1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

رئیس امروہوی غزل : دل کو احساس کی شدت نے کہیں کا نہ رکھا - رئیس امروہوی

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 3, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,095
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    دل کو احساس کی شدت نے کہیں کا نہ رکھا
    خود محبت کو محبت نے کہیں کا نہ رکھا

    بوئے گل اب تجھے احساس ہوا بھی کہ تجھے
    تیری آوارہ طبیعت نے کہیں کا نہ رکھا

    تم کو ہر شخص سے ہے چشمِ مروّت کی امید
    تم کو چشمِ مروّت نے کہیں کا نہ رکھا

    ہم وہ ہیں جن کو تماشا کدۂ ہستی میں
    جلوۂ عالمِ حیرت نے کہیں کا نہ رکھا

    دلِ دانا ہمہ خوں ، دیدۂ بینا ہمہ اشک
    دیدہ و دل لی لطافت نے کہیں کا نہ رکھا

    نگہِ شوق کسی شے پہ ٹہرتی ہی نہیں
    اس بصارت کو بصیرت نے کہیں کا نہ رکھا

    زہد بے ذوق کو اے بندگیِ دیر و حرم
    آستانوں کی عبادت نے کہیں کا نہ رکھا

    پہلے یہ شکر کہ ہم حدِ ادب سے نہ بڑھے
    اب یہ شکوہ کہ شرافت نے کہیں کا نہ رکھا

    مجملاََ ہے یہ مرا ماحصلِ جہد رئیسؔ!
    خس کو طوفاں کی رفاقت نے کہیں کا نہ رکھا
    رئیس امروہوی
    1967ء
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 3, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر