"فارسی اشعار سے میں ذہنی و جسمانی خستگی مٹاتا ہوں" - عُثمانی البانوی ادیب شمس الدین سامی فراشری

حسان خان نے 'ادبیات و لسانیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 2, 2018

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    شاعرِ ملّیِ البانیہ نعیم فراشری کے برادر، اور مشہور عُثمانی ادیب و مؤلّف شمس‌الدین سامی فراشری (وفات: ۱۹۰۴ء) اپنی تُرکی کتاب 'خُرده‌چین'، جو ۱۳۰۲ھ/۱۸۸۵ء میں شائع ہوئی تھی، کے دیباچے میں لکھتے ہیں:

    عُثمانی رسم الخط میں:
    "هر نه وقت - دمیر گبی صوئوق و دمیر قدر آغیر اولان - جدّیاتدن اوصانیر، وظیفه ایدندیکم مشغولیتدن یوریلورسه‌م، ذهنی و جسمانی یورغونلق آلمق ایچون، اشعارِ فارسیه‌دن استمداد ایتمک بنم ایچون اسکیدن حاصل اولمش بر الفتدر."

    ترجمہ:
    جس وقت بھی میں - آہن جیسے سرد اور آہن جتنے ثقیل - جِدّی اُمور سے بیزار ہو جاتا، اور اپنی فریضے کے طور پر کسب کردہ مشغولیتوں سے خستہ و ماندہ ہو جاتا ہوں، تو ذہنی و جسمانی خستگی کو دور کرنے کے لیے فارسی اشعار سے مدد لینا زمانۂ قدیم سے میری اُنسیت و عادت ہے۔"
    × جِدّی = سِیریس


    لاطینی رسم الخط میں:

    "Her ne vakit -demir gibi soğuk ve demir kadar ağır olan- ciddiyattan usanır, vazife edindiğim meşguliyetten yorulursam, zihnî ve cismanî yorgunluk almak için, eş'âr-ı Fârsîden istimdâd etmek benim için eskiden hâsıl olmuş bir ülfettir."
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر