قبلہ کے بارے میں علمی بحث

صرف علی

محفلین
قبلہ کے بارے میں علمی بحث


قبلہ کی شرعی حیثیت اور اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کا وجوب…نماز جو کہ دنیا بھر کے عامة المسلمین کی عبادت ہے۔ اور اسی طرح جانوروں کا رو بقبلہ کرکے ذبح کرنا اور دوسرے کام جو حتماً قبلہ رخ ہو کر انجام دینا چاہئیں (یا جیسے قبلہ رخ ہو کر سونا یا بیٹھنا یا وضو کرنا جو کہ مستحب ہے اور جیسے بیت الخلاء میں روبقبلہ یا پشت بہ قبلہ بیٹھنا حرام ہے۔ از مترجم) ، اسی طرح کے دیگر احکام جن کا قبلہ کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور عام مسلمانوں کو ان کی ضرورت ہوتی ہے، اس بات کا باعث بنیں کہ مسلمانوں کو قبلہ کی جستجو کی ضرورت ہوئی تاکہ وہ اس کی سمت کو سمجھیں اور اس کے مطابق عمل کریں۔ (تاکہ نماز یا جانوروں کو ذبح کرنا اور اسی طرح کے دوسرے کام قبلہ کی طرف منہ کرکے انجام دیئے جائیں اور بیت الخلاء میں اس کی طرف رخ کرکے یا پشت کرکے نہ بیٹھیں۔ از مترجم)
ابتدائے امر میں چونکہ مکہ سے دور لوگوں کے لئے قبلہ کی قطعی پہچان ناممکن تھی لہٰذا گمان اور ایک طرح کی تخمین پر ہی اکتفا کیا گیا، لیکن رفتہ رفتہ اس عمومی ضرورت نے ریاضی دان علماء کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اس گمان و تخمین کو قدرے تحقیق اور عینی تشخیص سے نزدیک کر دیں، لہٰذا وہ اس کام کے لئے ان جدولوں سے استفادہ کرنے لگے جو جنتریوں اور تقویموں میں بنے ہوئے تھے تاکہ اس طرح ہر شہر کا طول و عرض متعین کر سکیں۔ (کسی شہر کے عرض سے مراد وہ فاصلہ ہوتا ہے جو وہ شہر خط استوا سے رکھتا ہے اور طول سے مراد وہ فاصلہ ہوتا ہے جو شہر کے درمیان مشرق سے مغرب کی طرف ہوتا ہے، اسی بنا پر زمین کا آباد اور آخری مغربی نقطہ "جزائر خالدات" کو گردانا جاتا تھا۔ البتہ اس بات کا ہماری بحث سے تعلق نہیں ہے کہ گزشتہ صدیو ں میں، امریکہ کی دریافت اور زمین کے گول ہونے کی تحقیق سے پہلے ریاضی دان بحر اوقیاس کے ساحل پر واقع مغربی یورپ میں "جزائر خالدات" ہی کو کرہٴ زمین کا آخری نقطہ سمجھتے تھے۔
یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہ جزائر ان آخری صدیو ں میں پانی میں غرق ہو چکے ہیں اور اس وقت ان کا نام و نشان تک موجود نہیں ہے۔ (دور حاضر میں زمین کے مشرقی نیم کرہ میں واقع گرینوچ (لندن) کی رصدگاہ سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ از مترجم)
جب وہ اپنے شہر کے عرض البلد کو خط استوا سے معلوم کر لیتے تو پھر وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتے تھے۔ اس شہر کے جنوبی نقطہ سے کھڑے ہو کر چند درجہ مغرب کی طرف مڑ جائیں۔ (ہر شہر کے جنوبی نقطہ سے مراد یہ ہے کہ اگر اس نقطہ سے ایک فرضی خط شمال کی طرف تصور کریں تو وہاں تک پہنچنے کے لئے سورج کو "نصف النہار" کا فاصلہ طے کرنا پڑے جس کو اصطلاح میں دوپہر کا وقت کہتے ہیں۔ اسی طرح چند درجہ سے مراد جنوب اور مغرب کے درمیان نوے درجہ کا فاصلہ ہے۔ پھر مغرب کی طرف مڑنے کا طریقہ "مثلثات" کے تحت معین کرتے تھے۔ از مترجم)
پھر یہی طریقہ تمام اسلامی شہروں اور ان کے افق کے لئے "دائرہٴِ ہندیہ" کے ذریعہ رائج کر دیا گیا۔ (اس کی صورت یہ تھی کہ اوائلِ خزاں میں جو موسم کے دو اعتدالی نقطے ہوتے ہیں، ہر افق میں سیدھی اور صاف زمین پر ایک دائرہ بنا لیتے تھے اور اس کے عین وسط میں کوئی سیدھی سی چیز مثلاً لکڑی وغیرہ گاڑ دیتے تھے جسے "شاخص‘ کہا جاتا ہے۔ صبح کے وقت جب سورج طلوع کرتا ہے، اس شاخص کا سایہ دائرہ سے باہر نکلا ہوا ہوتا تھا اور جوں جوں سورج اوپر آتا تھا سایہ گھٹتے گھٹتے دائرہ کے وسط میں پہن جاتا۔ اسی طرح زوال کے بعد جوں جوں سایہ مشرق کی طرف بڑھتا جاتا اور دائرہ سے باہر نکل جاتا تو مغرب و مشرق میں سایہ کے اوپر نشان لگا دیتے، مشرق سے مغرب تک کی لکیر دونوں سمتوں کو متعین کر دیتی، دائرہ بھی دو نیم دائروں میں تقسیم ہو جاتا۔ اسی طرح اس خطِ مستقیم پر ایک اور عمومی خط کھینچتے جس کا ایک سرا جنوبی نقطے کو اور دوسرا سرا شمالی نقطے کو ظاہر کرتا، اسی عمودی خط کو اس افق کا نصف النہار کہتے تھے اور اس دائرہ کو "دائرہٴ ہندیہ"کے نام سے موسوم کرتے تھے۔ معلوم ہے کہ ان چاروں نقطوں کے درمیان کا فاصلہ نوے درجے کا ہوتا تھا۔ فرض کریں کہ اگر اس دائرہ کا کوئی شہر خط استوا سے تیس درجے کے فاصلہ پر ہو اور اس شہر کے باشندے نماز کے موقع پر نوے درجہ سے تیس درجے جنوب سے مغرب کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں گے تو وہ ٹھیک قبلہ رخ کھڑے ہوں گے۔ مترجم)
اس کے بعد کام کی سرعت اور سہولت کے لئے "قطب نما" کا استعمال ہونے
لگا، کیونکہ یہ آلہ اپنی سوئی کے ذریعہ شمال کی سمت کو ظاہر کرتا ہے، خواہ آپ کسی بھی افق میں ہوں۔ اسی طرح شمال سے جنوب کی سمت خودبخود ظاہر ہو جاتی، اور دائرہٴ ہندیہ کا کام بھی جلد ہی انجام پا جاتا۔ اگر کسی شخص کو اپنے شہر کے خطِ استوا سے مڑنے کی مقدار کا علم ہوتا تو اس کے لئے قبلہ کی سمت معلوم کرنا آسان ہو جاتا۔
لیکن ریاضی دان علماء کی یہ کوشش اگرچہ ایک شایانِ شان خدمت تھی خدا انہیں جزائے خیر دے…لیکن دونوں صورتوں دائرہٴِ ہندیہ اور قطب نما… کے لحاظ سے نامکمل تھی جس سے لوگوں میں کافی اشتباہ و غلط فہمی پیدا ہو جاتی تھی۔
پہلا طریقہ اس لئے نامکمل تھا کہ اس دورِ آخر کے ریاضی دان اس طرف متوجہ ہوئے کہ قدیم ریاضی دانوں نے کسی شہر کے طول (طول بلد) کی تشخیص میں غلطی کی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قبلہ کی طرف کی تو مقدار انہوں نے مقرر کی تھی وہ بھی غلط تھی اور اس غلطی کے نتیجہ میں قبلہ کی تشخیص بھی غلط ہو گئی۔ اس طرح سارے کا سارا معاملہ خراب ہو گیا۔
اس کی وضاحت یوں کی جا سکتی ہے کہ مثلاً تہران خط استوا سے عرض البلد اور چاروں موسموں میں اس کی سورج کے مساوی سمت معلوم کرنے کے لئے ان کا طریقہ یہ تھا کہ وہ پہلے قطبِ شمالی سے خط استوا کو متعین کرتے اور پھر اسے کئی درجوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ پھر کسی شہر کا خطِ استوا سے فاصلہ انہی درجوں سے متعین کرتے تھے۔ مثلاً کہتے تھے کہ تہران کا فاصلہ جزائر خالدات سے ۸۶ درجے، بیس منٹ کا ہے، اور خطِ استوا سے اس کا عرض البلد ۳۵ درجے، ۳۵ منٹ ہے۔ اگرچہ یہ طریقہ تحقیق اور واقعیت کے زیادہ نزدیک تھا لیکن شہروں کے طول بلد کی تشخیص کا صحیح اور تحقیقی طریقہ نہی تھا کیونکہ، جیسا کہ ابھی بیان ہو چکا ہے، دو ایسے نقطں کی زمین سے درمیانی مسافت کو معین کیا جاتا تھا جو آسمانی حوادث میں مشترک تھے۔ (اگر سورج گہن ہوتا تو دونوں جگہوں پر ایک ہی وقت میں ہوتا، اور اگر کوئی دوسرا آسمانی واقعہ ہوتا تو دونوں نقطوں میں ایک ہی زمانہ میں رونما ہوتا) اسے سورج کی "حسی حرکت"، یا باالفاظ دیگر گھڑی کے ذریعہ ضبط کر لیتے اور کہتے کہ مثلاً فلاں شہر کا طول البلد فلاں درجہ، فلاں منٹ پر ہے۔ چونکہ زمانہٴ قدیم میں رسل و رسائل مثلا ٹیلی فون، تار یا دوسری قسم کے ذرائع موجود نہیں تھے لہٰذا وہ صرف اندازوں سے کام لیتے تھے اور ان کا یہ اندازہ ٹھیک طریقہ پر نہیں تھا۔ لیکن جب ذرائع رسل و رسائل عام ہو گئے، ہوائی جہازوں اور سفر کے دوسرے ذرائع کے عام ہو جانے سے فاصلے سمٹ کر رہ گئے تو یہ مشکل بھی مکمل طور پر ختم ہو گی۔ انہی ایام میں شیخ فاضل اور ریاضی کے مشہور استاد مرحوم سردار کابلی نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کمر ہمت باندھی اور جدید اصولوں کے مطابق قبلہ کی سمت کو دریافت کر لیا، انہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب بنام "تحفة الاجلہ فی معرفة القبلہ" لکھ کر عوام تک پہنچائی۔
یہ ایک مختصر سی کتاب ہے جس میں ریاضی کے قواعد کے مطابق قبلہ کی جہت دریافت کرنے کے طریقے بیان کئے گئے ہیں اور ہر شہر کے قبلہ کی تعیین کے لئے جدول بنائے گئے ہیں۔
منجملہ دیگر امور کے، جو انہو ں نے دریافت کئے ہیں…اور خدا انہیں جزائے خیر دے…پیغمبر خدا کی وہ کرامت و واضح معجزہ بھی تھا، جو انہوں نے مدینہ کی مسجد کے محراب میں کھڑے ہو کر قبلہ کی صحیح سمت رخ کرکے نماز ادا فرمائی۔ سردار کابلی نے اپنے ریاضی قواعد کے ذریعہ اس کو صحیح ثابت کر دیا ہے۔
اس کی وضاحت کے لئے عرض ہے کہ متقدمین کے حساب کے مطابق مدینہ منورہ کا عرض بلد، خط استوا سے ۲۵ درجے پر اور طول بلد ۷۵ درجے، اور ۲۰ منٹ پر قرار پاتا تھا۔ اس حساب کے تحت مدینہ میں مسجد نبوی کی محراب قبلہ کی طرف نہیں بنتی تھی، (چونکہ یہ ممکن نہیں تھا کہ حضرت رسول خدا رو بقبلہ کرنے اور مسجد کے بنانے میں اشتباہ کریں) لہٰذا ریاضی دان اس بارے میں مسلسل بحث کرتے آ رہے تھے اور بعض اوقات تو وہ ایسی وجوہات کو بھی بیان کرتے جو حقیقت الامر سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔
لیکن مرحوم سردار کابلی نے اس بات کو واضح کرکے بتا دیا کہ مذکورہ دانشوروں کے حساب ٹھیک نہیں تھے کیونکہ مدینہ منورہ کا خطِ استوا سے عرض بلد ۲۴ درجہ، ۵۷ منٹ پر اور مشرقی نیم کرہ کے نقطہ سے اس کا طول بلد ۳۹ درجہ، ۵۹ منٹ پر واقع ہے، اس حساب کی رو سے مسجدِ نبوی کی محراب ٹھیک قبلہ رخ واقع ہوتی ہے۔
ئٍُبس اب یہ بات واضح ہو گئی کہ صدیوں پہلے جب اس قسم کے حساب و کتاب نہیں تھے۔ لہٰذا آنحضرت جب نماز کی حالت میں تھے اور اسی حالت ہی میں کعبہ کی طرف مڑے تو اگر ایک فرضی خط کعبہ کی طرف کھینچا جائے تو وہ ٹھیک کعبہ تک ہی جا پہنچے گا۔ اور یہ چیز بذاتِ خود ایک معجزہ ہے۔ "صدق اللہ و رسولہ" (اللہ بھی سچا اور اس کا رسول بھی سچا ہے)
سردار کابلی مرحوم کے بعد فاضل انجینئر بریگیڈیئر جنرل عبدالرزاق بغائری رحمة اللہ علیہ نے روئے زمین کے بہت سے نقاط کے لئے قبلہ کو دریافت کیا، اس بارے میں قبلہ کی پہچان کے لئے ایک کتاب بھی تحریر کی اور اس میں ایسے جدول بنائے جن میں روئے زمین کے ڈیڑھ ہزار مقامات کے قبلہ کی سمت متعین کی۔ اس کتاب کی تدوین سے بحمداللہ تشخیص قبلہ کی نعمت کمال تک پہنچ گئی۔ (اور تہران کا عرض بلد ۳۵ درجہ، اکتالیس منٹ، ۳۸ سیکنڈ اور طول بلد ۵۱ درجہ، ۲۸ منٹ، ۵۸ سیکنڈ تحریر کیا (از مترجم)
یہ تو تھی "دائرہٴِ ہندیہ" کے نقص کی وجہ۔ اب آتے ہی دوسری قسم یعنی "قطب نما" کے ذریعہ قبلہ کی تشخیص، تو اس کے نقص کی وجہ یہ تھی کہ کرہٴ ارض کے دو مقناطیسی قطب زمین کے دو جغرافیائی قطبوں سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ اس لئے چونکہ مقناطیسی قطبِ شمالی، مثلاً یہ کہ زمانہ کے گزرنے کے ساتھ تبدیل ہونے کے علاوہ اس کے اور زمین کے جغرافیائی قطب شمالی کے درمیان ایک ہزار میل (۱۳۷۵ کلومیٹر) کا فاصلہ ہے،
اسی لئے قطب نما کی سوئی کبھی بھی زمین کے جغرافیائی قطبِ جنوبی پر نہیں ٹھہرتی: نہ ہی اس کی صحیح سمت کا تعین نہیں کرتی ہے، (کیونکہ سوئی کا دوسرا سرا صحیح معنو ں میں قطب شمالی واضح نہیں کرتا) بلکہ بعض اوقات تو فرق اس حد تک جا پہنچاتا ہے جس سے چشم پوشی ناممکن ہو جاتی ہے۔
اسی بنا پر فاضل انجینئر اور عالقیدر ریاضی دان جناب بریگیڈیئر جنرل حسین علی رزم آرا نے انہی آخری سالوں (۱۳۳۲ ہجری شمسی) میں اس مشکل کو بھی حل کر دیا اور مقناطیسی و جغرافیائی قطبوں کے درمیان فرق کو ختم کرکے روئے زمین کے ایک ہزار مقامات کے لئے قبلہ کی سمت کو متعین کر دیا۔ (کام کی آسانی کے لئے ایک قبلہ نما ایجاد کیا جس سے بڑی آسانی کے ساتھ ہر شخص قبلہ کی سمت کو معلوم کر سکتا ہے اور اس میں یقین کے زیادہ نزدیک تخمین سے کام لیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔
(المیزان جلد اول ص ۳۳۵ تا ۳۳۷)
قبلہ کے بارے میں معاشرتی بحث

دانشمند افرا دجو معاشرہ کی شناخت کے ماہر اور اس فن کے استاد ہیں اگر معاشرہ کے آثار و خواص کے بارے میں غور و فکر سے کام لیں تو ان پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے گی کہ اصولی طور پر معاشرہ کا وجود میں آنا اور انسانی طبیعتوں کے اختلاف کی وجہ سے معاشرہ کا مختلف قسمو ں میں تقسیم ہونا، صرف اور صرف ایک عامل کی وجہ سے ہے، جس کا نام "ادراک" ہے جسے خدا نے انسان کی طبیعت میں الہام کے طور پر ودیعت فرمایا ہے، ادراک اس معنی کے اعتبار سے کہ ان کی ضروریات، جو اتفاق سے ساری کی ساری انسانوں کی بقا اور ان کی کمال تک رسائی کے لئے موثر ہیں، ایک دو نہیں ہیں کہ ان ایک دو ضروریات کو وہ خد ہی پورا کر لیں، بلکہ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک معاشرہ تشکیل دینے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اس معاشرہ کے پابند رہ کر اس کی آغوش تربیت میں پروان چڑھ کے اور اس کی امداد کے ساتھ اپنے تمام افعال و حرکات و سکنات میں کامیاب ہوں، یا باالفاظ دیگر کسی نتیجہ تک پہنچ سکیں، کیونکہ تالی ہمیشہ ایک ہاتھ سے تو نہیں بجتی۔
اس ادراک کے بعد اسے دوسرے ادراکات، یا دوسرے لفظوں میں انہیں کچھ ذہنی صورتوں کا الہام ہوا کہ وہ ادراکات اور ذہنی صورتیں مادی امور و ضروریات کے پورا کرنے کے لئے ایک معیار و کسوٹی قرار پائیں۔ حقیقت میں وہ ادراکات و معیارات انسانی طبیعت اور اس کے افعال و ضروریات کے درمیان رابطہ کا ایک ذریعہ بن گئے، مثلاً اس بات کا ادراک کہ کونسی چیز اچھی ہے، کونسی چیز بری ہے، کونسا کام کرنا چاہئے، کونسا نہیں کرنا چاہئے، کس کام کا کرنا اس کے نہ کرنے سے بہتر ہے؟ نیز اس چیز کا ادراک کہ انسان اجتماع و معاشرہ کے مرتب و منظم کرنے کے لئے سربراہ و عوام، ملک، ملکیت، خصوصی امور، مشترک و مخصوص معاملات اور قوموں کے دیگر آداب و رسوم (جو اقوام، علاقہ و زمانہ کے تبدیل ہونے سے بدلتے رہتے ہیں) کو معتبر سمجھے اور ان کا احترام کرے۔ یہ تمام معانی و قواعد ایسے امور ہیں کہ اگر انسانی طبیعتوں نے انہیں بنایا ہے تو یہ بھی قدرت کی طرف سے انسان کو ایک الہام تھا اللہ تعالیٰ نے جس کے ذریعہ انسانی طبیعت کو لطیف بنایا تاکہ دوسرے ہر کام سے پہلے جس چیز پر انسان کا ایمان و عقیدہ ہے اور وہ اسے خارج میں وجود میں لانا چاہتا ہے تو اسے تصور میں لا کر ذہنی نقشوں کو جامہٴ عمل پہنائے، یا اگر مناسب نہ سمجھے تو اسے ترک کر دے۔ اس طرح وہ اپنے لا ئحہ عمل کو پایہٴ تکمیل تک پہنچائے گا۔
(جب یہ بات واضح ہو گئی تو اب ہم کہتے ہیں کہ) کسی عبادت میں خداوند سبحان کی طرف توجہ اور رخ کرنا، (البتہ یہ بات پیش نظر رکھتے ہوئے کہ خداوندِ متعال مکان، سمت اور دوسرے تمام مادی امور سے منزہ و مبرا ہے، حتیٰ کہ اس بات سے بھی پاک و پاکیزہ ہے کہ کسی مادی حس کا اس سے کوئی تعلق ہے) اگر ہم چاہتے ہیں کہ قلب و ضمیر کی چار دیواری سے نکل کر افعال میں سے کسی فعل کی صورت اختیار کر لیں جبکہ فعل کا تعلق ہوتا ہی مادیات سے ہے تو مجبوراً یہی کہنا پڑے گا کہ یہ توجہ اور رخ کرنا بصورتِ تمثیل یا تمثل ہو گا۔
آسان و سادہ لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایک طرف تو ہم یہ چاہتے ہیں کہ عبادت کے ذریعہ ہم خدا کی طرف توجہ کریں اور دوسری طرف یہ بھی ہے کہ خدا کسی ایک طرف، جہت یا سمت میں موجود نہیں (بلکہ ہر طرف اور ہر جہت و سمت میں ہے) تو ضروری ہو جاتا ہے کہ ہماری عبادت تمثیل و تجسم کی صورت میں ہو، وہ یوں کہ پہلے مرحلہ میں ہماری قلبی توجہات، ان اختلافات کے باوجود، جو ان کی خصوصیات (مثلاً خضوع و خشوع اور خوف و رجا اور عش و جذبہ) میں پائے جاتے ہیں، پیشِ نظر ہوں، دوسرے مرحلہ میں انہی خصوصیات کو ان کی مناسب شکل و صورت میں اپنے افعال میں منعکس کریں، مثلاً اپنے قلبی خضوع و خشوع اور اپنی ذات کی حقارت و ذلت کے اظہار کے لئے اس کی بارگاہِ اقٹدس میں سجدہ ریز ہو جائیں اور اس بیرونی عمل کے ذریعہ اپنے اندرون کی کیفیت کا اظہار کریں۔ یا اگر چاہیں کہ اپنا اندونی احترام اور اس کی بارگاہ میں اپنی تعظیم کا اظہار کریں تو رکوع میں چلے جائیں، نیز اگر چاہتے ہیں کہ اپنی جان کا نذرانہ اس کے حضور پیش کریں تو اس کے گھر )(خانہٴ کعبہ) کے اطراف میں طواف کریں، اگر چاہیں کہ اس کی بزرگی کو بیان کریں تو سیدھے کھڑے ہو کر قیام کو بجا لائیں، اگر چاہیں کہ اس کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لئے خود کو پاک و پاکیزہ کریں تو غسل و وضو کریں اور اس طرح کی دوسری تمثیلات ہیں۔
اس بات میں بھی ذرہ برابر شک نہیں کہ بندہ کی عبادت کی روح، اس کی وہی اندرونی و قلبی بندگی اور قلبی کیفیت ہے جو وہ اپنے معبود کے لئے ظاہر کرتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو اس کی عبادت "بے روح" ہو گی بلکہو عبادت ہی شمار نہیں ہو گی۔ لیکن اس کے باوجود یہ قلبی توجہ کسی نہ کسی صورت میں مجسم ہونی چاہئے۔ غرض عبادت کو اپنے کمال، ثبات اور استقرار میں متحقق ہونے کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ کسی قالب میں ڈھالی جائے۔
جو کچھ اوپر بیان ہوا ہے اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے۔ اب یہ دیکھتے ہیں کہ مشرکین اپنی عبادت میں کیا کرتے تھے اور اسلام نے کیا کیا ہے؟ بس وثینوں، ستارہ پرستوں اور تمام دوسرے جسم پرستوں کا معبود یا تو کوئی انسان ہوتا یا کوئی اور جسم رکھنے والی چیز ہوتی، وہ اپنے لئے ضروری سمجھتے کہ عبادت کی حالت میں ان کا معبود ان کے نزدیک اور سامنے ہو، لہٰذا وہ اس کے سامنے کھڑے ہو کر اس کی عبادت کیا کرتے تھے۔
لیکن انبیاء کا دین، خصوصاً دینِ اسلام کہ فی الحال ہم اسی کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں، (اور اس کے بارے میں گفتگو درحقیقت دوسرے ادیان کے بارے میں گفتگو بھی ہے کیونکہ اسلام نے تمام انبیاء کی تصدیق کی ہے) جس طرح کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ دین اسلام نے عبادت کی روح انسان کی اندرونی کیفیت اور قلبی توجہ کو قرار دیا ہے، اس کے علاوہ ان حالات کو مثالی صورت دینے کے لئے بھی ایک نقشہ پیش کیا ہے، وہ یہ کہ اس نے کعبہ کو قبلہ قرار دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ تمام لوگ نماز کی حالت میں قبلہ رو کھڑے ہوں، کسی مسلمان کو خواہ وہ روئے زمین کے کسی خطہ پر ہی کیوں نہ ہو، اس کے ترک کرنے کے اجازت نہیں ہے، اسی طرح بعض حالات (مثلاً بیت الخلا میں) اس کی طرف منہ کرکے یا پشت کرکے بیٹھنے سے منع کیا ہے، اس کے علاوہ دوسرے کئی ایسے حالات ہیں جن میں قبلہ رو ہونا بہتر ہے۔
پس اس طرح سے اسلام نے دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کرکے طرہ پر ضبط کیا کہ جلوت و خلوت میں، قیام و قعود میں، خواب و بیداری میں، عبادت و مراسم میں، حتیٰ کہ پست ترین اور ناپسندیدہ ترین حالات میں بھی انسان اپنے پروردگار کو فراموش نہ کرے۔ یہ تو تھا انفرادی صورت میں"قبلہ" کو شرعی حیثیت دینے کا فائدہ۔
اب آتے ہیں اس کے اجتماعی فوائد کی طرف پس غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس کے فوائد تو انفرادی فائدہ سے بھی زیادہ عجیب، اس کے آثار زیادہ روشن اور زیادہ دلنشین ہیں، اسی لئے کہ تمام لوگوں کو ان کے زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود ایک نقطہ کی طرف متوجہ کیا اور ایک مرکزی نقطہ پر اکٹھا کرکے ان کے درمیان فکری وحدت پیدا کر دی، ان کے معاشرتی رشتوں کو یکجا کر دیا اور ان کے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا۔ یہ ایک ایسی لطیف ترین روح ہے جو بشریت کے ڈھانچے میں پھونک دی گئی ہے، ایک ایسی روح جو اپنی لطافت کی وجہ سے افراد کے تمام مادی و معنوی امور میں نفوذ کر سکتی ہے جس سے ایک ترقی پذیر معاشرہ، زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ ہونے والا اتحاد اور طاقت ور ترین اجتماعی صورت وجود میں آ جاتی ہے۔ یہ ایک احسان ہے جو خداوندِ متعال نے اسلامی امہ کے لئے مخصوص کر دیا ہے۔ اسی کے ذریعہ اس نے دینی وحدت اور اجتماعی شوکت کو محفوظ رکھا ہے، جبکہ اس سے پہلے کئی قسم کے احزاب، گروہ، ٹولے اور جماعتیں تھیں جن کے رسوم و رواج جداگانہ اور طریقہ ہائے کار مختلف تھے، حتیٰ کہ دو انسان بھی ایسے نہیں تھے جو کسی ایک نظریہ پر متفق ہوں۔ یہ اللہ کا اسلامی امہ پر بہت بڑا احسان ہے جس کے لئے ہم کمال عاجزی کے ساتھ اس کے سپاس گزار ہیں

حوالہ میزان الحکمہ مصنف محمدی ری شہری
 

عمر شبیر

محفلین
السلام علیکم۔
اس معلوماتی مضمون کے لئے اللہ کریم آپ کو جزائے خیر عطا کرے آمین۔
میرا سوال یہ ہے کہ دنیا میں سب سے پہلا عبادت گھر تو حتمی طور پر خانہ کعبہ ہی ہے لیکن باوجود اس کے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی بیت المقدس کب قبلہ مقرر ہؤا؟ کیا ظہور اسلام سے قبل بھی بیت المقدس کوکبھی قبلہ کا درجہ ملا؟ ملا تو کب؟ کیا اسلام کے علاوہ دیگر ادیان میں بھی قبلہ کا تصور ہے؟
اگرممکن ہو تو مستند حوالوں سے بھی نوازیں۔
پیشگی شکریہ۔
 
Top