غزل: طواف اس زندگی کا کیوں کریں ہم

عزیزانِ گرامی، تسلیمات!

ایک غزل، حضرتِ جونؔ کی زمین میں، آپ سے کے ذوق کی نظر۔ امید ہے آپ اپنی قیمتی آراء سے ضرور نوازیں گے۔

دعاگو،
راحلؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طواف اس زندگی کا کیوں کریں ہم
اب اس تربت کو کعبہ کیوں کریں ہم؟

قصور اس کا ہے، جب یہ جانتے ہیں
خموشی کا ارادہ کیوں کریں ہم!

نہیں منظور جب بننا تماشا!
بیاں پھر حال دل کا کیوں کریں ہم؟

ہے سب معلوم تیرے دل میں کیا ہے!
تری باتوں کی پروا کیوں کریں ہم

نہ ہو کر خوار اور برباد کامل
محبت میں خسارہ کیوں کریں ہم!

اسے ویسے بھی کب ہے قدر کرنی!
وفاداری کا پیچھا کیوں کریں ہم؟

نہیں جب خوگرِ احسان مندی
ستائش کی تمنا کیوں کریں ہم!

نمائش کے لئے شوپیس ہیں کیا؟
تری محفل میں جلوہ کیوں کریں ہم!

نیت اس کی نہیں گر لَوٹنے کی
غمِ فرقت سے رشتہ کیوں کریں ہم!

انہیں احسنؔ، غرض گر جسم سے ہے
بتا راحلؔ کو زندہ کیوں کریں ہم؟
 
آخری تدوین:
خدارا میری بات کو غلط نہ لیجیے. آپ ایک talented شاعر ہیں.
نالوں کو روکیں گے تو وہ زیادہ بڑھیں گے. یہ مطلب تھا
اجی، برا کون احمق مانتا ہے۔ اصل میں تدوین کرتے کرتے کسی کام سے اٹھ گیا اور پیچھے سے موبائل ہمارے صاحبزادے کے ہاتھ لگ گیا جس نے تباہی پھیردی :)
ابھی سب دوبارہ سیٹ کیا ہے :)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
واہ! بہت خوب راحل بھائی! اچھی غزل ہے۔
اس مصرع کو پھر دیکھ لیجئے: تری محفل میں جلوہ کیوں کریں ہم
جلوہ کرنا تو ٹھیک محاورہ نہیں ہے ۔ جلوہ گر ہونا ، جلوہ آرا ہونا ، جلوہ دکھانا وغیرہ ہوتا ہے ، جلوہ کرنا نہیں۔
 

فاخر رضا

محفلین
واہ! بہت خوب راحل بھائی! اچھی غزل ہے۔
اس مصرع کو پھر دیکھ لیجئے: تری محفل میں جلوہ کیوں کریں ہم
جلوہ کرنا تو ٹھیک محاورہ نہیں ہے ۔ جلوہ گر ہونا ، جلوہ آرا ہونا ، جلوہ دکھانا وغیرہ ہوتا ہے ، جلوہ کرنا نہیں۔
یا پھر یوں کردیں
تری محفل میں بلوا کیوں کریں ہم
مذاقاً
 
واہ! بہت خوب راحل بھائی! اچھی غزل ہے۔
اس مصرع کو پھر دیکھ لیجئے: تری محفل میں جلوہ کیوں کریں ہم
جلوہ کرنا تو ٹھیک محاورہ نہیں ہے ۔ جلوہ گر ہونا ، جلوہ آرا ہونا ، جلوہ دکھانا وغیرہ ہوتا ہے ، جلوہ کرنا نہیں۔
جزاک اللہ ظہیر بھائی۔ ان شاء اللہ مستقبل میں بھی اس نکتے کا دھیان رکھوں گا۔

دعاگو،
راحل۔
 
Top