فرائڈ

اظہرالحق نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 28, 2006

  1. اظہرالحق

    اظہرالحق محفلین

    مراسلے:
    638
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    فرئیڈ ، فلسفہ پڑھنے والے اس سے واقف تو ہوں گے کیا رائے ہے آپکی ؟
     
  2. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,220
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    کچھ آپ ہی بتائیں۔ سانوں تے فرائیڈ چنگا ای نہیں لگدا
     
  3. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    11,298
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    فرائیڈ کو گو نئے دور کے اکابر نفسیات دانوں میں گنا جاتا ہے مگر خوابوں کے فلسفہ پر بھی شاید فرائیڈ سے زیادہ کسی کی تحقیق نہیں ہے۔ خاصی متنازعہ شخصیت ہیں موصوف مگر دلچسپ بھی۔ ایک قول پیش خدمت ہے فرائیڈ کا

    “میں نے اکثر دیکھا ہے کہ کسی معمولی نوعیت کا فیصلہ کرتے ہوئے سب سودوزیاں کا خیال رکھنا فائدہ مند ہوتا ہے۔ اہم ترین معاملات جیسے کہ رفیق یا پیشہ ، فیصلہ آپ کے لاشعور ، آپ کے اندر سے آنا چاہئے۔ “
     
  4. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    جواب آں غزل

    یار فرائڈ بیسویں صدی میں نفیسات اور ادب دونوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہونے والی شخصیت ہے۔ ان کا لاشعور کا نظریہ ہمارے اردو ادب میں میراجی ، منٹو ، مفتی ، ن م راشد، کے ہاں ملتا ہے۔ فرائڈ نے انسان ذہن پر بحث کرتے ہوئے اُس کو کئی حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ جن میں اڈ، ایگو اور سپر ایگو شامل ہیں۔ اُن کے نزدیک انسانی ذہن ایک برف کے تودے کی طرح ہے۔ جو جتنا پانی کے باہر ہوتا ہے۔ اتنا ہی پانی کے اندر ہوتا ہے۔ اس لیے انسانی کی ظاہری سوچ اور وضع قطع سے انسانی نفسیاتی اور عادات اور نفسیاتی مسائل تک پہنچنا نا ممکن ہے۔ جس کے لیے فرائڈ نے نفسی تجزیے کے ذریعے انسانی لاشعور تک پہنچنے کی کوشش کی۔لاشعور جو کہ انسانی نفسیاتی اور اُس کے عادات اور اطوار میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہمارے لاشعور میں بہت کچھ ایسا ہے جو کہ فطری طور پر ظاہر ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن تہذیبی پابندیوں کی وجہ سے ہم ان کو اپنے اندر دبا دیتے ہیں۔ اس طرح یہ دباو مختلف صورتوں اور نفسیاتی مسائل کی صورت میں بعد میں ظاہر ہوتا ہے۔ فرائڈ کے نزدیک جنس لاشعور کا ہی ایک بہت بڑا حصہ ہے۔ جس پر تہذیبی پابندیوں کی وجہ سے مختلف مسائل جنم لے رہے ہیں۔
     
  5. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,220
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جواب آں غزل

    جنسی جذبے کو شترِ بے مہار بھی نہیں چھوڑا جاسکتا۔ اسکی تہذیب کے لیے قوانین ضروری ہیں۔
     
  6. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,038
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    فرائیڈ نے فلسفہ جنس کو واقعی بہت اہمیت دی ہے۔ ہر چیزکے پیچھے جنس کا کوئی نہ کوئی پہلو نکال لاتا ہے۔بچے کوبھی نہیں‌چھوڑتا کہتا ہے ماں‌سے الفت بھی جنسی ہوتی ہے بچے کی۔
    کر لو گل۔
     
  7. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    جواب

    فرائڈ نے جناب جنس کے حوالے سے کسی چیز کو نہیں چھوڑا وہ تو عمارتوں میں بھی انسانی جنس کی علامتیں تلاش کرتا ہے۔ مینار اور گنبد کی وہ مثال اکثر دیتا ہے۔ سگریٹ پیتے ہوئے بھی اس کے خیال میں انسان جنسی تسکین محسوس کرتا ہے۔ یہاں تک کہ رفع حاجت کے وقت بھی اس کے خیال میں انسان کو جنسی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ ان کے بہت سے نظریات کے بعد ان کے اپنے شاگردوں یونگ وغیرہ نے مسترد کردیا تھا۔ لیکن اس کے بہت سے خیالات سے اتفاق نہ رکھنے کے باوجود ہم فرائڈ کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ بلکہ جدید نفیسات کے بانی ہی فرائڈ ہیں۔ لاشعور کی گنجلک دنیا کی دریافت اس کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔
     
  8. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    سگمنڈ فرائڈ

    اس کا نام لوگوں میں نہایت متضاد ردعمل کو جنم دیتا ہے۔ کوئی اس کی تعریفوں کے پل باندھتا ہے کسی کا خیال ہے کہ اس نے جنسیت اور جنس پرستی کو فروغ دیا۔ یہ سگمنڈ فرائڈ ہے۔ 6 مئی کو اس کی 150 ویں سال گرہ منائی جا رہی ہے۔ 1939 ء کو لندن میں وفات کے بعد سے یہ یہودی مفکر نہ صرف لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے بلکہ اسے یاد کیا جاتا ہے اور اس کے کام پر بھی غور و خوص ہوتا رہتا ہے۔
    ہر مفکر کی طرح اس کی بھی بہت سی باتیں غلط ہیں، اختلاف بھی ہوتا رہا ہے لیکن اس کے خیالات آج بھی انسانی ذہنوں پر مسلط ہونے کی طاقت رکھتے ہیں، کیونکہ وہ بنیادی طور سے ذہن کا کھوجی تھا، اس نے انسانی ذہن کی ایک پوری نئی دنیا دریافت کر لی تھی۔ اس نے لاشعور کے بارے میں بتایا، اس نے زبان بہکنے اور دماغی بیماری میں تعلق کی اطلاع دی۔ اس نے بتایا کہ بچپن کے تجربات کسی کے کردار کی تشکیل کرتے ہیں۔ نسلی یا خاندانی امتیاز اور غربت و امارات نہیں، اس نے تحلیل نفسی یا سائیکو اینالسس کا طریقہ علاج تخلیق کیا۔ یہ وہ انقلابی طریقہ علاج تھا جس سے اس نے ثابت کیا کہ قابل تشخیص بیماری کو قدیم ترین طریقے یعنی گفتگو سے قابلِ علاج بنایا جا سکتا ہےے، دواوں‌، جادو ٹونے ، جھاڑ پھونک ، سرجری یا خوراک کی تبدیلی سے نہیں‌بلکہ ہمدرد معالج مریض سے گفتگو کرکے مسلہ حل کر سکتا ہے۔
    محض گفتگو سے ذہنی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں اس کا یہ آئنڈیا آج کے ماہرین سے جن کا مزاج پیچیدہ ٹیکنالوجی ہی کو قبول کرنے کا ہے، ہضم نہیں ہو رہا تھا البتہ ڈپریشن جیسے مسائل حل کرنے کے لیے بنائی جانے والی دواوں کے پہاڑ کھڑے ہو گئے لیکن مسئلہ حل نہ ہوا پھر سائیکو اینالسس اور ٹاک تھراپی پر توجہ دینی پڑی۔، فرائیڈ کا یہ آئیڈیا دوبارہ مقبول ہو رہا ہے۔ اس طریقہء علاج سے لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
    فرائیڈ کے نظریات و افکار ثقافت اور ادب کا حصہ ابتدا ہی میں بن گئے تھے۔ آج بھی گفتگو میں اس کا حوالہ عمومی طور پر دیا جاتا ہے، بہت سے ممالک میں اسے سائنسدان سے زیادہ ادبی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے جنس سے متعلق نظریات مشرق ہی نہیں مغرب میں بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنے مثلا اس کا یہ خیال کہ کمسن بچے بھی جنسی فینٹسی کی زندگی گزارتے ہیں۔ امریکا میں 76 فیصد بالغوں نے مسترد کیا۔
    عورتیں بھی اس کی بڑی مخالف ہیں کیونکہ اس کا یہ خیال کہ عورتیں نامکمل مرد ہوتیں ہیں غلط ثابت ہوا ہے۔ ایک ماہر کا کہنا ہے کہ فرائیڈ بہت سی باتوں میں غلط تو ہے لیکن نہایت دلچسپ انداز سے غلط ہے، اس نے چیزوں کو بالکل نئے انداز سے دیکھنے کا طریقہ دریافت کیا ہے اور نئے گہرے معنی و مفاہیم دریافت کیے ہیں۔ فرائیڈ نے میڈیکل ڈاکٹر کی حیثیت سے تعلیم حاصل کی تھی۔ 1876 میں وہ لگ بھگ 20 برس کا تھا اور اپنا پہلا طبی مقالہ لکھنے کے لیے ریسرچ میں مصروف تھا ، اس نے بعد میں انسانی دماغ کی ہیئت جاننے پر کام شروع کیا، یہ وہ دور تھا جب اسکیننگ کی سہولتیں نہیں تھیں، ڈی این اے دریافت نہیں ہوا تھا۔ بایولوجی ترک کرکے سائیکولوجی اختیار کرنے تک وہ نیورو سائنٹسٹ کی حیثیت سے دماغ کے بارے میں کافی کچھ جان چکا تھا، وہ یہ بتا رہا تھا کہ دماغ کے مختلف حصوں میں‌کنکشن کس طرح ہوتے ہیں اور کس طرح مربوط ہو کر کام کرتا ہے لیکن اس دور کی سائنس سے یہ سمجھنا اور سمجھانا ممکن نہیں تھا۔ فرائیڈ نے یہ کام چھوڑ دیا جو اس کی موت کے بعد شائع ہوا۔ فرائیڈ نے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ نیورونز کے رابطے میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ جدید دور کے نیورو سائنسدانوں نے کام وہاں سے شروع کیا جہاں سے فرائیڈ نے چھوڑا تھا۔
    فرائیڈ کے کام کو سمجھنے کی کوشش ابھی جاری ہے، نوبل انعام یافتہ سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر ایرک کینڈیل نے ابتدا سائیکو انالسس کی حیثیت سے کی تھی ، وہ نیورو سائنس اور سائیکو انالسس کے درمیان خلیج پاٹنے کے لیے کام کرتے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرائیڈ ایک جینیس اور نہایت پر مغز و پر فکر آدمی تھا، اس کی بصیرت اور تخیل کا کوئی ثانی نہیں، اگرچہ اس کے بہت سے نظریات غلط ثابت ہوئے لیکن اس نے ہمیں دماغی پیچدگیوں کی عمدہ تصویر بنا کر دکھا دی، وہ 20 ویں صدی کے عظیم مفکر ین میں شامل ہے، اس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ہم جو بہت کچھ کرتے ہیں، وہ لاشعوری طور پر ہوتا ہے، یہ بھی اسی نے بتایا کہ خوابوں کے نفسیاتی مطالب ہوتے ہیں اور یہ کہ شیر خوار بچہ بھی سوچنے سمجھنے والا فرد ہوتا ہے، اسے بھی خوشگوار اور ناخوشگوار تجربات ہوتے ہیں۔ فرائیڈ نے ہمیں بتایا کہ کسی مریض کی گفتگو کو اگر توجہ سے سنا جائے تو اس بارے میں بہت علم ہو جاتا ہے کہ اس کا تحت الشعور کیا بتا رہا ہے اور یہ سب انقلابی باتیں ہیں۔
    فرائیڈ نے کہا تھا کہ ایک دن آئے گا جب ہمیں سائیکو انالسس اور ذہن کی بایولوجی کو باہم یکجا کر نا پڑے گا لیکن مشکل یہ ہو گئی کہ آنے والی نسلیں سائیکو انالسس کو بایولوجی پر مبنی سائنس بنانے میں ناکام رہیں کیونکہ دواوں کے مقابلے میں یہ دقت طلب علاج ہے اور مہنگا بھی ہے چنانچہ اس کی مقبولیت کم ہوتی گئی، اسے جدید سائنسی خطوط پر ڈھالنے کی ضرورت ہ، اگر آئندہ 15 برس میں یہ ہوگیا تو دماغی امراض کے شعبے میں انقلاب برپا ہو جائے گا۔
    ماخوذ(اخبار جہاں)
     
  9. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668
    بہت عمدہ وہاب اعجاز صاحب
     

اس صفحے کی تشہیر