ابن انشا غزل : کیسی بھی ہو اس شخص کی اوقات عزیزو - ابنِ انشا

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 22, 2019

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,144
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    کیسی بھی ہو اس شخص کی اوقات عزیزو
    انشاؔ کی غنیمت ہے ابھی ذات عزیزو

    اس شہرِ خرد میں کہاں ملتے ہیں دِوانے
    پیدا تو کرو اس سے ملاقات عزیزو

    پابندِ سلاسل ہے ، پہ زندان جہاں میں
    زندانِ جہاں کی سی کرے بات عزیزو

    ہے مفلس و محتاج پہ ہم نے تو نہ دیکھا
    اس کو بہ درِ قبلۂ حاجات عزیزو

    پایا ہے مگر خاک بسر اہلِ طلب میں
    اُتری ہو جہاں حُسن کی بارات عزیزو

    ق
    اس شخص نے یوں کون سا میداں نہیں مارا
    بس عشق کی بازی میں ہوئی مات عزیزو
    اُس پہ رہا ہاتھ میں شیرازہ سخن کا
    عشّاق کے مطلب کی غزلیات عزیزو
    ابنِ انشا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر