غزل : سرِ بامِ تمنا مشعلِ مژگاں جلا بیٹھے - اختر عثمان

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 29, 2019

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,113
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    سرِ بامِ تمنا مشعلِ مژگاں جلا بیٹھے
    ڈھلی جب شام تو تنہائی کی ٹہنی پہ جا بیٹھے

    خماری بھی ہے اور بادِ بہاری بھی سرِ صحرا
    اور اس لمحے عروسِ گُل اگر پہلو میں آ بیٹھے

    مُبادا خلوتِ خوشبو کا شیرازہ بکھر جائے
    گلوں پر بے نیازانہ بہ اندازِ صبا بیٹھے

    ازل سے آمد و شُد کا یہ کارِ دہر ہے جاری
    زمینوں کے خدا اُٹھے زمانوں کے خدا بیٹھے

    ہمیں بھی کچھ نکھرنا ہے ہمیں بھی کچھ سنورنا ہے
    کوئی صورت نکل آئے اگر تھوڑی ہوا بیٹھے

    کوئی آہستگی سے بھی اٹھائے تو بکھر جائیں
    چمن کے راستے پر ہم بہ طرزِ نقشِ پا بیٹھے

    ان آنکھوں پھیلتا سرمہ ہے وجہِ زندگی اختر
    اسی کی دھن میں رہتے ہیں صدا بیٹھے گلا بیٹھے
    اختر عثمان
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر