قاضی عبدالغفور غیرآبادی کا چاکِ ابجد

نام قاضی عبدالغفور ہے، کہیں ایک جگہ آباد نہ ہونے کے سبب غیرآبادی کا دُم چھلا بھی لگا لیا، آپ کا اپنا خیال ہے کہ اگر لوگ فخر سے سینہ تانے مچھلی پوری، مانکپوری، اورنگ آبادی اور شاہجہانپوری ایسے نام رکھ سکتے ہیں تو غیر آبادی تو محض ایک مُترنم اظہار غریب الوطنی کے سوا کُچھ بھی نہیں۔

پاکستان کی ساحلی سرحدوں پہ آباد شہر نور کی ادبی محفلوں میں ایک زمانے میں آپ کا طوطی محض بولتا ہی نہیں بلکہ گَرجا کرتا تھا۔ ان محافل کی تنقیدی نشستوں میں آپ چوب عروض تھامے پہرے داری کیا کرتے اور ‘فعلن فعولن فاعلاتن فاعلن‘ کا ڈنڈا لئے نئے شعراء کے ساتھ ڈنڈم ڈنڈا اور عروضم عروضا ہوا کرتے تھے۔ اُس دور میں آپ شاعری کے بارے میں بہت بُنیاد پرست تھے آپ کا عقیدہ تھا کہ عروسِ غزل کے بدن پر اگر تنگ و چُست قبائےعروض نہ ہو تو ایسی دُلہن کی تو بارات ہی کو لَوٹ جانا چاہیے اور باراتیوں پر لازم ہے کہ ایسی بدقسمت دُلہن پر ہنسیں اور اس کی بُرائیاں سرعام کریں یہ وہ زمانہ تھا کہ میراجی کی آزاد نظمیں نوجوانوں کے دلوں میں گھر کر رہی تھیں ایسے ماحول میں غزل کے مُتعلق ایسا بُنیاد پرستانا رویہ نوجوان بانکے شعرا کو ناپسند آیا اور ان سب نے مل کر قاضی عبدالغفور غیرآبادی کو تنگ پائیجامے والا عروضیہ کہنا شروع کردیا۔ جس کو آپ نے بہت ناپسند فرمایا اور دو ایک کو تو ڈانٹ بھی دیا اور حفظ ماتقدم کے طور پر گز گز بھر کے کھُلے پائیجامے بھی پہننے لگے۔

قاضی صاحب ایک سخت روایت پسند انسان ہیں، اپنا یہی رویہ ادب میں بھی قائم رکھے ہوئے ہیں، فرماتے ہیں کہ جدید اُردو شاعری کا عکس اگر آئینہء روایات کی شفاف سطح سے مُنعکس ہو تو قابل تحسین ہے اور قبولیت کے لائق ہے ورنہ اس کی اہمیت پر بات کرنا قُلزمِ لایعنیت میں تیراکی کے مُترادف ہے۔

آپ خود کو عہد رواں کا ایک بہت اہم شاعر و نقاد سمجھتے ہیں۔ علم تنقید اور عروض تو اپنے محلے کی مسجد کے امام سے سیکھے بعد ازاں آپ نے اُردو فاضل کے امتحان میں طلائی اور فارسی فاضل میں نُقرئی تمغہ حاصل کیا، طبع نفیس میں حلیمیت اور تکسیر نفسی کا یہ عالم ہے کہ اکثر کہتے پائے گئے ہیں کہ بھئی میں کیا شاعر ہوں بس شاعری تو غالب اور میر کرگئے ہیں۔ آپ نُمائیش پسندی کو ناپسند کرتے ہیں اس لیے یہ تمغات مع دیگر انعامات و اسناد کے اپنے دفتر ہی کی دیوار پہ آویزاں کر چھوڑے ہیں اور فرماتے ہیں بھئ دفتر کے صدر دروازے پہ ان کو سجانا تو اک گُوناں خودنمائی و خودپسندی دِکھتی ہے۔ یہ بات ہر آنے جانے والے کے گوش گُزار ضرور کرتے ہیں اور وضاحت فرماتے ہیں کہ دیکھیں ان چند تمغوں اور اسناد کا صدر دروازے پر آویزاں ہونے کی بجائے دفتر کی دیوار پر نُمایاں ہونا دراصل میری طبعیت کی فقیری اور عاجزی و انکساری پر ایک بُرہانِ قاطع ہے۔

اپنے مغرب میں آباد ہونے کے بارے میں خود فرماتے ہیں "میں مغرب میں تب سے آباد ہوں جب ابھی پاکستان کی سرحدیں ہندوستانی صوبہ آسام سے ملتی تھیں۔"۔ اتنا طویل عرصہ مغربی ممالک میں گُذارنے کے باوجود حرام ہے جو آپ کی ذات و عاداتِ مُطہرات پر مغرب کی سماجی اور تکنیکی ترقی کا کوئی اثر ڈھونڈے سے بھی نظر آجائے۔ کبھی بھی کینیڈا نہیں لکھتے ہمیشہ کیندا کہتے بھی ہیں اور لکھتے بھی ہیں۔ فرماتے ہیں "ابجد کے اس انبوہ میں یہ حرف ڈ عجب بیہودہ حرف ہے، جس بھی مُلک کے نام میں در آئے لگتا ہے کہ کوئی ایسی سلطنت ہو جس میں ڈھولچی آباد ہوں"۔

آپ اکثر کینڈا کی گز بھر برف میں بھی سفید کُرتے پہ سفید رنگ کا ہی چوڑی دار پائیجامہ پہنے، لقّے کبوتر کی طرح سینہ تانے، پان کی جُگالی کرتے اپنی موجودگی کے احمریں نقوش چھوڑتے مل جائیں گے۔

کھیل کھلاڑی سے بھی شغف رکھتے ہیں، گھوڑ دوڑ میں لاکھوں ہارنے کے بعد اب شراب کے نشے میں دُھت ہوکر گھڑ دوڑ پر جوا کھیلنے کو معیوب اور انسانی کردار کی کجّی جانتے ہیں۔ امریکی فُٹ-بال کو مغربی اُمراء کی کبڈی کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر پنجاب کے دیہاتوں میں بھی پیسے کی ریل پیل ہوتی تو بھلا بیچارے پنجابیوں کو کیا پڑی تھی کہ سردیوں میں ننگ دھڑنگ ٹھاہ ٹھاہ اپنی ہی ریون (ران کی جمع) کُوٹ کُوٹ کر کبڈی کھیلتے پھرتے، بلکہ یہ بھی قیمتی جوشنی قبائیں پہنے امریکی فُٹ-بال سے شُغلایا کرتے۔

حقیقی فُٹ-بال (یعنی ساکر) کو شدید ناپسند فرماتے ہیں
ان کے خیال میں یہ کھیل محض عورت ذات کی دلچسپی کے لئیے کھیلا جاتا ہے، اس نسبت سے آپ افغانستاں کے یخ بستہ صحراؤں میں کھیلی جانے والی وحشیانہ کھیل بُزکُشی اور زرق برق لباس پہنے تلوار اُٹھائے جنگلی بھینسے کو قتل کرنے والی ھسپانوی تفریحاتی کھیل کو ہی اصل مردانہ کھیل سمجھتے ہیں۔

جدید اُردو ادب کی طرح دور حاضر کی کرکٹ کو بھی ناپسند فرماتے ہیں، آپ کے خیال میں سماجی اور اخلاقی انحطاط نے برصغیر میں کرکٹ کو بھی جدید نثری غزل بنا کے رکھ دیا ہے اور اقتصادی مقاصد کے حصول کیلئے نثری غزل کی طرح جدید کرکٹ بھی ہمارے حلائق (حلق کی جمع حلائق بتاتے ہیں) میں اُتاری جا رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ

"ہمارے دور میں کرکٹ حقیقی مردُود (مرد کی جمع ہمیشہ مردود لکھتے ہیں) کھیلا کرتے تھے۔ اب تو سب عورتوں جیسے بال رکھے نامردے آگئے ہیں، ارے اُنیس سو باسٹھ میں فرنگیوں کی ٹیم کے خلاف کرانچی میں کھیلتے ہوئے امتیاز احمد نے ایک فرنگی گُگلی باؤلر کے باؤنسر پر گُھٹنا زمین پر ٹیک کر جو چَھکا مارا تو ہم کالج کے سب لمڈے اپنی نئی نویلی بیل-باٹم پتلونیں پہنے سڑک سے بھاگم بھاگ گیند اُٹھا کر لائے تھے"

ہم میں سے کسی نے استفسار کیا کہ
"قاضی صاحب، گُگلی باؤلر اور باؤنسر؟ اور اُس پہ طُرہ یہ کہ باؤنسر پہ گُھٹنا ٹیک کر چھکا مارنا" حضرت کچھ تو رحم فرمائیے۔
"
ارے صاحب قاضی صاحب بگڑ ہی تو گئے اور حالتِ جلال میں گرجے


"میاں صاحبزادے شاید ذہن مائیل بہ پراگندگی ہے، غور نہ کیا آپ نے۔ خاکسار نے کہا تو کہ ہمارے دور میں حقیقی مرد کرکٹ کھیلتے تھے آج کل کے زُلف سنوار مرد نُما لڑکے کیا خاک کھیلیں گے، اور کہاں گُٹنا ٹیک کر باؤنسر پر چھکا مار سکتے ہیں۔
"

ویسے تو حضرت قاضی صاحب کے اوصاف حمیدہ قلم بند کرنا دریا کو کوزے میں بند کرنے سے زیادہ مُشکل فعل ہے لیکن جو بات آپ کی ذات سے پانی میں نمی کی طرح علیحدہ نہیں کی جاسکتی وہ ہے قاضی صاحب کی لفظ سازی ہے۔ کبھی تو آپ کے چاکِ ابجد سے الفاط کوزوں کی صورت نمودار ہوتے ہیں اور کبھی ان کے ہاتھوں پُرانے الفاظ معنی کی نئی قبائیں زیب تن کئے ان کی تحریروں میں آوارہ گردی کرتے ہیں مثلاً آپ کتاب چہرہ (فیس بُک) کے دلدادہ ہیں پر طبع کی نفاست کے سبب کتاب چہرہ پر لٹھم لٹھا ہوتے ادیبوں کے تبصروں سے نالاں ہیں، فرماتے ہیں

"جس انداز سے اِن صاحب نے اُن صاحب کی مٹی پلید فرمائی ہے اس کو تخلیقی تبصرہ کہنا ایسا ہی بے معنی ہے جیسے یخ بستہ اُبلتے پانی کا وجود،اس طرح کے تبصرہ کو تو کربیہ کہنا چاہیے۔
"
آپ لفظ "کربیہ" سے مراد ایسا کامنٹ لیتے ہیں جس میں بہ نیتِ ایذاء کسی کو مبتلاء کرب کیا گیا ہو۔

قاضی صاحب خود کو صاحبِ کتاب یوں بتاتے ہیں کہ جیسے صاحب کتاب نہ ہوں صحفیہء الہی کے مُدعی ہوں، آپ بیشمار کتابوں کے مُصنف ہیں، ان کتب کے نام انفرادیت میں آپ کی ذاتِ صد صفات کا ہی ایک عکس ہیں
کُچھ کُتب کے نام ہیں:

(جدیدیت کی یزیدیت (جدید ادب پر ایک تنقید
(تیّمُمِ وصل (مجموعہء خطوط
(قُلزمِ ہجرت (رُباعیات
(ماورائے سراب (افسانے
(نقاشِ سلطنت سراب (مجموعہء غزول


قاضی صاحب کے معجزہء خیاطت سے جہاں الفاظ اپنی پُرانی قبائیں چاک کرتے ہیں اور نئی معنوی قبائیں زیب تن کئے آپ کی روز مرہ کی گفتگو اور تحریروں میں چہل قدی کرتے ہیں وہیں آپ کی لفظ سازی کا سب سے دلچسپ اور رنگین زاویہ الفاظ کی عجیب الہیت، لیکن بڑی ہی مانوس، جمعیں (جنہیں آپ نے اجماع ظریفانہ کا نام عطا کیا ہے) ہیں یہ دلچسپ پہلو آپ کی تحریروں میں جابجا یوں موجود ہے جیسے پانی میں نمی ہو۔

آپ ربر کی جمع ابرار بتاتے ہیں، اور لونڈے کو ہمیشہ لمڈا کہتے اور لکھتے ہیں۔ لمڈا کی جمع لمڈا جات لکھنے پر مُصر ہیں، اپنی کتاب "جدیدیت کی یزیدیت" میں ایک جگہ لکھتے ہیں

"
بھئی خوشنویسی ایک فن ہوا کرتا تھا ، مُنہہ اندھیرے ادھر مؤذن نے گُنہگاروں کو خانہء خُدا میں بُلایا اُدھر میاں صاحب نے ہمیں بیدار کیا ہم دوڑے گئے کہنی سے بھی بڑی اور اماوس کے رنگوں سے بھی زیادہ کالی لکڑ کی تختی اُٹھائی، قلم پکڑی اور پہلے سے طے شُدہ سبق کی مشقِ خوشنویسی شروع ادھر غلطی ہوئی اُدھر ہم نے اُس پر خطِ تنسیخ کھینچا اور پَو پھٹتے ہی قاری صاحب کے ہاں جانے سے قبل گاچنی کا لیپا کر چھوڑا۔ اور اب یہ دور ہے کہ مووے سکول والے دس دس دو-نبمر کی پِنسلیں اور ایک درجن "ابرار" لانے کو کہتے ہیں، اور بُرا ہو ان لمنڈا جاتِ مکاتبِ جدید کا جو ان ابرار کی مسلسل ریگ ماری سے صفحہ ہی پھاڑ ڈالتے ہیں۔
"

قاضی صاحب کے کتاب-چہرہ پر لٹھم لٹھا ہوتے ادب پسند حضرات کے کربیہات پر خیالات کا بیان تو اپر ہو چُکا، آپ اُسی حوالے سے "اکربا پرور" تمام ایسے لوگوں کے گروہ کو کہتے ہیں جو دوسروں کو کرب و اذیت دے کر حظ اٹھاتے ہوں۔ فرماتے ہیں:

"
ارے میاں عہدِبرقیات اپنے اصل رنگ و روپ میں تو اب کہیں جا کر ظاہر ہوا ہے یہ تم برقی قمقمے کی ایجاد پہ اتنے حیران کیوں ہو اور بھول جاؤ وہ پُرانی طرزِ مُشاعرہ کہ، دو رویہ گاؤ تکیہ-جات کے بیچوں بیچ مُنقش پیکدانوں سے آراستہ مُحافل مُشاعرہ میں "مُکرر صاحب مُکرر" کا شور و غوغا ہی داد دینے کی رسم تھی، اب تو جدید برقیاتی سماجی میل ملاپ کا دور ہے، جو کتاب-چہرہ پہ کبھی گُزر ہو تو دیکھئے کیسے شعراء حضرات اپنی آراء سے محو "اکربا پروری" ہیں۔
"
اپنی کتاب "قُلزم ہجرت" کے سرورق پہ یہ شعر لکھوایا

فیس بک کے اقربا تو اکربا پرور ہوئے
اب چلے جائیں کہیں غزلوں کی گٹھری باندھ کر

"نقاشِ سلطنت سراب" کی اشاعت سے قبل اک روز ڈاک کے ذریعہ مسودہ موصول ہونے پر میں فرط جذبات سے آبدیدہ ہوگیا کہ قاضی صاحب نے اس عاجز کو پروف-ریڈنگ کے لیا چُنا۔ کچھ ورق گردانی کی اور شام کو فون کیا، علیک-سلیک کے بعد وضاحت فرما دی

"دیکھو لمڈے ایک قابل احترام شاعر کے خلفِ سعید ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ ہماری باج گُزار حرف و مُعانی میں چوبدارِ مُصلح کی لٹھ لیے آورہ گردی فرمائیں، آپ سے سہوات کتابت پکڑنے کی ہی گُزارش ہے"

میں نے بھی عرض کیا کہ "قاضی صاحب یہ جو آپ کے قلم سے نئے نئے الفاظ جنتے ہیں بھلا یہ عاجز کیسے سمجھے گا کہ یہ سہو کتابت ہے یا آنجناب کا نُطق خامہ اپنا معجزہء کُن دکھا رہا ہے؟"

میرے لہجے کی کاٹ کو صریحاً در خور اعتنا نہ جانا اور فرمایا کہ "میاں صاحبزادے کون سا لفظ ہے جو آپ کے معدہء حرف و لفظ میں ہاضمے کے مسائل پیدا کر رہا ہے؟"

میں نے فوراً کہا لفظ "اساتیر" بھلا کیا ہوا، اساطیر تو لفظ ہوا پر "اساتیر" کیا معنی ہوئے ؟

بولے دیکھو لفظ آسمان سے نازل نہیں ہوتے بلکہ ان کا نزول فلک ذہن انسان سے ہی ہوتا ہے جو سماجی ضروریات اور کثرت استعمال سے صوتی اعتبار سے دھیرے دھیرے نامانوسیت کا جامہ اُتار کر مانوسیت کا جامہ اوڑھ لیتے ہیں، ہر لفظ اپنی ارتقاء کے مدارج میں سے گُزرتا ہے کبھی نئے معنی کا لبادہ اوڑھتا ہے تو کبھی اپنی ہئیت ہی بدل لیتا ہے، یہ بہرحال طے ہے کہ ہر تراشا ہوا لفظ اور اُس کی ہئیت سماجی قبولیت نہیں پاتے۔ یہ لفظ نخچیر کو ہی دیکھو ایک زمانے میں یہ شکار ہونے کے معنی میں بہت مستعمل تھا، میر کا شعر سنو

صاف غلطاں خوں میں ہے نخچیرِ یار
لے گیا رنگ اس کے دل سے تیرِ یار

لمڈے اب خال خال شعراء ہی نخچیرِ استعمال کرتے ہیں
یہ تقریر سُننے کے بعد ہمت نہ پڑی کہ بحث آگے بڑہے۔
لیکن یہ عرض کردوں کہ موصوف استری کی جمع اساتیر کرتے ہیں اور اس کا استعمال بھی دیکھ لیں

"۔۔۔ اگر قبائیں جبرِ خیاط سے کسی طور بچ نکلیں تو ہم ایسے بدبخت اساتیرِ دھوبی کے معجزوں کو چاکِ گریباں کے طور سجائے گلیوں میں پھرتے ہیں ۔۔۔۔
"

قاضی صاحب کے چاکِ ابجد سے خلقے ہوئے چند الفاظ اور اُن کی کُچھ اور جمعیں آپ کی خاطر پیش ہیں۔ آپ سمجھ دار شخص کو سمجھیدہ، نثرنگار کو نثیر، چکر کی جمع چکور، پچھواڑے کی جمع پچھاویڑ، ہل کی جمع ہوائیل لیکن حل کی جمع حلول بتاتے ہیں۔

مجھے قاضی صاحب کے قلم و ذہن کی آمیزش سے تخلیق پانے والے الفاط کے مجموعہ میں سب سے زیادہ جو دو لفظی اصطلاح پسند آئی وہ ہے ‘تیّمُمِ وصل‘۔ جس کو آپ بہت سارے معنی کے طور پر استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کا سب سے حسین استعمال آپ بطور خط کے کرتے ہیں، جیسے ایک خط کے آغاز میں لکھا "آپ کے وصل کا تیّمُم نامہ موصول ہوا یوں لگا آپ ہی تو آگئے"

قاضی صاحب نے ایک دفعہ مُجھ سے پوچھا " سنو میاں، یہ لفظ ختنہ کی کیا جمع ہوگی" میرے چہرے پر بیواقوفی اور معصومیت کے ملے جُلے اثرات دیکھ کر بولے "ہاں ہاں ختنے مستعمل تو ہے پر میں نہیں مانتا اس جمع کو"۔ اس بات کے سالوں بعد جب قاضی صاحب نے اپنے افسانوں کا مجموعہ "ماورائے سراب" بھیجا تو میں ختنے کی جمع کو خواتین پڑھ کہ اتنا ہنسا کہ پسلیوں میں وہ درد اُٹھی کہ کیا حضرت آدم کو حوا کی پیدائیش کے وقت ہوئی ہوگی ۔ آپ بھی وہ نثر پارہ دیکھئے

ایک وہ دور تھا کہ ادھر اولاد نرینہ کی خبر مردانہ میں آئی اُدھر گھر کے نوکروں کو دوڑایا جو گلی کی نُکڑ سے خِتان کو ہاتھوں ہاتھ لائے جس نے آن کی آن میں گنے کی تیز دھار اُترن سے اپنے فن کا معجزہ دکھایا اور سُنت ابرہیم کو رائج کیا اور اب اس اقتصادی انحطاط کے دور میں میاں نھنے کے ہاں جوڑواں لڑکے کیا ہوئے اُس کو تو اپنی اولاد نرینہ کے "خواتین" کے خرچے کی فکر آ لگی ہے۔

قاضی صاحب کُچھ سال قبل ہماری ہمسائیہ ریاست نیو مکسیکو کسی کام سے تشریف لائے ہمارے اصرار پر ہمارے ہاں ایک ہفتہ کیلئے تشریف لے آئے۔ آتے ہی حُکم دیا کہ تمھاری کتابیں تمھارے تہہ خانے میں ہیں وہیں ہمارا بستر لگا دو عرض کی کہ لکڑی کی چھت ہے صبح بچے اُدھم مچائیں گے اور آپ بے سکون ہوں گے لیکن قاضی صاحب کہاں سُنتے ہیں کسی کی۔ صبح ہم سب سے پہلے جاگ گئے جب ہم لوگ آئے تو میرے ہمسائے کے کُتے کو کُتوں کی حرام اولاد کے طعنے دئے جارہے تھے میرے پوچھنے پہ بتایا کہ یہ تُخمِ سَگان قریہ رات بھر سگ باری کرتا رہا ہے اور میں سو نہ پایا۔ میں نے ہمت کی اور کہاں آپ سے کہا تھا کہ یہاں نہ سوئیں تو گرجتے ہوئے ابے تبے پر اُتر آئے

ابے تم نے بچوں کا کہا تھا۔ کتے کے بچوں سے کب آگاہ کیا تھا ۔


اس سگ باری کے علاوہ خوب شُغل رہا کُچھ شاعری کا شوق رکھنے والے دوستوں سے مُلاقات کروائی ایک جاننے والے کی صاحبزادی کی شادی تھی فون آیا کہ قاضی صاحب کو ضرور لے کر آئیں۔ اب مجھ میں ہزار برائیاں ہوں پر آج تک میری یاداشت میں ایسا کوئی واقعہ نہیں کہ
میں کبھی کہیں دیر سے پہُنچا ہوں۔ بس میں نے اپنا روائتی شور ڈالا کہ سب جلد تیار ہوجاؤ، کہ قاضی صاحب نے سرزنش فرما دی اور کہا " میاں یہ تم اسقدر مَجلّود کیوں ہو، کچھ تھوڑا مصروب ہو جائیے اور بہو رانی نے چائے بنائی ہے ایک کپ لے آئیے، اور سنو کہاں جارہے ہو سُنتے جاؤ ذیابیطس کی شکایت ہے اس لیئے مشکورئیے گا نہیں"

میں نے سب کچھ بھول کر پاؤں پکڑ لیئے اور عرض کی کہ قاضی صاحب دیکھیں مَجلّود، مصروب اور مشکورئیے نہ تو کوئی الفاظ اور نہ ہی ان کی کوئی تُک بنتی ہے۔ آپ نے والد صاحب کے اُردو شاعر ہونے کے طعنے اور میری جہالت ظاہر کرنے کے بعد ان الفاظ پر سے لایعنیت کی گرد ہٹائی

" دیکھ بیٹا مَجلّود لفظ جلد سے نکالا ہے اور میں اسکو بمعنی جلدباز استعمالتا ہوں، مصروب وہ انسان جو صبر کا دامن تھامے رکھے اور مشکورئیے کا لفظ تو بہرحال واضح ہے کہ شکر ڈالئے
"
میں چائے کا کپ لانے گیا اور سوچتا رہا کہ آج شادی کی تقریب میں قاضی صاحب اپنے خود خلقیدہ لفوظ کی چاند ماری کریں گے اور مجھے آپ کا مترجم ہونا پڑے۔ یہ اندیشہ بہرحال بے محل نکلا لیکن ایک اور واقعہ ہوا جس کا اس بشرِ پُر خطا نے تصور بھی نہ کیا تھا۔

ہوا یوں کہ وہاں شادی کی تقاریب کے مُنتظمین نے ایک پیشہ ور وڈیو بنانے والے کا انتظام کر رکھا تھا، اب یہ صاحب ہر طرف جاتے اور پہلے تو لوگوں کو ایک ترتیب میں کھڑا کرتے پھر فرماتے کہ یوں دم سادہے نہ رہیں بلکہ کُچھ باتیں کریں تب جاکر یہ صاحب کہیں وڈیو بناتے تھے۔ اسطرح ان صاحب نے محفل کی بیساختگی کو اپنے آلات کی تیز دھار سے سرعام قتل کر دیا، اب یہ بات قاضی صاحب کو بہت ہی ناگوار گُزری۔ میں تاڑ گیا کہ یہ آتش فشاں کسی لمحے بھی پھٹ پڑے گا میں نے دور آب ممنوع والے میز کے گرد کھڑے کُچھ ادب پسند دوستوں کو دیکھ کر قاضی صاحب سے کہا کہ چلیں اُدھر چلتے ہیں، اُدہر پہنچ کہ عرض کی قاضی صاحب حُکم کریں کونا سا جوس لاؤں۔ اب وہ آتش فشاں پھٹ پڑا "اَبّے کیا بانولے کُتے نے کاٹ لیا ہے تُجھے؟ اُس نُظفہء ناتحقیق وڈیو ساز کی حرمزدگیوں سے دماغ کی زمین جو بنجر ہوا چاہتی ہے اُس پہ کیا سنگترے کا رس ڈالوں گا ۔۔۔ ارے میاں سِنگل مالٹ سکاچ کا ایک گلاس برف کے ساتھ لاؤ، اور کسی قسم کی ملاوٹ نہ کرنا اس میں، شراب ہے دودھ نہیں کہ پانی ڈالیں۔
"
میں بھاگا گیا اور گِلن فیڈیش کا ایک پیگ لے آیا، گلاس کو ایک ہی گھونٹ میں اپنے معدے کے تَنّور کے ذریعے دماغ کی بنجر سرزمین پر برسا چُکے تو اپنی اُنگشتِ شہادت کو میرے بے رنگ چہرے کی طرف ایک قوس میں حرکت دیتے ہوئے اُس فرضی شخص، جو کہ ان کے خاندان کی کسی شادی کی تقریب میں وڈیو سازی کا انتظام کرے گا، کے شجرہِ نسب کے اُن پتوں پر جن پر صنف نازک سے متعلقہ شخصیات کے نام کنداں ہیں پر اپنے تُخم کے بیجوں کا چھڑکاؤ کرنے کی بشارت دی۔ اس کے بعد آپ کے دہن مُبارک سے جو مُغلظات برآمد ہوئے وہ اگر لکھے جائیں تو شاید کاغذ ہی قے کردے اور
حروف والی جگہوں سے کاغذ جل کر خاکستر ہوجائے۔

ایک دفعہ میں پوچھ بیٹھا کہ آپ کا مذہب کیا ہے؟ فوراً بولے

“میں سُنی العقیدہ شیعہ ہوں
"
میں نے حیرت سے کہا یہ تو وہ ٹھنڈے یخ اُبلتے پانی جیسی ناممکنات والی بات ہوگئی ناں تو بولے "ماشاءاللہ آپ ایک پڑہے لکھے سمجیدہ انسان ہیں اور سائنس و ریاضی کا بھی ادراک رکھتے ہیں، آپ کے خیال میں اگر کسی طور میں سطح مریخ پر ایک ٹھنڈے یخ پانی کا کٹورا رکھوں تو بھلا اُس پہ کیا گُزرے گی۔"
پہلی بار قاضی صاحب کے مُنہہ سے اپنی تعریف سُن کہ میں جلدی سے بولا

کیونکہ میں اُن گنتی کے چند انسانوں میں ہوں جن کو مریخ
کی سیر کا ہنوز شرف نہ ہوسکا بس اپنی قوتِ قیاس سے یہ ہی کہوں گا کہ دبیز آب و ہوا کی کمی اور نسبتاً کم تجاذبی قوت کے سبب پانی اُبلے گا اور خلا بُرد ہو جائے گا۔ تو بولے "دیکھا کیسے ٹھنڈے یخ پانی کا اُبلنا عین ممکنات میں سے ہے، ایسے ہی صاحبزادے اس کائنات میں ہر چیز ممکن ہے ہم بس بصیرت کھوتے جا رہے ہیں، صد افسوس۔"۔ میں قاضی صاحب کے اس عرفانِ جدید علوم سے حیران ہوگیا اور اب مذید بحث کیا کرتا اسلئیے پوچھا کہ اچھا یہ بتائیں کہ سُنی العقیدہ شیعہ کیا ہوتا ہے۔ تو فرمایا کہ "گھر پر غازی عباس کا علم لگاتا ہوں، ماتم کرتا ہوں، ہر سال خُمس کی رقم آیت اللہ سستانی کو بھجواتا ہوں لیکن نماز ہاتھ باندھ کہ پڑتا ہوں۔ اس لیئے سُنی العقیدہ شیعہ ہوں"۔ اب ذہن میں کسی مذید لایعنیت کو برداشت کرنے کی ہمت نہ تھی اسلئے یہ نہ پوچھ سکا کہ آپ ہاتھ باندھ کہ ہی نماز کیوں پڑہتے ہیں اور یہ فعل بھی آپ ہاتھ کھول کر انجام کیوں نہیں دیتے۔

قاضی صاحب کی شخصیت کی ہزاروں جہتیں ہیں اور میری نوکِ قلم میں وہ معجزہء تیشہ گری کہاں کہ میں کوہ ابجد کو حرف حرف تراش کے الفاظ کا وہ آئینہ بنا پاؤں کہ جس سے آپ کی شخصیت مُنعکس ہو سکے اسلیئے معترف جہالت ہوں اور قلم توڑنے سے پہلے حضرت کی داستان گوئی کی ایک مِثال لکھ کر بس زحمت تمام کرتا ہوں۔

فرماتے ہیں کہ حضرت دادا جان صاحب طریقت و بُزرگ ولایت تھے ایک دفعہ سفر آن پڑا اور قافلہ کے ہمرا روانہ ہوئے کئی روز کی مُسافت کے بعد ایک جگہ پڑاؤ کیا اس مُقام پر حضرت دادا جان کا بُلاوا آگیا اور آپ اس جہان رنگ و بوُ کو چھوڑ مقیم وادیء اجل ہوئے، اب صاحب کیا تھا کہ ایک قضیہ آن پڑا کہ حضرت دادا جان کا جنازہ کون پڑھائے وہاں موجود قافلیوں کا کہنا تھا کہ بھئی کوئی مرحوم کے علم و تقویٰ کا ہم پلہ ہو تو جنازہ کی نماز پڑہائے قریب تھا کہ حضرت دادا جان کو بغیر نماز جنازہ کے ہی خاک بُرد کردیا جائے کہ ایک سمت سے غُبار اُٹھا جب کچھ دکھنے لگا تو دیکھا کہ بطاقت معجزہ حضرت دادا جان خود غائب سے حاضر ہوئے بعد ازاں اپنے دفن و کفن کا انتظام کیا، ایک قافلی کو اپنی وصیت لکھوائی اور خود ہی اپنی نماز جنازہ پڑھوائی جب لوگوں نے سلام پھیرا تو دادا جان غائب ہوچُکے تھے
------------------------------------------------------------------------
حواشی
یاد رہے کہ ساقی فاروقی صاحب اپنی کتاب پاپ بیتی میں، مرد کی جمع مردود پہلے بتا چُکے ہیں


راقم الحروف
جرار جعفری (عفی عنہہ
14
صفر المُظفر 1432 ھ
بمُطابق 17 جنوری 2011 ع
ڈینور کولوراڈو
 

سویدا

محفلین
واہ بہت خوب
اللہ آپ کا زور قلم اور بھی زیادہ کرے
اچھی کوشش ہے ماشاء اللہ
 
Top