رئیس فروغ غزل ۔ اک اپنے سلسلے میں تو اہلِ یقیں ہوں میں ۔ رئیس فروغ

محمداحمد

لائبریرین
غزل​
​
اک اپنے سلسلے میں تو اہلِ یقیں ہوں میں​
چھ فیٹ تک ہوں، اس کے علاوہ نہیں ہوں میں​
​
روئے زمیں پہ چار ارب میرے عکس ہیں​
اِن میں سے میں بھی ایک ہوں، چاہے کہیں ہوں میں​
​
ویسے تو میں گلوب کو پڑھتا ہوں رات دن​
سچ یہ ہے اک فلیٹ ہے، جس کا مکیں ہوں میں​
​
ٹکرا کے بچ گیا ہوں بسوں سے کئی دفعہ​
اب کے جو حادثہ ہو تو سمجھو نہیں ہوں میں​
​
جانے وہ کوئی جبر ہے یا اختیار ہے​
دفتر میں تھوڑی دیر جو کرسی نشیں ہوں میں​
​
میری رگوں کے نیل سے معلوم کیجیئے​
اپنی طرح کا ایک ہی زہر آفریں ہوں میں​
​
مانا مری نشست بھی اکثر دلوں میں ہے​
اینجائنا کی طرح مگر دل نشیں ہوں میں​
​
میرا بھی ایک باپ تھا، اچھا سا ایک باپ​
وہ جس جگہ پہنچ کے مرا تھا، وہیں ہوں میں​
​
رئیس فروغ​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top