مصطفیٰ زیدی غزل ۔ تم ہنسو تو دن نکلے، چپ رہو تو راتیں ہیں ۔ مصطفیٰ زیدی

محمداحمد

لائبریرین
غزل ​
​
تم ہنسو تو دن نکلے، چپ رہو تو راتیں ہیں​
کس کا غم، کہاں کا غم، سب فضول باتیں ہیں​
​
اے خلوص میں تجھ کو کس طرح بچاؤں گا​
دشمنوں کی چالیں ہیں، ساتھیوں کی گھاتیں ہیں​
​
تم پہ ہی نہیں موقوف، آج کل تو دنیا میں​
زیست کے بھی مذہب ہیں، موت کی بھی ذاتیں ہیں​
​
مصفطیٰ زیدی​
​
 

فرحت کیانی

لائبریرین
تم پہ ہی نہیں موقوف، آج کل تو دنیا میں​
زیست کے بھی مذہب ہیں، موت کی بھی ذاتیں ہیں​

واہ۔ بہت خوب۔
بہت شکریہ احمد! :)
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top