غزل: ہو تیری خیر مرے یار تیرے گاؤں کی خیر (مہدی نقوی حجاز)

غزل

دیار یار سے آتی ہوئی ہواؤں کی خیر
ہو تیری خیر مرے یار تیرے گاؤں کی خیر

سفر میں ہوں گی، ابھی تک تو ہم سلامت ہیں
تری بلا سے جو آنی تھیں، ان بلاؤں کی خیر

جو مدتوں سے ہماری طرح ہیں بے شمشیر
نبردِ عشق میں ان زور آزماؤں کی خیر

کہ دوڑتا ہے تُو گلشن میں چومنے کو گلاب
ہو خارزار میں تیرے برہنہ پاؤں کی خیر

جو سرحدوں پہ جوان اپنی زندگی ہارے
گھروں میں ان کے یتیموں کی، ان کی ماؤں کی خیر

اگر وہی ہیں جو تیرے لیے اہم ہیں تو پھر
ہو خیر تیرے خداؤں کی دیوتاؤں کی خیر

کہ جن کو ہم سے محبت ہے شاعری کے سبب
ہو اس زمانے میں ان الفت آشناؤں کی خیر

ہو خیر سب کی، خصوصاً ان اہلِ دین کی اور
تمہارے حق میں حجازؔ، ان کی بددعاؤں کی خیر

مہدی نقوی حجازؔ
 

نایاب

لائبریرین
واہہہہہہہہہہہ
بہت ہی اعلی
خیر ہی خیر
کیا خوب تجسیم ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہ دوڑتا ہے تُو گلشن میں چومنے کو گلاب
ہو خارزار میں تیرے برہنہ پاؤں کی خیر

بہت سی دعاؤں بھری داد
 
Top