قائداعظم اور 11 اگست 1947ءکی تاریخی تقریر ۔ حقائق کیا کہتے ہیں؟ از عقیل عباس جعفری

فاتح نے 'خطبات و مکتوبات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 11, 2012

  1. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    قائداعظم اور 11 اگست 1947ءکی تاریخی تقریر حقائق کیا کہتے ہیں؟؟؟
    تحریر:عقیل عباس جعفری

    قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی سیاسی اور پارلیمانی زندگی میں بلاشبہ سینکڑوں تقاریر کی ہوں گی مگر جو شہرت ان کی اس تقریر کو ملی جو انہوں نے 11 اگست 1947ءکو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں کی تھی ویسی شہرت ان کی کسی اور تقریر کو نہ ملی۔

    قائداعظم کی یہ تقریر ان کی خطابت کا شاہکار تو تھی ہی مگر اس کی اہمیت اس امر سے دوچند ہوگئی کہ کس طرح پاکستان

    میں قیام پاکستان سے پہلے ہی سربراہ مملکت کی تقریر کو سنسر کرنے اور اس کے بعض حصوں کو اشاعت سے رکوانے کی کوشش شروع ہوگئی تھی۔ قائداعظم نے اپنی اس تقریر میں منجملہ دیگر باتوں کے ملک کے اقلیتی عوام کو تحفظ دینے کا وعدہ

    کیا تھا اور مورخین کے مطابق ملک کے بعض حلقوں کو ان کا یہی وعدہ گراں گزرا تھا۔

    قیام پاکستان کے اعلان کے بعد قائداعظم 7 اگست 1947ءکو کراچی تشریف لائے تھے جسے ایک ہفتے بعد دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کا پایہ تخت بننا تھا۔ 10 اگست 1947ءکو کراچی میں دستور ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوا جس میں لیاقت علی خان کی تجویز اور خواجہ ناظم الدین کی تائید پر اسمبلی کے غیر مسلم رکن جوگندر ناتھ منڈل کو عارضی صدر منتخب کرلیا گیا اوران کی تقریر کے بعداراکین اسمبلی نے اپنی اسناد رکنیت پیش کرکے اسمبلی کے رجسٹر پر دستخط کیے۔

    اگلے روز دستور ساز اسمبلی کا اجلاس دوبارہ منعقد ہوا جس کی صدارت جوگندر ناتھ منڈل نے کی۔ انہوں نے اسمبلی کو بتایا کہ قائد ایوان کے انتخاب کے لیے سات ارکان میں قائداعظم محمد علی جناح کو نامزد کیا ہے اور اتنے ہی ارکان نے ان کی نامزدگی کی تائید کی ہے۔ منڈل نے مزید بتایا کہ تمام کاغذات نامزدگی درست ہیں اور چونکہ کوئی اور امیدوار نہیں ہے اس لیے میں اعلان کرتا ہوں کہ قائداعظم محمد علی جناح متفقہ طور پر دستور ساز اسمبلی کے صدر منتخب قرار دیئے جاتے ہیں۔ قائداعظم کے قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد لیاقت علی خان ، کرن شنکر رائے ، ایوب کھوڑو، جوگندر ناتھ منڈل اور ابوالقاسم نے تہنیتی تقاریر کیں۔ اس کے ساتھ ہی ریاست ہائے متحدہ امریکا اور آسٹریلیا سے آئے ہوئے تہنیتی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔

    اب اس اجلاس سے قائداعظم کے تاریخی خطاب کا آغاز ہوا۔اب وہ ملک کے نامزد سربراہ بھی تھے ، آل انڈیا مسلم لیگ کے

    منتخب صدر بھی تھے اور بابائے قوم بھی۔ اس اجلاس سے انہوں نے جو خطاب کیا وہ ہر لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل تھا۔

    قائداعظم کے سوانح نگار ہیکٹر بولائتھو نے اپنی کتاب Jinnah:Creator of Pakistan میں تحریر کیا ہے کہ
    ”قائداعظم کا وہ خطبہ جو انہوں نے 11 اگست 1947ءکو مجلس آئین ساز کے صدر کی حیثیت سے پڑھا۔ اس کی تیاری پر انہوں نے کئی گھنٹے صرف کیے تھے۔ اس خطبے کے ذریعے انہوں نے یہ اعلان کیا کہ پاکستان کے سب شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے اور اس معاملے میں مذہب و ملت کا کوئی امتیاز روانہ رکھا جائے گا۔“

    ہیکٹر بولائتھو آگے چل کر لکھتے ہیں:

    ”قائداعظم نے یہ تقریر انگریزی زبان میں کی تھی، جس سے پاکستان کی آبادی کی غالب اکثریت نا آشنا تھی، تاہم یہ تقریر ان کی رواداری اور وسعت نظر کی بین دلیل ہے۔ چار دن پہلے جب محمد علی جناح فاتحانہ شان سے کراچی کی سڑکوں پر سے گزرے تھے تو انہوں نے شہر کے ہندوﺅں کو خاموش اور متفکر پایا تھا۔ آئین ساز اسمبلی کا خطبہ افتتاحیہ لکھتے وقت غالباً یہی ہندو قائداعظم کی چشم تصور کے سامنے ہوں گے۔“

    قائداعظم نے اپنی تقریر میں کہا:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    "جناب صدر، خواتین و حضرات۔۔۔!

    آپ نے مجھے اپنا پہلا صدر منتخب کرکے جس اعزاز سے نوازا ہے اس کے لیے میں تہہ دل سے اور پورے خلوص کے ساتھ آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ وہ عظیم اعزاز ہے جس سے یہ خود مختار مجلس کسی کو نواز سکتی ہے۔ میں ان رہنماﺅں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنی تقریروں میں میری خدمات کو سراہا اور میرے بارے میں ذاتی حوالے دیئے۔ مجھے امید واثق ہے کہ آپ کی حمایت اور آپ کے تعاون سے ہم اس مجلس کو دنیا کے لیے ایک مثال بنادیں گے۔ مجلس دستور ساز کو دو بڑے فریضے سر انجام دینے ہیں۔ پہلا فریضہ تو بہت کٹھن اور ذمہ داری کا کام ہے یعنی پاکستان کے لیے دستور مرتب کرنا اور دوسرا ایک کامل خود مختار اور پاکستان کے وفاقی قانون ساز ادارے کا کردار ادا کرنا۔ ہمیں اپنی بہترین مساعی اس امر کے لیے صرف کرنا ہوں گی کہ ہم وفاقی مجلس قانون ساز پاکستان کے لیے ایک عبوری آئین تیار کریں۔ آپ جانتے ہیں کہ جس بے مثل طوفانی انقلاب کے ذریعہ اس برصغیر میں دو آزاد اور خود مختار مملکتیں معرض وجود میں آئیں۔ اس پر نہ صرف یہ کہ ہم حیرت زدہ ہیں بلکہ ساری دنیا متحیر ہے۔ فی الواقع یہ صورت حال بے مثال ہے اور تاریخ عالم میں بھی اس کی کوئی نظیر نہیں تھی۔ یہ عظیم برصغیر کہ جس میں ہر قسم کے لوگ آباد ہیں ایک ایسے منصوبے کے تحت لایا گیا ہے کہ جو انتہائی نایاب و بے مثال ہے اور اس ضمن میں جو بات سب سے زیادہ اہم ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ پر امن طریقے سے اور عظیم تر تدریجی ارتقا سے حاصل کیا ہے۔

    اس مجلس کے پہلے فریضہ کے بارے میں اس وقت کسی سوچی سمجھی بات کا تو اعلان نہیں کرسکتا لیکن ایک دو چیزیں جو میرے ذہن میں آئیں گی آپ کے سامنے پیش کردوں گا۔ پہلی اور سب سے زیادہ اہم بات جو میں زور دے کر کہوں گا وہ یہ ہے، یاد رکھیے کہ آپ خود مختار قانون ساز ادارہ ہیں اور آپ کو جملہ اختیارات حاصل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یعنی آپ فیصلے کس طرح کرتے ہیں؟ پہلی بات جو میں کہنا چاہوں گا وہ یہ ہے اور بلاشبہ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ ایک حکومت کا پہلا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھے تاکہ مملکت اپنے عوام کی جان ومال اور ان کے مذہبی عقائد کو مکمل طور پر تحفظ دے سکے۔

    دوسری بات جو اس وقت میرے ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت ہندوستان جس بڑی لعنت میں مبتلا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ دنیا کے دوسرے ممالک اس سے پاک ہیں، لیکن میں یہ کہوں گا کہ ہماری حالت بہت ہی خراب ہے، وہ رشوت ستانی اور بدعنوانی ہے۔ دراصل یہ ایک زہر ہے۔ ہمیں نہایت سختی سے اس کا قلع قمع کردینا چاہیے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس سلسلہ میں مناسب اقدامات کریں گے جتنی جلد اس اسمبلی کے لیے ایسا کرنا ممکن ہو۔

    چور بازاری دوسری لعنت ہے۔ مجھے علم ہے کہ چور بازاری کرنے والے اکثر پکڑے جاتے ہیں اور سزا بھی پاتے ہیں۔ عدالتیں ان کے لیے قید کی سزائیں تجویز کرتی ہیں یا بعض اوقات ان پر صرف جرمانے ہی کیے جاتے ہیں۔ اب آپ کو اس لعنت کا بھی خاتمہ کرنا ہوگا۔ موجودہ تکلیف دہ حالات میں جب ہمیں مسلسل خوراک کی قلت یا دیگر ضروری اشیائے صرف کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چور بازاری معاشرہ کے خلاف ایک بہت بڑا جرم ہے۔ جب کوئی شہری چور بازاری کرتا ہے تو میرے خیال میں وہ بڑے سے بڑے جرم سے بھی زیادہ گھناﺅنے جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ چور بازاری کرنے والے لوگ باخبر، ذہین اور عام طور سے ذمہ دار لوگ ہوتے ہیں اور جب یہ چور بازاری کرتے ہیں تو میرے خےال میں انہیں بہت کڑی سزا ملنی چاہیے کیونکہ یہ لوگ خوراک اور دیگر ضروری اشیائے صرف کی باقاعدہ تقسیم کے نظام کو تہہ و بالا کردیتے ہیں اور اس طرح فاقہ کشی، احتیاج اور موت تک کا باعث بن جاتے ہیں۔ بات جو فوری طور پر میرے سامنے آتی ہے وہ ہے اقربا پروری اور احباب نوازی، یہ بھی ہمیں ورثے میں ملی، اور بہت سی اچھی بری چیزوں کے ساتھ یہ لعنت بھی ہمارے حصہ میں آئی۔ اس برائی کو بھی سختی سے کچل دینا ہوگا۔ یہ واضح کردوں کہ میں نہ احباب پروری اور اقربا نوازی کو برداشت کروں گا اور نہ ہی کسی اثر و رسوخ کو جو مجھ پر بالواسطہ، یا بلاواسطہ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی قبول کروں گا۔ جہاں کہیں مجھے معلوم ہوا کہ یہ طریقہ کار رائج ہے خواہ یہ اعلیٰ سطح پر ہو یا ادنیٰ سطح پر یقینی طور پر میں اس کو گوارا نہیں کروں گا۔

    مجھے علم ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں ہند کی تقسیم اور پنجاب اور بنگال کے بٹوارے سے اتفاق نہیں۔ تقسیم کے خلاف بہت کچھ کہا جاچکا ہے لیکن اب جبکہ اسے تسلیم کیا جاچکا ہے ہم سب کا فرض ہے کہ ہم سب اس کی پابندی کریں۔ عزت مندانہ طریقے سے اس پر عملدرآمد کریں کیوں کہ سمجھوتے کے مطابق اب یہ تقسیم قطعی ہے اور اس کا سب پر اطلاق ہوگا۔ لیکن آپ کو یہ یاد رکھنا چاہیے اور جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کہ یہ جو زبردست انقلاب رونما ہوا ہے اس کی کوئی اور نظیر نہیں ملتی۔ جہاں کہیں بھی ایک فرقہ اکثریت میں ہے اور دوسرا اقلیت میں ان دونوں کے مابین جذبات اور محسوسات میں افہام و تفہیم موجود ہوتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جو کچھ کیا گیا اس کے علاوہ کوئی اور اقدام ممکن اور قابل عمل تھا؟ تقسیم عمل میں آچکی ہے۔ سرحد کے دونوں جانب ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی ایسے لوگ ہوسکتے ہیں جو اس سے اتفاق نہ کریں اور اسے پسند نہ کریں لیکن میری رائے میں اس مسئلہ کا اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں تھا اور مجھے یقین ہے کہ تاریخ اس کے حق میں فیصلہ صادر کرے گی۔ مزید برآں جوں جوں وقت گزرتا جائے گا تجربے سے یہ بات ثابت ہوتی جائے گی کہ ہند کے دستوری مسئلہ کا صرف یہی واحد حل تھا۔ متحدہ ہند کا تخیل قابل عمل نہیں تھا اور میری رائے میں یہ ہمیں خوفناک تباہی کے دھانے پر لے جاتا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ رائے درست ہو اور یہ بھی کہ درست نہ ہو لیکن اس کا فیصلہ بھی وقت ہی کرے گا۔ بایں ہمہ اس تقسیم میں کسی ایک مملکت میں یا دوسری مملکت میں اقلیتوں کا وجود ناگزیر تھا۔ اس سے مفر نہیں تھا۔ اس کا بھی کوئی اور حل نہیں تھا۔ اب ہمیں کیا کرنا ہے؟ اگر ہم مملکت پاکستان کو خوش و خرم اور خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی تمام تر توجہ لوگوں کی فلاح و بہبود پر مرکوز کر دینی چاہیے بالخصوص عامتہ الناس کی اور غریبوں کی جانب اگر آپ ماضی اور باہمی تنازعات کو نظر انداز کرتے ہوئے باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں گے تو کامیابی یقینا آپ کے قدم چومے گی۔ اگر آپ اپنا رویہ تبدیل کرلیں اور مل جل کر اس جذبہ سے کام کریں کہ آپ میں سے ہر شخض خواہ وہ اس ملک کا پہلا شہری ہے یا دوسرا یا آخری سب کے حقوق و مراعات اور فرائض مساوی ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ کس کا کس فرقہ سے تعلق ہے اور ماضی میں اس کے آپ کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات تھے اور اس کا رنگ و نسل یا عقیدہ کیا ہے تو آپ جس قدر ترقی کریں گے اس کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔

    میں اس بات پر بہت زیادہ زور نہیں دے سکتا۔ ہمیں اس جذبہ کے ساتھ کام شروع کر دینا چاہیے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ اکثریت اور اقلیت، ہندو فرقہ اور مسلمان فرقہ کے یہ چند در چند زاویے معدوم ہوجائیں گے۔ کیوں کہ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ان میں بھی تو پٹھان، پنجابی، شیعہ اور سنی وغیرہ وغیرہ موجود ہیں اس طرح ہندوﺅں میں بھی برہمن، ویش، کھتری ہیں اور بنگالی اور مدراسی ہیں۔ سچ پوچھیں تو یہی چیزیں ہندوستان کی آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھیں اگر یہ سب کچھ نہ ہوتا تو ہم کب کے آزاد ہوگئے ہوتے۔ کوئی طاقت دوسری قوم کو اپنا غلام نہیں بناسکتی بالخصوص اس قوم کو جو چالیس کروڑ انسانوں پر مشتمل ہو، اگر یہ کمزوری نہ ہوتی کوئی اس کو زیر نہیں کرسکتا تھا اور اگر ایسا ہو بھی جاتا تو کوئی آپ پر طویل عرصہ تک حکمرانی نہیں کرسکتا تھا۔ لہٰذا ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اب آپ آزاد ہیں۔ اس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں: اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو کاروبار مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ جیسا کہ آپ کو تاریخ کے حوالے سے یہ علم ہوگا کہ انگلستان میں کچھ عرصہ قبل حالات اس سے بھی زیادہ ابتر تھے جیسے کہ آج ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ نے ایک دوسرے پر ظلم ڈھائے۔ آج بھی ایسے ممالک موجود ہیں جہاں ایک مخصوص فرقے سے امتیاز برتا جاتا ہے اور ان پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم نے ایسے حالات میں سفر کا آغاز نہیں کیا ہے۔ ہم اس زمانے میں یہ ابتدا کررہے ہیں جب اس طرح کی تفریق روا نہیں رکھی جاتی۔ دو فرقوں کے مابین کوئی امتیاز نہیں۔ مختلف ذاتوں اور عقائد میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔ ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ ابتدا کررہے ہیں کہ ہم سب شہری ہیں اور ایک مملکت کے یکساں شہری ہیں۔ انگلستان کے باشندوں کو وقت کے ساتھ ساتھ آنے والے حقائق کا احساس کرنا پڑا اور ان ذمہ داریوں اور اس بارگراں سے سبکدوش ہونا پڑا جو ان کی حکومت نے ان پر ڈال دیا تھا اور وہ آگ کے اس مرحلے سے بتدریج گزر گئے۔ آپ بجاطور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اب وہاں رومن کیتھولک ہیں نہ پروٹسٹنٹ اب جو چیز موجود ہے وہ یہ کہ ہر فرد ایک شہری ہے اور سب برطانیہ عظمیٰ کے یکساں شہری ہیں۔ سب کے سب ایک ہی مملکت کے شہری ہیں۔

    میں سمجھتا ہوں کہ اب ہمیں اس بات کو ایک نصب العین کے طور پر اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ جیسے جیسے زمانہ گزرتا جائے گا نہ ہندو، ہندو رہے گا نہ مسلمان، مسلمان، مذہبی اعتبار سے نہیں، کیونکہ یہ ذاتی عقائد کا معاملہ ہے، بلکہ سیاسی اعتبار سے اور مملکت کے شہری کی حیثیت سے۔ پس حضرات میں آپ کا مزید وقت لینا نہیں چاہتا اور ایک بار پھر اس اعزاز کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس سے آپ نے مجھے نوازا۔ میں ہمیشہ عدل اور انصاف کو مشعل راہ بناﺅں گا اور جیسا کہ سیاسی زبان میں کہا جاتا ہے تعصب یا بدنیتی دوسرے لفظوں میں جانبداری اور اقربا پروری کو راہ نہ پانے دوں گا۔ عدل اور مکمل غیر جانبداری میرے رہنما اصول ہوں گے اور میں یقینا آپ کی حمایت اور تعاون سے دنیا کی عظیم قوموں کی صف میں پاکستان کو دیکھنے کی امید کرسکتا ہوں۔

    میں جناب والا کو مجلس دستور ساز پاکستان کے صدر کی حیثیت سے ایک پیغام پہنچانے کی سعادت حاصل کررہا ہوں۔ مجھے یہ پیغام ابھی ابھی وزیر خارجہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کی جانب سے موصول ہوا ہے:

    ”مجلس دستور ساز پاکستان کے پہلے اجلاس کے موقع پر میں آپ کی اور مجلس کے اراکین کی خدمت میں ریاست ہائے متحدہ امریکا کی حکومت اور اس کے عوام کی جانب سے کار عظیم کی کامیابی کے ساتھ تکمیل کے لیے نیک تمناﺅں کا اظہار کرتا ہوں جس کا آپ آغاز کرنے والے ہیں“۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قائداعظم کی یہ تقریر ان کی تقاریر کے سبھی مجموعوں میں موجود ہے جن میں سرکاری طور پر شائع کردہ مجموعے
    Quaid e Azam Mohammad Ali Jinnah:Speeches and Statements (1947-48)
    اور جناح پیپرز کے نام سرفہرست ہیں۔ تقاریر کے ان دونوں مجموعوں کے تراجم بھی شائع ہوچکے ہیں اور تراجم کے ان مجموعوں میں بھی قائد کی یہ تقریر موجود ہے۔ اس مضمون کے ساتھ قائد کی اس تقریر کا جو ترجمہ پیش کیا گیا ہے وہ اول الذکر کتاب سے حاصل کیا گیا ہے۔

    قائد یہ تقریر کرکے ہٹے ہی تھے کہ ان کی اس تقریر کے بعض حصوں کو عوام کی نظر سے اوجھل رکھنے کی کوششیں شروع ہوگئیں جس کا ذکرقائداعظم کی وفات کے بعد شائع ہونے والی کئی کتابوں میں موجود ہے۔ مگر ان کوششوں کو جس طرح ناکام بنایا گیا اس کا سب سے مفصل احوال ضمیر نیازی کی کتاب
    "The Press in Chains"
    میں ملتا ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ اجمل کمال نے ”صحافت پابند سلاسل“ کے نام سے کیا ہے اور یہ ترجمہ بآسانی دستیاب ہے۔

    ضمیر نیازی لکھتے ہیں:
    ”یہ تاریخی تقریر کرکے جناح گورنمنٹ ہاﺅس روانہ ہوگئے، لیکن جلد ہی کچھ خفیہ ہاتھ حرکت میں آگئے اور انہوں نے جناح کی تقریر کے مندرجہ بالا حصے میں تحریف کی کوششیں شروع کردیں۔ ضمیر نیازی کے مطابق اس تقریر میں تحریف کیے جانے کا ذکر سب سے پہلے حامد جلال نے اپنے ایک مضمون ۔۔
    "When They Tried to Censor Quaid"
    میں کیا جو ہفتہ وار ویو پوائنٹ لاہور کی 22 جنوری 1981ءکی اشاعت میں شامل ہوا۔

    حامد جلال کے مطابق:
    ”قائد کی یہ تقریر اس سرگرمی کا ہدف بن گئی جسے پریس ایڈوائس کے سلسلے کی پہلی کڑی کہا جاسکتا ہے جو پاکستان کی دائمی انتظامیہ کی جانب سے جاری کی جاتی رہی ہیں.... بہرکیف، اس وقت تک یہ انتظامیہ محض ایک پرچھائیں کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس کے کئی سرکردہ ارکان نے تقریر کے بعض (محولہ بالا) حصوں کو اخباروں میں شائع ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ اس کام میں انہیںان لوگوں کی مدد حاصل ہوئی جو اس کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرسکتے تھے۔ لیکن ان سب کی بدقسمتی سے ان کی یہ کوشش الطاف حسین، ایڈیٹر ”ڈان“ کے علم میں آگئی.... انہوں نے دھمکی دی کہ اگر اس پریس ایڈوائس کو واپس نہ لیا گیا تو وہ قائد کے پاس چلے جائیں گے۔ آخر کار الطاف حسین کامیاب ہوئے اور قائد کی تقریر اس تحریف کی بغیر اخباروں میں شائع ہوئی جس کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس بات کا انکشاف الطاف حسین نے اسمبلی میں پریس گیلری میں اخبار نویسوں کے ایک گروپ کے سامنے کیا تھا۔ اس گروپ میں سے ”گزٹ“ کے منظور الحق اور ”ڈان“ کے محمد عاشر اب زندہ نہیں ہیں۔ لیکن ضمیر صدیقی ابھی حیات ہیں اور انہوں نے تصدیق کی ہے کہ ایسا ہی ہوا تھا۔“

    حامد جلال کا مضمون پڑھنے کے بعد جناب ضمیر نیازی نے اس معاملے کی مزید تحقیق کی۔ ضمیر صدیقی (وفات: 23نومبر1985) نے انہیں مندرجہ ذیل تحریری بیان دیا:
    ”قائد کی اس دن (11 اگست) کی مشہور تقریر انتظامیہ کے بعض اعلیٰ عہدے داروں کو پسند نہ آئی۔ انہوں نے چاہا کہ تقریر کا ایک حصہ اخبارات میں شائع نہ ہو، کیوں کہ ان کے خیال میں اس سے دو قومی نظریے کی نفی ہوتی تھی جو پاکستان کے قیام کی بنیاد تھا۔ یہ الطاف حسین مرحوم تھے جنہوں نے ان سے اتفاق نہیں کیا اور اصرار کیا کہ تقریر کو کسی تحریف کے بغیر جوں کا توں شائع ہونا چاہیے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ وہ قائد سے جاکر استفسار کریں گے کہ اس حصے کو چھپنا چاہیے یا نہیں۔ اس طرح تقریر کو اصل صورت میں اخبارات کے حوالے کیا گیا۔“

    ضمیر صدیقی کے تحریری بیان کے بعد ضمیر نیازی نے الطاف حسین کے قریبی ساتھی اور اس وقت ”ڈان“ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر ایم اے زبیری سے رابطہ کیا۔ ایم اے زبیری نے ضمیر نیازی کو اس واقعے کی مزید تفصیلات ایک خط میں بیان کی۔ ان کا کہنا تھا کہ:
    ”میں 22 جنوری 1981ءکے ”ویو پوائنٹ“ میں حامد جلال کا مضمون پڑھ چکا ہوں، جس کی طرف آپ نے میری توجہ دلائی ہے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ واقعہ یوں پیش آیا تھا:

    قائد نے 11 اگست 1947ءکو ایک تقریر کی جس میں رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا تھا:”آپ آزاد ہیں، آپ آزاد ہیں....“

    اسی روز شام کے وقت ایک فون آیا اور ہدایت کی گئی کہ تقریر کا یہ مخصوص حصہ شائع نہ کیا جائے۔ ایف ای براﺅن نے، جو اس وقت ایڈیشن انچارج تھے، یہ فون کال وصول کی۔ الطاف حسین، ایم عاشر اور میں، ہم لوگ بھی اس وقت دفتر میں موجود تھے۔ تقریر کا متن الطاف حسین کے سامنے رکھا تھا، جس کی طرف براﺅن نے ان کی توجہ مبذول کرائی۔

    الطاف حسین یہ جاننا چاہتے تھی کہ کون شخص یہ عبارت حذف کرانا چاہتا ہے۔ کیا یہ قائد کی ہدایات ہیں، یا یہ خیال کسی اور شخص کے ذہن کی پیداوار ہے۔ اطلاع کے مطابق فون پر یہ ہدایت مجید ملک نے پہنچائی تھی جو اس وقت پرنسپل پی آر او تھے۔

    تب مجھے مجید ملک کو تلاش کرنے کی ذمے داری سونپی گئی۔ آخر کار میں نے انہیں ڈھونڈ نکالا اور الطاف حسین کا پیغام پہنچایا۔ ملک صاحب نے چودھری محمد علی کو فون کیا، جو اس وقت کیبنٹ ڈویژن کے سیکریٹری جنرل تھے، اور انہیں وہ بات من و عن بتادی جو میں نے کہی تھی۔ ان سے گفتگو پوری کرنے کے بعد ملک نے مجھ سے کہاکہ: ”یہ کوئی ایڈوائس نہیں بلکہ صرف ایک رائے ہے۔ قائد کی تقریر کو سنسر کرنے کا کوئی سوال نہیں.... یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“.... اور کہا: ”ایسا فیصلہ کون شخص کرسکتا ہے“۔

    جب میں دفتر واپس آیا اور یہ سب کچھ الطاف حسین کو بتایا تو یقین کیجیے کہ وہ میز پر ہاتھ مار مار کر ہنسنے لگے۔“

    ایم اے زبیری کی تجویز پر ضمیر نیازی صاحب نے ایف ڈی ڈگلس سے رابطہ کیا۔ جب ان کی توجہ حامد جلال کے مضمون اور زبیری کے خط کی طرف دلائی گئی تو انہوں نے کہا: ”میں فوری طور پر آپ کو کچھ نہیں بتا سکتا۔ مجھے کچھ وقت دیجیے۔ میں اپنے ذہن پر زور ڈال کر یاد کرنے کی کوشش کروں گا۔ لیکن میں آپ کو ایک بات بتا سکتا ہوں۔ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ فی الحال مجھ سے اور کچھ مت پوچھیے۔ چند ہفتوں بعد مجھے فون کیجیے۔ میں کوئی وعدہ نہیں کرتا۔ ممکن ہے آپ کی مدد کرسکوں، ممکن ہے نہ کرسکوں“۔ ان کو فون کرنے اور کئی بار ان کے مکان پر جاکر ملنے کی کوششیں رائیگاں گئیں۔ چند مہینوں بعد وہ اچانک چل بسے، لیکن ان کی بات کہ ”یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے“، اس کی تصدیق اس تاریخی تقریر کے بعد پیش آنے والے واقعات سے ہوسکتی ہے۔ جسٹس محمد منیر اور جسٹس ایم آر کیانی کو، 1953ءکے قادیانی مخالف فسادات کی تحقیقات کے دوران، اسی تقریر کے سلسلے میں ظلمت پرستوں کے طیش کا ہدف بننا پڑا۔ مارچ 1976ءمیں لاہور میں منعقد ہونے والی تیسری سالانہ پاکستان کانفرنس برائے تاریخ و تہذیب کے موقعے پر جسٹس منیر نے کہا:

    ”اس تقریر سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ قائد یہ باتیں مکمل یقین کے ساتھ اور سچے دل سے کہہ رہے تھے۔ اس تاریخی بیان کو دبانے کا رجحان موجود رہا ہے، اور اس کے سات سال بعد بھی میرے سامنے اسے کسی شیطانی خیال کا شاخسانہ قرار دیا گیا“۔

    زیڈ اے بھٹو کے مطابق ”(جنرل یحییٰ خان کے) وزیر اطلاعات جنرل شیر علی کی ہدایات پر اس تقریر کو جلا دینے یا ریکارڈ سے غائب کردینے کی کوششیں کی گئیں“۔ (سپریم کورٹ میں: چیئرمین بھٹو کا جواب)

    یہ اقتباس مختلف استناد رکھنے والی کئی حکومتوں کے ذہن کا آسیب رہ چکا ہے۔ 1981ءتک میں، جب پری سنسر شپ کا ضابطہ نافذ تھا، یہ تقریر سنسر کی نیلی پنسل کا نشانہ بنی۔ ”دی مسلم“، اسلام آباد نے ”ایڈیٹر کے نام خطوط“ کے کالم میں ”قائد کی زباں بندی“ کے عنوان سے خان عبدالولی خاں کا ایک خط شائع کیا۔ انہوں نے لکھا تھا:

    ”۔۔۔۔حوالے کے لیے اپنے 25 دسمبر کے شمارے میں پروفیسر خواجہ مسعود کا مضمون بعنوان
    Jinnah the Muzzini of Muslim Liberation
    ملاحظہ کیجیے جو قائد کی سالگرہ کے خصوصی ضمیمے کا پہلا مضمون ہے۔ مہربانی سے اس مضمون کے آخری سے پہلے پیراگراف کو غور سے پڑھیے۔ آپ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے (اگرچہ مجھے اس پر حیرت نہیں ہوئی) کہ پہلی نمائندہ اسمبلی کے اجلاس سے قائد کے خطاب کو سنسر کردیا گیا ہے.... (یہاں خالی جگہ چھوڑ دی گئی ہے) یہ ایک لکھی ہوئی تقریر تھی جس میں انہوں نے، بقول خود، اصول اور آدرش بیان کیے تھے: ”میں سمجھتا ہوں کہ اب ہمیں اپنا آدرش اپنے سامنے رکھنا چاہیے.... (آگے وہ عبارت ہے جو حذف کردی گئی) اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ دیکھیں گے کہ ہندو ہندو نہیں رہیں گے، مسلمان مسلمان نہیں رہیں گے، مذہبی اعتبار سے نہیں کیوں کہ وہ فرد کے ذاتی ایمان کا معاملہ ہے، بلکہ سیاسی اعتبار سے، ایک ریاست کے شہریوں کی حیثیت سے“۔ (بحوالہ ”تحریک پاکستان کی تاریخ دستاویزات“، ”از جی الانہ، صفحہ 546)۔ اب اسی تاریخ کا اپنا اداریہ.... ”ہم نے اس سے غداری کی“ ملاحظہ کیجیے۔ میں صرف یہ پوچھتا ہوں: کیا قوم کو بابائے قوم کی نصیحت اور رہنمائی سے مستفید ہونے کی اجازت نہیں ہے؟ اور اس شخص کے بارے میں کون فیصلہ صادر کرسکتا ہے جو بانی پاکستان کہلائے جانے کا حق رکھتا ہے؟ “ عبدالولی خاں، ولی باغ، پشاور۔

    ضمیر نیازی لکھتے ہیں کہ:
    ”لیاقت علی خاں کے قاتلوں کی طرح قائد کی زباں بندی کی سازش کا ارتکاب کرنے والے لوگ بھی اب تک پردۂ راز میں ہیں۔

    ہم نہیں جانتے کہ الطاف حسین نے، جو اکثر گورنر جنرل ہاﺅس جایا کرتے تھے، یہ واقعہ جناح سے بیان کیا یا نہیں۔ ایک بات البتہ یقین سے کہی جاسکتی ہے، اور وہ یہ کہ گورنر جنرل کی حیثیت سے اپنی مختصر زندگی میں انہوں نے صحافت اور اظہار کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے اپنے عزیز اصولوں سے کبھی روگردانی نہیں کی۔“

    آپ نے قائداعظم کی 11 اگست 1947ءکی تاریخی تقریر میں تحریف کرنے کی داستان ملاحظہ کی۔ اس تقریر کا تحریری ریکارڈ تو موجود ہے، مگر بدقسمتی سے اس کی کوئی ریکارڈنگ کہیں محفوظ نہیں۔جون 2012ءمیں ریڈیو پاکستان کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل مرتضیٰ سولنگی نے اس تقریر کی ریکارڈنگ کی تلاش میں آل انڈیا ریڈیو میں اپنے ہم منصب ایل ڈی مینڈولوی سے بھی رابطہ کیا، کیوں کہ جس وقت یہ تقریر کی گئی اس وقت ریڈیو پاکستان کا قیام عمل میں نہیں آیا تھا اور پاکستان کے موجودہ حصوں میں آل انڈیا ریڈیو ہی کی حکمرانی تھی۔جناب مرتضیٰ سولنگی کے رابطے کے چند دن بعد آل انڈیا ریڈیو نے ہی اپنے ریکارڈ میں اس تقریر کی ریکارڈنگ کی موجودی سے انکار کردیا۔ ہمارا قیاس کہتا ہے کہ چونکہ اس وقت کراچی میں کوئی ریڈیو اسٹیشن موجود ہی نہیں تھا اس لیے قائد کی یہ تاریخی تقریر شاید ریکارڈ ہی نہیں ہوئی۔ خود راقم الحروف نے بھی چند برس پہلے اس سلسلے میں پاکستان میں آوازوں کے سب سے بڑے خزانے کے مالک جناب لطف اللہ خان مرحوم سے رابطہ کیا تھا اور ان سے دریافت کیا تھا کہ کیا ان کے خزانے میں قائداعظم کی اس تقریر کی کوئی ریکارڈنگ موجود ہے مگر ان کا جواب بھی نفی میں تھا۔
    ............٭٭٭٭٭............

    قائداعظم کی اس تاریخی تقریر کے ساٹھ برس بعد 29 مارچ 2008ءکو پاکستان کے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ کے نام اپنے پہلے خطاب میں اقلیتوں کے سیاسی، سماجی، قانونی، مذہبی اور دیگر حقوق کے تحفظ کا اعلان کیا اور کہا کہ ملک میں ہر سال اقلیتوں کا ہفتہ منایا جایا کرے گا۔ اس حوالے سے 23 اکتوبر 2008ءکو حکومت پاکستان نے 11 اگست کو پاکستان کا قومی یوم اقلیت قرار دیا۔ اس تاریخ کا انتخاب قائداعظم کی مذکورہ بالا تاریخی تقریر کے حوالے سے کیا گیا جو انہوں نے 11 اگست 1947ءکو دستور ساز اسمبلی میں کی تھی اور جس میں انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا اعلان کیا تھا۔

    حکومت پاکستان کے اعلان کے مطابق نہ صرف 11 اگست 2009ءکو پاکستان میں پہلی مرتبہ قومی یوم اقلیت منایا گیا بلکہ 5 سے 11 اگست 2009ءکا پورا ہفتہ ہی اقلیتوں کے ہفتے کے نام سے موسوم کردیا گیا۔ اس حوالے سے ملک بھر میں خصوصی تقریبات بھی منعقد کی گئیں اور 11 اگست 2009ءکو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا جس پر سینٹ پیٹرک کیتھڈرل کراچی، گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور اور ہندو ٹیمپل ٹیکسلا کی تصاویر شائع کی گئی تھیں۔اس ڈاک ٹکٹ پر
    We Care For All
    کے الفاظ بھی تحریر تھے۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 10
    • زبردست زبردست × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر