انور شعور غزل ۔ ہوگئے دن جنہیں بھلائے ہوئے ۔ انور شعورؔ

محمداحمد

لائبریرین
غزل​
​
ہوگئے دن جنہیں بھلائے ہوئے​
آج کل ہیں وہ یاد آئے ہوئے​
​
میں نے راتیں بہت گزاری ہیں​
صرف دل کا دیا جلائے ہوئے​
​
ایک اُسی شخص کا نہیں مذکور​
ہم زمانے کے ہیں ستائے ہوئے​
​
سونے آتے ہیں لوگ بستی میں​
سارے دن کے تھکے تھکائے ہوئے​
​
مسکرائے بغیر بھی وہ ہونٹ​
نظر آتے ہیں مسکرائے ہوئے​
​
گو فلک پہ نہیں، پلک پہ سہی​
دو ستارے ہیں جگمگائے ہوئے​
​
الوداعی مقام تک آئے​
ہم نظر سے نظر ملائے ہوئے​
​
اے شعورؔ اور کوئی بات کرو​
ہیں یہ قصّے سُنے سنائے ہوئے​
​
انور شعورؔ​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top