غزل : سنگ ریزہ کبھی الماس نہیں بھی ہوتا -اختر عثمان

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 31, 2019

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,138
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    سنگ ریزہ کبھی الماس نہیں بھی ہوتا
    بعض اوقات یہ احساس نہیں بھی ہوتا

    دلِ کج فہم ہے حسّاس نہیں بھی ہوتا
    آدمی وقفِ غم و یاس نہیں بھی ہوتا

    کتنی باتیں ہیں جو لکھنا ہی نہیں چاہتا میں
    حرفِ گفتہ سرِ قرطاس نہیں بھی ہوتا

    بہتا رہتا ہے مرے خون میں اک نقشِ جمیل
    لمحۂ وصل مرے پاس نہیں بھی ہوتا

    کیا ضروری ہے کہ دیوانہ سرِ دشت پھرے
    ہجرت و ہجر میں بن باس نہیں بھی ہوتا

    کربلا والیو بس چادرِ اطہر کا خیال
    سرِ خیمہ کبھی عباس نہیں بھی ہوتا

    آتے جاتے ہیں مرے پاس پرندے اخترؔ
    ہاں کسی روز یہ اجلاس نہیں بھی ہوتا
    اختر عثمان
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر