فتنہ انکارِ حدیث، ایک جائزہ

میرے خیال سے اب تک کئی بار جو ضعیف اور صحیح احادیث کی بات ہورہی ہے وہ اسی تحقیق کی جانب اشارہ ہے ۔ دوسری صورت میں آپ کے خیال میں کیسے تحقیق ہونی چاہیے؟
کیا آپ نے قسیم حیدر کے اوپر والے پیغام کا مطالعہ کیا ہے؟
اگر کیا ہے تو پھر بھی یہ سوال کیوں؟
اس میں بھی بتایا گیا ہے کہ علماء نے احادیث میں‌ سے ان باتوں کو الگ کرنے کے لیے تحقیق کی ہے جو منافقین اور دشمنان اسلام کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی گئی تھیں۔
کم از اکم اگر مجھے کوئی شک تھا تو وہ دور ہوگیا ہے اور بلا جھجھک یہ کہتا ہوں کہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی میرے ایمان کا حصہ ہیں۔ اور مجھے ان پر ان کتب ربانی سے زیادہ اعتبار ہے جن میں جانے کتنی بار تحریف ہوچکی ہے۔
وسلام
دوست، رسول پر ایمان کا مطلب ہے اقوالِ و سنتِ رسول پر ایمان، یہ میرے ایمان کا بھی حصہ ہیں۔
وضاحت فرمائیے کہ آیا کتب روایات جو چھ سنی اور 3 شیعہ مصنفین کی تصنیف شدہ ہی، ان پر من و عن ہر یقین رکھنا چاہئیے؟

میرا خیال درج ذیل ہے، آپکا کیا خیال ہے؟
میرا اپنا خیال:
میرے حساب سے تارک حدیث وہ شخص ہے جو کسی بھی فرقے کے ماننے والوں کی 'حدیث' کو ترک کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنی حضرات' شیعہ حدیثوں' کو اور شیعہ حضرات 'سنی حدیثوں' کو قبول نہیں‌کرتے۔ آخر دونوں کے پاس ایک ہی رسول کی 'احادیث' ہیں۔

اقوال و سنت رسول اپنی جگہ مسلم۔9 کتب روایات پر مکمل ایمان، جبکہ دوسرے دھاگے میں ان کتب میں پر اہانت روایات کی وضاحت کی جا چکی ہے، وہ سوالیہ نشان ہے جس پر یہ بحث جاری ہے۔ آپ اس بحث کو بھی وہیں لے جائیں۔ ایک ہی دھاگے میں‌ آسانی رہتی ہے۔

یہ تھا میرا خیال، آپکا کیا خیال ہے؟
والسلام۔
 

دوست

محفلین
آپ نے ایک جگہ ایک پی ڈی ایف کا ربط دیا تھا جو انگریزی میں‌ ہے۔ اب میں کہاں وہ پڑھنے کے قابل اردو میں کچھ بتا دیتے تو میں کچھ کہہ سکتا۔۔
جن احادیث کی آپ بات کررہے ہیں وہ بھی یقینًا نشان زدہ ہونگی۔ یہی ڈھول تو سب پیٹ رہے ہیں کہ تحقیق ہوئی ہے اور ہر حدیث کے بارے میں ریکارڈ موجود ہے کہ اس کا درجہ کیا ہے۔۔۔
یہاں پر بات فی الحال صحاح ستہ کی ہوئی ہے۔ اگر شیعہ کتب احادیث ان معیارات پر پورا اترتی ہیں جن کے تحت یہ کتب ترتیب دی گئیں تو کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ لیکن میرا علم اس سلسلے میں محدود ہے چونکہ آج تک کسی اہل تشیع سے اس بارے میں گفتگو نہیں ہوسکی۔ میں ویسے بھی مسلکی معاملات پر بحث کرنے سے ڈرتا ہوں۔ اپتا تو یہ ایمان ہے کہ جیسے بھی ہیں سب مسلمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہیں۔
 

الف نظامی

لائبریرین
دوست، رسول پر ایمان کا مطلب ہے اقوالِ و سنتِ رسول پر ایمان، یہ میرے ایمان کا بھی حصہ ہیں۔
ذرا اپنا ہی لکھا ہوا ملاحظہ ہو
7۔ سنت رسول صلعم کسے کہتے ہیں؟
اعمال و عادات رسول اکرم اور قرآن کی ہدایات اور احکامات پر عمل۔
اقوال رسول سے کیسے جان چھڑا گئے۔
وضاحت فرمائیے کہ آیا کتب روایات جو چھ سنی اور 3 شیعہ مصنفین کی تصنیف شدہ ہی، ان پر من و عن ہر یقین رکھنا چاہئیے؟
کسی جگہ تم نے وحدت کی بات کئی تھی ، اور یہاں شیعہ سنی کی تفریق بھی کررہے ہو؟
خیر جواب سنیے: کسی جاہل کو بھی پتہ ہوگا کہ احادیث کی درجہ بندی ہوتی ہے ، کہ کون سی حدیث صحیح ہے، کون سی حسن ہے، کون سی ضعیف ہے اور کون سی موضوع ہے ۔ امید ہے کہ تمہارا ذہنی خلجان دور ہوگیا ہوگا۔

اقوال و سنت رسول اپنی جگہ مسلم۔9 کتب روایات پر مکمل ایمان، جبکہ دوسرے دھاگے میں ان کتب میں پر اہانت روایات کی وضاحت کی جا چکی ہے، وہ سوالیہ نشان ہے جس پر یہ بحث جاری ہے۔ آپ اس بحث کو بھی وہیں لے جائیں۔ ایک ہی دھاگے میں‌ آسانی رہتی ہے۔
اس کا جواب جہاں تم نے یہ بات کہی تھی دیا جاچکا ہے
http://www.urduweb.org/mehfil/showpost.php?p=182165&postcount=14
 
پہلے آپ کے سوالات کے جواب:
رسول پر ایمان کا مطلب ہے اقوالِ و سنتِ رسول پر ایمان، ان کے پیغام پر ایمان اور جو کچھ [AYAH]2:177[/AYAH] میں دیا گیا ہے۔
سنت رسول صلعم:
اعمال و عادات رسول اکرم اور (رسول صلعم کا) قرآن کی ہدایات اور احکامات پر عمل ، یہ سنت رسول بمطابق سنت اللہ ہے اور قرآن سے ثابت ہے۔
اقوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:
یہ فرمان رسول اللہ صلعم ہیں، جو انہوں نے ان کی اپنی زبان مبارک سے ادا ہوئے، جو قرآن کے علاوہ ہیں۔ عموماَ
قال رسول اللہ،۔۔۔ سے شروع ہوتے ہیں

حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ ‌وسلم:
اس میں رسول اللہ کے تمام واقعات (جیسے اردو کاحادثہ) اور اقوال و اعمال سب آجاتے ہیں۔ عموماَ کسی صحابہ کرام سے روایت ہوتے ہیں، مثلاَ نبی کریم کا وضو کرنا۔ ضروری نہیں کے ایسے واقعات میں رسول اللہ کا کوئی قول ہو۔

کتبِ روایات،
جن میں ہر روایت، ' زید/بکر۔۔۔ سے روایت ہے' سے شروع ہوتی ہے، ان کتب کے بڑے لکھنے والے 9 عدد ہیں، 6 سنی اور 3 شیعہ۔۔ ان کتب میں روایات، اقوال رسول اور حدیثِ رسول کے واقعات سب شامل ہیں۔ ان کتابوں کو جن محدثین سے ثابت کیا جاتا ہے، ان محدثین کی اصل کتب دستیاب نہیں ہیں۔ لہذا ان کتب میں اگر کوئی قابل اعتراض‌مواد پایا جائے تو اس کا ذمہ دار ان محدثین کو نہیں ٹھیرایا جاسکتا ہے۔ سنی حضرات، شیعہ حضرات کی روایات کو اور شیعہ حضرات سنی حضرات کی روایات سے اختلاف کرتے ہیں۔ اور اپنی اپنی کتب روایات پر اڑتے ہیں۔


سوالات کے جوابات کے بعد، یہ ہے وہ مسئلہ جس پر اختلاف ہے۔
ان کتب روایات میں سے کچھ روایات کو، جنہیں کہیں واضح ضعیف مارک نہیں کیا گیا ہے، اہانت رسول سے پر پایا گیا ہے۔ کتاب 'اسلام کے مجرم میں' اس کی نشاندہی کی گئی ہے اور اس کتاب میں ان روایات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے،

میری سب سے پہلی پوسٹ اسی بارے میں تھی، جو سنت کیا ہے کے تھریڈ میں‌ہے۔ اس کتاب کو دیکھنے کی طرف میں نے اشارہ اس لئے کیا کہ اس میں ان علماء کے نام شامل ہیں جو اس کتاب کو پڑھ چکے ہیں اور اپنے مثبت خیلات کا اظہار کرچکے ہیں۔

جس کا جواب باذوق صاحب نے اور اجمل صاحب نے کیا دیا؟ اجمل صاحب اپنے بیانات کو حذف کرچکے ہیں، گو کہ ان کے بیانات سے باذوق صاحب متفق تھے۔ جس کا جواب اجمل صاحب نے باذوق کو محسن قرار دے کر کیا۔

محترم اجمل صاحب نے بجا تبصرہ کیا ہے کہ ۔۔۔۔۔ (اور اس کے بعد لکھتے ہیں)

یہ امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ جس پر امت صدیوں سے قائم ہے اور انشاء اللہ قیامت تک رہے گی کہ بخاری و مسلم دو ایسی مستند کتابیں ہیں جن میں کوئی حدیث، کوئی ایک حدیث بھی ضعیف نہیں ہے ۔

آپ نے لکھا کہ "کسی جاہل کو بھی پتہ ہوگا کہ احادیث کی درجہ بندی ہوتی ہے " اب آپ دیکھ لیجئے اس پر پورا کون اتر رہا ہے؟
اس کتاب میں سینکڑوں روایات پر اعتراض‌کیا گیا ہے، جن دو روایات کا حوالہ پہلے دیا تھا؟ آپ کو ان میں کوئی مقصدیت نظر آتی ہے۔ ایک جو ام المومنین حضرت عائشہ کے بارے میں ہے، میں تو بالکل ‌لکھ ہی نہیں‌سکتا۔ اس کا مقصد بھی سمجھ نہیں آتا۔ دوسری روایت جو درایت زیادہ لگتی ہے۔ آپ اس پر روشنی ڈالئے کہ یہ کیا کہتی ہے اور اس میں‌کہاں لکھا ہے کہ یہ ضعیف ہے؟ بھائی، انگریزی مٰیں صرف میں اور تم ہی نہیں پڑھتے ہیں، اسکو غیر مسلم بھی پڑھتے ہیں:

اگر کچھ اصحاب اس قسم کی پر اہانت روایات کو بنا کسی درجہ بندی کے شامل رکھنا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔

میں اس سلسلے میں مزید بحث اب وقت کا ضیاع سمجھتا ہوں کہ اپنا مافی الضمیر کئی بار لکھ چکا ہوں۔ جو لوگ اس پر سوچنا چاہتے ہیں‌سوچیں اور جو لوگ سوچ پر پابندی رکھنا چاہیں تو وہ ایسا کرلیں۔

والسلام۔
 

قسیم حیدر

محفلین
مزید گفتگو کرنے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ حدیث کی "سند" سے کیا مراد ہے۔ لمحہ بھر کے لیے فرض کریں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مجلس میں کوئی بات ارشاد فرمائی۔ اس بات کو حاضرین نے سنا اور اس کو جزوِ ایمان بنا لیا۔ ان میں سے پانچ افراد ایسے تھے جنہوں نے عمل کرنے ساتھ ساتھ اس بات کو آگے بھی پہنچایا۔ جن تک وہ بات پہنچی ان میں سے پانچ افراد نے اس بات کو اچھی طرح حفظ کر لیا اور پھر وہ پانچوں اپنے اپنے علاقوں میں چلے گئے۔ کوئی مکہ چلا گیا، کوئی دمشق چلا گیا،کوئی مدینہ میں قیام پذیر ہوا۔ ان پانچوں نے اپنے اپنے شہر میں اس حدیث کو بیان کر دیا۔ اب محدثین (مثلًا امام بخاری) نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان سننے کے لیے بغداد کا سفر کیا۔ وہاں مذکورہ آدمی سے ملاقات کی، حدیث سنی، سنانے والے نے کہا "میں نے بغداد کے فلاں آدمی سے اس حدیث کو سنا اور اس نے مدینہ کے فلاں شخص سے سنا اور اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا"۔ اس طرح امام بخاری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان چار آدمیوں کا واسطہ بن گیا۔ یہ وہ لڑی ہے جس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات سامنے آئی۔ اس لڑی کو سند کہتے ہیں۔ کوئی حدیث ایسی نہیں ہے جس کا مکمل ریکارڈ موجود نہ ہو کہ اسے کس آدمی نے روایت کیا تھا اور اس نے اِسے کس سے سنا یہاں تک کہ یہ سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچ جاتا ہے۔ جو لوگ روایت بیان کرنے والے ہیں انہیں راوی کہا جاتا ہے۔
سند اور متن کو دیکھتے ہوئےحدیث کے بہت سے درجے مقرر کیے گئے ہیں۔ حدیث کی مشہور قسمیں یہ ہیں۔
صحیح، حسن، ضعیف، مسنَد، متّصل، مرفوع، موقوف، مقطوع، مرسل، منقطع، معضَل، مدلّس، شاذ، منکر، الافراد، المعلّل، المضطرب، المُدرج، المقلوب، الغریب، المشھور، العزیز وغیرہ۔
حدیث کے صحیح ہونے کے لیے لیے بنیادی شرائط بیان کرنے سے پہلے میں یہ وضاحت کر دوں کہ علمِ حدیث میں "صحیح حدیث" ایک اصطلاح (Term) ہے اس لیے "صحیح حدیث" کو "غلط حدیث" کے متضاد کے طور پر نہیں بلکہ ایک اصطلاح کے طور پر لیا جاتا ہے۔ کسی حدیث کے "صحیح" ہونے کے لیے اس میں مندرجہ ذیل بنیادی شرطیں پائی جانی ضروری ہیں۔
۱۔ حدیث کے سلسلہ سند میں کوئی راوی جھوٹا نہ ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ اس شرط پر اتنی سختی سے عمل کرتے تھے کہ ایک آدمی کے بارے میں انہیں معلوم ہوا کہ اس کے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث موجود ہے۔ ایک لمبا سفر طے کر کے اس کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ خالی جھولی لیے اپنے گھوڑے کو چمکار رہا ہے۔ امام صاحب وہیں سے واپس ہو گئے اور اس سے حدیث سننا بھی گوارا نہ کیا۔ اور فرمایا کہ میرا یہ سفر رائیگاں نہیں گیا کیونکہ مجھے معلوم ہو گیا ہے یہ شخص جھوٹا ہے۔
۲۔ دوسری بنیادی شرط یہ ہے کہ راویوں کے حالاتِ زندگی معلوم ہوں۔ علم الرجال کے ماہرین نے ان لوگوں کے حالاتِ زندگی کتب الرجال میں لکھے ہیں جنہوں نے کبھی حدیث بیان کی ہے۔ کتب الرجال میں لاکھوں لوگوں کے حالاتِ زندگی درج ہیں جو محدثین کی محنت اور جانفشانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن اگر کسی راوی کے حالاتِ زندگی کسی وجہ سے دستیاب نہ ہوں تو محدثین اس کی بیان کی ہوئی حدیث کو "صحیح" کے درجے میں نہیں رکھتے۔
۳۔ تیسری شرط یہ ہے کہ سلسلہ سند کے تمام لوگ نیک ہوں۔ فاسق شخص کی بیان کی ہوئی حدیث "صحیح" نہیں ہو گی۔
۴۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ راویوں کی ملاقاتیں ایک دوسرے سے ثابت ہوں اور ان کا زمانہ ایک ہی ہو۔ مثلًا زید نے کہا کہ میں نے بکر سے یہ حدیث سنی تو زید کی ملاقات بکر سے ثابت ہونی چاہیے یا کم از کم ان کا زمانہ ایک ہی ہونا چاہیے۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں وہی حدیثیں درج کی ہیں جن کے راویوں کی ملاقات ایکدوسرے سے ثابت تھی۔ امام مسلم نے اس کڑی شرط میں کچھ نرمی کرتے ہوئے یہ اصول رکھا ہے کہ راویوں کا زمانہ ایک ہونا چاہیے، اگر وہ سچے اور کھرے لوگ ہیں تو ملاقات ثابت ہونا ضروری نہیں فقط ان کا اقرارِ سماعت کافی ہے۔ اس طرح بہت سی وہ حدیثیں جو امام بخاری نے چھوڑ دی تھی امام مسلم نے اپنی صحیح میں انہیں اکٹھا کر لیا۔
۵۔ پانچویں شرط یہ ہے کہ راوی کا حافظہ ٹھیک ہو۔ وہ نسیان یا بھول چوک کے مرض سے پاک ہو۔ اگر کسی راوی نے حدیث اس وقت بیان کی جب کہ اس کا حافظہ بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے کمزور ہو چکا تھا تو اس کی بیان کی ہوئی حدیث "صحیح" نہیں سمجھی جاتی۔
صحیح البخاری کی سند میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرنے والا پہلا راوی کوئی صحابی ہوتا ہے۔ اس کے بعد تابعی اور پھر تبع تابعین میں سے کوئی۔ ان مبارک ہستیوں کے تقوٰی اور للٰہیت کی گواہی خود قرآن پاک نے دی ہے۔ صحابہ کرام کے بارے میں فرمایا گیا ہے:
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّہِ وَالَّذِينَ مَعَہ اَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَھُمْ تَرَاھُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّہِ وَرِضْوَانًا سِيمَاھُمْ فِي وُجُوھھِم مِّنْ اَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُھُمْ فِي التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُھُمْ فِي الْاِنجِيلِ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئہُ فَآزَرَہُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِہِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِھِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّہُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْھُم مَّغْفِرَۃً وَاَجْرًا عَظِيمًا (الفتح۔29)
"محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے اُنہیں رکوع و سجود، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے۔ سجُود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اس گروہ کے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔"
سورۃ التوبۃ آیت 100 میں فرمایا:
وَالسَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ مِنَ الْمُھَاجِرِينَ وَالاَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوھُم بِاِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّہُ عَنْھُمْ وَرَضُواْ عَنْہُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَھَا الاَنْھٰرُ خَالِدِينَ فِيھَا اَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
"وہ مہاجرین اورانصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوتِ ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی، نیز وہ لوگ جو بعد میں راستبازی کے ساتھ اُن کے پیچھے چلے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔"
صحابہ کے بعد تابعین کا دور آتا ہے۔ سورۃ الحشر میں مہاجرین اور انصار کا ذکرِ خیر کرنے کے بعد ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو ان کے بعد آئیں گے۔ آیت 10 میں فرمایا:
وَالَّذِينَ جَاؤُوا مِن بَعْدِھِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْاِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا اِنَّكَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ
" وہ لوگ جو ان (مہاجرین اور انصار کے) بعد آئے ، جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔"
تابعین کے بعد تبع تابعین کا دور آتا ہے۔ ان کے بارے میں وارد کوئی قرآنی آیت مجھے نہیں مل سکی۔ اگر کسی بھائی کےعلم میں ہو تو وہ آگاہ فرمائیں۔ لیکن قرآن کریم کی عمومی تعلیمات یہ ہیں کہ اگر ایک صاحبِ ایمان اور صاحبِ کردار شخص کوئی بات بیان کرتا ہے تو اس کی بات تسلیم کر لینی چاہیے الا کہ نہ ماننے کی معقول وجوہات موجود ہوں۔ سورۃ الحجرات آیت 6 میں فرمایا:
يَا َيُّھَا الَّذِينَ آمَنُوا اِن جَاءكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوا
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق شخص تمہارے پاس کوئی اہم خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو۔ ۔ ۔ ۔"
اس آیت سے یہ مطلب نکل رہا ہے کہ اگر خبر لانے والا فاسق نہیں ہے، یعنی صاحبِ ایمان ہے، اسلام کے اوامر و نواہی کو بجا لاتا ہے، جھوٹ نہیں بولتا، بددیانتی نہیں کرتا وغیرہ تو اس کی بات کا اعتبار کرنا چاہیے۔ ہاں اگر ایسا شخص خبر لاتا ہے جس میں فسق کی علامات پائی جاتی ہوں تو اس کی تحقیق کرنی چاہیے۔ قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اسوہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ
یؤمن باللہ و یومن للمؤمنین (التوبۃ۔61)
" (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مومنوں پر اعتماد کرتے ہیں۔"
اب بتائیے کہ ایک آدمی کبھی جھوٹ نہیں بولتا، جان بوجھ کر قرآن و سنت کے خلاف کوئی کام نہیں کرتا، اسلام کے اوامر و نواہی کو بجا لاتا ہے، معاملات میں کھرا ہے، اچھے حافظے کا مالک ہے۔ وہ ہم سے کہتا ہے کہ میں نے فلاں آدمی سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوں فرمایا تو آخر کون سی معقول وجہ ہے کہ ہم اس کے قول کو رد کر دیں۔ خصوصًا جبکہ سامع اور مسموع کی ملاقات بھی ثابت ہو جائے۔ کیا عقلی طور پر ایسا ممکن ہے کہ کوئی مسلمان باقی تمام معاملات میں تو کھرا ہو لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات منسوب کرتے وقت جھوٹ سے کام لے؟ پھر دیکھیے کہ جو حدیث ایک سچا اور صادق آدمی مدینہ یا بصرہ میں بیٹھ کر بیان کرتا ہے، وہی حدیث کسی دوسری سند کے ساتھ مدینہ اور شام میں بھی بیان کی جا رہی ہوتی ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلی پوسٹ میں لکھا تھا کہ انما الاعمال بالنیات والی حدیث سات سو مختلف سندوں کے ساتھ روایت ہوئی ہے۔ کیا کوئی عقلمند آدمی تصور کر سکتا ہے کہ اتنے سارے لوگ بیک وقت جھوٹ بولنے پر اکٹھے ہو گئے ہوں جبکہ ان کے علاقوں کے درمیان سینکڑوں میل کا بھی فاصلہ ہو؟
کتب ستہ کے مولفین میں سے بخاری اور مسلم کے سوا کسی نے یہ دعٰوی نہیں کیا کہ اس نے اپنی کتاب میں صرف صحیح احادیث لکھی ہیں (ان کے ضعیف احادیث لکھنے کی وجہ کسی دوسرے وقت بیان کروں گا ان شاء اللہ)۔ امام بخاری کی کتاب کا نام الجامع الصحیح ۔ ۔ ۔ ۔ ہے۔ مختصرًا انہیں صحیح البخاری اور صحیح المسلم کہا جاتا ہے۔ باقی چار کتابیں "سنن" ہیں جیسے سنن ترمذی، سنن نسائی، سنن ابو داؤد وغیرہ جن میں صحیح اور ضعیف دونوں قسم کی روایات ہیں۔بعض دفعہ امام ترمذی اور ابوداؤد خود ہی بیان کر دیتے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے۔
سنن میں دونوں قسم کی حدیثوں کی موجودگی کی وجہ سے علماء ہی ان میں فرق کر سکتے تھے۔ لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے ضعیف اور صحیح احادیث کے الگ الگ مجموعے مرتب کر دیے ہیں۔ مثلًا سنن ابنِ ماجہ کو دو مجموعوں میں تقسیم کر دیا ہے "صحیح ابنِ ماجہ" جس میں صحیح حدیثیں جمع کی ہیں اور "ضعیف ابنِ ماجہ" جس میں ابن ماجہ کی ضعیف حدیثوں کا تذکرہ ہے۔ البانی رحمہ اللہ نے ابنِ ماجہ کی 3638 حدیثوں کو صحیح اور 948 حدیثوں کو ضعیف قرار دیا ہے۔انہوں نے سلسلۃ الاحایث الصحیحۃ کے نام سے صحیح اور سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ کے نام سے ضعیف حدیثوں کے مجموعے بھی مرتب کیے ہیں۔افسوس کہ یہ سارا کام ابھی تک عربی میں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کام کو جلد سے جلد اردو میں منتقل کیا جائے۔
بار بار کیا جانے والا یہ سوال باقی رہ گیا ہے کہ کیا کتب ستہ پر من و عن ایمان لایا جائے؟ جواب یہ ہے کہ جن حدیثوں کو محدثین نے صحیح قرار دیا ہے ان پر ہمارا ایمان ہے لیکن سنن ابنِ ماجہ، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، اور سنن ترمذی کی تمام روایات کو ہم کل صحیح کہتے تھے نہ آج کہتے ہیں۔ مشہور محدث الحافظ ابنِ کثیر کی کتاب "الباعث الحثیث" دیکھ لیجیے۔ لہٰذا یہ طریقہ کار درست نہیں ہے کہ پہلے عام لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ علماء سنن کی کتابوں کو حرف بحرف درست مانتے ہیں اور پھر ضعیف روایتیں پیش کر کے حدیث پر اعتراض شروع کر دیے جائیں۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ حدیث کی کتابیں صرف چھے نہیں ہیں۔ میں اہم کتابوں کے نام اوپر گنوا چکا ہوں۔ ایک نظر دوبارہ دیکھ لیجیے۔
صحیح البخاری، مسلم، ترمذی، النسائی، ابوداؤد، ابن ماجہ، مسند احمد، موطا امام مالک،سنن دارمی، مستدرک حاکم، سنن بیہقی، سنن دار قطنی، صحیح ابن حبان، صحیح ابن خزیمہ، مسند ابی یعلی، مسند اسحاق، مسند عبداللہ بن مبارک، مسند شافعی، مسند ابن الجعد اور مصنف ابن ابی شیبہ
شاکرالقادری صاحب نے جو نکتہ اٹھایا ہے اس کے بارے میں عرض ہے کہ مستشرقین نے اُن روایات کو سامنے رکھ کر حدیث کو نشانہ بنایا ہے جو سِیَر کی کتابوں میں درج ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی مسلمان محقق اور ائمہ حدیث نے ان کتابوں کو حدیث کے برابر کا درجہ نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایات کسی اصول پر مبنی نہیں ہیں۔ علامہ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں اس قسم کی روایات پر سخت تنقید کی ہے۔ مجھے امید ہے آپ "کتب سِیَر" اور "کتب احادیث" کے فرق سے ناواقف نہ ہوں گے۔
آخر ی بات یہ کہ حدیث کی چھے مشہور کتابوں کو "صحاح ستہ" کہنا درست نہیں ہے اس لیےکہ ان میں صرف دو کتابیں "الصحیح" ہیں باقی "سنن" ہیں جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا۔ محدثین کے ہاں ان کے لیے "کتب ستہ" کی اصطلاح مستعمل ہے۔
معلوم نہیں دوبارہ کب حاضری ہو اس لیے سب احباب کو پیشگی رمضان مبارک۔
 
جاری رکھئے۔ بہتر سمت ہے۔ دو اشیاء کی ضرورت ہے۔ ایک درست ٹایم لائن۔ اور دوسرے قدیم ترین ، قابل قبول متن کا حوالہ۔ کہ قریم ترین یہ کتاب ملتی ہے اور اس حالت میں۔ اور اگر حوالہ موجود نہ ہو تو ترتیب دئے جانے کے بعد ممکنہ تبدیلی اورممکنہ درایت پر بھی لکھئے۔ آپ کے متن کی تمام ہی باتیں میرے علم میں ہیں۔ ان اصولوں پر اتفاق ہے۔ اس پر بھی روشنی ڈالئے کہ ان کتب میں روایات کی درجہ بندی کس طور شامل کی جائے کہ مسلمین اور غیر مسلمین دونوں اس کو دیکھتے ہیں؟ کہ اس درجہ بندی سے آسانی رہے؟

میں اپنا خیال آپ کے معروضات کے بعد ظاہر کروں گا۔ فی الحال نہ آپ میرے خیالات کے بارے میں اچھا یا برا کچھ سمجھئے اور نہ ہی میں آپ کے بارے میں سمجھ رہا ہوں۔ میرے نزدیک اس ڈسکشن کا مقصد صرف تعمیری ہے کہ سب لوگ ایک نکتہ پر متفق ہوں۔

کوئی سوال ہوا تو پوچھ لوں گا۔

سب کو رمضان مبارک۔
شکریہ۔
 

قسیم حیدر

محفلین
احادیث کی اشاعت کیسے ہوئی
قرآنِ کریم کی طرح حدیث کی اشاعت کا بھی یہ انداز نہیں رہا کہ محض کتاب لکھ کر کتب خانے میں سجا دی جاتی ہو۔ امام بخاری نے ہزاروں لوگوں کو اپنی کتاب لفظ بلفظ پڑھائی۔ ہزاروں لوگوں نے ان سے سن کر اس کتاب کو لکھا۔ آج بھی دنیا میں لاکھوں لوگ ایسے مل جائیں گے جو اس کتاب کی تعلیم کا پورا سلسلہ سند رکھتے ہیں۔ مطلب یہ کہ امام بخاری کے شاگرد سے کسی نے یہ کتاب پڑھی، پھر اس نے اسے دوسروں کو پڑھایا اور یہ سلسلہ نسل در نسل آج تک چلا آ رہا ہے۔ حدیث کے کسی طالب علم سے پوچھ لیجیے وہ بتائے گا کہ میں نے یہ کتاب فلاں استاد سے پڑھی، میرے استاد نے فلاں سے اس کا درس لیا تھا اور استاد کے استاد نے فلاں فلاں سے شرفِ تلمذ پایا، یہاں تک کہ یہ سلسلہ امام بخاری تک جا پہنچتا ہے۔ چھاپہ خانے کی ایجاد نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت تمام کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں۔ اس لیے ممکن ہے کسی نسخے میں کچھ فرق آ گیا ہو یا کاتب سے کوئی حدیث یا صفحات سہوًا چھوٹ گئے ہوں لیکن ان غلطیوں کو بنیاد بنا کر ساری احادیث کو مشکوک قرار دے دینا انصاف نہیں ہے۔ یہ امر توجہ کے لائق ہے کہ صحیح البخاری کے دو نسخوں میں اگر کسی حدیث کی موجودگی مختلف ہے تو وہی حدیث دوسری کتابوں کے ایسے نسخوں میں مل جاتی ہے جو کم از کم اُس حدیث کی حد تک متفق علیہ ہیں۔
حدیث بمقابلہ تاریخ
حدیث میں تو ہمارے زمانے سے لے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یا صحابہ کرام یا ائمہ حدیث تک اسناد کا پورا سلسلہ موجود ہے خواہ آپ کے نزدیک مشکوک ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اسی اصول کو دوسری کتابوں پر بھی لاگو کر کے دیکھیے۔ جن قدیم کتابوں کو آپ تاریخ کا سب سے معتبر ذخیرہ سمجھتے ہیں ان کے متعلق آپ کے پاس اس امر کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ جن مصنفین کی طرف وہ منسوب کی گئی ہیں انہی کی لکھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جو حالات ان کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں ان کے لیے بھی آپ کوئی ایسی سند نہیں رکھتے جن کی بنا پر ان کی صحت کا تعین کیا جا سکے۔ پس اگر حدیث کی کتابوں کی مسلسل اور مستند روایات کو اس آسانی کے ساتھ رد کیا جا سکتا ہے تو تاریخ کےپورے ذخیرے کو اس سے بھی زیادہ آسانی کے ساتھ رد کیا جا سکتا ہے۔ ایک شخص بلاتکلف کہہ سکتا ہے کہ عباسیوں کا وجود دنیا میں کہیں نہ تھا۔ اموی سلطنت کبھی قائم نہ ہوئی تھی۔ سکندر کا وجود محض ایک افسانہ ہے۔ دنیا میں نپولین اور ہٹلر کبھی ہو کر نہیں گزرے۔غرض تاریخ کے ہر واقعہ کو اس دلیل سے بدرجہا زیادہ قوی دلیل کی بنا پر جھٹلایا جا سکتا ہے جس کی بنا پر آپ کتب احادیث کی صحت کو جھٹلاتے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں زمانہ گزشتہ کے حالات کا کوئی ذخیرہ اتنا مستند نہیں ہے جتنا حدیث کا ذخیرہ ہے، اور جب وہ بھی ناقابل اعتبار ہے تو قدیم زمانہ کے متعلق جتنی روایات ہم تک پہنچی ہیں وہ سب دریابرد کر دینے کے قابل ہیں۔ (سنت کی آئینی حیثیت از سید مودودی رحمہ اللہ)
چند سوالات
اگر یہ سچ ہے کہ کتب احادیث میں تبدیلی کی گئی یا ان میں اہانتِ رسول پر مشتمل مواد شامل کیا گیا تو چند بنیادی سوالات کے جواب عنایت فرما دیں:
1۔ کس کتاب میں کس کس شخص نے کیا کیا تبدیلی کی؟ پوری مملکت اسلامیہ میں پھیلے ہوئے نسخوں کو بدل ڈالنے کے لیے کمال درجے کی مہارت اور بے انتہا وسائل درکار تھے۔ یہ تمام خوبیاں کس شخص میں پیدا ہو گئی تھیں؟ حیرت کی بات ہے کہ ایسے باکمال آدمی کو کوئی جانتا بھی نہ تھا یہاں تک کہ پندرھویں صدی ہجری میں ایک صاحب پر نے امت کو اس کارنامے پر مطلع کیا؟
2۔ یہ تبدیلیاں کس دور میں کی گئیں؟ چین سے عرب تک پھیلی ہوئی اسلامی سلطنت میں ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جس نے اس ظلم کی نشاندہی کی ہو یا اس پر صدائے احتجاج بلند کی ہو؟

3۔ تبدیلیاں ایک نسخے میں کی گئیں یا ان تحریری نسخوں کو بھی بدل دیا گیا جو امام بخاری کے شاگردوں نے ان سے براہِ راست نقل کیے تھے اور جو ان کی ذاتی حفاظت میں ہوتے تھے۔
4۔ جن احادیث پر "اسلام کے مجرم" میں اعتراض کیا گیا ہے ان میں کون کون سے حدیثیں ایسی ہیں جن کے بارے میں صحیح البخاری کے نسخوں میں (بقول آپ کے) اختلاف پایا جاتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اختلاف تو کسی دوسری روایت کے بارے میں ہو اور اسے متفق علیہ احادیث پر چسپاں کیا جا رہا ہو۔
5۔ یہ کیا بات ہے کہ صحیح البخاری کی جن حدیثوں پر اعتراض ہے وہی حدیثیں دوسرے ائمہ کی کتابوں میں بھی مل جاتی ہے۔ جو مضمون بخارا کے رہنے والے محمد بن اسماعیل بخاری کی کتاب میں ہے وہی بلخ کے امام ترمذی، خراسان کے امام نسائی، سجستان کے ابوداؤد اور نیشاپور کے امام مسلم بن حجاج کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ آخر وہ کون لوگ تھے جنہوں نے مختلف ملکوں میں جا کر ایک ہی مضمون ان ساری کتابوں میں داخل کر دیا اور تاریخ میں ان کا ذکر تک موجود نہیں ہے؟
8۔ آخری اور اہم سوال، ان ساری معلومات کا ماخذ کیا ہے۔ جن لوگوں نے ہزاروں محدثین اور لاکھوں علماء کے کام کو بیک جنبشِ قلم منسوخ قرار دے دیا ان کا علمی مرتبہ کیا ہے؟ سند کو "فرسودہ نظام" کہنے والے اپنی سچائی کے ثبوت میں کون سے تاریخی حوالے اپنے پاس رکھتے ہیں جو اس سے مضبوط تر ہوں؟ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ اگر سند کی بات رد کی جا سکتی ہے تو تاریخ کا حوالہ اس سے زیادہ آسانی کے ساتھ رد کیا جا سکتا ہے۔
عجیب بات ہے کہ امت کا سارا دین ملیامیٹ کر دیا گیا ہو۔ ختم المرسلین کے فرمودات بدل دیے گئے ہوں۔ لیکن عرب سے لے کر چین تک کہیں بے چینی کی لہر نہ اٹھی ہو۔ اس کے پیچھے جو ذہن کام کر رہا تھا اس کا نام کسی کو معلوم نہ ہو سکے، نہ تاریخ کے صفحات میں اس انقلابِ عظیم کا ذکر آ سکے کہ ایک بوند بھی خون کی نہ گری اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے عقیدے بدل گئے، ان کی وہ کتابیں بدل گئیں جن میں ان کے نبی کی سیرت محفوظ تھی۔یا للعجب
ایک خطرناک حربہ
اس قسم کے نظریات اگر کوئی ناواقف مسلمان یا غیر مسلم پڑھ لے تو اس کے دل پر یہ بات نقش ہو جائے گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات پر پچاس برس بھی نہ گزرے ہوں گے کہ مسلمانوں نے رسول اللہ اور اسلام کے خلاف عام بغاوت کر دی اور وہی لوگ اس بغاوت میں سرغنے بنے جو اسلام کی مذہبی تاریخ میں سب سے زیادہ نمایاں ہیں اور جنہیں مذہب اسلام کا ستون سمجھا جاتا ہے۔ ان لوگوں کے دل میں ایمان کا شائبہ تک نہ تھا۔ انہوں نے اپنی اغراض کے لیے حدیث، فقہ، سنت اور شریعت کے شاندار الفاظ گھڑے اور دنیا کو دھوکا دینے کے لیے وہ باتیں رسول اللہ کی طرف منسوب کیں جو ان کی اور قرآن کی تعلیمات کے بالکل برخلاف تھیں۔ یہ اثر پڑنے کے بعد ہمیں امید نہیں کہ کوئی شخص اسلام کی صداقت کا قائل ہو گا، کیونکہ جس مذہب کے ائمہ اور ممتاز ترین داعیوں کا یہ حال ہو اس کے پیروؤں میں صرف "شبیر احمد" اور ان کے ہم خیال گنتی کے چند آدمیوں کو دیکھ کو کون عقلمند یہ باور کرے گا کہ ایسا مذہب بھی کوئی سچا مذہب ہو سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس قسم کے اعتراضات کو دیکھ کر تو ایک شخص اس امر میں بھی شک کر سکتا ہے کہ آیا اسلام اپنی اصلی شکل میں اس وقت محفوظ ہے بھی یا نہیں۔ کیونکہ جب مسلمانوں کے اسلاف میں پہلی صدی سے لے کر اب تک کوئی گروہ بھی ایسا موجود نہیں رہا جو اپنے نبی کے حالات، اقوال، اور تعلیمات کو ٹھیک ٹھیک محفوظ رکھتا اور جب اس قوم کے چھوٹے بڑے سب کے سب ایسے بددیانت تھے کہ جو کچھ جی میں آتا تھا گھڑ کر اپنے رسول کی طرف منسوب کر دیتے تھے تو اسلام کی کسی بات کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ یہ بھی یقین نہیں کیا جا سکتا کہ عرب میں فی الواقع کوئی رسول مبعوث ہوا تھا، کیا عجب کہ عوام پر گرفت قائم رکھنے کے لیے رسول اور رسالت کا افسانہ گھڑ لیا گیا ہو۔ اسی طرح قرآن کے متعلق بھی شک کیا جا سکتا ہے کہ وہ فی الواقع کسی رسول پر اترا تھا یا نہیں۔ اور اگر اترا تھا تو اپنی اصلی عبارت میں ہے یا نہیں۔ کیونکہ اس کے ہم تک پہنچنے کا ذریعہ وہی لوگ ہیں جو یہود و نصٰرٰی اور مجوسیوں کی باتیں لے لے کر رسول کی طرف منسوب کرتے ہوئے ذرا نہ شرماتے تھے یا پھر وہ لوگ ہیں جن کی آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ ہوتا تھا اور وہ دم نہ مارتے تھے۔ منکرینِ حدیث نے یہ ایسا حربہ دشمنانِ اسلام کے ہاتھ میں دے دیا ہے جو حدیث کے فراہم کیے ہوئے حربوں سے لاکھ درجہ زیادہ خطرناک ہے، اس سے تو اسلام کی جڑ بنیاد ہی کھود کر پھینک دی جا سکتی ہے۔
غیر مسلم اور کتب احادیث
اب اس اعتراض کو دیکھیے کہ غیرمسلم کتب احادیث پڑھ کا اسلام سے دور ہو جاتے ہیں۔ صحابہ اور تابعین کے دور میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیثیں ہر طرف بیان کی جا رہی تھیں تو اسلام پوری قوت کے ساتھ چہار دانگِ عالم میں پھیل رہا تھا۔ جتنے لوگ اس وقت مسلمان ہوئے تھے اتنی بڑی تعداد میں دوبارہ کبھی نہیں ہوئے۔ یہ وہی دور تھا جب لوگ حدیث سننے کے لیے سینکڑوں میل کا فاصلہ طے کر کے جاتے تھے۔ اگر حدیثیں اسلام کی اشاعت میں رکاوٹ ہوتیں تو آج مصر، شام، فلسطین، لبنان، عراق، ایران وغیرہ میں کوئی مسلمان ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتا۔ آپ کی دلچسپی کے لیے عرض کرتا چلوں کہ 9/11 کے بعد مغربی ممالک میں مسلمان ہونے والوں کی بہت بڑی اکثریت حدیث پر عمل کرنے والوں کی ہے۔ جن مسائل کو بنیاد بنا کر حدیثوں پر بے حیائی کا فتوٰی لگایا جا رہا ہے، بہت سے غیر مسلم انہیں پڑھ کر اسلام کی جامعیت سے متاثر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔
عہدنامہ قدیم کے حوالہ جات
دوسرے مذاہب کی کتابیں فحش اور بے مقصد واقعات سے بھری پڑی ہیں جن کا عملی زندگی میں کوئی فائدہ نہیں، ان کی خاطر ہم اپنی کتابوں کے وہ مسائل کیوں نکال باہر کریں جن کی ضرورت ہر انسان کو اپنی زندگی میں پیش آتی ہے؟ میں بدھ مت پر بات نہیں کروں گا جن کے بدھو ننگے رہتے اور انسانی فضلہ کھانے کو کمال گردانتے ہیں۔ میں ہندو مت پر بھی گفتگو نہیں کروں گا جن کا خود ساختہ معبود رام دریا میں نہاتی لڑکیوں کے کپڑے اٹھا کر بھاگ جاتا ہے اور واپسی کے لیے شرط لگاتا ہے کہ وہ برہنہ دریا سے باہر نکل آئیں۔ میں اُن لوگوں کا حال آپ کو بتانا چاہوں گا جنہوں نے چند عملی مسائل کے بارے میں وارد احادیث کو بے حیائی قرار دیا اور انہی کا پڑھایا ہوا سبق ہمارے بعض لوگوں نے بھی دہرانا شروع کر دیا ہے۔ بائبل کے دو بڑے حصے ہیں، عہدنامہ قدیم اور عہدنامہ جدید۔ عہدنامہ قدیم میں تورات اور دوسرے انبیاء سے منسوب کتابیں شامل ہیں اور اس حصے پر صلیبی اور یہودی دونوں ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالٰی کے جلیل القدر رسول نوح علیہ السلام کے بارے میں پیدائش باب9 میں لکھا ہے:
"نوح نے کاشتکاری شروع کی اور انگور کا ایک باغ لگایا۔ جب اُس نے اُس کی کچھ مَے پی تو متوالا ہو گیا اور اپنے خیمے میں ننگا ہی جا پڑا۔ کنعان کے باپ حام نے اپنے باپ کو ننگا دیکھا اور باہر آکر اپنے دونوں بھائیوں کا بتایا"۔
اللہ تعالیٰ کے ایک اور جلیل القدر نبی لوط علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ بائبل کے مصنف نے لکھا ہے اسے لکھتے ہوئے دل کانپتا ہے، آپ بھی دل تھام کر پڑھیے گا۔ لکھتا ہے:
"لوط اور اس کی دو بیٹیوں نے ضغر کو خیر آباد کہا ۔ ۔ ۔ ایک دن بڑی بیٹی نے چھوٹی سے کہا "ہمارا باپ ضعیف ہے اور یہاں کوئی مرد نہیں ہے جو ہم سے صحبت کرے جیسا کہ ساری دنیا کا دستور ہے۔ آؤ اپنے باپ کو مے ملائیں اور اس سے صحبت کریں اپنے باپ کے ذریعہ اپنی نسل بچائے رکھیں۔ ۔ ۔ ۔ لہٰذا لوط کی دونوں بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہوئیں۔" (پیدائش باب19)
(نعوذ باللہ من ذلک۔ اللہ کے نبیوں کی توہین کرنے میں یہ لوگ کس قدر بے باک ہیں۔)
سلیمان علیہ السلام سے منسوب ایک نظم "غزل الغزلات" کے نام سے عہد نامہ قدیم میں موجود ہے۔ اس میں محبوب کے پوشیدہ اعضاء تک تعریف اتنے فحش انداز میں کی گئی ہے کہ میں اسے یہاں نہیں لکھ سکتا۔ کوئی صاحب پڑھنا چاہیں تو کیتھولک بائبل کی طرف رجوع کریں۔
اللہ کے فضل سے ہماری مستند کتابوں میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس پر ہمیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔ مناسب تحقیق اور مطلوبہ قابلیت پیدا کیے بغیر اس طرح کی تبدیلیاں شروع ہوگئیں تو پھر یہ کام حدیث تک محدود نہیں رہے گا۔ کل کلاں کوئی شخص اٹھ کر دعوٰی کر دے گا کہ قرآن میں بھی "فحش" مضامین پائے جاتے ہیں، اس لیے اس میں ترمیم کر کے اس قابل بنایا جائے کہ اسے غیر مسلموں کے سامنے پیش کیا جا سکے۔اسلام "مذہب" ہی نہیں "بلکہ "دین" ہے اور زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں راہنمائی فراہم کرتا ہے چاہے وہ اجتماعی زندگی ہو، انفرادی زندگی ہو یا ازدواجی زندگی۔ اسی لیے قرآنِ کریم اور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں حیاتِ انسانی کے ہر گوشے پر گفتگو کی گئی ہے۔ ان مضامین کی تیاری کے سلسلے میں مجھے بارہا کتب احادیث سے رجوع کرنا پڑا اور ان میں بیان کیے گئے مسائل دیکھ کر میرا دل اللہ تعالیٰ کی حمد و شکر کے جذبات سے لبریز ہوتا رہا کہ اس نے ہمارے لیے کیسا مکمل اور جامع دین اتارا ہے ۔ شاید اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا:
"میں تمہیں ایسے روشن (واضح) راستے پر چھوڑ کر جا رہا ہوں جس کی رات بھی اس کے دن کی مانند (روشن) ہے۔" او کما قال علیہ الصلٰوۃ والسلام
ضرورت کے مسائل بتانا قطعًا بے حیائی نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی نورانی آیتوں میں انہیں بیان نہ فرماتے۔چند آیات ملاحظہ کیجیے:
وَيَسْاَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ ھوَ اَذًى فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاء فِي الْمَحِيضِ وَلاَ تَقْرَبُوھُنَّ حَتَّىَ يَطْھُرْنَ فَاِذَا تَطَھَّرْنَ فَاْتُوھُنَّ مِنْ حَيْثُ اَمَرَكُمُ اللّہُ اِنَّ اللّہَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِينَ
نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُواْ حَرْثَكُمْ اَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُواْ لاَنفُسِكُمْ وَاتَّقُواْ اللّہَ وَاعْلَمُواْ اَنَّكُم مُّلاَقُوہُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ (البقرۃ 221 تا223)
"(یہ لوگ) پوچھتے ہیں: حیض کا کیا حکم ہے؟ کہو وہ گندگی کی ایک حالت ہے۔ اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ جب تک وہ پاک صاف نہ ہو جائیں پھر جب وہ پاک ہو جائیں تو اُن کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے۔ ۔ ۔ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اللہ کی ناراضی سے بچو۔۔ ۔ ۔"
احل لکم لیلۃ الصیام الرفث الٰی نسائکم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الآیۃ ( البقرۃ 187)
"حلال کیا گیا ہے تمہارے لیے روزے کی رات میں بے حجاب ہونا اپنی بیویوں کے ساتھ۔ وہ لباس ہیں تمہارے لیے اور تم لباس ہو ان کے لیے ۔ جانتا ہے اللہ کہ بیشک تم خیانت کرتے تھے اپنے آپ سے سو عنایت فرمائی اس نے تم پر اور درگزر کیا تم سے لٰہذا اب مباشرت کرو ان سے اور طلب کرو اس کو جو مقدر کر رکھا ہے اللہ نے تمہارے لیے"
سورۃ الاعراف میں بتایا گیا ہے کہ اولاد صرف اللہ دیتا ہے لیکن پھر بھی لوگ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھیرا لیتے ہیں۔ آیت مبارکہ یہاں سے شروع ہو رہی ہے:
ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ و جعل منھا زوجھا لیسکن الیھا فلما تغشٰھا حملت حملا خفیفا فمرت بہ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ الآیۃ(سورۃ الاعراف۔189)
"وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے مل کر اللہ سے دعا کی کہ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح و سالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھیرانے لگے"
ٹیڑھی سوچ رکھنے والا کوئی آدمی ان آیات پر بے حیائی کا فتوٰی جڑ دے تو کیا قرآن کریم کو بھی اسی طرح تنقید کا نشانہ بننا پڑے گا جیسا آج حدیث کو بنایا جا رہا ہے؟
حدیث میں صنفی مسائل کیوں بیان کیے گئے ہیں
"اسلام کے مجرم" میں جن روایات پر اعتراض کیا گیا ہے ان میں بڑی تعداد ان حدیثوں کی ہے جن میں صنفی معاملات کے بارے میں راہنمائی دی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ایسے مسائل قرآن کریم میں بیان کیے جا سکتے ہیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے قول و فعل سے ان کی وضاحت کیوں نہیں فرما سکتے تھے؟ قرآنِ کریم میں ان کا بیان ہونا بے حیائی کے زمرے میں نہیں آتا تو یہی کلیہ حدیث کے بارے میں استعمال کرنے سے کیا چیز مانع ہے؟ عقل کا تقاضا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوسرے مسائل کی طرح اس گوشے کو بھی تشنہ نہ چھوڑا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ایسی قوم میں پیدا ہوئے تھے جو تہذیب و تمدن کے ابتدائی درجہ میں تھی۔ ان کے سپرد اللہ تعالیٰ نے صرف یہی کام نہیں کیا تھا کہ ان کے خیالات درست کریں بلکہ یہ خدمت بھی ان کے سپرد تھی کہ ان کی زندگی کو بھی درست کریں، ان کو شائستہ اخلاق، پاکیزہ معاشرت، مہذب تمدن، نیک معاملات اور عمدہ آداب (Manners) کی تعلیم دیں۔ یہ مقصد محض وعظ و تلقین اور قیل و قال سے پورا نہیں ہو سکتا تھا۔ 23 سال کی مختصر مدت میں ایک پوری قوم کو وحشت کے بہت نیچے مقام سے اٹھا کر تہذیب کے بلند ترین مرتبہ پر پہنچا دینا اس طرح ممکن نہ تھا کہ محض چند لگے بندھے اوقات میں ان کو بلا کر کچھ زبانی ہدایات دے دی جاتیں۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ خود اپنی زندگی میں ان کے سامنے انسانیت کا ایک مکمل نمونہ پیش کر دیتے اور ان کو پورا موقع دیتے کہ اس نمونہ کو دیکھیں اپنی زندگی اس کے مطابق بنائیں۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتہائی ایثار تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے ہر شعبے کو امت کے لیے پبلک کر دیا۔ اپنی کسی چیز کو بھی پرائیویٹ نہ رکھا۔ حتی کہ ان معاملات کو بھی نہ چھپایا جنہیں دنیا میں کوئی شخص پبلک کے لیے کھولنے پر آمادہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے لوگوں کو اذنِ عام دے دیا کہ آؤ اور ہر وقت ہر حال میں میری زندگی کے ایک ایک پہلو کو دیکھو اور ہرمعاملہ میں مجھ پر نظر رکھو کہ میں کس طرح عمل کرتا ہوں۔ ایک رسول کے کے سوا کوئی دوسرا شخص نہ تو اتنا بڑا ایثار کر سکتا تھا اور نہ کوئی دوسرا شخص یہ جرات ہی کر سکتا تھا کہ اپنی پوری زندگی کو یوں منظرِ عام پر لا کر رکھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عوام کی تعلیم کے لیے اس امر کی عام اجازت دے رکھی تھی کہ ہر چیز میں لوگ آپ کے عمل کو دیکھیں۔ دیکھنے والوں سے سنیں، جاننے والوں سے پوچھیں، خود آپ سے دریافت کریں اور اپنی زندگی کو اس مثالی نمونہ پر ڈھالنے کی کوشش کریں۔ ازواجِ مطہرات کو بھی عام اجازت تھی کہ خلوت میں آپ کا جو طرزِ عمل دیکھیں اس سے عورتوں اور مردوں سب کو آگاہ کر دیں۔ تاکہ لوگوں کی صرف ظاہری زندگی ہی نہیں، باطنی اور مخفی زندگی بھی تہذیب و شائستگی اور طہارت و نفاست کے زیور سے آراستہ ہو جائے۔ اسی غرض کے لیے آپ کی بیویاں آپ کی پرائیویٹ زندگی کے ایسے معاملات بھی لوگوں کو بتانے سے دریغ نہ کرتی تھیں جن کو عام طور پر میاں بیوی کے سوا کوئی نہیں جانتا اور نہ کوئی گوارا کرتا ہے کہ لوگ اس کو جانیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس تعلیم میں آسانی پیدا کرنے کی خاطر ازواجِ مطہرات کو تمام مسلمانوں کی حقیقی ماؤں کی سی حیثیت دے دی تھی اور ان کو افرادِ امت پر حرام کر دیا تھا تاکہ مائیں اپنے بیٹوں سے کھل کر بات چیت کر سکیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر ہر چیز کو ان کے سامنے تقلید و پیروی کے لیے، حلال و حرام کی واقفیت کے لیے، پاک اور ناپاک، شائستہ اور ناشائستہ کی تمیز کے لیے بیان کرتی رہیں۔ آپ نے تعلیم کے لیے حیا کے پردے کو اٹھا دیا اور ہر قسم کے معاملات میں اپنی امت کو خود ہدایات دیں۔ ان کو اجازت دی کہ جو کچھ چاہیں پوچھیں، اور ان کو موقع دیا کہ آپ کے طرز عمل کو دیکھ کر معلوم کریں کہ ایک پاکیزہ اور مہذب اور شائستہ زندگی کیسی ہوتی ہے۔ اسی تعلیم کا ایک شعبہ طہارتِ جسم و لباس بھی تھا۔
"مہذب" قوموں کی حالت
اہل عرب تو خیر وحشی تھے، آج جن قوموں کو تہذیب و تمدن کے آسمان پر ہونے کا دعوٰی ہے، ان کا حال آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟ کھانے کے بعد منہ کی صفائی سے ناواقف، رفعِ حاجت کے بعد جسم کی طہارت سے بابلد، کھڑے کھڑے پیشاب کیا اور پتلون کے بٹن لگا لیے۔ کموڈ سے اٹھے اور ٹب میں اتر گئے۔ پھر تعلقات مرد و زن میں تو ان کی نا شائستگی اور بے حیائی اور ناپاکی اس حد سے گزری ہوئی ہے کہ اس کا ذکر بھی کیا جا سکے۔تمام تر طبی اور نفسیاتی تحقیقات کے باوجود ایڈز جیسی مکروہ بیماری ہے کہ ان میں پھیلتی ہی چلی جا رہی ہے۔ اخلاق سے اس قدر عاری کہ برطانیہ اور کئی دوسرے ملکوں میں ہم جنس پرستی کو پارلیمنٹ نے قانونی تحفظ فراہم کر رکھا ہے۔ یہ حال جب ترقی یافتہ قوموں کا ہے تو اس قوم کا کیا حال ہو گا جو تمدن کے بالکل ابتدائی درجہ میں تھے۔ لوگ حدیث میں جب آپ کی بیویوں اور دوسرے صحابہ و صحابیات کی زبان سے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے اس قسم کے مسائل پڑھتے ہیں جن میں جنابت اور حیض و نفاس اور ایسے ہی دیگر امور کی نسبت انسان کے طرزِ عمل کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں تو فورًا اعتراض جڑ دیتے ہیں کہ یہ باتیں حیا کےخلاف ہے۔ لیکن وہ غور کریں تو ان کو معلوم ہو کہ درحقیقت یہ ایک بہت بڑا ایثار تھا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محض اپنی امت کی خاطر گوارا فرمایا۔ اور یہ اسی ایثار کا نتیجہ ہے کہ نہ صرف اہل عرب بلکہ دنیا کے کروڑہا مسلمانوں کی پرائیویٹ زندگی صفائی جسم اور طہارتِ لباس اور پاکیزگی اطوار اور صنفی معاملات میں شائستگی و نظافت کے ایک عام ضابطہ کی پابند ہو گئی ورنہ اگر ان معاملات کو شخصی ذوق پر چھوڑ دیا جاتا تو ہمارے اکثر افراد کا حال اپنی زندگی کے مخفی شعبوں میں جانوروں سے ملتا جلتا ہوتا۔ (سنت کی آئینی حیثیت)
چند اعتراضات کا جواب
صنفی معاملات کے بارے میں وارد احادیث کو مندرجہ بالا حقاتق کی روشنی میں پڑھنے سے ممکنہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکتا ہے۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ اگر ان مسائل کو نکال دیا جائےتو کونسا دوسرا ذریعہ ہے جس سے شریعت کا حکم پتہ چل سکے؟
ہمارے معاشرے میں اس قسم کے مسائل کا سرعام تذکرہ پسند نہیں کیا جاتا لیکن جب احادیث پر تنقید کی جا رہی ہے تو ان کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔ ایسی شرم و حیا مذموم ہے جو ضرورت کے وقت شرعی مسائل پوچھنے یا بیان کرنے میں رکاوٹ بن جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے:
واللہ لَا یَستحیی مِنَ الحَق (الاحزاب۔53)
"اللہ حق بیان کرنے سے نہیں شرماتا۔"
چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں جن سے حدیث پر کیے جانے والے اعتراضات کا سطحی پن ظاہر ہو جائے گا ان شاء اللہ۔
1۔ روزے کی حالت میں بوسہ لینا
روزہ اسلام کا دوسرا رکن ہے۔ روزے کی درستگی کے لیے دو بنیادی شرائط ہیں۔ کھانےپینے سے رکا رہنا، اور دن کے وقت جنسی تعلقات سے پرہیز کرنا۔ قرآن کریم میں ہے:
احل لکم لیلۃ الصیام الرفث الٰی نسائکم۔ ۔ ۔(البقرۃ۔187)
"حلال کیا گیا ہے تمہارے لیے روزے کی رات میں بے حجاب ہونا اپنی بیویوں کے ساتھ۔ وہ لباس ہیں تمہارے لیے اور تم لباس ہو ان کے لیے۔"
مزید فرمایا:
ولا تباشروھن و انتم عٰکفون فی المساجد (البقرۃ 187)
"اور ان سے مباشرت نہ کرو جب تم مسجدوں میں معتکف ہو۔"
قرآنِ کریم نے چند اصولی باتیں بیان فرما دیں اور تفصیل کو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر چھوڑ دیا۔ انہی میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ روزے کی حالت میں زوجین ایکدوسرے کا بوسہ لے سکتے ہیں یا نہیں؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا طریقہ بتا کر اس مسئلے کا حل بتایا۔ فرماتی ہیں:
"نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیویوں میں سے کسی کا بوسہ لیتے تھے جبکہ وہ روزے سے ہوتے۔ (یہ بات کہنے کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا حیا کی وجہ سے) مسکرا پڑیں۔" (بخاری کتاب الصوم باب القبلۃ الصائم حدیث نمبر1827)
امام ابنِ حجر عسقلانی رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں "عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات تبلیغ اور واقعی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے بتائی۔" یہ نہیں فرمایا کہ "مجھے بوسہ دیتے تھے" بلکہ فرمایا "اپنی بیویوں میں سے کسی کو بوسہ دیتے تھے" تاکہ حیا کا پردہ قائم رہے اور مسئلہ لوگوں کو معلوم ہو جائے۔ اس حدیث پر اعتراض کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ ان مسائل کا شرعی حل بتانا بے حیائی ہوتا تو اللہ تعالٰی قرآنِ کریم میں کبھی ان کا تذکرہ نہ فرماتے۔جب قرآن میں مباشرت تک کے مسائل بتا دیے گئے ہیں تو حدیث میں اس سے کمتر درجے کا مسئلہ بتانے سے کونسی قیامت آ جاتی ہے؟
2۔ مذی کا حکم
اسی قسم کا عتراض علی رضی اللہ سے مروی ایک روایت پر بھی کیا گیا ہے:
"علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں وہ شخص تھا جسکے مذی بہت زیادہ نکلتی تھی، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیٹی میرے گھر تھی اس لیے ان سے براہِ راست اس کا مسئلہ پوچھتے ہوا شرماتا تھا) میں نے مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا "اس کے لیے صرف وضو کافی ہے۔" (بخاری کتاب العلم، باب من استحیاء غیرہ بالسؤال۔ حدیث نمبر132۔ قوسین میں دی گئی عبارت کتاب الغسل کی دوسری روایت سے لی گئی ہے۔)
جو آدمی ساری زندگی پنج وقتہ نماز کا التزام کرتا ہو, خصوصًا وہ لوگ جو سحر خیزی کی لذت سے آشنا ہیں وہ اس حدیث میں بیان کیے گئے مسئلے کی اہمیت سے اچھی طرح واقف ہیں۔
ابن حجر فتح الباری میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں "مذی وہ (بے رنگ) پانی ہے جو شہوت کے وقت مرد سے خارج ہوتا ہے۔" جدید علمِ حیاتیات کی رو سے اس کا کام سپرمز کی راہ صاف کرنا ہے۔ یہ اس مادے سے مختلف ہے جو جنسی عروج کے وقت نکلتا ہے اور جس سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے اور جسے قرآنِ کریم میں "منی" کہا گیا ہے۔ سورۃ القیامۃ آیت 36 اور 37 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ایحسب الانسان ان یترک سدی۔ الم یک نطفۃ من منی یمنٰی
"کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا۔ کیا وہ منی کا ایک قطرہ نہ تھا جو (رحمِ مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے؟"
حدیث کو تو فورًا بے حیائی قرار دے دیا گیا لیکن اس آیت کا کیا کریں گے جس میں "منی" سے انسانی پیدائش کا ذکر ہے؟ قرآنِ کریم میں بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں نطفے سے انسانی پیدائش کا ذکر ہے۔ کیا کل کلاں ان کے خلاف بھی مہم چلائی جائے گی؟ ملاحظہ فرمائیے
سورۃ یٰس کا آخری رکوع:
اولم یر الانسان انّا خلقنٰہ من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین
سورۃ المومنون کی ابتدائی آیات:
و لقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین ثم جعلناہ نطفۃ فی قرار مکین ۔ ۔ ۔ الآیات
سورۃ الحج کی ابتدائی آیات:
یایھا الناس ان کنتم فی ریب من البعث فانا خلقنٰکم من تراب ثم من نطفۃ ۔ ۔ ۔ ۔ الآیات
ایک غلطی کی نشاندہی بھی ضروری ہے۔ "اسلام کے مجرم" کے مصنف نے "کنت رجلا مذا" کا ترجمہ "جریان میں مبتلا رہنا" کیا ہے جبکہ درست ترجمہ وہ ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔


3۔ میاں بیوی کا اکٹھے غسل کرنا عرب کا بڑا حصہ صحراء پر مشتمل ہے جہاں سینکڑوں میل تک پانی کا نام و نشان نہیں ملتا۔ اہلِ عرب کےہاں پانی کی قدروقیمت کسی بھی دوسری شئے سے بڑھ کر تھی۔ پانی لینے کے معاملے پر جنگ چھڑ جاتی جس کی آگ صدیوں تک بجھائے نہ بجھتی تھی۔ تمام تر سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود آج بھی عرب ممالک میں پینےکا پانی پٹرول سے مہنگا ہے۔ مخصوص جغرافیائی حالات اور امت کی سہولت کی خاطر یہ اجازت دی گئی ہے کہ میاں بیوی اکٹھے غسل کر سکتے ہیں اور ایکدوسرے کو بےلباس ہو کر دیکھ سکتے ہیں۔
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ "میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کر لیا کرتے تھے" (بخاری کتاب الغسل باب غسل الرجل مع امراتہ حدیث نمبر247)
اس سے پچھلی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ میمونہ رضی اللہ عنہا ان کے غسل کا طریقہ یوں بیان کرتی ہیں "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طرح وضو کیا جیسے نماز کے لیے کرتے تھے اور اپنی شرمگاہ کو دھویا اور جو گندگی لگ گئی تھی اسے صاف کیا۔ ۔ ۔ ۔ وہ جنابت کا غسل اسی طریقے سے کیا کرتے تھے۔"
کسی ترقی یافتہ شہر میں پرتعیش زندگی گزارنے والے انسان کو شاید سمجھ نہ آ سکے لیکن جسے صحراء میں زندگی گزارنی پڑے، میلوں دور سے پانی لانا پڑے، ایک ایک قطرہ استعمال کرتے ہوئے احتیاط کرنی پڑے، وہ بخوبی واقف ہے کہ اس رخصت نے امت کے لیےکتنی آسانی پیدا کر دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ حکم قرآن ہی سے مستنبط ہے۔ سورۃ البقرۃ آیت 187 میں فرمانِ الہٰی ہے:
ھن لباس لکم و انتم لباس لھن
"تمہاری بیویاں تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کےلیے لباس ہو"
ظاہری بات ہے کہ لباس اور انسان کے جسم کے درمیان کوئی تیسری چیز حائل نہیں ہوتی۔ اس لیے اس آیت سے زوجین کے ایکدوسرے کو کھلے جسم کے ساتھ دیکھ سکنے کا جواز ثابت ہو رہا ہے۔
اس بارے میں ہمارے لوگوں کا رویہ عجیب ہے۔ کچھ عرصہ قبل زکریا نے ایک مراسلے میں اس "فتوے" کا مذاق اڑایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ میاں بیوی ایکدوسرے کو برہنہ نہیں دیکھ سکتے اور اسے ناقابلِ عمل اور مولوی کی شدت پسندی کا مظہر قرار دیا تھا۔ گویا اگر مولوی اسے جائز کہے تو اسے بے حیا اور گستاخ رسول اور اہانتِ رسول کا مجرم ٹھہرایا جائے۔ اور اگر وہ اسے ناجائز کہہ بیٹھے تو رجعت پسندی اور شدت پسندی اور ناقابلِ عمل نظریات جیسے فتوؤں کا نشانہ بننے کے لیے تیار ہو جائے۔
خداوندا ترے سادہ دل بندے کدھر جائیں
یورپ کا کوئی نفسیاتی سنٹر اس کے فائدے بتاتا تو یہی معترضین نہ صرف اس پر آمنا و صدقنا کہتے بلکہ مذکورہ بالا آیت سے اسے ثابت بھی کر دکھاتے۔
منافقین کی ایک سازش
صحیح البخاری کتاب الفتن میں منافقین کی ایک سازش کا ذکر ہے کہ انہوں نے ایک سفر سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گھاٹی سے گرا دینے کا ناپاک منصوبہ بنایا۔ اس حدیث پر یہ اعتراض ہے کہ قرآن کریم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تمام ساتھیوں کو اللہ کی خوشنودی کا پروانہ عطا کیا گیا ہے اس لیے یہ بخاری کی یہ حدیث صحابہ پر بہتان ہے اور اس سے صحابہ کی اہانت ہوتی ہے۔
پنجابی کی مشہور کہاوت ہے کہ ساس کو بہو پر تنقید کرنے کے لیے کوئی بہانہ نہیں مل رہا تھا تو اس نے کہنا شروع کر دیا "تُو آٹا گوندھتےہوئے ہلتی کیوں ہے"۔
سامنے کی بات ہے کہ اس حدیث میں صحابہ کا نہیں منافقین کا ذکر ہے۔اللہ کی پناہ، تعصب انسان کو کتنا اندھا کر دیتا ہے۔اکثر مدنی سورتوں منافقین کی سازشوں اور چالبازیوں کا ذکر ہے۔ سورۃ التوبۃ آیت 101 میں ہے:
و ممن حولکم من الاعراب منافقون و من اھل المدینۃ مردوا علی النفاق لا تعلمھم نحن نعلمھم
"اور تمہارے گردوپیش والوں میں اور کچھ مدینے والوں میں ایسے منافق ہیں کہ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ ان کو نہیں جانتے ان کو ہم جانتے ہیں"۔
سورۃ التوبۃ آیت 74 کے بارے میں مفسرین کا کہنا ہے کہ اس میں منافقین کے اسی ناپاک ارادے کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر مذکورہ حدیث میں کیا گیا ہے۔
و ھموا بما لم ینالوا
"(ان منافقین نے )اس کام کا ارادہ کیا جو وہ پورا نہ کر سکے"
 

قسیم حیدر

محفلین
زوجیت یا ملکیت
بخاری کتاب النکاح کی ایک حدیث ہے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے ہبہ کیا۔وہاں موجود ایک شخص نے جب دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی پیشکش قبول نہیں کی تو عرض کیا "یارسول اللہ! اس خاتون کو میری زوجیت میں دے دیں"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا "تیرے پاس کچھ (مال) ہے"؟ عرض کیا "کچھ بھی نہیں ہے"۔ ارشاد فرمایا "اسے کچھ دو چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی ہو"۔انہوں نے عرض کیا "میرے پاس کچھ بھی نہیں"۔ پوچھا "تجھے قرآن کا کچھ حصہ یاد ہے"؟ صحابی نے بتایا کہ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے کہا " میں نے اسے تیری زوجیت میں دے دیا قرآن کی ان سورتوں کے بدلے جو تجھے حفظ ہیں۔"
"ملکتھا" کا ترجمہ "اسلام کے مجرم" کے مصنف نے یوں کیا ہے:
"I make you the owner of this woman"
"میں نے تجھے اس عورت کا مالک بنا دیا"
پھر اعتراض جڑ دیا کہ ان الفاظ سے عورتوں کی توہین کا پہلو نکلتا ہے لہٰذا یہ حدیثِ رسول نہیں ہو سکتی۔
اس اعتراض کو دیکھ کر مجھے سید مودودی رحمہ اللہ کی بات یاد آ گئی۔ لکھتے ہیں:
" قدیم زمانے میں جو لوگ اس (انکارِ حدیث کے) فتنے کا عَلم لے کر اٹھے تھے وہ ذی علم لوگ تھے۔ عربی زبان و ادب میں بڑا پایہ رکھتے تھے۔ قرآن، حدیث اور فقہ کے علوم میں کافی درک رکھتے تھے۔ اور ان کو سابقہ بھی اس مسلمان پبلک سے تھا جس کی علمی زبان عربی تھی، جس میں عام لوگوں کا تعلیمی معیار بہت بلند تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اسی وجہ سے قدیم زمانے کے معتزلہ بہت سنبھل کر بات کرتے تھے۔ اس کے برعکس ہمارے دور میں جو لوگ اس فتنے کو ہوا دینے کے لیے اٹھے ہیں ان کا اپنا علمی پایہ بھی سرسید کے زمانہ سے لے کر آج تک درجہ بدرجہ ایک دوسرے سے فروتر ہوتا چلا گیا ہے، اور ان کو سابقہ بھی ایسی پبلک سے پیش آیا ہے جس میں عربی زبان اور دینی علوم جاننے والے کا نام “تعلیم یافتہ” نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ایسے حالات میں پرانے اعتزال کی بہ نسبت نئے اعتزال کا معیار جیسا کچھ گھٹیا ہو سکتا ہے ظاہر ہے۔ یہاں علم کم اور بے علمی کی جسارت بہت زیادہ ہے۔"
عربی زبان میں "مَلَکَ، مَلِکًا، مُلکًا"( باب "ضَرَبَ یَضرِبُ") کا مطلب "مالک ہونا، ملکیت میں لینا" اور "مَلَکَ، مِلکًا و مُلکًا" کا مطلب "نکاح میں لینا" ہے۔(فیروز اللغات عربی اردو ص 701)
جب کسی عورت کے بارے "ملکتھا" کہا جائے تواس کا مطلب "مالک بنانا" نہیں "نکاح میں دینا" ہوتا ہے۔ یہ ایسی کھلی ہوئی بات ہے کہ مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ اس حدیث سے مذکورہ معنی وہ شخص نکال سکتا ہے جو صرف و نحو اور عربی لغت سے بالکل ہی ناواقف ہو یا پھرتعصب میں اندھا ہو چکا ہو۔
امام بخاری نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں کئی جگہ مختلف سندوں کے ساتھ لکھا ہے اور دوسری سند میں "ملکتھا" کی بجائے "زوجتھا" کے لفظ ہیں۔ جو اصل مفہوم کو مکمل طور پر واضح کر دیتے ہیں۔ اس طرح کی علمی خیانتوں سے تو قرآنِ کریم سے بھی عوتوں کی توہین کا پہلو نکالا جا سکتا ہے۔ سورۃ البقرۃ میں ہے:
فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ (آیت229)
"اس لیے اگر تمہیں ڈر ہو کہ یہ دونوں (یعنی میاں بیوی) اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت رہائی پانے کے لیے کچھ دے ڈالے، اس میں دونوں پر کچھ گناہ نہیں"۔
کوئی ٹیڑھا دماغ کہہ بیٹھے کہ قرآن میں نکاح کے نام پر عورتوں کو قید کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے تو کیا قرآن کو بھی اسی طرح تختہ مشق بنایا جائے گا جیسے آج حدیث کو بنایا جا رہا ہے؟
ایک صحابیہ کا خود کو ہبہ کرنا
بخاری کتاب النکاح میں ذکر ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر کہتی ہے کہ میں اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں۔ اس حدیث پر بھی عورت کی شان کم کرنے کا فتوٰی لگایا گیا ہے۔ حالانکہ اس عورت نے تو قرآنی حکم پر عمل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مومن عوتوں کو اجازت دی تھی کہ وہ اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے ہبہ کر سکتی ہیں لیکن نکاح تب ہو گا اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسا کرنا چاہیں۔ سورۃ الاحزاب آیت 50 میں ان عورتوں کا ذکر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے حلال کی گئیں اور ان میں سے ایک وہ عورت ہے جو
وامراۃ مومنۃ ان وھبت نفسھا للنبی۔ ۔ ۔ (الاحزاب۔50)
"وہ باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کر دے، یہ اس صورت میں کہ خود نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں،(اے نبی) یہ حکم خاص طور پر آپ کے لیے ہے دوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے۔"
اہلِ قرآن ہونے کا دعوٰی اور قرآنی حکم پر عمل کرنے والوں پر تنقید، چہ معنی وارد؟

نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح
عرب اپنے داماد کے خلاف لڑنے کو عار اور بے غیرتی سمجھتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو عقد میں لیا تو ان کا والد ابوسفیان پھر کبھی آپ کے مقابلے پر نہیں آیا حالانکہ مسلمان ہونے سے پہلے کفار مکہ کی سرداری ان کے پاس تھی۔ خیبر فتح ہوا تو قیدیوں میں یہودی سردار حیی بن اخطب کی بیٹی صفیہ بنت حیی بھی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں وحیہ کلبی رضی اللہ عنہا کو دے دیا۔ لیکن پھر کسی نے عرض کیا کہ وہ سردار کی بیٹی ہے اس لیے آپ انہیں اپنے پاس رکھیں۔ تائیدِ مزید کے طور پر کسی نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے خوش شکل ہونے کا ذکر بھی کر دیا۔ اس واقعے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنی زوجیت میں لے لیا۔
آپ کی اپنی مرضی ہے کہ آپ اپنے رسول سے کس قسم کا گمان رکھتے ہیں یہ کہ انہوں نے لڑائی سے بچنے اور انسانی جانوں کو بچانے اور بنو نضیر کو دوبارہ مسلمانوں کے مقابلے پر آنے سے روکنے کے لیے یہ نکاح کیا یا اس کی وجہ کچھ اور تھی۔ جس پاک ہستی نے اپنی جوانی کے بہترین ایام ایک ہی خاتون کے ساتھ گزار دیے ہوں کیا یہ ممکن ہے کہ بڑھاپے میں اس پر جذبات کا ایسا غلبہ ہو کہ کسی خاتون کی خوبصورتی کا ذکر سن کر ہی وہ بے قابو ہو جائے۔ صرف ایک روایت کو دیکھ کر کوئی نتیجہ نکالنے سے پہلے اس بارے میں مذکور دوسری احادیث کو بھی دیکھ لیتے تو پورا معاملہ سمجھ میں آ جاتا اور غلط فہمی پیدا نہ ہوتی۔ حدیث سے الٹے مطلب نکالنے والوں کو غور کرنا چاہیے کہ ٹیڑھی سوچ رکھنے والا کوئی آدمی اس آیت سے غلط مطلب نکالنا چاہے تو کیا کیا نکال سکتا ہے۔
لا یحل لک النساء من بعد و لا ان تبدل بھن من ازواج و لو اعجبک حسنھن الا ما ملکت یمینک (الاحزاب۔ 50)
" ان کے بعد اور عورتیں تمہیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ ان کے عوض اور بیبیاں بدلو اگرچہ تمہیں ان کا حسن بھائے" (ترجمہ احمد رضا خان)
آیات سے اس قسم کا استدلال کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تعصب کی عینک لگا کر قرآن پڑھا جائے تو اس میں بھی خامیاں نظر آئیں گی۔ کیا وجہ ہے کہ ہزاروں غیرمسلم ہیں جو بعض مسلمانوں سے بڑھ کر اسلام اور قرآن کا علم رکھتے ہیں لیکن ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ اسلامی علوم میں ڈاکٹریٹ کر لیتے ہیں لیکن ایمان کی ایک رمق دل میں پیدا نہیں ہوتی۔ وجہ صرف یہ ہے کہ جو آدمی خود سیدھی راہ اختیار نہ کرنا چاہے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ حدیث کی بات بعد کی ہے خود قرآن کے بارے میں فرمایا کہ:
یضل بہ کثیرًا و یھدی بہ کثیرًا (البقرۃ)
"(اللہ) اس (قرآن) کے ذریعے بہت سوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے۔
جوتوں سمیت نماز پڑھنا
بخاری شریف کی ایک حدیث میں ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھی۔ سوال پیش کیا گیا ہے کہ آج مسلمان اس پر کیوں عمل نہیں کر سکتے؟ کیوں نہیں کر سکتے، ہم نے بہت سے مسلمانوں کو دیکھا ہے کہ وہ جوتوں سمیت نماز پڑھ لیتے ہیں۔ عرب ملکوں میں فوج اور پولیس کے اہلکار کام کے اوقات میں جوتے نہیں اتارتے اور ان پر مسح کر کے نماز پڑھ لیتے ہیں۔ سید مودودی رحمہ اللہ نے تفہیم القرآن میں سورۃ طہ کی آیت فاخلع نعلیک انک بالواد المقدس طوی کے تحت اس موضوع پر بہت اچھی تحقیق پیش کی ہے۔
امت کا بہترین شخص
بخاری کتاب النکاح کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ “رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایمان والوں میں سے بہترین شخص وہ ہے جس کی بیویاں زیادہ ہیں۔”
بخاری کتاب النکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایسا کوئی فرمان موجود نہیں ہے۔ البتہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس سےملتا جلتا ایک قول نقل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے زیادہ بیویوں رکھنے والے شخص کو بہترین قرار دیا ہے۔ جب ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی تھی تو اس وقت عرب قوم نے پوری دنیا سے جنگ مول لے رکھی تھی۔ عربی جوانوں کی بڑی اکثریت ان جنگوں میں شہید ہوتی رہی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی زندگی میں روم و ایران کے ساتھ معرکے برپا تھے۔ ایک مشہور جنگ میں 96 ہزار مسلمان شہید ہوئے تھے۔ اس وقت مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کا تقاضا تھا کہ ایک شخص زیادہ سے زیادہ عورتوں کو اپنے حبالہ عقد میں لے۔ تعدد ازواج ہی کی برکت تھی کہ عرب قوم ان خرابیوں سے محفوظ رہی جو ایسے اوقات میں برساتی مینڈکوں کی طرح نکل آتی ہیں۔ معترضین نہیں سوچتے کہ ایسا نہ کیا جاتا تو ان لاکھوں خواتین کا مستقبل کیا ہوتا جن کے خاوند جہاد میں شہید ہو جاتے تھے۔ مجھے تو اُس شخص کے بہترین انسان ہونے میں کوئی شک نہیں ہے جو اس وقت زیادہ سے زیادہ بیواؤں کا سہارا بننے کی کوشش کرتا۔ مصنف نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول کو تو حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طور پر پیش کر دیا ہے لیکن ان ساری حدیثوں کا ذکر وہ گول کر گئے ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بہترین انسان کی خوبیاں بیان کی ہیں۔ اس بارے میں صحیح البخاری ہی کی دو احادیث ملاحظہ فرمائیے:
۔ قال رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم: "ان مِن خِیرِکُم احسَنُکُم خُلُقا" (صحیح البخاری۔ کتاب الادب۔ باب لم يكنِ النبيُّ صلى اللہ عليہ وسلم فاحشاً ولا متفاحشاً)
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا "تمہارے بہترین لوگوں میں سے وہ ہیں جن کے اخلاق بہترین ہیں۔"
2۔ خيرُكم من تعلم القرآن وعلمہ (صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن۔ باب خيرُكم من تعلم القرآن وعلمہ)
"تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو خود قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔"اس صحیح حدیث سے یہ تاثر بھی زائل ہو جاتا ہے کہ حدیث کا علم قرآن سے دور رکھنے کے لیے ایجاد کیا گیا۔
کنواری لڑکی سے شادی کرنا
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نےنوجوانی ہی میں زیادہ عمر کی ایک بیوہ خاتون سے شادی کر لی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے اس خلاف عادت کام کا سبب دریافت کیا کہ "تم نے کسی کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی کہ تو اس سے کھیلتا اور وہ تجھ سے کھیلتی"۔ (بخاری۔ کتاب النکاح۔باب تزویج الثیبات،)
اس حدیث پر یہ اعتراض ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیواؤں کا خیال رکھنے والے تھے وہ ان سے نکاح کرنے سے کیسے منع کر سکتے تھے۔ محدثین کسی باب میں حدیث کا اتنا ہی حصہ ذکر کرتے ہیں جتنا اس کے موضوع سے مناسبت رکھتا ہے اس لیے کسی واقعے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بارے میں وارد تمام روایات کو جمع کر کے کوئی نتیجہ اخذ کیا جائے۔ جس باب کا حوالہ اس کتاب میں دیا گیا ہے اس کا عنوان ہے " بیوہ سے نکاح کرنے کا بیان"۔ یہاں امام صاحب سے حدیث کا صرف اتنا ٹکڑا ذکر کیا ہے جس کا تعلق بیوہ سے نکاح کرنے سے ہے۔ باقی تفصیل صحیح البخاری ہی کی کتاب التفسیر باب غزوۃ الاحد میں بیان کی گئی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
"جابر رضی اللہ عنہ نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سوال کا جواب دیتے ہوئے) عرض کیا " یا رسول اللہ! میرے والد غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنے پیچھے نو بیٹیاں یعنی میری بہنیں چھوڑیں۔ اب مجھے ناپسند ہے کہ میں ایک ناپختہ نوجوان لڑکی کو ان کے ساتھ اکٹھا کر دوں۔میں نے ایسی خاتون کا انتخاب کیا جو ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کر سکے۔" نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "تو نے ٹھیک کام کیا۔" (کتاب التفسیر باب غزوہ الاحد۔حدیث نمبر3964)
"اَصَبُتَ" یعنی اے جابر! "تو نے ٹھیک فیصلہ کیا۔"
کسی عام کتاب کا مصنف ایک واقعے کے دو ٹکڑوں کو مختلف جگہوں پر بیان کرے تو صورتِ واقعہ کو درست طور پر سمجھنے کے لیے دونوں مقامات کا مطالعہ ضروری ہے۔ افسوس حدیث کو پرکھنے کا دعوٰی کرتے وقت اتنی احتیاط بھی نہیں برتی جاتی۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکے کے لیے بہتر ہے کہ وہ کنواری لڑکی سے شادی کرے۔ یہ بات دلیل کی محتاج نہیں ہے کہ دونوں کے کنوارا ہونے سے ان میں موافقت کی توقع زیادہ ہے اور عمروں کے تفاوت کی وجہ سے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں ان سے بچنا ممکن ہے۔ یہ نفسیات کا سادہ سا مسئلہ ہے جسے حدیث دشمنی میں متنازعہ بنا دیا گیا۔
ام الؤمنین عائشہ رضی اللہ عہنا کا غسل کرنا:
صحیح البخاری کتاب الغسل کا ایک باب ہے "ایک صاع پانی وغیرہ سے غسل کر لینا"۔ اس باب میں امام بخاری نے وہ حدیثیں بیان کی ہیں جن سے یہ بات نکلتی ہے کہ غسل کرنے کے لیے ایک صاع (ایک عربی پیمانہ) پانی کافی ہے۔ اس باب میں ابو سلمہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتے ہیں کہ "میں اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ان سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غسل کی بابت دریافت کیا۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک برتن منگوایا جو قریب قریب ایک صاع کے برابر تھا اور انہوں نے غسل کیا اور اپنے سر پر پانی بہایا اس حال میں کہ ہمارے اور ان کے درمیان پردہ تھا۔"
اس حدیث پر اعتراض کرنے والوں کی پہلی غلطی یہ ہے کہ وہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہا کا نام پڑھ کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ کوئی غیر شخص تھے، حالانکہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھانجے تھے جنہیں ام کلثوم بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا نے دودھ پلایا تھا۔ پس دراصل یہ دونوں صاحب جو عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسئلہ پوچھنے گئے تھے، ان کے محرم ہی تھے ان میں کوئی غیر نہ تھا۔
پھر دوسری غلطی، بلکہ زیادتی وہ یہ کرتے ہیں کہ روایت میں تو صرف "حجاب" یعنی پردے کا ذکر ہے مگر یہ لوگ اپنی طرف سے اس میں یہ بات بڑھا لیتے ہیں کہ وہ پردہ باریک تھا۔ اور اس اضافے کے لیے وہ دلیل یہ دیتے ہیں کہ اگر باریک نہ ہوتا جس میں سے عائشہ رضی اللہ عنہا نہاتی ہوئی نظر آ سکتیں تو پھر اسے درمیان میں ڈال کر نہانے سے کیا فائدہ تھا؟ حالانکہ اگر انہیں یہ معلوم ہو جاتا کہ اس وقت مسئلہ کیا درپیش تھا جس کی تحقیق کے لیے یہ دونوں صاحب اپنی خالہ اور بہن کے پاس گئے تھے، تو انہیں اپنے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا اور یہ سوچنے کی ضرورت بھی پیش نہ آتی کہ پردہ باریک ہونا چاہیے تھا۔
دراصل وہاں سوال یہ نہ تھا کہ غسل کا طریقہ کیا ہے، بلکہ بحث یہ چھڑ گئی تھی کہ غسل کے لیے کتنا پانی کافی ہو سکتا ہے۔ بعض لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق یہ روایت پہنچی تھی کہ وہ ایک صاع بھر پانی سے غسل کر لیتے تھے۔ اتنے پانی کو لوگ غسل کے لیے ناکافی سمجھتے تھے اور بنائے غلط فہمی یہ تھی کہ وہ غسلِ جنابت اور غسل بغرض صفائی بدن کا فرق نہیں سمجھ رہے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو تعلیم دینے کے لیے بیچ میں ایک پردہ ڈالا جس سے صرف ان کا سر اور چہرہ ان دونوں صاحبوں کو نظر آتا تھا اور پانی منگا کر اپنے اوپر بہایا۔ اس طریقے سے عائشہ رضی اللہ عنہا ان کو دو باتیں بتانا چاہتی تھیں۔ ایک یہ کہ غسل جنابت کے لیے صرف جسم پر پانی بہانا کافی ہے۔ دوسرے یہ کہ اس مقصد کے لیے صاع بھر پانی کفایت کرتا ہے۔ اس تشریح کے بعد آپ خود سوچیں کہ اس میں آخر قابل اعتراض چیز کیا ہے جس کی بنا پر خوامخواہ ایک مستند حدیث کا انکار کرنے کی ضرورت پیش آئے اور پھر اسے تمام حدیثوں کے غیر معتبر ہونے پر دلیل ٹھہرایا جائے؟ (رسائل و مسائل حصہ دوم۔ سید مودودی)
معترضین کو عربی بلاغت کے ابتدائی قواعد سے آشنائی پیدا کرنی چاہیے ورنہ "فسالھا اخوھا عن غسل النبی فدعت ۔ ۔ ۔" کے بارے میں ان کی غلط فہمی دور ہونا مشکل ہے۔ علاوہ ازیں عربی زبان میں ایک ہی چیز کے لیے کئی لفظ استعمال کیے جاتے ہیں جن میں سے ہر ایک ایسا خاص مطلب رکھتا ہے جو دوسرے لفظ میں نہیں ہوتا۔ مثلًا "ڈرنے" کے لیے قرآن کریم خوف، خشیۃ، حذر، وجل، وجس، تقوٰی اور رھب کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اسی طرح "پردہ" کے لیے قرآنِ کریم میں یہ لفظ آئے ہیں۔
غطاء، غشاوۃ، غُلف، اکمام، اکنۃ، ستر، حجاب، عورۃ، اور سُرادق۔
ان کے معانی کا ذیلی فرق ملاحظہ فرمائیے:
غطاء: اس پردے کو کہتے ہیں جو کسی چیز کی ایک خالی طرف کو کثیف چیز سے ڈھانپ کر اوجھل کر دے۔
غلف: ایسا پردہ جو کسی چیز کو چاروں طرف سے ڈھانک دے۔
اکمام: درختوں کے میووں کے اوپر کا پردہ
اکنۃ: حفاطت کے لیے لگایا گیا پردہ
سترا: جزوی طور پر حائل ہونے والا پردہ
سرادق: قناتیں، بغیر چھت کے موٹے کپڑے کے کھڑے کیے ہوئے پردے
عورۃ: مقامات ستر اور ان کا پردہ
غشاوہ: کسی باریک چیز کا پردہ جس سے اس کے پار کچھ نہ کچھ نظر آتا رہے۔
حجاب: ایسا پردہ جس کے آر پار دیکھنا ممکن نہ ہو۔ (مترادفات القرآن)
عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب غسل کیا تو ان کے اور سوال کرنے والے اشخاص کے درمیان "حجاب" یعنی ایسا پردہ حائل تھا جس کے آر پار دیکھنا ممکن نہیں۔ قرآنِ کریم میں "حجاب" کا لفظ دبیز پردے کے لیے ہی استعمال ہوا ہے:
و اذا سالتموھن متاعا فاسئلوھن من وراء حجاب (الاحزاب)
"اور جب تم ان (ازواج مطہرات سے) کوئی چیز مانگو تو پردے (حجاب) کے پیچھے سے مانگو۔"
قریب یا دور سے" حجاب" کےآر پار دیکھنا ممکن ہوتا تو اس حکم کا فائدہ ہی کیا ہوا جو اس آیت میں دیا گیا ہے۔ "حجاب" کو باریک پردہ کہنے والوں کے نزدیک گویا اللہ تعالیٰ‌یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ازواجِ مطہرات سے کچھ مانگنا ہو تو منہ در منہ مت مانگا کرو بلکہ ایسا باریک پردہ لٹکا لیا کرو جس کے دوسری طرف سب کچھ نظر آتا رہے۔ سبحان اللہ
انہی معنوں میں یہ لفظ سورۃ الشورٰی کی آیت 51 میں بیان ہوا ہے:
و ما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا او من وراء حجاب او یرسل رسولا فیوحی باذنہ ما یشاء
"اور نہیں ہے یہ مقام کسی بشر کا کہ بات کرے اس سے اللہ مگر وحی کے ذریعہ سے یا پردے (حجاب) کے پیچھے سے یا وہ بھیجتا ہے پیامبر (فرشتہ) پس وہ وحی کرتا ہے اللہ کے اذن سے جو کچھ اللہ چاہتا ہے۔ بلاشبہ وہ ہے برتر اور بڑی حکمت والا۔"
اس تحقیق سے ان معانی کا لغو ہونا واضح ہو جاتا ہے جو زبردستی اس حدیث سے نکالے جا رہے ہیں۔
 

قیصرانی

لائبریرین
اب میں ذرا آپ سب دوستوں کو دعوت دوں گا کہ فاروق بھائی کی باتوں کا جو جواب اجمل صاحب، باذوق اور فرید احمد نے دیا تھا، اس سے اسلام کی کتنی عزت ہوئی، مخالف دوست کی کتنی عزت ہوئی اور اصل مسئلے پر کتنی روشنی پڑی۔ اسی بات کو فاروق بھائی اور قسیم حیدر کی پوسٹس کے تقابل سے دیکھ لیں :)
 

قسیم حیدر

محفلین
اب میں ذرا آپ سب دوستوں کو دعوت دوں گا کہ فاروق بھائی کی باتوں کا جو جواب اجمل صاحب، باذوق اور فرید احمد نے دیا تھا، اس سے اسلام کی کتنی عزت ہوئی، مخالف دوست کی کتنی عزت ہوئی اور اصل مسئلے پر کتنی روشنی پڑی۔ اسی بات کو فاروق بھائی اور قسیم حیدر کی پوسٹس کے تقابل سے دیکھ لیں :)
مجھے پہلے دن سے اندازہ تھا کہ بالآخر یہی بات کہی جائے گی۔ "اسلام کے مجرم" میں احادیث کو جس رنگ میں پیش کیا گیا ہے اسے پڑھ کر کسی ناواقف آدمی کی نظر میں اسلام کی عزت میں اضافہ ہو گا؟
 
قسیم حیدر صاحب کا شکریہ کہ وہ اتنی محنت سے یہ کام کررہے ہیں۔ جہاں‌مناسب معلومات فراہم کررہے ہیں، وہاں آپ کو تائیدی شکریہ اور جہاں مناسب نہٰیں‌لگے وہاں تنقیدی لیکن ایماندارانہ جواب۔ کسی بھی مثال میں ‌اشارہ آپ کی طرف نہیں ہے۔ میں نے دو بار دیکھا ہے کہ کوئی ایسی بات نا ہو جو ذاتی ہو۔ اگر پھر بھی آپ کو کہیں ایسا تاثر ملے کے آپ کی طرف اشارہ ہے تو معاف فرمائیں کہ منشاء اور مقصد یہ نہیں۔

جو تشریح ، شرح کتب روایات سے یہاں‌ پیش کی گئی وہ استفسارِ غسلِ نبوی کا جواب ، مقدار اور عمل سے واضح ہے۔ حجاب عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس کپڑے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس سے دیکھا جانا ممکن ہو۔ کہ جو قریب ہو وہ دیکھ سکے اور جو دور ہو وہ نہ دیکھ سکے۔ لہذا جو تشریح بیان کی گئی ہے وہ حد درجہ معصومیت پر مبنی ہے جو باایمان کے لئے تو اس طرح بنادی جاتی ہے اور انتشار پھیلانے والے اسے کسی اور طرح استعمال کرتے ہیں۔ یہ بات کسی بھی پڑھے لکھے صاحب علم اور اسلام دوست شخص کی سمجھ میں آجائے گی۔ خاص طور پر جس شخص کی عربی دانی اس کے مترجم القرآن ہونے سے واضح ہو۔ سوال یہ ہے کہ ایسی ذومعنی روایات کی ضرورت کیا ہے؟ کیا ان کا شمار درآیت میں ہوگا، اگر ہاں تو ان کو 'صحاح ستہ' میں کیوں شامل کیا جاتا ہے۔ سوال کا جواب دیتے وقت یہ بھی ذہن میں رکھئے کہ ان روایات کو بنا کسی تشریح کے دشمنان اسلام اپنے مقاصد کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔

کچھ سوالات:
1۔ کتب روایات کی کیا حیثیت ہے؟ کیا یہ قرآن کے مساوی ہیں؟

آپ کا ترجمہ :
مجھ سے کچھ نہ لکھو اور جس نے مجھ سے قرآن کے علاوہ اور کچھ لکھا ہو وہ اسے مٹا دے، اور مجھ سے زبانی حدیث بیان کرو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا ۔۔ہمام نے کہا میرا خیال ہے کہ انہوں نے "جان بوجھ کر" کے الفاظ بھی کہے تھے۔۔تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے"

مقصد اس سوال کا یہ ہے کہ یہ واضح کیا جائے کیا جائے کہ یہ کتب روایات علم و اعلام کا ذریعہ ہیں اور ان میں موجود روایات کو قرآن سے پرکھا جائے۔ اصول بہت سادہ ہے اور خود اس قول رسول صلعم سے واضح‌ ہے کہ ضو القران یعنی قرآن کی روشنی میں دیکھ لو -

2۔ پہلے دو خلفائے راشدین نے قرآن کی تدوین اور قرآن کی نقل بنانے پر کام کیا لیکن کسی بھی خلفائے راشدین نے صحاح ستہ اور( اس جیسی تین کتب جو شیعہ حضرات استعمال کرتے ہیں)، جیسی کتب روایات کیوں نہیں ترتیب دیں، اور (کم از کم دو خلفاء نے) اپنے اقوال رسول کے مجموعے کیوں جلادئے یا ضائع کردئے تھے؟ اس پر روشنی ڈالئے۔

3۔ وہ کونسی وجہ تھی کہ ان روایات کو دو سو سال بعد کتب کی شکل دی گئی اور ان روایات کو کتاب کی شکل دینے کوشش کسی صحابہ نے کیوں نہیں کی ؟

4۔ ایک اور تھریڈ میں کم از کم حضرت عثمان کے زمانے کے قرآن اور اس سے پہلے حضرت ابوبکر کے قرآن کے حوالہ جات دئے جا چکے ہیں۔ جن میں سے کچھ ان ہی کتب سے ہیں۔ قرآن کا لکھا جانا ان کتب روایات سے ثابت ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب لکھنے کی ٹکنالوجی 200 سال پہلے بھی موجود تھی تو ان نو کتب کی اصل کتب روایات کہاں‌ ہیں؟ یا سب سے پرانی کتب روایات کہاں ہے؟

مقصد اس سوال کا یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اصل مصنف نے کیا لکھا؟ اور بعد میں‌کیا در آیت ہوئی؟

درآیت کی مد میں سوال:
5۔ اصل کتب کی غیر موجودگی میں یہ کیسے طے پائے گا کہ ان کتب میں اہانت اللہ، اہانت رسول کی درآیت ہوئی ہے یا نہیں۔ اور اصل مصنف نے کیا لکھا تھا؟
اہانت قرآن : قرآن پتھروں، ہڈیوں ، لکڑی اور پارچوں پر لکھا تھا ، یہ واقعہ بیان ہو رہا ہے حضرت عمر کے دور میں۔ جبکہ حضرت حفصہ کی کتاب موجود ہے۔ جس کا موازنہ بعد میں حافظوں کی مدد سے کیا گیا۔
اہانت مسجد: مسجد نبوی میں کتے پیشاب کرجاتے تھے اور ان پر کوئی پانی بھی نہیں بہاتا تھا۔
اہانت رسول :‌ اگر کچھ بہتر ملے گا تو میں (دوسری قوم سے کیا ہو عہد)‌ توڑ دوں گا۔

حوالے جان بوجھ کر فراہم نہیں کر رہا ہوں اس کی وجہ درج ذیل سوال ہے؟

ایسی کئی سو روایات ڈاکٹر شبیر احمد نے اپنی کتاب میں لکھی ہیں جن کے کئی کئی معنی نکلتے ہیں اور واضح معنی پر اہانت ہیں۔ وہ تارک حدیث کیوں کر قرار دئے جاسکتے ہیں جب کہ ان کی اپنی تصنیف انتخاب حدیث موجود ہے۔ ایسا کیوں ‌ہے کہ اگر ایک بھی روایت کی صحت کے بارے میں سوال کیا جائے تو سوال کرنے والا تارک حدیث کیوں کہلاتا ہے اور وہ لوگ جو دوسرے فرقہ کی پوری کی پوری حدیث کی کتاب سے انکار کرتے ہیں‌ وہ کیا کہلائیں گے؟

6۔ کتب روایات کا معیار کیا ہے؟ کونسی کتاب سب سے پرانی ہے جس کو بنیاد بنایا جائے اور کس کتاب کی ترتیب درست ہے؟ آپ اپنی کتاب سے دیکھ کر یہاں‌ لکھئے کہ جلد نمبر 1، کتاب نمبر 4، روایت نمبر 174 کا متن کیا ہے اور یہ کس کی طبع شدہ ہے؟ تاکہ میں دوسری کتاب سے یہی حوالہ دے سکوں۔

آپ ماشاء اللہ ان کتب کا بہت مطالعہ کرتے ہیں۔ میری معلومات اس بارے میں ناقص ہے۔ آپ کو بھی نظر آتا ہوگا کہ کتب روایات میں بہت بہت فرق ہے۔ ایک کتاب کی ترتیب دوسری سے مختلف ہے۔ ایسا صرف علم و اعلام کی کتب میں ہو سکتا ہے۔ اصل کتب کا پتہ نہیں کہ یہ نہیں معلوم کے اصل مصنف نے کیا لکھا تھا اور بعد میں‌دشمنان اسلام نے کیا داخل کیا۔ اس مد میں کیا احتیاط کی جائے ؟ روشنی ڈالئے۔

اگر کوئی ایک بھی روایت کی طرف اشارہ کرے کہ اسں روایت کو دیکھو تو وہ کون ہوتا ہے؟ تارک حدیث۔
چاہے وہ مذکورہ روایت، ان میں سے آدھی کتب میں موجود ہی نہ ہو؟

اگر یہی معیار ہے تارک حدیث کا کہ اگر روایت کی بابت سوال بھی کیا تو بن گئے تارک حدیث، تو جو لوگ شیعہ کتب روایات کو نہیں‌مانتے کیا وہ ہوئے تارک حدیث اور جو سنی کتب روایات کو نہیں مانتے تو کیا وہ ہوئے تارک حدیث۔ اس پر روشنی ڈالئے۔

بیوقوفی کی بات کرتا ہوں، اس سے سبق جو چاہے لے لے۔
ایک شخص شام کو گھر لوٹا، بیوی سے پوچھا، - کیا پکایا ہے؟ بیوی نے جواب دیا - خاک -
وہ شخص سیدھا ایک ماہر کے پاس پہنچا کہ میری بیوی نافرمان ہے۔ ایسا کہتی ہے۔
ماہر کہنے لگا، جناب آپ کو زبان نہیں آتی ۔
وہ شخص‌حیران۔۔۔۔ کہنے لگا وہ کیسے۔
ماہر (جو عورت کا بھائی تھا) کہنے لگا ایسے دیکھیں۔ -خاک - کو الٹ کریں تو بنا -کاخ - جس کے معنے فارسی میں ہوئے ' محل ' اور چونکہ خاک کو الٹا کیا تھا تو اب محل کو بھی الٹا کرلیں بنا ' لحم ' اور ' لحم ' عربی میں گوشت کو کہتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ تمہاری عربی اور فارسی کمزور ہے جو تم نے بیوی کوگستاخ ‌سمجھا ورنہ تو تم بالکل سمجھ جاتے کہ وہ تو کہہ رہی تھی کہ " گوشت پکایا ہے! " ایسی تاویلوں کی ضرورت جب ہی پڑتی ہے جب اصل مضمون کچھ اور ہو اور دعاصل مضمون کچھ اور۔ معصوم مسلمانوں کو ایسی تاویلیں بہت عرصے سے گھول گھول کر پلائی جارہی ہیں۔ کہ تاویل سے قرآن کو پاژند بنانے والی مثال بھی اب پرانی ہو چلی ہے۔

ضرورت ہے کہ قوت ایمانی اور عقل کو استعمال کیا جائے۔ جس کی تعلیم قرآن اور رسول اللہ دونوں دیتے ہیں اور ان روایات کو کے جن میں‌شبہ ہو وآضح طور پر مارک کیا جائے۔

جاننا یہ ہے کی جو لوگ جو ہر روایت یقین رکھتے ہیں بنا کسی احتیاط کے اور پر اہانت روایات کو بھی درست ثابت کرتے رہتے ہیں، کیا وہ خود ہر کتب روایت (شیعوں کی بھی اور سنیوں کی) کتابِ روایت کو قبول کرتے ہیں؟ (‌اشارہ آپ کی طرف نہیں ہے) اگر نہیں تو ان میں سے کون تارک حدیث و تارک رسول ہوا؟ کہ چند احادیث کی باب سوال کرنے والا ہوا تارک حدیث اور پوری کی پوری کتب کو رد کرنے والا ہو ' حامی حدیث ' ۔ اصول کیا ہے تارک حدیث کا؟

بھائی تارک حدیث کیسے بنایا جاتا ہے، کون بناتا ہے، کن کتب کا استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں کیا مذہبی سیاسی مقاصد پوشیدہ ہیں، اسی تکنالوجی اور اسی طریقہ واردات کو اجاگر کرنے کے لئے 4 مضامین لکھے۔ روایت حدیث کس طرح چلتی ہے، علم الرجال کیا ہے اور روایات کی کتنی قسمیں ہیں۔ یہ تو کوئی بھی ان بے تحاشا کتب سے نقل کرسکتا ہے، یہ ان سوالات کا جواب نہیں جو اوپر کئے گئے ہیں بلکہ وقت، توانائی اور تمام لوازمات کا ناجائز استعمال اور ضیاع ہے۔ چاہئیے یہ کہ اس وقت کو قرآن پڑھنے اور اسکی تعلیم پر لگایا جائے نہ کہ سوال کرنے والے کو غلط ثابت کرنے یا اس کی کردار کشی پر لگا کر وقت ضائع کیا جائے۔

والسلام۔
 
مجھے پہلے دن سے اندازہ تھا کہ بالآخر یہی بات کہی جائے گی۔ ان موضوعات کو نہ میں منظرعام پر لے کر آیا نہ باذوق اور فرید صاحب۔ عجیب بات ہے کہ ان احادیث کو پہلے فاروق صاحب نے اپنے مراسلات میں‌ پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا جواب چاہیے۔ "اسلام کے مجرم" میں احادیث کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔ لیکن اس کو کوئی ناواقف آدمی پڑھ لے تو کیا اس کی نظر میں اسلام کی عزت میں اضافہ ہو گا؟ برق صرف اسی پر کیوں گرتی ہے جو ان کا درست مفہوم واضح کرنے کی کوشش کرے۔

آپ ان میں‌سے کسی بات کو سامنے نہیں‌لائے۔ آپ نے درست مفہوم کو جیسا کہ مختلف تشریحات میں پیش کیا گیا ہے پیش کیا۔ مجھے آپ کا کوئی قصور نظر نہیں آتا، بلکہ ایک بہتر اور درست سمت میں کاوش و کوشش نظر آتی ہے۔ جس کا انداز صحت مندانہ ہے۔

دیکھئے میرا مؤقف بہت ہی واضح‌ہے۔ کہ بہت سی کتب روایات اور مزید یہ کہ 9 کتب روایات جن کو زیادہ تر اصحاب 'صحیح' شمار کرتے ہیں علم و اعلام کا ذریعہ ہیں اور ان کے استعمال میں احتیاط لازم ہے۔ ان کتب میں اقوال رسول موجود ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ کتب کسی معیار پر پوری نہیں اترتی ہیں۔ کم از کم ایک سے زائید کتاب میرے پاس موجود ہے اور ہر ایک مختلف ہے۔ اس معیار کی کمی کی وجہ سے یہ دشمنان اسلام کے لئے کھلی رہیں ہیں۔ لہذا جب میں‌لکھتا ہوں تو ہر حدیث کو پرکھتا ہوں کہ وہ کسی طور قران کریم کی تردید، کسی طور اہانت رسول، اہانت قرآن، یا اہانت اسلام تو نہیں‌کرتی؟ جس طرح قرآن کی ہر آئت پر میرا ایمان ہے کہ لفظ بہ لفظ درست ہے، پرانے ترین قرآن سے لے کر آج تک کسی بھی قرآن کو دیکھ لیجئے کوئی فرق نہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ یہ بات میں ان کتب روایات کے بارے میں نہیں کہہ سکتا، اس لئے کہ ایک سے زیادہ نسخہ کتبِ روایات میرے پاس ہے جو کہ مختلف ہے۔ کسی میں کچھ روایات نہیں ہیں اور کسی میں ان کے نمبر مختلف ہیں۔ رد میں کسی روایت کو نہیں کرتا لیکن قرآن الفرقان کی ضو میں احتیاط کرتا ہوں، خاص‌طور پر اقوال رسول کو لکھتے ہوئے۔ اور قرآنی آیات یا اقوال رسول کا ترجمہ اپنا نہیں دوسروں کا استعمال کرتا ہوں کہ مترجم قرآن اگر عربی دان نہیں تو پھر ان کے تراجم قبول ہی کیسے ہوئے۔

جو لوگ کسی روایت پر کسی قسم کا اعتراض‌کرتے ہیں ان پر میں 'تارک حدیث' اور 'تارک رسول' نہیں چسپاں کردتا، اگر وہ اعتراض درست ہو تو مزید احتیاط کرتا ہوں اور اگر میری ناقص‌رائے مختلف ہو کہ اس میں اعتراض کرنے والے کی درستگی ہونی چاہئیے ، تو پھر نرمی سے عرض کر دیتا ہوں۔

ان کتب میں اقوال رسول درج ہیں جن کی صحت مستند ہے، ان اقوال پر ایمان ضروری ہے، رسول پر ایمان لانے کے لئے۔ اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں۔ لیکن جس طرح کوئی کتاب آیاتِ قرآنی کے موجود ہونے سے قرآن نہیں بن جاتی، اسی طرح یہ کتب روایات اقوال رسول کی موجودگی سے قرآن نہیں بن جاتی ہیں۔ یہ تو ایسا ہے کہ کوئی مجھ سے کہے کہ 'اردو محفل' پر ایمان لے آؤ کہ اس میں آیات قرانی شامل ہیں۔ اسی طرح ان کتب پر پورا کا پورا ایمان لے آؤ، مجھے ہضم نہیں ہوتا۔ کہ ہر روایت اگر آیت ہے تو پھر ہر کتاب ایک جیسی کیوں نہیں؟ اور رسول اللہ اور اللہ تعالی نے اس کو قرآن میں شامل کیوں نہیں کیا؟ پھر خلفائے راشدہ نے ان اقوال کی تدوین کی ضرورت ہی نہیں سمجھی؟

کسی کو میرے احتیاط پسندانہ اصول نہیں پسند، تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔ جو لوگ ان مکمل کتب روایات پر ایمان رکھتے ہیں ان کو ایسا مبارک۔ یہ بحث تو کئی سو سال سے چلی آرہی ہے۔
فتنہ کیا ہے؟ قرآن حکیم میں اپنی مرضی کی کتب روایات کا پیوند لگانا؟
یا ان کتب میں شامل قابل اعتراض‌مواد کی نشاندہی کرنے کو 'فتنہ انکار حدیث' قرار دینا؟
 

قسیم حیدر

محفلین
میرا خیال ہے قرآن فہمی کا نیا سلسلہ شروع کرنے پر جو اتفاق ہوا ہے اس پر توانائیاں خرچ کی جائیں۔ آپ کے جوابات سے میں مطمئن نہیں ہو سکا اور میرے جوابات آپ کو مطمئن نہیں کر سکے۔ اس لیے بہتر ہے اس سلسلے کو بند کر دیا جائے۔ بحث‌برائے بحث کا کوئی فائدہ مجھے نظر نہیں آتا۔ تفہیم کے ترجمے پر بھی اس بحث‌میں شمولیت کی وجہ سے کام نہیں‌کر سکا۔ میرا جو موقف تھا میں نے تفصیل سے لکھ دیا ہے۔ اگر میرے اٹھائے گئے سوالات کے تسلی بخش جواب مل گئے تو مزید بات کروں گا ورنہ کوشش ہو گی کہ اب اس بارے میں کوئی پوسٹ نہ کروں۔ ابوشامل کے خیال سے متفق ہوں کہ اردو کی ترویج کے متفقہ ہدف پر کام کیا جائے اور سیاست اور مذہب کے سلسلوں کو بند کر دیا جائے۔
 

خاور بلال

محفلین
عزیزانِ محفل!
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ قرآن و حدیث سے متعلق نگارشات بیان کرنے میں احتیاط سے کام لیں۔ یہ حساس موضوع ہے۔ زبان کی لغزش سے صدیوں کی تاریخ پر خطِ تنسیخ پھیردینا آسان ہے۔ اسی لیے یہ آسان کام اردو محفل کی زینت بنا ہوا ہے۔ اللہ کے سامنے جوابدہی کا احساس ہے اور نبی محترم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا پاس بھی تو کیوں نازک موضوعات پر متنازعہ گفتگو کر کےاردو محفل کے احباب پر مشقِ ستم ہورہی ہے۔ قرآن و حدیث کے موضوع پر بے احتیاط گفتگو اور بولڈ کمنٹس نے کتنے ہی دل زخمی کردیے ہیں۔ غیر معیاری تحقیق کے نتیجے میں جو گفتگو ہوئی اس نےایسی افراتفری مچائی کہ کچھ حضرات کو محفل سے ہی جدا کردیا۔جنسِ ارزاں کی طرح دینِ خدا کی باتیں کرکے کیوں محفل کے سادہ دلوں کو خون کے آنسو رلایا جارہا ہے۔ میں قرآن و حدیث کا واسطہ دے کر ہاتھ جوڑتا ہوں کہ اپنے اوپر رحم کریں ہم سب پر رحم کریں۔ خدا کیلئے!

قرآن اور حدیث سے متعلق شبہات کے عنوان سے ایک مضمون پوسٹ کیا ہے جس کی فہرست درجِ ذیل ہے:

اسلام ایک علمی و عقلی مذہب
قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ
اس دور میں قرآن کی صحیح خدمت کیا ہے؟
قرآن کا نبوت سے کیا رشتہ ہے؟
کیا اسوہ رسول کے بغیر صرف قرآن سے ہدایت ممکن ہے؟
سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم تک کیسے پہنچی؟
تعلیماتِ اسلام میں بیرونی اثرات کا دخل
اسلام کے نظامِ دینی میں حدیث کی حجیت، اور ناقابلِ اعتبار احادیث کا معاملہ
احادیث کی تحقیق کا معیار
محدثین کی اندھی تقلید؟
محدثین کے اتباع میں جائز حد سے تجاوز
حدیث سے متعلق فقہائے مجتہدین کا رویہ
 

قیصرانی

لائبریرین
مجھے پہلے دن سے اندازہ تھا کہ بالآخر یہی بات کہی جائے گی۔ ان موضوعات کو نہ میں منظرعام پر لے کر آیا نہ باذوق اور فرید صاحب۔ عجیب بات ہے کہ ان احادیث کو پہلے فاروق صاحب نے اپنے مراسلات میں‌ پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا جواب چاہیے۔ "اسلام کے مجرم" میں احادیث کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔ لیکن اس کو کوئی ناواقف آدمی پڑھ لے تو کیا اس کی نظر میں اسلام کی عزت میں اضافہ ہو گا؟ برق صرف اسی پر کیوں گرتی ہے جو ان کا درست مفہوم واضح کرنے کی کوشش کرے۔
آپ کا جواب بہت اچھا لگا اور میں اب یہ سوچ رہا ہوں کہ ہر حدیث کو اس کے درست رنگ میں اور درست سیاق و سباق میں سمجھنے کے لئے آپ کو ہر بار کہاں تلاش کروں تاکہ ایمان بچا رہے
 

قسیم حیدر

محفلین
فاروق سرور خان نے لکھا:
سوال یہ ہے کہ ایسی ذومعنی روایات کی ضرورت کیا ہے؟ کیا ان کا شمار درآیت میں ہوگا، اگر ہاں تو ان کو 'صحاح ستہ' میں کیوں شامل کیا جاتا ہے۔
ان احادیث کی ضرورت اور کتب ستہ میں انہیں شامل کیے جانے کی وجہ " حدیث میں صنفی مسائل کیوں بیان کیے گئے ہیں"
کے تحت لکھ چکا ہوں۔
فاروق سرور خان نے لکھا:
سوال کا جواب دیتے وقت یہ بھی ذہن میں رکھئے کہ ان روایات کو بنا کسی تشریح کے دشمنان اسلام اپنے مقاصد کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔
دشمنانِ اسلام صرف ان "روایات" ہی کو نہیں بہت سی آیات کو بھی بغیر تشریح کے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ان سے اہانت رسول، اہانت صحابہ اور اہانت انبیاء ثابت کرتے ہیں۔ ایسی چند لغویات ملاحظہ فرمائیے:
اہانت انبیاء:
قرآن میں ہے کہ اللہ کے رسول آسمانی کتابوں کا احترام نہیں کرتے تھے اور انہیں زمین پر پٹخ دیا کرتے تھے۔
و القی الالواح و اخذ براس اخیہ یجرہ الیہ (الاعراف 150)
"(موسیٰ علیہ السلام نے) تورات کی تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا"
سورۃ الحجر کی آیت71 سے اسلام دشمن یہ مطلب نکالتے ہیں کہ لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے اپنی بیٹیاں زنا کے لیے پیش کر دیں (نعوذباللہ)
قال ھئولاء بنٰتی ان کنتم فٰعلین (الحجر۔71)
"لوط نے کہا "اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو یہ میری بیٹیاں موجود ہیں"
اہانت صحابہ:
قرآن میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعے کا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک تجارتی قافلہ مدینے میں آیا۔ صحابہ خطبہ چھوڑ کر سامان خریدنے دوڑ پڑے۔
و اذا راو تجارۃ او لھوا انفضوا الیھا و ترکوک قائما (الجمعۃ۔11)
"اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا۔"
اہانت رسول:
1۔ سورۃ الفتح آیت 1 میں ہے:
لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک و ما تاخر
"تاکہ معاف فرمادے تمہیں اللہ وہ سب جو پہلے ہوچکی ہیں تم سے کوتاہیاں اور جو بعد میں ہوں گی"
اسلام دشمنوں نے اس آیت سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک گناہگار انسان تھے(نعوذباللہ )۔ جی۔ایل ٹھاکر داس نے اس آیت سے غلط مطلب نکال کر پورا کتابچہ لکھ مارا ہے۔
2۔ سورۃ الضحٰی کی آیت 7 کے لفظ ضالًا سے مستشرقین غلط استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے نبی گمراہ انسان تھے (اللہ کی لعنت ہو ایسے ظالموں پر)۔
3۔ سورۃ التحریم کی آیت 1 سے اسلام دشمن یہ مطلب نکالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیویوں کی خوشنودی کی خاطر حلال کو حرام کر دیا کرتے تھے:
یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک (التحریم۔1)
"اے نبی، تم کیوں اس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے؟ تم اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہو؟
فرمائیے کہ ہمارا ردعمل کیا ہونا چاہیے، صحیح مفہوم واضح کرنا یا آیات کو قرآن سے نکالنے کی مہم چلانا؟
فاروق سرور خان نے لکھا:
کتب روایات کی کیا حیثیت ہے؟ کیا یہ قرآن کے مساوی ہیں؟
میری دوسری پوسٹ میں "قرآن کریم سے حفاظتِ حدیث کے بارے میں شبہات کا جواب" اور تیسری پوسٹ میں الشیخ ابن باز رحمہ اللہ کے مضمون کو دوبارہ پڑھ لیں۔ ان میں ضوء القرآن یعنی قرآن کی روشنی میں کتب احادیث کی حیثیت واضح کی گئی ہے۔
فاروق سرور خان نے لکھا:
پہلے دو خلفائے راشدین نے قرآن کی تدوین اور قرآن کی نقل بنانے پر کام کیا لیکن کسی بھی خلفائے راشدین نے صحاح ستہ اور( اس جیسی تین کتب جو شیعہ حضرات استعمال کرتے ہیں)، جیسی کتب روایات کیوں نہیں ترتیب دیں، اور (کم از کم دو خلفاء نے) اپنے اقوال رسول کے مجموعے کیوں جلادئے یا ضائع کردئے تھے؟ اس پر روشنی ڈالئے۔

3۔ وہ کونسی وجہ تھی کہ ان روایات کو دو سو سال بعد کتب کی شکل دی گئی اور ان روایات کو کتاب کی شکل دینے کوشش کسی صحابہ نے کیوں نہیں کی ؟
صحابہ نے حدیث کے جو مجموعے ترتیب دیے تھے ان کا ذکر "کتابتِ حدیث کی مختصر تاریخ" میں ہو چکا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے حدیث کا مجموعہ جلا دیا تھا۔ یہ واقعہ اگر درست ہے تو اس کی وجہ من کذب علی متعمدًا والے حکم کی بنا پر ان کی احتیاط تھی۔ لیکن سچ یہ ہے کہ یہ روایت درست نہیں ہے۔ اس کی سند میں علی بن صالح مجہول ہے۔ دوسرا راوی محمد بن موسٰی غیر ثقہ ہے(لسان المیزان) اور تیسرا راوی موسٰی بن عبد اللہ ہے جس کے بارے میں امام بخاری کہتے ہیں "فیہ نظر"۔ عمر رضی اللہ عنہ کا احادیث کو جلانا بھی ثابت نہیں ہے اور وہ روایت منقطع ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے تو خود حدیث کی کتاب لکھوائی تھی جو ان کی اولاد میں منتقل ہوتی رہی۔ امام مالک نے اس کتاب کو خود پڑھا تھا (موطا امام مالک) اور عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اس کی نقل تیار کروا کر اس پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا (دار قطنی، دارقطنی نے اس کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے)۔
حیرت ہے کہ ایک طرف بخاری اور مسلم کی صحیح احادیث بھی تسلیم نہیں ہیں اور دوسری جانب "تذکرۃ الحفاظ" وغیرہ کی ضعیف اور موضوع روایتوں کو دلیل بنانے میں جھجک محسوس نہیں ہوتی۔
فاروق سرور خان نے لکھا:
اہانت قرآن : قرآن پتھروں، ہڈیوں ، لکڑی اور پارچوں پر لکھا تھا ، یہ واقعہ بیان ہو رہا ہے حضرت عمر کے دور میں۔ جبکہ حضرت حفصہ کی کتاب موجود ہے۔ جس کا موازنہ بعد میں حافظوں کی مدد سے کیا گیا۔
اہانت مسجد: مسجد نبوی میں کتے پیشاب کرجاتے تھے اور ان پر کوئی پانی بھی نہیں بہاتا تھا۔
اہانت رسول :‌ اگر کچھ بہتر ملے گا تو میں (دوسری قوم سے کیا ہو عہد)‌ توڑ دوں گا۔
مستشرقین نے قرآن کریم سے اہانت کے جو نمونے نکالے ہیں، انہیں ایک نظر دوبارہ دیکھ لیجیے۔ یقین مانیے حدیث سے اہانت قرآن، مسجد اور رسول ثابت کرنے کی یہ کوشش اس سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ ہجرت کے بعد ابتدائی دنوں میں مسجد نبوی کی چاردیواری نہیں تھی اور جانور اس میں آ جایا کرتے تھے۔ اس وقت پہلا مسئلہ مہاجرین کی آبادکاری کا تھا۔ مدینے کی مالی حالت بہتر ہوتے ہی مسجد کی چاردیواری بنائی گئی۔ سیاق و سباق سے کاٹ کر اہانت کی کئی سو مثالیں پیش کرنا واقعی کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
فاروق سرور خان نے لکھا:
ایک سے زیادہ نسخہ کتبِ روایات میرے پاس ہے جو کہ مختلف ہے۔ کسی میں کچھ روایات نہیں ہیں اور کسی میں ان کے نمبر مختلف ہیں۔

مختلف نسخوں کے اختلاف کے بارے میں میں نے جو سوالات پیش کیے ہیں انہیں دوبارہ دیکھ لیجیے۔ کتب احادیث کی ترقیم (Numbering) کے مختلف طریقے مروج ہیں۔ نمبر مختلف ہونے کی وجہ ترقیم کے طریقے (Numbering System) کا فرق ہے۔ مثلًا صحیح المسلم کی دو ترقیم مشہور ہیں۔ فواد عبدالباقی کی ترقیم اور ترقیم العالمیۃ۔ محققین کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے کسی ترقیمی نظام میں حدیث کے ساتھ ابواب پر بھی نمبر لکھے گئے ہیں، کسی میں ہر سند کو الگ نمبر دیا گیا ہے اور کسی میں سند کی بجائے متن کو سامنے رکھ کر نمبرنگ کی گئی ہے۔ لہٰذا جب حدیث نمبر لکھا جائے تو یہ بتانا ضروری ہے کہ کونسا ترقیمی نظام استعمال کیا گیا ہے۔ کتب حدیث کے جو سافٹ ویئر مارکیٹ میں موجود ہیں ان میں عمومًا اپنی پسند کا ترقیمی نظام اپنانے کی سہولت ہوتی ہے۔ لہٰذا نمبر مختلف ہونے کی وجہ احادیث کی تعداد میں فرق کی بجائے احادیث کو گننے (Counting method) کے طریقے میں فرق ہے۔
آپ کے اٹھائے گئے سوالات پڑھ کر مجھے محسوس ہوا کہ میں اپنا موقف واضح طور پر بیان نہیں کر سکا شاید اسی لیے آپ اپنے پرانے سوالات ہی کو دہرا رہے ہیں۔ نئی بحث کا آغاز کرنے کی بجائے میں نے سابقہ مراسلات کو دوبارہ مدون کر دیا ہے۔گزارش ہے کہ انہیں ایک نظر دوبارہ دیکھ لیں۔
یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور

"خاک" سے "گوشت" بنانے کی داستان دلچسپ ہے لیکن اسے احادیث کی تشریح پر منطبق کرنا درست نہ ہو گا۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے اسے پڑھ کر ہر شخص فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس میں اپنی طرف سے بات بنانے کی کوشش کی گئی ہے یا سادہ اور منطقی انداز میں حدیث کا اصل مطلب واضح کیا گیا ہے۔
ہم دونوں اپنا اپنا موقف تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔ مزید بحث کی بجائے اب فیصلہ قارئین پر چھوڑ دینا چاہیے۔ اللہ جسے چاہے گا ہدایت عطا فرما دے گا۔
اللہُ ربُنَا و رَبُکم، لَنَا اعمالنا و لکم اعمالکم، لا حجۃ بیننا و بینکم اللہ یجمع بیننا و الیہ المصیر (الشورٰی۔15)
"اللہ ہمارا رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ ہمارے لیے ہیں ہمارے عمل اور تمہارے لیے تمہارے عمل، کوئی جھگڑا نہیں ہمارے اور تمہارے درمیان۔ اللہ جمع کرے گا (ایک روز) ہم سب کو اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔"
قیصرانی نے لکھا:
آپ کا جواب بہت اچھا لگا اور میں اب یہ سوچ رہا ہوں کہ ہر حدیث کو اس کے درست رنگ میں اور درست سیاق و سباق میں سمجھنے کے لئے آپ کو ہر بار کہاں تلاش کروں تاکہ ایمان بچا رہے
کسی حدیث‌کے بارے میں شک ہو تو ایمان بچانے کے لیے علماء سے رجوع کرنے میں کیا حرج ہے۔مجھے تلاش کرنے کی بجائے علم حدیث کے کسی استاد سے رجوع کریں۔ میں کم علم آدمی ہوں شاید آپ کی تسلی نہ کر سکوں۔ کوئی وجہ نہیں کہ ایمان بچانے کی خاطر انسان اتنی بھی تکلیف نہ کرے۔
 
Top