غزل ۔ مجھے اس سے محبت ہے ، تو ہے ۔ سعید راجہ

عائد

محفلین
غزل

مجھے اس سے محبت ہے ، تو ہے
جو یہ حرفِ بغاوت ہے ، تو ہے

تو کیا میں معذرت کرتا پھروں
مِرے اندر جو وحشت ہے ، تو ہے

کہے وہ سر پھِرا تو کیا ہُوا
یہی اپنی حقیقت ہے ، تو ہے

مداوائے دلِ مضطر ہے وہ
خیالِ یار راحت ہے ، تو ہے

سُنوں دل کی کہ دُنیا کی سُنوں
اگر وہ بے مروّت ہے ، تو ہے

انا قصّہ کہاں سے آگیا
مجھے اُس کی ضرورت ہے ، تو ہے

چھُپائیں کیا خوشی دل کی سعید
نگاہوں میں اشاعت ہے ، تو ہے

سعید راجہ
 
Top