غزل:: سُکوں وہ لے گیا تھا ساتھ، اب آرام کھو بیٹھے:: از رشید حسرت

رشید حسرت نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 8, 2021

ٹیگ:
  1. رشید حسرت

    رشید حسرت محفلین

    مراسلے:
    181
    جھنڈا:
    Pakistan
    غزل




    سُکوں وہ لے گیا تھا ساتھ، اب آرام کھو بیٹھے
    یہ کِس سے پڑ گیا پالا کہ دِل سے ہاتھ دھو بیٹھے

    پریشاں ڈُھونڈتے پِھرتے ہیں بچّے بُوڑھے بابا کو
    اُدھر وقتوں کے قِصّوں میں ہیں گُم سُم یار دو بیٹھے

    بڑوں کے فیصلوں کو ٹال کر کرتے تھے من مانی
    ابھی ہم رو رہے ہیں دوستو تقدِیر کو بیٹھے

    "نشِستیں تو نہیں ہوتی ہیں بزمِ یار میں مخصُوص"
    کہاں اُٹھتے ہیں قُربِ یار میں اِک بار جو بیٹھے

    رِہائی زلف سے محبوب کی ہم نے تو پالی تھی
    نہیں تھی اُٹھ کے جانے کی ذرا بھی تاب، سو بیٹھے

    کِسی نے لوٹ آنے میں ذرا سی دیر کر ڈالی
    پلٹ آیا ہے وہ، ہم جس گھڑی اوروں کے ہو بیٹھے

    ابھی تک یاد آتا ہے بِچھڑنے کا کوئی منظر
    بہت چاہا کریں ہم ضبط، پر آنکھیں بِھگو بیٹھے

    کھڑے ہم ایک مُدّت دل کے زخموں کے مداوے کو
    اُٹھا ارمان کا اِک نا روا طُوفان تو بیٹھے

    رشید حسرتؔ جہاں تک زِندگی ہے، آرزُوئیں ہیں
    یہاں ہم اُٹھ گئے اے دوستو ارمان وہ بیٹھے

    رشید حسرتؔ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر