غُبارِ خاطر از مولانا ابُو الکلام آزاد ........(تصحیح شدہ نسخہ)

جیہ

لائبریرین
مقدمہ
طبعِ جدید
غبار خاطر کے میرے اس مرتبہ نسخے کا پہلا ایڈیشن 1967ء میں شائع ہوا تھا۔ یہ جلد ہی ختم ہو گیا۔ اس کے بعد اسے جوں کا توں دو مرتبہ چھاپا گیا۔ بعض ذاتی مجبوریوں کے باعث مجھے موقع نہ ملا کہ اس کے حواشی پر نظرِ ثانی کر تا، حالانکہ اس کی ضرورت تھی اور مزید معلومات مہیا بھی ہو گئی تھیں۔ بعض حواشی میں تبدیل شدہ حالات کے تحت ترمیم یا اضافہ کرنا تھا۔ بہرحال چند مہینے ادھر مجھے معلوم ہوا کہ کتاب پھر سے شائع ہونے والی ہے، تو میں نے فیصلہ کیا کہ اب کے اسے آخری شکل دے دی جائے۔

جب میں نے اسے پہلی مرتبہ مرتب کیا تھا، تو متعدد اشعار کی تخریج نہیں ہو سکی تھی۔ اس دوران میں یہ کام بھی ہوتا رہا۔ اس میں مجھے سب سے زیادہ تعاون محب مکرم نواب رحمت اللہ خان شیروانی، علی گڑھ کا حاصل رہا۔ بفضلہ تعالٰی وہ ادب کا بہت اچھا ذوق رکھتے ہیں اور ان کے پاس بہت قیمتی اور وسیع کتب خانہ ہے۔ وہ مولانا آزاد مرحوم کے مکتوب الیہ نواب صدر یار جنگ مرحوم کے قریبی عزیز بھی ہوتے ہیں۔ میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنے ذاتی شوق سے اشعارکی تخریج کا کام اپنے ذمے لیا۔ یوں گویا وہ اس کام میں میرے شریکِ غالب ہو گئے ہیں۔ دنیا میں کسی کام کو حرف آخر نہیں کہا جا سکتا۔ اب بھی کئی جگہ پر کمی محسوس کرتا ہوں۔ لیکن موجودہ حالات میں اپنے آپ میں اس سے زیادہ کی ہمت نہیں پاتا۔ البتہ ایک بات کا اطمینان ہے کہ جتنا کام ہو گیا ہے وہ بھی کچھ کم نہیں۔ جو جتنے کےلائق ہوتا ہے وہ اس کے مطابق اس سے کام لیتا ہے۔ فالحمد اللہ۔

نئی دلی - - - - - - - - - مالک رام
یکم اکتوبر 1982ء


 

جیہ

لائبریرین
مقدمہ
(1)
اس ملک پر انگریزوں کے سیاسی اقتدار کے خلاف ہماری پچاس سالہ جد و جہد کا نقطۂ عروج وہ تھا، جسے "ہندوستان چھوڑ دو" تحریک کہا گیا ہے۔ 8 اگست 1942 کو انڈین نیشنل کانگریس کا خاص اجلاس بمبئی میں منعقد ہوا، جہاں یہ قرار دار منظور ہوئی کہ انگریز اس ملک کے نظم و نسق سے فوراً دست بردار ہو کر یہاں سے سدھاریں اور ہمیں اپنےحال پر چھوڑیں۔ اس لیے اس کے بعد جو تحریک شروع ہوئی، اس کا نام "ہندوستان چھوڑ دو تحریک" پڑ گیا۔

اُس وقت دوسری عالمی جنگ اپنے پورے شباب پر تھی۔ انگریز بھلا ایسی قراردار اور ایسی تحریک سے کیوں کر صرفِ نظر کر سکتا تھا! اخباروں میں اس طرح کی افواہیں پہلے سے چھپ رہی تھیں کہ کانگریس اس مفاد کی قرارداد منظور کرنے والی ہے۔ اس لیے حکومت نے حفظِ ما تقدم کے طور پر سب انتظام کر رکھے تھے۔ اس زمانے میں مولانا ابو الکلام آزاد کانگریس کے صدر تھے۔ 8 اگست کی شب کو دیر تک یہ جلسہ ہوتا رہا جس میں یہ قراردار منظور کی گئی تھی۔ اسی رات کے آخری حصے میں یعنی 9 اگست کو علی الصبح حکومتِ وقت نے تمام سرکردہ رہنماؤں کو سوتے میں بستروں سے اٹھا کر حراست میں لے لیا اور ملک کے مختلف مقامات پر نظر بند کر دیا۔ مولانا آزاد اور ان کے بعض دوسرے رفقا احمد نگر کے قلعے میں رکھے گئے تھے۔ مولانا آزاد کا یہ سلسلۂ قید و بند کوئی تین برس تک رہا۔ اولاً اپریل 1945 میں وہ احمد نگر سے بانکوڑا جیل میں منتقل کر دیئے گئے۔ اور یہیں سے بالآخر 15 جون 1945 کو رہا ہوئے۔ اسی نظر بندی کے زمانے کا ثمرہ یہ کتاب " غبارِ خاطر " ہے۔ غبارِ خاطر مولانا آزاد مرحوم کی سب سے آخری تصنیف ہے جو ان کی زندگی میں شائع ہوئی۔ کہنے کو تو یہ خطوط کا مجموعہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دو ایک کو چھوڑ کر ان میں سے مکتوب کی صفت کسی میں نہیں پائی جاتی۔ یہ دراصل چند متفرق مضامین ہیں جنہیں خطوط کی شکل دے دی گئی
ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ مرحوم کچھ ایسی باتیں لکھنا چاہتے تھے جن کا آپس میں کوئی تعلق یا مربوط سلسلہ نہیں تھا۔

عین ممکن ہے کہ اس طرح کے مضامین لکھنے کا خیال ان کے دل میں شہرۂ آفاق فرانسیسی مصنف اور فلسفی چارلیس لوئی مونٹسیکیو کی مشہور کتاب " فارسی خطوط" (1721) سے آیا ہو۔ اس کتاب میں دو فرضی ایرانی سیاح ۔۔۔۔۔۔۔ اوزبک اور جا ۔۔۔۔۔۔ فرانس پر عموماً اور پیرس کی تہذیب و تمدن پر خصوصاً بے لاگ اور طنزیہ تنقید کرتے ہیں، اسلام اور عیسائیت کا موازنہ کرتے اور عیسائیت پر آزادانہ اظہار خیال کرتے ہیں، جو اس عہد کی خصوصیت تھی۔ اس میں اور متعدد سیاسی اور مذہبی مسائل پر بھی زیر بحث آ گئے ہیں۔ اس کتاب کا دوسری زبانوں کے علاوہ عربی میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

لیکن وہ ان باتوں کو الگ الگ مضامین کی شکل میں بھی قلمبند نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ اس صورت میں باہمی تعلق کے فقدان کے باعث بعد کو انہیں ایک شیرازے میں یکجا کرنا آسان نہ ہوتا۔ اس مشکل کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ انہیں کسی شخصِ واحد کے نام خطوں کے شکل میں مرتب کر دیا جائے۔ اُن کے حلقۂ احباب میں صرف ایک ہستی ایسی تھی جو علم کی مختلف اصناف میں یکساں طور پر دلچسپی لے سکتی تھی۔ یہ نواب صدر یار جنگ بہادر مولانا حبیب الرحٰمن خان شروانی مرحوم کی ذات تھی۔ انہوں نے عالمِ خیال میں انہیں کو مخاطب تصور کر لیا اور پھر جب کبھی، جو کچھ بھی ان کے خیال میں آتا گیا، اسے بے تکلف حوالۂ قلم کرتے گئے۔ انہیں مضامین یا خطوط کا مجموعہ یہ کتاب ہے۔

 

جیہ

لائبریرین

شروانی خاندان بہت مشہور ہے اور اس کی تاریخ بہت قدیم۔ ہندوستان کے اسلامی عہد میں اس خاندان کے متعدد افراد بڑے صاحبِ اثر و نفوذ گزرے ہیں، یہاں تک کہ کئی مرتبہ حکومتِ وقت کے رد و بدل میں ان کی حیثیت بادشاہ گر کی ہو گئی۔ ان کے اس عہد کے کارنامے ہماری تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔

لیکن ان کا یہ دور دورہ؟؟ یہاں سلطنت مغلیہ کے قیام سے پہلے ہی تک رہا۔ چونکہ ہمایوں کے مقابلہ میں شروانیوں نے شیر شاہ سوری کا ساتھ دیا تھا اس لئے جب ایرانیوں کی مدد سے ہمایوں نے دوبارہ اس ملک پر اپنا تسلط جما لیا، تو اب قدرتی طور پر، شروانیوں کا ستارہ زوال میں آ گیا۔ ان کی جمعیت شمالی ہند میں منتشر ہو گئی؛ ان میں سے بیشتر نے کمریں کھول دیں اور سپاہ گری کی جگہ کشادرزی کو اپنا پیشہ بنا لیا۔ ان کے زیادہ تر افراد پنجاب کے اطراف اور علی گڑھ اور ایٹہ کے اضلاع میں بس گئے؛ یہاں انہوں نے بڑی بڑی جاگیریں اور زمینداریاں پیدا کر لیں۔

پہلے ان کے ہاتھ میں تلوار تھی تو اب ہل تھا؛ اس لیے مدتوں اس لوگوں نے قلم سے بہت کم سر و کار رکھا۔ زیادہ سے زیادہ کسی نے ہمت کی تو دینی پہلو سے اتنی استعداد پیدا کر لی کہ روزمرہ کے مسائل میں شد بد ہو جائے۔ لیکن یہ صورتِ حال زیادہ دن تک قائم نہیں رہ سکتی تھی۔ سیاسی انقلاب کی جو آندھی مغرب سے اٹھی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے اس نے سارے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سیاسی استحکام و اقتدار حاصل ہو جانے کے بعد انگریزوں نے یہاں نئے طور طریقے، نئے انتظام، نئی زبان، نئی تعلیم جاری کر دی۔ قدرتی طور پر اس کا بہت وسیع اثر ہوا۔ اب ناممکن تھا کہ آبادی کا کوئی طبقہ اس سے مستغنی رہ سکے۔ چنانچہ رفتہ رفتہ شروانیوں کا رحجان بھی پڑھنے لکھنے کی طرف ہوا، اور انگریزی عہد میں انہوں نے جدید تعلیم سے متمتع ہو کر ملکی معاملات میں برادران وطن کے دوش بدوش کام کرنا شروع کیا۔ انگریزی استیلا و اقتدار کے خلاف ہماری جنگ آزادی میں بھی اس خاندان کے بعض افراد کی خدمات بہت نمایاں اور قابل قدر رہی ہیں۔

اسی شروانی خاندان کے گلِ سر سبد نواب صدر یار جنگ بہادر مولانا حبیب الرحمان خان شروانی مرحوم تھے۔ وہ 5 جنوری 1867 (28 شعبان 1283 ھ) کو بھیکم پور میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان یہاں انیسویں صدی کے اوائل میں آ کر آباد ہوا تھا، اور ان کے آبا و اجداد یہاں کے رئیس تھے۔ ان کے والد محمد تقی خان صاحب (ف 1905 عیسوی 1323 ھجری) نے اپنے بڑے بھائی عبد الشکور خان کی حین حیات خاندانی جاداد اور زمینداری کے نظم و نسق میں کوئی حصہ نہیں لیا؛ بلکہ خود مولانا حبیب الرحٰمن کی تعلیم و تربیت بھی اپنے تایا صاحب کی نگرانی میں ہوئی۔ ان کی علومِ عربیہ و فارسیہ کی متعدد شاخوں میں تعلیم خاص اہتمام سے مختلف اساتذہ کی رہنمائی میں مکمل ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے انگریزی کی طرف توجہ کی اور اس میں بھی بہ قدرِ ضرورت خاصی استعداد پیدا کر لی۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات، شروع ہی سے ان کی ذہانت و فطانت اتنی نمایاں تھی کہ ان کے والد نے موروثی صدر مقام بھیکم پور سے متصل ایک نئی گڑھی تعمیر کی، اس کے اندر دل کش باغات اور عالی شان مکان بنوائے اور اس کا نام اپنے بیٹے کے نام پر حبیب گنج رکھا۔ عبد الشکور خان صاحب کا سفرِ حج سے واپس آتے ہوئے 1907 عیسوی (1325ھ) میں جدہ میں انتقال ہو گیا۔ چونکہ چھوٹے بھائی محمد تقی خان صاحب ان سے دو برس پہلے رحلت کر چکے تھے اب ریاست کے انتظام کی ذمہ داری مولانا حبیب الرحمان خان کے کندھوں پر آ پڑی۔ اسے انہوں نے اپنی خداداد فراست اور دور اندیشی سے ایسی عمدگی سے انجام دیا کہ نہ صرف پانچ لاکھ کی مقروض ریاست اس بارِ گراں سے سبک دوش ہو گئی بلکہ اس میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہوتی گئی؛ اس کی تفصیل میں جانے کا نہ یہ موقع و محل ہے نہ اس کی ضرورت لیکن اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ صرف صاحبِ علم اور علم دوست ہی نہیں تھے بلکہ ان میں انتظامی قابلیت اور دینوی سوجھ بوجھ بھی بلا کی تھی، دو چیزیں جو بہت کم کسی ایک شخصیت میں جمع ہوتی ہیں۔

مولانا حبیب الرحمان خان کی تعلیم و تربیت جس نہج اور معیار پر ہوئی تھی اس نے بہت جلد انہیں ملک کے علمی حلقوں میں متعارف کرا دیا۔ ان کا مزاج خالص علمی تھا۔ انہوں نے اپنے ذاتی شوق سے زرکثیر خرچ کر کے حبیب گنج میں نادر اور قیمتی کتاب خانہ جمع کیا۔ اس کی شہرت ملک سے باہر پہنچی۔ ان کے علم و فضل کو دیکھتے ہوئے اصحابِ مجاز نے انہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ دینیات کا صدر مقرر کر دیا۔ یہیں سے ان کی شہرت دکن پہنچی، جس پر آصف جاہ ہفتم میر عثمان علی خان بہادر نظامِ دکن نے انہیں اپنی ریاست کے امورِ مذہبی کا صدر الصدور بنا کر جون 1918 عیسوی میں حیدر آباد بلوا لیا۔ دکن میں ان کی عملی اور تعلیمی اور دینی خدمات ایسی وسیع اور گونا گوں تھیں کہ ان کے لیے الگ دفتر درکار ہے۔

جیسا کہ معلوم ہے، حیدر آباد میں دار الترجمہ اگست 1917 عیسوی میں قائم ہوا تا کہ کتابوں وغیرہ کے ترجمے اور اصطلاحات کے وضع کرنے کا کام کیا جا سکے، لیکن عثمانیہ یونیورسٹی اس سے دو سال بعد 28 اگست 1919 عیسوی میں قائم ہوئی۔ اپنی عمارت نہ ہونے کے باعث اس کی افتتاحی تقریب آغا منزل میں ہوئی تھی۔ مولانا حبیب الرحمان خان شروانی اس کے پہلے " شیخ " (وائس چانسلر) مقرر ہوئے۔ اسی سال اپنے عہدے کی مناسبت سے انہیں اعلی حضرت نظام کی طرف سے " صدر یار جنگ " خطاب عطا ہوا۔ حیدر آباد میں ان کا قیام اپریل 1930 عیسوی تک رہا۔

ملک جس سیاسی بحران اور کشمکش سے گزر رہا تھا، اس کے پیشِ نظر کسی شخص کا سیاسیات سے بالکل بے تعلق رہنا نا ممکن تھا؛ تاہم نواب صدر یار جنگ نے اس میں کوئی عملی حصہ نہیں لیا۔ حیدر آباد سے واپسی پر انہوں نے اپنی تمام توجہ ملک کے متعدد تعلیمی اور علمی اداروں کے فروغ و ترقی پر مبذول کر دی۔ ملک کی شاید ہی کوئی ایسی قابلِ ذکر علمی انجمن ہو گی جس سے ان کا تعلق نہ رہا ہو۔

مرحوم شاعر اور مصنف بھی تھے۔ حسرت تخلص تھا۔ اردو میں منشی امیر مینائی کے شاگرد تھے۔ فارسی کلام آغا سنجر ایرانی کو دکھاتے تھے؛ کچھ مشورہ خواجہ عزیز لکھنوی اور مولانا شبلی سے بھی رہا۔ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں دیوانِ مطبوعہ موجود ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اردو میں کاروان حسرت اور فارسی میں بوستان حسرت اُور بھی متعدد کتابیں ان سے یادگار ہیں؛ سیرۃ الصدیق؛ تذکرۂ بابر، حالتِ حزیں، علمائے سلف، نابینا علما ان میں سے زیادہ مشہور ہیں۔ ان کے متفرق مضامین کا مجموعہ بھی "مقالاتِ شروانی" کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔

ان کا بہ روزِ جمعہ 11 اگست 1980 عیسوی ( 8 ذی قعدہ 1370 ھ) کو علی گڑھ میں انتقال ہوا۔ علی گڑھ سے تقریباً 25 میل کے فاصلے پر بھموری میں اپنے موروثی قبرستان میں آسودۂ خوابِ ابدی ہیں۔ یہ جگہ حبیب گنج سے کوئی میل بھر دور ہو گی۔

 

جیہ

لائبریرین

نواب صدر یار جنگ سے مولانا آزاد کے تعلقات 1906 عیسوی میں قائم ہوئے۔ میرا خیال ہے کہ اس میں مولانا شبلی مرحوم واسطۃ العقد ثابت ہوئے جن سے مولانا آزاد کی پہلی ملاقات 1905 کے وسط میں بمبئی میں ہوئی تھی۔ جب یہ مولانا شبلی سے ملے ، تو وہ ان کی وسعتِ مطالعہ، ذہن کی براقی اور حافظے سے بہت متاثر ہوئے۔ وہ خود ان دنوں حیدر آباد میں ملازم تھے۔ انہوں نے مولانا آزاد کو دعوت دی کہ یہاں آ جاؤ اور الندوہ کی ترتیب و تدوین اپنے ہاتھ میں لے لو۔ لیکن مولانا آزاد کسی وجہ سے یہ دعوت قبول نہ کر سکے، یہ بات قابل ذکر ہے کہ مولانا شبلی کی عمر اس وقت 48 سال کی تھی اور مولانا آزاد کی 17 کے لگ بھگ۔ اس وقت ملک کے علمی حلقوں میں شبلی عالم اور ادیب اور مصنف کی حیثیت سے مشہور ہو چکے تھے؛ اور الندوہ بھی یکسر علمی پرچہ تھا۔ ایسی صورت میں ان کا اس نوجوان کو اپنا ہم کار بننے اور اس علمی رسالے کی باگ ڈور سنبھالنے کی دعوت دینا، جہاں ایک طرف ان کی اپنی وسعت قلب اور علم دوستی، قدر شناسی اور خرد نوازی کا بیّن ثبوت ہے وہیں مولانا آزاد کے غیر معمولی علم و فضل اور صلاحیتوں کا بھی بہت بڑا اعتراف ہے۔

اس کے تھوڑے دن بعد مولانا شبلی حیدر آباد سے مستعفی ہو کر اگست 1905 عیسوی میں لکھنؤ چلے آئے اور یہاں دارالعلوم ندوۃ العلما کے معاملات کے گویا کرتا دھرتا بن گئے۔ لکھنؤ پہنچ کر
انہوں نے تجدید دعوت کی۔ اب کی مولانا آزاد نے اسے قبول کر لیا۔ چنانچہ یہ اکتوبر 1905 عیسوی سے مارچ 1906 عیسوی تک سات مہینے الندوہ (لکھنؤ) کے ادارہ تحریر سے منسلک رہے۔ نواب صدر یار جنگ سے ملاقات اسی 1906 کی پہلی سہ ماہی میں ہوئی تھی۔ مولانا شبلی اور نواب صاحب مرحوم کے باہمی تعلقات کی طرف اوپر اشارہ ہو چکا ہے۔ مولانا آزاد بھی لکھنؤ کے دوران قیام میں دارالعلوم میں مولانا شبلی ہی کے ساتھ مقیم تھے اسی لیے میرا گمان ہے کہ جب نواب صاحب اس زمانے میں لکھنؤ گئے تو مولانا شبلی کے مکان پر ان دونوں کی ملاقات ہوئی ہو گی۔ جوں جوں زمانہ گزرتا گیا، ان تعلقات میں خلوص اور پختگی اور ایک دوسرے کی مقام شناسی کا جذبہ پیدا ہوتا گیا۔ انہی تعلقات کا ایک باب یہ کتاب ہے۔
 

جیہ

لائبریرین
(2)

غبار خاطر کئی لحاظ سے بہت ہم کتاب ہے۔ مولانا مرحوم کے حالات (بالخصوص ابتدائی زمانے کے) اتنی شرح و بسط سے کسی اور جگہ نہیں ملتے جتنے اس کتاب میں۔ ان کے خاندان، ان کی تعلیم اور اس کی تفصیلات، عادات، نفسیات، کردار، امیال و عواطف، ان کے کردار کی تشکیل کے محرکات، ان سب باتوں پر جتنی تفصیل سے انہوں نے ان خطوں میں لکھا ہے اُور کہیں نہیں لکھا؛ اور ان کے سوانح نگار کے لیے اس سے بہتر اور موثق تر اور کوئی ماخذ نہیں۔

اس کتاب کی دوسری اہمیت اس کا اسلوبِ تحریر ہے۔ جہاں تک معلوم ہو سکا ہے وہ بارہ تیرہ برس کی عمر ہی میں نظم و نثر لکھنے لگے تھے اور اسی زمانے میں ان کی تحریریں رسائل و جرائد میں چھپنے لگی تھی۔ ظاہر ہے کہ ابتدائی تحریروں میں وہ پختگی نہیں تھی، ہو بھی نہیں سکتی تھی، جو مشق اور مرور زمانے ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں انہوں نے بہت کچھ لکھا۔ اگر ہم اس پورے مجموعے پر تنقیدی نظر ڈالیں تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ زبان و بیان کے لحاظ سے ان کے اسلوب نگارش کا نقطۂ عروج غبار خاطر ہے۔ اس کی نثر ایسی نپی تلی ہے اور یہاں الفاظ کا استعمال اس حد تک افراط و تفریط سے بری ہے کہ اس سے زیادہ خیال میں نہیں آ سکتا۔ ان کی ابتدائی تحریروں میں ناہمواری تھی۔ مثلاً الہلال اور البلاغ کے دور میں ان کے ہاں عربی اور فارسی کے ثقیل اور عیسر الفہم جملوں اور ترکیبوں کی بھرمار ہے۔ بے شک ان پرچوں کا خاص مقصد تھا اور ان کے مخاطب بھی تعلیم یافتہ لوگ بلکہ بہت حد تک طبقۂ علما کے افراد تھے۔ ان اصحاب سے توقع کی جا سکتی تھی کہ وہ نہ صرف ان تحریروں کو سمجھ سکیں گے، بلکہ ان سے لطف انداز بھی ہوں گے۔ لیکن اس کے با وجود یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ مطالب اس سے آسان تر زبان میں بیان نہیں ہو سکتے تھے۔ پس ظاہر ہے کہ عوام تو درکنار، متوسط طبقہ بھی ان سے پورے طور پر مستفید نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے برعکس غبار خاطر کو دیکھئے تو یہاں ایک نئی دنیا نظر آتی ہے۔ اس میں عربی فارسی کی مشکل ترکیبیں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ اس کی نثر ایسی شگفتہ اور دل نشین ہے کہ یہ نہ صرف ہر کسی کے لیے قریب الفہم ہے بلکہ اس سے لطف لیا جا سکتا ہے۔ آپ کہیں گے کہ اس کی وجہ یہ کہ یہاں موقع سہل ہے بے شک یہ توجیہ ایک حد تک درست ہے؛ لیکن بس ایک حد ہی تک۔ اسی مجموعے میں انہوں نے دو خطوں میں خدا کی ہستی سے تفصیلی گفتگو کی ہے (خط 12 اور 13) یہ موضوع آسان نہیں، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ دنیا کا سب سے اہم اور مشکل اور پیچیدہ موضوع ہے ہی، یہ ابتدا سے دنیا بھر کے فلسفی اور عالم اور عاقل اس سے متعلق لکھتے آئے ہیں؛ اور تمام مذاہب کی علت غائی اور بنیاد ہی یہ مسئلہ ہے۔ اگر اسی مسئلے پر انہوں نے اس سے تیس برس پہلے لکھا ہوتا تو اس زمانے میں ان کی جو افتاد تھی، اُسے مد نظر رکھتے ہوئے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کا انداز اور اُسلوب کیا ہوتا۔ لیکن یہاں انہوں نے جس طرح سے اس سے متعلق بحث کی ہے اس سے جہاں ان کے طرزِ استدلال کی دل نشینی نمایاں ہے وہیں اُسلوب تحریر کی دل کشی بھی لفظ لفظ سے پھوٹی پڑتی ہے۔ ایک ایک لفظ احتیاط سے کانٹے کی تول لکھا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ کہیں تکرار نہیں ہے، کہیں الجھاؤ نہیں ہے، نگاہ اور زبان کسی جگہ نہیں اٹکتے ہیں۔

اسی طرح ایک دوسرے خط (نمبر 17) میں .انایت. کا مسئلہ زیر بحث آ گیا ہے۔ یہ موضوع بھی آسان نہیں اور ذرا سی بے احتیاطی سے یہ نفسیات کی بھول بھلیوں اور علمی اصطلاحات کا مجموعہ سکتا ہے لیکن یہاں بھی انہوں نے نہایت احتیاط سے کام لیا ہے۔ بحث کو عام سطع پر رکھا ہے تاکہ پڑھنے والا اسے سمجھے اور لطف اندوز ہو۔ اس سے معلوم ہو گا کہ واقعی اب نہایت مشکل مسئلوں اور موضوعوں سے متعلق بھی وہ ایسے انداز میں گفتگو کر سکتے تھے کہ یہ نہ صرف علمی پہلو سے دقیع ہو۔ بلکہ زبان و بیان کے لحاظ سے بھی وہ ایسی دلکشی کا حامل ہو کہ ہماری ادب کا حصہ بن سکے۔


اس مجموعے کے بعض خطوط بادی النظر میں بہت معمولی باتوں سے متعلق ہیں، مثلاً حکایت زاغ و بلبل (خط 1) یا چڑیا چڑے کی کہانی (خط 19، 20) بہ ظاہر یہ ایسے عنوان ہیں جن سے متعلق خیال نہیں ہوتا کہ کچھ زیادہ لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن مولانا آزاد کی جولانئ قلم کا یہ کرشمہ ہے کہ ان پر 45 صفحے قلم بند کر دیئے ہیں۔ ان کی دقت نگاہ، جزئیات کا احاطہ غیر عادی اور غیر معمولی چیزوں سے دلچسپی اور ان کی تفصیلات کا علم، غرض کس کس بات کی تعریف کی جائے اور پھر یہ سب کچھ ایسی سہل ممتنع زبان میں بیان ہوا ہے کہ اس کا جواب نہیں۔ یا مثلاً خط 15 لیجیئے جس میں اپنے چائے کے شوق کا ذکر کیا ہے۔ یہاں پھر ان کی باریک بینی اور مسئلے کے مالہ و ماعلیہ کا تفصیلی ذکر نمایاں ہے۔ چائے کی پتی کی کاشت کی تاریخ اس کے دوسرے لوازمات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سب باتوں کا ذکر ایسے چٹخارے لے لے کر کیا ہے کہ خیال ہوتا ہے یہ چائے نہیں بلکہ شراب طہور یا آب کوثر و تسنیم کا ذکر ہو رہا ہے۔ پینے کو چائے سب ہی پیتے ہیں، لیکن مولانا آزاد کا یہ خط پڑھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ہم نے آج تک چائے کبھی پی ہی نہیں، بلکہ کوئی نقلی چیز ہمیں دے دی گئی تھی، جسے ہم لاعلمی میں اصلی سمجھتے رہے۔ یہ ان کے حسنِ انشا اور قوتِ بیان کا معجزہ ہے۔ پھر ان خطوں کا ایک اور مابہ الامتیاز ان کا ہلکا سافکاہی رنگ ہے جو جا بجا الفاظ کا پردہ چاک کر کے جھانکنے لگتا ہے۔ انہوں نے الہلال میں بھی بعض مقالے ایسے لکھے تھے جن میں مزاح کا رنگ چوکھا تھا۔ وہاں موضوع سیاسی تھا، یہاں موضوعِ سخن سیاسی چھوڑ ادبی بھی نہیں، لیکن اس میں بھی وہ وہ گل افشانیاں کی ہیں کہ صفحۂ کاغذ کو کشت زعفران بنا کے رکھ دیا ہے۔ مثلاً احمد نگر کے قلعے میں باورچی رکھنے کا قصہ پڑھیے (خط یا ڈاکٹر سید محمود کا گوریاؤں کی ضیافت کا سامان کرنا (خط 1یا چڑیا چڑے کی کہانی (خط 20) میں قلندر اور ملا کا حال ۔۔۔۔۔۔۔ ان سب مقامات پر بین السطور مزاح کی کارفرمائیوں نے پوری تحریر کو اتنا شگفتہ اور دل کش بنا دیا ہے کہ یہی جی چاہتا ہے وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔ اسی سے ایک اور بات کا خیال کیجیے۔ یہ ان کی مختلف جانوروں کی شکل و صورت اور عادات و اطوار کی جزئیات کی تصویر کشی ہے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنے حلقۂ احباب میں سے کم بیش روز کے ملنے والوں کے متعلق بھی اتنی تفصیل سے جانتے اور اپنی معلومات اور تاثرات کو قلم بند کر سکتے ہیں۔ یہ مولانا آزاد کا کمال ہے کہ انہوں نے ان پرندوں کو حیاتِ جادواں بخش دی ہے۔ موتی اور قلندر اور مُلا جیتے جاگتے کردار ہیں، اور ان کی شخصیت عام گوریاؤں اور چڑوں کی بھیڑ سے کئی گنا نمایاں ہو گئی ہے اور یہ بات صرف پرندوں سے متعلق ہی نہیں ہے یہ تصویر کشی اور مواقع پر بھی ملتی ہے مثلا باغ میں پھول لگائے ہیں۔ ان زندانیوں نے دن رات کی محنت سے چمن تیار کیا۔ کچھ دن بعد اس میں رنگا رنگ پھول اپنی بہار دکھانے لگے۔ یہ ہم میں سے ایک کا روز مرہ کا مشاہدہ ہے۔ لیکن مولانا مرحوم کے لیے یہ اس سے بھی بڑھ کر کچھ چیز ہے وہ ان پھولوں کی ابتدا اور نشو و نما ان کی خاصیتوں ان کی شکل و صورت، حسن و جمال دلفریبی اور دلکشی وغیرہ سے متعلق ایسی تفصیل سے لکھتے ہیں کہ چشمِ تصور کے سامنے ایک ہرا بھرا باغ لہلہانے لگتا ہے۔ اور پھر ان سب سے بڑھ کر قابل ذکر بات یہ ہے کہ معمولی سفر کا بیان ہو کہ پرندوں کا، کسی جنگ کا ذکر ہو کہ علم موسیقی کا، وہ اسے پند و موعظت اور دائمی صداقتوں اور ابدی اقدار سے الگ کر کے دیکھ نہیں سکتے وہ اسے فوراً کسی کلیے کی شکل دے دیتے اور فطرت کے عالمگیر قوانین کے بالمقابل دیکھنے لگتے ہیں۔ مثلاً جب ان لوگوں کو بمبئی سے گرفتار کر کے احمد نگر لے گئے ہیں، تو یہ وہاں کے ریلوے اسٹیشن سے قلعے تک موٹرکاروں میں گئے تھے۔ لکھتے ہیں : "اسٹیشن سے قلعے تک سیدھی سڑک چلی گئی ہے۔ راہ میں کوئی موڑ نہیں۔" میں سوچنے لگا کہ مقاصد کے سفر کا بھی ایسا ہی حال ہے؛ جب قدم اٹھا دیا تو پھر کوئی موڑ نہیں۔ (ص 5859) اسی سفر کا بیان ہو رہا ہے۔ سڑک پر موٹر کار پوری تیزی کے ساتھ مسافت طے کر رہی ہے۔ قلعہ جو پہلے فاسلے پر دکھائی دے رہا تھا اب قریب نظر آنے لگا۔ چشم زدن میں یہ چند قدم کا فاصلہ بھی پورا ہو گیا اور موٹر کاریں صدر پھاٹک کے اندر داخل ہو گئیں۔ فرماتے ہیں "غور کیجیے تو زندگی کی تمام مسافتوں کا یہی حال ہے خود زندگی اور موت کا باہمی فاسلہ بھی ایک قدم سے زیادہ نہیں ہوتا۔(صفحہ59) بالآخر زندانیوں کا یہ قافلہ قلعے کے اندر داخل ہو گیا اور پھاٹک بند کر دیا گیا۔ یہ روز مرہ کا معمولی وقوعہ ہے اور کوئی اس پر دھیان بھی نہیں دیتا۔ لیکن پھاٹک کے بند ہونے کی آواز سنتے ہی ان کا ذہن کہیں اور پہنچ گیا اور یہ سوچنے لگے اس کارخانۂ ہزار شیوہ و رنگ میں کتنے ہی دروازے کھولے جاتے ہیں، تا کہ بند ہوں اور کتنے ہی بند کیے جاتے ہیں، تا کہ کھلیں۔ (ص 51)۔


جب پچھلی صدی کے شروع میں روسیوں نے بخارا پر حملہ کیا، تو امیرِ بخارا نے حکم دیا تھا کہ مدرسوں اور مسجدوں میں ختمِ خواجگان کا ورد کیا جائے۔ اُدھر روسیوں نے قلعہ شکن توپوں سے گولے برسانا شروع کر دیے اور آخر کار بخارا فتح ہو گیا، لکھتے ہیں۔ " بالآخر وہی نتیجہ نکلا جو ایک ایسے مقابلے کا نکلنا تھا، جس میں ایک طرف گولہ بارود ہو دوسرے طرف ختم خواجگان۔۔ دعائیں ضرور فائدہ پہنچاتی ہیں مگر انہیں کو فائدہ پہنچاتی ہیں جو عزم و ہمت رکھتے ہیں۔ بے ہمتوں کے لیے تووہ ترک عمل کا حیلہ بن جاتی ہیں۔" (ص 162)۔

چڑیا کا بچہ جو ابھی ابھی گھونسلے سے نکلا ہے ہنوز اڑنا نہیں جانتا اور ڈرتا ہے۔ ماں کی متواتر اکساہٹ کے باوجود اسے اڑنے کی جرات نہیں ہوتی۔ رفتہ رفتہ اس میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ ایک دن اپنی تمام قوتوں کو مجتمع کر کے اُڑتا اور فضائے ناپید کنار میں غائب ہو جاتا ہے۔ پہلی ہچکچاہٹ اور بے بسی کے مقابلے میں اس کی یہ چستی اور آسمان پیمائی حیرت ناک ہے۔ اسی طرح کا ایک منظر دیکھ کر لکھتے ہیں " جوں ہی اس کی سوئی ہوئی خود شناسی جاگ اٹھی اور اسے اس حقیقیت کا عرفان حاصل ہو گیا کہ "میں اُڑنے والا پرند ہوں۔" اچانک قالب ہیجان کی ہر چیز از سر نو جان دار بن گئی۔" پھر اسی سے یہ حکیمانہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ "بےطاقتی سے توانائی، غفلت سے بے داری، بے پر و بالی سے بلند پروازی اور موت سے زندگی کا پورا انقلاب چشم زدن کے اندر ہو گیا۔ غور کیجئے تو یہی ایک چشم زدن کا وقفہ زندگی کے پورے افسانے کا خلاصہ ہے۔" (ص 232)۔

غرض پوری کتاب میں اس طرح کے جواہر ریزے منتشر پڑے ہیں، اور یہ ان کی عام روش ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ وہ بنیادی طور پر مفکر ہیں جیسا کہ انہوں نے خود کسی جگہ لکھا ہے، جو کچھ اسلاف چھوڑ گئے تھے، وہ انہوں نے ورثے میں پایا اور اس کے حصول اور محفوظ رکھنے میں انہوں نے کوتاہی نہیں کی؛ اور جدید کی تلاش اور جستجو کے لیے انہوں نے اپنی راہ خود بنا لی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی ذات علومِ قدیمہ و جدیدہ کا سنگم بن گئی۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی ہونا چاہیے تھا کہ ان پر غور و فکر کے دروازے کھل جاتے اور وہ ان راہوں سے ایک نئی دنیا میں پہنچ جاتے؛ اور یہ ہوا۔ یہ اقوال جو گویا ضرب الامثال کی حیثیت رکھتے اور انسانی تاریخ اور تجربے کا نچوڑ ہیں، اسی قران السعدین کا نتیجہ ہیں۔
 

جیہ

لائبریرین
(3)
مولانا آزاد مکہ (حجاز) میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ ایک عرب خاندان کی چشم و چراغ تھیں۔ ظاہر ہے کہ گھر میں بات چیت عربی میں ہوتی ہو گی جو گویا ان کی مادری زبان تھی۔ جب تک خاندان حجاز میں مقیم رہا وہاں اُردو کی باقاعدہ تعلیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ البتہ گھر میں والد سے گفتگو اردو میں ہوتی تھی اور جو ہندوستانی استاد ان کو پڑھانے کو مقرر کیے گئے تھے ان سے بھی لیکن قدرتی طور پر ابتدا میں ان کے اردو سیکھنے کا کوئی اطمینان بخش انتظام نہ ہو سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب ان کے والد خاندان سمیت آخری مرتبہ 1898 عیسوی میں حجاز سے ہندوستان آئے تو اس وقت مولانا آزاد کو جن کی عمر کم و بیش دس سال کی تھی، اردو کی بہت کم واقفیت تھی۔ مزید برآں اردو کے غلط الفاظ اور غلط مخارج جو مکہ میں عرب بولتے ہیں ان کی زبان پر بھی رائج تھے، جنھیں انہوں نے بہ تدریج کوشش کر کے دور کیا، چونکہ حجاز سے واپسی پر ہندوستان میں بھی خاندان کا قیام کلکتہ میں رہا جو اردو کا علاقہ نہیں اور اردو مراکز سے بھی دور ہے؛ اس پر تعلیم بھی سراسر عربی اور فارسی کی رہی، اس لیے اس دوران میں بھی اردو میں ترقی کے امکانات کم تھے۔ اس کے بعد اگرچہ مشق اور مزاولت اور محنت سے انہیں زبان پر پوری قدرت حاصل ہو گئی۔لیکن ان کے تلفظ میں کہیں کہیں غرابت اور قدامت کے اثرات آخر تک قائم رہے۔ مثلاٍ وہ سوچنا کو جگہ سونچنا (باضافہ نون غنہ) لکھتے ہیں۔ (ّبولتے بھی اسی طرح تھے)؛ تمام مشتقات میں بھی وہ اس نون کا اضافہ کرتے ہیں۔ مثلاً (ص 52، 65، 76، 107، 236)، سونچنے (58، 243) سونچتا ہوں (ص 244) سونچا (ص 126) سونچیں (ص133) سونچ (ص 129، 193) اسی طرح ایک اور مصدر ڈھونڈنا ہے۔ اس کی قدیم شکل ایک ہائے ہوز کے اضافے کے ساتھ ڈھونڈھنا تھی۔ مرحوم اسی طرح لکھتے تھے۔ چنانچہ اس کتاب میں آپ کو قدم قدم پر اس کی مثالیں ملیں گی؛ ڈھونڈھنا (ص 116، 131، 145) ڈھونڈھنے (ص 111) ڈھونڈھا (107) ڈھونڈھی (ص 262) ڈھونڈھیں (ص 95) ڈھونڈھتے (ص 94، 95، 107، 266) ڈھونڈھتی (ص 105) ڈھونڈھوایا (ص 111) ڈھونڈھ (ص 102، 107، 115، 175، 194) یہ سب شکلیں ملتی ہیں۔ گھاس کو بھی پہلے گھانس بولتے اور لکھتے تھے۔ اب گھانس متروک ہے اور گھاس ہی فصیح ہے لیکن اس کتاب میں ایک جگہ گھانس بھی آیا ہے (ص 245) بعض لفظوں کے دو دو املا بھی ملتے ہیں۔ مثلاً پاؤں اور پانؤں (106، 107) اگرچہ میرا گمان ہے کہ انہوں نے پانؤں ہی لکھا ہو گا، پاؤں کاتب کا تصرف ہے۔

ابتدا میں اعراب بالحروف کا رواج عام تھا؛ الفاط میں پیش کی جگہ واؤ زبر کی جگہ الف اور زیر کی جگہ یاے لکھتے تھے۔ یہ دراصل ترکی زبان کی تقلید کا نتیجہ تھا۔ 1922 عیسوی تک جب اتاترک نے ترکی کے لیے رومن رسم الخط اختیار کیا۔ یہ زبان بھی عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی اور اس میں اعراب کی جگہ حروف ہی استعمال ہوتے تھے۔ بہ تدریج یہ رواج کم ہوتا گیا اور بالآخر بالکل ترک ہو گیا۔ مولانا نے ان خطوں میں کم از کم تین لفظوں میں پرانے رواج کا تتبع کیا ہے۔ انڈیل کی جگہ اونڈیل (93، 127) اونڈیلی (ص 126) اور پرانی کی جگہ پورانی (ص 240) اگرچہ ایک جگہ پرانی بھی لکھا ہے (صفحہ 60)؛ اور اولجھن (ص 251)۔ زندہ زبان کی یہ خصوصیت ہے کہ نہ صرف خود اس میں تخلیق اور تشکیل کا عمل جاری رہتا ہے بلکہ وہ ہمیشہ طوعاً بھی دوسری زبانوں سے الفاظ لینے میں عار نہیں ہوتی۔ اردو تو اس معاملے میں ہے بھی معذور اور حق بہ جانب کیوں کہ اس کا خمیر ہی متعدد ملکی اور غیر ملکی زبانوں کے اختلاط سے اٹھا تھا۔ ہم نے بیرونی زبانوں میں فارسی اور فارسی ہی کے واسطے سے عربی اور ترکی اور سب سے آخر میں انگریزی سے سب سے زیادہ استفادہ کیا۔ انگریزی الفاظ اس دور کی یادگار ہیں جب انگلستان کا سیاسی غلبہ اس ملک پر مستقل ہو گیا۔ اکا دکا لفظ تو ہمیشہ آتا ہی رہتا ہے اور اسے آنا بھی چاہیے لیکن چونکہ انگریزی کے ساتھ غیر ملکی اقتدار بھی وابستہ تھا، اس لیے غیر شعوری طور پر انگریزی لفظوں کا آنا ناگزیر تھا۔ یہ الفاظ دو حصوں میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں۔ اول ان چیزوں کے نام جو انگریزوں کے ساتھ آئیں اور پہلے سے ہمارے پاس موجود نہیں تھیں یا ان نئے علوم کی اصطلاحات جو مغرب میں وجود میں آئے اور یہاں ان کی تعلیم انگریزی زمانے میں شروع ہوئی۔ ہم علمی اصطلاحات کو جوں کا توں لینے پر کسی حد تک مجبور تھے لیکن یہ بات پہلی قسم سے متعلق نہیں کہی جا سکتی۔ ان سے ملتی جلتی چیزیں ہمارے یہاں موجود تھیں۔ ان کا آسانی سے عام فہم ترجمہ کیا جا سکتا تھا۔ ستم یہ ہوا کہ کچھ لوگوں نے اپنی تحریروں میں اندھا دھند انگریزی کے لفظ استعمال کرنا شروع کر دیے حالاں کہ اس کی کسی عنوان ضرورت نہیں تھی اور لطیفہ یہ ہے کہ اس کی ابتدا سر سید اور ان کے دوستوں سے ہوئی جو یا تو انگریزی بالکل نہیں جانتے تھے یا بہت تھوڑی جانتے تھے۔ سر سید کی اپنی تحریروں میں انگریزی کے بہت لفظ ہیں؛ رہی سہی کمی ان0
کے مقلدین میں ڈپتی نذیر احمد اور حالی اور شبلی نے پوری کر دی۔ انہوں نے غیر ضروری طور پر انگریزی کے ایسے لفظ بھی اپنی تحریروں میں استعمال کیے ہیں جن کے لیے ان کے پاس کوئی عذر نہیں تھا۔ مولانا آزاد نے ان خطوط میں انگریزی کے بہت لفظ لکھے ہیں۔ ان میں بہت سے پہلی قسم میں شامل ہیں مثلاً موٹر کار (43) اسسٹیشن (46) ٹرین (45) ٹائم پیس (46) سگرٹ کیس (49) وارنٹ (49) سول سرجن (80) وغیرہ۔ یہ تمام الفاظ اب عام طور پر اردو میں بولے اور سمجھے جاتے ہیں اور انہیں زبان سے خارج کر کے ہم کوئی دانش مندی کا ثبوت نہیں دیں گے لیکن بعض جگہ ان کے قلم سے کچھ ایسے لفظ بھی نکل گئے ہیں جن کے مترادف ہمارے ہاں ملتے ہیں مثلاً پریس (23) آفس (85) پریسدڈنٹ (53) میس (110، 201) ہیٹر (181) ٹیبل (46، 49) وغیرہ ان کا مفہوم آسانی سے ہم اپنے موجودہ ذخیرۂ الفاظ سے ادا کر سکتے ہیں اور ہمیں قطعی ضرورت نہیں کہ ہم خواہی نہ خواہی ان سے اپنی تحریروں کو بوجھل بنائیں۔ زبان کی طرح مصنف کا اسلوب بیان بھی بدلتا رہتا ہے اور بعض حالتوں میں تو یہ اس کے کردار کا آئینہ بن جاتا ہے۔ مولانا کی تعلیم خالص مشرقی انداز پر ہوئی۔ قدرتی طور پرمدتوں ان کا مطالعہ بھی زیادہ تر دینی علوم یا یا عربی فارسی کا رہا لیکن جب انہوں نے انگریزی میں کافی مہارت پیدا کر لی تو اس کے بعد انہوں نے مغربی علوم سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے انگریزی کتابیں بھی کثرت سے پڑھیں۔ اس کا اثر ان کی طرزِ تحریر پر پڑنا ہی چاہیے تھا۔ اب وہ غیر شعوری طور پر انگریزی روز مرہ کا تتبع کرتے ہیں بلکہ کہیں کہیں تو یہ خیال ہونے لگتا ہے کہ وہ انگریزی میں سوچ رہے اور اس کے محاوروں، جملوں کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ غبار خاطر میں بھی اس کی مثالیں کچھ کم نہیں۔ مثلاً صبح مسکرا رہی تھی (54، 95)؛ یہ دور صبوحی کا آخری جام ہوتا ہے (81) مشغولیوں میں گم ہو جاتا ہوں (97) آسمان کی بے داغ نیلگونی اور سورج کی بے نقاب درخشندگی (97) یہ خیال بس کرتا ہے (102) میرے اختیار کی پسند نہیں تھی (107) حالات کی مخلوق (116) گرد و پیش کے موثرات (116) یہ سب جملے اور ترکیبیں اپنی ساخت میں بنیادی طور پر انگریزی کی ہیں۔ چونکہ قلعہ احمد نگر کی نظر بندی کے ایام میں عام طور پر انگریزی کتابیں ان کے مطالعے میں رہیں وہی ترکیبیں ان کے ذہن میں بسی ہوئی تھیں اور جب وہ یہ خطوط لکھ رہے تھے، لامحالہ تحت الشعور سے ابھر کر انہوں نے اردو کا جامہ پہن لیا۔

 

جیہ

لائبریرین
(4)

غبار خاطر پہلی مرتبہ مئی 1946 میں چھپی تھی۔ اسے جناب محمد اجمل خان نے مرتب کیا تھا؛ اور اس کے شروع میں ان کا مقدمہ بھی شامل تھا۔ چوں کہ ایک زمانے کے بعد لوگوں نے مولانا آزاد کی کوئی تحریر دیکھی تھی، یہ ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ نکل گیا۔ تین مہینے کے بعد کتاب دوسری مرتبہ اسی سال اگست میں چھپی؛ اور یہ اشاعت بھی سال بھر میں ختم ہو گئی۔ ان دونوں اشاعتوں کے ناشر حالی پبلشنگ ہاؤس دہلی تھے۔ بد قسمتی سے دونوں مرتبہ کتابت کا معیاری انتظام نہیں ہو سکا تھا اور اسی لیے مولانا اس سے مطمئن نہیں تھے۔ تیسری مرتبہ اسے ان کے ایک دیرینہ مداح لالہ پنڈی داس[1] نے 1947 کے فروری میں لاہور سے شائع کیا۔ اس مرتبہ اس میں ایک خط بھی زائد تھا جو پہلی دونوں اشاعتوں میں شامل ہونے سے رہ گیا تھا؛ یہ سب سے آخری خط موسیقی سے متعلق ہے۔ اب بازار میں اسی تیسری اشاعت کے چوری چھپے کے نقلی نسخے ملتے ہیں؛ اور یہ کتابت کی اغلاط سے پُر ہیں۔

مولانا آزاد مرحوم کی وفات 22 فروری 1958 کے بعد ساہیتہ اکیڈمی نے فیصلہ کیا کہ ان کی تمام تحریروں کو جمع کر کے جدید طریقے پر مرتب کیا جائے۔ کام کا آغاز ان کی شاہ کار تصنیف ترجمان القرآن سے کیا گیا۔ (اس کے دو حصے شائع ہو چکے ہیں۔ بقیہ دو جلدیں بھی غالباً اگلے سال ایک میں شائع ہو جائے گی۔)


غبارِ خاطر کی ترتیب میں مجھے سب سے زیادہ دقت مختلف کتابوں اور اشعار کے حوالوں کی تلاش میں ہوئی ہے۔ مرحوم لکھتے وقت اپنے حافظے سے بے تکلف کتابوں کی عبارتیں اور شعر لکھتے چلے جاتے ہیں۔ جہاں تک معروف شعرا اور مطبوعہ دواوین کا تعلق ہے، ان سے رجوع کرنا چنداں دشوار نہیں تھا لیکن نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے شعر کسی تذکرے میں دیکھا تھا یا کہیں اُور۔ میں نے حوالے دواوین سے دیے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ بہت جگہ لفظی تفاوت ہے۔ بعض اوقات وہ موقع کی ضرورت سے دانستہ بھی رد و بدل کر لیتے ہیں لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ انہوں نے جہاں اسے دیکھا تھا، وہاں یہ اسی طرح چھپا ہو۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ ان کے حافظے نے اسے جوں کا توں محفوظ نہ رکھا ہو۔ اس صورت میں انہوں نے اس میں ایک آدھ لفظ اپنی طرف سے اضافہ کر کے لکھ دیا۔ چونکہ خود موزوں طبع تھے، شعر ساقط الوزن تو ہو نہیں سکتا تھا، البتہ اصل متن قائم نہ رہا۔ پوری کتاب میں کوئی سات سو شعر ہیں۔ پوری کوشش کے باوجود ان میں سے ستر اسی اشعار کی تخریج نہیں ہو سکی۔ میں نے اس سلسلے میں اپنے کئی احباب سے بھی مدد لی ہے اور میں ان سب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے حتی الامکان اس سے دریغ نہیں کیا۔ دلی میں اب کتابوں کا کال ہے اور یہاں کوئی اچھا کتاب خانہ نہیں ہے۔ میں نے بہت جگہوں سے کتابیں مستعار لیں اور اس کے لیے مجھے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی آزاد لائبریری اور ادارۂ علوم اسلامیہ کے کتاب خانے سے بھی رجوع کرنا پڑا۔ اس کے باوجود بعض حوالوں کی تکمیل نہیں ہو سکی۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ کتابیں مہیا نہ ہو سکیں۔ اگر کتاب کے پھر چھپنے کی نوبت آئی اور اس اثنا میں مزید معلومات مہیا ہو گئیں۔ تو اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس ایڈیشن کا متن 1947 کی طبعِ ثالث پر مبنی ہے۔ البتہ طبعِ اول کا نسخہ مقابلے کے لیے پیش نظر رہا ہے۔
اصلی کتاب کے حواشی میں مداخلت نہیں کی گئی، حالانکہ ممکن ہے کہ ان میں سے بعض خود مولانا مرحوم کے قلم سے نہ ہوں۔ میں نے امتیاز کے لیے اپنے حواشی کتاب کے آخر میں شامل کر دیے ہیں۔

حاشیہ

[1](لالہ پنڈی داس پنجاب کے پرانے انقلابیوں میں شمار ہوتے ہے۔ وہ لاہور کی اولین انقلابی انجمن "بھارت ماتا سبھا" کے ممبر، بلکہ اس کے بانیوں میں سے تھے۔ اس انجمن میں سردار اجیت سنگھ (بھگت سنگھ کے چچا) صوفی انبا پرشاد (ایڈیٹر روزنامہ پیشوا) ایشری پرشاد (نیم سوپ والے) منشی منور خان ساغر اکبر آبادی؛ دینا ناتھ حافظ آبادی (ایڈیٹر اخبار ہندوستان) لال چند فلک، مہتہ نند کشور وغیرہ ان کے شریک کار تھے۔ انجمن کی طرف سے ایک ماہانہ رسالہ بھی نکلتا تھا۔ (پنڈی داس خود بھی ایک پرچہ "انڈیا" گوجرانوالہ سے نکالتے تھے) اس سبھا کے جلسے باقاعدہ ہوتے جن میں جوشیلے اراکین حکومت کے خلاف غم و غصہ کا اعلان کرتے اور لوگوں کو ابھارنے کےلیے نظم و نثر میں آگ اگلتے تھے۔



جب مئی 1907 میں حکومت نے لالہ لاجپت رائے کو گرفتار کر کے مانڈلے (برما) میں نظر بند کر دیا، تو اسی زمانے میں پنڈی داس ارنند کشور کو بھی پانچ سال کے لیے کسی نامعلوم مقام پر بھیج دیا گیا تھا۔ 14 جولائی 1969 کو دلی میں انتقال ہوا (حاشیہ ختم)
 

جیہ

لائبریرین
(5)
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کتاب سے متعلق بعض باتوں کا وضاحت کر دی جائے۔ اردو میں متعدد لفظوں کے لکھنے میں بہت بے احتیاطی کا رواج سا ہو گیا ہے۔ مثلاً عام طور پر فارسی کے حاصل مصدر ہمزہ سے لکھے جاتے ہیں۔ جیسے آزمائش ستائش، افزائش وغیرہ یہاں ہمزہ غلط ہے؛ یہ تمام الفاظ یا ے سے ہونا چاہیں یعنی آزمایش، ستایش، افزایش وغیرہ۔ اسی طرح فارسی مرکبات توصیفی و اضافی میں اگر موصوف یا مضاف کے آخر میں یا ے ہو تو اس پر ہمزہ ٹھیک نہیں ہو گا۔ مثال کے طور پر صلاے عام، پاے خود، جاے مہمان میں کسی جگہ بھی یا ے پر ہمزہ لکھنا درست نہیں۔ ہاں اگر یہ یا ے معروف ہو تو اس صورت میں اس کے نیچے زیر زیر لگنا چاہیے مثلاً رعنائیِ خیال بیماریِ دل وغیرہ۔

اردو کے وہ لفظ جو امر تعظیمی کی ذیل میں آتے ہیں جیسے کیجیے، پیجیے، ڈریے یا جمع ماضی ضیغے مثلا دیے، لیے وغیرہ ان میں بھی ہمزہ نہیں، بلکہ آخر میں یا ے ہے؛ یہی حال چاہیے کا ہے۔

آپ کو اس مرتبہ پچھلی اشاعتوں سے دو جگہ املا کا تفاوت ملے گا۔ پہلا لفظ .طیار. ہے؛ یہ سب جگہ تیار کر دیا گیا ہے۔ دوسرے علماے کرام اور اسی قبیل کی ترکیبیں ہیں، ان میں ہر جگہ ہمزہ کی جگہ یا ے لکھ دی گئی ہے یعنی علماے کرام وغیرہ (اگرچہ ممکن ہے کہ کسی جگہ سہو سے یہ تبدیلی نہ کی جا سکی ہو) اس تبدیلی کا جواز "تذکرہ" کا وہ نسخہ ہے، جو مولانا کے ذاتی
} لائبریری میں موجود ہے۔ مولانا لکھتے ہیں۔{[1] ہمارے ہاں تحریر میں رموز اوقاف کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ بعض اوقات اس سے بہت الجھن پیدا ہو جاتی ہے اور عبارت کے معنی تک بدل جاتے ہیں۔ آپ کو انگریزی کی کوئی معیاری کتاب رموز اوقاف کے بغیر نہیں ملے گی۔ یہ قابل تقلید روش ہے۔ ہمارے لکھنے والوں اور ناشروں کو اس پر کاربند ہونے کی ضرورت ہے۔ اردو میں چونکہ اس کا رواج نہیں ہے اس لیے یہ فیصلہ کرنا بھی دشوار ہے کہ کہاں کونسا نشان رکھنا چاہیے۔ اگریہ استعمال عام ہو جائے تو رفتہ رفتہ یہ تعیین بھی ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نسخے کی کتابت میں حتی الوسع ان اصولوں کی پابندی کی گئی ہے۔
مالک رام( نئی دلی)
فروری 1967 عیسوی


حاشیہ
[1] اصل متن میں کاتب کی غلطی سے کچھ الفاظ کتابت سے رہ گئے ہیں۔ معلوم نہیں کہ وہ الفاظ کیا تھے۔ میں نے قیاس سے ان کو بریکیٹس کے اندار لکھا ہے تاکہ تسلسل بر قرار رہے۔ (جویریہ مسعود)
 
Top