رئیس امروہوی غزل : سر چشمۂ زندگی رہا ہوں - رئیس امروہوی

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 4, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,112
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    سر چشمۂ زندگی رہا ہوں
    اور زہرِ حیات پی رہا ہوں

    اپنی رگِ جاں پہ جی رہا ہوں
    عفریت ہوں خون پی رہا ہوں

    کانٹوں سے فگار انگلیاں ہیں
    ملبوسِ بہار سی رہا ہوں

    ہر سانس ہے مرگِ نو کا پیغام
    ہر سانس کے ساتھ جی رہا ہوں

    ہر منزلِ جہل و معرفت میں
    تصویر خود آگہی رہا ہوں

    اللہ کے قرب کے علاوہ
    ابلیس کے ساتھ بھی رہا ہوں

    میں قبلِ وجود بو البشر بھی
    سر تا بہ پا زندگی رہا ہوں

    ہر عہد میں آدمی رہوں گا
    ہر عہد میں آدمی رہا ہوں

    کس طرح رہا ہوں کیا بتاؤں؟
    کہنے کو ہنسی خوشی رہا ہوں
    رئیس امروہوی
    1965ء
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 4, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر