غزل : جوشِ طوافِ کوچہء جاناں کو دیکھ کر : برائے اصلاح از: محمد حفیظ الرحمٰن

غزل
از : محمد حفیظ الرحمٰن
جوشِ طوافِ کوچہء جاناں کو دیکھ کر
ہر جنبشِ زمیں پہ ہیں قرباں کئی فلک
جھپٹے ہیں مرغِ قبلہ نما پر کئی عقاب
دیکھی تھی اس کی دور سے بس ایک ہی جھلک
سطحِ قمر پہ دیکھ کے انساں کے نقشِ پا
حیراں ہے حور خلد میں تو عرش پر ملک
یومِ الست بھولی ہوئی بات ہی سہی
آتی ہے ذہن میں کبھی ہلکی سی اک جھلک
واپس ملے تو اس سے ہمیں کام ہیں کئی
کھیلو گے دل سے اور مری جان کب تلک
ساغر ہے اس کی یاد کا تو اے دلِ حزیں
ہر بوند کو سنبھال کے رکھ اور نہ چھلک
کل رات ان کی راہ تکی اس طرح حفیظ
ہے نیند بات دور کی جھپکی نہیں پلک
 
جوشِ طوافِ کوچہء جاناں کو دیکھ کر
ہر جنبشِ زمیں پہ ہیں قرباں کئی فلک
سطحِ قمر پہ دیکھ کے انساں کے نقشِ پا
حیراں ہے حور خلد میں تو عرش پر ملک
یومِ الست بھولی ہوئی بات ہی سہی
آتی ہے ذہن میں کبھی ہلکی سی اک جھلک
بہت خوب۔ داد قبول کیجیے محمد حفیظ الرحمٰن
 
بھائ فارقلیط رحمانی صاحب۔ غزل کی پسندیدگی کے لئے بہت بہت شکریہ۔ املا کی تصحیح کے لئے بھی بہت مشکور ہوں۔ یہ ٹائپنگ کی غلطی ہے۔میری کوتاہی ہے کہ پروف ریڈنگ کے وقت بھی نہ پکڑی جا سکی۔ نشاندہی کا بےحد شکریہ۔ مدیرِ محترم جناب خلیل صاحب سے التماس ہے کہ املا کی اس غلطی کی تدوین فرمادیں۔ شکریہ۔
 

الف عین

لائبریرین
جوشِ طوافِ کوچہء جاناں کو دیکھ کر
ہر جنبشِ زمیں پہ ہیں قرباں کئی فلک

جھپٹے ہیں مرغِ قبلہ نما پر کئی عقاب
دیکھی تھی اس کی دور سے بس ایک ہی جھلک
//درست

سطحِ قمر پہ دیکھ کے انساں کے نقشِ پا
حیراں ہے حور خلد میں تو عرش پر ملک
//’تو عرش‘ میں تو کا کھنچنا اچھا نہیں لگ رہا۔ ’اور‘ کرنے میں ٹھیک رہے گا؟

یومِ الست بھولی ہوئی بات ہی سہی
آتی ہے ذہن میں کبھی ہلکی سی اک جھلک
//درست

واپس ملے تو اس سے ہمیں کام ہیں کئی
کھیلو گے دل سے اور مری جان کب تلک
//درست

ساغر ہے اس کی یاد کا تو اے دلِ حزیں
ہر بوند کو سنبھال کے رکھ اور نہ چھلک
// ’نہ چھلک‘ پر اعتراض ہے کہ ’نا‘ بحر میں آتا ہے، اس کو ’مت‘ سے بدل دو تو زیادہ بہتر ہے

کل رات ان کی راہ تکی اس طرح حفیظ
ہے نیند بات دور کی جھپکی نہیں پلک
//درست
 
Top