینہ تھا، لیکن اس خزانے میں محبت کی روشنی نام کو نہ تھی۔

لیکن اسی عمر میں شہزادے میں ایک تبدیلی رونما ہوئی۔ اس نے مطالعہ اور مناظرہ ترک کر کے باغوں کی روشوں پر ٹہلنا اور محویت کے عالم میں فواروں کے قریب بیٹھنا شروع کر دیا۔ تکمیل علوم کے سلسلے میں اسے موسیقی کی بھی تھوڑی سی تعلیم دی گئی تھی۔ شہزادہ دوسرے علوم کو چھور کر اب صرف اس کی طرف مائل ہو گیا اور شعر و شاعری کا جو رجحان اب تک سویا ہوا تھا وہ جیسے خود بخود بیدار ہوا۔ شہزادے کی اس تبدیلی میں ابنِ حباّن کو ایک خطرے کے آثار نظر آئے اور اس لئے ان ناکارہ مشاغل کی طرف سے اس کی توجہ ہٹانے کے لئے اسے جبر و مقابلہ کے سبق دینے لگا۔ لیکن شہزادے کا جی اس میں ذرا بھی نہ لگا۔ اس نے تنگ آ کر اپنے استاد سے کہہ دیا "جبر و مقابلہ مجھے ذرا بھی پسند نہیں۔ اس کے خیال سے میرا جی متلاتا ہے۔ مجھے کوئی ایسا علم چاہیے جس کی آواز دل کے تاروں کو چھیڑے۔"

ابنِ حباّن نے یہ باغیانہ لفظ سنے تو اس نے سنجیدگی سے اپنی گردن ہلا کر کہا "یہ فلسفے کی موت کا اعلان ہے۔ شہزادے کو پتا چل گیا ہے کہ اس کے پاس دل ہے۔" اب وہ ہر لمحے اپنے شاگرد کو فکرمندی کی نظر سے دیکھنے لگا۔ وہ ہر لمحے یہ محسوس کر رہا تھا کہ شہزادے کی فطری نزاکت اور لطافت بیدار ہو چکی ہے۔ اب اسے صرف کسی 'شے' کی تلاش ہے۔

شہزادہ جنت العریف کے گلشنوں میں ایک خاص طرح کے نشے میں سرشار گھومتا پھرتا اور اس کی سمجھ میں نہ آتا کہ یہ نشہ کیوں ہے۔ کبھی کبھی وہ ایسے تصور میں غرق ہو کر بیٹھ جاتا جس میں اس کے لئے ایک انوکھی لذت تھی۔ کبھی وہ اپنی بانسری اپنے ہونٹوں سے لگاتا اور درد بھرے نغمے فضا میں بکھر جاتے۔ پھر نہ جانے کیوں وہ بانسری کو پھینک دیتا اور خود بخود سرد آہیں بھرنے لگتا۔

آہستہ آہستہ محبت کی یہ آنچ اس کے سینے سے نکل کر گرد و پیش کی چیزوں تک پہنچنے لگی۔ اسے بعض خاص خاس پھولوں میں زیادہ کشش محسوس ہونے لگی اور وہ انہیں محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 72


اسے کچھ درخت دوسرے درختوں سے زیادہ اچھے لگنے لگے اور پھر اس کی توجہ نے صرف ایک درخت کو اپنا مرکز بنا لیا۔ درخت کے پتوں کے خنک سائے میں اسے سکون ملنے لگا۔ اسے اس کے قدِ رعنا سے عشق ہو گیا۔ وہ اس کی نازک چھال پر اپنا نام کھودتا، گجرے گوندھ کر اس کی ٹہنیوں میں لٹکاتا اور بانسری کی سریلی لے پر اس کی تعریف کے نغمے گاتا۔

شاگرد کی اس ہیجانی کیفیت نے ابنِ حباّن کو خوف زدہ کر دیا۔ اسے معلوم تھا کہ جو علم اب تک اسے نہیں سکھایا گیا، اس کے دل نے خود بخود اسے اس کے آستاں تک پہنچا دیا ہے۔ ایک ہلکا سا اشارہ بھی اسے اس سربستہ راز سے آشنا کرنے کے لئے کافی ہے۔ وہ شہزادے کے سامنے آنے والے خطروں اور اپنے سر قلم ہونے کے تصور سے کانپ اٹھا اور فوراً شہزادے کو باغ کی رعنائیوں سے جدا کر کے جنت العریف کے سب سے اونچے برج میں مقید کر دیا۔ برج میں ہر ممکن آسائش کے سامان کے موجود تھے۔ اس کے ایوان حسین اور دلکش تھے، اور وہ اس کے دریچوں سے ان دور افتادہ مناظر کا مشاہدہ کر سکتا تھا جہاں تک نظر کی رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ برج کی بلندیوں میں صرف ایک کمی تھی۔ وہاں رہ کر احمد کُنجوں اور روشوں کی اس شیریں اور دلکش رنگینی سے محروم ہو گیا تھا جنہوں نے اس کے دل کی دنیا میں طوفان برپا کیا تھا۔

سوال یہ تھا کہ احمد ضبط کے جس سخت امتحان سے دوچار تھا، اس کے اور آنے والے نازک گھڑیوں کے درمیان کیا سمجھوتہ کیا جائے؟ ابنِ حبّان نے اسے محبت کے زہر سے محفوظ رکھنے کے لئے ہر طرح کے علم کی لذت سے آشنا کر دیا تھا اور علم کا کوئی شعبہ ایسا نہ تھا جس میں شہزادے کو کسی طرح کی کشش محسوس ہوتی۔ اس موقعے پر ابن حباّن کو ایک بات یاد آئی۔ اپنے مصر کے قیام میں اس نے ایک یہودی سے چڑیوں کی زبان سیکھی تھی۔ اس یہودی تک یہ علم حضرت سلیمان ع سے منتقل ہو کر آیا تھا اور حضرت سلیمان ع نے اسے ملکہ سبا سے حاصل کیا تھا۔ ابنِ حباّن نے جب احمد سے اس نئے علم کا ذکر کای تو اس کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں اور اس نے اس انہماک سے اس نئے علم کی طرف توجہ کی کہ بہت جلد اس میں اپنے استاد کی سی مہارت پیدا کر لی۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 73


جنت العریف کا برج اب اس کے لئے تنہائی کی قید نہیں رہا تھا۔ برج کے آس پاس اب اس کے بےشمار شناسا تھے جن سے باتیں کر کے وہ اپنا جی بہلا سکتا تھا۔ اس کا پہلا شناسا ایک باز تھا جس نے قصر کی فصیل پر ایک بہت اونچی جگہ اپنا آشیانہ بنایا تھا۔ شہزادے کو اس کی ملاقات میں ذرا بھی لطف نہ آیا۔ اس کی باتوں میں قزاقی کی بو آتی تھی۔ وہ لوٹ مار اور دوڑ جھپٹ کے علاوہ کوئی بات نہ جانتا تھا۔ اس کی شیخی خوری سے شہزادے کو نفرت سی ہو گئی۔

اس کی دوسری ملاقات ایک الو سے ہوئی، جس کے بڑے سر اور گول گول آنکھوں سے دانشمندی ہویدا تھی۔ وہ دن پھر دیوار کے ایک روزن میں بیٹھا کن انکھیوں سے ادھر ادھر دیکھتا اور آنکھیں جھپکاتا رہتا اور رات کے وقت سیر و گشت کے لئے گھر سے نکلتا۔ اسے اپنی دانائی کے متعلق خاصی غلط فہمی تھی۔ وہ نجوم کے علم اور چاند کی باتیں کرتا اور اشاروں اشاروں میں طلسم و سحر کا ذکر چھیڑتا۔ وہ عموماً مابعدالطبیعاتی مسائل میں غرق نظر آتا اور احمد کو اس کے خیالات اور تصورات ابنِ حباّن کی فلسفیانہ تقریروں سے زیادہ خشک اور بےمزہ معلوم ہوتے۔

اس کا اگلا شناسا ایک چمگادڑ تھا جو سارے دن گنبد کے ایک تاریک گوشے میں الٹا لٹکا رہتا اور شام ہوتے ہی چپکے سے باہر نکل جاتا۔ ہر موضوع پر اس کے خیالات شفق کی روشنی کی طرح سرسری اور عارضی تھے۔ چیزوں سے مکمل واقفیت حاصل کئے بغیر ان کا مذاق اڑانا اس کا شیوہ تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ اسے زندگی کی کسی چیز یا کسی بات میں لطف نہیں آتا۔

ان کے علاوہ ایک ابابیل تھی، جس نے شروع شروع میں شہزادے کو اپنی طرف بےحد متوجہ کیا۔ اس کا اندازِ گفتگو بڑا دلکش تھا، لیکن ایک طرح کی بےچینی، بےقراری اس کی سرشت میں تھی۔ وہ برابر ہوا میں اڑتی رہتی اور کسی موضوع پر تھوڑی دیر بھی جم کر باتیں نہ کرتی۔ رفتہ رفتہ شہزادے کو اندازہ ہو گیا کہ وہ محض باتونی ہے۔ چیزوں کی اوپری سطح پر نظر رکھنا اور کسی چیز کا علم نہ رکھنے پر بھی عالم ہونے کا دعویٰ کرنا اس کی عادت ہے۔

ان چاروں پرندوں سے باتیں کر کے شہزادے کو اپنے سیکھے ہوئے علم کو آزمانے کا موقع ملا۔ دوسری چڑیاں


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 74


گنبد کی بلندی تک نہیں پہنچ سکتی تھیں۔ شہزادہ بہت جلد ان نئے ساتھیوں سے اکتا گیا۔ ان کی باتیں نہ ذہن میں گھر کر سکتی تھیں نہ دل میں۔ اور اس لئے بہت جلد اس نے پھر اپنی تنہائی میں پناہ لی۔ سردیاں گزر گئیں اور بہار تازگی اور شگفتگی کا پیغام لے کر آئی۔ چڑیوں کے چہچہانے اور گھونسلے بنانے کے دن آ گئے اور جنت العریف کے گلشنوں اور کُنجوں سے جیسے نغموں کا ایک سیلاب ابل پڑا اور اس کی لہریں برج کی بلندیوں میں شہزادے تک پہنچنے لگیں۔ ہر نغمے کا موضوع ایک تھا۔ ہر زبان محبت کا پیام سنا رہی تھی اور ہر طرف سے اس پیام کے دل کُشا جواب دئیے جا رہے تھے۔۔۔۔ ہر لَے میں، ہر تان میں بس محبت کی صدا گونج رہی تھی۔ شہزادہ سکوت اور الجھن میں اس شیریں پیغام میں ڈوبے ہوئے نغمے سنتا اور دل میں سوچتا "محبت! محبت! یہ آخر کیا چیز ہے، جس سے ساری دنیا معمور نظر آتی ہے اور میں اس کے متعلق کچھ نہیں جانتا؟" اس نے اپنے دوست باز کے سامنے اپنی مشکل پیش کی تو اس بددماغ نے حقارت سے جواب دیا "اپنی مشکل زمین کی حقیر اور امن پسند چڑیوں سے بیان کرو، جنہیں قدرت نے ہمارئے لئے کہ ہم فضا کے بادشاہ اور شہنشاہ ہیں، شکار بنایا ہے۔ ہمارا مشغلہ جنگ ہے۔ ہمیں صرف جنگ سے دلچسپی ہے۔ ہم سپاہی ہیں اور ہمیں نہیں معلوم محبت کیا بلا ہے۔"

شہزادہ اس کی باتوں سے متنفر ہوا اور الو کے مراقبے میں مخل ہوا کہ یہ امن پسند طائر شاید میری الجھن دور کر سکے۔ اس نے الو سے پوچھا "دانا دوست! کیا تم بتا سکتے ہو کہ یہ محبت کیا چیز ہے، جس کے گیت آج کل ہر کُنج میں گائے جا رہے ہیں؟" الو نے کسی قدر خفگی سے شہزادے کی طرف دیکھا کہ جیسے اس کے وقار کو اس سوال سے صدمہ پہنچا ہو اور بولا "میری راتیں مطالعے اور تحقیق میں بسر ہوتی ہیں اور دن کا وقت اپنے حجرے میں سیکھی ہوئی باتوں پر غور و فکر کرنے میں گزارتا ہوں۔ رہیں یہ چڑیاں کہ جن کے گیتوں کا تم ذکر کرتے ہو، تو میں کبھی ان کی طرف دھیان نہیں دیتا۔ مجھے ان سے اور ان کی باتوں سے نفرت ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ مجھے گانا نہیں آتا۔ میں فلسفی ہوں اور جس چیز کو تم محبت کہتے ہو، اس کے متعلق نہیں جانتا۔"

شہزادے نے اب برج کے اس گوشے کا رخ کیا جہاں اس کا دوست چمگادڑ الٹا لٹکا ہوا تھا اور اس کے سامنے بھی اپنا سوال دہرایا۔ چمگادڑ نے اپنی ناک سکیڑ لی اور جھّلا کر جواب دیا "ایسے حماقت آمزی سوال


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 75


کر کے تم میرے آرام میں کیوں خلل ڈالتے ہو؟" میں صرف رات کو گھر سے باہر نکلتا ہوں جب سب چڑیاں سو چکی ہوتی ہیں۔ مجھے ان کے کاروبار میں ذرا بھی دلچسپی نہیں ۔ میں نہ چڑیا ہوں نہ چوپایہ، اور خدا کا شکر ہے کہ ایسا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ سب شرپسند ہیں اور میں ان میں سے ایک ایک سے نفرت کرتا ہوں۔ مختصر یہ کہ میں آدم بیزار ہوں اور مجھے بالکل معلوم نہیں کہ محبت کسے کہتے ہیں۔"

لاچار ہو کر شہزادے نے ابابیل کی جستجو شروع کی اور وہ جلدی ہی اسے برج کی چوٹی میں چکر لگاتی ہوئی مل گئی۔ حسبِ معمول، اس وقت بھی ابابیل سخت جلدی میں تھی اور اسے شہزادے کی بات کا جواب دینے کی فرصت نہیں تھی۔ اس نے تیزی سے شہزادے کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا "خدا کے لئے! میرے مشاغل اتنے زیادہ ہیں اور میرے سر پر اتنی ذمہ داریاں ہیں کہ مجھے کبھی اس موضوع پر سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ مجھے ہر روز ہزار جگہ جانا ہوتا ہے، ہزار طرح کے اہم معاملات پر توجہ دینی ہوتی۔ بھلا مجھے اتنی فرصت کہاں کہ ایسے ہلکے پھلکے موضوعات پر غور کر سکوں۔ مختصر یہ کہ میں دنیا کا شہری ہوں۔ میرے دل میں سارے جہان کا درد ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ جسے تم محبت کہتے ہو، وہ کیا چیز ہے۔" یہ تقریر کی اور وادی میں غوطہ لگا کر ابابیل بات کی بات آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔

شہزادے کی مایوسی اور الجھن اور بڑھ گئی۔ اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اپنے دل کا درد کس سے کہے۔ ابھی وہ اسی خیال میں مستغرق تھا کہ اس کا دانا اتالیق برج میں داخل ہوا۔ شہزادہ اسے دیکھتے ہی اس کی طرف دوڑا۔ "میرے اچھے ابنِ حباّن! تم نے دنیاوی علوم کے سب دروازے مجھ پر کھولے ہیں لیکن ایک دروازہ اب تک بند ہے۔ میرا دل علم کے اس ایوان میں داخل ہونے کے لئے بےتاب ہے۔"

ابنِ حباّن نے عاجزی سے جواب دیا "اچھے شہزادے! آپ کے دل میں جو سوال پیدا ہوا ہے پوچھئے، آپ کے خادم کا علم محدود ہے، لیکن وہ اپنی بساط بھر آپ کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کرے گا۔"

"تو پھر اے داناؤں کے دانا! براہِ کرم بتائیے کہ جسے دنیا محبت کہتی ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟"

ابنِ حباّن پر جیسے بجلی گر پڑی۔ وہ کانپ گیا اور اس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ اسے یوں محسوس ہوا کہ کسی نے اس کے جسم کی جان نکال لی ہے۔ اس نے شہزادے کو مخاطب کر کے پوچھا "شہزادے کے دل میں


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 76


یہ سوال کیسے پیدا ہوا؟ آپ نے یہ ناکارہ لفظ کس سے سنا؟"

شہزادہ ابنِ حباّن کو دریچے کے قریب لے گیا اور اس سے کہا "یہاں کھڑے ہو کر سنو!" ابنِ حباّن خاموشی سے سنتا رہا۔ برج کے نیچے بلبل گلاب کی ایک جھاڑی پر بیٹھی ایک سرخ گلاب کے سامنے محبت کا نغمہ گا رہی تھی۔ پھولوں سے لدی ہوئی شاخوں اور سرسبز کُنجوں میں بس ایک لفظ گونج رہا تھا ۔۔۔۔ محبت، محبت، محبت۔ فضا صرف اسی لفظ کی شیرینی سے معمور تھی۔

دانا ابنِ حباّن نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا "اللہ اکبر! بھلا کس کی مجال ہے کہ انسان سے اس راز کو پوشیدہ رکھ سکے جب کہ ہر طائر افشائے راز پر آمادہ ہے۔" اس کے بعد پرزور لہجے میں احمد سے بولا "ان گمراہ کن نغموں کی طرف دھیان نہ دو۔ اس خطرناک علم پر اپنے ذہن کے دروزے بند کر لو۔ یاد رکھو کہ انسانی دنیا کے آدھے غموں کا سبب یہی بدنصیب محبت ہے۔ یہی ہے جو بھائیوں اور دوستوں کے دلوں میں تفرقہ ڈالتی۔ قتل و غارت اور جنگ و جدال کی پرورش اسی کی آغوش میں ہوتی ہے۔ فکر و غم کی تاریکیاں، دلوں کی پریشانیاں اور راتوں کی بےخوابیاں اس کی کنیزیں ہیں۔ محبت کی آگ، شباب کی شگفتگی اور مسرت کو جھلس دیتی ہے اور جوانی کے سر پر بڑھاپے کے دکھوں کا سایہ منڈلانے لگتا ہے۔ اس لئے اے میرے معصوم شہزادے! اللہ تجھے اس علم سے بےگانہ رکھے جس کا نام محبت ہے۔"

بات ختم کرتے ہی ابنِ حباّن تیزی سے باہر نکل گیا اور شہزادے کی الجھن پہلے سے زیادہ ہو گئی۔ وہ لاکھ کوشش کرتا کہ اس خیال کو دل سے نکال دے لیکن وہ اس کی پوری ہستی پر چھا گیا تھا۔ سوچتے سوچتے اس کا جس تھکن سے چور ہو گیا۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا "کوئی چڑیوں کے ان شیریں نغمے کو سنے۔ ان میں غم کہیں نام کو نہیں ہے۔ ہر لَے نرم ہے، نازک ہے اور مسرت میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اگر محبت سچ مچ جنگوں اور پریشانیوں کا سبب ہے تو یہ چڑیاں غمگین کیوں نظر نہیں آتیں، کیوں وہ ایک دوسرے کا خون بہانے کے بجائے خوشی سے یوں پھدک رہی ہیں، اور کیوں وہ صحنِ چمن میں خوشی خوشی ایک دوسرے کے ساتھ کھیل رہی ہیں؟"

ایک صبح پریشان شہزادہ اپنے پلنگ پر لیٹا اس گتھی کو سلجھانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ اس کے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 77


کمرے کی کھڑکی نسیمِ سحری کے جھونکوں کاخیر مقدم کر رہی تھی اور فضا وادی میں جھومتی ہوئی نارنگی کے شگوفوں کی خوشبو سے معطر تھی۔ بلبل کی دھیمی دھیمی آواز دریچے کے راستے اندر آ رہی تھی۔ اس کی زبان پر اب بھی محبت کا نغمہ جاری تھی۔ شہزادہ اسے سن رہا تھا اور آہیں بھر رہا تھا۔ ایکا ایکی ہوا میں ایک تیز سرسراہٹ گونجی اور ایک ننھی فاختہ، باز کے خونیں چنگل سے بچنے کے لئے کھرکی کے اندر جھپٹی اور ہانپتی ہوئی فرش پر گر پڑی۔ ظالم صیاد، اپنے صید سے محروم ہو کر پہاڑ کی چوٹی کی طرف اڑ گیا۔

شہزادے نے ہانپتی ہوئی چڑیا کو اٹھایا۔ نرمی سے اس کے پروں پر ہاتھ پھیرا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ تھوڑی دیر اسے سینے سے لگائے رکھا اور پھر ایک سونے کے پنجرے میں بند کر دیا۔ پنجرے میں بند کر کے سفید چمکیلے گیہوں اس کے آگے ڈالے اور کٹوری میں شفاف پانی بھر کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ لیکن فاختہ نے نہ گیہوں کھائے نہ پانی پیا۔ وہ غم زدہ صورت بنائے پنجرے میں بیٹھی سسکیاں لیتی رہی۔

"ننھی فاختہ تمہیں کیا تکلیف ہے؟ تمہیں آخر کس چیز کی کمی ہے؟" شہزادے نے پیار سے پوچھا۔

فاختہ بولی کہ "شہزادے! میرا غم یہ ہے کہ بہار کے مسرت خیز موسم میں، اس موسم میں جو محبت کرنے کا موسم ہے، قسمت نے مجھے میرے محبوب سے جدا کر دیا ہے۔"

شہزادہ چونک کر بولا۔ "محبت کا موسم! محبوب! پیاری چڑیا! کیا تم مجھے بتا سکتی ہو کہ محبت کسے کہتے ہیں؟"

فاختہ لہک کر بولی "یقیناً! اچھے شہزادے! میں تمہیں محبت کے معنی بتا سکتی ہوں۔ محبت ایک کا غم، دو کی خوشی اور تین کی دشمنی اور لڑائی ہے۔ یہ ایک طلسم ہے جو دو مخلوقوں کو ایک دوسرے کےقریبلاتا ہے، ان کے دلوں کو ہم نوائی کی شیرینی سے جوڑتا ہے۔ ان دلوں کو قرب سے راحت ملتی ہے اور دوری انہیں غمگین بناتی ہے۔ اچھے شہزادے کیا دنیا میں کوئی ایسا نہیں جس سے تم نے محبت کا نازک رشتہ جوڑا ہو؟"

"مجھے اپنے استاد ابنِ حباّن سے دنیا میں سب سے زیادہ لگاؤ ہے۔ لیکن کبھی کبھی اس کی صحبت مجھ پر بار گزرتی ہے اور تنہائی زیادہ اچھی لگتی ہے۔"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 78


میرا مطلب اس لگاو سے نہیں۔ میں محبت کا ذکر کر رہی ہوں۔۔۔۔ محبت جو زندگی کا سب سے بڑا راز اور سب سے قیمتی اصول ہے، جوانی کا خمار انگیز نشاط اور بڑھاپے کی سنجیدہ راحت۔ شہزادے! ذرا کھڑکی میں سے جھانک کر دیکھو۔ اس طرب انگیز موسم میں فطرت کا ذرہ ذرہ محبت سے سرشار ہے۔ ہر مخلوق کا ایک محبوب ہے۔ ننھے ننھے پرند بھی جوش و سرمستی کے اس موسم میں اپنے محبوب کی خدمت میں نغمۂ محبت پیش کرتے ہیں۔ ننھا منا بھنورا بھی محبت کے نغمے گنگنا رہا ہے، اور دیکھو! وہ سامنے ہوا کے دوش پر پرواز کرتی ہوئی نازک تتلیاں کس طرح محبت سے مسرور ایک دوسرے سے اٹکھیلیاں کر رہی ہیں۔ افسوس! اچھے شہزادے! اپنی عمر کے اتنے قیمتی سال تم نے یوں ہی گنوائے۔ تم اب تک یہ بھی نہیں جانتے کہ محبت کیا ہے۔ کیا واقعی کسی نازک دوشیزہ نے، کسی حسین شہزادی نے تمہارے طائرِ دل کو اپنی زلفوں کے جال میں نہیں پھنسایا؟ اور کیا کسی کے تصور نے تمہارے سینے میں میٹھے غموں اور نازک تمناؤں کا طوفان نہیں اٹھایا؟

شہزادے نے سرد آہ بھری اور بولا "ننھی چڑیا! کبھی کبھی یہ طوفان مجھے اپنے سینے میں اٹھتا ہوا محسوس ہوا ہے۔ لیکن میں اس طوفان کا سبب نہیں جانتا۔ آہ! اس تنہائی میں میں اپنے دل کی اس ملکہ کو کہاں ڈھونڈنے جاؤں جس کا حال تم نے بتایا ہے؟"

شہزادے اور فاختہ میں تھوڑی باتیں اور ہوئیں اور شہزادے کا درسِ محبت مکمل ہو گیا۔ اس نے نرمی سے فاختہ کو مخاطب کر کے کہا "ننھی فاختہ! اگر محبت ایسی ہی مسرت اور اس سے محرومی ایسا ہی غم ہے تو خدا نہ کرے کہ میں محبت کرنے والوں کے دل توڑ کر گناہ مول لوں۔" اس نے فاختہ کا پنجرا کھولا، اسے پیار سے باہر نکالا، اس کے نرم پروں کو بوسہ دیا اور کھڑکی کے پاس جا کر اس سے کہا "ننھی فاختہ! جاؤ بہار اور شباب کے اس وجد آور موسم میں اپنے دل کے ساتھی کے ساتھ خوشیاں مناؤ۔ میں تمہیں اس بےکیف برج میں، جہاں محبت کا گزر نہیں، اپنے ساتھ قید کیوں رکھوں؟"

فاختہ نے مسرت سے پر پھڑپھڑائے۔ ہوا میں ایک قلابازی کھائی اور تیرتی ہوئی باغ کے شاداب کُنجوں میں گم ہو گئی۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

اوشو

لائبریرین
قصص الحمرا


صفحہ ۔۔۔ 79


شہزادے نے اپنی غمگین نظروں سے اس کا پیچھا کیا اور پھر بحرِ غم میں ڈوب گیا۔ چڑیوں کے جن نغموں سے پہلے اس کا جی بہلتا تھا وہ اسے افسردہ بنانے لگے۔ محبت! محبت! آہ! اسے اب اپنے دکھ کا پتہ چلا۔"

اس نے سامنے سے ابنِ حباّن کو آتا دیکھا تو اس کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے۔ وہ بوڑھے فلسفی پر برس پڑا "تم نے مجھے اب تک کیوں جہالت کی تاریکی میں مقید رکھا؟ کیوں اب تک زندگی کا سب سے بڑا راز اور سب سے اہم اصول تم نے مجھ سے چھپایا، جب حشرات الارض تک اس کے بھید سے واقف ہیں؟ آنکھیں کھول کر دیکھو۔ فطرت کا ذرہ ذرہ مسرت کی سرمستیوں میں غرق ہے۔ ہر جاندار بہار کے دن، اپنے محبوب کی آغوش میں شادمانی سے گزار رہا۔ یہی محبت ہے اور اسی کی تعلیم میں چاہتا تھا کہ تم مجھے دو۔ اس راز سے محروم رکھ کر صرف مجھے تم نے اس مسرت سے، اس شادمانی سے محروم رکھا ہے، کیوں؟ آخر کیوں؟ تم نے میری زندگی کے اتنے ماہ و سال زندگی کی خوشیوں کی تعلیم نہ دے کر برباد کئے؟"

ابنِ حباّن سمجھ گیا کہ اب کسی طرح کی پردہ داری فضول ہے۔ شہزادے نے اس کے سکھائے بغیر زندگی کا سب سے خطرناک علم سیکھ لیا ہے۔ اس لئے اس نے شہزادے کو بتا دیا کہ نجومیوں کی پیشین گوئی کی وجہ سے کیوں اس کی تعلیم میں اتنی احتیاط اور سختی سے کام لیا گیا تھا۔ یہ باتیں بتا کر اس نے عاجزی سے شہزادے سے کہا "اور اب، اے میرے محبوب شہزادے! میری زندگی تمہارے ہاتھ میں ہے۔ بادشاہ کو اگر اس بات کا پتہ چلا گیا کہ محبت کے معنی تم نے میری شاگردی اور اتالیقی کے زمانے میں سیکھے ہیں تو مجھے اپنے سر سے اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔"

شہزادے کی تعلیم نے اسے اتنا سمجھ دار بنا دیا تھا کہ وہ اپنے استاد کی باتیں غور سے سن کر ان سے کوئی معقول نتیجہ نکال سکے۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ اس سارے معاملے میں ابنِ حباّن بےقصور ہے۔ پھر اسے اپنے شفیق استاد سے محبت بھی تھی اور وہ اس کی جان کو ہر گز خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ اس لئے اس نے تہیہ کیا کہ محبت کا جو علم اس نے ابھی محض نظری طور پر سیکھا تھا اسے اپنے سینے میں دفن رکھے گا لیکن قسمت کو ابھی اور سخت امتحان مقصود تھے۔ اس واقعے کے چند دن بعد شہزادہ ایک صبح کو قلعہ کی فصیل


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 80


پر بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا کہ وہی فاختہ اڑتی ہوئی آئی اور بےجھجک اس کے کندھے پر بیٹھ گئی۔ شہزادے نے فاختہ کو پکڑ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور بڑے پیار سے اس سے کہنے لگا۔

"ننھی فاختہ! تم کتنی خوش نصیب ہو کہ اپنے نازک پروں سے روئے زمین کے جس خطے تک چاہو پہنچ جاؤ۔ میرے پاس سے جا کر تم اتنے دن کہاں رہیں؟"

فاختہ نے اسی محبت سے جواب دیا "اچھے شہزادے! تم سے رخصت ہو کر میں یہاں سے بہت دور ایک عجیب ملک کی سیر کو چلی گئی تھی اور وہاں سے تمہارے لئے ایک حسین تحفہ لائی ہوں۔ تمہارے لئے میرے سینے میں ایک بڑی اچھی خبر پوشیدہ ہے۔ تمہارے پاس سے رخصت ہو کر میں یہاں سے بہت دور، زمین سے اونچی اڑی چلی جا رہی تھی کہ مجھے ایک خوبصورت باغ نظر آیا، جس میں ہر طرح کے پھل پھول لگے ہوئے تھے۔ باغ ایک سرسبز و شاداب وادی میں ایک دریا کے کنارے بنا ہوا تھا اور اس کے عین درمیان میں ایک شاندار محل تھا۔ میں اڑتے اڑتے تھک گئی تھی اس لئے دم لینے کے لئے باغ میں اتر آئی اور ایک شاخ پر بیٹھ گئی۔ میں نے دیکھا کہ ایک شہزادی، جوانی اور حسن کے نشے میں مخمور، باغ کی روشوں پر ٹہل رہی ہے۔ اس کے گرد حسین اور جوان کنیزوں کا جھرمٹ ہے، جنہوں نے اسے تر و تازہ پھولوں کے گجروں اور گہنوں میں سجا رکھا ہے۔ شہزادی کے سر پر حسین اور رنگین پھولوں کا تاج بھی تھا۔۔۔۔ لیکن ان پھولوں میں سے کسی میں وہ تازگی اور شگفتگی نہیں تھی جو شہزادی کے حسن میں۔ باغ کی دیواریں اتنی اونچی ہیں کہ کسی انسان کی رسائی وہاں تک ممکن نہیں۔ اس لئے اے شہزادے! جب میں نے حسن و رعنائی کے اس مجسمے کو دیکھا تو مجھے یقین آ گیا کہ فطرت حسن اور معصومیت کے اس شاہکار کی پرورش اس لئے کر رہی ہے کہ وہ میرے شہزادے کو محبت کے راز سے آشنا کرے۔"

فاختہ کی باتوں نے شہزادے کے دل میں سلگتی ہوئی آگ کا شعلہ بنا دیا۔ اس کے فطری جذبۂ محبت کو پروان چڑھنے کے لئے جس محبوب کی جستجو تھی وہ اسے مل گیا اور اس کے دل میں ان دیکھی شہزادی تک پہنچنے کی بےپایاں آرزو کروٹیں لینے لگی۔ اس نے بےتاب ہو کر شہزادی کے نام اسی وقت ایک خط لکھا اور انتہائی پرجوش اور پرشوق زبان میں شہزادی کو اپنی ولولہ انگیز محبت، اپنی قیدِ تنہائی اور مجبوری کا حال سنایا جس نے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 81


اس کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی تھیں اور وہ اپنے آپ کو شہزادی کے آستاں تک نہیں پہنچا سکتا تھا۔ اس نے عبارت میں جابجا ایسے شعر بھی لکھے جن کا مضمون سیدھا دل میں گھر کرتا تھا۔ اس کے ان شعروں میں بلا کا سوز و گداز تھا اس لئے کہ فطرت نے اسے شاعر پیدا کیا تھا اور محبت نے اس شاعری کو جِلا دی تھی۔

"مقید احمد" نے یہ خط "اجنبی حسینہ" کے نام لکھا اور اسے مشک اور گلاب کی خوشبو میں بسا کر اپنے ننھے قاصد کے سپرد کر دیا۔ خط دیتے وقت درد بھری آواز میں اس نے فاختہ کو یوں رخصت کیا۔

"میرے ننھے، باوفا قاصد! پہاڑوں، وادیوں، دریاؤں اور میدانوں پر پرواز کر، درختوں کی ڈالیوں پر سانس نہ لے، زمین پر قدم نہ رکھ اور جلدی سے جلدی میرا خط میرے دل کی ملکہ تک پہنچا دے۔"

فاختہ نے خط لیا اور فوراً ہی فضا میں تیرنے لگی۔ شہزادہ اسے آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرتے دیکھتا رہا، یہاں تک کہ اس کا جسم بادلوں میں صرف ایک دھبا سا نظر آنے لگا اور دیکھتے دیکھتے یہ دھبا پہاڑ کی اوٹ میں چھپ گیا۔

اپنے ننھے پیامی کو گمنام حسینہ کے پاس بھیجنے کے اگلے ہی دن سے شہزادہ احمد اس کی واپسی کا منتظر رہنے لگا۔ جب کئی دن گزر گئے تو اس نے دل ہی دل میں اس کے بےوفائی کا شکوہ شروع کر دیا۔ لیکن ایک دن مغرب کے قریب وفادار فاختہ پھڑپھڑاتی ہوئی اس کے برج میں داخل ہوئی اور فرش پر گرتے ہی مر گئی۔ کسی ظالم شکاری کا تیر اس کے سینے میں پیوست تھا، لیکن اس حالت میں بھی ننھا قاصد تڑپتا پھڑکتا برج تک پہنچا اور جو خدمت اپنے ذمے لی تھی اسے جان دے کر پورا کیا۔ شہزادہ غم سے نڈھال اس نازک شہیدِ وفا کی لاش پر جھکا ہوا تھا کہ اس کے گلے میں موتیوں کا ایک ہار دکھائی دیا۔ اس ہار میں اس کے نرم پروں کے اندر چھپی ہوئی ایک چھوٹی سی تصویر آویزاں تھی۔ یہ تصویر ایک حسین شہزادی کی تھی جس نے ابھی شباب کی منزل میں قدم رکھا تھا۔ بلاشبہ یہ تصویر "اجنبی حسینہ" کی تھی۔ لیکن وہ کون تھی؟ اور کہاں تھی؟ اس پر خط نے کیا اثر کیا تھا؟ کیا تصویر خط کے جواب میں محبت کی نشانی کے طور پر بھیجی گئی تھی؟ ان سوالوں کے جواب کوئی نہیں جانتا تھا۔ وفادار فاختہ کی موت نے ہر چیز پر شُبہ اور اسرار کا پردہ ڈال دیا تھا۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 82


شہزادہ تصویر کو دیکھتا رہا، یہاں تک کہ اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ اس نے تصویر کو اپنی آنکھوں سے اور سینے سے لگایا اور اس کے بعد گھنٹوں اس پر نظر جمائے بیٹھا رہا۔ اس کے دل میں ایک عجب طرح کا میٹھا میٹھا درد ہو رہا تھا اور وہ ساکت تصویر سے دیوانوں کی طرح باتیں کر رہا تھا "حسین تصویر! تو محض تصویر ہے۔ لیکن تیری شبنمی آنکھوں کی چمک میرے دل کو منور کر رہی ہے۔ یہ گلابی رس بھرے ہونٹ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی محبت کا آبِ حیات میرے کانوں میں ٹپکا دیں گے۔" شہزادہ ایکا ایکی چونک اٹھتا اور مسکرا کر کہتا "میں بھی کیسا دیوانہ ہوں! کیا اس سے پہلے یہ آنکھیں میری طرح بہت سوں کو دیوانہ نہیں بنا چکی ہیں؟ اے میرے دل نواز محبوبہ! میں تجھے کہاں ڈھونڈوں؟ کسی کو کیا خبر کہ ہمارے دلوں کے درمیان کتنے پہاڑ، کتنے دریا اور کتنے میدان حائل ہیں؟ اور کون جانے کہ حوادث کی کتنی دیواریں، ہجر و وصال کی گھڑیوں کو جدا کر رہی ہیں؟ شاید اس وقت بھی کہ میں سنگین برج میں مقید تیری بےجان تصویر سے باتیں کر رہا ہوں تیرے آستانے پر عاشقوں کا ہجوم ہو گا۔"

دیوانگی نے احمد کے دل میں استقامت پیدا کی اور یہ استقامت زندگی کے ایک نصب العین کا پیش خیمہ بنی۔ "میں اس قید سے رہائی حاصل کروں گا اور محبت کا زائر بن کر کعبۂ محبت کی جستجو میں دنیا کے چپے چپے کا سفر کروں گا۔"

دن کے وقت قلعہ سے نکلنا آسان نہ تھا لیکن رات کو قلعے اور برج کے گرد صرف معمولی سا پہرہ ہوتا تھا اس لئے شہزادے کا خیال تھا کہ اس قید سے رہائی مشکل نہیں۔ لیکن قید سے رہائی کے بعد کی منزل سخت تھی۔ وہ گنبد سے نکل کر جائے گا کدھر؟ اسے اس بےخبری میں کسی واقف رہنما کی ضرورت تھی۔ واقف رہنما کے تصور نے اسے الو کی یاد دلائی، راتوں کا گشت جس کا محبوب مشغلہ تھا اور اس لئے یقین تھا کہ وہ تمام پوشیدہ گلی کوچوں سے واقف ہو گا۔ شہزادہ الو کے حجرے میں پہنچا اور اس سے گرد و پیش کے مقامات کے متعلق طرح طرح کے سوال کئے۔ شہزادے کے سوالوں پر الو نے اپنے چہرے پر خود پنداری کا رنگ پیدا کر کے شہزادے کو جواب دیا "شہزادے! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم الوؤں کا خاندان بےحد قدیم اور بےحد وسیع ہے اور ہمارا قبضہ ہسپانیہ کے گوشے گوشے میں پھیلے ہوئے محلوں اور قصروں پر ہے۔ کوئی پہاری قلعہ، کوئی میدانی قصر، کوئی بُرج، کوئی فصیل ایسی نہیں جہاں میرا کوئی بھائی، کئی چچا یا کوئی اور عزیز نہ بستا ہو۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 83


ان عزیزوں اور رشتہ داروں سے ملنے کی خاطر میں نے اس سرزمین کا چپہ چپہ چھان مارا ہے۔ میری نظر سے زمین کا کوئی ٹکڑا پوشیدہ نہیں۔"

شہزادے کو یہ معلوم کر کے بےحد مسرت ہوئی کہ الو ہسپانیہ کے جغرافیہ سے پوری طرح واقف ہے۔ اس نے فوراً ہی اپنا درد اس سے کہہ کر اس کا مشورہ اور رہنمائی طلب کی۔

الو نے محبت اور محبوب کا ذکر سنا تو غصے سے بولا "فضول باتیں مت کرو! تمہیں مجھ سے ایسی باتیں کہنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ کیا تمہارا خیال ہے کہ اپنے مطالعے اور غور و فکر کو چھوڑ کر میں تمہاری مھبت کے قصوں میں وقت ضائع کروں گا؟"

شہزادے نے الو کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے بڑی نرمی سے کہا "میرے فاضل دوست! تھوڑے دن کے لئے اپنے مطالعے اور غور و فکر کو چھوڑ کر میری رہنمائی کرو۔ اس خدمت اور ایثار کے بدلے میں تمہاری ہر آرزو پوری کروں گا۔"

"شکر ہے کہ مجھے جو کچھ چاہیے وہ میسر ہے۔ مجھے اپنے خاصے کے لئے تھوڑے سے چوہوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ مجھے مل جاتے ہیں۔ سامنے کی دیوار میں بنا ہوا سوراخ میرے مطالعے کے لئے خاصا وسیع ہے۔ تم خود سوچو کہ مجھ جیسے فلسفی کو اس سے زیادہ اور کیا چاہیے؟"

"میرے دانا دوست! اپنے تاریک حجرے میں بند تم جو یوں چاند کو تکتے رہتے ہو تو دنیا کو تمہارے علم و فضل سے کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ تمہیں معلوم ہے کہ ایک دن مجھے اپنے والد کے تخت پر بیٹھنا ہے۔ جب وہ وقت آئے گا تو میں تم جیسے دانا حکیم کو اپنا مشیر خاص بناؤں گا۔"

الو فسلفی تھا اور اس کا دل دنیاوی حرص و طمع سے خالی تھا لیکن جاہ پسند وہ بھی تھا، اس لئے شہزادے کی باتوں میں آ گیا اور اس زائرِ محبت کے سفرِ محبت میں اس کا رہنما اور مشیر بننے پر راضی ہو گیا۔

عاشق کے منصوبے بننے میں دیر نہیں لگتی۔ شہزادے کے پاس جتنے ہیرے جواہرات تھے انہیں اس نے زادِ راہ کے طور پر اپنے کپڑوں میں چھپا لیا۔ اسی رات اس نے بُرج کی ایک شہ نشین میں رسی لٹکائی، نیچے اترا اور صبح ہونے سے پہلے اپنے رہنما کی قیادت میں پہاڑوں کے اندر جا چھپا۔ پہاڑ کے ایک تاریک کونے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 84


میں بیٹھ کر سفر کا منصوبہ بنایا گیا۔ الو نے اسے مشورہ دیا کہ "شہزادے! اگر میری بات مانو تو یہاں سے اشبیلیہ کی طف چلو۔ کئی برس کی بات ہے کہ میں اپنے ایک چچا سے ملنے وہاں گیا تھا۔ میرا چچا بڑی عظمت و شان والا الو تھا اور اشبیلیہ کے قصر کے ایک ویران گوشے میں رہتا تھا۔ جس زمانے میں میں چچا کا مہمان تھا، رات کے وقت گھومنے پھرنے نکلتا تھا۔ اپنے گشت میں میں بار ہار دیکھتا تھا کہ قلعے کے ایک ویران بُرج میں روشنی ہو رہی ہے۔ میرے دل میں جستجو پیدا ہوئی اور ایک رات میں قلعے کی فصیل پر اترا۔ میں نے دیکھا کہ بُرج میں ایک بوڑھا آدمی بہت سی کتابوں میں گھرا بیٹھا ہے۔ میں نے قیافے سے سمجھ لیا کہ یہ کوئی بڑا جادوگر ہے۔ جادوگر کے کندھے پر ایک کھوسٹ کوا بیٹھا تھا۔ اس کوے سے میں مصر میں مل چکا تھا اور اس کے وسیع علم سے خوشہ چینی بھی کی تھی۔ ایک قدیم شناسا کو دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی لیکن اس وقت میں اس سے مل نہیں سکا۔ اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ جادوگر تو مر گیا لیکن بوڑھا کوا اب بھی زندہ ہے اور قلعے کے اسی گنبد میں رہتا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ کوا بہت بڑا کاہن اور نجومی ہے اور مصر کے سب کووں کی طرح جادوگری میں بھی طاق ہے۔ وہ ضرور ہماری رہنمائی کرے گا۔"

الو کی بات شہزادے کے جی کو لگ گئی اور اس نے اشبیلیہ کو اپنی منزل مقصود بنایا۔ الو کی وجہ سے شہزادہ صرف رات کے وقت سفر کرتا اور دن کو دونوں کسی بوسیدہ عمارت یا منہدم مینار کی آڑ میں پڑ رہتے۔ اس لئے کہ الو ایسے ہر گوشۂ تنہائی سے واقف تھا اور کھنڈروں اور بوسیدہ عمارتوں کے معاملے میں بڑا قدامت پسند اور روایت پرست تھا۔

راتوں کو سفر کرتے کرتے بالآخر یہ بادیہ ہمایان محبت اشبیلیہ کے شہر پہنچ گئے۔ الو کو چونکہ بازاروں کی چمک دمک اور گہما گہمی سے نفرت سی تھی اس لئے وہ شہر پناہ کے باہر ہی رک گیا اور ایک کھوکھلے درخت میں اپنا عارضی مسکن بنا لیا۔

شہزادہ شہر میں داخل ہوا اور تھوڑی سی تلاش کے بعد اسے جادو کا برج مل گیا۔ شہر کی حویلیوں اور قصروں کے درمیان وہ ایسا ہی سربلند تھا جیسے صحرا کی جھاڑیوں میں کھجور کا درخت۔ حقیقت میں یہی بُرج ہے جو آج بھی اشبیلیہ کے بُرج "خیر الدا" کے نام سے معروف و موجود ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 85


شہزادہ بُرج کی بےشمار سیڑھیاں طے کر کے اس کی سب سے اونچی منزل پر پہنچ گیا۔ بُرج کے ایک کونے میں کوا بیٹھا تھا۔۔۔۔ سفید سر، نچے ہوئے پر اور بازو، ایک آنکھ پر لٹکتی ہوئی ایک بےجان سی جھلی، جسے دیکھ کر اس کے پیکرِ خیال کا گمان ہوتا تھا۔

کوے کے پرجلال چہرے اور اس کی غیر معمولی دانائی سے مرعوب و متاثر، شہزادہ آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا اور بڑے احترام سے اس سے مخاطب ہوا "بزرگ اور محترم طائر! مجھے معاف فرمائیے۔ میں آپ کے بیش بہا مطالعے اور استغراق میں مخل ہوا۔ میں ایک بندۂ محبت ہوں اور آپ سے یہ قیمتی مشورہ طلب کرنے حاضر ہوا ہوں کہ اپنے معبودِ محبت تک کیسے رسائی کروں؟"

کوے نے سر اتھائے بغیر سنجیدگی سے جواب دیا "اس کے معنی یہ ہیں کہ تم میری فراست الید کا امتحان لینا چاہتے ہو۔ لاؤ، اپنا ہاتھ بڑھاؤ میں تمہارے ہاتھ کی لکیریں دیکھوں اور تمہاری قسمت کا حال بتاؤں۔"

"معاف فرمائیے!" شہزادے نے عرض کیا "میں قسمت کا حال معلوم کرنے کے لئے حاضر نہیں ہوا اس لئے کہ اللہ نے بھید فانی انسان کی نظر سے پوشیدہ رکھا ہے۔ میں تو جیسا کہ میں نے عرض کیا ایک زائرِ محبت ہوں اور صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میرا کعبۂ مقصود کہاں ہے؟"

بوڑھے کوے نے شہزادے کو اپنی ایک آنکھ سے دیکھتے ہوئے پوچھا "تمہارا شاہدِ مقصود اندلس کی عاشقانہ زمین میں ہے؟ یا اشبیلیہ کی شوخ و سرمست وادی میں جہاں غزال چشم دوشیزائیں ہر کُنج میں مصروفِ رقص نظر آتی ہیں؟"

شہزادے کا چہرہ شرم سے لال ہو گیا۔ اسے اس بات سے سخت کوفت ہوئی کہ ایک بوڑھا طائر جس کا ایک پیر قبر میں ہے ایسی سوقیانہ باتیں کرے۔ اس نے بےحد سنجیدہ ہو کر کوے سے کہا "جناب! یقین کیجئے، میرے سفر کا مقصد اتنا لایعنی اور متبذل نہیں جتنا آپ نے سمجھا۔ وادیٔ الکبیر کے کُنجوں میں رقص کرنے والی اندلسی دوشیزائیں میری نظر میں کچھ نہیں۔ مجھے ایک گمنام اور لاثانی حسینہ کی جستجو ہے جس کی شبیہہ یہ دیکھئے میرے پاس ہے۔ اس لئے اے محترم طائر! میری استدعا آپ سے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 86


یہ ہے کہ اگر یہ بات آپ کے دائرۂ علم و نظر میں ہو تو مجھے بتائیے کہ وہ مجھے کہاں مل سکتی ہے؟"

شہزادے کی متانت نے کوے کو سخت نادم کیا اور اس نے ترشی سے جواب دیا "مجھے شباب اور حسن کے کیا تعلق؟ میری شناسائی ان سے ہے جو بوڑھے اور پژمردہ ہیں، ان سے نہیں جو شگفتہ اور حسین ہیں۔ میں قسمتوں کا پیامی ہوں، میں بیماروں کے درچیوں میں پر پھڑپھڑاتا اور ببانگِ دُہل لوگوں کی ان کی موت کا پیغام سناتا ہوں۔ اس لئے اے نوجوان! اپنی گمنام محبوبہ کی جستجو کہیں اور جا کر کرو۔"

"یہ تلاش اگر مٰں فرزندانِ دانش کے آستانے پر نہ کروں تو اور کہاں کروں کہ یہ دانشور صحیفۂ تقدیر کے رازواں ہیں؟ اے فرزندِ علم و دانش! میں ایک شہزادہ ہوں۔ ستاروں کی گردش نے مجھے ایسی پراسرار مہم پر روانہ کیا ہے، جس کے انجام پر حکومتوں کی قسمتوں کا انحصار ہے۔"

کوے کو جب شہزادے کی باتوں سے یہ اندازہ ہوا کہ یہ معاملہ ایسا ہے جس میں ستارے بھی دلچسپی لے رہے ہیں تو اس نے اپنا لہجہ اور انداز بدلا اور شہزادے کی کہانی پوری توجہ سے سنی۔ جب یہ داستانِ محبت ختم ہو چکی تو اس نے شہزادے سے کہا "نوجوان شہزادے! جس شہزادی کا تم ذکر کر رہے ہو اس کا حال میں تمہیں نہیں بتا سکتا اس لئے کہ میری پرواز گلشنوں اور دوشیزاؤں کے کُنجوں میں نہیں۔ لیکن تم قرطبہ جاؤ وہاں کی جامع مسجد کے صحن میں عبدالرحمٰن اعظم کا لگایا ہوا کھجور کا درخت ہے۔ اس درخت کے سایہ م یں تمہیں ایک سیاح بیٹھا ہوا ملے گا جس نے سب ملکوں اور درباروں کی سیر کی ہے، اور ان گنت شہزادیوں کا منظورِ نظر رہا ہے۔ اس سے تمہیں اپنے شاہدِ مقصود کا پتہ چل جائے گا۔"

شہزادے نے کہا "اس بیش قیمت مشورے کا بہت بہت شکریہ! محترم ساحر، خدا حافظ!"

"خدا حافظ! زائرِ م حبت، خدا حافظ!" کوے نے خشکی سے جواب دیا اور ایک نقشے پر جھک کر غور و فکر میں ڈوب گیا۔

شہزادہ اشبیلیہ سے باہر آیا۔ اپنے ہم سفر رہنما کو تلاش کیا، جو اب بھی درخت کی کھوکھ میں بیٹھا اونگھ رہا تھا اور دونوں قرطبہ کی طرف روانہ ہو گئے۔"

وہ جلد ہی معلق باغوں اور نارنگی اور لیموں کے کُنجوں والی حسین وادیٔ الکبیر میں پہنچ گئے۔ قرطبہ


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 87


کے پھاٹک پر پہنچ کر الو تو ایک خستہ دیوار کے ایک سوراخ میں جا گھسا اور شہزادہ عبدالرحمٰن اعظم کے لگائے ہوئے کھجور کے درخت کی جستجو میں روانہ ہوا۔ کھجور کا بلند و بالا درخت نارنگی اور سرو کے چھوٹے لیکن حسین درختوں کے بیچ میں کھڑا تھا۔ فقیر اور درویش چھوٹی چھوٹی جماعتوں میں صحن کے گرد بنے ہوئے حجروں میں بیٹھے تھے اور بہت سے مسلمان حوض کے کنارے بیٹھے وضو کر رہے تھے۔

کھجور کے درخت کے نیچے بہت سے لوگوں کا جمگھٹا تھا اور کوئی ان کے سامنے بڑی روانی سے تقریر کر رہا تھا۔ شہزادے نے اپنے دل میں سوچا "یقیناً یہ وہی نامور سیاح ہے جس سے مجھے گمنام شہزادی کا پتہ چلے گا۔" وہ آگے بڑھ کر مجمع میں شامل ہو گیا لیکن اسے یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ لوگ جس مقرر کی تقریر اس انہماک سے سن رہے تھے وہ ایک طوطا تھا، جس کے سبز پروں، مقناطیسی آنکھوں اور سرخ کلغی کو دیکھ کر اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا تھا۔

شہزادے نے پاس کھڑے ہوئے ایک شخص سے پوچھا "آخر کیا بات ہے کہ اتنے بہت سے سنجیدہ آدمی ایک باتونی طوطے کی ٹیں ٹیں اتنی دلچسپی سے سن رہے ہیں؟"

مخاطب نے کہا "آپ کو شاید معلوم نہیں کہ یہ باتیں آپ کس کے متعلق کہہ رہے ہیں؟ یہ طوطا فارس کے اس نامور طوطے کے خاندان سے ہے جو اپنی داستان سرائی کے لئے دور دور تک مشہور تھا۔ مشرق کا سارا علم اس کی زبان کی نوک پر ہے اور وہ شعر بھی اس بےتکلفی اور روانی سے پڑھتا ہے جیسے وہ باتیں کرتا ہے۔ اس کی بہت سے درباروں تک رسائی ہوئی ہے اور ہر جگہ اسے علم و فضل کا ہاتفِ غیبی سمجھا گیا ہے۔ وہ ہمیشہ صنفِ نازک کا محبوب رہا ہے، جنہیں ایسے طوطوں سے عشق ہوتا ہے جو انہیں شعر سنا سکیں۔"

"بہت شکریہ!" شہزادے نے کہا "میں اس باوقار سیاح سے تخلئیے میں گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔"

شہزادے نے تخلئیے کی ملاقات کی درخواست کی اور اپنے مقصد کی نوعیت بیان کی تو طوطے نے ایسا خشک، کھوکھلا اور تمسخر آمیز قہقہہ لگایا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ طوطے نے شہزادے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 88


سے کہا "میری ہنسی کو معاف کرنا۔ مگر میں کیا کروں؟ مجھے محبت کا نام سنتے ہی ہنسی آ جاتی ہے۔"

شہادے کو بےوقت کے اس مذاق سے تکلیف پہنچی۔ اس نے فاختہ سے سنی ہوئی باتیں دہرائیں "کیا محبت فطرت کا سربستہ راز، زندگی کا پوشیدہ اصول اور تعلق کا عالمگیر رشتہ نہیں؟"

"بس! بس!" طوطا چلایا "تم نے یہ سب جذباتی باتیں کس سے سیکھیں؟ یقین جانو، محبت تو اب ایک فرسودہ شے کا نام ہے۔ سنجیدہ اور خوش مذاق لوگ اس کا نام نہیں لیتے۔"

شہزادے کو فاختہ کی باتیں یاد آئیں تو طوطے کی باتوں پر اس کے منہ سے آہ نکل گئی۔ اس نے اپنے دل میں سوچا "یہ طوطا درباروں میں رہا ہے۔ وہ سنجیدگی اور خوش مذاقی کا دعوے دار ہے اور اسے یہ نہیں معلوم کہ محبت کیا ہے۔ لیکن جو نازک جذبہ اس کے دل کی دنیا پر چھایا ہوا تھا وہ اب اس کا اس سے زیادہ مذاق نہیں اڑوانا چاہتا تھا اس لئے اس نے طوطے سے فوراً اپنے مطلب کا سیدھا سوال کیا۔

"اے باہنر طوطے! آپ کی رسائی حسن کی پوشیدہ بارگاہوں تک ہوئی ہے۔ بتائیے کہ کیا آپ کو اپنی سیاحت کے دوران میں اس شبیہہ کی اصل دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے؟"

طوطے نے تصویر شہزادے کے ہاتھ سے لے لی۔ اپنے سر کو داہنے بائیں کئی جنبشیں دیں اور تصویر کے خط و خال کو کبھی ایک آنکھ سے اور کبھی دوسری سے بڑے غور سے دیکھا اور پھر گویا ہوا "خدا کی قسم! بےحد حسین چہرہ ہے، بےحد حسین! لیکن سیاح اور مسافر کو اپنی سیاحت و سفر میں ہزاروں حسین چہرے نظر آتے ہیں وہ آخر کسے کسے۔۔۔۔ لیکن نہیں، ذرا ٹھہرو! مجھے تصویر کو ایک بار پھر دیکھنے دو۔۔۔۔ آہا! یہ تصویر تو شہزادی الدیجوندا کی ہے۔ میں بھلا اسے کیسے بھول سکتا ہوں۔ وہ تو مجھے بےحد عزیز ہے۔"

"شہزادی الدیجوندا!" شہزادے نے دہرایا "لیکن وہ ملے گی کہاں؟"

"آہستہ! آہستہ!' طوطے نے کہا "اس کا ڈھونڈنا آسان ہے لیکن حاصل کرنا دشوار۔ وہ طلیلہ کے عیسائی بادشاہ کی اکلوتی بیٹی ہے اور نجومیوں کی کسی پیشین گوئی کی وجہ سے سترہ سال کی عمر تک کے لئے اسے دنیا کی نظر سے پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ اس لئے تمہارا اس تک پہنچنا ناممکن ہے۔ تمہاری کیا، کسی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Page 231

عرب جانباز کسی بڑی مُہم پر روانہ ہو رہا ہو۔ خچر پر سامان لد رہا تھا اور قلعے کے بہت سے بےفکرے جن میں بعض بوڑھے سپاہی بھی شامل تھے اس کے اِردگرد اکٹھے ہو کر یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔ ہر ایک کام مں ہاتھ بٹانے اور ایک نیا مشورہ دینے کی کوشش کرتا اور اس پر چچا پولو کو سخت طیش آتا۔

جب تیّاری مکمّل ہو گئی تو مینول گھر والوں سے رُخصت ہوا۔ جب وہ خچر پر بیٹھنے لگا تو پولو نے اس کی رکاب تھام لی اور اس کی کاٹھی کو ایک بار پھر جگہ پر جما دیا۔ اور بالآخر مینول کو فوجی انداز میں خیر باد کہا۔ مینول چل پڑا تو ڈولرس کی طرف مخاطب ہو کر بوڑھے پولو نے اُس کے کان میں کہا ”ڈولرس! اس صدری میں مینول کتنا شاندار لگ رہا ہے۔“ ننھی ڈولرس اس فقرے پر مسکرا دی اور شرما کر گھر میں گھُس گئی۔

مینول کو گئے کئی دن گزر گئے لیکن اس کا کوئی خط نہ آیا اور بے چاری ڈولرس کے دل میں طرح طرح کے شبہے پیدا ہونے لگے۔ کہیں راستے میں کوئی حادثہ تو پیش نہیں آ گیا؟ کہیں وہ امتحان میں فیل تو نہیں ہو گیا؟ اسی دوران میں گھر میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس سے ڈولرس کی بے چینی بڑھ گئی اور اس نے اسے اپنے لئے ایک بُرا شگون سمجھا۔ اس کی پالتو بلّی ایک رات گھر سے نِکل کر الحمر کی کھپریلوں والی چھ پر چڑھ گئی۔ رات کے اندھیرے میں طرح طرح کی خوفناک آوازیں آنے لگیں۔ کسی کتے نے اس بلّی پر گستاخانہ حملہ کر دیا۔ دونوں میں ہاتھا پائی ہوئی۔ کھپریل پر دیر تک نوچ کھسوٹ کا سلسلہ جاری رہا اور بالآخر دونوں غنیم الحمرا کی چھت سے لڑھکتے ہوئے خاصی بلندی سے کھڈ میں جا گرے۔ اس کے بعد بلی کا پتہ نہ چلا اور ننھی ڈولرس اس واقعہ کو آنے والے مصائب کا پیش خیمہ سمجھ کر افسردہ ہو گئی۔

لیکن دس دن کے بعد مینول ہنستا کھیلتا آ دھمکا۔ اسے حسب دلخواہ مارنے یا جلانے کی سند مل گئی تھی اور یہ سند ڈولرس کی فکروں کا خاتمہ ثابت ہوئی۔ اس شام کو تائی انطونیہ کے سب پڑوسیوں نے اس پر مبارکباد کی بارش کی اور اس سند یافتہ طبیب کی خدمت میں اپنا خراجِ عقیدت پیش کیا جس کے ہاتھ میں اب اُن کی زندگی اور موت کی باگ ڈور تھی۔

Page 232

خُدا حافظ غرناطہ!

غرناطہ کی پُر مسرّت شہری فضا میں عشرت کے دن بسر کرتے مجھے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ گھر سے آنے والے خطوں نے میری اس پر سکون حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اس بہشتی پناہ گاہ سے رُخصت ہو کر مجھے پھت غبار آلود دُنیا کی گہما گہمی اور چہل پہل میں گم ہو جانا تھا۔ سکون و راحت کی اس خواب آور زندگی کے بعد میں اپنی دنیا کے شور و شغب کا مقابلہ کیسے کر سکوں گا؟ الحمرا کی شاعرانہ فضا کے بعد مادّی دُنیا کے غیر شاعرانہ ماحول میں کیسے جی سکوں گا؟

لیکن ایک دنیا سے دوسری دنیا میں جانے کے لئے مجھے زیادہ تیّاری اور زیادہ ساز و سامان کی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے اور میرے ایک نوجوان انگریز ہم سفر کو ایک دو پہیّوں والی گاڑی کے ذریعے مرشیا القنت اور ولنشیا کے علاقوں میں سے ہو کر فرانس پہنچنا تھا۔ اور اس میں ایک طویل الاعضاء خادم کو جو اپنی ہر بات میں کسی قزاق یا رہزن سے مشابہ تھا، ہمارا رہبر اور محافظ ہونا تھا۔ سفر کا سامان جلد ہی تیّار ہو گیا لیکن روانگی کسی نہ کسی بہانے سے ملتوی ہوتی رہی۔ اور میں ٹھہرنے کا کوئی نہ کوئی عذر تلاش کر کے اپنی پسندیدہ

Page 233

سیر گاہوں کا گشت لگاتا رہا جن میں مجھے اب وہ حسن نظر آ رہا تھا جس پر اس سے پہلے میری نظریں نہیں پہنچی تھی۔

وہ مختصر سی خانگی اور معاشرتی دنیا جس میں میں نے اتنی مدت گزاری تھی اب مجھے پہلے سے زیادہ حسین اور دلکش معلوم ہو رہی تھی۔ اوع میرے میزبان میرے جانے کے تصوّر سے نے آزردہ و افسردہ تھے۔ اسے دیکھ کر مجھے یقین ہو رہا تھا کہ میرا جذبۂ محبت رائیگاں نہیں گیا۔ آہستہ آہستہ میری رخصت کا دن آ پہنچا لیکن مُجھ میں اتنی ہمت نہ تھی کہ میں تائی انطونیہ کے گھر جا کر ان سے رخصت ہونے کی باقاعدہ اجازت لوں۔ میں کئی دن سے دیکھ رہا تھا کہ ننھی ڈولرس کا دل جذبات سے لبریز ہے اور ایک ذرا سی ٹھیس میں چھلک پڑے گا۔ اس لئے میں نے قصر سے خاموشی کے ساتھ رخصت ہونا مناسب سمجھا اور وہاں سے اس طرح شہر کی طرف چلا جیسے تھوڑی دیر بعد واپس آ جاؤں گا۔ میری گاڑی اور رہبر پہلے سے وہاں موجود تھے۔ اور ان دونوں چیزوں کی موجودگی نے میرا راز فاش کر دیا تھا۔ مینول، ماتیو اور الحمرا کے دو تین بوڑھے سپاہی جن سے میں فرصت کے وقت میں گپ لڑایا کرتا تھا مجھے الوداع کرنے کے لئے شہر میں موجود تھے۔

اسپین کی بہت سی پرانی اور محبّت آمیز رسموں میں سے ایک رسم یہ ہے کہ کوئی دوست باہر سے آتا ہو تو دو تین میل پہلے اُس کے خیر مقدم کے لئے پہنچتے ہیں اور اسی طرح جب کوئی دوست رخصت ہوتا ہو تو اسے دو تین میل تک رخصت کرنے آتے ہیں۔ اس لئے جب ہماری گاڑی شہر سے روانہ ہوئی تو ہمارا طویل القامت رہنما اور محافظ گاڑی کے آگے آگے چل رہا تھا۔ مینول اور ماتیو اس کے دائیں بائیں تھے اور بوڑھے سپاہی پیچھے پیچھے۔

غرناطہ کے شمال میں تھوڑی دور چل کر سڑک آہستہ آہستہ پہاڑی پر چڑھنے لگتی ہے۔ اس جگہ پہنچ کی گاڑی سے اُتر پڑا اور مینول کا ہاتھ پکڑ کر آہستہ آہستہ پہاڑی پر چڑھنے لگا۔ مینول نے اس موقع کو غنیمت جان کر اپنے دل کے بھید کھولنے شروع کر دیے اور اپنی اور ڈولرس کی وہ داستانِ محبت دُہرانے لگا جو میں ماتیو کی زبانی اس سے پہلے سن چکا تھا۔ مینول نے مجھے خوش ہو کر بتایا کہ طب کی سند حآصل کر لینے کے بعد اب اس کے اور ڈولرس کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں رہی اور بہت جلد پادری کے چند کلمات اُن کے رشتۂ محبت کو استوار کر دیں گے۔ مینیول اس تصوّر سے انتہائی شاداں تھا کہ ڈولرس سے شادی کرنے اور قلعہ کا سرکاری طبیب بن جانے کے بعد اس کی زندگی کی مسرّتیں مکمل ہو جائیں گی۔ میں نے مینول کو اس کے حسن انتخاب پر جی کھول کر داد دی اور یہ اُمّید ظاہر کی کہ

Page 234

شادی ہو جانے کے بعد ننھی ڈولرس کی وہ محبت جو اب تک کبوتروں اور بلیوں کے حصّے میں آتی تھی صرف اس کے لیے مخصوص ہو گی۔

جُدائی کا وہ سماں واقعی غم انگیز تھا جب ایک ایک کر کے میں اپنے ان محبّت کرنے والے میزبانوں سے رخصت ہوا۔ وہ سب آہستہ آہستہ پہاڑی سڑک کے نیچے اتر رہے تھے اور تھوڑی تھوڑی دیر میں پیچھے دیکھ کر مُجھے ہاتھوں کے اشارے سے الوداع کہہ رہے تھے۔ مینول کے سامنے ایک روشن مستقبل تھا اس لئے اس نے جدائکی کے اس صدمے پر غلبہ پا لیا لیکن غریب ماتیو کی حالت واقعی غیر تھی۔ وہ غالباً بڑی شدت سے محسوس کر رہا تھا کہ مصاحب اور رہنما کے جو معتبر منصب میں نے اسے عطا کیے تھے وہ اس سے چھین لیے گئے ہیں اور اب اس کے پرانے فرغل اور تنہائی کے لمحوں کے سوا کوئی اس کا شریک غم نہیں۔ وہ شاید یہ بھی سوچ رہا تھا کہ محبت کی وہ بارش جو میں نادانستہ اس پر کرتا رہا تھا میرے جاتے ہی رُک جائے گی۔ لیکن اس وقت مجھے بھی اس کی خبر نہیں تھی کہ اس کا مستقبل اتنا تاریک نہیں جتنا میں اور ماتیو سمجھ رہا تھا۔

ہوا یہ کہ میں نے اپنے الحمرا کے قیام میں ماتیو کی داستانیں اور اس کی جھوٹی سچی کہانیوں کو جتنا معتبر اور مستند سمجها تھا اور اپنی سیاحت میں اُسے رہنما کا جو درجہ دیا تھا اس سے مایتو خود اپنی نظر میں بڑا معتبر ہو گیا تھا اور احساسِ نفس اور خود شناسی کے اس جذبے نے اس کے لئے زندگی کی ایک نئی راہ کھول دی تھی۔ میرے الحمرا سے رخصت ہونے کے بعد ماتیو نے الحمرا آنے والے سیاحوں کے لئے ایک باقاعدہ سیاح کی حیثیت حاصل کر لی اور اس تغیر حال کا یہ نتیجہ ہوا کہ اُسے پھر کبھی اپنے بھورے فرسودہ فرغل کو اپنا ہم جلیس بنانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

مغرب کے قریب ہماری گاڑی سڑک کے اس حصّے پر پہنچی جہاں سے وہ پہاڑوں میں گُم ہو جاتی ہے۔ یہاں ٹھہر کر میں نے غرناطہ پر آخری نظر ڈالی۔ جس پہاڑی پر میں کھڑا تھا وہاں سے غرناطہ، اُس کے پاس کا وسیع و شاداب میدان اور اس میدان کو حلقہ کرنے والی پہاڑیاں پوری طرح نظر آ رہی تھیں۔ یہ جگہ اس مقام کے عین مقابل تھی جسے عرفِ عام میں ”آنسوؤں کی پہاڑی“ کہا جاتا ہے اور جہاں کھڑے ہو کر ابی عبد اللہ نے الحمرا کی جنّت پر آخری حسرت بھری نظر ڈالی تھی۔

غروب ہوتا ہوا سورج حسبِ معمول الحمرا کے سُرخ بُرجوں پر غم ناک کرنوں کا سایہ ڈالتا ہوا رُخصت ہو رہا تھا۔ رخصت ہوتی ہوئی کرنوں کی دھندلی روشنی میں مجھے بُرجِ قمارش کا وُہ دریچہ نظر آ رہا تھا جہاں میں بار ہا اپنے آپ کو شیریں

Page 235

خوابوں میں گُم ہو چُکا تھا۔ سُورج کی آخری شعائیں شہر کے کنجوں اور بوستانی فیاضی سے اپنا سونا نچھاور کر رہی تھیں۔ گرمی کی نشیلی شام کا قرمزی دھندلکا میدان کو اپنی آغوش میں لئے ہوئے تھا۔ ہر چیز حُسن کی رنگینی میں ڈربی ہوئی تھی لیکن میری وداعی نظر کو اس حُسن میں سوگ کی ایک جھلک دکھائی دی اور میں نے اپنے دل میں سوچا، ”مجھے اس حُسن، سوگوار کو اپنی آنکھوں میں بسائے یہاں سے فوراً رُخصت ہو جانا چاہیے۔ میں اپنے تصوّر کو سدا اس حُسن و رعنائی سے رنگین رکھوں گا۔“

یہ سوچا اور تیزی سے نظریں اس حسین منظر کی طرف سے ہٹا لیں۔ گاڑی چند قدم آگے بڑھی اور غرناطہ اور الحمرا کا حسن میری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ اور اسی طرح میری زندگی کا سب سے حسین خواب تمام ہوا۔ ممکن ہے کہ میرے قاری میرے اس حسین خواب کو محض خواب سمجھ رہے ہوں۔
 

اوشو

لائبریرین
قصص الحمرا


صفحہ ۔۔۔ 89


انسان کی مجال نہیں کہ اس تک باریاب ہو سکے۔ مجھے شہزادی کا دل بہلانے کے لئے اس کی خدمت میں جانے کا موقع ملا ہے۔ اور میں تم سے سچ کہتا ہوں، مجھے ساری زندگی الدیجوندہ جیسی خوش گو اور شیریں سخن شہزادی سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا۔"

"دانا طوطے!" شہزادے نے کہا "ذرا چپکے سے میری ایک بات سنیے۔ میں ایک نامور بادشاہ کا ولی عہد اور تخت و تاج کا واحد وارث ہوں۔ میں آپ کی دانش مندی اور وسیع تجربے سے بےحد متاثر ہوا ہوں۔ شہزادی سے میری ملاقات کی صورت پیدا کیجئے تو میں کوئی معزز منصب آپ کی خدمت میں پیش کر سکوں گا۔"

"بسر و چشم!" طوطے نے جواب دیا "لیکن ایک شرط ہے۔ مجھے کوئی ایسا عہدہ ملنا چاہیے جس میں کام نہ کرنا پ ڑے، اس لئے کہ تم جانتے ہو اہلِ دانش محنت و مشقت سے ذرا گھبراتے ہیں۔"

معاملات طے ہو گئے اور شہزادہ جس راسطے سے قرطبہ میں داخل ہوا تھا اسی سے باہر نکلا، اپنے دوست الو کو بلایا، اپنے نئے دوست اور رہنما سے اس کا تعارف کرایا اور تینوں منزلِ مقصود کی طرف روانہ ہوئے۔

شہزادے کی بےصبری و بےتابی کو دیکھتے ہوئے ان کے سفر کی رفتار بہت دھیمی تھی لیکن طوطا آرام کی زندگی بسر کرنے کا عادی تھا اور دیر تک سوتا تھا۔ الو دن کے بڑے حصے میں سوتا تھا۔ اس کا قدامت پسند مزاج اور مذاق بھی سفر میں مخل ہوتا تھا اس لئے کہ وہ راستے میں آنے والے ہر کھنڈر کا جائزہ لینے پر اصرار کرتا۔ اس علاقے کے ہر گنبد اور ہر قصر کے متعلق اسے بےشمار روایتیں اور داستانیں یاد تھیں۔ شہزادے کا خیال تھا کہ الو اور طوطا، دونوں صاحب علم و فضل ہیں اس لئے ایک دوسرے کی صحبت میں خوش رہیں گے لیکن اس کا خیال بالکل غلط نکلا۔ وہ دونوں راستے بھر آپس میں جھگڑتے رہے۔ طوطا ادیب و شاعر تھا اور الو حکیم و فلسفی۔ طوطا بات بات پر شعر پڑھتا اور معمولی سے معمولی بات میں ادیبانہ و شاعرانہ نکتے پیدا کرتا۔ الو کو اس قسم کی ذکاوت ایک آنکھ نہ بھاتی۔ اسے الٰہیات کے سوا کسی چیز سے دلچسپی نہ تھی۔ طوطا گانے گاتا، لطیفے سناتا، اپنے سنجیدہ ہم سفر پر فقرے چست کرتا اور اپنی خوش گفتاری پر خود ہی خود خوش ہوتا اور قہقہے لگاتا۔ الو کو اس طرح کے سب حرکات اپنے علمی وقار پر حملہ معلوم ہوتیں۔ وہ بگڑتا، ناک بھوں چڑھاتا اور دن بھر منہ پھلائے رہتا۔

شہزادہ اپنے ساتھیوں کے لڑائی جھگڑے سے بےخبر اپنے حسین خوابوں میں مستغرق اور تصور


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 90


اپنی گمنام محبوبہ سے ہمکلام رہتا۔ جادۂ محبت کے یہ تینوں رہرو جبل مورنیا کے دشوار گزار دروں، لامنشہ اور قشتالہ کے جھلسے ہوئے میدانوں اور "سنہرے ٹیگس" کے طویل کناروں کو طے کرتے ہوئے ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں سے مضبوط فصیلوں اور بلند میناروں کا ایک شہر نظر آنے لگا جو ایک سنگین راس پر بنا ہوا تھا اور جس کے گرد ٹیگس چیختا چنگھاڑتا بہہ رہا تھا۔

الو کو جوں ہی شہر کی جھلک دکھائی دی اس نے اپنے ساتھیوں کو مخاطب کر کے کہا "یہی طلیلہ کا قدیم شہر ہے، جو ساری دنیا میں اپنے آثارِ قدیمہ کی وجہ سے مشہور و معروف ہے۔ دیکھو، آنکھیں کھول کر ان محترم بُرجوں اور میناروں کو دیکھو، ان میں سے ہر ایک روایتوں کے شکوہ کا مظہر ہے۔ ان بُرجوں اور میناروں میں میرے بہت سے بزرگوں نے جذب و استغراق میں عمریں بسر کی ہیں۔"

الو کی باتیں سن کر طوطے نے حقارت سے کہا "فضول! بکواس! ہمیں آثارِ قدیمہ سے کیا غرض؟ اور ہمیں تمہارے بزرگوں کی روایتوں اور افسانوں سے کیا کام؟ دیکھو، جو چیز ہمارے مقصد سے زیادہ قریب ہے، اسے دیکھو۔۔۔۔ حسن و شباب کا مسکن، شہزادے وہ دیکھو! سامنے تمہارے شاہدِ مقصود کا محل ہے، جس کی جستجو میں تم ہر طرف سرگرداں ہو۔"

شہزادے نے اس طرف دیکھا جدھر طوطے نے اشارہ کیا تھا اور اسے ٹیگس کے کناروں پر ایک خوشنما سبزہ زار میں ایک عالیشان محل ایک حسین باغ کے کُنجوں میں سے جھانکتا نظر آیا۔ یہ محل اور اس کا پس منظر اس تفسیل سے ملتا جلتا تھا جو فاختہ نے گمنام شہزادی کے قیام کا ذکر کرتے وقت بیان کی تھی۔ اس محل پر نظر پڑتے ہی اس کا دل دھڑکنے لگا۔ وہ اپنے دل میں سوچنے لگا "شاید! اس وقت میرے دل کی ملکہ ان سایہ دار کُنجوں کے نیچے جی بہلا رہی ہو گی یا ان شاہانہ شہ نشینوں کے زیرِ سایہ مصروفِ خرام ہو گی اور شاید ان بلند و بالا ایوانوں میں محوِ استراحت ہو گی۔" اس نے زیادہ غور سے محل کی طرف دیکھا تو سچ مچ محل کی دیواریں بہت اونچی تھیں اور انہیں عبور کرنا آسان نہ تھا۔ اسے محل کے چاروں طرف مسلح سپاہی بھی گشت کرتے ہوئے دکھائی دئیے۔

شہزادے نے طوطے کی طرف دیکھا اور عاجزی سے اس سے بولا "اے باہنر بزرگ! تمہیں خدا نے نطقِ انسانی کا ہنر عطا کیا ہے۔ سامنے والے باغ میں جائیے! میری محبت کے معبود کو تلاش کیجئے اور اس


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 91


سے کہئےزائرِ محبت، شہزادہ احمد، اس کی جستجو میں ٹیگس کے گُل پوشوں تک آ پہنچا ہے۔"

طوطا اپنی سفارت کی اہمیت پر نازاں، باغ کی سمت اڑا، اس کی بلند دیواروں پر پرواز کر کے کچھ دیر تک سبزۂ و گل کے حسن و شادابی سے لطف اندوز ہوتا رہا اور بالآخر ایک ایسے ایوان کی شہ نشین پر جا بیٹھا جو بہتے ہوئے دریا کے عین اوپر بنی ہوئی تھی۔ شہ نشین کے دریچوں میں سے اندر جھانک کر دیکھا تو شہزادی ایک سیج پر لیٹی ہوئی تھی۔ اس کی غزالی آنکھیں کاغذ کے ایک ٹکڑے پر جمی ہوئی تھیں اور آنسوؤں کے قطرے ایک ایک کر کے اس کے زرد رخساروں پر گر رہے تھے۔ اپنے پروں کو جھاڑ کے، اپنی نُکیلی چونچ سے اس میں چمک پیدا کر کے اور کلغی کو اور اونچا کر کے طوطا چپکے سے شہزادی کے قریب جا بیٹھا۔ پھر اپنی صورت پر وقار پیدا کر کے درد بھرے لہجے میں اس سے مخاطب ہوا "اے حسن کی ملکہ! اپنے آنسو پونچھو۔ میں تمہارے دکھے ہوئے دل کے لئے سکون و راحت کا پیغام لایا ہوں۔"

شہزادی اپنے قریب انسانی آواز سن کر چونک پڑی۔ لیکن جب اس نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا تو اسے وہاں سوائے طوطے کے کوئی اور نظر نہ آیا جو بڑے ادب سے اس کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا۔ "آہ! ایک زخمی دل کو سکون و راحت کس طرح دے سکتے ہو، جب کہ تم محض ایک طوطے ہو؟"

طوطے کو شہزادی کے جواب سے توہین سی محسوس ہوئی۔ اس نے بڑے فخر سے کہا "اے شہزادی! میں نے اسےسے پہلے بھی بارہا زخمی دلوں پر مرہم رکھا ہے۔ لیکن اب اس کا ذکر ہی کیا۔ اس وقت تو میں ایک شہزادے کا قاصد بن کر یہاں آیا ہوں۔ غمگین شہزادی! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ غرناطہ کا شہزادہ احمد تمہیں تلاش کرتے کرتے یہاں آ پہنچا ہے اور اس وقت ٹیگس کے گُل پوش ساحل پر تمہارے ایک جلوے کا منتظر ہے۔"

احمد کا نام سن کر شہزادی کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اس کے تاج کے ہیرے بھی اس چمک کے آگے ماند پڑ گئے۔ وہ خوشی سے چلا اتھی "اے محبوب قاصد! تو واقعی مسرت و شادمانی کا پیامبر ہے اس لئے کہ احمد کے فراق میں میں افسردہ، غمگین اور نیم مردہ تھی۔ لیکن اب میرے تنِ مردہ میں جان آ گئی۔ جا! اور شہزادہ احمد سے کہہ دے کہ اس کے خط و محبت بھر لفظ میرے دل پر نقش ہیں اور اس کے شعر میری روح کے لئے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 92


سامانِ حیات بن گئے ہیں۔ لیکن اس سے کہہ دینا کہ اسے اپنی محبت کی صداقت اپنی تیغ زنی اور تیر افگنی کی قوت دکھا کر ظاہر کرنی ہو گی۔ کل میری سترھویں سالگرہ ہے اور کل میرے والد نے کھیلوں کے ایک زبردست مقابلے کا اعلان کیا ہے۔ اس مقابلے میں بہت سے شہزادے شریک ہوں گے اور جو کوئی دوسروں پر سبقت لے جائے گا، میری ذات اس کا انعام ہو گی۔"

طوطا وہاں سے اڑا اور کُنجوں پر سے گزرتا ہوا بہت جلدی وہاں پہنچ گیا جہاں شہزادہ اس کا منتظر تھا۔ احمد کو محبوبہ سے ملنے کی خبر اور اس کے لطف و وفا کا پیام سن کر جو مسرت ہوئی ہو گی اس کا اندازہ صرف انہیں ہو سکتا ہے جنہوں نے اپنے خوابوں کو حقیقت اور وہموں کو صداقت بنتے دیکھا ہے۔ لیکن ایک چیز تھی جو اس کی مسرت و شگفتگی میں کانٹا بن کر کھٹک رہی تھی اور وہ اگلے دن ہونے والا کھیلوں کا مقابلہ تھا۔ اس مقابلے کے آثار اسے ابھی سے نظر آ رہے تھے۔ ٹیگس کے کناروں پر ہر طرف تلواروں کی چمک اور ڈھالوں کی کھڑک تھی۔ شہزادوں اور سرداروں کی فوجوں کے دستے قرنا بجاتے اور پرچم لہراتے فخر و ناز سے ٹیگس کی طرف سے طلیلہ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جس ستارے کا سایہ اب تک شہزادے کے مقدر پر چھایا ہوا تھا اس کا عکس شہزادی کی قسمت پر بھی پڑ رہا تھا اور اسی لئے سترہ سال کی عمر تک اس کے صیدِ دل کو محبت کے تیروں سے بچانے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن سترہ سال کی پردہ پوشی نے اس کے حسن کی رنگینی کو مستور رکھنے کے بجائے اسے زیادہ نمایاں کیا تھا۔ بہت سے طاقتور بادشاہوں نے اس کی زلفوں کا اسیر بننے کی تمنا ظاہر کی تھی مگر اس کا باپ بڑا دانش مند تھا۔ وہ ایک کے پیام کو روا اور دوسرے کو قبول کر کے جانب داری کا ملزم نہیں بننا چاہتا تھا اس لئے اس نے سب کو کھیلوں کےمقابلے میں اپنے جوہر دکھانے کی دعوتِ عام دی تھی۔ شہزادی کے طالبوں میں سے کئی ایسے تھے جن کی شجاعت اور دلیری مسّلم تھی۔ اور یہ بدنصیب احمد کے لئے سخت آزمائش کا محل تھا، جسے کبھی اسلحے چھونے اور جوانمردی و شجاعت کے مشاغل میں دلچسپی لینے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔ وہ اپنے جی ہی جی میں کہہ رہا تھا "میں بھی کتنا بدنصیب ہوں کہ میری پرورش گوشۂ تنہائی میں ایک فلسفی کے زیرِ سایہ ہوئی۔ محبت کے کاروبار میں بھلا اقلیدس اور جبر و مقابلہ میرے کس کام آئیں گے؟ افسوس! ابنِ حبّان! تو نے مجھے تیغ زنی اور نیزہ بازے کے سبق کیوں نہیں دئیے؟"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 93


شہزادہ ابھی نہ جانے اور کیا کیا کہتا کہ الو بیچ میں بول اٹھا۔ شہزادے کی باتوں میں اسے ایمان کی کمی جھلکتی نظر آئی۔ وہ جوش کے ساتھ بولا "اللہ اکبر! اللہ بڑا ہے اور ہماری قسمتوں پر صرف اسی کا اقتدار ہے۔ شہزادے! یہ بات مت بھولو کہ یہ سرزمین ایسے ایسے اسرار کا خزینہ ہے، جن کا علم صرف انہیں ہے جو میری طرح اندھیرے میں بھی علم کے جویا رہتے ہیں۔ دیکھو! قریب کی پہاڑیوں میں ایک غار ہے اور اس غار میں ایک آہنی میز رکھی ہوئی ہے۔ اس آہنی میز پر مدتوں سے ایک طلسمی زرہ بکتر رکھی ہے۔ اسی آہنی میز کے برابر میں ایک سحر زدہ گھوڑا کھڑا ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں کئی نسلوں سے یہاں پوشیدہ ہیں۔"

شہزادہ الو کی باتیں سن کر حیرت زدہ ہو گیا اور الو نے اپنی بڑی بڑی گول آنکھیں گھما کر اپنی بات پھر شروع کر دی۔ "کئی سال گزرے میں اپنے والد کے ساتھ اس علاقے کی سیر کو آیا تھا۔ جس غار کا ذکر میں تم سے کر رہا ہوں، ہم اسی میں ٹھہرے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے غار کے ان پوشیدہ اسرار کا علم ہے۔ یہ روایت کئی نسل سے ہمارے خاندان کے لوگوں میں منتقل ہوتی چلی آ رہی ہے اور میں نے اپنے بچپن میں اپنے دادا سے سنی تھی کہ یہ زرہ بکتر ایک حبشی جادوگر کی ہے، جس نے طلیلہ کے عیسائیوں کے قبضے میں آنے کے وقت اس غار میں آ کر پناہ لی تھی اور یہیں مرا۔ زرہ بکتر اور گھوڑا اس کے مرنے کے بعد سے برابریہاں پوشیدہ ہے اور طلسم کی خاصیت سے صرف کسی مسلمان شہزادے کے کام آ سکتا ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ اس طلسم کا اثر صرف صبح سے دوپہر تک رہتا ہے۔ اس مختصر وقت میں جو کوئی ان دونوں چیزوں کو استعمال کرے وہ بڑے سے بڑے حریف کو زیر اور مغلوب کر سکتا ہے۔"

احمد بےتابی سے بولا "چلو! ہم فوراً اس غار کی تلاش کریں۔"

اپنے ماضی آشنا رہبر کی رہبری میں شہزادے کو وہ غار بہت جلدی مل گیا۔ طلیلہ کو جن کوہستانی سلسلوں نے گھیر رکھا ہے، یہ غار ان میں سے ایک دور افتادہ اور تاریک سلسلے کے کنارے پرواقع تھا، اور الو کی دور بین آنکھ یا کسی ماہرِ اثریات کی باریک میں نظر کے سوا کسی اور کے لئے ناممکن تھا کہ اس میں داخل ہونے کا راستہ تلاش کر سکے۔ ایک کبھی نہ بجھنے والے، چراغِ خانقہی کی روشنی غار کی بھیانک تاریکی کو کم کر رہی تھی۔ غار کے وسط میں ایک آہنی میز پر ایک طلسمی زرہ بکتر رکھا ہوا تھا۔ اسی کے سہارے ایک


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 94


نیزہ رکھا تھا اور میز کے قریب ہی طلسمی عرب گھوڑا بت کی طرح ساکت کھڑا تھا۔ زرہ بکتر اپنی قدامت کے باوجود اب بھی آئینہ کی طرح چمک رہا تھا اور گھوڑے کے تیور ایسے تھے جیسے ابھی کسی چراگاہ سے آ کر کھڑا ہوا ہے۔ احمد نے جوں ہی اس کی گردن پر ہاتھ رکھا اس نے اپنے اگلے سُم زمین پر مانے شروع کر دئیے اور خوش ہو کر اتنے زور سے ہنہنایا کہ غار کی دیواریں ہل گئیں۔ گھوڑے میں اس طرح جان پڑتے دیکھ کر شہزادے کو یقین ہو گیا کہ وہ اگلے دن کے مقابلے میں اپنے سب حریفوں کو شکست دے گا۔

رات بےقراری اور انتظار میں گزری اور امتحان کی صبح آ پہنچی۔ طلیلہ کی کُہستانی دیواروں کے زیر سایہ مقابلے میں شریک ہونے والوں کی فہرست مرتب کی گئی اور تماشائیوں کے بیٹھنے کے لئے آرام دہ نشستیں بنائی گئیں۔ ان پر زربفت کے فرش بچھا کر دھوپ کی روک کے لئے ریشمی شامیانے استادہ کئے گئے۔ بالائی نشستیں شہزادیوں اور میرزادیوں کے لئے مخصوس کی گئیں۔ اس سے نیچے کی صف میں بانکی ترچھی ٹوپیوں والے شہزادے اور سردار بیٹھے اور ان کے داہنے بائیں ان کے مقربین۔ شہزادوں اور امیروں کی صرف میں سب سے نمایاں وہ تھے جنہیں مقابلے میں حصہ لینا تھا۔ اوپر کی صف میں جو دوشیزائیں بیٹھی تھیں ان میں سے کوئی آفتاب تھی، کوئی ماہتاب۔ لیکن شہزادی الدیجوندا اپنے شامیانے کے نیچے آ کر بیٹھی تو سب آفتاب اور ماہتاب اس کے حسن کی تابانی کے آگے ماند پڑ گئے اور دنیا والوں نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ جو حسن اب تک پردوں میں نہاں تھا وہ واقعی لاثانی و لاجواب ہے۔ اس کے آسمانی حسن کا جلوہ دیکھ کر ہر ایک کے منہ سے بےاختیار کلماتِ تحسین نکل گئے۔ اور جو شہزادے محض اس کے حسنِ کامل کا شہرہ سن کر اس کے شیدائی تھی، ان کے دلوں میں اس گوہرِ نایاب کو حاصل کرنے کی تمنا دس گنی زیادہ ہو گئی۔

لیکن شہزادی کے چہرے پر فکر و پریشانی نمایاں تھی۔ اس کے رخساروں پر ایک رنگ آتا ایک جاتا اور اس کے بےقرار نظریں بار بار بےتابی سے کج کلاہ شہزادوں کا جائزہ لے کر پاٹ جاتیں۔ مقابلے کی تمہید کے طور پر ہر طرف قرنا و طبل بج رہے تھے کہ نقیبوں نے ایک نئے جری کی آمد کا اعلان کیا، اور اعلان کے ساتھ ہی احمد میدان میں داخل ہوا۔ فولاد کا جڑاؤ خود اس کے طّرۂ دستار کو شکست دے رہا


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 95


تھا اور اس کے جسم پر سجا ہوا زرہ بکتر سونے سے منقش تھا۔ اس کی تیغ اور خنجر کاریگری کے نادر نمونے تھے اور قیمتی جواہرات کی وجہ سے شعلے کی طرح چمک رہے تھے۔ ایک گول ڈھال اس کے کندھے کی زینت تھی اور اس کے ہاتھ میں ایک طلسمی نوکیلی سنان۔ اس کے عرب گھوڑے کی جھول زردوزی کے کام سے دمک رہی تھی اور زمین کو چھو رہی تھی، اور نازنیں گھوڑا آہستہ آہستہ عجب ناز و انداز سے آگے بڑھ رہا تھا۔ میدان کے بیچ میں اس نے تازہ ہوا سے اپنے نتھنے پھلائے اور ہر طرف چمکتے اسلحوں کی آب و تاب دیکھ کر جوشِ مسرت سے ہنہنانے لگا۔ مرکب کی یہ شان تھی اور راکب کا شکوہ نرالا۔ اس کا مردانہ جمال ہر آنکھ میں کھب گیا اور جب نقیب نے اس کا تعارف "زائرِ محبت" کے نام سے کرایا تو بالائی صف میں بیٹھی ہوئی دوشیزاؤں میں ایک تموّج سا پیدا ہو گیا۔

احمد آگے بڑھا اور اس نے فہرست میں اپنا نام لکھوانا چاہا تو منتظمین نے یہ کہہ کر معذوری ظاہر کر دی کہ "مقابلے میں صرف شہزادے شریک ہو سکتے ہیں۔" اس نے اپنا نام اور پتہ بتایا۔ یہ چیز اور زیادہ خرابی لائی۔ وہ مسلمان تھا اور کسی ایسے مقابلے میں حصہ نہیں لے سکتا تھا جس کے جیتنے والے کا انعام ایک عیسائی شہزادی کا دستِ نازک تھا۔

حریف شہزادوں نے اسے گھیر لیا اور اسے بڑے غرور، بددماغی اور حقارت سے دیکھنے لگے۔ ایک رستم صفت شہزادے نے تو اس کے دبلے جسم اور نسوانی حسن کا مذاق اڑانے سے بھی دریغ نہ کیا۔ حریف کے اس رویے نے احمد کو مشتعل کر دیا اور اس نے اسے فوراً ہی لڑنے کی دعوت دی۔ دونوں تھوڑے تھوڑے فاصلے سے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہو گئے، دونوں نے ایک ساتھ ایک دوسرے پر حملہ کیا، اور طلسمی نیزے کی ایک ہلکی سی جنبش میں رستم صفت شہزادہ زمین پر آ رہا۔ شہزادہ احمد شاید حریف کے اس انجام پر مطمئن ہو کر خاموش ہو جاتا لیکن افسوس کہ وہ ایک طلسمی گھوڑے پر سوار تھا۔ جب وہ ایک بار لڑنا شروع کر دے تو کوئی طاقت اسے لڑنے سے باز نہیں رکھ سکتی۔ عرب گھوڑے نے پسپا شہزادے کو اس کے حال پر چھوڑا اور جدھر سب سے زیادہ تماشائی تھے اس طرف ایک جست لگائی۔ نیزے نے اپنا کام کیا۔ جو سامنے آیا اسے فرشِ کاک پر لٹایا۔ گھوڑا شہزادے کے قابو سے باہر


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 96


تھا۔ وہ بےتحاشا سارے میدان میں دوڑ رہا تھا۔ چھوٹے بڑے، امیر غریب جو اس کے سامنے آئیے انہیں نیچے گراتا اور پیروں تلے روندتا رہا۔ احمد اپنی اس بےاختیار اور بےارادہ جوانمردی پر پشیمان گھوڑے پر بیٹھا رہا۔ بادشاہ کی رعایا اور اس کے مہمانوں کے ساتھ احمد نے جو کچھ کیا اس پر وہ بےحد برافروختہ ہوا۔ اس نے فوراً اپنے محافظ دستے کو باہر نکلنے اور مقابلہ کرنے کا حکم دیا لیکن ان سب کا بھی وہی حشر ہوا۔ طلسمی نیزے نے سب کو خاک چٹائی۔ بادشاہ نے اپنا خلعت اتارا اور سواری کا لباس پہن کر نیزہ بدست اجنبی شہ سوار کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ لیکن افسوس کہ بادشاہ کا بھی وہی حشر ہوا جو دوسروں کا۔ احمد کا طلسمی مرکب اور نیزہ آدابِ شاہی سے آشنا نہ تھے۔ پشیمان احمد کے دیکھتے دیکھتے بادشاہ ہوا میں قلابازیاں کھانے لگا اور اس کا تاج زریں خاک بسر ہوا۔

عین اس وقت سورج نصف النہار پر پہنچا۔ سحر کی تاثیر ختم ہو گئی۔ طلسمی مرکت نے بازی گاہ چھوڑ دی، اونچی دیواروں پر جست لگائی اور ٹیگس کی طوفانی لہروں کو روندتا اپنے غار میں جا گھسا۔ آن کی آن میں وہاں طلسمی مرکت کی جگہ اس کا بے حس و حرکت مجسمہ کھڑا نظر آیا اور شہزادہ دم بخود اور حیرت و استعجاب میں غرق اس کی پیٹھ پر سے اترا۔ خود اور زرہ بکتر اتار کر آہنی میز پر رکھا، نیزے کو اس کے سہارے ٹکایا اور سوچنے لگا کہ دیکھیں قسمت اب کیا دکھاتی ہے۔ وہ غار کی زمین پر بیٹھا یہی سوچ رہا تھا کہ بادشاہ اور اس کی رعایا کی یہ گت بنانے کے بعد میں بادشاہ اور اہلِ طلیلہ کو کیسے منہ دکھاؤں گا؟ اسے سب سے زیادہ یہ خیال ستا رہا تھا کہ شہزادی اس کے وحشیانہ کارناموں کو نہ جانے کس نظر سے دیکھے گی۔ یہ معلوم کرنے کے لئے کہ صبح کے واقعات کا مختلف لوگوں کے دل پر کیا اثر ہے اس نے طائر سفیروں کو طلیلہ کی طرف بھیجا۔ طوطے نے شہر کے سب آباد حصوں میں گشت لگایا۔ بازاروں، قہوہ خانوں اور مختلف حلقوں میں لوگوں کو باتیں کرتے سنا اور تھوڑی دیر میں شہزادے کو آ کر یہ خبر سنائی کہ سارے شہر پر ہیبت اور اضطراب طاری ہے۔ شہزادی بازی گاہ میں بےہوش ہو گئی تھی اور لوگوں نے اسے اسی حالت میں اس کے محل پہنچایا۔ کھیلوں کا مقابلہ ایکا ایکی انتشار کی حالت میں ختم ہو گیا تھا اور اس وقت ہر شخص کی زبان پر مسلمان شہزادے کی حیرت خیز آمد و شُد اور اس کے مبہوت کُن کارناموں کا ذکر تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ کوئی مور ساحر تھا، کچھ اسے بھوت سمجھتے تھے جس نے انسانی پیکر اختیار کر لیا تھا اور کچھ کوہستانی غاروں میں چھپے ہوئے طلسمی جاں بازوں کے افسانے بیان کر کے یہ کہتے تھے کہ یہ شجاع انہیں میں سے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 97


ایک ہے۔ بہر حال ہر طرح کی باتیں کرنے والے اس بات پر متفق تھے کہ اجنبی شہ سوار نے جو کچھ کیا وہ کسی معمولی انسان کی قوت سے باہر تھا۔

الو رات کو گشت کر لئے نکلا اور حویلیوں اور محلوں کی چھتوں اور روشندانوں پر بیٹھ کر لوگوں کی باتیں سنتا رہا۔ پھر وہ شاہی محل پہنچا جو طلیلہ کی ایک کوہستانی چوٹی پر بنا ہوا تھا۔ وہ محل کی فصیلوں اور شہ نشینوں پر گیا اور جس روزن، روشندان اور دریچے میں ذرا بھی روشنی نظر آئی وہیں اپنی کشادہ، گول آنکھیں کھول کر بیٹھ گیا۔ رات بھر اس نے اپنی جاسوسی مہم جاری رکھی۔ صبح ہوتے ہوتے غار میں واپس آ گیا اور جو کچھ دیکھا اور سنا تھا اس کا حال شہزادے کو سنا دیا۔

"محل کے گنبدوں اور شہ نشینوں کا طواف کرتے ہوئے میں نے ایک دریچے میں سے جھانکا تو اندر ایک حسین شہزادی نظر آئی۔شہزادی ایک مسہری پر لیٹی تھی اور اس کے ارد گرد کئی طبیب بیٹھے تھے۔ لیکن وہ کسی قسم کی دوا دارو پینے کے لئے تیار نہ تھی۔ جب طیب عاجز آ کر رخصت ہو گئے تو شہزادی نے اپنے تکیے میں سے ایک خط نکالا۔ اسے آنکھوں سے لگایا، پیار کیا اور پڑھنے لگی۔ وہ اسے پڑھتی اور زار و قطار روتی رہی۔ اس کے آنسو دیکھ کر مجھ جیسے بےحس فلسفی کا دل بھی بھر آیا۔"

یہ خبر سن کر شہزادہ تڑپ اتھا اور اپنے دل ہی دل میں کہنے لگا "حکیم ابنِ حبّان نے سچ کہا تھا کہ فکر و غم اور بےخواب راتیں محبت کرنے والوں کا مقسوم ہیں۔ اللہ شہزادی کے دل کو محبت کی آگ سے محفوظ رکھے۔"

طلیلہ سے آنے والی بعد کی خبروں سے الو کے بیان کی تائید ہوئی۔ شہر میں ہر طرف بےچینی اور ہیبت چھائی ہوئی تھی۔ شہزادی کو محل کے سب سے اونچے بُرج میں منتقل کر دیا گیا اور وہاں تک پہنچنے کے سب راستوں پر سخت پہرہ لگا دیا گیا۔ شہزادی کی غم سے یہ حالت ہوئی کہ اس نے کھانا پینا بھی چھوڑ دیا۔ اس پر کسی کی نصیحت، کسی کی تشفی اور دل دہی کا کوئی اثر نہ ہوتا۔۔۔۔ اور مشکل یہ تھی کہ کسی کو اس غم کا سبب نہیں معلوم تھا۔ ملک کے حاذق طبیبوں نے اپنے سب نسخے آزمائے لیکن کوئی کارگر نہ ہوا۔ لوگوں کو شبہ ہونے لگا کہ شہزادہ پر جادو کا اثر ہے۔ بادشاہ کو اس کی طرف سے سخت تشویش تھی۔ اس نے دور دور منادی کرا دی کہ جو کئی شہزادی کو اچھا کرے گا، شاہی خزانے کا سب سے قیمتی موتی اسے انعام ملے گا۔"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 98


الو ایک کونے میں بیٹھا اونگھ رہا تھا کہ اس کے کانوں میں منادی کی آواز گئی۔ اس نے بڑی بڑی غلافی آنکھوں کو ایک گردش دی اور ہمیشہ سے بھی زیادہ پراسرار نظر انے لگا۔

"اللہ اکبر! " اس نے کہا " کتنا خوش نصیب ہو گا وہ شخص جس کے ہاتھوں شہزادی شفا پائے۔ اسے یہ البتہ سوچنا پڑے گا کہ شاہی خزانے کا سب سے بیش بہا موتی کون سا ہے۔"

احمد نے اس کی بات سنی تو بولا "محترم دوست! تمہاری بات کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔"

الو نے ایک کھوکھلی ہنسی ہنستے ہوئے جواب دیا "شہزادے! میری بات ذرا غور سے سنو۔ تمہیں معلوم ہے کہ الوؤں کا شمار عالموں، فاضلوں میں ہوتا ہے اور تحقیق و تدقیق ان کا واحد مشغلہ ہے۔ طلیلہ کے بُرجوں اور فصیلوں کے شبانہ گشتوں میں میری ملاقات الوؤں کے ایک برگزیدہ حلقے سے ہوئی، جو اپنا اجلاس اس بلند اور وسیع بُرج کی تاریکیوں میں منعقد کرتا ہے، جہاں شاہی خزانہ مدفون ہے۔ ان جلسوں میں میں نے انہیں شاہی خزانوں میں چھپے ہوئے لعل و جواھر کی صورت شکل اور ان کے نقوش و قدامت کے متعلق گفتگو کرتے سنا ہے۔ اس دن مختلف ملکوں اور عہدوں کے رسوم بھی ان کی گفتگو کا موضوع تھے لیکن سب سے زیادہ دلچسپی انہیں ان تعویذوں اور تبرکات سے معلوم ہوتی تھی جو گاتھ شہنشاہ راڈرک کے زمانے سے اس خزانے میں محفوظ ہیں۔ ان تبرکات میں صندل کی لکڑی کا ایک صندوقچہ بھی ہے جسے کسی مشرقی کاریگری نے فولاد کی پیٹیوں سے مضبوطی سے بند کیا ہے۔ اس صندوقچے پر ایک پُراسرار خط میں کوئی عبارت منقوش ہے جسے صرف گِنے چُنے فاضل پڑھ سکتے ہیں۔ الوؤں کے برگزیدہ حلقے میں یہ صندوقچہ اور اس کا کتبہ کئی دن تک موضوعِ بحث اور فاضلوں میں باعثِ اختلاف و نزاع بنا رہا۔ جس دن کا حال میں بیان کر رہا ہوں اس دن ایک فاضل الو، جو حال ہی میں مصر سے طلیلہ آیا ہے، صندوقچے کے ڈھکنے پر بیٹھا اس کتبے کے متعلق تقریر کر رہا تھا۔ اس نے اپنی تحقیق سے یہ پتہ چلایا ہے کہ اس صندوقچے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے تخت کا ریشمی قالین رکھا ہوا ہے، جسے بلاشبہ وہ یہودی طلیلہ لائے تھے جنہوں نے یروشلم کی تباہی کے بعد یہاں آ کر پناہ لی تھی۔

الو کی باتیں سن کر شہزادہ کچھ سوچنے لگا اور بالآخر بولا کہ "مجھے حکیم ابنِ حبّان سے اس تبرک کا حال معلوم ہوا ہے۔ حکیم کا خیال ہے کہ یروشلم کے سقوط پر یہ طلسمی تبرک کہیں غائب ہو گیا اور انسان اس کے فیض سے ہمیشہ کے لئے محروم


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ہو گیا۔۔۔۔ میرے خیال میں لکڑی کے صندقچے کا ریشمی قالین وہی بیش بہا تبرک ہے۔ اگر مجھے کسی طرح یہ مل جائے تو میرے دن پھر جائیں۔

اگلے دن شہزادے نے اپنا شاہی خلعت اتارا اور اس کے بجائے ایک صحرائی کا لباس پہن لیا۔ پھر اپنے جسم اور چہرے کو گندمی رنگ میں رنگ لیا اور اب کسی کے لئے یہ سمجھنا ناممکن تھا کہ یہ سیدھا سادا عرب وہی حیرت انگیز اور پراسرار شخص ہے جس نے چند دن ہوئے بازی گاہ میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ ہاتھ میں عصا، کندھے پر زنبیل اور ایک چھوتی سی دہقانی بانسری لے کر شہزادہ طلیلہ کی طرف چلا اور شاہی محل کے پھاٹک پر جا کر اعلان کیا کہ میں شاہی منادی سن کر شہزادی کا علاج کرنے آیا ہوں۔ پہرہ داروں نے اس کی وضع دیکھی تو سوچا کہ اسے مار کر بھگا دیں۔ پہرہ داروں میں سے ایک اس کا مذاق اڑاتے ہوئے بولا "جہاں ملک کے بڑے بڑے حکیموں کی کچھ نہیں چلی وہاں تجھ جیسا گنوار کیا کر سکتا ہے؟" لیکن بادشاہ نے گنوار عرب کی جھلک دیکھ کر اسے اپنے پاس طلب کیا۔

احمد بادشاہ کے سامنے آیا تو اس سے یوں مخاطب ہوا "اے برگزیدہ شہنشاہ! ایک عرب بدو اس وقت آ پ کی خدمت میں حاضر ہے۔ اس کی ساری عمر صحرا کی تنہائیوں اور ویرانیوں میں بسر ہوئی ہے۔ ان ویران تنہائیوں میں جیسا کہ آپ جانتے ہیں بھوت پریت ہمیں آ کر ستاتے ہیں۔ یہ گندہ روحیں ہمارے گلوں میں گھس کر ہمارے مویشیوں کو یہاں تک کہ اونٹ جیسے نیک اور حلیم جانور کو بھی پریشان کرتی ہیں۔ ہم گڈریوں کے پاس موسیقی ایسا سحر ہے جس سے ہم ان پر قابو پاتے ہیں۔ ہمیں اپنے بزرگوں نے موسیقی کی ایسی دھنیں سکھائی ہیں کہ بڑا سے بڑا بھوت بھی ان سے مسحور ہو جاتا ہے۔ مجھے بھی اس فن میں غیر معمولی مہارت حاصل ہے۔ اگر آپ کی صاحبزادی پر کسی آسیب یا گندی روح کا سایہ ہے تو میں دعوےٰ کرتا ہوں کہ اپنی موسیقی سے اسے اپنا گرویدہ بنا لوں گا۔"

بادشاہ نابینا تھا اور عربوں کی حیرت انگیز پراسرار قوتوں کا حال جانتا تھا۔ عرب کی باتوں سے بہت متاثر ہوا۔ اس کی باتوں نے اس کے بجھے ہوئے دل میں امید کی لو روشن کر دی۔ وہ اسے فوراً بلند بُرج کی تنہائیوں میں لے گیا اور بےشمار دروازوں سے گزرتے ہوئے دونوں اس تنہا ایوان میں پہنچے جہاں شہزادی ایک ایسے غم میں مبتلا بےحس و حرکت پڑی تھی، جس کا بظاہر کوئی مداوا نہ تھا۔

شہزادہ شہ نشین پر بیٹھ گیا اور اپنی بانسری پر وہ دل نواز صحرائی نغمے بجانے لگا جو اس نے جنت العریف


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 100


میں ماہر نےنوازوں سے سیکھے تھے۔ بانسری کے نغمے فضا میں گونجتے رہے لیکن شہزادی ساکت و بےہوش پڑی رہی۔ جو طیب و حکیم اس کے بالیں بیٹھے تھے وہ عرب صحرا نشین کی احمقانہ کوششوں پر تمسخر کی ہنسی ہنسنے لگے۔ شہزادے نے بانسری کے نغموں کو بےاثر پایا تو اسے اٹھا کر ایک طرف رکھ دیا اور بڑے دھیمے سروں میں بڑی سادگی سے وہ شعر گانے لگا جو اس نے اپنے نامۂ محبت میں شہزادی کو لکھے تھے۔

شہزادی نے شعروں کی دھن پہچان لی۔ اس کے دل میں مسرت کی لہر اتھی۔ اس کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ خاموشی سے شہزادے کا گانا سننے لگی۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہونے لگی اور اس کے سینے میں شدتِ احساس سے طوفان برپا ہو گیا۔ اس کا جی چاہا کہ اجنبی مغنی کو اپنے قریب بلائے لیکن حیا دامن گیر ہوئی اور وہ خاموش ہو گئی۔ بادشاہ قیافہ سناس تھا۔ اسے اس کے دل کا حال معلوم ہو گیا اور اس نے فوراً احمد کے شہزادی کے ایوان میں طلب کیا۔ محبت کرنے والوں کی آنکھیں چار ہوئیں اور ایک لمحے میں ہزاروں باتیں ہو گئیں لیکن دونوں نے ضبط اور احتیاط سے کام لیا۔ موسیقی کی تاثیر سے شہزادی کے زرد نازک رخساروں پر سرخی دوڑ گئی، اس کے لب شگفتہ ہو گئے اور اس کی بیمار آنکھوں میں مسرت کا شبنمی نور چمکنے لگا۔

ایوان میں جتنے فاضل حکیم و طبیب موجود تھے، وہ حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ بادشاہ نے پراسرار مغنی کو ستائش کی ایسی نظروں سے دیکھا جن میں حیرت ہ ہیبت بھی شامل تھی۔ اس کی زبان سے بے ساختہ نکلا "شاباش! نوجوان! آج سے تم میرے دربار کے طبیبِ اعلیٰ ہو گئے۔ میں آج سے سوائے تمہارے نغمے کے کوئی اور دوا استعمال نہیں کروں گا۔ سرِ دست تم اپنا انعام لو۔ یہ میرے خزانے کا سب سے بیش بہا موتی ہے۔"

احمد نے جواب دیا "بادشاہ سلامت! میرے دل میں چاندی، سونے اور قیمتی جواہرات کی ذرا بھی ہوس نہیں۔ آپ کے خزانے میں ایک تبرک ہے جو ان مسلمانوں کا ترکہ ہے جو کبھی طلیلہ پر حکمران تھے۔۔۔۔ یہ تبرک صندل کا ایک صندقچہ ہے، جس میں ایک رشمی قالین بند ہے۔ مجھے بس یہ صندوقچہ دے دیجئے۔ مجھے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں چاہئے۔"

حاضرین کو عرب کی سادہ دلی اور انکسار پر سخت حیرت ہوئی اور اس سے بھی زیادہ اس وقت جب انہوں نے اس صندوقچے اور اس کے اندر رکھے ہوئے قالین کو دیکھا۔ قالین بڑے نفیس سرخ ریشم کا تھا اور


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 101


اس پر عبرانی اور کلدانی حروف کی کچھ عبارتیں لکھی ہوئی تھیں۔ درباری طبیبوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، اپنے شانوں کو جنبش دی اور دربار کے نئے طبیب اعلیٰ کی سادگی پر ہنسنے لگے۔ بھلا اس کے سوا اور کون سا طبیب اس حقیر انعام پر راضی ہو جاتا۔

شہزادہ بولا کہ "یہ قالین ایک زمانے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے تخت پر بچھایا جاتا تھا۔ یہ اس قابل ہے کہ اسے شہزادی کے قدموں کے نیچے بچھایا جائے۔" یہ کہہ کر اس نے قالین شہزادی کے پیروں تلے ڈال دیا اور خود اس کے قدموں میں بیٹھ گیا۔

اپنی جگہ بیٹھ کر اس نے حاضرین کو مخاطب کر کے کہا "جو کچھ صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہے اسے کوئی نہیں مٹا سکتا۔ نجومیوں نے جو پیشین گوئی کی تھی وہ پوری ہو رہی ہے۔ بادشاہ سلامت! آپ کو شاید علم نہیں کہ شہزادی اور میں مدتوں سے درپردہ ایک دوسرے کو چاہتے ہیں۔ آپ کو شاید یہ بھی معلوم نہیں کہ میں ہی "زائرِ محبت" ہوں۔"

یہ لفظ ابھی مشکل سے اس کی زبان سے ادا ہوئے تھے کہ قالین ہوا میں اٹھا اور شہزادے شہزادی کو لے کر فضا میں پرواز کرنے لگا۔ بادشاہ اور طیب پرواز کرتے ہوئے قالین کو حیرت سے تکتے رہے، یہاں تک کہ وہ بادلوں کی سفید چھاتی پر محض ایک دھبا نظر آنے لگا اور پھر دیکھتے دیکھتے یہ دھبا بھی آسمان کے پردۂ نیلگوں میں چھپ گیا۔

بادشاہ نے فوراً اپنے خزانچی کو طلب کیا اور غضب ناک ہو کر اس سے پوچھا "نادان! تو نے اتنا بیش بہا تبرک ایک کافر کے ہاتھ میں کس طرح جانے دیا؟"

خزانچی نے عاجزی سے جواب دیا "حضور! افسوس ہے کہ ہم اس تبرک سے ناواقف تھے۔ صندقچے کا کتبہ آج تک کسی سے پڑھا نہ جا سکتا۔ اب پتہ چلا کہ واقعی یہ قالین حضرت سلیمان علیہ السلام کے تخت کا قالین ہے اور اس میں یہ طلسمی تاثیر ہے کہ جو کوئی اس پر بیٹھ جائے وہ ہوا کے دوش پر جہاں چاہے جا سکتا ہے۔"

بادشاہ نے فوراً ایک بڑی فوج اکٹھی کی اور مغرور شہزادے کی تلاش میں غرناطہ کی طرف روانہ ہوا۔ طول طویل اور پرمشقت مسافت کے بعد وہ غرناطہ کے نواح میں جا کر خیمہ زن ہوا اور شاہِ غرناطہ کے دربار


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 102


اپنا سفیر بھیج کر اپنی دختر کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ شاہِ غرناطہ اپنے درباریوں سمیت اس کے استقبال کو شہر سے باہر آیا۔ شاہ طلیلہ کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ شاہِ غرناطہ وہی مغنی ہے جو اس کی بیٹی کو لے کر فرار ہوا تھا۔۔۔۔ اس لئے کہ اس دوران میں احمد غرناطہ کا سلطان بن چکا تھا اور حسین الدیجواندا اس کی سلطانہ تھی۔

عیسائی بادشاہ کو یہ معلوم کر کے اطمینان ہوا کہ اس کی بیٹی کو اپنے دین پر قائم رہنے کی اجازت ہے۔ وہ احمد اور الدیجواندا کی شادی پر رضامند ہو گیا اور خونیں جنگوں کے بجائے غرناطہ میں دعوتیں ہوئیں، جشن منائے گئے اور اس کے بعد شاہ طلیلہ ہنسی خوشی اپنے وطن واپس آیا۔ احمد اور الدیجواندا الحمرا میں مسرت و شادمانی کی زندگی بسر کرنے لگے۔

یہ داستانِ محبت ادھوری رہ جائے گی اگر یہ نہ بتایا جائے کہ احمد الکابل کے دو وفادار دوستوں، یعنی الو اور طوطے کو ان کی وفاداری کا کیا صلہ ملا۔ یہ دونوں فاضل اور حکیم شہزادے کی سرعتِ پرواز کا ساتھ نہ دے سکتے تھے اس لئے آہستہ آہستہ اڑتے ہوئے کچھ عرصے بعد غرناطہ پہنچے۔ الو راتوں کو سفر کرتا اور دن کو اپنے خاندان کے قدیم مقبوضات میں قیام کرتا۔ اس کے برخلاف طوطا دن کو سفر کرتا اور شہروں کی چہل پہل اور گہما گہمی سے پورا لطف اٹھاتا۔

دونوں غرناطہ آ گئے تو شہزادے نے ان کی خدمت کے اعتراف میں انہیں اعلیٰ منصبوں پر مامور کیا۔ الو کو اس نے اپنا وزیرِ اعظم بنایا اور طوطے کو مشیر تشریفات مقررر کیا۔ یہ بتانا شاید ضروری نہیں کہ دونوں نے اپنے اپنے منصب اس دانشمندی اور حسن و خوبی سے انجام دئیے کہ شاید ہی کسی سلطنت یا دربار میں یوں انجام دئیے گئے ہوں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

اوشو

لائبریرین
قصص الحمرا


صفحہ ۔۔۔ 103


ایک پراسرار ترکہ


قلعۂ الحمرا کے اندر، شاہی قصر کے سامنے ایک فراخ اور کشادہ میدان ہے، جو میدان الاحباب یا حوضوں کا صحن کہلاتا ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ فرشِ صحن کے نیچے حوضوں کا وہ مربوط سلسلہ ہے جو مسلمان حکمرانوں کے عہد میں پانی جمع کرنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ اس صحن کے ایک کونے میں مسلمانوں کے عہد کا ایک کنواں ہے، جو پتھر کو کاٹ کر بنایا گیا ہے۔ اس کنوئیں کا پانی بےحد شفاف اور ٹھنڈا ہے۔ مُور حکمرانوں کے عہد کے بنے ہوئے کنوئیں دور دور مشہور ہیں اس لئے کہ وہ شفاف اور شیریں پانی کی تہہ تک پہنچنے کے لئے بےحد جانفشانی سے کام لیتے تھے۔ جس کنوئیں کا ہم ذکر کر رہے ہیں وہ غرناطہ بھر میں مشہور ہے اور بہشتی پانی کے بڑے بڑے مٹکے بھرے اور انہیں گدھوں پر لادے الحمرا کے جنگلی ڈھلوانوں سے نیچے اترتے نظر آتے ہیں اور ان کی آمد و رفت کا یہ سلسلہ صبح سویرے سے شروع ہو کر خاصی رات گئے تک جاری رہتا ہے۔

عہدِ توریت سے گرم ملکوں میں چشمے اور کنویں گپ بازی اور لطیفہ سنجی کا اڈا رہے یہں، چنانچہ جس کنویں کا حال ہم بیان کر رہے ہیں وہ سارے دن بیماروں، بوڑھی عورتوں اور دوسرے عجیب و غریب قسم کے ناکارہ


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 104


لوگوں کی چوپال ہے۔ وہ اس شامیانے کے سائے میں جو چُنگی کے عملے کو دھوپ سے بچانے کے لئے کنویں پر لگا دیا جاتا ہے، پتھر کی بینچوں پر بیٹھے گپ لڑانے میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ شہر سے آنے والے ہر بہشتی سے وہاں کی خبریں پوچھتے ہیں اور جو کچھ سنتے اور دیکھتے ہیں اس پر طولانی تبصرے کرتے ہیں۔ دن کا شاید ہی کوئی لمحہ ایسا گزرتا ہو جب گھر والیاں اور خادمائیں سر پر گھڑا رکھے یا ہاتھ میں گگرا پکڑے وہاں منڈلاتی نہ دکھائی دیتی ہوں کہ ہرزہ سرائی کے ان ماہروں کی گپ شپ کا لطف اٹھا سکیں۔

اس کنویں پر پابندی سے آنے والوں میں ایک توانا، مضبوط اور بھری ہوئی پنڈلیوں والا پستہ قد بہشتی بھی تھا، جس کا نام بدروخیل تھا۔ لیکن لوگ اختصار کے خیال سے اسے برخیل کہتے تھے۔ برخیل غالیسیا کا رہنے والا تھا۔ غالیسیا کے باشندے اپنی توانائی اور مضبوطی کی وجہ سے اتنے مشہور تھے کہ اسپین میں اگر کسی کو مزدور کی ضرورت ہو تو مزدور یا قُلی کہنے کے بجائے یہ کہے گا کہ "ایک غالیسی کو بلاؤ۔"

اس جملۂ معترضہ سے قطع نظر، برخیل غالیسی نے اپنا پیشہ ایک مٹی کے گھر سے شروع کیا تھا جسے وہ عموماً اپنے کندھے پر لے کر چلا کرتا تھا۔رفتہ رفتہ اسے آسودگی و خوش حالی میسر آئی تو اس نے اپنی مدد کے لئے اپنا جیسا بامشقت اور توانا گدھا خرید لیا۔ اس گدھے کی پیٹھ پر پڑی ہوئی جھول کے دونوں طرف وہ پانی سے بھرے ہوئے مٹکے رکھ کر انہیں انجیر کے پتوں سے ڈھک دیتاکہ وہ دھوپ اور گرمی سے محفوظ رہیں۔ غرناطہ بھر میں اس سے زیادہ محنتی بہشتی اور کوئی نہیں تھا ، اور نہ شاید اس سے زیادہ خوش مزاج اور ہنس مکھ۔ جب برخیل اپنے لدے پھندے گدھے کو ہانکتا ہوا غرناطہ کی سڑکوں پر سے گزرتا تو راہیں اس کے مانوس نغمے سے گونج اٹھتیں "کسے چائیے پانی؟۔۔۔۔ برف سے زیادہ ٹھنڈا پانی۔ کسے چائیے پانی؟۔۔۔۔ الحمرا کے کنویں کا پانی۔۔۔۔ برف کی طرح ٹھنڈا اور بلور کی طرف شفاف؟" جب وہ کسی پیاسے گاہک کو ٹھنڈے پانی کا بلوریں گلاس بھر کر دیتا تو کوئی نہ کوئی ایسی بات بھی ضرور کہہ دیتا کہ سننے والا مسکرا دے۔ اور اگر اتفاق سے گاہک مرد کے بجائے دلکش چاہِ وقن والی کوئی دوشیزہ ہوتی تو فقروں میں اور بھی شوخی پیدا ہو جاتی اور اس کی زبان سے بےساختہ ایسے کلمے نکل جاتے جن میں اس کے حسن کی مدح و ثنا کے پہلو نکلتے۔ مختصر یہ کہ برخیل غالیسی کو غرناطہ بھر میں بےحد مہذب، خوش طبع اور خوش باش شخص سمجھا جاتا تھا۔ لیکن ضروری نہیں کہ دلکش


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 105


نغمے گانےوالوں اور ہر ایک سے مذاق کرنے والوں کے دل بھی شگفتہ ہوں۔ خوش مزاج برخیل کےکے اس تبسم اور خوش طبعی کے پس پردہ فکروں اور غموں کے بادل منڈلاتے رہتے تھے۔ اس کا خاندان بہت بڑا تھا۔ جب وہ شام کو گھر لوٹتا تو اس کے ننگے اور بھوکے بچے ابابیلوں کی طرح اس سے چمٹ جاتے اور اس سے کھانے کو مانگتے۔ غموں کی زندگی میں اس کا ایک ساتھی بھی تھا، لیکن ایسا ساتھی جو سہارے کی جگہ اس کے لئے بوجھ تھا، یہ اس کی بیوی تھی، جسے شادی سے پہلے گاؤں کی حسینہ سمجھا جاتا تھا اور دیکھنے اور سننے والے اس کے رقص کی گردش اور جھانجھر کی آواز پر صدقے ہوتے تھے۔ شادی ہونے کے کئی سال بعد بھی اس کے دل ربا انداز اب تک قائم تھے۔ وہ غریب برخیل کی گاڑھی کمائی اپنے بناؤ سنگار پر اڑاتی اور اتوار کے علاوہ چھٹی کے ان بےشمار دنوں میں جو اسپین والوں کی زندگی میں کاروباری دنوں سے زیادہ اہمیت رکھتےہیں، اس کے گدھے پر قبضہ کر کے رقص و سرود کی ٹولیوں کے ساتھ دیہاتوں میں چلی جاتی۔ ان خوبیوں کے علاوہ بھی اس میں بہت سی خوبیاں تھیں۔۔۔۔ وہ پھوہڑ تھی، تن آسان اور آرام طلب تھی اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اعلیٰ درجے کی گپ باز اور افواہ پسند بھی تھی۔ بچوں، گھر کے کام کاج اور اپنے شوہر کے دکھ سکھ کی طرف سے بےنیاز ہو کر گھر گھر پھرنا اور گپ بازی کرنا اس کا اہم مشغلہ تھا۔

لیکن غریب برخیل اپنے بیوی بچوں کی ذمہ داری کا بوجھ اسی سکون اور اطاعت گزاری سے اٹھاتا تھا جس طرح اس کا گدھا پانی کے بھرے ہوئے مٹکے۔ وہ تنہائی میں چاہے جتنی جی کی بھڑاس نکال لے لیکن بیوی کے سامنے اس میں اسے پھوہڑ کہنے کی جرأت ہر گز نہ تھی۔

وہ اپنے بچوں کو اسی طرح چاہتا تھا جیسے الو اپنے بچوں کو۔ اسے اپنے بچوں میں اپنی خوبیوں کا عکس زیادہ نمایاں اور مستحکم ہوتا نظر آتا تھا۔ وہ سب کے سب اسی کی طرح توانا، مضبوط اور بھری ہوئی پنڈلیوں کے چھوٹے موٹے پہلوان تھے۔ جب کبھی برخیل کو تھوڑی سی فرصت مل جاتی اور اس کی جیب میں تھوڑے پیسے بھی ہوتے تو وہ اپنے پورے گلے کو لے کر بساتین المرج کے باغیچوں کی سیر کرانے لے جاتا۔۔۔۔ کوئی اس کے کندھے پر، کوئی گود میں، کوئی آگے، کوئی پیچھے۔ برخیل یہ کرتا اور اس کی بیوی اپنی ٹولی کے ساتھ حدرت کے علاقے میں رقص و سرود میں مگن رہتی۔

گرمیوں کی ایک رات کا ذکر ہے۔ رات خاصی جا چکی تھی اور اکثر بہشتی اپنے اپنے گھروں کو رخصت


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 106


ہو چکے تھے۔ دن بھر بےحد گرمی اور اُمس رہی تھی۔ رات ان گنتی کی خوشگوار چاندنی راتوں میں سے ایک تھ یجب ہر ایک کا جی چاہتا ہے کہ دن کی گرمی اور تکلیف کی تلافی کے لئے کھلی ہوا میں سیر کرے اور آدھی رات تک اس کی نرم مٹھاس کے مزے لیتا رہے۔ یہی وجہ تھی کہ پانی کے گاہک اب بھی خاصی تعداد میں موجود تھے۔ برخیل کو ایک ذمہ دار اور جفاکش باپ کی طرح اپنے بھوکے بچوں کا خیال آیا اور اس نے اپنے دل میں کہا "کنویں کا ایک پھیرا اور! اس طرح شاید بچوں کی اتوار کی تفریح کے لئے چند ٹکے اور مل جائیں۔" یہ سوچ کر اس نے ہمت کے ساتھ الحمرا کی ڈھلواں پہاڑی پر چڑھنا شروع کر دیا۔ وہ اوپر چڑھ رہا تھا اور گا رہا تھا گاتے گاتے وہ کبھی کبھی اپنا موٹا ڈنڈا گدھے کے دائیں بائیں رسید کر دیتا تھا۔۔۔۔ معلوم نہیں کہ اپنے گانے پر تھاپ دینے کے لئے یا محض گدھے کی تفریح طبع کے لئے، اس لئے کہ اسپین میں سب باربردار جانوروں کے لئے ڈنڈوں کی مار اچھے چارے کا کام دیتی ہے۔

وہ کنویں پر پہنچا تو سوائے ایک اجنبی کے وہاں کوئی نہ تھا۔ اجنبی نے عربی لباس پہن رکھا تھا اور چاندنی میں پتھر کی ایک بنچ پر بیٹھا تھا۔ برخیل رکا اور اجنبی کو حیرت سے دیکھنے لگا۔ عرب نے کمزور آواز میں اسے اپنی طرف بلایا اور بولا "میں بیمار اور ضعیف ہوں اور اسی وقت شہر پہنچنا چاہتا ہوں۔ اگر تم مجھے شہر پہنچا دو تو اس سے دُگنے پیسے دوں گا جتنے تم پانی لے جا کر کماتے۔"

اجنبی کی دردناک التجا پر نیک دل برخیل کا جی بھر آیا "خدا نہ کرے کہ ایک بیمار کی خدمت کرنے کی اجرت لوں۔" یہ کہا اور بڈھے عرب کو اپنے گدھے پر لاد کر آہستہ آہستہ غرناطہ کا رخ کیا۔ عرب اتنا ضعیف و ناتواں تھا کہ اسے گدھے پر سیدھا بیٹھا رہنے کے لئے بھی برخیل کے سہارے کی ضرورت رہی۔ برخیل اسے راستے بھر سنبھالے رہا کہ بےچارہ نیچے نہ گر پڑے۔

شہر پہنچ کر برخیل نے اجنبی عرب سےپوچھا کہ "آپ کو کہاں اتاروں؟" عرب نے ٹھنڈی سانس بھر کر ناتوانی سے جواب دیا "افسوس! میرا کوئی گھر وَر نہیں۔ میں اس دیار میں بالکل اجنبی ہوں۔ کیا تم مجھے رات اپنے گھر میں بسر کر لینے دو گے۔ اللہ تمہیں جزائے خیر دے گا۔"

نیک دل برخیل نے محسوس کیا کہ اس نے نیکی کر کے اپنے آپ کو ایک اور الجھن میں پھنسا لیا ہے۔ لیکن


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 107


اس کی انسانیت نے کسی طرح گوارا نہ کیا کہ ایک پردیسی کو اس بےکسی کی حالت میں رات بھر کی پناہ نہ دے۔ اس لئے وہ عرب کو اپنے گھر لے گیا۔ بچے جو گدھے کے پیروں کی آہٹ سن کر حسبِ معمول باہر نکل آئے تھے ایک دستار بند اجنبی کو گدھے پر بیٹھا دیکھ کر ڈر گئے اور فوراً ہی گھر میں جا کر ماں کے پیچھے چھپ گئے۔ برخیل کی بیوی اس مرغی کی طرح جو کتے کو اپنے بچوں کی طرف آتا دیکھ کر اس پر جھپٹتی ہے، تیزی سے باہر نکل آئی اور برخیل پر برس پڑی "آدھی رات کو یہ تم کس مُردے کو لے کر یہاں آئے ہو؟"

غالیسی نے نرمی سے جواب دیا "بیوی! ذرا صبر سے کام لو۔ یہ ایک بیمار پردیسی ہے، جس کا یہاں نہ کوئی دوست ہے نہ ٹھہرنے کا ٹھکانا۔ کیا تم چاہتی ہو کہ ہم اسے جان دینے کے لئے یوں ہی سڑک پر پھرنے دیں؟"

ترش رو بیوی شاید اور زیادہ سختی سے احتجاج کرتی لیکن آج برخیل کے رویے میں خلاف معمول اعتماد اور استقلال دیکھ کر وہ خاموش ہو گئی۔ برخیل نے پردیسی عرب کو گدھے پر سے اتارا اور اس کے لئے زمین پر ایک چٹائی اور بھیڑ کی کھال بچھا دی کہ اس کی غریبی اس سے بہتر بستر مہیا نہیں کر سکتی تھی۔

تھوڑی ہی دیر بعد عرب پر تشنج کے دورے پڑنے لگے اور برخیل کی کوئی ترکیب ان کے زور کو کم نہ کر سکی۔ بیمار اجنبی آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کی نیکی اور خدمت گزاری کا اعتراف کرتا رہا۔ دوروں کے درمیان ذرا سا وقفہ ہوا تو اس نے نقاہت کے ساتھ برخیل کو اپنے پاس بلایا اور نحیف و زار آواز میں اس سے بولا "میرا آخری وقت آ پہنچا۔ اس چھوٹی سی ڈبیا کو میری طرف سے اپنی خدمتوں کا انعام سمجھ کر قبول کرو۔" یہ کہا اور اپنا فرغل کھول کر صندل کی ایک ڈبیا نکالی جو چمڑے کی ایک پیٹی سے اس کی کمر میں بندھی ہوئی تھی۔ چھوٹے نیک دل برخیل نے جواب دیا "عزیز دوست! خدا تمہیں برسوں زندہ رکھے کہ اپنی دولت کو، وہ خواہ کچھ بھی ہو، ہنسی خوشی برت سکو۔" عرب نے مایوسی سے اپنا سر ہلایا۔ صندل کی ڈبیا پر ہاتھ رکھا۔ لیکن ابھی وہ اس ڈبیا کے متعلق کچھ اور نہ کہنے پایا تھا کہ اس پر پھر دورہ پڑا اور اس مرتبہ اتنا سخت پڑا کہ وہ جانبر نہ ہو سکا۔

برخییل کی بیوی کو انتقام کا موقع مل گیا۔ اس نے غصے سے کہا "تمہاری احمقانہ نیکی سے ہمیشہ کوئی نہ


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 108


کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے۔ یہ لاش لوگوں کو ہمارے گھر میں ملے گی تو ہمارا کیا حشر ہو گا؟ ہم قاتل ٹھہریں گے، اور زندگی بھر قید خانے میں سڑیں گے اور اگر ہماری جانیں بچ گئیں تو ساری عمر سرکاری کارندے ہماری گردنیں ناپتے رہیں گے۔"

بےچارہ برخیل بھی کچھ کم پریشان نہ تھا۔ وہ نیکی کر کے پچھتا رہا تھا۔ لیکن اس کے دل میں تیزی سے ایک خیال آیا۔ اس نے بیوی سے کہا "ابھی کافی رات باقی ہے۔ میں مُردے کو شہر سے باہر لے جا کر شنیل کے کنارے دفن کر سکتا ہوں۔ کسی نے عرب کو ہمارے گھر میں داخل ہوتے نہیں دیکھا۔ کسی کو اس کے مرنے کی خبر بھی نہیں ہو گی۔"

خیال آیا اور اس پر عمل شروع ہو گیا۔ بیوی کی مدد سے اس نے بدنصیب عرب کی لاش کو اسی چٹائی میں لپیٹا جس پر وہ مرا تھا۔ اسے گدھے پر لادا اور دریا کا رخ کیا۔ لیکن بدنصیبی کہ ہمرکاب تھی۔ برخیل کے گھر کے بالکل سامنے ایک نائی رہتا تھا۔ اس کا نام پڈریلو پڈروگو تھا۔ نائیوں کی پوری باتونی برادری میں شاید ہی کوئی نائی اس سے زیادہ باتونی، بدباطن اور شریر ہو۔ اس کا منہ نیولے سے اور ٹانگیں مکڑی کی ٹانگوں سے مشابہ تھیں۔ خوشامد کرنے اور دوسروں کو رسوا کرنے میں وہ آپ اپنا جواب تھا اور دوسروں کے معاملات کی خبر رکھنے اور ان میں دخل درمعقولات کرنے میں اشبیلیہ کا معروف نائی بھی اس کی ہمسری نہ کر سکتا تھا۔ پھر لطف یہ تھا کہ اس کے دل میں بات اتنی دیر بھی نہ ٹھہرتی تھی جتنی دیر چھلنی میں پانی۔ مشہور تھا کہ یہ نائی سوتے میں بھی اپنی ایک آنکھ اور ایک کان کھلا رکھتا ہے کہ جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اسے دیکھتا اور سنتا رہے۔ حقیقت میں یہ عجیب و غریب نائی غرناطہ کے شہر خبرد لوگوں کے لئے ایک سنسنی خیز اخبار کی حیثیت رکھتا تھا اور اسی لئے اس کی دوکان شہر بھر میں گاہکوں کا سب سے بڑا مرجع تھی۔

دخل در معقولات کرنے والے نائی کو معلوم تھا کہ برخیل رات کو دیر سے گھر لوٹا تھا اور اس کی واپسی پر اس کی بیوی نے چیخ پکار مچائی تھی۔ اپنی جاسوسی کھڑکی میں سے جھانک کر اس نے یہ بھی دیکھا تھا کہ نائی کسی عرب کو گدھے سے اتار کر اپنے گھر لے گیا ہے۔ یہ باتیں اتنی عجیب و غریب تھیں کہ اس رات نائی کی آنکھ ذرا دیر کو بھی نہ لگی۔ ہر پانچ منٹ بعد وہ اپنی کھڑکی سے جھانک لیتا کہ شاید کوئی نئی بات نظر آ جائے۔ وہ برابر یہ دیکھتا رہا کہ اس کے غریب ہمسائے کے گھر میں اس رات خلافِ معمول روشنی رہی اور پھر صبح ہوتے ہوتے یہ


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 109


غریب ہمسایہ اپنے گدھے پر کوئی بھاری بوجھ لاد کر دریا کی طرف چلا۔

راز جو نائی کے لئے یہ سب باتیں اتنی عجیب تھیں کہ اس کے دل میں گُدگُدی ہونے لگی۔ اس نے فوراً کپڑے پہنے اور چپکے چپکے بہشتی کے پیچھے ہو لیا۔ اس نے دیکھا کہ دریا کہ کنارے پہنچ کر بہشتی نے گڑھا کھودا اور اس میں کوئی ایسی چیز دفن کی جو لاش سے ملتی جلتی تھی۔

نائی نے جو نئی نئی باتیں دیکھی تھیں وہ اس کی نیند اچاٹ کرنے کے لئے کافی تھیں۔ واپسی پر گھر جانے کے بجائے وہ اپنی دکان میں چلا گیا اور صبح ہونے تک ہر چیز کو الٹ پلٹ کرتا رہا۔ اور پھر حسبِ معمول اپنی کسبت سنبھال کر سیدھا قاضیِ شہر کی حویلی پر پہنچا۔ قاضی ابھی سو کر اٹھا تھا۔ نائی نے اسے کرسی پر بتھا دیا۔ اس کے گلے میں کپڑا لپیٹا۔ اس کی داڑھی کو گرم پانی سے تر کیا اور اپنی ماہرانہ انگلیوں سے بالوں کو نرم کرنے لگا۔

بڈروگو جس نے بیک وقت نائی اور اخبار دونوں کی خدمات اپنے ذمے لے رکھی تھیں، بالوں پر انگلیاں پھیرتے پھیرتے بولا "عجیب دنیا ہے! واقعی کتنی عجیب دنیا ہے! ڈاکہ، قتل اور دفن، سب کچھ ایک ہی رات میں۔"

قاضی چلایا "اے! ہو! تم کیا بک رہے ہو؟"

"جناب!" نائی نے صابن کا ٹکڑا اپنے معزز آسامی کی ناک اور ہونٹوں پر ملتے ہوئے کہا "میں یہ عرض کر رہا تھا۔۔۔۔ میں یہ عرض کر رہا تھا جناب! برخیل غالیشی نے آج رات ایک عرب مسافر کو لوٹا، اسے قتل کیا اور ایک جگہ دفن کر دیا۔۔۔۔ رات کی تاریکی بھی جُرموں پر کیسا پردہ ڈالتی ہے!"

قاضی نے بگڑ کر سوال کیا "لیکن تمہیں یہ سب باتیں کیسے معلوم ہوئیں؟"

"جناب ذرا تحمل فرمائیے! یہ سب باتیں ابھی آپ کو معلوم ہو جائیں گی۔" نائی نے قاضی کی ناک پکڑ کر اس کے رخسار پر استرہ پھیرتے ہوئے جواب دیا۔ اس کے بعد اس نے جو کچھ چند گھنٹے پہلے دیکھا تھا، سب شروع سے آخر تک دہرایا۔ زبان اور ہاتھ دونوں ساتھ ساتھ اپنا کام کرتے رہے۔ ہاتھ نے داڑھی مونڈی، اسے دھویا اور پھر خشک تولیے سے پونچھا۔ زبان عرب مسافر کی لُوٹ، قتل اور دفن کا واقعہ


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 110


سناتی رہی۔

اتفاق کی بات ہے کہ قاضیِ شہر قرطبہ بھر میں اپنے انتہائی تکبر، سخت گیری اور بےایمانی کی وجہ سے بےحد بدنام تھا۔ اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ اس نے نزدیک انصاف کی بڑی اونچی قیمت تھی اور کوئی اسے سونے کی وزنی تھیلیوں کے بغیر نہیں خرید سکتا تھا۔ نائی کی باتوں سے اسے یقین ہو گیا کہ یہ واردات لُوٹ اور قتل کی ہے، اور قتل کسی معمولی چیز کے لئے نہیں کیا جاتا۔ لیکن مجرم کو قانون کی مضبوط گرفت میں کس طرح لایا جائے؟ اس لئے کہ مجرم کو پکڑ کر صرف تختہِ دار کو ممنون کیا جا سکتا تھا اور لوٹی ہوئی دولت پر قبضہ کر کے قاضی کی تجوری بھری جا سکتی تھی۔۔۔۔ اور اس کے مسلکِ انصاف کے نزدیک دوسرا راستہ عدل کے اعلیٰ مقصد سے قریب تر تھا۔ اس لئے اس نے فوراً ہی اپنے معتبر ترین برقنداز کو طلب کیا، کس کا دبلا پتلا اور فاقہ زدہ جسم، اس زمانے کے سرکاری دستور کے مطابق ایک قدیم وضع کے ہسپانوی لبادے میں ملفوف تھا اور جس کے سر پر ایک چوڑی سی کالے رنگ کی ٹوپی تھی، جس کے کنارے اوپر سے مڑے ہوئے تھے۔ ٹانگوں میں ایک کرم خوردہ پاجامہ تھا جس میں سے اس کا لاغر جسم جھلک رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں سفید رنگ کا ایک پتلا سا ڈنڈا تھا، اس کے عہدے اور منصب کا بھیانک نشان۔ قاضی کا حکم سنتے ہی یہ کارگزار برقنداز بدنصیب بہشتی کے گھر جا دھمکا اور تھوڑی دیر میں اسے اور اس کے گدھے کو قاضی کے عدل و انصاف کے حوالے کر دیا۔

قاضی اپنے چہرے پر خوشنت کا حد درجہ بھیانک رنگ چڑھا کر بہشتی پر گرجا "بدنصیب مجرم! کان دھر کر سن۔" قاضی کی گرج سے بےچارے بہشتی کی ٹانگیں لڑکھڑا گئیں۔ قاضی پھر گرجا "کان دھر کر سن لے! جرم سے انکار کرنا بےسود ہے۔ مجھے ہر بات معلوم ہے۔ جو جرم تو نے کیا ہے، اس کا صحیح انعام تختہِ دار ہے لیکن میں رحمدل ہوں اور معقول باتوں کی طرف سے کان بند نہیں کرتا۔ جو آدمی تیرے گھر میں قتل ہوا ہے وہ عرب تھا اور مسلمان تھا اور ہمارے دین کا دشمن۔ یقیناً تو نے اسے اپنے مذہبی جوش میں قتل کیا ہے۔ اس لئے میں تیرے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا چاہتا ہوں۔ اس کا جو مال تیرے ہاتھ آیا ہے، وہ میرے حوالے کر دے تو پھر تجھ سے کوئی بازپرس نہیں ہو گی۔"

غریب بہشتی نے اپنی بےگناہی ثابت کرنے کے لئے ہر طرح کی قسمیں کھائیں۔ سب سینٹوں اور ولیوں


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 111


کو اپنی معصومیت پر گواہ بنایا۔ لیکن افسوس! ان میں سے کسی نے وہاں آنے کی زحمت گوارا نہ کی۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اگر وہ آ کر بہشتی کی طرف سے گواہی بھی دیتے تو قاضی ان کی شہادت پر یقین نہ کرتا۔ بہشتی نے عرب کی موت کا سارا واقعہ بغیر کسی تصنع کے حرف بہ حرف قاضی کے سامنے بیان کیا لیکن بےسود۔ قاضی نے اس سے بہت واضح لفظوں میں پوچھا "کیا تمہارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس مقتول عرب کے پاس نہ سونا تھا، نہ جواہرات جو تمہاری حرص کا باعث بنے؟"

بہشتی نے بڑی عاجزی سے گھبرا کر جواب دیا "حضورِ والا! چونکہ آپ نے مجھے جان کی امان دی ہے اس لئے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ عرب سے مجھے صندل کی ایک ڈبیا کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔۔۔۔ اور یہ صند کی ڈبیا اس نے مرتے وقت مجھے میری خدمت کے انعام میں دی تھی۔"

"صندل کی ڈبیا! صندل کی ڈبیا!" قاضی نے پھر چیخ کر کہا۔ لیکن ساتھ ہی ایک خیال سے اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نےسوچا "اس ڈبیا میں یقیناً بیش قیمت جواہرات ہوں گے۔۔۔۔ وہ ڈبیا کہاں ہے؟ کس جگہ چھپائی ہے تو نے؟"

بہشتی نے جواب دیا "جناب! میرے گدھے کی جھول کے ایک کونے میں! وہ ابھی حضور کی خدمت میں حاضر کر سکتا ہوں۔"

برخیل کی زبان سے بہ مشکل یہ لفظ نکلے تھے کہ پھرتیلا برقنداز جھپٹ کر باہر گیا اور آنکھ جھپکتے صندل کی طلسمی ڈبیا ہاتھ میں لئے آ موجود ہوا۔ قاضی نے کانپتے ہاتھوں سے اسے کھولا۔ اسے یقین تھا کہ ڈبیا میں کوئی بیش بہا خزانہ بند ہو گا۔ لیکن ڈبیا کھلی تو اس میں ایک موم جامے اور موم بتی کے ایک ٹکڑے کے سوا کچھ نہ نکلا۔ قاضی کو سخت مایوسی ہوئی۔

کسی آدمی کو مجرم ٹھہرا کر جب کسی نفع کی امید باقی نہ رہے تو انصاف کو، اسپین جیسے ملک میں بھی، غیر جانب دار ہونا پڑتا ہے۔ قاضی مایوسی کے اثر سے سنبھلا تو اسے یقین کرنا پڑا کہ اس معاملے میں سچ مچ کوئی جان نہیں اور اس لئے اس نے ٹھنڈے دل سے بہشتی کا بیان سنا۔ بیوی کے بیان سے اس کے بیان کی تائید ہوئی۔ قاضی نے اسے بےگناہ سمجھ کر رہا کر دیا اور صندل کی ڈبیا بھی اسے لوٹا دی۔ لیکن بہشتی کا گدھا


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 112


کورٹ فیس اور ہرجانے کے عوض سرکار کی ملکیت ٹھہرا اور پانی کے مٹکوں کی باربرداری پھر بدنصیب غالیسی کا مقسوم و معمول بن گئی۔ وہ پھر صبح سے شام تک مٹی کا وزنی گھڑا لئے الحمرا کے کنویں کے پھیرے کرنے لگا۔

گرمی کی دوپہروں کو برخیل پہاڑی پر چڑھتا ہوتا تو اس کی معمولی خوش مزاجی کا دامن اس کے ہاتھ سے چھوٹ جاتا "کتے کا پلا قاضی! ایک غریب کو ایک دوست کی صحبت سے محروم کر دینا جو اس کی روزی کا ذریعہ اور زندگی کا تنہا ساتھی ہو، کون سی انسانیت ہے؟" وہ چلا اٹھتا۔ اپنی مصیبتوں کے احساس کے ساتھ گدھے کی بےکسی کے تصور سے اس کا جی بھر آتا اور چلا کر کہتا "میرے پیارے رفیق! اب میں تجھے کہاں سے پاؤں؟" اپنے کندھے کا بوجھ اس نے پتھر پر رکھا اور ماتھے کا پسینہ پونچھنے لگا۔ اسے پھر ایکا ایکی گدھے کی یاد نے ستایا "اے میری جان! مجھے یقین ہے کہ تجھے بھی اپنے غریب آقا کی یاد رلاتی اور ستاتی ہو گی۔ اور اے بےکس رفیق! تجھے ضرور پانی کے وہ مٹکے یاد آتے ہوں گے جن کے بوجھ سے اب میرے کندھے ٹوٹ رہے ہیں۔"

غریب برخیل کے دکھوں کا خاتمہ یہیں نہیں ہو جاتا تھا۔ اپنی مشقتوں کے بعد جب وہ گھر لوٹتا تو اس کی بیوی طعنوں سے اس کا کلیجہ چھلنی کر دیتی۔ وہ بار بار اس سے کہتی کہ "میں نے پہلے ہی منع کیا تھا کہ اس مہمان نوازی سے باز آؤ۔ تم نے میری بات نہ مانی اور اس کی یہ سزا بھگتی۔" برخیل کو اس کی زبان درازیوں کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا پڑتا۔ بچے بھوکے ہوتے یا ان میں سے کسی کے کپڑے پھٹے ہوتے تو وہ کچوکے دے کر کہتی "جاؤ! اپنے والد محترم کے پاس جاؤ، جو الحمرا کے شہنشاہ کا وارث ہے اور اس سے کہو کہ شاہی خزانے میں سے تمہیں بھی کچھ دے دے۔"

کسی کو بھلا نیکی کی اتنی سخت سزا کیوں ملی ہوی گی؟ بدنصیب برخیل کے جسم و روح دونوں عذاب میں مبتلا تھے، لیکن وہ اپنی بیوی کی زبان درازیوں کا کوئی جواب نہ دیتا۔ ایک دن جب تھکا ہارا برخیل گھر لوٹا اور اس کی بیوی نے حسبِ معمول طعنوں سے اس کا خیر مقدم کیا تو صبر و ضبط کا پیمانہ چھلک پڑا۔ اس نے طعنوں کا جواب طعنوں سے دینے کی جرأت نہیں کی، لیکن اس کی نظریں صندل کی اس ڈبیا پر جا کر ٹھہر گئیں جو ایک طاق میں پڑی جیسے اس کی بےکسی کا مذاق اڑا رہی تھی۔ اسے اٹھا کر اس نے زور سے زمین پر پٹخا اور چلا کر کہا "منحوس تھا وہ دن جب تو میرے ہاتھ آئی اور جب میں نے تیرے آقا کو اپنے گھر میں پناہ دی!"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

اوشو

لائبریرین
قصص الحمرا


صفحہ ۔۔۔ 113


زمین پر گرتے ہی ڈبیا کا ڈھکن کھل گیا اور موم جامہ باہر نکل کر گر پڑا۔ لپٹے ہوئے موم جامے کو دیکھ کر اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا "کسے خبر ہے کہ موم جامے پر لکھے ہوئے حروف کی کوئی اہمیت ہو۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو عرب اس ڈبیا کی اتنی حفاظت ہر گز نہ کرتا۔" یہ خیال آتے ہی اس نے ڈبیا اٹھائی اور اسے اپنے لبادے میں چھپا لیا۔ اگلے دن جب وہ پانی کا گھڑا لئے بازار سقاطین میں سے گزر رہا تھا تو طنجہ کے ایک مسلمان عطار کی دکان کے سامنے ٹھہر گیا اور اسے موم جامہ دکھا کر اس کی عبارت کا مطلب پوچھا۔

عطار نے عبارت کوغور سے پڑھا، اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر مسکرایا اور کہنے لگا "اس موم جامے پر کسی پوشیدہ طلسمی خزانے کا حال لکھا ہوا ہے۔"

بونا غالیسی کی یہ بات سن کر ہنس پڑا اور کہنے لگا "مجھے اس طلسمی خزانے سے کیا غرض؟ میں کوئی ساحر تو ہوں نہیں جو دفینوں پر قبضہ کر سکوں۔" یہ کہا اور پانی کا گھڑا کندھے پر رکھ کر اپنی پھیری پر چل پڑا۔

لیکن اس شام جب وہ الحمرا کے کنویں کی جگت پر بیٹھا سستا رہا تھا کچھ گپ بازوں کی مجلس گرم ہو گئی اور باتوں باتوں میں مافوق الفطرت طلسمی افسانے بیان ہونے شروع ہو گئے۔ گپ بازوں میں سے ہر ایک مفلس و نادار تھا اس لئے گھوم پھر کو وہ طلسمی خزانے گفتگو کا موضوع بن گئے جو مسلمان بادشاہوں نے الحمرا کے مختلف حصوں میں اور سات تہہ خانوں والے بُرج میں دفن کئے تھے۔"

طلسمی خزانوں کی ان داستانوں کے ذکر نے آج نیک دل برخیل کے دل پر بڑا اثر کیا اور جب وہ الحمرا کے اندھیرے کُنجوں میں ہوتا ہوا اپنے گھر کی طرف آ رہا تھا تو تصور ہی تصور میں ان طلسمی خزانوں کی سیر کر رہا تھا۔ وہ سوچنے لگا "سات تہ خانوں والے بُرج کے نیچے خزانہ چھپا ہوا ہے۔ ممکن ہے اس کا بھید مجھے اس موم جامے کے ذریعے معلوم ہو جائے جو میں نے طنجہ کے عطار کے پاس چھوڑ دیا ہے!" اس تصور کی خوشی میں پانی کا گھڑا گرتے گرتے بچا۔

اس رات وہ بےچینی سے کروٹیں بدلتا رہا اور ان خیالات ے جو اسے سارے دن ستاتے رہے تھے ایک لمحہ بھی اس کی آنکھ نہ جھپکنے دی۔ صبح ہوتے ہی وہ سیدھا عطار کی دکان کی طرف دوڑا اور اس سے اپنے دل کی حالت بیان کی۔ اس نے عطار سے کہا کہ "تم عربی پڑھ سکتے ہو۔ آؤ ہم تم دونوں الحمرا کے بُرج کے نیچے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 114


چلیں اور موم جامے پر لکھے ہوئے طلسم کو آزما کر دیکھیں۔ اگر یہ طلسم بےاثر رہا تو ہماری قسمت! ہم سے ہمارا کچھ چھن نہیں جائے گا۔ اور اگر خوش قسمتی سے ہم کامیاب ہوئے تو خزانے میں دونوں کا آدھا ساجھا۔

عطار برخیل کی باتیں سن کر مسکرایا اور کہنے لگا "میرے بھولے دوست! صرف موم جامے پر لکھی ہوئی عبارت ہی کافی نہں۔ اسے آدھی رات کو ایک خاص طرح کی شمع کی روشنی میں پڑھا جا سکتا ہے اور وہ شمع ہماری دسترس سے باہر ہے اور اس لئے میرے دوست ! اس شمع کے بغیر یہ موم جانہ ہمارے لئے بےکار ہے۔"

"ٹھہرو" غالیسی چلایا "میرے پاس ایسی موم بتی موجود ہے جیسی تم چاہتے ہو۔" یہ کہتے ہی برخیل گھر کی طرف بھاگا اور چند منٹ میں وہ موم بتی لے کر واپس آ گیا جو اسے صندل کی ڈبیا میں ملی تھی۔ عطار نے اسے ہاتھ میں لے کر سونگھا اور بولا "یہ موم بتی نایاب اور بیش قیمت مسالوں سے بنائی گئی ہے۔ موم جامے کی عبارت میں اسی طرح کی موم بتی کا ذکر ہے۔ جب تک یہ بتی جلتی رہتی ہے سنگین اور آہنی دیواریں اور پوشیدہ غار کھلے رہتے ہی اور جو کوئی اس کے بجھنے کے بعد بھی غار کے اندر ہی رہے بس اس کی موت ہے۔ وہ کبھی وہاں سے باہر نہیں نکل سکتا۔

دونوں نے طے کیا کہ طلسم کی تاثیر کی آزمائش اسی رات کو کریں گے۔ اس لئے رات کے سناٹےمیں جب فضا میں الوؤں اور چمگادڑوں کے پروں کی سنسناہٹ کے علاوہ کوئی اور آواز نہیں تھی وہ الحمرا کی پہاڑی پر چڑھ گئے اور گھنے درختوں میں سے گزرتے اس ہیبت ناک بُرج تک پہنچ گئے جس کا ذکر وہ داستانوں اور افسانوں میں بارہا سن چکے تھے۔ لالٹین کی مدھم روشنی میں وہ گھنی جھاڑیوں میں سے الجھتے، پتھریلی زمین سے ٹکراتے اور ٹھوکریں کھاتے بُرج کے نچلے محراب کے دروازے پر پہنچ گئے۔ خوف سے تھر تھر کانپتے ہوئے انہوں نے وہ زینہ طے کیا جو چٹان کو کاٹ کر بنایا گیا تھا۔ اس زینے نے انہیں ایک خالی تہہ خانے میں پہنچا دیا۔ اس تاریک اور مرطوب تہہ خانے میں انہیں ایک اور زینہ ملا جس سے اتر کر وہ ایک اور تہہ خانے میں پہنچ گئے۔ اس طرح انہوں نے یکے بعد دیگرے چار زینے طے کئے اور ایک تہ خانے کے بعد دوسرے میں ہوتے ہوئے آخری تہ خانے میں پہنچ گئے۔ اس تہ خانے کافرش پختہ اور ٹھوس تھا۔ عام طور سے سمجھا جاتا تھا کہ بُرج کے نیچے سات تہ خانے ہیں لیکن روایتی افسانوں نے یہ بات بھی مشہور کر رکھی تھی کہ آخری تین تہ خانوں پر طلسم کا اثر ہے، اس لئے کوئی آدمی ان میں داخل نہیں ہو سکتا۔ چوتھے تہ خانے کی ہوا میں بےحد نمی اور خُنکی تھی اور ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 115


مٹی کی سوندھی بو ناک میں جاتی تھی۔ اس تہ خانے میں روشنی نام کو نہ تھی۔ عطار اور برخیل کچھ دیر بےحس و حرکت کھڑے رہے کہ الحمرا کے ایک گھنٹے میں بارہ بجنے کی آواز آہستہ آہستہ ان کے کانوں میں گونجی۔ گھنٹے کی آواز سنتے ہی انہوں نے موم بتی روشن کی اور تہ خانے میں ایک عجیب و غریب خوشبو ہر طرف پھیل گئی۔

موم بتی کی روشنی میں عطار جلدی جلدی موم جامے کی عبارت پڑھنے لگا۔ عبارت ختم ہوتے ہی تہ خانے میں بادل کی سی گرج پیدا ہوئی۔ ایک زلزلہ سا آیا اور جس فرش پر وہ کھڑے تھے اس کے ایک طرف روشنی میں انہیں ایک اور زینہ دکھائی دیا۔ ڈرتے ڈرتے وہ اس زینے سے اترے اور لالٹین کی بےجان روشنی کے سہارے ایک اور تہ خانے میں پہنچ گئے جس کی دیواروں پر ہر طرف عربی عبارتیں کندہ تھیں۔ تہ خانے کے بیچ میں ایک بہت بڑا صندوق رکھا تھا جو لوہے کی سات مضبوط پیٹیوں سے جکڑا ہوا تھا۔ صندوق کے دونوں طرف ایک ایک مسلح طلسمی پہرہ دار کھڑا تھا، لیکن طلسم کے اثر سے بت کی طرح خاموش اور بےحس و حرکت۔ آہنی صندوق کے سامنے بہت سے مٹکے رکھے تھے جو سونے چاندی کے سکوں اور بیش قیمت جواہرات سے لبریز تھے۔ دونوں نے ان مٹکوں میں سے ایک میں ہاتھ ڈالا تو کہنیوں تک وہ زرد چمکیلے طلائی سکوں میں ڈوب گئے۔ طلائی سکوں کے بیچ بیچ میں انہیں کوئی طوق، کوئی کنگن، کوئی ہار تیرتا نظر آ جاتا۔ دونوں اپنی جیبیں طلائی سکوں اور بیش بہا گہنوں سے بھرتے رہے۔۔۔۔ لیکن وہ خوف سے تھر تھر کانپ رہے تھے اور کبھی کبھی پہرہ داروں کے مجسموں پر ایک نظر ڈال لیتے تھے، جو اسی طرح ساکت و بے حس و حرکت کھڑے برابر ان دونوں کو گھورے جا رہے تھے۔ بالآخر ان کے دلوں پر ایسا خوف طاری ہوا کہ دونوں تہ خانے میں سے نکل کر بھاگے اور ایک دوسرے پر گرتے پڑتے اوپر والے تہ خانے میں جا کر دم لیا۔ موم بتی بجھا دی گئی اور زینے کا دروزہ بادل کی گرج کے ساتھ بند ہو گیا۔

دونوں پر اتنی ہیبت طاری تھی کہ جب تک وہ چاروں تہ خانوں میں سے نکل کر باہر نہ آ گئے اور درختوں میں سے چھن چھن کر آنے والی ستاروں کی روشنی نہ دیکھ لی ان کا سانس دھونکنی کی طرح چلتا رہا۔ دم لینے کے لئے وہ گھاس پر بیٹھ گئے اور خدا کی دی ہوئی اس غیر متوقع نعمت کو آپس میں بانٹ لیا۔ طلسمی خزانے کو کسی اور رات کھنگالنے کی نیت کر کے وہ وہاں سے رخصت ہوئے، اور صندل کی ڈبیا والے طلسم کی تقسیم


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 116


اس طرح کی کہ ایک نے موم جامہ رکھا اور دوسرے نے موم بتی۔ ان کے جی ہلکے تھے اور جیبیں بھاری اور وہ جیسے ہوا کے دوش پر غرناطہ کی طرف اڑے جا رہے تھے۔

پہاڑی سے نیچے اترتے ہوئے سمجھ دار عطار نے سادہ لوح بہشتی کے کان میں چپکے سے ایک بات کہی "عزیز دوست! یاد رکھو کہ جب تک ہم پورے خزانے پر قابض نہ ہو جائیں اور اسے کسی محفوظ جگہ نہ پہنچا دیں اس کا ذکر کسی سے مت کرنا۔ اگر قاضی نے اس کی بھنک بھی سن لی تو سمجھ لو کہ ہم کہیں کے نہ رہیں گے۔!"

غالیسی نے اس کی تائید کرتے ہوئے کہا "بےشک! تم سچ کہہ رہے ہو۔"

عطار نے پھر اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا "میرے دوست! تم یقیناً دانا و بینا ہو اور یقیناً راز کو اپنے سینے میں محفوظ رکھ سکتے ہو۔ لیکن تمہارے بیوی بھی تو ہے۔"

"اسے میں اس بھید کی ہوا بھی نہ لگنے دوں گا۔" برخیل نے اعتماد سے جواب دیا۔

"مجھے تمہاری دور اندیشی اور وعدے پر بھروسا ہے۔" عطار نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔

بھولے بھالے برخیل نے وعدہ تو واقعی بڑے خلوص اور یقین سے کیا تھا لیکن افسوس! بھلا کون ہے جو اپنے راز بیوی سے پوشیدہ رکھ سکے؟ کم از کم برخیل جیسے آدمی تو ہر گز ایسا نہیں کر سکتے، جو اپنی بیوی کو اس کی برائیوں کے باوجود چاہتے بھی ہوں۔ وہ گھر لوٹا تو اس کی بیوی ایک طرف کو اداس بیٹھی تھی۔ اس کے گھر میں گھستے ہی وہ اس پر گرجی "بہت خوب! تم آخر اتنی رات گئے تک آوارہ گردی کرنے کے بعد گھر آ ہی گئے۔ تعجب ہے کہ آج تمہارے ساتھ کوئی عرب مہمان نہیں ہے۔" یہ کہا اور زار و قطار رونے لگی۔ نہ صرف یہ بلکہ اس نے اپنا سینہ بھی پیٹنا شروع کر دیا "کتنی بدنصیب عورت ہوں میں بھی؟ آخر میرا کیا حشر ہو گا؟ میرے گھر کو سرکاری برقنداز اور وکیل لوٹنے پر تلے ہوئے ہیں اور میرا ناکارہ شوہر بچوں کے کھانے پینے کی فکر کرنے کے بجائے دن رات بےدین عربوں کے ساتھ آوارہ گردی کرتا پھرتا ہے۔ ہائے میرے بچے! ان کا کیا انجام ہو گا آخر؟ ہمیں اب سڑکوں پر بھیک پھر کر بھیک مانگنی پڑے گی!"

اپنی بیوی کے بین سن کر سیدھے سادے برخیل کے دل پر چوٹ لگی۔ اس کا جی بھر آیا اور وہ بھی اس کے ساتھ رونے لگا۔ اس وقت اس کے دل کی طرح اس کی جیبیں بھی بھری ہوئی تھیں اور برخیل کے لئے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 117


ضبط ناممکن تھا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور سونے کے تین چار وزنی سکے نکال کر اپنی بیوی کے ہاتھ پر رکھ دئیے۔ غریب عورت حیرت زدہ رہ گئی اور سونے کی اس غیر متوقع جھنکار کا مطلب نہ سمجھ سکی۔ قبل اس کے وہ اپنی حیرت پر قابو پا سکے برخیل نے سونے کی ایک زنجیر نکال کر اس کی آنکھوں کے سامنے نچانی شروع کر دی۔ وہ زنجیر کو نچا رہا تھا اور خوشی سے اس کا دہانہ اتنا کھل گیا تھا کہ اس کے گوشے اس کے کانوں سے جا ملے تھے۔

بیوی اب تک خاموش بیٹھی تھی۔ لیکن اب ضبط نہ کر سکی اور خوف زدہ ہو کر کہنے لگی "معصوم مریم ہماری حفاظت کرے۔ برخیل تم آخر کیا کرتے رہے ہو؟ یقیناً تم نے کسی کو تقل کر کے اسے لوٹا نہیں ہے؟" اس کے دل میں ڈاکے اور تقل کا وہم پیدا ہوا اور اس نےفوراً یقین کی صورت اختیار کر لی۔ قید خانے کی سلاخیں اور پھانسی کا تختہ اس کی نظروں میں پھر گیا اور اس نے دیکھا کہ اس کے پستہ قد شوہر کے گلے میں پھانسی کا پھندا پڑا ہوا ہے۔ تصور کی بنائی ہوئی اس بھیانک تصویر سے وہ اتنی خوفزدہ ہوئی کہ اس پر غشی کے دورے پڑنے لگے۔

غریب برخیل کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کرے اور اپنی بیوی کا وہم دور کر کے اسے کس طرح اطمینان دلائے، سوائے اس کے کہ اپنی خوش نصیبی کا سارا افسانہ اسے سنا دے۔ لیکن تہ خانوں والے خزانے کا حال بتانے سے پہلے اس نے بیوی سے قسمیں اور وعدے لے لئے کہ یہ بھید کسی اور پر ظاہر نہیں کرے گی۔

بیوی کو یہ روداد سن کر جتنی خوشی ہوئی اس کا اندازہ ناممکن ہے۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے شوہر کی گردن میں حمائل کر دئیے اور اسے اتنے زور سے بھینچا کہ اس کا دم گھٹنے لگا۔ نیک دل بہشتی نے خوشی سے دیوانہ ہو کر بیوی سے پوچھا "بتاؤ! اب صندل کی ڈبیا کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ دیکھو، آئندہ کبھی کسی مصیبت زدہ کی مدد کرنے پر مجھے برا بھلا مت کہنا۔"

نیک دل برخیل چٹائی پر لیٹ کر سو گیا اور یہاں اسے اتنا آرام ملا جتنا شاید سمور و سنجاف پر بھی نہ ملتا۔ برخیل تو سو گیا اور اس کی بیوی نے یہ کیا کہ اس کی جیبیں خالی کر کے سونے کے چمکدار سکے اور جواہرات کے زیور چٹائی پر پھیلا کر انہیں گننا شروع کر دیا۔ وہ بُندے، ہار اور کنگن پہن کر آئینے کے سامنے جاتی اور یہ دیکھ کر


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 118


خوشی سے پھلی نہ سماتی کہ جب وہ ان زیوروں کو آزادی سے پہن سکے گی تو کتنی حسین لگے گی۔

اگلے دن نیک دل غالیسیا نے ایک سونے کا سکہ لیا اور بازار سقاطین میں ایک جوہری کے ہاتھ بیچنے لے گیا۔ جوہری جانتا تھا کہ سکہ خالص سونے کا ہے، لیکن اس نے غالیسیا کو اس کی ایک تہائی قیمت دی اور اس ن ے وہی خوشی خوشی قبول کر لی۔ روپے ملے تو غالیسیا نے اپنے بچوں کے لئے کپڑے اور اچھے اچھے کھلونے خریدے اور بازار سے مزے مزے کے کھانے لے کر گھر آ گیا۔ باپ گھر میں لدا پھندا آیا تو بچوں نے اسے گھیر لیا اور ناچ ناچ کر تالیاں بجانے لگے۔ بچوں کی خوشی دیکھ کر غالیسیا کا دل بھی خوشی سے رقص کرنے لگا۔

غالیسیا کی بیوی نے پردہ داری کا وعدہ حیرت انگیز طریقے سے نباہا۔ ایک دن اور رات اپنے چہرے پر رازداری اور اسرار کا پردہ ڈالے وہ ادھر ادھر پھرتی رہی۔ اس کے سینے میں جو حیرت انگیز راز پوشیدہ تھا اس سے اس کا سینہ پھٹا جا رہا تھا لیکن اس نے ضبط سے کام لیا اور عورتوں کی مجلس میں بھی لب پر سکوت کی مہر لگائے رکھی۔ یہ صحیح ہے کہ اس نے باتوں باتوں میں تھوڑی سی شیخی بگھاری اور پرانا لباس پہننے پر عذر کرتے ہوئے اپنی ہم نشینوں کو یہ خبر سنائی کہ اس نے اپنے لئے زردوزی کے کام کا ایک نیا جوڑا بنوایا ہے۔ اس نے اشاورں اشاروں میں یہ بات بھی جتا دی کہ اس کا شوہر صحت کی خرابی کی وجہ سے بہشتی کا پیشہ چھوڑنے والا ہے۔ پھر اس نے یہ کہنے میں کوئی ہرج نہیں سمجھا کہ گرمیاں گزارنے کے لئے وہ جنوبی علاقے میں چلے جائیں گے تاکہ بچوں کو صحت مند ہوا میں رہنے کا موقع ملے اور شہر کی سڑی گرمی سے محفوظ رہ سکیں۔

محلے کی عورتیں یہ باتیں سنتیں تو حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکتیں اور سوچتیں کہ شاید بہشتی کی بیوی کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ وہ جب ان عورتوں کے پاس سے اٹھ کر چلی جاتی تو سب مل کر اس کی شیخی خوری کا مذاق اڑاتیں اور ہنستی رہتیں۔ غریب بہشتن کی باتیں محلے والیوں کے لئے تفریح کا مستقل موضوع بن گئیں۔

گھر سے باہر وہ جس ضبط سے کام لیتی تھی اس سے سچ مچ جیسے اس کا پیٹ پھولنے لگتا تھا۔ اس لئے وہ گھر میں اس ضبط و صبر کی پوری تلافی کر لیتی تھی۔ وہ قیمتی موتیوں کا ہار اپنے گلے میں ڈالتی ، جڑاؤ کنگن ہاتھوں میں پہنتی اور ہیرے کا جھومر سر پر رکھ کر، اپنے پھٹے پرانے کپڑوں میں، کمرے کے اندر اترا اترا کر چلتی رہتی اور تھوڑی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 119


تھوڑی دیر بعد اپنے ٹوٹے ہوئے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے حسن و جمال پر آپ ہی خوش ہو لیتی۔ لیکن اپنے غرور کی سادگی میں ایک دن ضبط کا دامن اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور یہ اندازہ کرنے کے لئے کہ دوسروں پر اس کے بناؤ سنگار کا کیا اثر پڑتا ہے، گھر کی کھڑکی کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی کہ راہ گیر اسے دیکھ سکیں۔

اتفاق کی بات پیڈریو پیڈرگو یعنی دخل درمعقولات کرنے والا نائی اس وقت اپنی دکان میں بےکار بیٹھا تھا۔ لیکن اس بےکاری کی حالت میں بھی اس کی آنکھیں اپنے کام سے غافل نہیں تھیں۔ انہیں سامنے کی کھڑکی میں ہیرے کی چمک نظر آئی۔ دوسرے ہی لمحے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنے ہمسائے کی بیوی کو غور سے دیکھنے کے لئے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور اسے دولہنوں کی طرح سجا بنا دیکھ کر حیرت میں رہ گیا۔ گہنوں کی چمک دمک نے اس کے سینے میں آگ بھڑکا دی۔ وہ اس آگ کو بجھانے کے لئے سیدھا قاضی کی حویلی کی طرف دوڑا۔ تھوڑی ہی دیر میں دبلا پتلا اور حریص برقنداز سقے کے دروازے پر آ دھمکا، اور شام ہونے سے پہلے بدنصیب برخیل کو پھر قاضی کے روبرو پیش کر دیا گیا۔

قاضی نے غضب ناک ہو کر پوچھا "بدمعاش! یہ کیا حرکت ہے؟ تو نے مجھ سے کہا تھا کہ جو عرب تیرے گھر میں مرا اس نے سوائے ایک صندل کی ڈبیا کے اور کچھ نہیں چھوڑا اور اب تیری بیوی اپنے پھٹے پرانے چیتھڑوں پر ہیرے اور موتی پہنے اتراتی پھرتی ہے۔ اب تیری حرمزدگی کی سزا یہ ہے کہ جو دولت تو نے غریب عرب کو قتل کر کے جمع کی ہے وہ سرکاری خزانے میں داخل کر اور خود تختہِ دار پر چڑھنے کے لئے تیار ہو جا، جو تیرا انتظار کرتے کرتے تھک گیا ہے۔"

خوف زدہ بہشتی قاضی کے پیروں پر گر پڑا اور شروع سے آکر تک، بےکم و کاست تہ خانوں والے خزانے کی داستان سنا دی۔ قاضی، برقنداز اور متجسس نائی للچا للچا کر مسلمانوں کے شاہی خزانے کی داستان سنتے رہے۔ برقنداز کو فوراً عطار کی طلبی کے لئے بھیجا گیا۔ وہ بےچارہ بھی قانون کے شکنجے میں پھنس کر ہانپتا کانپتا قاضی کے روبرو حاضر ہوا۔ جب اس نے بہشتی کو وہاں منہ لٹکائے کھڑا دیکھا تو معاملے کی تہہ کو پہنچ گیا۔ اس کے پاس سے گزرتے ہوئے وہ بڑبڑایا "بدنصیب شخص! میں نے اسی دن کے لئے تجھے منع کیا تھا کہ اپنی بیوی کے سامنے زبان مت کھولنا۔"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 120


عطار کے بیان سے بھی لفظ بہ لفظ بہشتی کے بیان کی تائید ہوئی۔ لیکن قاضی یہی ظاہر کرتا رہا کہ اسے دونوں کی بات کا یقین نہیں آیا اور اس لئے پوری تحقیقات اور سخت سزا کی دھمکیاں دیتا رہا۔

"حضورِ والا!" عطار نے، جس کے حواس اب بجا ہو چکے تھے، اپنی ذکاوت سے کام لیتے ہوئے قاضی سے عرض کیا "ذرا تحمل اور مصلحت سے کام لیجیے۔ قسمت نے ہم سے جو فیاضی کی ہے، لڑ جھگڑ کر ہمیں اس پر ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔ اس خزانے کا علم ہم لوگوں کے سوا کسی کو نہیں۔ ہم چاہیں تو اس راز کو پوشیدہ رکھ سکتے ہیں۔ تہ خانے میں اتنی دولت ہے کہ ہم سب کو دولت مند بنا سکتی ہے۔ اگر آپ منصفانہ تقسیم کا وعدہ فرمائیں تو خزانے کا دروازہ آپ پر کھلا ہوا ہے۔ اگر آپ کی طرف سے انکار ہو تو تہ خانہ ہمیشہ بند رہے گا۔"

قاضی نے تنہائی میں برقنداز سے مشورہ کیا۔ وہ اپنے فن کا پرانا شاطر تھا، اسی طرح کا جواب دیا۔ "جب تک آپ کو خزانہ نہ مل جائے، جو وعدہ چائیے کر لیجیے۔ خزانہ آپ کے سامنے آ جائے تو اس پر قبضہ کر لیجیے۔ اگر یہ دونوں ذرا بھی چون و چرا کریں تو انہیں کفر و ساحری کا مجرم ٹھہرا کر سخت تعزیر کی دھمکی دیجیے۔"

قاضی کو مشورہ پسند آیا۔ اس نے اپنی پیشانی پر ہاتھ پھیرا اور عطار سے یوں مخاطب ہوا "جو داستان تم دونوں نے سنائی ہے وہ بڑی عجیب و غریب ہے۔ ممکن ہے یہ سچ ہو لیکن جب تک یہ باتیں اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں مجھے یقین نہیں آ سکتا۔ اس لئے جو کچھ تم نے بیان کیا ہے وہ آج رات کو میرے سامنے کرو۔ اگر جیسا کہ تمہارا بیان ہے تہ خانے میں سے خزانہ نکلا تو اسے ہم مل جل کر تقسیم کر لیں گے اور اس کے بعد یہ معاملہ ختم ہو جائے گا۔ لیکن یاد رکھو! اگر یہ باتیں غلط نکلیں تو مجھ سے کسی رعایت اور مروت کی امید ہر گز نہ مت رکھنا۔ اور اس وقت تم دونوں حراست میں ہو۔"

بہشتی اور عطار ان شرائط پر خوشی سے راضی ہو گئے اس لئے کہ انہیں اپنی صداقت پر پورا یقین تھا۔

آدھی رات کے قریب قاضی، برقنداز اور نائی پوری طرح مسلح ہو کر نکلے۔ عطار اور بہشتی مجرموں کی طرح آگے آگے چلے۔ اس قافلے میں بہشتی کے گدھے کا اضافہ اس لئے کر لیا گیا کہ خزانہ لاد کر لانے میں آسانی ہو۔ وہ لوگوں کی نظروں سے بچے ہوئے بُرج کے قریب پہنچے۔ گدھے کو انجیر کے ایک درخت سے باندھ دیا اور تھوڑی دیر میں چوتھے تہ خانے میں پہنچ گئے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 121


موم جامہ کھولا گیا، شمع روشن کی گئی اور عطار نے موم جامے کی عبارت پڑھی۔ زمین میں ایک زلزلہ سا پیدا ہوا، بادل کی گرج کے ساتھ فرش میں ایک شگاف ہو گیا اور نچلے تہ خانے کا زینہ نظر آنے لگا۔ قاضی، برقنداز اور نائی پر ہیبت سی طاری ہو گئی۔ وہ اپنی جگہ بےحس و حرکت کھڑے رہے اور عطار اور بہشتی پانچویں تہ خانے میں اتر گئے۔ عرب پہرہ دار، اب بھی ساکت وصامت کھڑے خزانے کی نگرانی کر رہے تھے۔ دونوں نے اشرفیوں، موتیوں اور قیمتی جواہرات کے دو مٹکے اٹھائے، بہشتی ایک ایک کر کے انہیں باہر لایا۔ راستے میں ان کے بوجھ سے اس کے قدم کئی جگہ لڑکھڑائے۔ بالآخر مٹکے گدھے پر لاد دئیے گئے۔

عطار نے قاضی سے کہا "اتنا مال ہم سب کو امیر بنانے کے لئے کافی ہے اور اسے ہم بغیر کسی کو شبہ میں ڈالے آسانی سے اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔"

قاضی نے عطار سے پوچھا "کیا تہ خانے میں ابھی اور بھی خزانہ ہ ے؟"

"یقیناً" عطار نے جواب دیا "ابھی تو تہ خانے میں لوہے کا ایک بہت بڑا صندوق ہے جو لبا لب جواہرات سے پُر ہے۔"

قاضی کے منہ میں پانی بھر آیا۔ اس نے بےتابی سے کہا "تو ہمیں وہ صندوق بھی ابھی اپنے ساتھ لے چلنا چاہیے۔"

عطار نے استقلال کے ساتھ جواب دیا "میں اب تہ خانے میں ہر گز نہیں اتروں گا۔ اس وقت ہمارے پاس جتنا مال ہے وہ ضرورت سے زیادہ ہے اور اس سے زیادہ کی ہوس خام خیالی ہے۔"

بہشتی نے عطار کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا "اب میں بھی کسی قیمت پر اندر جانے کو تیار نہیں ہوں۔ اور پھر میرے گدھے میں بھی اس سے زیادہ بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں۔"

قاضی کے حکم اس کی دھمکیاں اور التجائیں سب بےاثر اور بےسود ثابت ہوئیں تو اس نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا "صندوق نکالنے میں میری مدد کرو۔ اس میں جو کچھ نکلے گا وہ ہم تینوں آپس میں تقسیم کر لیں گے۔"

یہ کہا اور تہ خانے میں اتر گیا۔ برقنداز اور نائی بھی بادلِ ناخواستہ لرزتے کانپتے اس کے پیچھے ہو لئے۔

جب عطار نے دیکھا کہ تینوں نچلے تہ خانے میں اپنے کام میں منہمک ہیں تو اس نے موم بتی بجھا دی۔ اس کے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 122


بجھتے ہی بادل گرجا، تہ خانہ بند ہو گیا۔ اور تینوں"مقتدر بزرگ" جیتے جی تہ خانے کے مزار میں دفن ہو گئے۔

اس کے بعد وہ چاروں تہ خانے طے کرتا ہوا تیزی سے باہر نکل آیا۔ بہشتی کی چھوٹی ٹانگوں نے بھی جس حد تک اس کا ساتھ دیا وہ بھی اسی تیزی سے باہر نکل آیا۔

دونوں دم لینے کے لئے تازہ ہوا میں بیٹھ گئے۔ جب سانس ٹھہری تو برخیل نے گھبرا کر عطار سے پوچھا "یہ تم نے کیا کیا؟ ان دونوں کو تہ خانے میں کیوں بند کر دیا؟"

عطار نے یقین اور اعتمادکے لہجے میں جواب دیا "اللہ کی مرضی یہی تھی۔"

"تو کیا اب تم انہیں باہر نہیں نکالو گے؟" بہشتی نے اور زیادہ گھبرا کر سوال کیا۔

"خدا نہ کرے!" عطار نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا۔ "صحیفہِ تقدیر میں لکھا ہوا ہے کہ جب تک کوئی اور آدمی آ کر انہیں طلسم سے رہائی نہ دلائے وہ وہیں قید رہیں گے۔ غرض جو اللہ کی مرضی ہو گی وہ ہو گا۔" یہ کہا اور موم بتی کا بچا ہوا ٹکڑا پہاڑ کی گھنی جھاڑیوں میں دور پھینک دیا۔

حریص قاضی اور اس کے ساتھیوں کو قسمت کے حوالے کر کے عطار اور بہشتی جواہرات سے لدے پھندے گدھے کو ہانکتے ہوئے شہر کی طرف چل دئیے۔ لیکن چلنے سےپہلے نیک دل برخیل نے اپنے چہیتے گدھے کو گلے لگایا اور اسے خوب جی بھر کے پیار کیا۔ بہشتی کی خوشی کی اس وقت کوئی حد نہ تھی اور اسے دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا دشوار تھا کہ یہ خوشی خزانہ ملنے کی تھی یا اپنے بچھڑے ہوئے ساتھی کے ملنے کی۔"

خوش نصیبی کے ان دونوں حصہ داروں نےخدا کی دی ہوئی دولت کو انصاف اور دوست داری کے ساتھ تقسیم کر لیا۔۔۔۔ سوائے اس کے کہ عطار کو جواہرات اور موتیوں کا تھوڑا سا ذوق تھا اس لئے تقسیم کے وقت منتخب موتی اور جواہرات اپنے حصے میں رکھے اور ٹھوس طلائی زیورات بہشتی کو دئیے اور دونوں اس تقسیم سے مطمئن اور خوش تھے۔ دولت پر قابض ہونے کے بعد انہوں نے یہ دانش مندی کی کہ غرناطہ کو چھوڑ کر، جہاں حوادث کا زیادہ اندیشہ اور امکان تھا، دور دور کی سرزمینوں پر جا بسے کہ وہاں اس دولت کو زیادہ سکون اور اطمینان سے صرف کر سکیں۔ عطار افریقہ جا کر اپنے وطن طنجہ میں رہنے لگا اور بہشتی اپنے خاندان سمیت، جس میں اس کا گدھا بھی شامل تھا، پرتگال جا کر وہیں بس گیا اور یہاں اپنی زمانہ شناس بیوی کے مشورے اور ہدایت میں معاشرے میں


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 123


باحیثیت جگہ بنا لی۔ اس کی بیوی نے اس کے لباس کی طرف خاص توجہ کی۔ چھوٹی چھوٹی ٹانگوں میں موزے، جسم پر چُست صدری، سر پر پردار ہیٹ اور پہلو میں تلوار، یہ تھی اس کی نئی وضع۔۔۔۔ اور اس شاندار وضع کی مناسبت سے وان بدروخیل اس کا نیا نام۔ اس کے بچوں کی ننھی منی فوج بھی نئی وردیوں سے لیس ہو کر زیادہ باوقار نظر آنے لگی اور خانم بدروخیل نے ایسے لباس کو اپنی وضع میں داخل کر لیا جس کے حاشیے اور متن پر ہر جگہ زردوزی کا بھاری کام ہوتا تھا۔ سر سے پاؤں تک زیوروں سے لدی ہوئی خانم بدروخیل کو جس کی ہر انگلی میں جواہرات کی چمکیلی، بھڑکیلی انگوٹھیاں ہوتی تھیں، گرد و نواح میں نفاست اور حسنِ ذوق کا معیار سمجھا جانے لگا۔

رہے قاضی اور اس کے دو ساتھی، سو وہ اب بھی سات تہ خانوں والے بُرج کے اندر قید ہیں۔ اسپین میں جب کبھی ذلیل نائیوں، عیار برقندازوں اور حریص قاضیوں کی کمی محسوس ہو گی تو انہیں تلاش کیا جائے گا۔ اور اگر تہ خانے میں رہ کر ایسے وقت کا انتظار ان کا مقسوم ہے تو شاید یہ دن قیامت تک نہ آئے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

اوشو

لائبریرین
قصص الحمرا


صفحہ ۔۔۔ 124


عامِل اور موثِّق کی کہانی


مدتیں گزریں ایک دلیر اور معمر شخص الحمرا کا عامِل تھا۔ کسی لڑائی میں اس کا ایک ہاتھ ضائع ہو گیا تھا اس لئے لوگ عام طور پر اسے عامل "مانکو" کہتے تھے۔ عامل مانکو کو اپنے سپاہی ہونے پر فخر تھا اس لئے وہ اس بڑھاپے میں بھی اپنی مونچھیں تنی ہوئی رکھتا، فوجی وردی پہنتا اور چمک دار پیٹی لگاتا۔

مانکو بےحد متکبر، رسوم و قواعد کا پابند اور اپنے حقوق اور اختیارات کے معاملے میں بےحد سخت اور مُحکم گیر تھا۔ اس کے عہد میں الحمرا کو اسی عظمت و وقار کی نظر سے دیکھا جاتا تھا جو شاہی زمانے میں اس کے ساتھ وابستہ تھا۔ کسی کو اسلحہ لگا کر قصر کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ یہاں تک کہ تلوار یا عصا لے کر بھی اندر جانا منع تھا، تاوقتیکہ تلوار یا عصا لے جانے والا کوئی بہت مقتدر شخص نہ ہو۔ کوئی گھوڑے پر سوار ہو کر الحمرا کے پھاٹک میں داخل نہ ہو سکتا تھا۔

الحمرا کی پہاڑی کا محلِ وقوع یہ ہے کہ وہ شہر غرناطہ کے بالکل بیچ میں اس طرح کھڑی ہے جیسے کسی کے جسم پر بدگوشت۔ اور اس لئے غرناطہ کے حاکم کے لئے یہ بات بےحد تکلیف دہ ہے کہ اس کے علاقے کے عین وسط


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 125


کوئی ایسا شخص موجود ہو جو اپنے معاملات میں پوری طرح صاحبِ اختیار ہو۔ موجودہ صورت میں یہ بات اور بھی زیادہ تکلیف دہ اور پیچیدہ اس لئے ہو گئی تھی کہ بوڑھا عامل بےحد حاسد تھا اور حق اور اختیار کے معمولی سے معمولی معاملے پر بھی مشتعل ہو جاتا تھا۔ پھر یہ کہ قصر کی حدود میں رفتہ رفتہ ایسے بےشمار بدکردار لوگ آباد ہو گئے تھے جو شہر کے باشندوں کو طرح طرح اپنی آوارگی، اور لوٹ کھسوٹ کا شکار بناتے اور قلعہ کی دیواروں کے سایہ میں پناہ گزین ہو جاتے۔

الحمرا کے عامل اور حاکمِ شہر کے درمیان ایک مستقل جنگ اور عداوت کا رشتہ قائم ہو گیا تھا اور اس کی ذمہ داری زیادہ تر عامل کے رویے پر تھی، جو ایک طرح کے احساسِ کمتری کی بنا پر ہمیشہ محسوس کرتا تھا کہ میری عزت اور وقار خطرے میں ہے۔ حاکمِ شہر کا شاہانہ محل الحمرا کے عین دامن میں واقع تھا اور یہاں ہر وقت شاہی گارد کے سپاہیوں، خادموں اور شہر کے رئیسوں اور امیروں کی آمد و رفت کی وجہ سے بڑی چہل پہل اور گہما گہمی رہتی تھی۔ پہاڑی پر بنے ہوئے قلعے کا ایک بُرج قصر کے عین اوپر اس طرح تعمیر ہوا تھا کہ یہاں سے قصر کا صحن صاف نظر آتا تھا۔ اس بُرج پر بوڑھا عامل، اپنی کمر میں تلوار لٹکائے ادھر سے ادھر ٹہلتا رہتا اور جس طرح باز اونچے درخت کی خشک ڈالی پر بنے ہوئے آشیانے میں اپنے صید پر نظر رکھتا ہے اسی طرح حاکم اپنے حریف کی حرکات و سکنات دیکھتا رہتا تھا۔

جب کبھی حاکم کو شہر جانے کی ضرورت پڑتی تو تزک و احتشام سے نیچے اترتا۔ جب وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر جاتا تو اس کا محافظ دستہ اسے حلقے میں لئے ہوتا اور جب ہسپانوی وضع کی منقش اور بھاری بھرکم آٹھ گھوڑوں والی بگھی پر سوار ہو کر جاتا تو پیادے اور سوار، حشم و خدم داہنے بائیں ساتھ چلتے۔ ایسے موقعوں پر حاکم برابر اپنے دل کو اس تصور سے خوش رکھتا تھا کہ راہ گیر اسے بادشاہ کا نائب سمجھ کر اسے خوف اور ستائش کی ملی جلی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ غرناطہ کے بےفکرے اور ظریف اس کی اس نمائش اور شیخی خوری کا مذاق اڑاتے اور ان حقیر اور بےحیثیت لوگوں کی وجہ سے جو قلعہ کے گردونواح میں اس کی رعایا کی طرح آباد تھے اسے "حقیروں کا بادشاہ" کے تضحیک آمیز لقب سے یاد کرتے تھے۔ ان دو جلیل المرتبہ حریفوں کے درمیان اختلاف کی ایک بنا وہ سامان تھا جو اس کے اور اس کے سپاہیوں کی ضرورت کے لئے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 126


شہر میں ہو کر باہر سے آتا تھا۔ عامل اس مال پر چنگی دینے سے انکار کرتا تھا اور حاکم کو چُنگی لینے پر اصرار تھا۔ رفتہ رفتہ عامل الحمرا کی اس رعایت نے ایک وسیع پیمانے پر غیر قانونی درآمد کی صورت اختیار کر لی۔ بہت سے بدکردار قلعے کی حدود میں بس گئے اور عامل اور سپاہیوں کی آڑ میں ناجائز درآمد و برآمد کا ایک مستقل سلسلہ قائم ہو گیا۔

یہ صورتِ حال حاکمِ شہر کے لئے ہر گز قابلِ قبول نہ تھی۔ اس نے اپنے مشیرِ قانونی یا موثق سے، جو انتہائی چالاک اور تیز طرار آدمی تھا، اس معاملے میں مشورہ طلب کیا۔ موثق بوڑھے عامل کو ستا کر اور کسی نہ کسی طرح قانونی الجھن اور پیچیدگی میں پھنسا کر بہت خوش ہوتا تھا۔ اس نے ھاکم کو مشورہ دیا کہ شہر کے پھاٹک سے جو مال اندر لایا جائے سرکاری طور پر اس کا معائنہ ضرور کیا جائے۔ حاکم نے یہ مشورہ قبول کر لیا اور اپنے فیصلے کی اطلاع عامل کو ایک حکم نامے کے ذریعے دے دی۔ عامل بےلاگ قسم کا سپاہی تھا اور اسے سرکاری تکلفات اور حکم ناموں سے سخت نفرت تھی۔ خاص کر یہ حکم نامہ تو ایسا تھا کہ اس نے اس کے آگ ہی لگا دی۔

اس نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے غصے سے کہا "کیا حاکمِ شہر نے اس آدمی کے ہاتھ میں قلم اس لئے دیا ہے کہ ہر روز میرے لئے الجھن کا نیا سامان پیدا کرتا رہے؟ اچھا! میں اس پر یہ ثابت کروں گا کہ تجربہ کار سپاہی اتنی آسانی سے پریشان نہیں ہو جاتے۔"

اس نے کاغذ اور قلم اٹھایا اور شکستہ عبارت میں حاکمِ شہر کے نام ایک خط کھینچ مارا۔ خط میں کسی طرح کی منطق اور دلیل سے کام لئے بغیر صرف اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ جس سامان کے ساتھ الحمرا کا جھنڈا ہو گا اس کی تلاشی نہیں لی جائے گی۔ اور اگر چُنگی کے کسی افسر نے ایسا کیا تو اسے اس جرم کی سخت تعزیر بھگتنی پڑے گی۔

ابھی حاکمِ شہر اور عاملِ الحمرا کے درمیان چُنگی موضوعِ بحث بنی ہوئی تھی کہ اتفاق سے ایک دن شنیل کے پھاٹک پر مال سے لدا ہوا ایک خچر آیا اور خچر والے نے یہ بیان کیا کہ شہر کے بیرونی علاقے میں ہو کر اسے الحمرا جانا ہے۔ ایک تجربہ کار بوڑھا کار پورل خچر کے ساتھ تھا جو عرصے تک عامل الحمرا کی ماتحتی میں کام کر چکا تھا اور پرانی تلوار کی طرح زنگ آلود لیکن پختہ کار تھا۔ عاملِ الحمرا اسے بہت عزیز رکھتا تھا۔

جب مال سے لدا ہوا خچر شہر کے پھاٹک پر پہنچا تو کارپورل نے الحمرا کا جھنڈا اس کی پیٹھ پر نصب


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 127


کر دیا اور اپنے آپ کو عمود کی طرح سیدھا کر کے اور سر کو بھوؤں تک ڈھک کے آگے بڑھا۔ اس کی حالت بالکل اس کتے کی سی تھی جو کسی دوسرے محلے میں پہنچ کر دل ہی دل میں ڈرتا بھی رہتا ہے لیکن حملے کا جواب دینے کے لئے پوری طرح تیار ہوتا ہے۔

پھاٹک پر کھڑے ہوئے سنتری نے آواز لگائی "کون ہے؟ ٹھہر جاؤ۔"

کارپورل نے اپنا منہ پھیرے بغیر کڑک کر جواب دیا "الحمرا کا سپاہی!"

سنتری نے سوال کیا "تمہارے خچر پر کیا سامان ہے؟"

کارپورل بولا "فوجی دستے کے لئے راشن۔"

سنتری نے کہا "ٹھیک ہے! آگے بڑھو!"

کارپورل آگے بڑھ گیا۔ آگے آگے خود اور پیچھے پیچھے اس کا خچر۔ لیکن ابھی وہ مشکل سے چند قدم چلا ہو گا کہ چُنگی کے دفتر سے کئی عہدے دار نکل کر اس کی طرف بڑھے۔ ان میں سے ایک چلایا "اے خچر والے! ٹھہرو اور اپنے سامان کا معائنہ کراؤ۔"

کارپورل اپنے خچر سمیت پلٹ آیا اور چُنگی والوں کے سامنے تن کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے تحکمانہ لہجے میں کہا "الحمرا کے جھنڈے کا احترام کرو۔ یہ سامان عاملِ الحمرا کے لئے ہے۔"

ہمیں نہ عامل کی پروا ہے اور نہ اس جھنڈے کی۔ میں کہتا ہوں کہ رک جاؤ اور سامان کھول کر دکھاؤ۔"

"تمہیں اپنی جان پیاری نہیں تو خچر کو روک لو۔" کارپورل نے یہ کہا اور اپنی بندوق تان کر اپنے خچر سے کہا "بیٹا، آگے بڑھو!"

چُنگی کے افسر نے تیزی سے آگے بڑھ کر خچر کی لگام پکڑ لی۔ کارپورل نے بندوق چلا دی اور چُنگی کا افسر گرتے ہی مر گیا۔

سڑک پر ایک کُہرام مچ گیا۔ لوگوں نے بڈھے کارپورل کو پکڑ لیا اور مکوں، ٹھوکروں اور ڈنڈوں سے اس کی خوب خبر لی، اور جیسا کہ اسپین میں عام طور سے ہوتا ہے مجرم کو قانون کے حوالے کرنے سے پہلے اسے آنے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 128


سزاؤں کا تھوڑا سا مزہ چکھا دیا۔ اس کے بعد اسے زنجیروں میں جکڑ کر شہر کی حوالات میں لے گئے اور خچر کے سامان کو پوری طرح کھنگال کر اسے کارپورل کے دوسرے ساتھیوں کے حوالے کر دیا کہ وہ اسے لے کر الحمرا چلے جائیں۔

بڈھے عامل نے جب اپنے جھنڈے کی توہین اور کارپورل کی گرفتاری کا حال سنا تو اسے سخت طیش آیا۔ کچھ دیر تک قلعے کے ایوانوں میں گرجتا رہا، بُرجوں پر شوروغل مچاتا پھرا اور تلوار ہلا ہلا کر حاکمِ شہر کے قصر پر غصے کی خوب آگ برسائی۔ اور جب غصے کا پہلا طوفان ختم ہو چکا تو اس نے حاکم کے پاس پیغام بھیجا کہ "کارپورل کو فوراً میرے حوالے کر دیا جائے اس لئے کہ جو لوگ میرے ماتحت ہیں ان کے جُرموں کی سزا دینے کا اختیار صرف مجھے ہے۔" حاکمِ شہر نے موثق یا ناظر کی مدد سے، جو اس سارے معاملے سے لطف اندوز ہو رہا تھا عامل کے خط کا طویل جواب دیا اور لکھا کہ جُرم چونکہ شہر کی چار دیواری کے اندر کیا گیا ہے اور سرکاری افسروں میں سے ایک کے خلاف کیا گیا ہے اس لئے فیصلے کا مجاز عامل نہیں بلکہ حاکمِ شہر ہے۔ عامل نے اس جواب کے جواب میں پھر اپنا مطالبہ دُہرایا اور اس جواب الجواب کے جواب میں حاکم نے پہلے سے بھی زیادہ طویل اور قانونی خط لکھا۔ خط و کتابت کا یہ سلسلہ کئی دن جاری رہا۔ عامل کا ہر تازہ خط پچھلے خط سے مختصرلیکن سخت، تُند اور تیز ہوتا اور حاکمِ شہر کا ہر جواب زیادہ طویل، زیادہ نرم، ہلکا اور مدھم ہوتا۔ یہاں تک کہ بوڑھا شیردل سپاہی اس بات پر آگ بگولا ہو گیا کہ اسے برابر قانونی بحثوں کے جال میں پھنسایا جا رہا ہے۔

تیز طرار اور نکتہ داں موثق ایک طرف تو عامل کی پریشانیوں سے پورا لطف اٹھا رہا تھا اور دوسری طرف اس نے کارپورل کے مقدے کی کارروائی جاری کر رکھی تھی، جسے ایک تنگ و تاریک حوالات میں قید کر دیا گیا تھا، جس کی تنہا سلاخ دار کھڑکی میں سے وہ آنے جانے والوں کی ہمدردی وصول کرتا رہتاتھا۔

کبھی نہ تھکنے والے موثق نے کارپورل کے خلاف شہادتوں کا ایک پلندا جمع کر لیا تھا اور کارپورل پوری طرح اس کے بوجھ کے نیچے دبا ہوا تھا۔ اس پر قتل کا جرم ثابت ہوا اور اسے موت کی سزا دی گئی۔

عامل نے کارپورل تک اپنے شدید غم و غصے کا پیغام بھجوایا، جو اب بےمعنی تھا۔ پھانسی کا دن آ پہنچا اور دستور کے مطابق کارپورل کو پھانسی کی رات جیل کے گرجے میں بھیج دیا گیا کہ وہ چاہے تو مرنے سے پہلے اپنے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 129


گناہوں سے استغفار کر لے۔

عامل نے دیکھا کہ اب معاملے میں کوئی جان نہیں رہی تو اس نے اس میں ذاتی دلچسپی لینے کا تہیہ کیا۔ اس نے اپنی سرکاری بگھی نکلوائی اور اپنے محافظ دستے کو ساتھ لے کر الحمرا سے اتر کر شہر میں آیا اور سیدھا موثق کے پاس پہنچا۔ عامل کے بلانے پر موثق اس کے پاس آیا تو اس کا چہرہ فتح مندی کے نور سے چمک رہا تھا۔ اس کے چہرے پر یہ رنگ دیکھ کر عامل کی آنکھیں غصے سے انگارہ ہو گئیں۔ اس نے چلا کر موثق کو سے کہا "میں نے سنا ہے کہ تم میرے ایک سپاہی کو پھانسی دینے والے ہو؟"

موثق نے اختصار کے ساتھ جواب دیا "جو کچھ ہوا ہے قانون کے مطابق اور جو کچھ ہو گا انصاف کی رُو سے۔۔۔۔ اگر حضور پسند فرمائیں تو وہ تحریری شہادت ملاحظہ فرما لیں جو مجرم کے خلاف پیش ہوئی ہے۔"

"لاؤ" عامل نے انتہائی اختصار سےکام لیا۔ موثق فوراً اپنے دفتر میں گیا، کاغذات سے بھری ہوئی ایک قیدک لے کر واپس آیا اور پیشہ ورانہ مہارت سے ایک طویل بیان پڑھنا شروع کر دیا۔ اس دوران میں موثق کے دفتر کے پاس بہت سے لوگ اکٹھے ہو گئے تھے اور دونوں میں باتیں سن رہے تھے۔۔۔۔ اشتیاق سے سننے والوں کی گردنیں آگے کو بڑھی ہوئی اور منہ کھلے ہوئے تھے۔

"دیکھو" عامل نے موثق سے کہا "میری گاڑی میں بیٹھ جاؤ۔ میں اس بھیڑ میں تمہاری بات اچھی طرح نہیں سن سکتا۔" موثق گاڑی میں بیٹھ گیا اور کوچ بان نے جلدی سے دروازہ بند کر دیا۔ چابُک کی ایک تیز آوازہوئی اور بگھی گھوڑے، محافظ سب بےتحاشا الحمرا کی طرف بھاگے۔ مجمع یہ سارا تماشا حیرت سے دیکھتا رہا اور عامل نے الحمرا پہنچ کر موثق کو قلعے کے ایک تاریک اور مضبوط تہ خانے میں ڈال دیا۔

اس کے بعد اس نے فوجی انداز میں صلح کا پرچم حاکمِ شہر کے پاس بھیجا اور قیدیوں کے باہمی تبادلے کی تجویز پیش کی۔۔۔۔ موثق کے بدلے میں کارپورل۔ حاکمِ شہر کا احساسِ خود شناسی بیدار ہوا۔ اس نے عامل کی تجویز حقارت سے رد کر دی اور حکم دیا کہ کارپورل کو دار پر چڑھانے کے لئے محل کے صحن میں سُولی کھڑی کی جائے۔

عامل نے اوپر سے یہ منظر دیکھا تو کہنے لگا "اوہو! یہ بات ہے!" اس نے فوراً حکم دیا کہ قلعے کے ایک بڑے بُرج پر جو محل کے صحن سے پوری طرح نظر آتا ہو ایک سُولی کھڑی کرو۔ فوراً تعمیل ہوئی۔ ساتھ ہی اس نے حاکمِ شہر


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کو پیغام بھیجا کہ "میرے سپاہی کو جب چاہے سُولی دو، لیکن ساتھ ہی ذرا اوپر کی طرف بھی دیکھ لینا کہ تمارے موثق کی روح آسمان کی طرف پرواز کرتی نظر آئے گی۔"

حاکمِ شہر پر کوئی اثر نہ ہوا۔ صحن میں سپاہی سف بستہ کھڑے ہوئے، طبل پٹنے اور گھنٹے بجنے لگے۔ تماشائی سُولی کا تماشا دیکھنے کے لئے ہر طرف جمع ہو گئے۔ ادھر عامل نے بھی اپنی فوج صف بستہ کی اور بُرج اجراس یا گھنٹے والے بُرج سے موثق کا نوحہ بجنے لگا۔

اتنے میں موثق کی بیوی مجمع کو چیرتی پھاڑتی، بچوں کی چھوٹی موٹی فوج کے ساتھ اندر داخل ہوئی اور حاکمِ شہر کے قدموں پر گِر کر رو رو کر کہنے لگی "للہ میرے شوہر کو اپنی خود داری اور عزتِ نفس پر قربان نہ کیجیے اور اس کے بیوی بچوں پر ترس کھائیے۔ آپ عامل کے مزاج سے واقف ہیں۔ اگر آپ نے سپاہی کو پھانسی دی تو میرا شوہر بھی ضرور مارا جائے گا۔"

موثق کی بیوی کے نالۂ و فریاد اور اس کے بچوں کی چیخ پکار نے حاکم کو مغلوب کر لیا۔ کارپورل کو ایک محافظ دستے کی نگرانی میں الحمرا بھیج دیا گیا۔ کارپورل کے جسم پر پھانسی کا لباس تھا، لیکن اس کا سر اونچا تھا اور چہرے پر آہنی عزم۔ معاہدے کے مطابق موثق کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ عامل کے حکم سے وہ ہوشیار اور شاطر ماہرِ قانون تہ خانے سے باہر نکالا گیا۔۔۔۔ زندہ لیکن مُردوں سے بدتر۔ اس کی ساری شیخی اور غرور ہوا میں پرواز کر چکے تھے۔ تھوڑے ہی سے وقفے میں خوف سے اس کے سیاہ بالوں پر سفیدی غالب آ گئی تھی اور اس کا چہرہ سُتا ہوا تھا جیسے اب بھی اسے اپنی گردن میں پھانسی کا پھندا پڑا نظر آ رہا ہے۔

بوڑھا عامل اپنے ہاتھ کو کُولھے پر رکھ کر کھڑا ہو گیا، اس کی بےچارگی پر تبسم کی نظر ڈالی اور اسے مخاطب کر کے کہا "میرے دوست! آئندہ دوسروں کو دار پر چڑھانے کے معاملے میں اتنا جوش ہر گز مت دکھانا اور یاد رکھنا کہ قانون تمہارا طرفدار ہو تب بھی تمہاری زندگی محفوظ نہیں۔ اور ہاں یہ بھی یاد رکھو کہ کسی بوڑھے سپاہی پر اپنے داؤں ذرا سوچ سمجھ کر چلانا۔"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 131


صفحنِ فوّارہ


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
اس کی شکستہ حالی کا پردہ پوش تھا۔ ہمیں دیکھ کر وہ ہماری طرف آیا اور بولا " جناب! کیا میں آپ کو قلعے کی سیر کرا سکتا ہوں " میں سّیاح ہوں اور مجھے آثار قدیمہ کے رسمی رہبروں سے نفرت سی ہے۔ علاوہ بریں مجھے اس نوجوان کا لباس بھی کچھ پسند نہ آیا۔ تاہم میں نے اس سے پوچھا۔
"کیا تم اس جگہ سے اچھی طرح واقف ہو؟"
" جناب مجھ سے زیادہ بھلا اس جگہ سے اور کون واقف ہو سکتا ہے؟ سچ پوچھئیے تو میں الحمرا کا فرزند ہوں"
عام ہسپانیوں کا اندازِ گفتگو بڑا شاعرانہ ہے۔ میں نے سوچا "الحمرا کا فرزند" اس شاعرانہ نام نے فوراً میرے دل میں جگہ کر لی اور نوجوان کا بوسیدہ لباس میری نظر میں محترم بن گیا۔ میرے لئے وہ قصرِ الحمرا کی ویرانیوں کی علامت بن گیا۔ میں نے اپنے رہبر سے چند سوال اور پوچھے۔اور مجھے یقین آ گیا کہ اس نے "فرزند الحمرا" کا لقب بجا طور پر اختیار کیا ہے۔ فتح ہسپانیہ کے بعد سے اس کا خاندان نسلاً بعدنسلاً وہاں رہتا آیا تھا۔ اس کا نام مایتو اکیسمن تھا۔ اس کا نام سن کر میں نے اس سے پوچھا " تو شاید تم پادری اکسیمن کے خاندان سے ہو؟" اس نے سادگی سے جواب دیا " جناب ! ممکن ہے کہ آپ کا خیال صحیح ہو لیکن میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ الحمرا کے بسنے والوں میں ہمارا خاندان سب سے پرانا ہے۔ میں خالص عیسائی ہوں، میرے جسم میں یہودیوں یا مسلمانوں کا ایک قطرہ بھی نہیں اور میرا تعلق کسی اونچے گھرانے سے ہے۔ آپ مجھ سے اس گھرانے کا نام پوچھیں تو نہیں بتا سکتا۔ یہ سب باتیں میرے والد کو اچھی طرح معلوم ہیں۔ قلعے کے اندرہماری جھونپڑی میں ان کی خاندانی ڈھال اب تک موجود ہے۔ "
ہسپانیہ کے باشندوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو اپنا سلسلہ کسی معزز خاندان سے نہ ملاتا ہو۔ لیکن اور سب باتوں سے قطع نظر مجھ پر تو اس لقب نے۔۔۔ فرزند الحمرا۔۔۔ جادو کا اثر کیا تھا۔ اور اس کے لئے میں نے خوشی سے اس کی رہبری کی پیشکش قبول کر لی۔
اپنے نوجوان رہنما کی رہبری میں ہم ایک تنگ گھاٹی میں پہنچے ، جس میں جا بجا حسین کنج تھے۔ گھاٹی کے بیچ میں ایک ڈھلواں رہ گزر تھی، جس میں سے کئی پیچدار پگ ڈنڈیاں کٹ کر ادھر اُدھر جاتی تھیں۔ وہ رہ گزر کے

ریختہ صفحہ 32
کناروں پر جا بجا پتھر کی نشستیں بنی ہوئی تھیں اور فوارے موتی بکھیر رہے تھے۔ ہمارے بائیں طرف الحمرا کے بلند و بالا برج و مینار آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔ وادی کے دوسری جانب ایک اونچی پہاڑی پر کچھ اور برج ان کے مد مقابل بنے کھڑے تھے۔ ہمارے رہبر نے ہمیں بتایا کہ ان برجوں کو قرمزی برج کہتے ہیں اور ان کا یہ نام ان کے قرمزی رنگ کی وجہ سے ہے۔ یہ بات کوئی نہیں جانتا کہ یہ برج کب بنے اور کس نے بنوائے۔ یہ بات البتہ یقینی ہے کہ وہ الحمرا سے بہت پہلے کے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ رومنوں کے بنوائے ہوئے ہیں اور کچھ کے نزدیک وہ فینیقیون کی بستیوں کے آثار ہیں۔
ڈھلوان ، سایہ دار رہ گزار پر چڑھ کے ہم مسلمانوں کے بنوائے ہوئے ایک مربع برج کے قریب پہنچے ، جو الحمرا کے لئے ایک طرح کی فصیل ہے اور قلعہ میں جانے والی شاہراہ یہیں سے ہو کر گزرتی ہے۔ فصیل کے اندر ہمیں کچھ اور بوڑھے اور ناتواں سنتری ملے۔ ان میں سے ایک پھاٹک پر کھڑا پہرہ دے رہا تھا اور باقی اپنے بوسیدہ لبادوں میں ملبوس پتھروں کی بنچوں پر پڑے سو رہے تھے۔ اس پھاٹک کا نام "باب العدل" ہے اور اس کی وجہ تسمیہ یہ ہےکہ مسلمانوں کے عہد میں یہ جگہ ایک ایسی عدالت کے لئے مخصوص تھی جو چھوٹے چھوٹے مقدموں کا فیصلہ کرتی تھی۔ اس شاندار فصیل کی پیش دہلیز نعل کی شکل کے ایک وسیع عربی طرز کے محراب سے بنی ہے، جس کے قوس کی بلندی برج کی نصف بلندی تک پہنچتی ہے۔ محراب کی ڈاٹ پر ایک بہت بڑے ہاتھ کا نقش کندہ ہے اور فصیل کے اندر پیش دہلیز کی ڈاٹ پر ایک بہت بڑی کنجی کی شکل تراش کر بنائی گئی ہے۔ اسلامی تاریخ اور آثار کا علم رکھنے والوں کے نزدیک محراب کی ڈاٹ پر کندہ کیا ہوا ہاتھ پا پنجہ اسلام کے پانچ شرعی اصول کی علامت ہے۔ کنجی ان کے نزدیک اقتدار کی مظہر اور کلید داؤد کی نشانی ہے۔
لیکن فرزند الحمرا نے ان علامتوں کی جو توضیح کی وہ عوام کے کے اس تصور سے مطابقت رکھتی ہے جسے مسلمانوں کی ہر چیز اسرار و افسوں کے رنگ میں ڈوبی دکھائی دیتی ہے اور جس نے مسلمانوں کے اس قصر کی ہر چیز کے گرد اوہام کا جال بن رکھا ہے۔ ما یتو تک یہ بات اس کے بزرگوں سے منتقل ہوتی ہوئی پہنچی تھی کہ ہاتھ اور کنجی وہ ساحرانہ وسیلے تھے جن پر الحمرا کی قسمت کا انحصار تھا ۔ جس مسلمان بادشاہ نے یہ قصر بنایا تھا وہ بہت بڑا ساحر تھا اور اس نے اس کے گرد ایک طلسم باندھا تھا۔ اسی طلسم کی قوت نے اسے اُن تمام طوفانوں اور زلزلوں سے محفوظ رکھا ہے۔ جس سے گرد و پیش

ریختہ صفحہ 33
کی ساری عمارتیں تباہ و برباد ہو گئیں۔ اس تصور اور روایت کے نزدیک اس طلسم کی تاثیر اس وقت تک باقی رہے گی جب تک یہ ہاتھ بڑھ کر کنجی کو اپنی گرفت میں نہ لے لے۔جس دن ایسا ہوا قصر کی ساری عمارت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی اور مسلمان بادشاہوں کے سارے پوشیدہ دفینے لوگوں کو نظر آنے لگیں گے۔
موتیو کی اس ہولناک پیشین گوئی کے باوجود ہم ہمت کر کے اس طلسمی دروازے میں سے گزرے اور دیواروں کے درمیان سے گزرتی ہوئی ایک تنگ گلی میں داخل ہو گئے۔ اس گلی کے راستے اوپر چڑھ کر ہم ایک کھلے میدان میں پہنچے جسے ساحت الاحباب یو حوضوں کا میدان کہتے ہیں۔ اس میدان کا یہ نام ان حوضوں کی وجہ سے پڑا جن میں عرب پہاڑوں کو کاٹ کر ، نہروں کے ذریعے چشموں کا پانی لائے تھے۔ اس جگہ ایک بہت گہرا کنواں بھی ہے جس کا شفاف پانی برف کی طرح ٹھنڈا ہے۔ یہ کنواں عربوں کے ذوق کی اس نفاست اور نزاکت کا نمونہ ہے جس کی قوت سے وہ زمین کا سینہ چیر کر پاکیزہ شفاف پانی تک پہنچتے تھے۔
اس میدان کے سامنے اس قصر کے آثار ہیں جس کی بنیاد چارلس پنجم نے ڈالی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس قصر کی تعمیر کا مقصد مسلمانوں کے قصر کے شکوہ کو گھٹانا اور اس کی آب و تاب کو کم کرنا تھا۔ مسلمان بادشاہ قصر کے جس حصے کو سردیوں میں استعمال کرتے تھے، نیا قصر تعمیر کرنے کے لئے اس کا بیشتر حصہ منہدم کر دیا گیا تھا۔ باب الکبیر کو اینٹیں چن کر بند کر دیا گیا ہے۔ اس لئے ہمیں کونے میں بنے ہوئے ایک چھوٹے سے دروازے میں ہو کر قصر شاہی میں داخل ہونا پڑا۔ چارلس پنجم کا بنایا ہوا قصر، اپنی عظمت اور حُسنِ تعمیر کے باوجود ہمیں ایک گستاخانہ اقدام معلوم ہوا اور ہم اس پر حقارت سے نظر ڈالتے ہوئے اسلامی قصر کے آستاں پر پہنچ گئے۔
قصر کے اندر داخل ہونے سے پہلے ہم تھوڑی دیر باہر ٹہرے۔ ہمارے خود ساختہ رہنما نے ہمیں بتایا کہ شاہی قصر کی نگرانی ایک بوڑھی خاتون کے سپرد ہے۔ جس کا اصلی نام تو بڑا لمبا چوڑا ہے لیکن اسے لوگ عموماً بے تکلفی سے تائی انطونیا کہتے ہیں۔ یہی بوڑھی خاتون سیاحوں کو شاہی محلوں اور باغوں کی سیر کراتی تھی۔ ہم باتیں کر رہے تھے کہ ایک گداز جسم اور سیاہ چشم اندلسی حسینہ نے دروازہ کھولا ۔ موتیو نے چپکے سے میرے کان میں کہا " یہ تائی انطونیہ کی بھتیجی ہے" مجھے یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ یہی حسین پری ہمیں طلسمی قصر کی سیر کرانے پر مامور ہوئی ہے۔ اس حسین رہبر کی رہنمائی میں ہم نے آستاں کے اندر قدم رکھا اور ہمیں یہ محسوس ہوا کہ جیسے کسی جادوگر نے اپنی جادو

ریختہ صفحہ 34
کی چھڑی پھیر کر ماضی کی کسی طلسمی سرزمین میں پہنچا دیا ہے اور کسی عربی افسانے کے پر کیف مناظر ہماری آنکھوں کے سامنے آ گئے ہیں۔ آستان کے باہر جو مناظر ہم ابھی دیکھ چکے تھے ان میں اور اندر کے پرکیف مناظر میں کتنا تضاد تھا۔ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک کشادہ صحن تھا، ڈیڑھ سو فٹ لمبا اور اسی فٹ چوڑا۔ سفید سنگ مرمر کے اس وسیع و عریض صحن کے دونوں جانب ہلکے ہلکے ستونوں کی قطاریں تھیں۔ ایک طرف ستونوں کے سہارے ایک خوبصورت ، جالی دار بارہ دری بنی ہوئی تھی۔ کارنسوں کے حاشیوں اور دیواروں کے مختلف حصوں پر نازک نقش و نگار کنندہ تھے اور ان کے ساتھ کوفی اور عربی خطوں میں جابجا یا تو قصر کے بانی شہنشاہوں کے اقوال درج تھے یا ایسی عبارتیں جن میں ان کے شکوہ و عظمت کی تعریفیں کی گئی تھیں۔ صحن کے وسط میں 24 فٹ لمبا اور 27 فٹ چوڑا اور 5 فٹ گہرا ایک حوض تھا۔ اس حوض میں سنگ مرمر کے دو پیالے بنے ہوئے تھے جن میں سے نکل کر پانی حوض میں آ رہا تھا ۔ اس خوبصورت حوض کا نام البیرقہ تھا۔ اس کے نقرئی پانی میں بے شمار سنہری مچھلیاں پھدکتی پھر رہی تھیں۔ اور کناروں پر لگے ہوئے گلاب کے پھولوں کا عکس اسے اور رنگین بنا رہا تھا۔
البیرقہ کے کشادہ صحن میں ہوتے ہوئے ہم ایک محراب کے نیچے سے گزرے اور اس معروف میدان میں پہنچے جسے شیروں والا صحن کہتے ہیں۔ قصر کے کسی حصے کو دیکھ کر عہدِ شاہی کے حسن و شکوہ کی یاد اتنی تازہ نہیں ہوتی جتنی اس میدان کو دیکھ کر۔ اس لئے کہ صرف یہی حصہ ہے جو زمانے کی دستبرد سے محفوظ رہا ہے۔ اس کے وسط میں وہ حسین فوارہ ہےجس کا ذکر افسانوں میں بھی ملتا ہے اور گیتوں میں بھی۔ سنگِ جراحت کے پیالے اب بھی یہاں پہلے کی طرح چمکدار ہیرے اگل رہے ہیں اور شیروں کے منہ سے اب بھی پانی کی وہ نقرئی نہریں جاری ہیں جو ابی عبداللہ کے عہد میں جاری تھیں۔ وہ بارہ شیر جن کے سہارے یہ دونوں پیالے رکھے ہوئے ہیں البتہ اس شہرت کے مستحق نہیں ہیں جو زمانے نے انھیں دی ہے ۔ ان کی بناوٹ انتہائی بھدی ہے اور وہ غالباً کسی عیسائی قیدی کے بنائے ہوئے ہیں ۔ میدان میں جہاں پہلے سنگ مرمر اور دوسرے قیمتی پتھروں کی روشیں تھیں اب رنگین پھولوں کے تختے ہیں۔ یہ تبدیلی ان فرانسیسیوں کی بدمذاقی کی مظہر ہے جو مسلمانوں کے بعد غرناطہ پر قابض ہوئے تھے۔ شیروں والے میدان کے چوروں طرف عربی طرز کے بنے ہوئے دالان ہیں جن میں سفید

ریختہ صفحہ 35
سنگِ مرمر کے نازک ستون ہیں۔ دالان میں جا بجا طلائی نقوش ہیں اور خیال ہے کہ کسی زمانے میں ستونوں پر بھی سنہری کام بنا ہوا تھا قصر کے اندرونی حصوں کی طرح اس حصے کا طرز تعمیر پُر شکوہ ہونے کے بجائے نفیس و نازک ہے اور ذوق کی نفاست و پاکیزگی اور مزاج کی عیش پسندی کا آئینہ دار ہے۔ دالان اور ستونوں کے جو آثار اس وقت تک باقی ہیں ان کی نزاکت اور دیواروں پر بنے ہوئے نفیس و نازک نقوش کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ چیزیں صدیوں کے سرد و گرم ، زلزلوں کے صدمات، جنگوں کی تباہ کاریوں اور سیاحوں کی دست برد سے کس طرح محفوظ رہیں۔ اس حیرت کا بظاہر ایک ہی جواب ہے کہ سحر و طلسم کی کسی غیر معمولی قوت نے ان کی حٖفاظت کی ہے۔
میدان کے ایک طر ف مرصع پھاٹک ہے۔یہ پھاٹک ایوان بنی سراج میں کھلتا ہے، جو بنی سراج کے ان جانبازوں کے نام سے موسوم ہے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہان قتل کئے گئے تھے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ واقعہ محض افسانہ ہے لیکن ہمارے چھوٹے رہنما کو اس کی تاریخی صداقت پر پورا یقین تھا۔ اس نے اپنے خیال کی تائید میں ہمیں فرش پر پڑے ہوئے چند بڑے بڑے سرخ دھبے دکھائے ۔ عام روایت کے مطابق یہ بنی سراج کے مقتولوں کے خون کے دھبے ہیں، جنھیں کوئی چیز نہیں مٹا سکتی۔
ہمارے رہنما نے جب یہ محسوس کیا کہ ہم اس کی ہر بات کو بلا پس و پیش سچ سمجھ لیتے ہیں تو اس نے ہمیں بتایا کہ شیروں والے میدان میں کبھی کبھی رات کے وقت کچھ دھیمی دھیمی آوازیں سنائی دیتی ہیں جیسے بہت سے لوگ سرگوشی میں باتیں کر رہے ہوں۔ ان دھیمی دھیمی آوازوں میں بعض اوقات دور سے آتی ہوئی زنجیروں کی جھنکار بھی شامل ہو جاتی ہے۔ روایت کے مطابق یہ آواز بنی سراج کے مقتولین کی ہے جن کی روحیں رات کے وقت اپنے مقتل میں آتی اور اپنے قاتلوں کے خلاف اللہ سے انتقام طلب کرتی ہیں۔
یہ آوازیں جیسا کہ بعد میں مجھے پتہ چلا ، اس پانی کی ہیں جو زمین دوز نہروں کے ذریعہ چشموں سے فواروں تک لایا جاتا ہے لیکن میں نے اپنی اس دریافت کا تذکرہ جان بوجھ کر اپنے رہنما اور الحمرا کے فرزند سے نہیں کیا۔
جوں جوں فرزند الحمرا کو اس بات کا یقین ہوتا جاتا کہ اس کی ہر بات کو میں ایمان کی طرح قبول کر لیتا
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
صفحہ نمبر 221

طرف چلی۔ شرمیلی مطربہ آنکھیں نیچی کیے اُس کے پیچھے ہو لی اور محافظوں اور درباریوں کے ہجوم میں سے گزر کر دونوں بادشاہ کے وسیع کمرے میں پہنچے۔ کمرے میں ہر طرف سیاہ پردے پڑے ہوئے تھے۔ کھڑکیاں بند تھیں کہ سورج کی روشنی اندر نہ آ سکے۔ چاندی کے شمعدانوں میں زرد مومی شمعیں روشن تھیں اور کمرے میں دھیمی دھیمی روشنی تھی۔ اس دھیمی روشنی میں ماتمی لباسوں میں لپٹے ہوئے خادموں کے سائے ہر طرف پھیلے ہوئے تھے۔ درباریوں کے چہروں پر غم کی تاریکی چھائی ہوئی تھی اور اُن کے بے آواز قدم اُنھیں اِدھر اُدھر لیے پھر رہے تھے۔ کمرے کے بیچ میں ایک تابوت پر شاہ فلپ کی زندہ لاش پر ہاتھ رکھے، دفن ہونے کے انتظار میں پڑی تھی۔ اُس کی لمبی ناک کی پھنگی کے سوا ہر چیز "کفن" کے اندر چھپی ہوئی تھی۔

ملکہ خاموشی سے کمرے میں داخل ہوئی۔ اُس نے ایک اندھیرے کونے میں پڑی ہوئی تپائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مطربہ سے بیٹھنے اور بربط کے نغمے شروع کرنے کو کہا۔

اُس نے بربط کے تاروں پر پہلے تو کانپتی ہوئی اُنگلیاں پھیریں لیکن آہستہ آہستہ اعتماد پیدا ہوا اور بربط کے تاروں میں سے ایسی نرم، شیریں اور فردوسی موسیقی نکلنی شروع ہوئی کہ سننے والوں کو یقین ہو گیا کہ یہ موسیقی ارضی نہیں سماوی ہے۔ رہا بادشاہ! تو اُسے تو یقین ہی تھا کہ وہ روحوں کی دنیا میں پہنچ چکا ہے اس لیے اُس نے ان نغموں کو حوروں کے نغمے اور آسمانوں کی موسیقی سمجھ کر سنا۔ مطربہ نے نغموں کی لے بدلی اور ساز کی سُریلی جھنکار میں اپنی شیریں آواز بھی شامل کر دی۔ اُس نے ایک ایسا گیت گانا شروع کیا جس میں الحمرا کی دیرینہ عظمتوں اور عرب حکمرانوں کے پرشکوہ کارناموں کا ذکر کیا گیا تھا۔ گیت کے لفظوں میں گانے والے کی روح بھی گھُل گئی تھی، اس لیے کہ الحمرا کی یاد کے ساتھ اصل میں اُس کی محبت کی یاد وابستہ تھی۔ بادشاہ کے ماتمی ایوان میں نغمے نے زندگی کی لہر دوڑا دی۔ نغمہ بادشاہ کے محزون سینے میں جذب ہو گیا۔ اُس نے اپنی گردن اُٹھائی، اِدھر اُدھر نظر دوڑائی اور اپنی سیج پر اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ اُس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بالآخر وہ ایک جست میں کمرے کے فرش پر آ گیا اور فوراً تلوار اور ڈھال طلب کی۔

موسیقی کی فتح یا طلسمی بربط کی فتح مُسلّم ہو گئی۔ غم کا بھیانک سایہ رخصت ہوا اور ایک مردہ انسان کو نئی زندگی ملی۔ شاہی قیام گاہ کے دریچے کھول دیئے گئے۔ تاریک و محزون ایوان میں ہسپانوی دھوپ کا شاندار نور


صفحہ نمبر 222


جگمگانے لگا۔ اور ایکا ایکی سب نظریں حسین مغنّیہ کی طرف اُٹھ گئیں۔۔۔۔۔ بربط اُس کے ہاتھ سے چھٹ کر گر پڑا تھا، وہ خود ڈگمگا کر زمیں پر آ رہی تھی اور دوسرے لمحے اُس کا نازنیں جسم اویس ارکونی کے مضبوط بازوؤں کی گرفت میں تھا۔

چند ہی دن بعد مسرور و شادماں جوڑے کی شادی بڑی دھوم دھام سے رچائی گئی اور "الحمرا کا گلاب" شاہی دربار کی زینت و مسّرت بن گیا۔ "لیکن ذرا ٹھہرو۔۔۔۔ اتنی تیزی اچھی نہیں" میرے کانوں میں قاری کی یہ آواز گونج رہی ہے۔ وہ مجھ سے کہہ رہا ہے "اس طوفانی رفتار سے کہانی کے انجام تک پہنچنا تو بڑا عیب سا ہے۔ پہلے ہمیں یہ بتاؤ کہ عشق نے حسن کے سامنے اپنی اس طویل سرد مہری کا کیا عذر پیش کیا؟"

جواب بڑا آسان ہے۔ وہی پُرانا اور قابلِ عذر کہ اُس کے مغرور اور قدامت پسند باپ نے کسی قیمت پر اُس کی بات نہیں مانی۔ اور پھر یہ کہ جو دو دل سچ مچ ایک دوسرے کے گرویدہ ہوں اُن میں بڑی آسانی سے صُلح ہو جاتی ہے محبت پہلی ہی ملاقات میں سارے گلے شکوے بھُلا دیتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ مغرور، قدامت پسند بوڑھا باپ آخر اب شادی پر کیسے راضی ہو گیا؟

اس کا جواب بھی آسان ہے۔ ملکہ کی بس ایک دو باتیں ہی اُس کے سارے اصولوں اور ضابطوں کو مغلوب کرنے کے لیے کافی تھیں۔ خاص کر اس صورت میں کہ اُس کی ہونے والی بہو بادشاہ اور ملکہ کی توجہ اور محبت اور شاہی انعام و اکرام کا مرکز بن چکی تھی۔ اور پھر یہ کہ اُس کے بربط میں ایک ایسی طلسمی تاثیر تھی کہ سنگین دلوں کو موم بنا لینا اور سر پھروں پر قابو پا لینا اُس کے لیے کوئی مشکل بات نہ تھی۔

اور طلسمی بربط کا انجام آخر کیا ہوا؟

اس بات کا جواب داستان کا سب سے عجیب و غریب حصہ ہے اور اس سے کہانی پر صداقت کی مُہر لگ جاتی ہے۔ بربط کچھ عرصے تک ارکونی خاندان کی ملکیت رہا۔ لیکن لوگوں کا خیال ہے کہ کسی نہ کسی طرح، اطالیہ کے ایک مشہور مغنّی نے محض حسد کی بنا پر اسے غائب کر لیا اور اپنے ساتھ اٹلی لے گیا۔ اُس کے مرنے پر بربط ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں آیا جو اُس کی طلسمی تاثیر سے قطعی ناواقف تھے۔ اُنھوں نے بربط کی چاندی تو پگھلا لی اور اُس نے تار ایک پُرانے رباب میں کَس دیئے۔ رباب کے تاروں میں پہلی جیسی تو نہیں، لیکن تھوڑی بہت طلسمی خوبیاں اب بھی باقی ہیں۔

اور اب ایک بات آپ کے کان میں کہنے کی ہے، لیکن دیکھیے یہ بات کسی اور سے نہ کہیے گا۔۔۔۔ یہ ساری دنیا اب بھی اس رباب کی طلسمی تاثیر میں مبتلا ہے۔۔۔۔ اب بھی محبت کا سودا ہر سر میں سمایا ہوا ہے۔


صفحہ نمبر 223


سیاست کے آخری لمحے


صفحہ نمبر 224

الحمرا کے باشندے

میں نے یہ بات اکثر محسوس کی ہے کہ کسی مقام کو اپنے عروج کے دنوں میں جتنے پرشکوہ و شاندار مکین میسر آئے ہوں اُسے زوال کے دنوں میں اُتنے ہی کمتر اور حقیر مکینوں سے سابقہ پڑتا ہے۔ شاہوں کے محل عموماً آخرکار فقیروں کا مسکن بنتے ہیں۔

الحمرا کا قصرِ شاہی بھی اس وقت زوال کے اِسی دور سے گزر رہا ہے۔ جب کوئی برج منہدم ہوتا ہے تو کوئی نادار اور خستہ حال گھرانا ان منقش ایوانوں میں آ جر چمگادڑوں اور اُلوؤں کا ہمسایہ بن جاتا ہے اور قصر کے دریچوں اور روشندانوں پر پھٹے پُرانے چیتھڑوں کے پرچم لہرانے لگتے ہیں۔

میں نے اُن عجیب و غریب ہستیوں کو جنھوں نے اس قدیم شاہانہ مسکن پر قبضہ جما رکھا ہے اکثر بڑی دلچسپی سے دیکھا ہے اور محسوس کیا ہے کہ شاید یہ منظر انسانی غرور کے ڈرامے کا مضحکہ خیز انجام ہے۔ اور منظر کے مضحکہ خیز تاثر کی تکمیل اُن کرداروں سے ہوتی ہے جو اُن ایوانوں میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ ان کرداروں میں ایک کا نام میریا انطونیر سالونیا ہے، جس نے اپنے آپ کو اس اُجڑی ہوئی سلطنت کی بے تاج ملکہ بنا رکھا ہے۔


صفحہ نمبر 225


یہ پستہ قامت بڑھیا قد میں عام انسانوں سے اتنی چھوٹی ہے کہ بظاہر بالشتیوں اور پریوں کی سر زمین کی مکین معلوم ہوتی ہے اور عجب نہیں کہ اُس کا سلسلہ پریوں کے کسی گھرانے سے ملتا ہو اس لیے کہ آس پاس کے لوگوں میں سے کسی کو اُس کی اصل نسل کا پتہ نہیں۔ انطونیہ سالونیا قصر کے بیرونی زینے کے نیچے ایک کوٹھری میں رہتی ہے۔ وہ پتھر کے سرو چھتّے کے نیچے بیٹھی صبح سے شام تک کچھ نہ کچھ سیتی اور کوئی نہ کوئی گیت کاتی رہتی ہے۔ سیتے ہوئے گاتے رہنا اور ہر رہگیر پر کوئی مزے دار فقرہ چست کرنا یہی اُس کی زندگی کے مشاغل ہیں۔۔۔۔ اس لیے کہ میریا انطونیہ جتنی زیادہ غریب ہے اُتنی ہی زیادہ خوش مزاج ہے۔ فطرت نے اُسے داستان گوئی کے فن کی اتنی مہارت عطا کی ہے کہ بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔ الف لیلہ کی مشہورِ عالم شہرزاد کے سوا شاید ہی اُس کا کوئی ہمسر ہو۔ تائی انطونیہ کی شبینہ مجلسوں میں مجھے کبھی کبھی اس کی داستان سرائی سے لطف لینے کا موقع ملا ہے۔

اس پُراسرار پستہ قد بڑھیا کے قبضے میں پریوں کی دنیا کا کوئی نہ کوئی طلسم ضرور ہے، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اپنی انتہائی پستہ قامتی، بدصورتی اور مفلسی کے باوجود اُسے ساڑھے پانچ شوہروں کی بیوی ہونے کا فخر حاصل ہوا ہے۔ ساڑھے پانچ اس لیے کہ ایک نوجوان شادی کا وعدہ کر کے اُس کی تکمیل کرنے سے پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہو گیا تھا۔

اس مٹتی ہوئی شاہی دنیا میں اگر کوئی انطونیہ کا حریف ہے تو وہ ایک اُونچی ناک والا بوڑھا ہے جو ایک بوسیدہ فرغل، نوکیلا کرمچ کا طرہ دار سُرخ ہیٹ پہنے اِدھر سے اُدھر گھومتا پھرتا ہے۔ وہ جائز طور پر الحمرا کا فرزند ہے اور اس لیے اپنی ساری زندگی، کبھی ایک منصب پر اور کبھی دوسرے پر، الحمرا کی دیواروں کے سائے میں بسر کی ہے۔ گو وہ چوہے سے بھی زیادہ فاقہ مست ہے لیکن اس فاقہ مستی اور مفلوک الحالی میں بھی اپنی عالی نسبی پر نازاں۔ وہ اپنا سلسلہ اُجیلار الشہیر سے ملاتا اور اپنے آپ کو قرطبہ کے فاتح الونسو اُجیلار کے خاندان سے بتاتا ہے۔ یہاں تک کہ اُس نے اپنا نام بھی الونسو اجیلار رکھ چھوڑا ہے۔ حالانکہ قصر کے بے فکروں نے اُسے اپنی طرف سے پادری سانتو کا لقب دے رکھا ہے۔۔۔۔۔ اور مجھے قسمت کی ستم ظریفی پر ہنسی آتی ہے کہ اُس نے اُندلسی شجاعت کے علمبردار الونسو اجیلار کے نام اور منصب کا محافظ اس دریوزہ گر کو بنایا جو قصر کے سر بلند و مغرور سایہ میں فقر و فاقہ کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ لیکن قسمت کے کھیل شاید ہمیشہ سے ایسے ہی رہے ہیں۔ شاید ٹرائے


صفحہ نمبر 226


کے کھنڈروں میں اجاممنون اور اُخیلو کے وارثوں نے بھی حیرانی و سرگرانی کے ایسے ہی دن بسر کیے ہوں گے۔ الحمرا کے باشندوں میں میرے باتونی مصاحب ماتیواکسیمن کے گھرانے والوں نے محض اپنی تعداد کی بنا پر مقام پیدا کر لیا ہے۔ ماتیو کا یہ دعویٰ کہ وہ فرزند الحمرا ہے سر تا سر بے بنیاد نہیں۔ اُس کا خاندان فتح الحمرا کے فوراً بعد سے یہاں آباد ہے اور اس کے افراد کو نسلاً بعد نسلاً قدامت کے اس امتیاز کے ساتھ غریبی بھی ترکے میں ملتی رہی ہے۔ ماتیو کا باپ، الحمرا کے معروف تاریخی درزی کا فرزند ارجمند اور اس نادار گھرانے کا بزرگ ہے۔ اُس کی عمر اس وقت تقریباً ستر سال کی ہے اور اُس قصر کے آہنی پھاٹک کے عین اوپر اپنے رہنے کے لیے سرکنڈوں اور مٹی کی ایک تنگ سی جھونپڑی بنا لی ہے۔ اس مختصر سی جھونپڑی کی کُل کائنات ایک پُرانا جھلنگا، ایک معمولی سی میز، دو تین کُرسیاں اور ایک لکڑی کی الماری ہے، جس میں اس تاریخی خاندان کا یہ بُزرگ اپنے گنے چُنے کپڑوں کے علاوہ اپنے "خاندان کے تبرّکات" محفوظ رکھتا ہے۔ تبرّکات کا یہ سرمایہ اُن کاغذات پر مشتمل ہے جو مختلف نسلوں میں مقدمہ بازی کے سلسلے میں اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اور ان کاغذات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے ظاہری انکسار اور خوش مزاجی کے باوجود اس خاندان کے لوگ مقدمہ بازی کے شائق و دلدادہ رہے ہیں۔ یہ مقدمے ماتیو کے اسلاف اُن بدلگام پڑوسیوں پر دائر کرتے رہے تھے جنہوں نے اس خاندان کی شرافت و نجابت کو شُبہ کی نظر سے دیکھا تھا۔ اور سچ پوچھیے تو اس گھرانے کی عُسرت و ناداری کا سبب بھی اُن کی یہی حد سے بڑھا ہوا خاندانی افتخار ہے۔ اس تنگ و تاریک کُٹیا کیسب سے بڑی دولت وہ ڈھال ہے جو اس کی ایک دیوار پر آویزاں ہے۔ ڈھال پر اُن سب رئیسوں اور امیروں کے خاندانی اسلحوں کے نقش کندہ ہیں جن سے غریبوں کا یہ گھرانا اپنا ناتا جوڑتا ہے۔

رہا خود ماتیو، جس کی عُمر اس وقت کوئی پینتیس سال کی ہے، تو اُس نے پوری کوشش سے خاندانی عُسرت و ناداری کی روایت کو برقرار رکھا ہے۔ اُس کی بیوی اور اُس کے بے شمار بچے گاؤں کی ایک بوسیدہ و فرسودہ جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ وہ کیا کھا کر جیتے ہیں، اس کا علم صرف اُسے ہے جو سب داناؤں کا دانا ہے۔ یہ مسئلہ میرے لیے ہمیشہ معمّہ رہا ہے۔ یہ بات البتہ ظاہر ہے کہ وہ سب زندہ ہیں اور اسی حال میں زندہ رہ کر بظاہر خوش اور مطمئن ہیں۔ میں نے ماتیو کی بیوی کو غرناطہ کی شاہراہ پر اکثر اس طرح مصروفِ خرام دیکھا ہے کہ ایک بچّہ اُس کی گود میں ہے اور آدھے درجن سے کچھ زیادہ بچّے اُس کے آگے پیچھے ہیں، اور اُس کی بڑی لڑکی، جو اب آہستہ آہستہ شباب کی


صفحہ نمبر 227


منزل میں قدم رکھ رہی ہے، اپنے گندھے ہوئے بالوں میں پھول لگائے اس بے غم ظائفے کے ساتھ رقص کُناں ہے۔

لوگوں کی دو قسمیں ہیں جن کے لیے زندگی ایک مسلسل تفریح و تماشا ہے۔۔۔۔۔۔ جو بہت غریب ہیں اور جو بہت امیر ہیں۔ ایک کے لیے یوں کہ اُنہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں اور دوسرے کے لیے یوں کہ اُن کے پاس کچھ کرنے کو نہیں۔ لیکن دنیا میں شاید کوئی طبقہ ایسا نہیں جو کچھ نہ کرنے اور کچھ نہ کر کے جینے کا فن اسپین کے غریب طبقے سے بہتر جانتا ہو۔ اس تن آسانی و سہل انگاری میں آدھا کام آب و ہوا کرتی ہے اور آدھا اُن کی ازلی فطرت۔ ایک ہسپانوی کو گرمیوں میں سایہ دے دیجیے اور سردیوں میں دھوپ اور اس کے علاوہ تھوڑی سی روٹی، تھوڑی سی شراب، ایک پیاز، ایک پرانا فرغل اور ایک ستار اور اس کے بعد اُسے اس سے غرض نہیں کہ دنیا کدھر جا رہی ہے۔ اُس سے مفلسی و ناداری کی باتیں کیجیے تو وہ یہ باتیں بڑی بے نیازی سے سُنے گا۔ مفلسی و ناداری بھی اُسے اتنی ہی عزیز ہے جتنا اپنا پُرانا فرغل۔ وہ صحیح معنوں میں حال مست ہے۔

اور"الحمرا کے فرزند" زندگی کے اِس عملی فلسفے کے بہترین مظہر ہیں۔ جس طرح الحمرا کے مسلمان حکمراں سمجھتے تھے کہ الحمرا اُن کے لیے جنّتِ ارضی ہے۔ اسی طرح ان حال مست "فرزندانِ الحمرا" کو دیکھ کر بارہا میرے دل میں یہ خیال آیا ہے کہ وہ اب نھی اس جنّتِ ارضی میں رہتے ہیں۔ وہ کوئی کام نہیں کرتے، اُن کے کیسے خالی ہیں لیکن وہ مگن ہیں۔ وہ پورے ہفتے بے کار رہتے ہیں لیکن چھُٹی کے دن جی کھول کر تفریح کرتے ہیں جیسے ہفتہ بھر کام کرتے کرتے شل ہو گئے ہوں۔ غرناطہ میں اور اُس کے گرد و نواح میں کوئی تقریب ہو، کوئی میلا ٹھیلا ہو اُس میں اُن کی شرکت ضروری ہے۔ وہ تہواروں کو پہاڑ کی چوٹیوں پر چڑھ کر الاؤ جلاتے ہیں، اور جب خرمن اکٹھے کرنے کا زمانہ آتا ہے تو فصل اور خرمن سے محروم رہ کر بھی چاندنی راتیں رقص و سرود میں گزار دیتے ہیں۔

الحمرا کے ساکنوں کا ذکر ختم کرنے سے پہلے میں یہاں کی ایک عجیب و غریب تفریح کا حال بیان کر دوں۔ میں نے ایک لمبے اور دُبلے پتلے آدمی کو کئی بار الحمرا کے بُرجوں میں ایک بُرج کی چوٹی پر اس طرح پھرتے دیکھا تھا جیسے وہ مچھلیاں پکڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اُس کے ہاتھ میں دو تین بتیاں ہوتیں اور ایسا معلوم ہوتا جیسے وہ چھت پر کھڑا تاروں کا شکار کر رہا ہے۔ میں اس ہوائی مچھیرے کو دیکھتا اور اس کی حرکتوں کا راز میری سمجھ میں نہ آتا۔ لیکن میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب میں نے دوسرے بُرجوں کی چھتوں پر بھی کئی بار اسی طرح کی بتیاں اُچھلنی دیکھیں۔


صفحہ نمبر 228


لیکن بالآخر میرے رہنما نے میری پریشانی دور کی۔

قصہ یوں ہے کہ الحمرا کی ویرانی نے اُس کے بُرجوں کو چِڑیوں اور ابابیلوں کی تفرّج گاہ بنا دیا ہے اور وہ ہزاروں کی تعداد میں ہر وقت اُن کے اِرد گِرد مصروفِ پرواز رہتی ہیں۔ اُن چڑیوں اور ابابیلوں کا شکار کرنے کے لیے الحمرا کے فرزند اپنی ۔۔۔۔۔۔۔ میں کانٹے اور چارہ لگا کر چھتوں پر چڑھ جاتے ہیں گویا اُن کے بے شغل و بے مصرف زندگی نے اُنہیں آسمان پر مچھلیوں کا شکار کھیلنے کا فن سکھا دیا ہے۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ36
ہوں وہ مجھے نئے نئے افسانے سناتا جاتا۔چنانچہ اس نے ایک دن مجھے اپنے پردادا کی زبانی سنا ہوا یہ قصہ سنایا۔
" عرصہ ہوا ایک بوڑھا سپاہی اس خدمات پر تعینات تھا کہ وہ سیاحوں کو الحمرا کی سیر کرائے۔ ایک دن جھٹ پٹے کے وقت شیروں کے میدان میں سے گزرتے ہوئے اس نے ایوان بنی سراج میں کچھ پیروں کی آہٹ سنی۔ سپاہی نے سوچا کہ شاید کچھ اجنبی ایوان میں گھس آئے ہیں اس لئے وہ ان سے باز پرس کرنے کے لئے آگے بڑھا ۔ لیکن ایوان میں پہنچ کر اسے سخت حیرت ہوئی ۔ اس لئے کہ چار مسلمان سردار تلواروں اور زرہ بکتروں سے مسلح ہاتھوں میں چمکیلے جڑاؤ خنجر لئے، ایوان میں امیرانہ شان سے ٹہل رہے تھے۔ مسلح سردار بوڑھے سپاہی کو دیکھ کر اس سے مخاطب ہوئے لیکن سپاہی پر اتنی ہیبت طاری ہوئی کہ وہ سر پر پیر رکھ کر بھاگا اور اس کے بعد پھر کبھی الحمرا میں قدم نہ رکھا۔"
موتیا کا خیال تھا کہ مسلمان سردار بوڑھے سپاہی کو کسی مدفون خزانے کا راز بتانا چاہتے تھے لیکن یہ خزانہ سپاہی کی قسمت میں نہیں تھا۔ اس کے مقابلے میں بوڑھے سپاہی کے ایک جانشین نے زیادہ دانشمندی کا ثبوت دیا ۔ وہ الحمرا میں آیا تو مفلس و نادار تھا لیکن کچھ ہی عرصہ بعد یہاں سے رخصت ہوا تو اس کے پاس خاصی دولت تھی۔ وہ اب بھی ملاگا کے علاقے میں امیرانہ شان سے رہتا ہے اور اس کا شمار وہاں کے رئیسوں میں ہوتا ہے۔اور یہ سب کچھ ان پُر اسرار خزانوں کا صدقہ ہے جن کا بھید اسے عرب سرداروں کی روحوں نے بتایا تھا۔
بوڑھے سپاہی کا یہ قصہ سن کر "فرزند الحمرا " کی رہنامئی کی قدر و قیمت میری نظر میں اور بھی بڑھ گئی۔ مجھے یقین ہو گیا کہ ہمارا رہنما الحمرا کیالحمرا کی اس غیر منقول تاریخ سے پوری طرح واقف ہے، جس کی میری افسانہ پسند طبیعت کو تلاش تھی۔ اس کا دماغ ایسی بے شمار معلومات کا بیش بہا دفینہ تھا جنھیں احتیاط پسند مورّخ اور فلسفی غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
ایوان بنی سراج کے عین مقابل ایک بے حد مرصّع اور مزّین پھاٹک ہے۔ یہ پھاٹک ایک دوسرے ایوان میں کھلتا ہے۔ اس بلند و بالا پھاٹک کی تعمیر انتہائی حسن و نزاکت سے ہوئی ہے۔ اس کا فرش سفید سنگ مرمر کا ہے۔ یہ ایوان" دو بہنوں کا ایوان" کہلاتا ہے اور اس کے نام کے ساتھ کئی شاعرانہ و غیر شاعرانہ افسانے

ریختہ صفحہ 37
وابستہ ہیں۔
اس ایوان کے دونوں طرف قُبّے بنے ہوئے ہیں جن سے بادشاہ استراحت گاہ کا کام لیتے تھے۔ ان قُبّوں میں باہر کی ہلکی روشنی چھن چھن کر اندر آتی ہے۔ قُبّوں کےاندر جا کر کانوں کو ایک طرف شیروں والے فوارے کا فرحت بخش نغمہ سنائی دیتا ہے اور دوسری طرف بُستان لندراخا میں گرنے والے آبشار کی نرم جھنکار گونجتی ہے۔
اس حسین اور سر تا سر مشرقی منظر دیکھ کر تصور گزرے ہوئے رومانوں کی رنگینی میں ڈوب جاتا ہے۔ جالی کے پیچھے کبھی اسے کوئی دستِ سیمیں جنبش کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور کبھی کسی پُر اسرار شہزادی کی چشمِ سیاہ افسوں بکھیتی نظر آتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حسین شہزادیاں کل تک ان قُبّوں میں مکین تھیں۔ لیکن وہ دونوں پُراسرار شہزادیاں آخر کہاں گئیں۔ ثریّا اور لندراخا کہاں ہیں؟مسلمان بادشاہوں کے زمانے کی بنی ہوئی زمین دوز نالیوں کے راستے پہاڑی چشموں کا پانی قصر کے ہر حصے میں بڑی فراوانی سے پہنچتا ہے اور حماموں ، تالابوں اور فواروں میں ہر جگہ اس کی چمک دکھائی اور جھنکار سنائی دیتی ہے۔ پانی سنگ مر مر کے فرش کو شفاف بناتا اور قصر شاہی کے گلستانوں بوستانوں کو شاداب کرتا ہوا اس طویل نہر کا رخ کرتا ہے جو شہر کی طرف جاتی ہے۔ پانی کبھی دھیمے اور کبھی تیز سروں میں اپنے گیت سناتا کبھی نالیوں میں گھنٹیاں بجاتا ، کبھی فواروں میں موتی بکھیرتا الحمرا کے ہر گوشے اور ہر کنج کو رنگ بہار دیتا ہوا مدام اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔
الحمرا کی پہاڑیوں میں رقص کرتی ہوئی فرحت بخژ نسیم اور وادی کے سبزے کی خُنک تازگی میں جو لطف و مسرت ہے اس کا اندازہ صرف انھیں ہو سکتا ہے جنھوں نے جنوبی علاقے میں اپنا مسکن بنایا ہے۔ پہاڑی کے دامن میں بسنے والا غرناطہ جب نصف النّہار میں پگھلتا ہے، سرانوادا کی طرف سے آنے والی سُبک ہوائیں قصر الحمرا کے ایوانوں میں اٹکھیلیاں کرتی پھرتی ہیں اور قصر کا گوشہ گوشہ پھولوں کی شیریں مہک سےمعطّر ہو جاتا ہے۔ گرد و پیش کی ہر چیز خوابِ نوشیں کی دعوت دیتی ہے۔ نیند سے جھپکتی ہوئی بوجھل آنکھیں سایہ دار دریچوں سے روشن وادی کا نظارہ کرتی ہیں اور شاخوں کی سرسراہٹ اور چشموں کی گنگناہٹ لوری بن کر کانوں میں آ بستی ہے۔

ریختہ صفحہ 38
ابی عبداللہ کا تختِ شاہی
ہم نے شعر و رومان کی اس سر زمین کی سیر میں تقریباً سارا دن گزارا اور بادل نخواستہ شام کے قریب اس حسن و دلکشی سے جدا ہو کر شہر واپس آئے۔ رات ایک ہسپانوی سرائے کی بے رنگ و بے کیف تنہائی میں بسر کی اور اگلے دن الحمرا کے گورنر سے جا کر ملے۔ گورنر کے نام ہم جو سفارشی خط لائے تھے وہ اسے دینے کے بعد بڑے جوش و مسرت سے ان مناظر کی تعریف کی جو ہم نے کل کی سیر میں دیکھے تھے۔ باتون باتوں میں ہم نے اس بات پر سخت حیرت ظاہر کی کہ الحمرا کی جنتِ ارضی کو چھوڑ کر گورنر نے شہر کی گھٹی ہوئی فضا میں رہنا کیوں پسند کیا۔ ہماری حیرت پر گورنر کا جواب یہ تھا کہ شہر میں رہ کر اسے سرکاری فرائض کی انجام دہی میں سہولت ہوتی ہے۔آخر میں گورنر نے مسکراتے ہوئے کہا " محلوں میں رہنا بادشاہوں کو زیب دیتا ہے۔ اس لئے کہ انھیں اپنی حفاظت کے لئے مضبوط چار دیواریوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جناب اگر آپ ک ومحلوں میں رہنا اس قدر پسند ہے تو آپ شوق سے الحمرا کے ایوانوں میں قیام فرما سکتے ہیں۔
اپنے مہمانوں سے یہ کہہ دینا کہ میرا گھر آپ کا گھر ہے ، اہلِ اسپین کے حسنِ اخلاق کا ایک ادنےٰ معمول ہے۔

ریختہ صفحہ 39
مہمان اگر بھولے سے بھی گھر کی کسی چیز کی تعریف کر دے تو میزبان فوراً کہتا ہے " یہ چیز آپ کی ہے، لیجئیے حاضرہے" لیکن دوسری طرف اس حسن اخلاق کے جواب میں میزبان کا فرض یہ ہے کہ وہ اس پیشکش کو قبول کر لینے کی بجائے محض شکریہ ادا کرنے پر اکتفا کرے۔ چنانچہ جب گورنر نے ہمارے رہنے کے لئے قصرِ شاہی کی پیشکش کی تو ہم نے مسکرا کر ان کا شکریہ ادا کر دیا۔ لیکن گورنر کی پیشکش میں خلوص تھا۔ اس نے ہمارے شکریے کو تکلف سمجھ کر اپنی پیشکش پر اصرار کیا اور کہا "قصر کے کمرے خالی اور ویران ہیں ۔ لیکن آپ نے وہاں کا قیام پسند فرمایا تو تائی انطونیہ انھیں تھوڑا بہت سجا دے گی اور قیام کے دوران میں آپ کا خیال بھی رکھے گی۔ اگر آپ کو یہ سادہ مہمانی پسند ہے تو شاہی قصر کے ایوان آپ کے لئے حاضر ہیں۔
اس مرتبہ ہم نے تکلف سے کام نہیں لیا ۔ گورنر کا شکریہ ادا کر کے اس سے رخصت ہوئے اور تیزی سے ڈھلوان راستہ طے کر کے خاتون انطونیہ سے ملنے کے لئے باب الکبیر میں ہوتے ہوئے وہاں پہنچ گئے جہاں ہمیں اپنے میزبان سے ملنا تھا۔ لیکن اس مختصر سفر میں ہماری کیفیت بالکل ایسی تھی جیسے ہم خواب دیکھ رہے ہوں۔ایک ایسا خواب جس کی تعبیر ہرگز خوشگوار نہیں ہو گی۔ مگر ایک چیز تھی جس سے ہمارے دل کو ڈھارس تھی۔ ہمیں معلوم تھا کہ خاتون انطونیہ کے گھرانے میں ہمارا ایک دوست ہے ۔ ہم ایک دن پہلے خاتون انطونیہ کی حسین بھتیجی ڈولورس سے مل چکے تھے اور ہمیں یقین تھا کہ اس کی مسکراتی ہوئی سیاہ آنکھیں کل کی طرح آج بھی ہمارا خیر مقدم کریں گی۔
ہم نے خاتون انطونیہ کے دروازے پر دستک دی اور تھوڑی در میں سب مرحلے آسانی سے طے ہو گئے۔ قصر کے دو کمرے بڑی سادگی سے ہمارے لئے سجا دئیے گئے ۔ ہماری دیکھ بھال کے فرائض ننھی ڈولورس کے سپرد ہوئے اور ہم نے اگلے دن سے محل میں رہنا شروع کر دیا۔میں اور میرا ساتھی اس اتفاق و اتحاد سے بادشاہی کرنے لگے کہ بادشاہ بھی ہمارا سکون دیکھتے تو انھیں بھی پر رشک آتا۔ کئی دن یوں ہی گزر گئے۔ یہاں تک کہ میرے دوست کو اپنے سرکاری کاموں کے سلسلے میں میڈرڈ واپس جانا پڑا اور یہ بے تخت و تاج کی حکومت تنہا میرے تصرف میں آ گئی۔
میں کسی ہمسفر اور ہم عناں کے بغیر سیاحی کے لطف اٹھانے کا عادی ہوں۔ اس لئے کئی دن تک لوگوں کی نظر بچا کر بحرِ حیرت میں غرق بحر و افسوں کی اس دنیا کا نظارہ کرتا رہا۔ اس تنہائی میں صرف

ریختہ صفحہ 40
خیال میرا رفیق رہا اور وہ یہ کہ مجھے اپنے قاری کا پورا اعتماد حاصل ہے اور میری باتیں شوق اور یقین کے ساتھ سنی جائیں گی۔ اور اس لئے اپنی اس بے شرکت بادشاہی میں میرے تصور، تخیل اور مشاہدے نے جو کچھ مجھے دکھایا ہے اس کی ایکجھلک اپنے قاری کو بھی دکھاؤں گا۔اگر میرا بیان اس پُر اسرار ماحول کے دل نشین نقش اس کے تصور میں روشن کر سکا تو مجھے یقین ہے کہ میرے ساتھ الحمرا کے رومانی ایوانوں میں کچھ دن بسر کر کے وہ پچھتائے گا نہیں۔
لیکن سحر و افسوں کے اس طلسماتی ماحوؒ کی تصویر پیش کرنے سے پہلے شاید اپنے رہنے سہنے کا تھوڑا سا حال بتانا ضروری ہے۔ میرا رہن سہن ان بادشاہوں کے مقابلے میں یقیناً بہت سادہ تھا جو مجھ سے پہلے اس سر زمین کے آقا رہ چکے تھے۔ لیکن اس سادگی کا قابلِ تسکین پہلو یہ تھا کہ اسے کسی طرح کے انقلاب کا اندیشہ نہیں تھا۔
میرے کمرے گورنر کی اقامت گاہ کے ایک سرے پر، محل کے عین مقابل واقع ہیں اور حوضوں والے وسیع میدان کے رخ کھلتے ہیں۔ کمرے نئی وضع کے بنے ہوئے ہیں۔ میری خوابگاہ کے مقابل والا کنارہ ان نیم افریقی ، نیم ہسپانوی وضع کے چھوٹے چھوٹے مکانوں کے جھنڈ ستٓے ملحق ہے جس میں خاتون انطونیہ اور ان کا گھرانہ رہتا ہے۔ قصر کو صاف ستھرا رکھنے کے عوض خاتون انطونیہ کو سّیاحوں سے انعام لینے اور قصر کے باغوں کے سبب پھل پھول حصبِ دلخواہ برتنے کا حق حاصل ہے۔ گو ان سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً باغ کے پھلوں کی ڈالی گورنر کی نذر کرتی رہیں۔
خاتون انطونیہ کا خاندان تین افراد پر مشتمل ہے۔ ایک خود وہ ، دوسرے ان کا بھتیجا مینول اور تیسری گداز جسم اور کالی آنکھوں والی ننھی ڈولورس ۔ مینول صحیح معنوں میں ہسپانوی خوبیوں کا ہونہار نوجوان ہے۔ وہ کچھ عرصے فوج میں ملازم رہ چکا ہے اور اس توقع پر ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رہا ہے کہ اس کی تکمیل کے بعد وہ قلعہ کا طبّی مشیر مقرر ہو جائے گا۔ ننھی ڈولورس کے متعلق یقین کے ساتھ یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ خاتون انطونیہ کی جانشین اور اس کے بیش قیمت اندوختے کی وارث ہو گی اور اس کے لئے "فرزند الحمرا" اسے بڑے رشک کی نظر سے دیکھتا ہے۔مینول اور ڈولورس آپس میں چچا زاد بھائی بہن ہیں اور اس لئے ہمارے معتبر رہنما کا خیال ہے کہ ڈاکٹری کی
 

سیما علی

لائبریرین
صفحہ نمبر 229
(قصص الحمرا )

ایک دلچسپ مہُم



الحمرا کی خانگی زندگی کا شاید سب سے دلچسپ واقعه تا ئی الطو نیہ کے بھتیجے مینول کا دہ سفر ہے جو اس نےطب کی سند حاصل کرنے کے سلسلے میں کیا تھا ۔۔جیسا کہ میں اپنے ناظرکومیتو کی روایت کی بنا پر بتا چکا ہوں کہ انطونیہ کی بھانجی ڈولرس کے ساتھ اسی کی ہونے والی شادی اور ان دونوں کی آئندہ قسمت کا انحصار بڑی حد تک مینول کی اس سند کے حصول پر تھا۔ اور مینول اور ڈولرس دونوں بڑے شوق سے اس مبارک دن کے منتظر تھے ۔
چنانچه مینول کی روانگی کے کئی دن پہلے سے ننھی ڈولرس نے بڑی تن دہی سے اس کا رختِ سفر تیار کرنا شروع کر دیا ۔ اس نے اس کا سارا ضروری سامان بڑے اہتمام اور صفائی سے باندھنے کے علاوہ اپنے ہاتھ سے مخصوص اندلسی انداز کی ایک سفری صدری بھی تیار کی ۔ روانگی کی صبح الحمرا کے پھاٹک پر ایک مضبوط خچر لا کھڑا کر دیا گیا مینول کو اسی خچر پر اپنا سفر کرنا تھا خچر کا نگران چچا پولو نام کا ایک بوڑھا سپاہی تھا۔ یہ بوڑھا سپاہی بھی الحمرا کے عجائبات میں سے ایک تھا۔ گرم خطوں میں مدتوں کے قیام سے اس
—۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صفحہ نمبر 230
الحمرا کے افسانے

کے چہرے پر ایک خاص طرح کی سختی او ر سیاہی سی آ گئی تھی ۔۔اس کی اونچ ناک اور چھوٹی سی سباه آنکھ اس کے
چہرے کی دوسری اہم نشانیاں تھیں
میں نے اس بڑے سپاہی کو بارہا انتہائی دلچسپی کے ساتھ ایک موٹی سی پرانی کتاب پڑھتے دیکھا تھا ،
جس پر کپڑے کی جلد چڑھی ہوئی تھی۔ جب وہ کتاب پڑھتا تو اس کے دوسرے بوڑھے ہم پیشہ ساتھی سے
گھیر کر بیٹھ جاتے ، کچھ پتھر کی فصیل پر اور کچھ گھاس پر ۔۔۔وہ رک رک کر اور لفظوں پر زور دے دے کرکتاب
کا کوئی نہ کوئی حصہ پڑھتا اور اس کے ساتھی پوری توجہ سے اُسے سنتے۔ کتاب پڑھنے پڑھتے بوڑھا پولو رک جاتا اور پڑھی ہوئی عبارت کی تشریح و توضیح کرکے آگے بڑھتا
اتفاق سے ایک دن مجھے اس کتاب پر نظر ڈالنے کا موقع مل گیا۔ اس عجیب کتاب کا مصنف پادری بنٹو کرونیمو فیجوتھا۔ ہسپانیہ کا سحروطلسم ، سلامنکا اور طلیعہ کے پر اسرار غار، سینٹ پیٹرک کا کفروالحاد اور بعض دوسرے صوفیانہ مطالب اس کتاب کا موضوع تھے۔ کتاب کو ایک نظردیکھنے کے بعدسےاس کے قاری میں میری دلچسپی بہت بڑھ گئی اور میں اس کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے لگا ۔
اس خاص موقع پر یہ چیز میرے لئے بڑی دلچسپی کی تھی که پولونے مینول کے خچر کو کا سیاحانہ مہارت سے سفر کے کا سامان سے آراستہ کیا تھا ۔اُس نے بڑے اہتمام اور خاصی دیر کی محنت کے بعد خچر کی پیٹھ پر ایک کاٹھی جمائی جس کا اگلا اور پچھلا حصہ خاصہ ابھرا ہوا تھا ۔ کا ٹھی کی رکابیں پھاوڑے کی طرح چوڑی چکلی تھیں اور انھیں دیکھ کر یقین ہوتا تھا کہ یہ الحمرا کے قدیم اسلحہ خانے کی باقیات صالحات میں سے ہے ۔
کا ٹھی کے درمیانی حصے میں ایک نرم بال دار بھیڑ کی کھال بچھی تھی ۔کاٹھی کے پچھلے حصے میں ڈولرس کے ہاتھ سے
بندھا ہوا بنڈل آویزاں تھا اور ان سب چیزوں کے اوپر ایک چادر پھیلی ہوئی تھی جس سےبچھانے اور اوڑھنے، دونوں کا کام لیا جاسکتا تھا ۔ اس ساز و ساما ن کا سب سے ا ہم جزو دو خورجیاں تھیں جن میں کھانے پینے کا طرح طرح کا سامان بھرا ہوا تھا اور اس کے ساتھ چمڑے کی ایک بوتل جس میں حسب ضرورت پا نی یا شراب رکھی جا سکے ۔ اور ان سب سے بڑھ کر ایک زنبیل جو بوڑھے سپاہی نے اپنے کندھے
میں لٹکا رکھی تھی مختصر یہ کہ خچر کو ہر طرح کے ساز و سامان سے اس طرح آراستہ کیا گیا تھا جیسے کوئی
 

اوشو

لائبریرین
قصص الحمرا


صفحہ ۔۔۔ 132


عامِل مانکو اور پُراسرار سپاہی


الحمرا کے عامل مانکو کی خود پسندی اور سپاہیانہ سرشت سے جہاں الحمرا کے قلعے کو ایک خود مختار ریاست کی حیثیت حاصل ہوئی وہاں ان بدمعاشوں اور آوارہ گردوں کی وجہ سے جنہوں نے قلعے کو اپنی پناہ گاہ بنا رکھا تھا وہ طعن و طنز کا مستقل اور دائم مرکز بھی رہا۔ لیکن ایک دن ایکا ایکی اس نے الحمرا کی اصلاح کرنے کا تہیہ کیا اور اس کے سپاہی ہر گھر اور ہر رہ گزر میں مشتبہ لوگوں کی جستجو کرنے لگے۔

گرمی کی ایک روشن صبح کو ایک فوجی دستہ، جس کی سرکردگی اس تجربہ کار کارپورل کے ہاتھ میں تھی جس نے موثق والے معاملے میں شہرت حاصل کی تھی، ایک ترمچی اور دو سپاہی جنت العریف کے باغ کی دیوار تلے اس سڑک کے کنارے بیٹھے تھے جو جبل الشمس سے نیچے کی طرف آتی ہے۔ انہوں نے گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز سنی جس کا سوار غیر دلکش مردانہ آواز میں صحیح دھن کے ساتھ ایک پرانا فوجی نغمہ گا رہا تھا۔

ٹاپوں کی آواز کے ساتھ ہی ان کی نظر ایک مضبوط جسم اور سونلائے ہوئے چہرے کے ایک شخص پر پڑی جس کے جسم پر پیدل سپاہی کی بوسیدہ وردی تھی اور جو ایک شاندار عرب گھوڑے کی لگام ہاتھ میں پکڑے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 133


ان کی طرف آ رہا تھا۔ ویران پہاڑی کی طرف سے ایک اجنبی سپاہی کو آتا دیکھ کر کارپورل اپنی جگہ سے اٹھا اور آگے بڑھ کر آواز لگائی۔

"کون جاتا ہے؟"

"ایک دوست!"

"تم کون ہو اور کہاں سے آ رہے ہو؟"

"ایک غریب سپاہی جو بوسیدہ لباس اور خالی جیبوں کا انعام لے کر میدانِ جنگ سے آ رہا ہے۔"

اتنی دیر میں سپاہی اور قریب آ گیا اور انہوں نے ذرا غور سے دیکھا تو اس کے ماتھے پر ایک کالا نشان نظر آیا، جس نے اس کی خشخشی داڑھی کے ساتھ مل کر اس کے بھیانک چہرے کو اور بھی بھیانک بنا دیا تھا۔

کار پورل کے سوالوں کا جواب دے چکنے کے بعد تازہ وارد نے اپنے آپ کو اس بات کا مستحق سمجھ لیا تھا کہ وہ دوسروں سے سوال کر کے ان سے تعارف حاصل کرے۔ اس کا پہلا سوال یہ تھا "پہاڑی کے دامن میں یہ سامنے کون سا شہر نظر آ رہا ہے؟"

تُرمچی نے حیرت زدہ ہو کر سوال کا جواب سوال ہی میں دیا "کون سا شہر؟ کتنی عجیب بات ہے، جبل الشمس کی طرف سے آنے والا ایک شخص ہم سے غرناطہ جیسے عظیم الشان شہر کا نام پوچھ رہا ہے!"

"غرناطہ؟ کیا میں یقین کر لوں کہ تم سچ بول رہے ہو؟"

"تمہارا جی چاہے تو!" تُرمچی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا "تو شاید تمہیں یہ بھی نہیں معلوم ہو گا کہ وہ سامنے الحمرا کے بُرج نظر آ رہے ہیں۔"

"تُّرم کے فرزند!" اجنبی نے ظریفانہ انداز میں کہا "مجھ سے مذاق مت کرو۔ اگر واقعی یہ الحمرا ہے تو میں عامل کو کچھ عجیب و غریب باتیں بتانا چاہتا ہوں۔"

اس مرتبہ کارپورل بولا "تمہیں اس کا موقع ملے گا اس لئے کہ ہم تمہیں عامل ہی کے پاس لئے چل رہے ہیں۔"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 134


اس دوران میں ترمچی نے گھوڑے کی لگام پکڑ لی تھی اور دونوں سپاہیوں نے نووارد کے دونوں ہاتھوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ کارپورل تیزی سے آگے بڑھا اور فوجی کو حکم دیا "فارورڈ۔۔۔۔ مارچ!" اور سب کے سب الحمرا کی طرف چل پڑے۔

ایک بدحیثیت پیدل سپاہی اور ایک شاندار عرب گھوڑے کو الحمرا کے سپاہیوں کی حراست میں دیکھ کر قلعے کی آبادی ان کی طرف متوجہ ہو گئی اور صبح سویرے ہی سے کنوؤں اور چشموں کے گرد اکٹھے ہو جانے والےمجہول انہیں حیرت سے تکنے لگے۔ حوض کی چرخی چلتے چلتے رک گئی اور وہ بھونڈی عورت، جس کے ہاتھ میں خالی گاگر تھی کارپورل اور اس کے مختصر قافلے کو جاتے دیکھ کر رک گئی اور رفتہ رفتہ تماشائیوں کا خاصا ہجوم ان کے پیچھے پیچھے قلعے کی طرف چلنے لگا۔ سب اپنی اپنی سمجھ اور مذاق کے مطابق اس نووارد کے متعلق طرح طرح کے اشارے اور قیافے کرنے لگے۔ ایک بولا "یہ مغرور سپاہی ہے۔" دوسرے نے کہا "نہیں کوئی آوارہ گرد ہے۔" اور تیسرا اندازہ لگا کر چلایا "نہیں! قذاق ہے۔" اور بالآخر کسی نے فیصلہ کُن انداز میں یہ خبر سنائی کہ یہ شخص ڈاکوؤں کے ایک خطرناک گروہ کا سردار ہے اور کارپورل اور اس کے سپاہیوں نے اسے بڑی دلیری سے گرفتار کیا ہے۔" اس پر ایک تجربہ کار بوڑھا بولا "مغرور سپاہی ہو یا ڈاکوؤں کا سردار! ہم تو جب جانیں کہ یہ ہمارے عامل کے پنجوں کی گرفت سے بچ نکلے۔۔۔۔ گو یہ صحیح ہے کہ اس کے ایک ہی ہاتھ ہے۔"

عامل مانکو قلعے کے ایک اندرونی کمرے میں بیٹھا کافی پی رہا تھا۔ اس کا پادری کافی میں اس کا شریک تھا اور ایک سنجیدہ رو غزالیں چشم دوشیزہ جو اس کے میرِ سامان کی بیٹی تھی ان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی۔ لوگوں کا خیال تھا کہ اپنی ظاہری سنجیدگی کے باوجود غزالیں آنکھوں اور گداز جسم والی حسینہ نے عامل کے فولادی دل کے کسی نرم گوشے میں اپنے لئے جگہ بنا لی تھی اور اس پر پوری طرح قابض تھی۔ لیکن خیر! چھوڑئیے ان باتوں کو ہمیں بڑے لوگوں کے ذاتی اور گھریلو معاملات پر اس طرح کی نکتہ چینی کرنے کا کوئی حق نہیں نہیں۔

جب عامل کو اطلاع دی گئی کہ ایک مشتبہ آدمی کو جو قلعے کی حدود میں آوارہ گردی کر رہا تھا، کارپورل اور اس کے سپاہی عامل کے حضور میں پیش کرنے لائے ہیں تو عامل کا سینہ حاکمانہ غرور اور شان سے پھول گیا۔ کافی کی پیالی فربہ دوشیزہ کے ہاتھ میں دے کر اس نے اپنی تلوار منگائی، اسے کمر سے باندھا، مونچھوں پر


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 135


تاؤ دیا اور اونچے تکیے والی شاہانہ کرسی پر بیٹھ کر چہرے پر رعب اور خشونت پیدا کر کے مشتبہ آدمی کو اپنے روبرو طلب کیا۔ اجنبی سپاہی کو اپنے گھیرے میں لئے کارپورل اور اس کے سپاہی اندر داخل ہوئے۔ اجنبی کے چہرے پر خوف و ہراس کے بجائے ایک طرح کی خود اعتمادی تھی۔ اس نے عامل کے خشونت زدہ چہرے اور چبھنے والی تیز نظروں کا جواب نیم باز آنکھوں کے تبسم سے دیا اور اس کی ذرا بھی پروا نہ کی کہ اس کی یہ بےنیازی عامل پر گراں گزرے گی۔

تھوڑی دیر تک خاموشی سے نووارد کا جائزہ لینے کے بعد عامل اس سے مخاطب ہوا "کیوں، مجرم! بتاؤ تمہیں اپنے متعلق کیا کہنا ہے؟۔۔۔۔ تم کون ہو؟"

"ایک سپاہی جو ابھی میدانِ جنگ سے آیا ہے اور سوائے زخموں اور خراشوں کے اپنے ساتھ اور کچھ نہیں لایا۔"

"سپاہی! ہوں! اور جیسا کہ تمہارے لباس سے ظاہر ہے، ایک پیدل سپاہی۔ لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ تمہارے پاس ایک بہت اچھا عرب گھوڑا بھی ہے۔ میرا خیال ہے کہ زخموں اور خراشوں کے علاوہ یہ گھوڑا بھی تم میدانِ جنگ سے لائے ہو۔"

"اگر حضور اجازت دیں تو اس گھوڑے کے متعلق مجھے کچھ عجیب و غریب باتیں بتانی ہیں۔ جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں وہ عجیب و غریب بھی ہے اور اس کا تعلق قلعے کی بہبود، بلکہ پورے غرناطہ کی فلاح و بہبود سے ہے۔ لیکن یہ باتیں یا تو حضور سے تنہائی میں کہی جا سکتی ہیں یا صرف ان منتخب لوگوں کے سامنے جنہیں مقربِ بارگاہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔"

عامل نے کچھ دیر سوچا اور کارپورل اور اس کے سپاہیوں کو باہر ٹھہرنے کی تاکید کر کے رخصت ہونے کا حکم دیا۔ اس کے بعد نووارد سے مخاطب ہو کر کہا "یہ پادری صاحب! میرے معتمد ہیں اور یہ حسینہ بڑی محتاط ہے اور ہر راز کی پوری طرح حفاظت کر سکتی ہے۔"

سپاہی نے حسینہ پر اعتماد اور پسندیدگی کی ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا "حسینہ کے یہاں موجود رہنے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں" یہ کہہ کر سپاہی نے اپنا عجیب و غریب افسانہ شروع کیا۔ سپاہی اپنی ظاہری حیثیت


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 136


کے مقابلے میں زیادہ خوش بیان تھا۔ اس کی باتوں میں خاصی روانی تھی۔ اس نے بات بڑے ادب سے شروع کی۔

"حضورِ والا! جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں، میں سپاہی ہوں اور میدانِ جنگ میں بہت سی سختیوں سے گزرا ہوں۔ میری مدتِ ملازمت ختم ہو چکی تھی اس لئے مجھے فوج سے الگ کر دیا گیا۔ نوکری سے سبکدوش ہونے کے بعد میں اپنے وطن کی طرف روانہ ہوا، جو اندلس کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ کل میں قشتالۂ قدیم کے وسیع میدان میں سے گزر رہا تھا کہ آفتاب غروب ہو گیا۔"

"ٹھہرو!" عامل چلایا "یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ قشتالۂ قدیم یہاں سے تقریباً تین سو میل کے فاصلے پر ہے۔"

سپاہی نے سکون سے جواب دیا "یقیناً! لیکن حضور میں عرض کر چکا ہوں کہ مجھے جناب کی خدمت میں بعض عجیب و غریب باتیں پیش کرنی ہیں اور حضور اگر میری باتوں پر توجہ دیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ باتیں انتہائی عجیب و غریب ہونے کے باوجود سچی ہیں۔"

عامل نے مونچھوں کو مروڑتے ہوئے کہا "اچھا! آگے چلو۔"

سپاہی نے سلسلہِ کلام کو جاری کرتے ہوئے کہا "جوں ہی سورج غروب ہوا میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی کہ سونے کی کوئی جگہ تلاش کروں۔ لیکن جہاں تک میری نظر گئی مجھے دور دور کہیں آبادی کا نشان نہ ملا اور اس لئے میں نے طے کیا کہ فرشِ زمین کو اپنا بچھونا اور اپنے تھیلے کو تکیہ بنا کر سو جاؤں گا۔ حضورِ والا! آپ خود بھی سپاہی رہ چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ خاک کا بستر اور تھیلے کا تکیہ سپاہی کے لئے کوئی تکلیف کی چیز نہیں۔"

عامل نے اثبات میں سر ہلایا اور ایک مکھی کو اڑانے کے لئے جو اس کی ناک کے پاس بھن بھنا رہی تھی اپنی پیٹی سے رومال کھینچا۔

"حضور! میں بات کو طول نہیں دینا چاہتا" سپاہی نے بات جاری کی "مختصر یہ کہ میں کئی میل تک آہستہ آہستہ چلتا رہا یہاں تک کہ ایک پل آ گیا جو ایک گہری ندی پر بنا ہوا تھا۔ ندی گرمی کی شدت سے تقریباً خشک ہو چکی تھی اور اس کے بیچ میں پانی کی ایک باریک لکیر کے سوا اور کچھ باقی نہ تھا۔ پل کے ایک طرف شاہی عہد کا ایک بُرج بنا ہوا تھا، جس کا اوپر کا حصہ قطعی مسمار ہو چکا تھا لیکن نچلا حصہ اب بھی بالکل محفوظ تھا۔ میں نے سوچا کہ رات یہاں آرام سے کٹ جائے گی۔ یہ سوچ کر میں نیچے اترا۔ ندی سے جی بھر کے پانی پیا


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 137


اس لئے کہ پہاڑی ندی کا پانی شفاف، سرد اور شیریں تھا۔ تھیلا کھول کر میں نے روٹی کے بچے کچے ٹکڑے نکالے اور ندی کے کنارے ایک پتھر پر بیٹھ کر انہیں پیاز سے کھانے لگا۔ میں روٹی کھا رہا تھا اور جی ہی جی میں سوچ رہا تھا کہ رات بُرج کے گُنبد میں بڑے آرام سے کٹے گی، اس لئے کہ جیسا حضور خود جانتے ہیں، لڑائی کا مزا چکھے ہوئے سپاہی کے لئے اس سے بہتر آرام گاہ اور کون سی ہو سکتی ہے۔"

عامل نے رومال کو پیٹی کے اندر ٹھونستے ہوئے جواب دیا "اپنے زمانے میں میں نے بھی بہت سی راتیں تکلیف دہ جگہوں پر بڑی خوشی اور اطمینان سے بسر کی ہیں۔"

سپاہی اپنی بات کہتا رہا "میں آہستہ آہستہ روٹی کے سوکھے ٹکڑے چبا رہا تھا کہ میں نے بُرج کے اندر کسی چیز کی آہٹ سنی۔۔۔۔ میں نے غور کیا تو یہ گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز تھی۔ آہستہ آہستہ یہ آواز میرے قریب آتی گئی اور پھر میں نے دیکھا کہ بُرج کے نچلے حصے کے دروزے سے ایک آدمی باہر نکلا جس نے ایک شاندار گھوڑے کی باگ اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی۔ تاروں کی ہلکی روشنی میں میں اسے غور سے نہ دیکھ سکا۔ لیکن اس ویران جگہ پر، بُرج کے کھنڈرات میں رات کے وقت کسی آدمی کی موجودگی مجھے سخت مشتبہ معلوم ہوئی۔ میں نے سوچا ممکن ہے یہ کوئی راہ گیر ہو، کوئی لٹیرا ہو یا قزاقوں کا سردار، لیکن مجھے اس سے کیا؟ میں خدا کا اور اپنی ناداری کا ممنون تھا کہ لٹیرے اور قذاق مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ اس لئے میں سکون سے بیٹھا سوکھے ٹکڑے کھاتا رہا۔

"نووارد اپنے گھوڑے سمیت اس جگہ کے بالکل قریب آ گیا جہاںمیں بیٹھا تھا اور اس لئے اب میں اسے غور سے دیکھ سکتا تھا۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس نے عربوں کا لباس پہن رکھا تھا۔ اس کے سر پر فولاد کا چمکیلا خود اور جسم پر شاندار زرہ بکتر تھی۔ اس کے گھوڑی کی زین اورلگام بھی عربوں کی سی تھی۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا عرب سوار اپنے گھوڑے کو ندی کے کنارے لایا اور گھوڑے نے آنکھوں تک اپنا سر پانی میں ڈال کر اتنا پانی پیا کہ میرے خیال میں اس کا پیٹ پھٹ جانا چاہیے تھا۔"

میں نے عرب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا "اجنبی دوست! تمہارا گھوڑا خوب پانی پیتا ہے۔ گھوڑے کا بےجھجک پانی میں اپنی تھوتھنی ڈال دینا بڑی اچھی علامت ہے۔"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 138


اجنبی نے عربی لہجے میں جواب دیا "اسے خوب سیر ہو کر پ ی لینے دو۔ اسے آج پورے بیس سال بعد پانی پینے کو ملا ہے۔"

میں نے حیرت سے کہا "بخدا! اس نے تو اچھے سے اچھے اونٹوں کو بھی مات کر دیا۔ لیکن خیر ان باتوں کو چھوڑو۔ تم بھی میری طرح سپاہی معلوم ہوتے ہو اور شاید ایک سپاہی کی روکھی سوکھی روٹی میں شریک ہونے میں تکلف نہیں کرو گے؟ حقیقت میں اس سنسنان جگہ پر مجھے ایک ساتھی کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔ اور ساتھی خواہ کیسا ہی ہو، مجھے گوارا تھا۔ علاوہ بریں، جیسا کہ حضور جانتے ہیں، سپاہی کو اس کی کبھی پروا نہیں ہوتی کہ اس کے ہم نشین و ہم جلیس کا مذہب و عقیدہ کیا ہے اور اسی لئے میدانِ جنگ سے باہر ملک اور قوم کے سپاہی دوست اور بھائی ہوتے ہیں۔"

عامل نے پھر اثبات میں سر ہلایا۔

"جی ہاں!تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ میں نووارد کو روکھی سوکھی کھانے کی دعوت دی۔ لیکن اجنبی نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ مجھے اتنی فرصت نہیں کہ کھانے پینے میں ایک لمحہ بھی ضائع کر سکوں۔ مجھے صبح تک بڑی لمبی مسافت طے کرنی ہے۔"

میں نے پوچھا "تمہاری منزلِ مقصود کیا ہے؟"

اس نے جواب دیا "اندلس!"

میں بولا "مجھے بھی اسی طرف جانا ہے۔ کیا تم مجھے ہم سفر بنا سکتے ہو؟ تمہارا گھوڑا مضبوط ہے اور یقین ہے کہ آسانی سے دو آدمیوں کا بوجھ اٹھا لے گیا۔"

سوار فوراً راضی ہو گیا اور شاید انکار اخلاق اور سپاہیانہ طرزِ عمل کے منافی بھی ہوتا ہے، خصوصاً اس صورت میں کہ میں اسے کھانے کی دعوت بھی دے چکا تھا۔ وہ فوراً ہی گھوڑے پر سوار ہوا اور میں اس کے پیچھے بیٹھ گیا۔

"دیکھو ذرا سنبھل کر بیٹھنامیرا گھوڑا ہوا کی طرح جاتا ہے" "ڈرو مت" میں نے جواب دیا اور گھوڑا چل پڑا۔

پہلے آہستہ آہستہ ، پھر دُلکی سے سرپٹ اور سرپٹ سے نہ جانے کیا۔۔۔۔ آندھی، طوفان، بھونچال معلوم ہوتا تھا کہ پہاڑ، درخت، عمارتیں، میدان سب خشک پتوں کی طرح طوفان کے پیچھے رہ گئے ہیں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 139


تھوڑی دیر بعد میں سے سوال کیا "یہ کون سا شہر ہے؟"

"اُشقوبیہ" اس نے کہا۔ اور لفظ کے پوری طرح ادا ہونے سے پہلے ہی اُشقوبیہ کے بُرج ہماری نظر سے اوجھل ہو گئے۔ ہم طوفان کی طرح وادیٔ رملہ کی پہاڑیوں سے گزرے اور ہوا کی طرح اسکوریال کو طے کرتے ہوئے میڈرڈ کی حدوں میں داخل ہو گئے اور پھر افسوں کی طرح یہاں سے گزر کر لامنشا کے میدانوں پر چھاپا مارا۔ پہاڑیوں، وادیوں، شہروں اور بُرجوں کو محوِ خواب چھوڑتے ہوئے اور میدانوں اور دریاؤں کو ستاروں کی دھیمی روشنی میں چمکتا چھوڑ کر ہم یہ طوفانی سفر طے کرتے رہے۔"

"حضور کی سمع خراشی ہو رہی ہے اس لئے مختصراً عرض ہے کہ ایکا ایکی سوار ایک پہاڑ کے دامن میں آ کر رک گیا اور بولا "لو! ہم منزلِ مقصود پر آ پہنچے۔" میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی لیکن کہیں آبادی کا نشان نہ پایا، سوائے ایک غار کے جو ہمارے سامنے منہ پھاڑے کھڑا تھا اور اس غار کے اندر بہت سے آدمی، عربی لباسوں میں ملبوس ادھر ادھر آ جا رہے تھے۔۔۔۔ کچھ سوار، کچھ پیدل۔ اور ان کے علاوہ ہر سمت سے بےشمار عرب آ آ کر اس طرح غار کے اندر داخل ہو رہے تھے جیسے چھتے میں شہر کی مکھیاں۔ قبل اس کے کہ میں اپنے ساتھی سے کچھ پوچھ سکوں اس نے اپنے گھوڑے کو ایڑ دی اور دوسرے سواروں کے ساتھ تیزی سے غار میں جا گھسا۔ ہم گھوڑے پر سوار، ایک پتھریلے، پیچدار راستے سے ہو کر جیسے پہاڑ کی تہ میں پہنچ گئے۔ آگے بڑھے تو دھیمی دھیمی روشنی نظر آئی، جیسے صبح کے دھندلکے میں، لیکن یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ وہ روشنی کس چیز کی ہے۔ ہم اسی طرح آگے بڑھتے رہے۔ ہمارے داہنے بائیں بےشمار بڑے بڑے دالان بنے ہوئے تھے، جیسے کسی بڑی فوجی چھاؤنی، ان دالانوں میں سے کچھ کی دیواروں پر ڈھالیں، خود، زرہ بکتر، برچھیاں، تلواریں اور پیش قبض بڑے سلیقے سے سجے ہوئے تھے۔ کچھ دالانوں میں فرش پر مختلف قسم کے اسلحوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔"

"اگر حضور جیسا پرانا سپاہی اس اسلحے کی ایک جھلک بھی دیکھ لے تو حضور کا نہ جانے کتنا خون بڑھ جائے۔ ان دالانوں کے بعد والے دالانوں میں سواروں کے صف بستہ دستے، سر سے پیر تک اسلحے میں ڈوبے، تنی ہوئی برچھیاں اور لہراتے ہوئے پرچم ہاتھوں میں جیسے میدانِ جنگ کے اشتیاق میں کھڑے تھے۔ دوسرے دالانوں میں جنگجو سوار اپنے جنگی گھوڑوں کے برابر گہری نیند میں غرق پڑے تھے۔ ان کے بعد کے دالانوں میں پیدل سپاہی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 140


وردیوں میں لیس، صف بستہ ہونے کے حکم کے منتظر نظر آتے تھے۔ سب کے جسموں پر قدیم عربی لباس اور اسلحے تھے اور سب بتوں کی طرح ساکن و صامت۔"

"مختصر یہ حضورِ والا کہ ہم بالآخر ایک وسیع اور فراخ دالان میں، بلکہ میں دالان کے بجائے محل کہوں تو بجا ہے، داخل ہوئے۔ محل کی دیواریں گہرے نُقرئی اور طلائی نقوش سے مزین و آراستہ تھیں اور ہیرے، نیلم، یاقوت اور دوسرے قیمتی جواہرات سے جگمگا رہی تھیں۔ اس دالان کے ایک رخ جڑاؤ طلائی تخت پر ایک عرب بادشاہ بیٹھا تھا۔ اس کے ارد گرد مسندوں پر امیروں وزیروں کی نشستیں تھیں اور ان کے پیچھے افریقی پہرہ داروں کا محافظ دستہ جن میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں بجلی کی طرح چمکتی ہوئی ننگی تلوار تھی۔ وہ ہزاروں سوار جو غار کے راستے سے اندر داخل ہوئے تھے منظم قطاروں میں ایک ایک کر کے تخت شاہی کے سامنے سے گزر رہے تھے اور گزرتے وقت آدابِ شاہی کے مطابق تعظیم دے رہے تھے۔ ان گزرنے والوں کے زرق برق اور پُر شکوہ لباس ہیرے جواہرات سے جگ جگ کر رہے تھے۔ کچھ کے جسموں پر آئینے کی طرح چمکتے ہوئے زرہ بکتر تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جن کے لباس پھٹے پرانے اور زرہ بکتر شکستہ اور زنگ آلود تھے۔"

"اب تک میں مبہوت اور متحیر سب کچھ دیکھ رہا تھا اور زبان نہ کھولی تھی، اس لئے کہ حضور جانتے ہیں کہ سپاہی سوال جواب کرنے کے عادی نہیں ہوتے۔ لیکن اب میرے لئے ضبط کرنا ناممکن تھا اس لئے میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا 'عزیز دوست! یہ سب کچھ آخر کیا ہے؟'"

سوار نے جواب دیا "اے مسیحی! یہ سب کچھ ایک زبردست اور خوفناک راز ہے، اور جو منظر تم اس وقت دیکھ رہے ہو یہ غرناطہ کے آخری مسلمان حکمران ابی عبداللہ کے دربار کا ہے۔"

میں حیرت سے چیخ پڑا "یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ ابی عبداللہ اور اس کے درباری تو صدیاں گزریں یہاں سے جلاوطن ہو کر افریقہ چلے گئے تھے اور وہیں مر کھپ گئے۔"

عرب نے تُندی سے جواب دیا "بےشک! تمہاری غلط سلط تاریخوں میں یہی لکھا ہوا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابی عبداللہ اور اس کے جاں باز ساتھی، جو غرناطہ کے لئے آخری جد و جہد کرتے ہوئے شہید ہوئے ایک زبردست طلسم کے تحت پہاڑ کے غاروں میں بند ہیں۔ رہے وہ لوگ جنہیں تم نے غرناطہ کے سقوط


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 141


کے وقت شہر سے باہر نکلتے دیکھا، تو وہ حقیقت میں ابی عبداللہ اور اس کے جاں باز نہیں بلکہ اللہ کی بھیجی ہوئی روحیں تھیں، جو عیسائیوں کو دھوکہا دینے کے لئے تعینات ہوئی تھیں۔۔۔۔ اور میرے دوست! یاد رکھو کہ ہسپانیہ کے سارے ملک پر طلسم و افسوں کا قبضہ ہے۔ پہاڑوں کا کوئی غار، میدانوں کا کوئی مینار یا گُنبد یا کوئی سنسان و ویران کھنڈر ایسا نہیں جہاں کوئی نہ کوئی جاں باز صدیوں سے سحر و طلسم کی تاثیر سے محوِ خواب نہ ہو۔ سحر و طلسم کی یہ تاثیر اس وقوت تک قائم رہے گی جب تک اللہ مومنوں کے وہ گناہ معاف نہ کر دے جن کی وجہ سے سلطنت کچھ مدت کے لئے ان سے چھین لی گئی ہے۔ سال میں ایک بار، آج کی رات انہیں طلسم کی تاثیر سے رہا کر دیا جاتا ہے کہ اس غار میں اکٹھے ہو کر اپنے سلطان کو تعظیم دیں۔ جو پیدل اور سوار ہزاروں کی تعداد میں تم نے غار کے اندر داخل ہوتے دیکھے ہیں وہ وہی مسلمان جاں باز ہیں جو ہسپانیہ کے مختلف علاقوں سے سحر سے آزاد ہو کر یہاں آئے ہیں۔ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں صدیوں سے قشتالۂ قدیم کے بُرج میں رہتا ہوں اور ہر سال مجھے آج کی رات یہاں طلب کیا جاتا ہے۔ صبح ہونے سے پہلے پہلے میں اپنی طلسم گاہ میں پہنچ جاؤں گا۔ اندر داخل ہوتے ہوئے وسیع دالانوں میں جو ہزاورں پیدل اور سوار تمہیں نظر آئے وہ غرناطہ کے سحر زدہ جنگ جو سپاہی اور سردار ہیں۔ صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہے کہ طلسم کی تاثیر ختم ہو جائے گی تو ابی عبداللہ اپنی فوج سمیت پہاڑی سے اتر کر الحمرا کے تخت و تاج اور غرناطہ کی سلطنت پر قابض ہو جائے گا اور اسپین کے مختلف حصوں میں جتنے جواں مرد اور جاں باز طلسم کی تاثیر کے پابند ہیں ان سب کی مدد سے اپنی سلطنت دور دور پھیلائے گا۔"

"اور یہ سب کچھ کب ہو گا؟" میں نے پوچھا۔

یہ صرف اللہ جانتا ہے! ہمارا خیال تھا کہ نجات اور رہائی کا وقت بہت قریب ہے، لیکن آج کل الحمرا ایک جہاندیدہ سپاہی کے زیرِ عمل ہے، جسے لوگوں نے عامل مانکو کا لقب دیا ہے۔ جب تک ایسا مستعد اور بہادر عامل موجود ہو، جو پہاڑ کی طرف سے پہلے ہی حملے کی روک تھام کر لے، ابی عبداللہ اور اس کی فوج کو اپنے غار میں پوشیدہ رہنا پڑے گا۔"

اس جملے پر عامل مانکو پہلے سے زیادہ تن کر بیٹھ گیا، اپنی تلوار کو درست کیا اور مونچھوں پر انگلیاں پھیرنے لگا۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

اوشو

لائبریرین
قصص الحمرا


صفحہ ۔۔۔ 142


"مختصر یہ حضورِ والا! کہ طلسم کی یہ داستان سنا کر سوار اپنے گھوڑے پر سے اتر پڑا اور مجھ سے بولا "ذرا میرا گھوڑا پکڑ لو۔ میں ابی عبداللہ کو تعظیم دے کر ابھی آتا ہوں۔" یہ کہا اور دوسرے لوگوں کے پیچھے قطار میں شامل ہو کر تخت کی طرف چل دیا۔ میں سوچنے لگا کہ کیا کرنا چاہیے۔ میں یہاں عرب سوار کی واپسی تک ٹھہرا تو سوار مجھے اپنے گھوڑے پر بٹھا کر خدا جانے کہاں پہنچا دے گا۔ اس سے بہتر یہی ہے کہ میں جلدی سے جلدی بھوتوں کی اس برات سے نکل کر بھاگوں۔ جیسا کہ حضورِ والا جانتے ہیں سپاہی فیصلہ بھی جلدی میں کرتا ہے اور اس پر عمل بھی اتنی ہی تیزی سے ہوتا ہے۔ گھوڑے کو میں نے اپنے دین اور حکومت کی ملکیت سمجھ کر اس پر قبضہ کرنے کو ثواب جانا، اس لئے فوراً اس پر سوار ہوا اور ایڑ لگا کر اسی راہ سے باہر نکلنے لگا جس سے داخل ہوا تھا۔ جب میں ان وسیع دالانوں کے قریب سے گزر رہا تھا، جہاں تھوڑی دیر پہلے مجھے ہزاروں مسلمان پیدل اور سوار سپاہی بتوں کی طرح بیٹھے نظر آئے تھے، مجھے اسلحے کی جھنکار اور لوگوں کی سرگوشیوں کی آواز آتی ہوئی سنائی دی۔ میں نے گھوڑے کو ایک ایڑ اور دی اور اس نے رفتار تیز کر دی۔ مجھے اپنے پیچھے سے آندھی کے تیز جھونکوں کی سنسناہٹ آتی محسوس ہوئی اور ایسا معلوم ہوا کہ ہزاروں سوار میرا پیچھا کر رہے ہیں۔ آندھی کے اس زور نے مجھے غار سے باہر پھینک دیا اور ہزاروں طلسمی سائے ہوا کے تیز جھونکوں کی طرح اڑتے ہوئے باہر آ گئے۔"

"آندھی کے زور اور ہر طرف پھیلی ہوئی ہلچل میں میں گھوڑے سے گر کر بےہوش ہو گیا جب ہوش میں آیا تو ایک چٹان پر پڑا تھا اور عرب گھوڑا میرے پاس کھڑا تھا۔ گرتے وقت میرا ایک ہاتھ باگ میں پھنس گیا تھا اور شاید یہی چیز تھی جس کی وجہ سے عرب گھوڑا وہاں سے فرار ہو جانے کے بجائے وہیں کھڑا رہا۔

میں نے اپنے آس پاس ہاتھ پھیر کر اور نظر دوڑا کر دیکھا تو گھنی جھاڑیوں اور انجیر کے پودوں کو دیکھ کر مجھے یقین آ گیا کہ یہ سب آثار جنوب کی آب و ہوا کے ہیں۔ لیکن مجھے سخت حیرت تھی کہ میں یہاں کس طرح پہنچا۔ جب میں نے نیچے کی طرف دیکھا اور مجھے ایک عظیم الشان شہر کی شاندار عمارتیں، بُرج اور مینار نظر آئے تو میری حیرت اور بھی بڑھ گئی۔ بہرحال میں نے گھوڑے کی باگ تھامی اور پہاڑی کے نیچے اترنے کا ارادہ کیا۔ گھوڑے کی پیٹھ پر چڑھتے مجھے ڈر لگتا تھا کہ کہیں پھر وہ آندھی بن کر مجھے کہیں سے کہیں نہ پہنچا دے۔ نیچے اترتے ہی میرا سامنا آپ کے پترول سے ہوا اور کارل پورل کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ میری نظر کے سامنے پھیلا ہوا شاندار شہر غرناطہ ہے اور


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 143


میں الحمرا کے زیرِ سایہ کھڑا ہوں، جس کا عامل عظیم الشان مانکو ہے، طلسم زدہ مسلمان جس کی جوانمردی سے کانپتے ہیں۔ جب مجھے یہ معلوم ہوا تو میں نے تہیہ کیا کہ جس طرح بھی ہو جلدی سے جلدی آپ کی خدمت میں پیش ہو کر یہ عجیب و غریب داستان سناؤں اور آپ سے درخواست کروں کہ ان خطروں سے بچنے کی تدبیر اختیار کریں جن میں اس وقت آپ گھِرے ہوئے ہیں اور جنہوں نے آپ کے قلعے اور ہماری سلطنت کو مستقل طور پر گھیر رکھا ہے۔"

عامل نے سپاہی کی روداد سن کر کہا "میرے عزیز دوست! تم خود بھی ایک تجربہ کار سپاہی ہو اور میدانِ جنگ کی آزمائشوں میں سے گزر چکے ہو، تم بتاؤ کہ مجھے اس خطرے سے بچنے کی کیا تدابیر اختیار کرنی چاہیے؟"

"مجھ جیسے کم مایہ سپاہی کو زیب نہیں دیتا" سپاہی نے انکسار کے ساتھ کہا "کہ آپ جیسے جہاندیدہ اور دانا و بینا کماندار کو کسی طرح کا مشورہ دے۔ لیکن میری ناچیز رائے مٰں سب غاروں کے منہ پتھر کی مضبوط دیواروں سے بند کر دینے چاہئیں تاکہ ابی عبداللہ اور اس کی سحر زدہ فوج ہمیشہ کے لئے غاروں میں مقید ہو کر رہ جائے اور ساتھ ہی اپنے محترم بزرگ یعنی پادری صاحب سے میری درخواست یہ ہے کہ وہ ان غاروں کے دہانوں پر صلیبیں، ولیوں کے مجسمے اور دوسرے روحانی تبرکات رکھ کر ان کے طلسمی اثر کو زائل کر دیں۔"

پادری صاحب کا چہرہ احساسِ برتری سے چمک اٹھا اور وہ بولے "یقیناً یہ تدبیر کارگر ثابت ہو گی۔"

عامل مانکو نے اپنا ہاتھ کولھے پر رکھا اور انگلیوں سے اپنی تلوار کے دستے کو ہلاتے ہوئے اپنی نظریں سپاہی پر جما دیں۔ پھر اپنے سر کو کئی بار دہنے بائیں جنبش دے کر بڑی سنجیدگی سے سپاہی سے کہا "میرے ذہین دوست! کیا سچ مچ تمہارا خیال ہے کہ ان طلسمی پہاڑوں اور ان کے اندر بسنے والے طلسمی عربوں کی داستان سے تم نے مانکو کو مرعوب کر لیا؟۔۔۔۔ بدمعاش! بس اپنی لسّانی ختم کر۔ ممکن ہے کہ تو ایک تجربہ کار سپاہی ہو، لیکن شاید تو یہ بھول گیا کہ تیرا مقابلہ ایسے سپاہی سے ہے جو تجھ سے زیادہ تجربہ کار ہے اور آسانی سے تیری باتوں میں نہیں آ سکتا۔ سپاہیو! اس بدمعاش کو حوالات میں بند کر دو۔"

گداز جسم والی حسین کنیز ممکن ہے کہ مجرم کی سفارش میں کچھ کہتی لیکن عامل کی ایک نظر نے اسے خاموش


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 144


کر دیا۔۔۔۔۔

سرکاری سپاہی مجرم کی کمر باندھ رہے تھے کہ انہیں اس کی جیب میں کوئی وزنی چیز معلوم ہوئی۔ یہ وزنی چیز باہر نکالی گئی تو وہ چمڑے کی ایک مضبوط تھیلی تھی۔ سپاہی نے تھیلی کا منہ کھولا اور اسے عامل مانکو کی میز پر الٹ دیا۔ دیکھتے دیکھتے عامل کے سامنے انگوٹھیوں، بیش قیمت زیوروں، سچے موتیوں، چمکیلے ہیروں اور بےشمار طلائی سکوں کا ڈھیر لگ گیا۔ بہت سے سکے فرش پر گر پڑے اور خوشگوار موسیقی کی صدا پیدا کرتے ہوئے ہر طرف پھیلنے لگے۔

تھوڑی دیر کے لئے منصفی و عدالت کا کام ملتوی ہو گیا۔ حاضرین میں سے اہر ایک نے ان طلائی مفروروں کا تعاقب کیا۔ صرف عامل مانکو نے اپنے فطری ہسپانوی وقار کو برقرار رکھا اور شاہانہ مسند سے نہیں اٹھا۔ اس کی گردش کرتی ہوئی آنکھوں نے اس کی تشویش کی تھوڑی سی غمازی البتہ کی اور جب تک سب جواہرات اور سکے دوبارہ تھیلی میں نہیں پہنچ گئے اسے اطمینان نہیں ہوا۔

پادری کے چہرے پر مانکو کا سا سکون و اطمینان نہیں تھا۔ اس کا پورا چہرہ اضطراب سے شعلے کی طرح بھڑک رہا تھا اور اس کی آنکھیں قیمتی تسبیحیں اور صلیبیں دیکھ دیکھ ہیرے اور لعل کی طرح چمک رہی تھیں۔ اس نے اپنا اضطراب مجرم پر غصہ اتار کر، دور کرنے کی کوشش کی "بے ادب کافر! تو نے کس گرجے یا خانقاہ پر ڈاکہ ڈال کر یہ نوادر حاصل کئے ہیں؟"

"محترم بزرگ! میں نے نہ ایک پر ڈاکہ ڈالا ہے نہ دوسرے پر" مجرم نے بڑے ادب سے پادری کو مخاطب کرتے ہوئے جواب دیا "اگر واقعی یہ دولت کسی گرجے یا خانقاہ کی ہے تو صدیوں پہلے، میں نے نہیں، بلکہ اس شہ سوار نے ڈاکہ ڈالا ہو گا جس کا میں ابھی ذکر کر رہا تھا۔ میں نے ابھی اپنی بات ختم نہیں کی تھی کہ عامل صاحب بہادر کے غصے نے مجھے خاموش کر دیا۔ بات حقیقت میں یہ ہے کہ جب عرب شہ سوار کے گھوڑے پر چڑھا تو یہ چمڑے کی تھیلی مجھے اس کی زین میں لٹکی ہوئی ملی اور یقیناً اس کے قیمتی جواہرات اس لوٹ کا حصہ ہوں گے جس کا شکار صدیوں پہلے ہسپانیہ رہ چکا ہے۔"

اس مرتبہ عامل مانکو کے بولنے کی باری تھی "ٹھیک ہے! لیکن سرِ دست تمہیں"قُرمزی بُرج" میں رہنے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 145


پر اکتفا کرنی پڑے گی۔ جس پر گو کسی طلسم کا اثر نہیں لیکن اس میں تم اتنی ہی حفاظت سے رہو گے جیسے عربوں کے کسی طلسمی تہ خانے یا غار میں۔"

قیدی نے بڑے سکون سے کہا "حضورِ والا جو کچھ مناسب تصور فرمائیں وہی کریں۔ مجھے قلعے میں رہنے کی جو جگہ بھی دی جائے گی اسے شکریے کے ساتھ قبول کروں گا۔ میدانِ جنگ میں رہا ہوا سپاہی، جیسا کہ حضور کو علم ہے، اپنے رہنے سہنے کے معاملے میں کسی طرح کے تکلف کا عادی نہیں ہوتا۔ رات کو پیر پھیلانے کے لئے جگہ مل جائے اور پیٹ بھرنے کے لئے دو وقت کی روٹی۔۔۔۔ اس سے زیادہ کی مجھ ہوس اور ضرورت نہیں۔ میری یہ درخواست البتہ ہے کہ جس طرح حضور نے میرے معاملے میں احتیاط اور دور اندیشی برتی ہے اسی طرح قلعے کی طرف سے بھی غافل نہ ہوں۔۔۔۔ اور ہاں! میرے اس ناچیز مشورے پر بھی توجہ فرمائیں جو میں نے غاروں کے منہ کو مضبوطی سے بند کرنے کے متعلق پیش کیا ہے۔"

یہ منظر یہیں تمام ہوا۔ مجرم کو قرمزی بُرج کے ایک مضبوط تہ خانے میں پہنچا دیا گیا۔ عرب گھوڑا عامل کے اصطبل میں بھیج دیا گیا اور چمڑے کی تھیلی سرکاری تجوری میں بند کر دی گئی۔ فیصلے کی آخری شق سے پادری صاحب نے اختلاف کیا۔ ان کا خیال تھا کہ مقدس تبرکات کو، جو یقیناً کسی گرجے یا خانقاہ کو لوٹ کر جمع کئے گئے ہیں سرکاری خزانے کے بجائے گرجے میں رکھا جانا چاہیے تھا۔ لیکن چونکہ عامل کا فیصلہ ناطق تھا اور الحمرا کے حدود میں کوئی اس پر نکتہ چینی نہیں کر سکتا تھا، پادری نے مصلحتاً اس بحث کو طول نہیں دیا لیکن دل میں یہ تہیہ کر لیا کہ اس معاملے کی اطلاع غرناطہ کے گرجے کے بڑے پادری کو دے گا۔

عامل مانکو نے اجنبی سپاہی کے معاملے میں جو سخت فیصلہ صادر کیا اس کی وضاحت کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ انہیں دنوں غرناطہ کے گرد و نواح میں جبال البشرات میں قزاقوں کا ایک خطرناک گروہ مصروفِ عمل تھا اور اس گروہ کے قزاق، اپنے سردار مینول بوراسکو کی سرکردگی میں دیہاتوں کو تاراج کرتے پھرتے تھے اور کبھی کبھی بھیس بدل کر اس مقصد سے شہر میں بھی آ جاتے تھے کہ آنے جانے والے قافلوں یا دولت مند مسافروں کے نقل و حرکت کی اطلاعیں حاصل کریں اور انہیں دور دراز کے ویران اور غیر آباد علاقوں میں جا کر لوٹ لیں۔ ان مسلسل جارحانہ کارروائیوں نے حکومت کو اس معاملے کی طرف متوجہ کر رکھا تھا اور مختلف علاقوں کے عاملوں کو ہدایات بھیج دی گئی تھیں کہ وہ مشتبہ لوگوں پر نظر


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 146


رکھیں۔ گو مانکو کے قلعے اور اس کے اوباش ساکنوں کے متعلق جو طرح طرح کی طنز آمیز باتیں اکثر کہی جاتی تھیں ان کی بنا پر وہ دوسرے عاملوں کے مقابلے میں مشتبہ لوگوں کی طرف سے زیادہ ہوشیار اور باخبر رہتا تھا۔۔۔۔ اور اسے یقین تھا کہ آج اس نے اس گروہ کے کسی زبردست رکن پر ہاتھ ڈالا ہے۔

سپاہی کو قلعے میں قید کیا گیا اور اس کے افسانے کو پر لگ گئے۔ نہ صرف قلعے کے اندر بلکہ غرناطہ کے چپے چپے میں ہر ایک کی زبان پر یہی تذکرہ تھا کہ بشرات کی پہاڑیوں والا نامی قزاق مینول بوراسکو عامل مانکو کے چنگل میں پھنس گیا ہے اور قرمزی بُرج کی ایک حوالات میں قید ہے۔ اس خبر کے پھیلتے ہی لوگ جوق در جوق اس کے نظارے کے لئے آنے لگے۔

قرمزی بُرج، جیسا کہ سب جانتے ہیں، الحمرا سے الگ ایک دوسری پہاڑی پر بنا ہوا ہے۔ ایک پل دونوں پہاڑیوں کو ملاتا ہے اور اسی کے نیچے سے غرناطہ کی مشہور سڑک سوق الکبیر گزرتی ہے۔ جس حوالات میں قیدی بند تھا اس کی کھڑکیوں میں مضبوط سلاخیں جڑی ہوئی تھیں اور اس کے سامنے ایک چھوٹا سا صحن تھا۔ غرناطہ کے لوگ اس صحن میں قزاق کو دیکھنے کے لئے یوں جمع ہوتے تھے جیسے چرغ کے کٹہرے میں کے سامنے چڑیا گھر میں۔ آنے والوں میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے جنہیں بوراسکو نے لوٹا تھا۔ لیکن اس قیدی کو دیکھ کر ان سب کی رائے یہ تھی کہ وہ قزاقوں کا سردار بوراسکو ہر گز نہیں تھا اس لئے کہ قزاق کی صورت بڑی ہیبت ناک تھی اور قیدی کے ہنس مکھ چہرے سے بالکل مشابہ نہ تھی۔ لوگ شہر ہی کے اندر سے نہیں بلکہ دور دور سے اسے دیکھنے آئے لیکن کسی نے اس بات کی تائید نہیں کی کہ یہ مینول بوراسکو ہے۔ اور اس لئے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہونے لگا کہ جو داستان مجرم نے سنائی ہے کہیں وہ ٹھیک ہی نہ ہو۔ یہ بات کہ ابی عبداللہ اور اس کی فوج پہاڑ کے غار میں بند ہے لوگ اپنے آباؤ اجداد سے سنتے آئے تھے اس لئے بہت سے لوگ اس غار کی تلاش میں جس کا ذکر قیدی نے اپنی داستان میں کیا تھا جبل الشمس پر گئے۔ کچھ نے غار کو باہر سے جھانک لینے پر اکتفا کی، کچھ اس کے اندر دور تک چلے گئے۔

رفتہ رفتہ قیدی سپاہی اور آنے جانے والوں میں بےتکلفی ہو گئی۔ وہ اسے پسند کرنے لگے۔ اسپین میں پہاڑی قزاقوں کو ذلت کی اس نظر سے نہیں دیکھا جاتا جو دوسرے ملکوں میں قزاقوں کے لئے عام ہے۔ اس کے برخلاف نچلے طبقے کے لوگ اسے ایک طرح کا سُورما سمجھتے ہیں۔ عوام کا ایک دوسرا میلان یہ ہے کہ وہ حاکم طبقے کے فیصلوں پر نکتہ چینی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 147


کرتے ہیں اس لئے بہت سے لوگوں نے عامل مانکو کی سخت گیری کو خاموش احتجاج کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا اور قیدی کو مظلوم و مقہور سمجھا جانے لگا۔

ادھر قیدی کا یہ حال تھا کہ اس کی خوش مزاجی و زندہ دلی ہر آنے جانے والے کے لئے ایک دلچسپ فقرہ تلاش کر لیتی۔ عورتوں سے خصوصاً بڑی نرمی اور خوش خلقی سے بولتا تھا۔ اسے کہیں سے ایک پرانا ستار مل گیا تھا۔ وہ ستار لے کر حوالات کی کھڑکی میں بیٹھ جاتا اور اس پر محبت کے شیریں نغمے بجاتا۔ آس پاس کی عورتیں کھڑکی کے سامنے والے صحن میں اکٹھی ہو جاتیں، اس کے نغمے سن کر خوش ہوتیں اور کبھی کبھی اس کی تال پر رقص بھی کرنے لگتیں۔ بڑھی ہوئی داڑھی سلیقے کے ساتھ تراش دی گئی تو اس کے سانولے چہرے میں ایک طرح کی کشش پیدا ہو گئی اور عورتوں نے عموماً اور عامل مانکو کی گداز جسم کنیز نے خصوصاً یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس کی چشم نیم باز میں بلا کی کشش ہے۔ نرم دل کنیز تو بلکہ پہلے ہی دن اس کے معاملات میں دلچسپی اور ہمدردی ظاہر کرنے لگی تھی۔ جب وہ عامل کے دل کو موم نہ کر سکی تو اس نے خاموشی سے قیدی کی راحت کا سامان مہیا کرنے کی طرف توجہ کی۔ وہ ہر روز عامل سے بچے ہوئے کچھ ٹکڑے اس کی معمولی غذا میں شامل کر دیتی، اور جب کبھی موقع مل جاتا تو انگوری شراب کا ایک سکون بخش شیشہ بھی اس تک پہنچا دیتی۔

ایک طرف تو بوڑھے عامل کے زیر سایہ اس چھوٹی سی بغاوت کا سلسلہ جاری تھا اور دوسری طرف اس کے بیرونی دشمن اس کے خلاف ایک طوفان اٹھانے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ یہ بات خاصے مبالغوں کے ساتھ، غرناطہ کے حلقۂ اقتدار میں پہنچا دی گئی تھی کہ قیدی کے پاس سونے اور جواہرات کا ایک بہت بڑا ذخیرہ برآمد ہوا ہے۔ اس خبر سے اختیارات کے حدود کا مسئلہ ایک بار پھر تازہ ہو گیا۔ عامل کے دائمی حریف، حاکم شہر کا دعوےٰ تھا کہ ملزم الحمرا کے حدود سے باہر گرفتار ہوا ہے اور اس لئے اس پر عامل الحمرا کو کوئی اختیار نہیں۔ اس دعوے کے بعد اس نے ملزم اور اس کے پاس برآمد ہونے والے مال کو غرناطہ منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح غرناطہ کے پادری کا دعوےٰ تھا کہ ملزم کے مالِ یغما میں تسبیحوں، صلیبوں اور دوسرے تبرکات کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ اس نے کسی گرجے یا خانقاہ کو تاراج کیا ہے اس لئے یہ مال سرکاری خزانے سے گرجا میں منتقل ہونا چائیے۔ اس اختلاف نے آہستہ آہستہ شدت اختیار کی۔ عامل چیخا چلایا اور اس فیصلے کا اعلان کیا کہ ملزم کو کسی اور کے حوالے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 148


کرنے کے بجائے وہ اسے جاسوسی کے جرم میں، الحمرا کی حدود میں پھانسی دے گا۔

اس خبر پر حاکمِ شہر نے دھمکی دی کہ وہ اپنے سپاہی لا کر ملزم کو زبردستی قرمزی بُرج سے شہر کی حوالات میں منتقل کر لے گا۔ غرناطہ کے بڑے پادری نے بھی حاکمِ شہر کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ عامل مانکو کو خاصی رات گئے حاکمِ شہر اور پادری کے فیصلوں کی اطلاع ملی۔ اس نے اعتماد اور استقلال کے ساتھ جواب دیا "انہیں آنے دو۔ وہ مجھے پوری طرح تیار پ ائیں گے۔ جس شخص کا سابقہ کسی پرانے سپاہی سے ہو اسے علی الصبح بیدار ہونا چاہئیے۔ اس نے حکم دے دیا کہ علی الصبح قیدی کو الحمرا کی اندرونی حوالات میں منتقل کر دیا جائے۔ اور ساتھ ہی اپنی حسین کنیز کو ہدایت کی کہ "دیکھو! ننھی کنیز! مرغ کی پہلی بانگ سے پہلے دستک دے کر مجھے جگا دینا تاکہ سارے معاملے کی نگرانی میں خود کر سکوں۔"

صبح ہوئی اور مرغ نے بانگ دی لیکن عامل کی خواب گاہ پر کسی نے دستک نہ دی۔ سورج پہاڑی کی اوٹ سے نکل کر شہر کے برجوں اور میناروں کو روشن کرنے لگا اور اس کی کرنیں عامل کی خواب گاہ کے دریچوں سے اٹکھیلیاں کرنے لگیں تو اس کے معتمد کارپورل نے اسے خوابِ شیریں سے بیدار کیا۔ کارپورل کے آہنی چہرے پر خوف کے نقوش ثبت تھے۔ وہ بہ مشکل سانس لیتے ہوئے چلایا۔ "وہ چلا گیا، وہ بھاگ گیا!"

"کون چلا گیا؟ کون بھاگ گیا؟"

"سپاہی، قزاق، شیطان۔۔۔۔ اسے آپ جو چاہیں کہئے۔ اس کی حوالات خالی ہے اور دروازہ مقفل ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس طرح فرار ہوا۔"

"اسے آخری بار کس نے دیکھا تھا؟"

"آپ کی کنیز نے۔ وہ اس کے لئے رات کا کھانا لے کر گئی تھی۔"

"اسے فوراً بلاؤ۔"

اور اس منزل پر ایک نئی الجھن پیدا ہو گئی۔ حسین کنیز کا کمرہ بھی خالی تھا۔ وہ رات کو اپنے پلنگ پر سوئی بھی نہیں تھی۔ یقیناً وہ بھی قیدی کے ساتھ فرار ہوئی، اس لئے کہ پچھلے چند دنوں سے دونوں کو رازدارانہ انداز میں باتیں کرتے دیکھا گیا تھا۔

یہ خبر عامل کے لئے بڑی دل شکن تھی لیکن ابھی اسے اس غم کا ماتم کرنے کی بھی فرصت نہیں ملی تھی کہ ایک تازہ غم


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 149


اور پیش آیا۔ وہ اپنے کمرے میں گیا تو اس کی تجوری کا منہ کھلا پڑا تھا۔ سپاہی کی چمڑے کی تھیلی غائب تھی اور اس کے ساتھ رائج الوقت ہسپانوی سکوں کی دو تھیلیاں بھی۔

لیکن سوال یہ تھا کہ مفرور کیسے فرار ہوئے اور کس راستے سے فرار ہوئے؟ ایک بوڑھے کسان نے جو پہاڑ کی طرف جانے والی سڑک کے کنارے ایک جھونپڑی میں رہتا تھا، بیان کیا کہ صبح ہونے سے ذرا پہلے اس نے ایک عرب گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز سنی تھی۔ جب اس نے اپنی کھڑکی میں سے جھانک کر دیکھا تو عرب گھوڑے پر ایک مرد اور عورت سوار تھے۔

عامل مانکو نے چیخ کر کہا "اصطبل کی تلاشی لو۔"

اصطبل دیکھے گئے تو سب گھوڑے موجود تھے، سوائے عرب گھوڑے کے۔ گھوڑے کے تھان کے قریب ایک موٹا سا ڈنڈا رکھا تھا۔ اس میں ایک پرچہ بندھا ہوا تھا، جس پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی:

"عامل مانکو کی خدمت میں۔۔۔۔ ایک پرانے سپاہی کی حقیر پیش کش۔"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

اوشو

لائبریرین
قصص الحمرا


صفحہ ۔۔۔ 150


عرب نجومی کی داستان


کئی صدیاں گزریں غرناطہ پر ایک عرب بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام ابن حبوس تھا۔ ابن حبوس کی جوانی فتح و ظفر کی ایک مسلسل داستان تھی۔ لیکن اب جب کہ بڑھاپے نے اسے ضعیف و ناتواں کر دیا تھا اس کی واحد آرزو یہ تھی کہ اس کی زندگی صلح و آشتی میں گزرے اور وہ اپنے روز و شب سکون کے ساتھ اپنی فتوحات کی حسین یادوں اور ان فتوحات سے حاصل ہوئی نعمتوں کی آسائشوں میں بسر کر دے۔

لیکن زمانے نے سکون و آسائش کی یہ آرزو پوری نہ ہونے دی۔ اس صلح جو اور آشتی پسند حکمراں کا مقابلہ ایسے حریفوں سے تھا، جن کے جسموں میں شباب کا تازہ خون موجزن اور سروں میں شہرت و اقتدار کا سودا سمایا ہوا تھا۔ اس کے یہ نوجوان حریف بوڑھے جاں باز سے اپنے آباؤ اجداد کی شکستوں کا انتقام لینے پر تلے ہوئے تھے۔ اس کی وسیع سلطنت کے وہ دور افتادہ علاقے جنہیں اس نے اپنی ہمت کے دنوں میں مغلوب و محکوم رکھا تھا اب سرکشی اور بغاوت پر آمادہ نظر آتے تھے۔ اور یہ بوڑھا جاں باز ہر طرف سے غنیموں میں گھرا ہوا تھا۔ چونکہ غرناطہ کے ہر طرف جنگلی اور پتھریلی پہاڑیاں ہیں اس لئے بدنصیب ابن حبوس کو


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 151


ہر وقت اپنی آنکھیں کھلی رکھنی پڑتی تھیں کہ نہ جانے شورش کے بادل کس طرف سے منڈلانے لگیں۔

اس نے پہاڑیوں پر جابجا حفاظتی چوکیاں قائم کر کے ہر ممکن رہ گزر پر فوجی دستے تعینات کر دئیے تھے کہ جب وہ دن یا رات کے وقت کسی طرف سے دشمن کو آتا دیکھیں تو مشعل اور دھوئیں کے ذریعے آنے والے خطرے کا اعلان کر دیں۔ لیکن ابن حبوس کی یہ تدبیر کارگر ثابت نہ ہوئی اس لئے کہ اس کے دشمن کسی نہ کسی ایسے راستے سے جس کی طرف اس کا دھیان بھی نہ جاتا تھا اس کی سرزمین میں داخل ہوتے اور اس کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اسے تاراج کر کے پہاڑوں کی اوٹ میں جا چھپتے۔ یوں ابن حبوس جس سکون و راحت کا آرزومند تھا اس سے محروم رہتا۔

بےچارہ ابن حبوس انہیں الجھنوں اور پریشانیوں میں مبتلا تھا کہ ایک دن ایک عرب حکیم اس کے دربار میں حاضر ہوا۔ حکیم کی سفید ریش اس کے پورے سینے پر پھیلی ہوئی تھی اور اس کے جسم کا ہر عضو اس کی پیرانہ سالی کا شاہد تھا۔ اس کے باوجود اس نے مصر سے غرناطہ تک کا تقریباً پورا راستہ پاپیادہ طے کیا تھا اور اس طویل سفر میں اس کا عصائے پیری اس کا تنہا رفیق رہا تھا۔ اس بزرگ کا نام ابراہیم بن ابو ایوب تھا۔ ابو ایوب رسول اللہ ص کے صحابی تھی اور ابراہیم نے بھی آنحضرت ص کا زمانہ دیکھا تھا۔ ابراہیم بن ابو ایوب اپنے بچپن میں عمرو بن العاص کی فاتح فوجوں کےساتھ مصر میں داخل ہوا اور یہیں مقیم رہ کر مصری راہبوں کی صحبت میں سحر کی تعلیم حاصل کی۔

ابراہیم کی شہرت اس سے پہلے غرناطہ پہنچ چکی تھی اور لوگوں کا بیان تھا کہ وہ انسانی عمر کو طویل کرنے کے راز سے واقف تھا اور یہی راز تھا جس کی بدولت اب اس کی عمر دو سو سال کی تھی۔ لیکن چونکہ اسے اس راز کا علم اس وقت ہوا جب اس کے بال سفید ہو چکے تھے اور اس کے چہرے پر جھریاں پڑ چکی تھیں اس لئے کہنہ سالی کی یہ دونوں علامتیں اس میں موجود تھیں۔

ابن حبوس نے ابراہیم کا خیر مقدم بڑے احترام سے کیا۔ وہ اسے دیکھتے ہی اس کا ایسا گرویدہ ہوا کہ اسے اپنے محل کے اندر رکھنے پر آمادہ تھا۔ لیکن بزرگ نجومی نے قصرِ شاہی میں رہنے کے بجائے غرناطہ کے قریب کی اس پہاڑی کے ایک غار میں رہنے کو ترجیح دی جہاں اب الحمرا بنا ہوا ہے۔ نجومی نے غار کو کشادہ کروا کے اسے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 152


ایک وسیع دالان کی شکل دے دی اور اس کے اوپر کے رخ ایک گول سوراخ بنوا دیا جس سے وہ نصف النہار کے وقت بھی ستاروں کا نظارہ کر سکتا تھا۔ اس دالان کی دیواروں پر ہر طرف علم الّرجال و علم الانساب کے شجرے، علاماتِ سحر اور نجوم کی علامتی صورتیں نصب و آویزاں تھیں۔ دالان کے مختلف حصوں کو ایسے آلات سے آراستہ کیا گیا تھا جو غرناطہ کے ماہر کاریگروں کے بنائے ہوئے تھے اور جن کے مقصد اور خواص سے سوائے ابراہیم کے اور کوئی واقف نہ تھا۔

تھوڑی ہی مدت میں ابراہیم حکیم بادشاہ کا مقرب ترین مشیر بن گیا اور بادشاہ تمام ضروری امور میں اس کے مشوروں کا محتاج رہنے لگا۔ ایک دن ابن حبوس ابراہیم کے سامنے اپنے ہمسایہ حکمرانوں کے اس ظلم و ناانصافی کا شکوہ کر رہا تھا جس کی وجہ سے اس کا سارا سکون و اطمینان رخصت ہو گیا تھا۔ بادشاہ اپنی بات ختم کر چکا تو حکیم نے کچھ دیر خاموش رہ کر بادشاہ سے کہا کہ "اے بادشاہ! اپنے مصر کے قیام میں مجھے ایک راہب کی بنائی ہوئی ایک حیرت انگیز چیز دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ شہر بورسا کے اوپر وادیٔ نیل کے رخ کی ایک پہاڑی پر ایک بھیڑ کا مجسمہ بنا ہوا تھا۔ بھیڑ کے مجسمے پر ایک مرغ کا مجسمہ تھا۔ یہ دونوں مجسمے پیتل کے تھے اور ایک محور پر گردش کرتے رہتے تھے۔ جب کبھی ملک پر کسی دشمن کے حملے کا خطرہ ہوتا بھیڑ کا منہ اس طرف کو پھر جاتا جدھر سے دشمن آنے والا ہوتا اور مرغ بانگ دینے لگتا۔ یہ بانگ لوگوں کو آنے والے خطرے سے خبردار کر دیتی اور وہ حملے کی مدافعت کی پوری تیاری کر لیتے۔"

حکیم کی بات سن کر بادشاہ نے کہا "اللہ اکبر! اس طرح کی بھیڑ اگر مجھے میسر آ جائے اور اس طرح کا مرغ، اگر خطرے کے وقت مجھے بھی بانگ سنا سکے تو سمجھوں کہ مجھے دنیا کی سب سے بڑی دولت مل گئی۔ اللہ اکبر! ان دو پاسبانوں کی پاسبانی میں میں کتنے سکون کی نیند سوؤں؟"

حکیم اس وقت تک خاموش رہا جب تک بادشاہ کا جوش کم نہ ہو گیا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ کہنا شروع کیا:

"مصر کی فتح کے بعد بھی میں وہیں رہا اور راہبوں میں رہ کر ان کے دین و عقیدے کے رسوم و قواعد کا مطالعہ کرنے لگا۔ میری خواہش یہ تھی کہ ان کی صحبت میں رہ کر ان پوشیدہ علوم میں مہارت حاصل کروں جن


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 153


کے لئے راہب دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ میں دریائے نیل کے کنارے بیٹھا ایک معمر راہب سے باتیں کر رہا تھا۔ باتیں کرتے کرتے راہب نے ان سربلند اہرام کی طرف اشارہ کیا جو ریگستان میں پہاڑوں کی طرح استادہ تھے اور کہنے لگا 'جو علم تم ہم سے حاصل کر رہے ہو وہ اس علم کا عشر عشیر بھی نہیں جو ان عظیم الشان عمارتوں میں مخفی ہے۔ مرکزی اہرام کے وسط میں ایک گُنبد ہے، جس میں اس بزرگ راہب کی ممی محفوظ ہے جس کے ذہن میں ان مہتم بالشان اہرام کی تعمیر کا تصور پیدا ہوا۔ ان بزرگ کے ساتھ ایک کتاب بھی مدفون ہے جو سحر و فن کے جملہ بیش بہا علوم کا سربستہ خزینہ ہے۔ یہ کتاب ہبوطِ آدم کے بعد انہیں ملی تھی اور نسلاً بعد نسلاً منتقل ہوتی ہوئی حضرت سلیمان الحکیم تک پہنچی تھی۔ اسی کتاب کے سکھائے ہوئے رموز کی مدد سے انہوں نے بیت المقدس کی تعمیر کی۔ یہ کتاب اہرام کے بانی کے ہاتھ کس طرح آئی۔۔۔۔ اس کا علم صرف اسے ہے جو داناؤں کا دانا ۔'

مصری راہب کی یہ باتیں سن کر میرے دل میں اس کتاب کو حاصل کرنے کی خواہش شعلے کی طرح مشتعل ہو گئی۔ فاتح لشکر کے بہت سے سپاہیوں اور مصر کے بہت سے مقامی باشندوں کی مدد سے میں نے اہرام کے سنگین آہنی پتھروں میں سوراخ کرنے کا تہیہ کیا، اور بالآخر عرصے کی محنتِ شاقہ اور جاں فشانی کے بعد اپنے مقصد میں کامیاب ہوا۔ پتھر میں سوراخ ہو گیا اور میں اندر داخل ہوا تو ایک پوشیدہ راستہ نظر آیا۔ اس راستے پر چلتا اور اس میں سے نکلنے والے بےشمار پیچ در پیچ راستوں کے جال میں سے گزرتا، جو پتھروں کا سینہ چیر کر بنائی تھیں میں بالآخر اس گنبد میں پہنچ گیا جہاں بزرگ راہب کی ممی صدیوں سے محفوظ و مدفون تھی۔ میں نے ممی کے بیرونی بکسوں کو توڑا اور ان بےشمار غلافوں کو اتارا جن میں ممی لپٹی ہوئی تھی تو علوم کا خزینۂ سربستہ ممی کے سینے پر رکھا ہوا ملا۔ میں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کتاب کو اٹھایا اور ممی کو اس کے تاریک اور خاموش مستقر میں یوم الحساب کا منتظر چھوڑ کر، بھولتا بھٹکتا اہرام کے باہر نکل آیا۔"

اب حبوس یہ روداد سن کر حسرت سے بولا "اے ابنِ ابوایوب! تم بہت بڑے سیاح ہو اور تم نے اپنی زندگی میں حیرت انگیز چیزوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ لیکن اہرام کا راز اور سلیمان الحکیم کی کتابُ العلم میرے کس کام کی؟"

"نہیں! اے بادشاہ! ایسا نہیں۔ کتاب کے مطالعے سے میں نے علومِ سحر کے بےشمار راز سیکھے ہیں اور جنات سے اپنے ہر کام کی تکمیل میں مدد لے سکتا ہوں۔ میں بورسا کے طلسم سے بھی اچھی طرح واقف ہوں اور اس سے زیادہ موثر


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 154


طلم تیار کر سکتا ہوں۔"

ابن حبوس بےتابی سے بولا "اے حکیم دانا، ابن ابو ایوب! پہاڑوں پر میں نے جتنے حفاظتی بُرج تعمیر اور سرحدوں پر جتنے حفاظتی دستے تعینات کئے ہیں، تمہارا طلسم ان سب سے زیادہ مؤثر ہو گا۔ خدا کے لئے یہ طلسم بناؤ۔۔۔۔ میرے خزانے کے سب زر و جواہر تمہارے قدموں پر نثار ہیں۔"

دانا نجومی بادشاہ کے حکم اور خواہش کے مطابق اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ اس نے جبل البیازین کے کنارے پر، قصرِ شاہی کے اوپر ایک بہت بڑا بُرج بنوایا۔ اس بُرج کی تعمیر کے لئے اہرام مصر کے پتھر لائے گئے تھے۔ بُرج کے بالائی حصے میں ایک مدّور دالان تعمیر ہوا اور اس کے ہر رخ پر ایک کھڑکی بنوائی گئی۔ ہر کھڑکی کے سامنے ایک میز لگائی گئی۔ اس میز پر شطرنج کے مہروں کی طرح، لکڑی کے پیادہ اور سوار سپاہیوں کی ایک فوج ترتیب دی گئی، جس کی سرداری میں اس خاص سمت کے دیوتا کا مجسمہ بنایا گیا، جدھر کھڑکی کا رخ تھا۔ ہر میز کے ساتھ ایک چھوٹی سی برچھی آویزاں تھی، جس پر کلدانی زبان میں کوئی عبارت نقش تھی۔ اس دالان کا پھاٹک پیتل کا تھا، جو ہر وقت مقفل رہتا تھا اور اس کی کُنجی بادشاہ کے قبضے میں رہتی تھی۔

بُرج کےک اوپر ایک عرب سوار کا ایک کانسی کا بنا ہوا مجسمہ نصب تھا۔ مجسمے کے ایک ہاتھ میں ڈھال تھی اور دوسرے میں برچھی۔ یہ مجسمہ ایک گردش کرنے والے محور پر نصب کیا گیا تھا اور اس کا رخ شہر کی طرف تھا لیکن کسی سمت سے دشمن کے حملے کا خوف ہوتا تو مجسمے کا منہ اسی رخ پھر جاتا اور مجسمے کے ہاتھ کی برچھی اس طرح تن جاتی جیسے حملہ کرتے وقت۔

طلسم بن کر تیار ہو گیا تو ابن حبوس کا دل اس کی تاثیر آزمانے کے لئے بےقرار ہوا۔ پہلے اس کا دل جنگ و جدال سے بچنے کی جس آرزو سے بےچین رہتا اس کی جگہ اب جنگ جوئی کی تمنا مچلنے لگی۔ ابن حبوس کی یہ تمنا بہت جلد پوری ہوئی۔ ایک صبح بُرج کا محافظ سنتری یہ خبر لایا کہ کانسی کے مجسمے کا منہ جبل البیرۃ کی طرف پھر گیا ہے اور مجسمے نے اپنی برچھی درۂ لوبہ کی طرف تان رکھی ہے۔

ابن حبوس نے یہ خبر سنی تو طبل و قرنا بجانے اور غرناطہ کے لوگوں کو جنگ کے لئے تیار رہنے کا حکم صادر کر دیا۔ دانا نجومی نے یہ سنا تو بادشاہ سے کہنے لگا "اے بادشاہ! شہر والوں کو پریشان نہ کیجیے اور اپنے سپاہیوں


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 155


کو بھی مسلح ہونے کی تکلیف نہ دیجیے۔ ہمیں دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے فوجوں کی مدد کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنے ملازمین کو رخصت کر دیجیے اور میرے ساتھ بُرج کے خفیہ دالان میں تشریف لے چلئے۔"

بوڑھے ابن حبوس نے اپنے سے بھی زیادہ بوڑھے ابراہم بن ابوایوب کے بازو کا سہارا لیا اور بُرج پر چڑھنے لگا۔ پیتل کا دروازہ کھلا اور دونوں اندر داخل ہوئے۔ درۂ لوبہ کے رخ کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔

نجومی نے کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا "اے بادشاہ! خطرے کا رخ یہی ہے۔ ذرا آگے بڑھئیے اور طلسمی میز کا تماشا ملاحظہ فرمائیے۔"

ابن حبوس میز کی شطرنج نما بساط کی طرف بڑھا اور یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا کہ بساط کے سب مہرے، پیدل اور سوار، حرکت میں تھے۔ گھوڑے جست و خیز میں مصروف تھے اور جنگ جو سپاہی نیزے اور تلواریں چلا رہے تھے۔ طبل و قرنا کی دھیمی دھیمی آوازیں اور گھوڑوں کی ہنہناہٹ بساط کے میدانِ کارزار میں گونج رہی تھی۔ بالکل اس طرح جیسے شہد کی مکھیوں کی بھن بھناہٹ یا بھونرے کی گُن گُناہٹ جو دو پہر کے سائے میں سونے والے نیند کے ماتوں کو مدہوشی کے نغمے سناتی ہے۔

"بادشاہ سلامت! دیکھئے" نجومی نے بادشاہ سے کہا "آپ کے دشمن میدانِ جنگ میں اتر آئے ہیں۔ اگر آپ چاہیں کہ دشمن کی صف میں انتشار پیدا ہو جائے اور وہ جان کے زیاں کے بغیر میدانِ جنگ سے بھاگ جائیں تو ان کٹ پتلیوں پر اس طلسمی برچھی کا دستہ پھیر دیجیے۔ اگر آپ میدانِ جنگ میں قتل و خوں ریزی کا نظارہ کرنے کے خواہش مند ہیں تو ان کے جسموں پر برچھی کی نوک لگا دیجیے۔"

ابن حبوس کے چہرے پر خون کی سرخی دوڑ گئی۔ اس نے برچھی امید و بیم کے کانپتے ہاتھوں میں پکڑ لی۔ اس کی سفید داڑھی کے بالوں پر اشتیاق کی بہجت بکھر گئی اور طلسمی میز کی طرف بڑھتے ہوئےاس نے نجومی سے کہا "بن ابوایوب! میرا جی چاہتا ہے کہ خون کی سرخی دیکھوں۔"

یہ کہا اور ننھی برچھی کا ایک سرا بساط کے کچھ مہروں پر پھیر دیا اور پھر برچھی کا رخ بدل کر بساط کے کچھ اور مہروں پر پھیر دیا۔ اس طلسمی عمل سے کچھ مہرے مردوں کی طرح بےحس و حرکت بساط پر گر پڑے اور کچھ بےتحاشا اور اندھا دھند ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 156


بوڑھے نجومی نے بہ مشکل "صلح جو" اور "امن پسند" حبوس کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ طلسمی برچھی کی مدد سے قتل و غارت کے شعلوں کو سرد کرے۔

طلسمی جنگ ختم ہو چکی تو نجومی اور بادشاہ طلسمی برج سے باہر نکل آئے اور سرکاری جاسوس جبل البیرۃ کی سمت روانہ کئے کہ خبریں لے کر آئیں۔ جاسوس بہت جلد واپس آ گئے اور یہ خبر سنائی کہ عیسائیوں کی ایک فوج غرناطہ کے رخ آ رہی تھی کہ ان میں پھوٹ پڑ گئی اور خاصی جنگ و خوں ریزی کے بعد وہ پیچھے ہٹ گئی۔

طلسم کی تاثیر دیکھ کر ابن حبوس کی خوشی کی حد نہ رہی۔ وہ فرطِ مسرت سے چلا اٹھا "آخر اب میں سکون و راحت کی زندگی بسر کر سکوں گا اور میرے سب دشمن میرا لوہا مانیں گے۔ اے ابوایوب کے دانا فرزند! بتاؤ! اتنی بڑی نعمت مہیا کرنے کے عوض میں تمہیں کیا انعام دوں؟"

"ایک بوڑھے فلسفی کی ضرورتیں مختصر اور سادہ ہوتی ہیں۔ میری خواہش صرف یہ ہے کہ آپ میرے غار کو ایک درویش کی کُٹیا کی طرح آراستہ کروا دیں۔ مجھے اس سے زیادہ کی آرزو نہیں۔"

انعام کی سادگی پر دل ہی دل میں مسرور ہو کر ابن حبوس نے کہا "جو لوگ حقیقت میں حکیم و دانا ہیں ان کے انکسار میں کتنی عظمت و سربلندی ہے!" اس نے خزانچی کو طلب کیا اور حکم دے دیا کہ حکیم کو غار کے آراستہ کرنے کے لئے جتنی رقم کی ضرورت ہو وہ سرکاری خزانے سے مہیا کی جائے۔

نجومی نے ٹھوس اور سنگین چٹان کو ترشوا کر اس کے اندر ایک دوسرے سے ملحق کئی ایوان تعمیر کروائے۔ ان ایوانوں کو بیش بہا مسندوں اور دیوانوں سے آراستہ کیا۔ دیواروں پر دمشق کے نادر ریشم کے زردوزی پردے آویزاں کرنے کا حکم دیا۔ اس حکم کے لئے اس کے پاس یہ جواز تھا کہ "میں بڈھا ہوں اور میری ہڈیوں کو پتھر کے بچھونوں پر آرام نہیں مل سکتا، اور نَم اور مرطوب دیواروں کے لئے پوشش لازمی ہے۔"

کُٹیا کے حماموں کو عطروں اور عود و عنبر کی خوشبوؤں سے معطر کیا گیا۔ نجومی کا خیال تھا کہ "عمر کی درشتی کو دور کرنے اور مطالعے کی گرمی سے جھلس جانے والے جسم میں تازگی و شگفتگی پیدا کرنے کے لئے حمام کا غسل ضروری ہے۔"

نجومی نے اپنے مسکن کے گوشے گوشے میں نقرئی اور بلوریں چراغ آویزاں کروائے اور ان کے لئے ایک خاص روغن تیار کروایا جس کا نسخہ اس نے اہرامِ مصر کے نہاں خانوں سے حاصل کیا تھا۔ اس روغن کی بھینی خوشبو


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 157


دائمی تھی اور اس کی نرم اور دھیمی روشنی صبح صادق کے نور کے مشابہ تھی۔ دانا نجومی کا خیال تھا کہ "سورج کی تیز روشنی بڈھوں کی نظر کے لئے خیرہ کُن ہوتی ہے۔ فلسفی کی مطالعہ کرنے والی آنکھوں کو چراغ کی مانوس روشنی میں زیادہ سکون ملتا ہے۔"

شاہ ابن حبوس کا خزانچی فلسفی کے بڑھتے ہوئے مطالبات سے تنگ آ کر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ لیکن شاہی حکم صادر ہو جائے تو اسے واپس نہیں لیا جا سکتا۔ بادشاہ نے کندھوں کو جھٹک کر کہا۔ "گھبراؤ مت! ذرا تحمل سے کام لو۔ بوڑھے فلسفی کے تصورات کا مخزن و منبع اہرام مصر کے نہاں خانے اور وہاں کے وسیع پُرشکوہ ویرانے ہیں۔۔۔۔ لیکن ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ فلسفی کی کُٹیا کی آرائش بھی آخر ایک دن ختم ہو جائے گی۔"

بادشاہ کا قیاس درست نکلا۔ آخر ایوانِ حکمت کی آرائش و زیبائش ختم ہوئی اور فلسفی کی کُٹیا نے ایک عدیم النظیر زمیں دوز قصرِ شاہی کی صورت اختیار کر لی۔ فلسفی نے آرائش و زیبائش پر پسندیدگی اور اطمینان ظاہر کیا اور اپنے ایوان کو ہر طرف سے بند کر کے تین شب و روز مطالعے میں مستغرق رہا۔ لیکن تین دن کے بعد وہ پھر خزانچی کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا "ایک چیز کی ضرورت باقی رہ گئی۔۔۔۔ ایک معمولی سی چیز کی، جو مطالعے کی جانکاہی کے بعد مجھے تھوڑا سا سکون دے سکے۔"

"اے حکیم دانا! آپ کو اپنی مراقبے کی زندگی میں جس چیز کی بھی ضرورت ہو یہ خادم بسر و چشم مہیا کرے گا۔ بتائیے اب آپ کو کیا چاہیے؟"

"مجھے رقص کرنے والی چند لڑکیوں کی ضرورت ہے۔"

"رقص کرنے والی لڑکیاں" خزانچی نے حیرت سے اس کی بات دہرائی۔

"رقص کرنے والی لڑکیاں" حکیم نے بےحد سنجیدگی سے جواب دیا "لیکن اس کا خیال رکھئیے کہ رقص کرنے والیاں نوجوان ہوں اور حسین ہوں۔ اس لئے کہ حسن و شباب کا نظارہ فرحت بخش ہوتا ہے۔۔۔۔ اور ہاں! دیکھو میری ضرورت کے لئے صرف چند کافی ہیں اس لئے کہ فلسفیوں کی عادتیں سادہ ہوتی ہیں اور انہیں زیادہ چیز کی ہوس نہیں ہوتی۔"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 158


ایک طرف تو فلسفی مزاج ابراہیم ابوایوب اپنی کُٹیا میں یوں درویشی کی زندگی بسر کر رہا تھا اور دوسری طرف "صلح پسند" ابن حبوس اپنے بُرج میں بند خونیں مہمیں سر کرنے میں مگن تھا۔ اس جیسے پیرانہ سال اور تنہائی پسند بادشاہ کے لئے جنگوں کا اس طرح آسان ہو جانا اور بڑے بڑے لشکروں کا مکھی کے چھتوں کی طرح دیکھتے دیکھتے فنا ہو جانا ایک ایسی عجیب و غریب بات تھی جس میں اسے انتہائی لطف آتا تھا۔

کچھ عرصے تک ابن حبوس کی لطف اندوزی کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا۔ وہ اپنے ہمسایہ بادشاہوں کو طعنے دے دے کر ان کی توہین کرتا کہ وہ مشتعل ہو کر حملہ کرنے پر آمادہ ہوں۔ لیکن رفتہ رفتہ اس کے ہمسائے اپنی تباہی سے اتنے عاجز آئے کہ حملے اور جنگ کے نام سے کانوں پر ہاتھ دھرنے لگے۔ مہینوں کانسی کا پاسبان اپنی جگہ پر خاموش کھڑا رہا اور مہینوں اس کی طلسمی برچھی فضا میں سیدھی تنی رہی، اور بوڑھے ابن حبوس کو اپنے بےشغلی اور صلح و آشتی کے روز و شب سے الجھن ہونے لگی۔

لیکن آخر کار، ایک دن طلسمی مجسمے کو حرکت ہوئی اور وہ اپنی برچھی جبل قاوش کی طرف تان کر کھڑا ہو گیا۔ ابن حبوس فوراً طلسمی بُرج میں آیا لیکن جس سمت برچھی کا رخ تھا ادھر کی میز آج ہنگاموں سے خالی تھی۔ کوئی پیادہ و سوار حرکت میں نہ تھا۔ اس عجیب و غریب صورت حال سے پریشان ہو کر اس نے کچھ سوار جبل قاوش کی طرف روانہ کئے کہ وہاں کے حالات کی خبر لائیں۔ مخبر دو تین دن بعد واپس لوٹے اور آ کر یہ پیام دیا:

"ہم نے پہاڑ کا کونا کونا چھان مارا لیکن وہاں نہ برچھیاں ہیں نہ تلواریں۔ البتہ اپنی تلاش و جستجو میں ہمیں ایک عیسائی حسینہ دوپہر کے وقت ایک فوارے کے قریب سوتی ہوئی ملی۔ حسین شباب و رعنائی کا لاثانی مرقع ہے اورہم اسے گرفتار کر کے آپ کی خدمت میں لائے ہیں۔"

"ایک عیسائی حسینہ۔۔۔۔ شباب و رعنائی کا لاثانی مرقع" یہ کہتے ہوئے ابن حبوس کی آنکھیں جوشِ مسرت سے چمک اٹھیں اور اس نے حکم دیا "حسینہ کو فوراً میری خدمت میں حاضر کرو۔"

حسینہ بادشاہ کی حضور لائی گئی۔ عرب فتح کے وقت ہسپانوی دوشیزائیں جس طرح کے زیوارت پہنتی تھیں، اس عیسائی حسینہ کا جسم ان کے منتخب اور بیش بہا نمونوں سے آراستہ تھا۔ اس کی آبنوسی زلفوں کا ہر تار خیرہ کُن سفید موتیوں سے گُندھا ہوا تھا اور اس کی پیشانی پر پڑے ہوئے ٹیکے کے گوہر تابدار تابانی میں اس


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 159


کی چشمِ رعنا کے دعوے دار تھے۔ اس کی مرمریں گردن میں ایک طلائی زنجیر تھی، جس میں ایک نقرئی بربط آویزاں تھا۔

حسینہ کی سیاہ شعلہ ساماں آنکھوں کے شعلوں نے ابنِ حبوس کے پژمردہ لیکن آتش گیر دل کو گرمیِ محبت سے مشتعل کر دیا، اور اس کے عشرت خیز قدِ رعنا کی شرابِ سیال نے اس کے ہوش و حواس گم کر دئیے۔ اس نے عالمِ مدہوشی میں حسینہ کو مخاطب کر کے کہا "نسوانی حسن کی مکمل ترین تصویر! تم کون ہو اور کیا ہو؟"

"ایک عیسائی حکمراں کی شہزادی، جو چند دن پہلے تک ایک وسیع مملکت کا آقا و سرتاج تھا لیکن اس کی فوجیں، جیسے کسی طلسم کی تاثیر سے پہاڑوں میں غارت ہو گئیں۔ بادشاہ نے ترکِ وطن کیا اور اس کی چہیتی بیٹی اسیر ہوئی۔"

ابراہیم ابوایوب نے بادشاہ کے کان میں جھک کر کہا "اے بادشاہ! خبردار! ممکن ہے کہ یہ بھی ویسی ہی کوئی ساحرہ ہو، جو عجیب عجیب بھیسوں میں آ کر غافلوں کو اپنی زلفِ گرہ گیر کا اسیر بناتی ہیں۔ مجھے اس کی آنکھوں پر سحر اور ہر حرکت میں طلسم کا سایہ نظر آتا ہے۔ یقیناً یہی وہ غنیم ہے جس کی طرف طلسمی سنتری نے اشارہ کیا تھا۔"

"اے ابوایوب کے فرزند!" بادشاہ نے جواب دیا "مانا کہ تم صاحبِ حکمت و دانش ہو اور دنیا کا کوئی علم تمہاری نظر سے پوشیدہ نہیں لیکن تم صنفِ نازک کے رازوں سے ناآشنا ہو۔ اس علم میں میں کسی کے آگے سر جھکانے کو تیار نہیں ہوں۔ حتٰی کہ اس معاملے میں سلیمان الحکیم کی حکمت کا بھی قائل نہیں ہوں، اس کے باوجود کہ ان کے حرم میں بےشمار کنیزیں اور شہزادیاں تھیں۔۔۔ اور جہاں تک اس حسینہ کا تعلق ہے مجھے اس میں کوئی خطرہ نظر نہیں آتا۔ پھر وہ میری منظورِ نظر بھی ہے۔"

"سنو! اے شہنشاہ!" نجومی نے جواب دیا "میرے دئیے ہوئے طلسم سے تم نے نہ جانے کتنی فتوحات حاصل کی ہیں لیکن کبھی مالِ غنیمت میں مجھے اپنا شریک نہیں بنایا۔ اس مالِ غنیمت میں میرا جو حصہ ہے اس کے بدلے میں مجھے یہ حسین قیدی دے دو کہ میں اپنی تنہائیوں میں اس کے بربط کے نغموں سے سکون اور راحت پا سکوں۔ اگر یہ واقعی کوئی ساحرہ ہے تو میرے پاس اس کے سحر کے بےشمار رَد موجود ہیں۔"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

اوشو

لائبریرین
قصص الحمرا


صفحہ ۔۔۔ 160


"کیا کہا؟" ابن حبوس نے چیخ کر کہا "ابھی حسین عورتوں سے تمہارا جی نہیں بھرا؟ کیا تمہارے ایوان میں رقص کرنے والی دوشیزاؤں کی کوئی کمی ہے؟"

"یہ صحیح ہے کہ میرے ایوان میں رقاصاؤں کی کمی نہیں۔ لیکن یہ ایوان کسی مطربہ کے دلنواز نغموں سے خالی ہے۔ اور مطالعے کے بعد مجھے نغمے جیسے سامانِ راحت کی ضرورت ہے۔"

بادشاہ بےصبری سے چلایا "تمہاری درویشانہ آرزوؤں پر اللہ کی رحمت! اس حسینہ کو میں نے اپنے لئے منتخب کیا ہے۔ اس کا نظارہ میرے لئے اسی طرح سکون بخش ہے جس طرح داؤدؑ کے لئے ابیشح کا قُرب۔"

نجومی کی زیادہ خوشامدوں اور زیادہ دھمکیوں نے بادشاہ کے رویے میں زیادہ سختی پیدا کی اور بالآخر اس کے ایک مُسکِت جواب نے نجومی کو قطعی مایوس کر دیا اور وہ ناخوش و ناراض وہاں سے رخصت ہوا۔ تاہم چلتے چلتے اس نے ایک بار پھر بادشاہ کو حسین قیدی کے خطروں سے آگاہ کر دیا۔ لیکن بڑھاپے کا عشق مشورے اور انجام دونوں طرف سے غافل ہوتا ہے۔ نجومی اور بادشاہ ایک دوسرے سے جُدا ہوئے۔۔۔۔ ایک اپنے کلبۂ حکمت میں اپنی مایوسی و محرومی کا ماتم کرنے اور دوسرا قصرِ شاہی میں اپنی ہوس پرستی کی داد دینے۔ زندگی میں اب اس کی واحد تمنا یہ تھی کہ اپنے آپ کو حسین شہزادی کی نظر میں محبوب بنائے۔ جوانی نہیں تھی کہ اس کی سفارش کرتی لیکن اس کی تلافی کے لئے اس کے پاس دولت تھی اور جب عاشق بوڑھا ہو گیا ہو تو عموماً دریا دل ہوتا ہے۔ غرناطہ کے سقاطین کے ہر گوشے سے مشرقی دنیا کے بیش بہا تحائف مہیا کئے گئے۔۔۔۔ ریشمی ملبوس، قیمتی زیور، موتی جواہرات، عطر، تیل، ایشیا اور افریقہ کی تمام نادر و بیش بہا مصنوعات شہزادی کے قدموں پر نثار کر دی گئیں۔ اس کی دل دہی کے لئے نئے سے نئے مناظر اور دلچسپ تفریحات فراہم کی گئیں۔۔۔۔ رقص و سرود، بازیٔ و نغمہ، کھیل تماشے، کُشتیاں اور جانوروں کی لڑائیاں، اور غرناطہ کچھ عرصے کے لئے عیش و نشاط کا اکھاڑا بن گیا۔ حسین شہزادی نے اس سارے ساز و سامان، اس سارے شان و شکوہ کو اس بےنیازی کی نظر سے دیکھا جیسے وہ اس کے معمولات میں داخل ہوں۔ وہ ان سب چیزوں کو اپنے منصبِ بلند، بلکہ بارگاہِ حسن میں نذرانہ سمجھ کر قبول کرتی، اس لئے کہ حسن کا شکوہ مرابت و مناصب کے شکوہ


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔۔ 161


سے بلند تر ہوتا ہے۔ وہ ایک طرف تو بادشاہ کی ہر فیاضی و دریا دلی کو شب و روز کا ایک معمولی تماشا سمجھتی اور دوسری طرف دل ہی دل میں اس خیال سے مسرور ہوتی کہ اس کی یہ فیاضی و دریا دلی اس کے خزانے کو خالی کر رہی ہے۔۔۔۔ اور ستم یہ تھا کہ یوں اپنے گھر کو آگ لگا کر بھی بادشاہ کو یقین نہ تھا کہ اس نے اپنے حسین محبوبہ کے دل میں کوئی جگہ بنائی ہے یا نہیں۔ یہ درست ہے کہ شہزادی کبھی اس سے خفگی سے پیش نہیں آئی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسے دیکھ کر کبھی اس کے لبوں پر تبسم نہیں کھیلا۔

کبھی کبھی جب بادشاہ شہزادی کے سامنے اپنا جوشِ محبت ظاہر کرتا تو وہ اپنا نقرئی بربط بجانے لگتی اور اس کے سحر آگیں نغمے کی تاثیر سے بادشاہ ازخودرفتہ ہو جاتا، اس پر مدہوشی حاوی ہوتی اور وہ دیکھتے دیکھتے خوابِ راحت کے مزے لینے لگتا۔ کچھ دیر بعد جب اس کی آنکھ کھلتی تو وہ اپنے آپ کو شگفتہ و مسرور پاتا اور اس کا جوشِ محبت کم از کم اس وقت کے لئے رخصت ہو چکا ہوتا۔ بادشاہ کے لئے اس مدہوشی اور ازخودرفتگی میں ایک عجیب لذت تھی۔ وہ مدہوش ہوتا تو اسے اتنے حسین خواب دکھائی دیتے کہ اس نے زندگی کی ہر چیز ان خوابوں پر نثار کر دی۔ غرناطہ کا پیراں سال بادشاہ خوابِ نوشیں کی لذتوں میں سرشار صرف خوابوں کی لذت کے لئے جی رہا تھا۔ اس کی رعایا اس کی مدہوشی پر طعنہ زن تھی اور نقرئی بربط کے ایک نغمے کے عوض غرناطہ کا خزانہ خالی ہوتا چلا جا رہا تھا۔

اور بالآخر ابن حبوس کے سر پر ایک ایسی بلا نازل ہوئی جس کی اطلاع سنتری نے بھی اسے نہ دی۔ خود غرناطہ میں بغاوت کا ایک فتنہ اٹھا۔ مسلح باغیوں نے قصرِ شاہی کو گھیر لیا اور بادشاہ اور اس کی حسین محبوبہ کی جان کے لئے خطرہ پیدا ہو گیا۔ بادشاہ کے سینے میں جاں بازی کے فطری جذبے کی ایک چنگاری روشن ہوئی، وہ اپنے محافظ دستے کو لے کر باہر نکل آیا اور بغاوت کی آگ ٹھنڈی ہو گئی۔

بغاوت فرو ہو گئی تو بادشاہ نے نجومی کی طرف رخ کیا، جو اب بھی اپنے ایوانِ حکمت میں بند مایوسی کی تلخی کو خوشگوار بنانے کی کوشش میں مصروف تھا۔

ابن حبوس نے صلح جوئی اور دوست داری کے لہجے میں اسے مخاطب کیا "اے ابوایوب کے دانا فرزند! تم نے مجھے ان خطروں سے خبردار کیا تھا جو مجھے اس حسین قیدی سے پیش آنے والے ہیں۔ کیا


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 162


تم، جس کی نظر آنے والی ہر چیز پر ہے، مجھے یہ بتا سکتے ہو کہ میں ان خطروں سے کس طرح محفوظ رہ سکتا ہوں؟"

"خطروں سے محفوظ رہنے کی صرف یہ ترکیب ہے کہ جو حسینہ ان خطروں کا سبب ننے والی ہے اسے اپنے سے دور کر۔"

ابن حبوس مایوسی کے عالم میں چلایا "اپنی سلطنت سے جدائی ممکن ہے، لیکن اس سے نہیں۔"

"تو اندیشہ ہے کہ تم دونوں کو نہ کھو بیٹھو۔" نجومی نے جواب دیا۔

"اے حکیموں کے حکیم اور داناؤں کے دانا! غصے سے کام مت لو۔ ایک بادشاہ اور ایک عاشق کے غم کو پہچانو اور مجھے کوئی ایسی ترکیب بتاؤ کہ میں ان خطروں سے بچ سکوں جن میں گھرا ہوا ہوں۔ مجھے شان و شکوہ کی آرزو نہیں، مجھے قوت و جبروت کی تمنا نہیں۔ مجھے سکون چاہیے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ مجھے کوئی ایسا گوشۂِ عافیت مل جائے جہاں مجھے دنیا سے، اس کے غموں سے، اس کی فکروں سے، اور اس کی ذمہ داریوں سے نجات مل سکے اور میں اپنے دن سکون اور محبت کی آغوش میں بسر کر سکوں؟"

نجومی نے بادشاہ کو اپنی گھنی پلکوں میں سے دیکھا اور پوچھا:

"اور اگر تجھے ایسا گوشہِ عافیت مل جائے تو مجھے کیا دے گا؟"

"اپنا انعام تم خود تجویز کرو۔ خواہ وہ کچھ بھی ہو۔ اگر وہ میرے اختیار میں ہے تو تمہیں ملے گا۔"

"اے بادشاہ! تو نے باغِ ارم کا نام سنا ہے، جس کا وعدہ اللہ نے مومنوں سے کیا ہے؟"

"ہاں سنا ہے! اس کا ذکر قرآن پاک میں ہے اور بارہا ان کی زبانی میرے کانوں تک پہنچا ہے جو مکے کی زیارت کر کے واپس آئے ہیں۔ لیکن باغِ ارم کی جو حیرت انگیز باتیں میں نے سنی ہیں انہیں میں نے کبھی سیاحوں کے دلفریب افسانوں سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔"

"اے بادشاہ! سیاحوں کی باتوں کو محض افسانہ سمجھنے کی عادت چھوڑ دو" نجومی نے بڑی سنجیدگی سے کہا "اس لئے کہ سفر میں کبھی کبھی علم و دانش کے ایسے جواہرات ہاتھ آتے ہیں جو شاہوں کے خزانے میں بھی ناپید ہیں۔ رہیں قصرِ ارم اور باغِ ارم کی باتیں، سو تم نے ان کے متعلق جو سنا ہے وہ حرف بہ حرف صحیح ہے۔ میری آنکھوں نے ان کا مشاہدہ کیا ہے۔ میں تمہیں اپنے بچپن کا ایک قصہ سناتا ہوں۔ اسے غور سے سنو اس لئے کہ اس کا تمہارے مقصد سے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 163


بڑا گہرا تعلق ہے۔"

"یہ میرے بچپن کا ذکر ہے جب میں صحرا میں اپنے باپ کے اونٹ چرایا کرتا تھا۔ میں اپنے اونٹوں سمیت صحرائے عدن میں سے گزر رہا تھا کہ گلّے میں سے ایک اونٹ پیچھے رہ گیا۔ میں نے کئی دن تک اسے تلاش کیا لیکن نہ ملا۔ ایک دن دوپہر کو میں تھک ہار کر ایک خالی کنوئیں کے پاس ایک کھجور کے پیڑ کے نیچے پڑ رہا۔ جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ ایک شہر کے پھاٹک کے قریب پڑا ہوں۔ میں جلدی سے اٹھا اور شہر میں داخل ہو گیا۔ شہر کی کشادہ و فراخ سڑکیں، آراستہ و پیراستہ بازار اور باغ بغیچے دیکھ کر میرا جی خوش ہو گیا۔ لیکن شہر میں ہر طرف سناٹا تھا، کہیں کسی متنفس کا پتہ نشان تک نہ تھا۔ میں تنہا کوچوں اور بازاروں میں گھومتا رہا، یہاں تک کہ ایک محل کے دروازے پر جا پہنچا۔ محل میں داخل ہوا تو ہر طرف گلشن اور گلشنوں میں شفاف حوض اور دُربار فوارے نظر آئے۔ حوضوں میں روپہلی سنہری مچھلیاں تیر رہی تھیں اور کُنجوں اور روشوں کے درخت اور پودے رنگین پھولوں اور رسیلے خوش ذائقہ پھلوں سے لدے ہوئے تھے۔۔۔۔ لیکن آدم زاد وہاں بھی کوئی نہ تھا۔ اس تنہائی سے گھبرا کر میں نے محل سے باہر نکل جانے کا فیصلہ کیا۔ محل سے نکل کر باہر آیا اور پھر شہر سے باہر آ گیا۔ لیکن میں نے مڑ کر دیکھا تو نہ شہر نظر آیا اور نہ اس کے قصر و باغ۔ میری آنکھوں کے سامنے سوائے خشک صحرا کے اور کچھ نہ تھا۔"

"تھوڑی دور جا کر میری ملاقات ایک معمر درویش سے ہوئی، جسے اس سرزمین کی روایات اور یہاں کے رسوم و رموز کا پورا علم تھا۔ میں نے جو کچھ دیکھا تھا اس کا حال درویش سے بیان کیا۔ درویش نے میری روداد سن کر کہا کہ 'جو کچھ تم نے دیکھا ہے وہ حقیقت میں باغِ ارم ہے اور صحرا کے عجائب میں سے سب سے عجیب۔ یہ شہر، اس کے قصر و بُرج، اس کے گلشن، شجر، ثمر اور پھول صرف کبھی کبھی آتے جاتے مسافروں کو نظر آتے ہیں اور پھر نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ اور اس کی حقیقت یوں ہے کہ۔۔۔۔ مدتوں پہلے کی بات ہے، جب یہاں قوم عاد آباد تھی، حضرت نوحؑ کی اولاد عاد کے بیٹے شدّاد نے یہاں ایک عظیم الشان شہر کی بنیاد رکھی۔ شہر بن کر تیار ہو گیا اور شداد نے اس کے حسن و شکوہ کا نظارہ کیا تو اس کا دل غرور و تمکنت سے بھر گیا اور اس نے اپنے دل میں سوچا کہ وہ اس شہر میں ایک ایسا قصر اور ایسا باغ تعمیر کروائے گا جو اللہ کی بنائی ہوئی بہشتِ بریں کا ثانی ہو۔ اس نے اپنی پسند کے قصر اور باغ تعمیر کروائے لیکن اس پر اللہ کا عتاب ہوا۔ اس کے قصر و خیاباں اور ان قصروں کے ساکن نیست و نابود ہو گئے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 164


اللہ نے انہیں انسانی نظر سے پوشیدہ کر دیا اور وہ صرف کبھی کبھی کسی مسافر کو اس لئے نظر آ جاتے ہیں کہ اس کے گناہ کی یاد تازہ رہے۔'

"اے بادشاہ! شداد کی بہشت کا یہ افسانہ میرے دل پر نقش تھا، اس لئے جب مصر کے قیام میں سلیمانِ اعظم کی کتابِ حکمت میرے ہاتھ آئی تو میں نے تہیہ کیا کہ اس کی مدد سے ایک بار پھر باغِ ارم کی سیر کروں گا۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور بہشتِ شداد کے سارے مناظر میری نظر کے سامنے آ گئے۔ میں کئی دن تک اس جنتِ ارضی میں مقیم رہا۔ جو جنات اس جنت کے نگران و پاسبان ہیں وہ سب میری قوتِ تسخیر کے تابع ہو گئے۔ ان جنات نے مجھ پر وہ سب طلسم آشکارا کر دئیے جن کی مدد سے یہ جنت تعمیر ہوئی تھی اور جن کے اثر سے وہ عام نظر سے مخفی رہتی تھی۔ اس طرح کی بہشت اور گلشن و قصر، میں سامنے والی پہاڑی پر آپ کے لئے تعمیر کر سکتا ہوں۔۔۔۔ اس لئے کہ اے بادشاہ! سلیمان اعظم کی کتابُ الحکمت میرے تصرت میں ہے اور میں دنیا کے ہر سحر و طلسم کا عالم باعمل ہوں۔"

ابن حبوس نے ابراہیم حکیم کی باتیں سنیں تو وہ فرطِ شوق سے کانپ گیا اور عاجزی سے حکیم سے کہنے لگا "اے ابوایوب کے فرزندِ دانا! تم صحیح معنوں میں سیاح ہو اور تم نے حیرت انگیز چیزوں کا مشاہدہ کیا اور علم حاصل کیا ہے۔ میرے لئے اس طرح کی جنت تعمیر کروا دو تو منہ مانگا انعام پاؤ۔۔۔۔ میں اپنی سلطنت کا آدھا حصہ بھی تمہاری نذر کرنے کو تیار ہوں۔"

نجومی نے آہ بھر کر جواب دیا "تمہیں معلوم ہے کہ میں بوڑھاہوں، فلسفی ہوں اور میری ضرورتیں مختصر اور خواہشیں قلیل ہیں۔ اس جنت کے عوض وہ پہلا چوپایہ جو جنت کے دروازے میں قدم رکھے اور اس پر لدا ہوا سامان میرا انعام ہو گا۔"

بادشاہ نے بہ خوشی یہ شرط منظور کر لی اور ابراہیم جنتِ ارضی کی تعمیر کی تیاریاں کرنے لگا۔ اپنے زمیں دوز خانہِ حکمت سے اوپر والی پہاڑی چوٹی پر اس نے ایک مضبوط بُرج اور عالیشان فصیل تعمیر کروائی۔

فصیل اور بُرج کا نقشہ یہ تھا کہ پہلے بلند محراب والی ایک بیرونی شہ نشین تھی، اس کے اندر ایک اور شہ نشین تھی جو ٹھوس، وزنی ستونوں پر استادہ تھی۔ اندرونی شہ نشین کی ڈاٹ پر نجومی نے اپنے ہاتھ سے ایک بہت بڑی کنجی کی تصویر بنائی اور بیرونی شہ نشین کے محراب پر، جو اندرونی شہ نشین سے بہت اونچا تھا


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 165


اس نے ایک زبردست ہاتھ کی شکل بنائی۔ یہ شکلیں طلسم کی علامتیں تھیں۔ نجومی نے یہ علامتیں بنا کر کسی انوکھی زبان میں کچھ منتر پڑھنے شروع کئے۔

جب یہ عالیشان فصیل مکمل ہو گئی تو نجومی دو دن تک اپنے خانہِ حکمت میں بند رہا۔ تیسرے دن وہ پہاڑ پر چڑھا اور سارا دن اس کی چوٹی پر گزارا۔ خاصی رات گئے وہ چوتی سے نیچے اترا اور ابن حبوس کے حضور پیش ہو کر بادشاہ سے عرض کی:

"اے بادشاہ! آخر کار میرا کام مکمل ہو گیا۔ پہاڑ کی چوٹی پر ایک ایسا لاجواب قصر تعمیر ہو گیا ہے جس سے بہتر کا تصور انسان کے ذہن کے لئے اور جس سے بہتر کی خواہش اس کے دل کےلئے ممکن نہیں۔ اس میں ہر طرف نفیس ایوان و دالان ہیں، دلکش گلستان و بوستان ہیں، فرحت بخش حوض اور فوارے ہیں، معطر حمام ہیں۔ مختصر یہ کہ پہاڑی زمین پر جنت کا مکمل نمونہ ہے۔۔۔۔ لیکن جنتِ ارم کی طرح یہ بہشت بھی ایک زبردست طلسم کے زیرِ اثر چشمِ بینا سے مخفی ہے۔ اس کا نظارہ صرف وہی کر سکتے ہیں جو اس طلسم کے رازداں ہیں۔"

"بس!" ابن حبوس فرطِ مسرت سے چلایا "کل نیرِ اعظم کی پہلی کرن کے ساتھ ہم پہاڑی پر چڑھ کر اس بہشت کا نظارہ کریں گے۔"

مسرور و شادماں ابن حبوس اس رات بالکل نہ سویا۔ سورج کی پہلی کرنوں نے پہاڑ کی برفانی چوٹی سے اٹکھیلیاں شروع کیں اور ابن حبوس نے اپنے مرکت پر سوار ہو کر اپنے منتخب مقربین کے ہمراہ ایک تنگ ڈھلوان کے راستے پہاڑی پر چڑھنا شروع کیا۔ اس کے برابر برابر حسین شہزادی ایک بُراق گھوڑے پر سوار مستی و ناز کے ساتھ ہمراہ تھی۔۔۔۔ تنِ نازک مرصع و جواہر پوش ملبوس سے مستور اور گردن میں نقرئی بربط آویزاں۔ بادشاہ کے دوسرے بازو پر نجومی ہمرکاب تھا۔ وہ اپنے عصائے پیری کے سہارے پہاڑی پر چڑھ رہا تھا، اس لئے کہ اسے گھوڑے کی سواری پسند نہیں تھی۔

ابن حبوس گردن اٹھا اٹھا کر قصر کے بُرجوں اور اس کے گل پوش گلشنوں کا نظارہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اسے کچھ نظر نہ آتا تھا۔ نجومی نے ابن حبوس کی بےتابی دیکھ کر کہا "یہی اس بہشتِ ارضی کی حفاظت کا طلسمی راز ہے۔ جب تک آپ سحرزدہ پھاٹک میں داخل ہو کر بہشت کے مالک نہ بن جائیں آپ


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 166


کسی چیز کا نظارہ نہیں کر سکتے۔"

یہ مختصر قافلہ پھاتک کے قریب پہنچا تو نجومی چلتے چلتے رک گیا اور محراب پر بنی ہوئی کنجی اور ہاتھ کی شکلوں کی طرف اشارہ کر کے کہا "یہ دو طلسم بہشت کے دروازے کے پاسبان ہیں۔ جب تک یہ ہاتھ بڑھ کر کنجی کو نہ پکڑ لے کسی انسان کی طاقت یا طلسم کی تاثیر اس پہاڑ کے دیوتا پر غالب نہیں آ سکتی۔"

ابن حبوس حیرت و استعجاب میں غرق، کشادہ لب ان طلسمی علامتوں کو تک رہا تھا اور شہزادی کی گھوڑی آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی۔ یہاں تک کہ وہ پھاٹک میں داخل ہو کر بُرج کے عین وسط میں پہنچ گئی۔

"دیکھو!" نجومی چلایا "پہلا چوپایا اور اس پر لدا ہوا سامان، جو طلسمی پھاٹک میں داخل ہو، یہ ہے میرا انعام!"

بادشاہ نجومی کی اس بات کو محض پیرانہ مزاح سمجھ کر مسکرا دیا۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ نجومی کی بات مذاق نہیں حقیقت ہے تو وہ غصے سے کانپ اٹھا۔ اس نے درشتی سے کہا "اے ابوایوب کے فرزند! یہ کیا مذاق ہے؟ تو میرے وعدے کا مطلب جانتا ہے: پہلا چوپایہ، اور اس پر لدا ہوا بوجھ، جو پھاٹک میں داخل ہو۔۔۔۔ شاہی اصطبل سے سب سے مضبوط خچر لے، اسے شاہی خزانے کے قیمتی سے قیمتی جواہرات سے لاد دے اور وہ تیری ملکیت ہے۔ لیکن وہ جو میرے دل کی ملکہ ہے اس کا خیال اپنے دل میں لانے کی ہمت نہ کر۔"

"جواہرات!" نجومی نے حقارت سے جواب دیا "مجھے زر و جواہر کی کیا پروا؟ کیا میرے قبضے میں سلیمانِ اعظم کی کتاب الحکمت نہیں، جس کی روشنی میں سب مخفی دفینے میری نظر کے لئے کھلے ہوئے ہیں؟ شہزادی پر میرا حق ہے۔ بادشاہ کا وعدہ اٹل ہے۔ اس لئے شہزدی میری ہے اور میں اسے طلب کرتا ہوں۔"

شہزادی نے غرور سے سر اٹھایا، اور دو سفید ریش بوڑھوں کو حسن و شباب کی ملکیت پر جھگڑتے دیکھ کر اس لے لبِ لعلیں پر حقارت آمیز تبسم بکھر گیا، اور بادشاہ کی مصلحت اندیشی پر غصہ غالب آ گیا۔ اس نے چیخ کر کہا "اے صحرا کے لعین فرزند! تیرے سینے میں علم و فن کے کتنے ہی خزانے مستور ہوں، لیکن یہ سمجھ کہ میں تیرا آقا ہوں، بادشاہ ہوں۔۔۔۔ اور آقا اور بادشاہ سے سودے بازی اچھی نہیں۔"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 167


"آقا! بادشاہ!" نجومی نے تحقیر کے ساتھ یہ الفاظ دہرائے "مٹی کے ڈھیروں پر حکومت کرنے والا بادشاہ اس کا آقا بننے کا دعوے دار ہے جس کے دستِ تصرف میں سلیمان کا طلسم ہے۔ خدا حافظ! ابن حبوس! تم اپنی حقیر مملکت پر حکومت کرو اور اپنی احمقوں کی جنت میں مگن رہو۔ اور میں تمہاری حماقتوں پر قہقہے لگانے کے لئے اپنے گوشہِ حکمت میں جاتا ہوں۔"

یہ کہا، شہزادی کے مرکب کی لگام پکڑی اور اپنا عصائے طلسمی زمین پر مارا۔ زمین شق ہو گئی اور وہ شہزادی سمیت اس میں سما گیا۔ شکاف بند ہو گیا اور زمین جیسی ہموار پہلے تھی ویسی ہی پھر ہو گئی۔

ابن حبوس کچھ دیر دریائے حیرت میں غرق وہیں کھڑا رہا۔ لیکن جلد ہی حواس پر قابو پا کر اس زمین کو کھودنے کا حکم دیا جہاں نجومی اور شہزادی سمائے تھے۔ ہزاروں مزدوروں نے کُدال اور پھاوڑے سے زمین کا سینہ چھلنی کر ڈالا، لیکن بےسود۔ جب کُدالوں اور پھاوڑوں کی نوکیں کند ہو گئیں تو بادشاہ نے نجومی کے زمین دوز محل کا رخ کیا۔ لیکن جب وہ پہاڑی کے نیچے اترا تو کہیں اس غار کا نام و نشان تک نہ تھا۔ ابراہیم ابوایوب رخصت ہوا تو اس کے بنائے ہوئے سارے طلسم بھی ختم ہو گئے۔ کانسی کا مجسمہ اپنی جگہ بت بنا کھڑا تھا اور اس کی برچھی کی نوک ادھر اشارہ کر رہی تھی جدھر نجومی گیا تھا۔۔۔۔ گویا وہ ابن حبوس کو بتا رہی تھی کہ تمہارا سب سے خطرناک دشمن وہاں چھپا ہوا ہے۔

کبھی کبھی پتھر کی چٹانوں میں سے موسیقی کی دھیمی آوازوں اور نسوانی نغموں کا دل دوز ترنم فضا میں پرواز کرتا سنائی دیتا۔۔۔۔ اور بالآخر ایک دندہقان بادشاہ کی خدمت میں یہ خبر لایا کہ "کل رات مجھے چٹان میں ایک شگاف نظر آیا۔ میں اس شگاف کے راستے اندر اترا تو ایک وسیع ایوان میں پہنچ گیا، جہاں ایک پرشکوہ مسند پر ایک بوڑھا بیٹھا گردن ہلا رہا تھا اور اس کے حواس شہزادی کے بربط کے نغموں کی دھن پر رقص کر رہے تھے۔"

ابن حبوس نے چٹان کا شگاف تلاش کیا لیکن وہ بند ہو چکا تھا۔ اس نے پھر چٹانوں کی کھدائی شروع کرائی لیکن بغیر کسی نتیجے کے۔ ہاتھ اور کنجی کا طلسم اتنا بےجان نہ تھا کہ انسانی قوت اسے توڑ سکتی۔۔۔۔ رہی وہ پہاڑی کی چوٹی، جس پر نجومی نے قصرِ جنت تعمیر کروایا تھا، سو وہ سنسان و ویران پڑی تھی۔۔۔۔ شاید اس لئے کہ طلسمی جنتیں عام نظروں سے مخفی رہتی ہیں اور یا شاید اس لئے کہ جنت کی حقیقت ساحر کا پیدا کیا ہوا محض ایک فریب تھا۔ اہلِ دنیا کے نزدیک دوسری بات صحیح تھی، اس لئے کچھ لوگوں نے اس جگہ کا نام "حماقت الملک" رکھا تھا اور کچھ اسے "جنت الحمقا" کہتے تھے

ابن حبوس کی آتشِ غضب کو بھڑکانے کے لئے ایک آندھی اور چلی۔ اس کے ان ہمسایہ حکمرانوں نے جنہیں اس نے اب تک شکست و تمسخر کا نشانہ بنایا تھا طلسم کی قوت ختم ہو جانے کے بعد اس کی بےبسی و بےکسی کا اندازہ لگایا تو ہر طرف سے اس پر ٹوٹ پڑے اور امن پسند اور صلح جو بادشاہ کی باقی زندگی مصائب کے آغوش میں بسر ہوئی۔

اور بالآکر ابن حبوس مر گیا اور اسے زیرِ زمین دفن کر دیا گیا۔ اسے مرے ہوئے اور دفن ہوئے صدیاں گزر گئیں۔ اس کے مرنے کے بعد اسی پہاڑی پر، جو حوادث کا گہوارہ و مرکز تھی، الحمرا تعمیر ہوا۔ وہ کسی حد تک باغِ ارم کی خیالی مسرتوں کی تلافی کر رہا ہے۔ طلسم زدہ پھاٹک اب بھی موجود ہے۔ اب بھی طلسمی ہاتھ اور طلسمی کُنجی اس کے محافظ ہیں۔ یہی پھاٹک ہے جسے زمانے نے "باب العدل" کا نام دیا ہے اور اس ی میں ہو کر ہم الحمرا کے قلعے میں داخل ہوتے ہیں۔ لوگوں کا بیان ہے کہ اسی "باب العدل" کے نیچے تہ خانے کے اندر ساحر اب بھی شہزادی کے نقرئی بربط کے نغمے سنتا، ان پر سر دھنتا اور اپنے ہوش و حواس نثار کرتا رہتا ہے۔

باب العدل پر پہرہ دینے والے بوڑھے سنتری اب بھی کبھی کبھی بہار کی راتوں کو یہ نغمہ سنتے اور اس کی تاثیر سے مدہوش ہو جاتے ہیں۔ ان سنتریوں ہی پر کیا موقوف ہے۔ اس جگہ کے گرد و پیش کے چپے چپے پر مدہوشی و سرمستی طاری ہے۔ اب بھی دن کے وقت بہت سے لوگ پتھر کی بنچوں پر اور سایہ دار درختوں کی خنکی میں اسی نغمے کی تاثیر سے مخمور یا محوِ خواب نظر آتے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی پہرہ چوکی اتنی مخمور کُن اور خواب آور ہو۔ روایت ہے کہ سحر و نغمہ کی تاثیر یوں ہی باقی رہے گی۔ شہزادی یوں ہی ساحر کے دامِ سحر میں اسیررہے گی۔ اور ساحر یوں ہی شہزادی کے نغموں کے سحر سے مدہوش و محوِ خواب رہے گا۔۔۔۔ یہاں تک کہ روزِ جزا آ جائے گا۔ یا شاید اس سے پہلے یہ واقعہ پیش آ جائے کہ طلسمی ہاتھ آگے بڑھ کر کنجی پر قابض ہو جائے اور قسمت اس پہاڑی دامن کو سحر کے آہنی پنجے سے رہائی دلا دے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 169


برج قمارش کا ایک حصہ


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

اوشو

لائبریرین
قصص الحمرا


صفحہ ۔۔۔ 170


تین حسین شہزادیاں


پرانے زمانے میں غرناطہ پر ایک عرب بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام محمد تھا، لیکن اس کی رعایا نے اس کے نام کے ساتھ الہیجری کے لقب کا اضافہ کر دیا تھا، جس کے معنی ہیں کھّبا یا بائیں ہاتھ والا۔ بعض لوگوں کے نزدیک اس لقب کی وجہ یہ تھی کہ اسے داہنے ہاتھ کے مقابلے میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے کی زیادہ مہارت تھی۔ اس کے برخلاف کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اس لقب کی بنا اس کی یہ خصوصیت بھی کہ وہ جس کام میں ہاتھ ڈالتا اسے الٹا کر رکھ دیتا۔ بہرصورت لقب کی بنیاد خواہ کچھ بھی ہو، لیکن اس میں شبہ نہیں کہ بدقسمتی کی وجہ سے یا بدنظمی کے سبب یہ بےچارہ ہمیشہ کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا رہتا تھا۔۔۔۔ اسے تین بار اپنا تخت و تاج چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا اور ایک مرتبہ تو اسے اور اس کی ملکہ کو مچھیرے کے بھیس میں افریقہ جا کر پناہ لینی پڑی۔

لیکن احمد الہیجری غلط کار ہونے کے باوجود بہادر تھا اور کھّبا ہونے کے باوجود تلوار اتنی اچھی چلاتا تھا کہ محض اسی کے زور پر تین مرتبہ تخت و تاج سے محروم ہو کر پھر ان پر قابض ہو گیا۔ لیکن ہر نئی مصیبت اسے راہِ راست پر لانے کے بجائے اسے زیادہ سرکشی اور زیادہ غلط بینی کا سبق سکھاتی تھی۔ اس کے مزاج کی سرکشی اور غلط کاری و


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 171


غلط روی کی بدولت اس پر اور اس کی سلطنت پر جو آفتیں آئیں ان کا حال دلچسپی رکھنے والوں کو غرناطہ کی روایتوں اور تاریخوں میں مل جائے گا۔ ہم تو آج ایک ایسا افسانہ سنا رہے ہیں جس کا تعلق اس کی خارجی حکمتِ عملی سے نہیں بلکہ داخلی طرزِ عمل سے ہے۔

ایک دن سلطان محمد اپنے کچھ درباریوں کے سمیت جبلِ طلیعہ کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اسے سواروں کا ایک دستہ ملا جو کسی عیسائی سلطنت کو تاراج کر کے واپس آ رہا تھا۔ اس کے ساتھ مالِ غنیمت سے لدے ہوئے خچروں کی ایک لمبی قطار کے علاوہ دونوں جنسوں کے کچھ قیدی بھی تھے۔ ان قیدیوں میں سے ایک دوشیزہ کا حسن بادشاہ کی آنکھوں میں کھُب گیا۔ دوشیزہ ایک چھوٹے سے خچر پر سوار تھی۔ قیمتی لباس اس کے زیب تن تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور کسی کی دل دہی سے بھی تھمنے کا نام نہ لیتے تھے۔

بادشاہ نے سواروں کے سردار سے دوشیزہ کا حال پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ ایک سرحدی قلعے کے سردار کی بیٹی ہے اور قلعے کے حملے میں مالِ غنیمت کے ساتھ ان کے ہاتھ لگی ہے۔ بادشاہ نے دوشیزہ کو مالِ غنیمت کا شاہی حصہ قرار دے کر اسے الحمرا کے حرم میں بھجوا دیا۔ محل میں اس کی دل جوئی کا ہر ممکن سامان مہیا کیا اور اسے اپنی ملکہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ دوشیزہ نے بادشاہ کو بےدین سمجھ کر اس کی طرف ذرا بھی التفات نہ کیا۔ وہ اسے اپنے دین اور وطن کا دشمن جانتی تھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ بوڑھا تھا۔

جب بادشاہ نے دیکھا کہ وہ اپنی التجاؤں سے دوشیزہ کی چشمِ التفات میں جگہ نہ پا سکا تو اس نے اس کنیز کے مدد لینے کا تہیہ کیا جو دوشیزہ کے ساتھ قید ہو کر آئی تھی۔ یہ کنیز نسلاً اندلسی تھی۔ اس کے عیسائی نام کا علم کسی کو نہیں لیکن الحمرا کی داستانوں اور روایتوں میں اسے ہمیشہ دانشمند خدیجہ کہا گیا ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ خدیجہ تھی بھی دانش مند، جیسا کہ اس کی زندگی کی پوری داستان سے ظاہر ہے۔ بادشاہ نے جوں ہی خدیجہ کو ہم راز بنایا، وہ اس کی ہم نوا بن گئی اور اپنی نوجوان مالکہ کے دل میں اس کی گنجائش پیدا کرنے کی مہم شروع کر دی۔

"بی بی ! اب بس کرو!" وہ نوجوان سردار زادی سے کہتی "آخر یہ رونا دھونا کب تک؟ کیا تمہیں اپنے والد کے ویران سرحدی قلعے میں قید رہنا اس خوبصورت محل کی ملکہ بننے اور اس کے باغوں اور فواروں پر حکمرانی کرنے سے زیادہ پسند ہے؟ رہی یہ بات کہ بادشاہ کافر ہے تو تمہیں اس سے کیا؟ تمہیں تو بادشاہ سے شادی کرنی ہے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 172


اس کے دین سے نہیں۔ اور اگر تمہیں یہ غم ہے کہ وہ ذرا بوڑھا ہے تو اس میں غم کی کیا بات ہے؟ جتنا بوڑھا ہے، اتنی ہی جلدی مرے گا اور تم اپنی مرضی کی مالک ہو گی۔۔۔۔ اور ذرا یہ بھی سوچو کہ تم اس کی قید میں ہو، وہ تمہیں اپنی ملکہ بھی بنا سکتا ہے اور کنیز بھی۔ انسان کو قزاقوں کا خطرہ ہو تو اپنا مال سستے داموں بیچ دینا اسے لٹوانے سے کہیں بہتر ہے۔"

دانش مند خدیجہ کی دلیلیں کار گر ہوئیں۔ ہسپانوی دوشیزہ نے آنسو پونچھے اور محمد الہیجری کی ملکہ بن گئی۔ اس نے بظاہر اپنے شوہر کا دین بھی قبول کر لیا اور دانش مند خدیجہ تو سچے دل سے پکی مومنہ بن گئی۔ اسے مومنوں کا نام اور اس بات کی اجازت ملی کہ ہمیشہ اپنی نوجوان ملکہ کی خدمت میں رہے۔

بادشاہ، اس کی حسین ملکہ اور دانش مند کنیز ہنسی خوشی محل میں رہنے لگے اور کچھ مدت کے بعد ملکہ کے تین جڑواں بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ پہلے تو بادشاہ کے دل میں یہ خیال آیا کہ کاش بیٹیوں کی جگہ اللہ بیٹے دیتا۔ لیکن فوراً ہی یہ سوچ کر مطمئن ہو گیا کہ ایک ہی وقت میں تین بیٹیاں، ایک ایسے آدمی کے لئے خاصا کارنامہ ہے، جو بوڑھا بھی ہو اور کھّبا بھی!

بیٹیاں پیدا ہوئیں تو بادشاہوں کے دستور کے مطابق اس نے نجومیوں کو طلب کیا۔ نجومیوں نے تینوں شہزادیوں کے زائچے دیکھے اور اپنی گردنیں مٹکا کر کہنے لگے "اے بادشاہ! بیٹیوں کو ہمیشہ مخدوش جائیداد سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔ لیکن یہ تین بیٹیاں، خصوصاً جوان ہو کر آپ کی خاص توجہ کی طالب ہوں گی۔ جب وہ اس عمر کو پہنچیں تو انہیں صرف اپنے سایہِ عاطفت میں رکھئیے اور انہیں کسی اور کے سپرد نہ کیجیے۔"

بادشاہ الہیجری کے درباری اس کی دانش مندی کے قائل تھے اور وہ خود ان سے زیادہ اپنی فہم و فراست کا مدعی۔ نجومی کی پیشین گوئی سے وہ ذرا بھی پریشان نہ ہوا اس لئے کہ اسے یقین تھا کہ اس کی فراست تقدیر کو شکست فاش دے گی۔

تین جڑواں بیٹیاں بادشاہ کے لئے شادی کا آخری انعام تھیں۔ اس کے بعد اس کے یہاں اور اولاد نہ ہوئی۔ نوجوان ملکہ اس کے کچھ عرصے بعد اپنی معصوم بچیوں کو بادشاہ کی محبت اور خدیجہ کی فراست کے حوالے کر کے اس دنیا سے رخصت ہوئی۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 173


خطرے کی منزل تک پہنچنے کے لئے شہزادیوں کو ابھی کئی سال کی مسافت طے کرنی تھی۔ لیکن دور اندیش بادشاہ نے اپنے دل میں سوچا "احتیاط، علاج سے بہتر ہے۔" اس لئے اس نے فیصلہ کیا کہ شہزادیوں کی پرورش شلوبینہ کے محل میں ہو۔ یہ محل ایک مضبوط عرب قلعے کے اندر بنا ہوا تھا، جو بحیرہ روم کے ساحل پر ایک پہاڑی کی چوٹی پر تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ قلعہ ایک قسم کی شاہی خلوت گاہ ہے، جس میں مسلمان بادشاہ اپنے ایسے عزیزوں کو نظر بند رکھتے تھے جن سے ان کا تخت و تاج یا جان خطرے میں ہو۔ یہ نظر بند عزیز محل کی اس شاندار خلوت گاہ میں بڑے عیش و نشاط کی زندگی بسر کرتے تھے۔ شاہزادیاں اس حسین محل میں، دنیا کی نظر سے دور، ناز و نعم اور عیش و نشاط کی آغوش میں پرورش پانے لگیں۔ ان کے ہر طرف مستعد کنیزوں کا ایک لشکر تھا جو ان کی آنکھوں کے اشاروں پر چلتیں اور ان کے دل کی ہر تمنا پوری کرتیں۔ محل کےک چاروں طرف دلکش گلستاں و بوستاں تھے، نادر و نایاب ثمردار درختوں اور گل پوش پودوں سے مالا مال، اور خوشبودار معطر کُنجوں اور حوضوں سے مزین۔ محل کے تین طرف سرسبز و شاداب وادی تھی جس کا چپہ چپہ تہذیب کے حسن و نور سے معمور تھا۔ وادی سے ذرا پرے ہٹ کر بشرات کی بلند پہاڑیاں تھیں اور چوتھی طرف سورج کی سنہری روشنی میں چمکتا ہوا وسیع و کشادہ سمندر۔

اس نشاط انگیز ماحول میں، نکھرے ہوئے بےداغ آسمان کے سائے میں تینوں شہزادیاں شباب و رعنائی کا دلفریب مرقع بن گئیں۔ گو ان کی پرورش ایک ہی ماحول میں ہوئی تھی، لیکن شخصیت و سیرت کا تنوع ان کی چال ڈھال میں جھلکتا تھا۔ تینوں شہزادیوں کے نام تھے زاہدہ، زبیدہ اور سُریتہ اور تینوں کی عمروں میں تین تین منٹ کا وقفہ تھا۔

زاہدہ، جو سب سے بڑی تھی، طبعاً جری اور دلیر تھی۔ وہ کام میں سبقت کرتی اور باقی دونوں اس کی پیروی و تقلید کرتیں۔ وہ مزاجاً متجسس تھی اور ہر بات کی تہ تک پہنچنے کی خواہش مند۔

زبیدہ، اپنے اور دوسروں کے حسن کے معاملے میں بڑی نفاست پسند تھی۔ وہ آئینے اور حوض کے شفاف پانی میں اپنا عکسِ رخ دیکھ کر خوش ہوتی اور پھولوں کی رنگینی، جواہرات کی آب و تاب اور اپنے گرد و پیش پھیلے ہوئے حسن میں گم رہتی۔

سب سے چھوٹی شہزادی، سُریتہ طبعاً نرم و نازک اور حد درجہ حساس تھی اور اس کے گرد و پیش کی ساری فضا اس کی نزاکتِ حِس کے نور سے معمور تھی۔ وہ ہر وقت اپنے پسندیدہ پھولوں اور پالتو طائروں اور چوپایوں میں گھِری،


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 174


ان پر شفقت و توجہ کی بارش کرتی۔ اس کی تفریحات دوسری بہنوں سے مختلف تھیں۔ سیدھی سادی تفریحوں سے جی بہلانے کے بعد سکون و خاموشی سے کسی گوشہِ فراغت میں بیٹھ کر اسے بڑا سکون ملتا تھا۔ بہار کی خاموش راتوں میں، وہ گھنٹوں شہ نشین پر بیٹھی ننھے ننھے چمکدار ستاروں کا نظارہ کرتی یا چاندنی رات کے مضطرب مشاہدے میں گم رہتی۔ ان خاموش تنہائیوں میں مچھیرے کے گیتوں کی دور سے آنے والی دھیمی دھیمی تانیں یا کسی عرب نوجوان کی بانسری سے نکلے ہوئے مستی بھرے نغمے اس کے جذبات میں تموج پیدا کر دیتے۔ مظاہر فطرت کی ادنےٰ سی ہلچل اسے خوفزدہ کر دیتی اور بادل کی ہلکی سی گرج سن کر وہ بےہوش ہو جاتی۔

دن، مہینے اور سال، خاموشی سے اور سنجیدگی سے گزرتے رہے اور دانش مند خدیجہ بڑی دیانت اور وفاداری سے شہزادیوں کی خدمت اور نگرانی میں مصروف رہی۔

جیسا کہ بتایا جا چکا ہے شلوبینہ کا محل سمندری ساحل پر ایک پہاڑی کے اوپر بنا ہوا تھا۔ محل کی ایک بیرونی دیوار پہاڑی کے عین مقابل میں تھی اور اس کا ایک سِرا پہاڑی کی ایک جُھکی ہوئی چٹان سے بالکل ملحق تھا۔ دیوار کے نیچے ریتلا ساحل تھا، جس پر ہر وقت سمندر کی موجیں اٹکھیلیاں کرتی رہتیں۔ اس چٹان پر ایک حفاظتی مینار بنا ہوا تھا، جس کے اوپر ایک جالی دار شہ نشین تھی، جو سمندر کی فرحت بخش ہوا کی گزرگاہ تھی۔

تجسس پسند زاہدہ ایک دن دوپہر کے وقت شہ نشین کی ایک کھڑکی پر بیٹھی تھی اور اس کی دونوں بہنیں نرم بستروں پر دراز میٹھی نیند کے مزے لے رہی تھیں۔ وہاں بیٹھے بیٹھے زاہدہ نے دیکھا کہ ایک کشتی آہستہ آہستہ سمندر کی لہروں کو کاٹتی ساحل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کشتی قریب آئی تو زاہدہ نے دیکھا کہ وہ مسلح آدمیوں سے بھری ہوئی ہے۔ کشتی مینار کے عین نیچے آ کر ٹھہری اور کچھ عرب سپاہی، کچھ عیسائی قیدیوں کو لئے کشتی میں سے اترے۔ زاہدہ کی مشتاق نظروں نے ان لوگوں کو دیکھا تو جلدی سے اپنی دونوں بہنوں کو جگا دیا اور تینوں شہ نشین کی جالی سے لگ کر اترنے والوں کو دیکھنے لگیں۔ قیدیوں میں تین ہسپانوی نوجوان بھی تھے، جنہوں نے امیرانہ لباس زیب تن کر رکھے تھے۔ ان کے جسم شباب کی رعنائیوں میں غرق اور بُشرے شرافت و نجابت کے غمّاز تھے۔ یہ پا بہ زنجیر جوان، دشمنوں کے حلقے میں گھِرے ہوئے بھی استغنا کی جس شان سے چل رہے تھے اس سے ان کی عظمتِ نفس کا اندازہ ہوتا تھا۔ شہزادیاں ساکت و صامت پُرشوق نظروں سے انہیں آگے بڑھتا دیکھ رہی تھیں۔ شہزادیوں کی پروروش ہم جنس کنیزوں کے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 175


کے حلقے میں ہوئی تھی اور اب تک ان کا مردانہ حسن کا مشاہدہ یا تو اپنے حبشی غلاموں کے سیاہ چہروں تک محدود تھا یا سمندر میں نظر آنے والے گنوار مچھیروں کے بھّدے جسموں تک۔۔۔۔ اس لئے یہ کچھ حیرت کی بات نہ تھی کہ سرداروں کے مردانہ حسن و وقار کے نظارے سے ان کے سینوں میں ایک ہلکا سا طوفان پیدا ہو گیا۔

زاہدہ حیرت و استعجاب کے ساتھ بولی "کیا ارغوانی لباس والے جوان سے زیادہ حسین کوئی ہو سکتا ہے؟ دیکھو اس کی چال میں کتنی خود پسندی، کتنا وقار ہے، جیسے اسے حلقے میں لے کر چلنے والے سب اس کے غلام ہیں۔"

"لیکن ذرا اس سبزپوش جوان کو دیکھو!" زبیدہ چلائی "کیسی شان! کتنی تمکنت! کتنی مردانگی!"

نرم و نازک سریتہ خاموش رہی۔ لیکن دل ہی دل میں وہ نیلےلباس والے نوجوان کے حسن و جمال کی داد دے رہی تھی۔

جب تک حسین قیدی نظر سے اوجھل نہ ہو گئے شہزادیاں انہیں دیکھتی رہیں، پھر لمبی سر آہیں بھر کر جھروکے کے پاس سے ہٹ آئیں اور ایک دوسرے پر اچٹتی ہوئی نظریں ڈال کر خاموش، دم بخود اپنی اپنی مسندوں پر بیٹھ گئیں۔

دانش مند خدیجہ تھوڑی دیر میں شہ نشین میں آئی تو انہیں اسی طرح بت بنا دیکھا۔ شہزادیوں نے جو کچھ دیکھا اس کی روداد سنائی تو اس کے دل کی مرجھائی ہوئی کلی بھی کھل گئی۔ وہ آہ بھر کر سوچنے لگی "بےچارے قیدی! ان کی اسیری پر ان کے وطن میں نہ جانے کتنی حسین امیرزادیوں کے دل تڑپ رہے ہوں گے! افسوس! میری بچیو! تمہیں اندازہ نہیں کہ اپنے وطن میں یہ نوجوان کیسی زندگی گزارتے ہوں گے۔۔۔۔ بازی گاہوں کی شمشیر زندی، حسین شہزادیوں کی آغوشِ محبت اور شبوں کا نغمہ و سرور!"

خدیجہ کی یہ باتیں زاہدہ کی فطرتِ تجسس پسند کے لئے تازیانہ بنیں۔ اس کا فرطِ شوق سوال پر سوال بن کر ابلتا رہا اور خدیجہ اپنے عہدِ شباب کی رنگین تصویریں بنا بنا کر آتشِ شوق کو تیز تر کرتی رہی۔ جب بات ہسپانوی دوشیزاؤں کے حسن تک پہنچی تو زبیدہ چپکے سے اپنی جگہ سے اٹھی اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے حسن و شباب کا جائزہ لینے لگی، اور جب چاندنی رات کی نشاط انگیز محفلوں کا ذکر آیا تو اس کے سینے سے ایک خاموش آہ نکلی اور فضا میں بکھر گئی۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 176


ہر روز خدیجہ سے پُرشوق سوال کرنا زاہدہ کا معمول بن گیا۔ ہر روز شباب و رعنائی کی وہی کہانیاں دہرائی جاتیں اور ہر روز حسین سامع انہیں اسی شوق سے سنتے۔۔۔۔ البتہ سینوں سے آہیں اب ذرا کم نکلتی تھیں۔ اور بالآخر ایک دن تجربہ کار خدیجہ کو یہ احساس ہوا کہ کہیں اس کی کہانیاں سننے والی شہزادیاں اب بچیاں نہیں، غنچے کھِل کر پھول بن چکے ہیں اور اس لئے اس نے فیصلہ کیا کہ بادشاہ کو شہزادیوں کے شباب کی آمد کی خبر دے۔

ایک صبح محمود الہیجری الحمرا کے ایک پرسکون و پرراحت ایوان میں بیٹھا تھا کہ شلوبینہ کا ایک غلام اس کی خدمت میں حاضر ہوا اور شہزادیوں کی سالگرہ کے موقع پر خدیجہ کی طرف سے بادشاہ کی خدمت میں ہدیہِ تہنیت پیش کیا۔ ہدیہِ تہنیت پیش کرتے ہوئے غلام نے ایک چھوٹی سی خوبصورت اور نازک ٹوکری اس کے سامنے رکھ دی۔ ٹوکری رنگین پھولوں سے سجی ہوئی تھی اور انگور اور انجیر کے سبز پتوں پر ایک آڑو، ایک خوبانی اور ایک شفتالو رکھا ہوا تھا۔ شبنم کی شیریں شادابی میں ڈوبے ہوئے پھلوں سے رس ٹپکا پڑتا تھا۔

بادشاہ پھلوں اور پھولوں کی شاعرانہ زبان سمجھتا تھا۔ وہ فوراً اس تحفے کا علامتی مفہوم سمجھ گیا۔ وہ سوچنے لگا "اچھا! تو جس نازک وقت کی طرف نجومیوں نے اشارہ کیا تھا وہ آ پہنچا۔ میری بچیاں شادی کی عمر کو پہنچ گئیں۔ اب کیا کرنا چاہیے؟ انہیں مردوں کی نگاہ سے پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ وہ دانش مند خدیجہ کی نگرانی میں ضرور ہیں، اور جیسا کہ نجومی نے چاہا تھا میری نظر کے سائے سے دور ہیں۔ مجھے چاہیے کہ اب انہیں اپنے سامنے رکھوں اور کسی اور کی نگرانی پر بھروسا نہ کروں۔"

یہ سوچا اور فوراً حکم دے دیا کہ الحمرا کا ایک بُرج شہزادیوں کے خیر مقدم کے لئے آراستہ کیا جائے۔ بُرج آراستہ ہونے لگا اور بادشاہ بہ نفسِ نفیس، اپنے محافظوں کے ساتھ محل شلوبینہ کی طرف چلا کہ خود جا کر شہزادیوں کو اپنے ساتھ الحمرا میں لے آئے۔

بادشاہ نے شہزادیوں کو تین سال سے نہیں دیکھا تھا اس لئے جب اس نے شباب و رعنائی کے ان تین مجسموں کو دیکھا تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ وہ سوچ رہا تھا "کیا اتنی تھوڑی مدت انسان میں زمین آسمان کا


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 177


یہ فرق پیدا کر سکتی ہے؟" تین سال کی مدت میں وہ اس حّدِ فاصل سے گزر چکی تھیں جو الّھڑ، بےوضع اور بےفکر طفلی کو رسیلے، سجیلے اور مخمور شباب سے جدا کرتی ہے۔ ان کا بچپن لامانشا کے خشک، سپاٹ اور غیر دلچسپ میدانوں سے گزر کر اندلس کی شاداب وادیوں اور ابھرتی ہوئی پہاڑیوں میں قدم رکھ چکا تھا۔

زاہدہ کا قد لمبا اور رعنائی کا مجسمہ تھا۔ اس کی شخصیت میں ایک وقار اور آنکھوں میں مقناطیسی کشش تھی۔ وہ شاہانہ وقار اور پرعزم قدموں سے بادشاہ کی طرف بڑھی اور اسے اس طرح تعظیم دی جیسے وہ باپ سے زیادہ شہنشاہ ہے۔ زبیدہ کا قد متوسط تھا، اس کا چہرہ پرکشش، شخصیت جاذبِ نظر اور حسن خیرہ کُن، جسے اس کے بناؤ سنگار نے اور زیادہ جاذب اور شوخ بنا دیا تھا۔ وہ مسکراتی ہوئی بادشاہ کے سامنے آئی، اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور بادشاہ کا خیر مقدم عربی کے ایک ہردلعزیز شاعر کے شعروں سے کیا۔ سُریتہ قد میں دونوں بہنوں سے چھوٹی تھی۔ اس کی آنکھوں میں حیا کی نزاکت اور چال میں شرمگیں لطافت تھی۔ اس کا حسنِ لطیف و صبیح محبت کی نگہبانی کا طالب نظر آتا تھا۔ بڑی بہن کی طرح وہ حکومت کرنے کے لئے نہی منجھلی بہن کی طرح نظروں کو خیرہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ مرد کی قوی محبت کی آغوش میں پناہ لینے، سکون حاصل کرنے اور شادماں رہنے کے لئے پیدا کی گئی تھی۔ وہ دھیمے اور جھجکتے قدموں سے باپ کے پاس آئی اور چاہتی تھی کہ باپ کے شفیق ہاتھ پر اپنے لبِ نازک ثبت کر دے لیکن اس کی نظر باپ کے چہرے پر پڑی تو وہ پدرانہ شفقت کے نُور سے خنداں تھا، اس لئے اس نے فوراً اپنے بازو اس کی گردن میں حمائل کر دئیے۔

محمد الہیجری نے اپنی بیٹیوں کے شباب کی شادابی پر نظر ڈالی تو اس کا دل فخر اور پریشانی کے ملے جلے احساس سے کانپ اٹھا۔ وہ ان کے حسن کی رعنائی کو دیکھ کر خوشی سے پھولا نہ سماتا تھا، لیکن نجومیوں کے الفاظ رہ ہر کر اس کے دل میں دھڑکا پیدا کر رہے تھے "تین بیٹیاں! تین بیٹیاں! اور تینوں شباب کی سرمستیوں میں ڈوبی ہوئی۔۔۔۔ ان زہرہ جبینوں کی حفاظت صرف اژدہے کر سکتے ہیں!"

اس نے شہزادیوں کو غرناطہ چلنے کی خبر سنائی، اور قاصدوں کو آگے بھیج دیا کہ کسی کو اس راستے پر نہ آنے دیں جدھر سے انہیں گزرنا تھا۔۔۔۔ اور رہ گزر کے سب در اور دریچے بند رکھے جائیں۔ سیاہ فام حبشی سواروں کے حلقے میں بادشاہ اور شہزادیاں غرناطہ کی طرف چلیں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 178


شہزادیاں بادشاہ کے دونوں پہلوؤں پر تھیں۔ ان کے چہروں پر نقاب پڑے ہوئے تھے اور وہ سفید حسین گھوڑیوں پر سوار تھیں، جن کی قرمزی مخمل اور زردوزی جھولیں فرشِ زمین تک پھیلی ہوئی تھیں، رکابیں اور مہمیزیں سونے کی تھیں اور ریشمیں لگاموں پر موتی اور جواہرات ٹکے ہوئے تھے۔ گھوڑیوں کی گردنوں میں چاندی کی چھوتی چھوٹی گھنٹیاں تھیں، جن سے قدم قدم پر حد درجہ مترنّم نغمے پھوٹ رہے تھے۔ بدنصیب ہوتا وہ شخص جو گھنٹیوں کی آواز سن کر بھی راستے سے نہ ہٹتا۔ محافظ دستے کو حکم تھا کہ راہ میں حائل ہونے والوں کو بےدریغ قتل کر دیا جائے۔

یہ حسین قافلہ غرناطہ کی طرف بڑھ رہا تھا کہ دریائے شنیل کے کنارے عرب سپاہیوں کا ایک دستہ، جو کچھ قیدیوں کو لئے آگے بڑھ رہا تھا، اس کے سامنے آ گیا۔ سپاہی جلدی سے راستے سے ہٹ تو نہ سکے لیکن اوندھے منہ زمین پر لیٹ گئے اور قیدیوں کو اپنی تقلید کا حکم دیا۔ قیدیوں میں وہ تینوں سردار بھی تھے جنہیں شہزادیوں نے شہ نشینوں کے جھروکے میں سے دیکھا تھا۔ وہ یا تو سپاہیوں کی بات کا مطلب نہ سمجھےیا جان بوجھ کر حکم عدولی کی، اس لئے کہ وہ سڑک پر سیدھے کھڑے رہے اور آگے بڑھتے ہوئے شاہی قافلے کو غور سے دیکھتے رہے۔

حکم عدولی اور سرتابی ےک اس مظاہرے پر بادشاہ کا شعلہِ غضب بھڑک اٹھا۔ تلوار میان سے نکال کر وہ تیزی سے آگے بڑھا، لیکن قبل اس کے کہ اس کا مہلک وار گھورنے والوں میں سے ایک کو موت کے گھاٹ اتار دیتا، تینوں شہزادیوں نے اسے گھیر لیا اور قیدیوں کے لئے رحم کی التجا کی۔ یہاں تک کہ شرمیلی سریتہ بھی اس کی دامنگیر ہونے سے باز نہ رہ سکی۔

محمد الہیجری نے تلوار روک لی اور فوراً شاہی دستے کے سردار نے زمیں بوس ہو کر عرض کی "حضور! کوئی ایسا اقدام نہ فرمائیں کہ سارے ملک میں ہلچل مچ جائے۔ یہ تینوں نوجوان جری اور جاں باز ہسپانوی سردار ہیں جو میدانِ جنگ میں شیروں کی طرح لڑتے ہوئے گرفتار ہوئے ہیں۔ وہ عالی نسب ہیں اور ان کا 'جاں بہا' کثیر ہو گا۔"

"بس! خاموش!" بادشاہ نے جواب دیا "میں ان کی جانیں بخشتا ہوں، لیکن انہیں ان کی بےادبی کی سزا ضرور ملے گی۔۔۔۔ انہیں قرمزی بُرجوں میں لے جاؤ اور ان سے سخت مشقت لو۔"

وقت گزر گیا لیکن محمد الہیجری سے اسی قسم کی حماقت سرزد ہو گئی جس کی بدولت اسے الہیجری کا لقب ملا


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ ۔۔۔ 179


تھا۔ اس ہنگامے اور ہلچل میں شہزادیوں نے نقاب الٹ دئیے تھے اور ان کے حسن کا جلوہ عام ہو گیا تھا۔ پھر بادشاہ نے باتوں کو طول دے کر حسنِ بےحجاب کو اپنا جادو جگانے کا پورا موقع دیا تھا۔ جس زمانے کا یہ ذکر ہے اس زمانے میں لوگوں کو عاشق ہونے میں اتنی دیر نہیں لگتی تھی جتنی آج کل۔ اس لئے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اتنی دیر میں تینوں ہسپانوی سرداروں کے دل پوری طرح شہزادیوں کی زلفوں کے اسیر ہو گئے۔ خصوصاً اس لئے کہ ان کی وارفتگیِ محبت میں جذبہِ تشکر بھی شامل ہو گیا تھا۔ یہ بات ذرا عجیب ضرور ہے لیکن ہے سچ کہ تینوں سردار زادوں کی نظرِ انتخاب مختلف شہزادیوں پر پڑی۔ رہیں شہزادیاں، تو ان کے دلوں پر نوجوان قیدیوں کی شاندار شخصیتوں نے اور بھی گہرا اثر کیا، اور انہوں نے وہ ساری باتیں اپنے دل کے پردوں میں چھپا لیں جو قیدیوں کی مردانگی اور عالی نسبی کے متعلق ان کے سامنے کہی گئی تھیں۔

شاہی قافلے نے پھر اپنا سفر شروع کیا۔ گھنٹیوں کی موسیقی جاری تھی اور تینوں شہزادیاں کسی خیال میں گم اپنے حسین مرکبوں پر سوار تھیں۔ وہ کبھی کبھی دُزدیدہ نظر سے پیچھے مڑ کر دیکھ لیتی تھیں کہ شاید نوجوان قیدیوں کی ایک جھلک دکھائی دے جائے۔۔۔۔ اور نوجوان قیدیوں کو عرب سپاہی قرمزی بُرجوں کی طرف لئے جا رہے تھے۔

شہزادیوں کے قیام کے لئے جو جگہ منتخب کی گئی تھی ذہن کے لئے اس سے بہتر کا تصور محال ہے۔ شہزادیوں کا نیا مسکن ایک بُرج تھا جو الحمرا کے قصر سے ذرا فاصلے پر تھا اور سے اس دیوار کے ذریعے قصر سے ملایا گیا تھا جس نے پہاڑ کی پوری چوٹی کو اپنے حلقے میں لے رکھا تھا۔ اس کا ایک رخ قلعے کے اندرونی حصے کی طرف کھلتا تھا، اس کے عین نیچے ایک چھوٹا سا پائیں باغ تھا جس کا ہر کُنج نادر و نایاب پھولوں سے آراستہ تھا۔ دوسرے رخ کُنجوں میں گھری ہوئی ایک ندی بہتی تھی، جو الحمرا اور جنت العریف کے درمیان حد بندی کرتی تھی۔ بُرج کے اندرونی حصے کو کئی چھوٹے چھوٹے حسین ایوانوں میں تقسیم کر کے بڑی نزاکت و حسن سے مشرقی انداز میں آراستہ کیا گیا تھا۔ یہ حسین ایوان ایک بلند ایوان کا حلقہ کئے ہوئے تھے، جس کی چھت اتنی اونچی تھی کہ تقریباً بُرج کی بلندی تک پہنچتی تھی۔ بڑے ایوان کی دیواریں اور چھتیں گُل کاری اور منبت کاری سے آراستہ اور طلائی خطوط سے مزین تھیں۔ مرمریں فرش کے بیچ میں سنگِ موسیٰ کا فوارہ تھا، جس کے گرد خوشبودار پھولوں کی خوبصورت جھاڑیاں تھیں۔ فوارے میں سے پانی کا ایک جھرنا پھوٹتا تھا جس سے پوری عمارت میں خوشگوار خُنکی پیدا ہو جاتی تھی اور فضا میں ہر طرف


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top