مجذوب غزل : عبث کہتا ہے چارہ گر یہاں تک تھا یہاں تک ہے - خواجہ عزیز الحسن مجذوب

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 23, 2019

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,125
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    عبث کہتا ہے چارہ گر یہاں تک تھا یہاں تک ہے
    وہ کیا جانے کہ زخمِ دل کہاں تک تھا کہاں تک ہے

    مرا خاموش ہو جانا دلیلِ مرگ ہے گویا
    مثالِ نَے مرا جینا فغاں تک تھا فغاں تک ہے

    نہ دھوکہ دے مجھے ہمدم وہ آیا ہے نہ آئے گا
    پیامِ وعدۂ وصلت زباں تک تھا زہاں تک ہے

    کٹی روتے ہی اب تک عمر آگے دیکھئے کیا ہو
    بتاؤں کیا کہ دل میں غم کہاں تک تھا کہاں تک ہے

    وہاں تک قیس کب پہنچا وہاں فرہاد کب آیا
    بیاباں میں گزر اپنا جہاں تک تھا جہاں تک ہے

    مجھے تو عمر بھر رونا ہے یارو کوئی موسم ہو
    یہ مت سمجھو مرا نالہ خزاں تک تھا خزاں تک ہے

    قدم راہِ اثر میں اس نے رکھا تھا نہ رکھا ہے
    یہ وہ نالہ ہے جو اب تک زباں تک تھا زباں تک ہے

    مرے ہی دل تک آنا تھا مرے ہی دل تک آنا تھا
    خدنگِ ناز کا پلہ یہاں تک تھا یہاں تک ہے

    تکلف یہ تری خاموشیاں تجھ کو مٹا دیں گی
    زمانے میں ترا چرچا فغاں تک تھا فغاں تک ہے
    خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    517
    موڈ:
    Breezy
    کیا کہنے خواجہ صاحبؒ کے یہ ہوتی ہے مجذوب کی صدا۔درحقیقت خواجہ صاحبؒ صرف تخلص کی حد تک مجذوب نہ تھے بلکہ حقیت میں بھی مجذوب ہی تھے واقفان احوال خوب جانتے ہیں۔فراز صاحب یا دآئے۔۔۔۔
    جہاں ناصحوں کا ہجوم تھا وہیں عاشقوں کی دھوم تھی
    جہاں بخیہ گر تھے گلی گلی وہیں رسم جامہ دری رہی​
     

اس صفحے کی تشہیر